The Zangi Dynasty – Part 2

سلطان عمادالدین زنگی نے "بعرین"کی جنگ میں یروشلم کے بادشاہ "فالک" کوشکت دیتے ہوئے، ایک بہت بڑی فتح اپنے نام کر لی تھی، لیکن اس فتح کو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔ کہ خود عمادالدین زنگی کو ایک نئے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ جس نے تقریباً ان کی ابھرتی ہوئی پوزیشن کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ سالوں کی خاموشی کے بعد بالاخر بازنطینی سلطنت کے بادشاہ نے اپنے کھوئے ہوے علاقوں کو سلجوقیوں اور لاطینیوں سے واپس لینے کی کوشش کی۔

قسطنطنیہ میں دراصل "الیگزیاس کومینوس" کی موت کے بعد تخت اس کے بیٹے جان دوم کو وراثت میں ملا۔ نیا منتخب ہونے والا شہنشاہ ایک انتہائی پرجوش اور فوجی رہنما ثابت ہوا۔ اپنے دور حکومت کے پہلے دس سالوں کے دوران اس نے اپنی سلطنت کے مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے پر مرکوز کیے۔ جہاں پر اس کا مقابلہ نارمن، سربوں اور ہینگریوں سے ہوا۔ رومی شہنشاہ نے ان سبھی کو شکست دینے کے بعد بالاخر اپنی نظریں مشرق کی طرف مرکوز کر لیں۔

1130 عیسوی کی دہائی میں وہ دارالحکومت قسطنطنیہ سے نکلا اور اس نے ایک نئی جنگی مہم کا آغاز کیا۔ اپنی ابتدائی فتوحات سے حوصلہ پا کر جان دوم نے ان تمام زمینوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کا عزم کیا، جو کہ پچھلی چند دہائیوں میں سلجوقیوں اور لاطینیوں کے قبضے میں چلی گئی تھیں۔ اناطولیہ سے گزرتے ہوئے اس نے سلیشین ساحل کو مسخر کیا اور بلاخر 29 اگست 1137ء کو وہ انطاکیہ پہنچا۔ اس وقت تک انطاکیہ اپنے کاؤنٹ "ریمنڈ" کی عدم موجودگی کی وجہ سے غیر محفوظ تھا۔ جو کہ اس دوران "بعرین" میں فالک کے بچاؤ میں مصروف تھا۔ ریمنڈ کی غیر موجودگی کا فائیدہ اُٹھاتے ہوئے جان دوم نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ بعرین سے واپسی پر جب ریمنڈ نے یہ خبر سنی کہ بازنطینی شہنشاہ نے اس کے شہر پر حملہکر دیا ہے تو وہ واپس پلٹا اور انطاکیہ کے مشرقی دروازے سے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ جس کے بعد اس نے شہر کی کمان دوبارہ سنبھال لی اور اس نےاپنے دفاع کو مضبوط کیا۔ اس دوران بازنطینی توپیں انطاکیہ کی دیواروں پر برابر حملہ کیے جا رہی تھیں۔ بالاخر ریمنڈ کو بازنطینی شہنشاہ کی طرف سے ایک پیشکش موصول ہوئی جس میں کہا گیا، کہ وہ بازنطینی شہنشاہ کا جاگیردار بننے کے بدلے انطاکیہ کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اب چونکہ اس دوران یروشلم کے بادشاہ فالک کی طرف سے کوئی مدد نہیں پہنچی تھی۔ اس لیے ریمنڈ نے ہچکچاتے ہوئے شہنشاہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ایک ذلت آمیز تقریب میں ریمنڈ نے جان دوم سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ اس کے بعد رومی شہنشاہ نے ریمنڈ کو عماد الدین زنگی کے خلاف مہم میں شامل کرنے کے لیے اپنے ساتھ ملایا۔ یہ خبر سن کر سلطان عماد الدین زنگی پریشان ہو گئے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اتنی بڑی فوج کا سامنا کرنا آسان نہیں، انہوں نے فوری طور پر حمص کا محاصرہ ختم کر دیا۔ تاکہ ہر قیمت پر کھلی جنگ سے بچنے کی کوشش کی جائے اور حلب کے دفاع کے لیے اپنی فوج کا ایک حصہ انہوں نے اپنے کمانڈر ساور کو سونپا۔ یہ سلطان زنگی کی جانب سے ایک دانشمندانہ اقدام تھا۔

