محاصرہ بلغراد:۔ دوسرے سال محمد ثانی پھر سرویا میں داخل ہوا اور جنوب کی طرف سے بڑھتا ہوا بغیر کسی مزاحمت کے بلغراد تک پہنچ گیا ، اس کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ کالشکر اور تین سوتو پیں تھیں، یہ مہم دراصل بلغراد کی فتح کے لیے تھی جو اگرچہ سرویا …
Read More »قسطنطنیہ شہر کو فتح کرنے والے عظیم عثمانی سلطان”محمد فاتح” کی تاریخ۔
26 ربیع الاخر 857 ہجری بمطابق 6 اپریل 1453ء عیسوی کو قسطنطنیہ شہر کے باہر آٹومن فوج اپنے جلالی سلطان "محمد فاتح” کی کمان میں 1100 سالہ پرانی بازنطینی سلطنت کو ختم کرنے کے لیے اپنی پوری قوت کے ساتھ وہاں موجود تھی۔ ترکوں کے اس عظیم الشان لشکر کو …
Read More »سلطان محمد فاتح کا سب سے بڑا دشمن ولاد ڈریکولا،جس نے سلطان فاتح کو ناکوں چنے چبوائے۔
ولا چیاکی فتح:۔ اسی زمانہ میں ولا چیا کے مظلوموں کی درد ناک چیخیں قسطنطنیہ جا پہنچیں، جنگ کسووا (1389ء) کے بعد ولا چیا نے سلطنتِ عثمانیہ کی اطاعت قبول کر لی تھی ، سلطان محمد ثانی کے وقت میں اس ریاست کا امیر ولاد چہارم (۷) Vlad) تھا، اس …
Read More »سلطنتِ عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد فاتح کی ابتدائی زندگی۔
شهزاده محمدریاست ایدین میں تھا، جب اسے مراد کی وفات کی اطلاع ملی، وہ فوراً ایک عربی گھوڑے پر سوار ہوا اور یہ کہتا ہوا کہ جو لوگ مجھے سے محبت کرتے ہیں، میرے ساتھ آئیں، درہ دانیال کی طرف روانہ ہو گیا اور اسے عبور کر کے ادر نہ …
Read More »