برصغیر پاک و ہند پر تقریباً 400 سال تک حکومت کرنے والی عظیم مغلیہ سلطنت کا انگریزوں کے ہاتھوں خاتمہ کیسے ہوا؟
وہ وقت جب اخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو صبح کے ناشتے پر ان کے بیٹوں کے کٹے ہوئے سر پیش کیے گئے اور مغلیہ خاندان آج کل کہاں ہے؟
یوں تو مغلیہ سلطنت کے زوال کی سرسری معلومات بر صغیر پاک و ہند کہ ہر باسی کو معلوم ہے ۔لیکن انگریزوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد کا کیا انجام ہوا اور آج کل مغل خاندان کہاں ہے؟ اور کن حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے؟
ناظرین جنگ آزادی 1857ء میں جب انگریزوں نے سکھوں اور ہندوؤں کی مدد سے مغلیہ سلطنت کہ آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو شکست دیتے ہوئے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ کیا۔ تو انگریزوں نے دہلی شہر پر قبضے کے بعد بہادر شاہ ظفراور ان کے اہل خانہ کو لال قلعے کی ایک چھوٹی سی کوٹھری میں قید کر دیا ۔کچھ دنوں بعد انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کے 20 بیٹوں میں سے 18 بیٹوں کو سرعام انتہائی سفاکی کے ساتھ انہیں قتل کر دیا ۔
جبکہ انگریزوں کی سفاکی سے بہادر شاہ ظفر کی صرف دو ہی بیٹے مرزا جوان بخت اور مرزا شاہ عباس زندہ بچے جنہوں نے مغل خاندان کی نسل کو آگے بڑھایا۔ انگریزوں کی جانب سے بہادر شاہ ظفر کے قتل کیے گئے 18 شہزادوں میں سے تین شہزادوں کے سر کاٹ کر دہلی کے خونی دروازے پر لٹکائے گئے تاکہ آئندہ کوئی بھی انگریزوں کے خلاف ایسا اقدام نہ اٹھا سکے ۔ناظرین اس قدر سفاکی کے بعد بھی جب انگریزوں کو چین نہ آیا تو انہوں نے 80 سال کے اس بوڑھے بہادر شاہ ظفر پر غداری اور فریب دہی کا مقدمہ چلایا لال قلعے میں مقدمے کا یہ ڈھونگ 44 دن چلتا رہا اور آخر میں مغل سلطنت کےآخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کو سزائے موت سنائے گی جسے بعد میں جلاوطنی میں بدل کر انہیں ان کی بیوی زینت محل اور ان کے دونوں بیٹوں مرزا جوان بخش اور مرزا شاہ عباس سمیت برما ،رنگون میں جلاوطن کر دیا گیا جہاں انہوں نے اپنی باقی کی تمام زندگی انتہائی برے حالات میں
گزاری۔
ناظرین 1862 ءمیں جب برما کے شہر رنگون میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی وفات ہوئی تو انگریزوں نے ان کے دونوں بیٹوں مرزا جوان بخش اور مرزا شاہ عباس کو برصغیر واپس نہ جانے کی شرط پر زندہ رکھا کیوں کہ انگریز اس بات سے بخوبی واقف تھے، کہ اگر یہ دونوں شہزادے ہندوستان واپس گئے تو مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی اولاد کی حیثیت سے یہ ہمارے خلاف کسی بھی طرح کی بغاوت کھڑی کر سکتے ہیں اس وجہ سے انگریزوں نے مرزا جوان بخش اور مرزا شاہ عباس کو پھر دوبارہ کبھی بھی ہندوستان کا رخ نہ کرنے دیا اور یوں یہ دونوں بدقسمت شہزادے اپنی باقی زندگی رنگون میں گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ناظرین جہاں تک ان دونوں شہزادوں کی ازدواجی زندگی کا سوال ہے تو بعض محققین کے مطابق ان دونوں شہزادوں میں سے چھوٹے شہزادے مرزا شاہ عباس کی شادی رنگون کے ایک سوداگر کی بیٹی سے ہوئی جس سے ان کی کئی اولادیں ہوئیں جو آج کے دور میں بھی انتہائی غربت کی وجہ سے رنگون کے "ٹیگنٹ ٹاؤن "نامی علاقے میں کچی گلیوں کی بدبودار جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ دوسرے بیٹے مرزا جوان بخت کی ایک ہی اولاد تھی۔