یکم اپریل 1138ء کو جان دوم نے ریمنڈ، جوسلین دوم اور ٹیمپلر نائٹس کے ایک اضافی دستے کے ساتھ وہ انطاکیہ سے نکلا، سب سے پہلے عیسائی فوج حلب کی طرف بڑھی، اور 20 اپریل تک بازنطینی اورلاطینی اتحاد حلب قلعے کے نیچے جا پہنچا۔ تاہم حلب پر قبضہ کرنے کی شہنشاہ کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد غصے میں جان دوم دیہاتوں پر حملے کرتا ہوا شیزر جا پہنچا۔ جو کہ زنگی سلطنت کا ایک انتہائی اہم قلعہ تھا۔ اس شہر کا حکمران امیر ابو العساکر تھا۔ یہ شہر انتہائی اہم تھا کیونکہ اگر یہ شہر سلطان عماد الدین زنگی کے پاس رہتا تو انہیں شام میں مزید پیش قدمی کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ علاوہ ازیں جان دوم نے ریمنڈ کے ساتھ اس شہر کو فتح کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا، اس لیے بازنطینیوں اور لاطینیوں نے شیزر قلعے کا محاصرہ شروع کر دیا اور شدید بمباری کی وجہ سے اس شہر کی دیواریں گر گئیں۔ عیسائی سپاہی شہر میں داخل ہوئے اور انہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا صرف اس کا قلعہ باقی بچہ تھا۔ شیزر قلعے کے محاصرے کی تیز رفتار پیش قدمی نے ریمنڈ کو خوفزدہ کر دیا کیونکہ وہ اس شہر کو اپنی اصلی حالت میں اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اب چونکہ شہر مکمل تباہ ہو چکا تھا اس لیے اس نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اس طرح اس نے جان دوم کے ساتھ شیزر قلعے پر حملہ نہیں کرنا چاہتا تھا، اوراس نے اپنی فوجوں کو اپنے کیمپ میں رہنے کا حکم دیا، اس کے علاوہ جو سلین دوم بھی محاصرے سے پیچھے ہٹ گیا،کیونکہ اسے اس بات کا دکھ تھا کہ شیرزر کی فتح کے بعد یسے ریمنڈ کو دے دیا جائے گا۔عیسائی کیمپ میں تقسیم کو دیکھ کر سلطان عماد الدین نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ سلطان نے جہاد کی غرض سے ایک خط بغداد میں خلیفہ کے پاس اور دوسرا سلجوقی سلطان کے پاس روانہ کیا۔ سلطان زنگی کے خط کے پہنچنے کے ساتھ ہی سلجوقی سلطنت کے ہر کونے سے سلجوقی گھڑ سوارجنگ کے لیے زنگی اتابک کے ماتحت لڑنے کے لیے جمع ہو گئے۔ یوں ایک بڑی فوجی طاقت جمع کرنے کے بعد سلطان زنگی نے حمص کا محاصرہ چھوڑ کروہ شیزر کی طرف بڑھے۔ اپنی فوج کی تقسیم اور دشمن کی کمک پہنچ جانے کے بعد شہنشاہ جان نے محاصرہ ختم کر دیا۔

یوں 1139 سے 1140 عیسوی کے دوران شیزر قلعے کے محاصرے میں ناکامی کے بعد شہنشاہ جان اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ کے ایک ترک قبیلے دانشمند کے خلاف ایک فوجی مہم کے لیے نکلا اور اس نے دانشمندوں کے بے شمار شہروں اور دیہاتوں پر حملہ کرتے ہوئے معصوم ترکوں کا خون بہایا اور دانشمندیوں سے نمٹنے کے بعد بازنطینی شہنشاہ جان دوم پہاڑی سلسلے سے گزرتا ہوا اچانک ایڈیسہ جو کہ جوسلن کا دارالحکومت تھا، کہ قریب نمودار ہوا۔ جوسلن دوم نے بازنطینی شہنشاہ سے جان بچانے کے لیے اس نے اپنی بیٹی "ایزابیلا" کو بازنطینی بادشاہ کے ہاتھوں یرغمال کے طور پر بھیج دیا۔ یوں ایڈیسہ کو ماتحت کرنےکے بعد جان انطاکیہ کے خلاف حرکت میں آیا اور اس نے مطالبہ کیا کہ ریمنڈ انطاکیہ کو اس کے حوالے کر دے، جب ریمنڈ نے انکار کیا۔ تو شہنشاہ جان نے انطاکیہ پرحملہ کر دیا۔ تا ہم رسد اور کمک کی کمی کی وجہ سے بازنطینی فوج نے شہر کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے، انہوں نے انطاکیہ کے دیہی علاقوں کو لوٹتے ہوئے وہ واپس بازنطینی سلطنت میں چلا گیا۔ اس دوران اس نے یوروشلم کے بادشاہ فالک کے ہاس ایک سفیر بھیجا جس میں اس نے شہر میں مقدس مقامات کی زیارت کی اجازت کی درخواست کی اور یروشلم کے بادشاہ کو مسلمانوں کے خلاف اتحاد پر بات کرنے کی بھی دعوت دی۔ اس کے جواب میں فالک نے لکھا، کہ مقدس سرزمین اتنی غریب ہے کہ وہ اتنی وسیع بازنطینی فوج کی میزبانی کرنے کے قابل نہیں، تا ہم اگر شہنشاہ اپنے ایک چھوٹے سے محافظ دستے کے ساتھ مقدس سرزمین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ خوشی سے ان کا استقبال کریں گے۔ شہنشاہ جان نے اس کا کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ اس دوران اپنی جانشینی میں مصروف تھا۔