جس کا نام مرزا جمشید بخت تھا جو کہ مرزا جوان بخت کی بیوی نواب زمانی بیگم کہ بدتن سے تھے۔ 1884 ء میں جب جگر کی بیماری کی وجہ سے مرزا جوان بخت کا انتقال ہوا تو ان کے انتقال کے کچھ ہی سالوں بعد ان کی بیوی نواب زمانی بیگم بھی انتقال کر گئیں۔ اپنے والد مرزا جوان بخت اور اپنی والدہ نواب زمانی بیگم کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا جمشید بخت حالات ناسازگار ہونے پر ہندوستان واپس چلا گیا۔ جہاں مرزا جمشید بخش نے بیگم نادرہ جہاں نامی عورت سے شادی کی جن سے ان کا ایک ہی بیٹا پیدا ہوا جس کا نام تاریخی اوراق میں مرزا بیدار بخت بتایا گیا ہے۔ مرزا بیدار بخت ابھی چھوٹے ہی تھے جب انہیں اپنے والدین کے انتقال کے باعث ان کے سائے سے ہمیشہ کے لیے محروم ہونا پڑا اپنے والدین کی وفات کے بعد مرزا بیدار بخت چھوٹے موٹے کام کر کے اپنا گزر بسر کیا کرتے تھے اور آزادی ملنے تک مرزا بیدار بخش نے اپنی اصل پہچان سب سے چھپائی رکھی۔آزادی ملنے کے بعد مرزا بیدار بخش کی اصل شناخت کے بارے میں جب سب کو علم ہوا، تو انہیں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی حیثیت سے ہندو سرکار کی طرف سے بھیک کے طور پر ماہانہ کچھ روپے پینشن دی جانے لگی۔ 1950 کی دہائی میں مرزا بیدار بخش نے سلطانہ بیگم نامی عورت سے نکاح کیا۔ جن سے ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا مرزا بیدار بخش جب تک زندہ تھے تب تک ہندو سرکار انہیں بھیک کے طور پر ماہانہ کچھ روپے پینشن دیتی رہی۔ لیکن 1980 میں مرزا بیدار بخش کی وفات کے بعد مرزا بیدار بخش کی بیوہ اور ان کے بچوں کے لیے ہندو سرکار نے پینشن دینا بند کر دی ، پینشن ملنا بند ہونے کے بعد مرحوم مرزا بیدار بخش کی بیوی اور ان کے بچوں کے حالات اور مزید بدتر ہو گئے۔ ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے مرزا بیدار بخت کی بیوہ سلطانہ بیگم کو اپنا اور اپنے چھ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کولکتہ کے ڈولی گانج علاقے میں چائے کی ایک چھوٹی سی دکان کھولنا پڑی۔
1982 میں سلطانہ بیگم کو بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ ہونے کی حیثیت سے ہندو سرکار کی طرف سے ایک سرکاری مکان بھی دیا گیا جو کہ 1983 کے اختتام تک ان سے واپس لے لیا گیا سرکاری مکان چھیننے کے بعدآخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ اور ان کی اولاد آج بھی کولکتہ کی کچی گلیوں میں دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ناظرین جنہوں نے تقریبا ساڑھے تین سو سال پورے برصغیر پر حکومت کی آج انہی کی اولاد انڈیا اور برما کے گلی کوچوں میں انتہائی غربت کی وجہ سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
History In Urdu