پھر8 اپریل 1143ء کو شہنشاہ جان دوم پھر لاطینیوں اور زنگی سلطان کے خلاف اپنی فوج کے ساتھ دارالحکومت قسطنطنیہ سے نکلا، لیکن وہ راستے میں شکار کے دوران حادثے کا شکار ہوا اور وہیں اس کی موت واقع ہو گئی۔ یوں بازنطینی بادشاہ کی موت نے زنگی اور لاطینی شہزادوں کو محفوظ کر لیا۔

سلطان عماد الدین زنگی اب بھی اپنی طاقت میں تھے جبکہ لاطینی ریاستیں اندرونی خلفشار کی وجہ سے زنگی اتابک عمادالدین کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے بہت کمزور ہو چکی تھیں۔

سلطان عماد الدین زنگی نے سب سے پہلے دمشق کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد سلطان عماد الدین زنگی اپنی فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ دمشق کی فتح سے پہلے انہوں نے بعلبک کا محاصرہ کیا، تا ہم یہاں شدید گولہ باری کے باوجود بعلبگ کی دیواریں قائم رہیں اور بالاخر دو ماہ کے طویل محاصرے کے بعد اہل شہر نے 10 اکتوبر کو ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی شہریوں کا مطالبہ یہ تھا کہ سلطان عماد الدین زنگی قران پر قسم کھائیں کہ وہ شہر کے محافظوں کو معاف کر دیں گے۔

ایک مسلمان مؤرخ ابنِ القلانسی کی روایت ہے وہ لکھتا ہے کہ شہریوں نے ہتھیار ڈالنے سے پہلے شرط رکھی کہ زنگی قران پر قسم کھائے کہ وہ شہر کے محافظوں کو قتل نہیں کرے گا۔ سلطان زنگی نے قسم کھائی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ مگر قبضے کے بعد سلطان زنگی نے اپنی قسم توڑ دی۔ اس نے شہر کے محافظوں کو قتل کروا دیا۔ کیونکہ بعلبک اس وقت ایک مسلم شہر تھا۔ جو کہ فاطمیوں کے زیر اثر تھا۔ یوں تاریخی روایات کے مطابق عماد الدین زنگی نے بعلبک کی فتح کے بعد قران پر قسم کھانے کے باوجود شہر کے محافظ مسلمانوں کو قتل کروایا تھا۔ یہ اقدام سیاسی اور عسکری مصلحت کے تحت تھا۔ تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل سخت تنقید کا نشانہ بھی بنا۔ یوں سلطان عماد الدین زنگی کے دامن پر بعلبک کے محافظوں کا قتل ایک بہت بڑا داغ تھا۔ یوں بعلبک کی فتح کے بعد انہوں نے اس شہر کو اپنے ایک انتہائی قریبی دوست اور صلاح الدین ایوبی کے والد نجم الدین کو اس شہر کی حکمرانی سونپ دی۔

اس فتح کے بعد اب سلطان زنگی کا اگلا ہدف دمشق شہر تھا۔ سلطان زنگی نے دمشق کا محاصرہ شروع کر دیا اور یہ محاصرہ طویل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس محاصرے میں چھ ماہ گزر گئے۔ اس دوران اہل شہر نے دیکھا کہ وہ اج نہیں تو کل زنگی کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ اس لیے دمشق کے امیر "یونور" نے ایک غیر معمولی حل تجویز کیا، وہ حل یہ تھا کہ اس نے یروشلم میں سفیر بھیجے اور اس نے زنگی سلطان کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے اس سے فوجی مدد مانگی۔ فالک جو پہلے ہی زنگی سلطان سے اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا، اس نے دمشق کے امیر کی مدد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوجوں کو جمع کیا۔ یوں اس طرح یروشلم اور دمشق کے درمیان ایک اتحاد قائم ہوا اور جلد یروشلم شہر سے عیسائی فوج سلطان زنگی کے خلاف نکل کھڑی ہوئی۔ جب سلطان عماد الدین زنگی کو یروشلم کے بادشاہ فالک کی فوج کی پیش قدمی کی خبر ملی تو وہ دمشق شہر کا محاصرہ چھوڑ کر واپس حلب چلے گئے۔ یوں یروشلم اور دمشق کے درمیان اتحاد نے سلطان زنگی کولاطینیوں اور دمشق کے لیے اپنے منصوبوں کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا۔

اس کے کچھ عرصے کے بعد یروشلم کا بادشاہ فالک گھوڑے سے گر کر مر گیا اور اب اس کا بڑا بیٹا بالڈوین سوم اس کی جگہ بادشاہ بنا، فالک کی موت کے بعد لاطینی شہزادے آپس کی جنگ میں الجھ گئے ہر کوئی اپنی ایک الگ اور مضبوط ریاست بنانا چاہتا تھا۔ یہاں سب سے پہلے ریمنڈ نے عماد الدین زنگی کی سلطنت پر حملہ کرتے ہوئے حلب پر قبضہ کرنا چاہا جس پر سلطان عماد الدین زنگی کے جرنل ساور کی حکومت تھی، شروع میں تو جوسلان دوم نے شہر پر مشترکہ حملہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن بعد میں اس نے اپنا ارادہ بدل لیا اور اس نے سلطان عماد الدین زنگی کے ساتھ جنگ بندی پر دستخط کر دیے۔

سنہ 1144ء میں نئے بازنطینی شہنشاہ مینویل نے ایک بڑی فوج کو جمع کرتے ہوئے اس نے سلیشیا پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ ریمنڈ کو انطاکیہ کی دیواروں کے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ریمنڈ اور جوسلین کے درمیان اب اگرچہ کوئی اتحاد نہیں تھا اس لیے اس نے بازنطینی بادشاہ کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھایا۔

سلطان عماد الدین زنگی عیسائی ریاستوں کے آپس میں تفرقات کو بڑی باریکی کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ بازنطینیوں کو لیوانٹ میں مزید دلچسپی نہ تھی اور یروشلم کی بادشاہی اپنے اندرونی معاملات میں الجھنے کے بعد کافی کمزور ہو چکی تھی اور اب عماد الدین زنگی کے لیے بہترین موقع تھا جلد عماد الدین زنگی نے اسلامی دنیا کے ہر کونے سے مجاہدین کو جمع کیا اور فرنگیوں کو شام سے ہمیشہ کے لیے بھگانے کے لیے وہ تیار ہوئے۔ جلد سلجوق سلطنت کے کونے کونے سے سلجوق گھڑ سوار جہاد کے لیے سلطان زنگی کے پاس جمع ہونا شروع ہو گئے، یوں موجودہ دور کے کردستان اور پورے دجلہ سے ایک بڑی فوج کو جمع کرنے کے بعد سلطان جنگ کے لیے تیار تھے، لیکن اب سوال یہ تھا کہ وہ اب اس بڑی فوج کو لے کر کہاں جائیں گے؟

اس کا جواب تھا، یروژلم سے میلوں دور جوسلن ثانی کا دار الحکومت ایڈیسہ۔

سنہ 1098ء میں اپنے قیام کے بعد سے ایڈیسہ کی کاؤنٹی سلجوقیوں کے لیے ایک کانٹا بنی ہوئی تھی یہ سب سے دور دراز کی صلیبی ریاست بھی تھی جو کہ زنگی اتابک کے لیے ایک آسان ہدف بن سکتا تھا۔ اس طرح سلطان زنگی نے اعلان کیا کہ اب انکا اگلا نشانہ ایڈیسہ ہے۔ سلطان زنگی نے اپنی فوج کا ایک حصہ دیار بکر کے علاقوں پر چھاپہ مارنے کے لیے بھیج کر وہ مرکزی فوج کے ساتھ ایڈیسہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جلد ایڈیسا کے کاؤنٹ جو سلین نے سلطان زنگی کے حملے کی خبر سنی اور وہ پوری قوت کے ساتھ سلطان زنگی کا مقابلہ کرنے کے لیے نکلا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ جو سلین نے حلب سے سلطان زنگی کی سپلائی لائنوں کو روکنے کی غرض سے وہ دار الحکموت سے نکلا، لیکن اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان جنگ میں نکلنا جوسلین کے لیے ایک انتہائی مہلک قدم ثابت ہوا۔ جیسے ہی وہ اپنی فوج کے ساتھ جنوب کی طرف بڑھا سلطان زنگی ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے وہ ایڈیسہ کے باہر جا پہنچے۔ یوں 28 نومبر 1144ء تک ایڈیسہ کی دیواروں کے باہر سلطان عماد الدین زنگی کے ماتحت ہزاروں مسلمان گھڑ سوار دستے اس شہر کو فتح کرنے کے لیے بے چین کھڑے تھے۔ اہل شہر زنگی کی فوج کو دیکھ کر گھبرا اُٹھے عماد الدین زنگی نے ایڈیسہ شہر پر حملے کا حکم دیا اور جلد توپیں حرکت میں آئیں اور مسلمان جوانوں نے سرنگیں کھود کر قلعے کی دیواروں کو گرانے کا کام شروع کیا۔ ادھر جو سلین تک ایڈیسہ کے محاصرے کی خبر پہنچ چکی تھی سب سے پہلے تو اس نے اپنی فوج کے ساتھ واپس ایڈیسہ کو بچانے کے لیے وہ روانہ ہوا، لیکن راستے میں اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جو سلین کے پاس اتنی فوج نہیں تھی کہ وہ سلطان زنگی کی اتنی بڑی فوج جو کہ پوری مسلم دنیا سے جمع کی گئی تھی اس کا مقابلہ کر سکے اس نے دریائے فرات کے اس پار اپنی فوج کو منتقل کر کے اس نے اپنے شہر کو بچانے کی کوشش شروع کی۔ اس نے سب سے پہلے ریمنڈ کو مدد کے لیے بلایا اور پھراس نے یروشلم میں ملکہ ملیسنڈا سے بھی مدد کی درخواست کی۔ انطاکیہ کے حکمران ریمنڈ نے تو اس کی کوئی مدد نہ کی البتہ یروشلم کی ملکہ نے اس کی مدد کے لیے اپنی ایک فوج روانہ کی۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ فوج جوسلن کی فوج کے ساتھ ملتی اور وہ ایڈیسہ کو بچاتے وقت بہت کم تھا۔

ادھر4 ہفتوں کے طویل محاصرے کے بعد بالاخر 1144 عیسوی کے کرسمس کے دن ایڈیسہ شہر کے جنوب کے مرکزی دروازے کے قریب کی ایک دیوار کا حصہ گر گیا جس کے بعد سلجوق اور کرد جنگجو اس ٹوٹی ہوئی دیوار سے شہر میں داخل ہوئے۔ یہاں لاطینی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ایڈیسہ کے عیسائی شہریوں نے پہلے تو مسلمان فوج کو روکنے کی کوشش کی، لیکن جیسے جیسے زنگی فوج شہر میں داخل ہوتی گئی عیسائیوں کی مزاحمت جواب دے گئی اور جلد مسلمان فوجیں شہر میں داخل ہو گئیں اور انہوں نے قتل عام شروع کر دیا جیسے ہی عماد الدین زنگی شہر میں داخل ہوئے تو انہوں نے حکم دیا کہ قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو فوراً بند کر دیا جائے۔

ایڈیسہ کی فتح کے بعد عمادالدین زنگی کو اسلامی دنیا میں بہت زیادہ پذیرائی ملی اور اس فتح کے بعد زنگی اتابک سلجوقی حکمرانی سے مکمل آزاد ہو گئے۔ عباسی خلیفہ نے سلطان عماد الدین زنگی کی اس عظیم فتح کو تسلیم کرتے ہوئے اسے بے شمار تحائف بھیجے اور سلجوقی سلطان نے بھی عماد الدین زنگی کو عیسائیوں کے خلاف اس عظیم الشان فتح کے بدلے میں بے شمار تحفے اور تحائف بھیجے۔ یوں عماد الدین زنگی آنے والے وقت میں عیسائیوں کے لئے مستقل خطرہ بن گئے ، انکی بیت المقدس کو عیسائیوں سے پاک کرنے کی خواہش اور عیسائیوں کو ارضِ مقدس سے نکالنے کی لگن کو بعد میں انکے بیٹے نور الدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے پورا کیا۔

Check Also

The Zangi Dynasty – Part 1

1137ء میں شام کا میدان صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان سج چکا تھا! ایک صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms