The Zangi Dynasty – Part 1

1137ء میں شام کا میدان صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان سج چکا تھا!

ایک صلیبی شہزادہ اپنے باپ کا بدلہ لینے نکلا، مگر اس کی تلوار کسی دشمن کو نہ ڈھونڈ سکی۔ بعلبک کے قلعے میں چھپے بُریدی کمانڈر تک اس کی پہنچ نہ تھی، اور اس کا انتقام ابھی ادھورا تھا۔

مگر پھر… ایک فیصلہ، ایک غلطی، اور ایک ایسا ٹکراؤ جس نے تاریخ بدل دی!

ریمنڈ دوم نے جس شخصیت کو چیلنج کیا، وہ کوئی عام سپہ سالار نہیں تھا—یہ تھا سلطان عماد الدین زنگی!

ایک ایسی جنگ جس نے صلیبیوں کے غرور کو توڑا!

ایک ایسا محاصرہ جس نے اسلام کے ایک نئے فاتح کو جنم دیا!

اور ایک ایسا لمحہ جہاں تاریخ نے فیصلہ کیا کہ اب صلیبیوں کا زوال شروع ہو چکا ہے!

سلطان عماد الدین زنگی سیریز کی اس پہلی ویڈیو میں خوش آمدید! جہاں ہم سلطان زنگی کے عروج اور انکی عیسائی ریاستوں کے ساتھ ناقابلِ فراموش جنگوں کا زکر کریں گے۔

عماد الدین زنگی نے جب آنکھ کھولی تو اس وقت عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر سلجوقیوں کی حکمرانی قائم تھی۔ سلجوقی خاندان کے نامور حکمران سلطان ملک شاہ سلجوقی اس حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کے دور میں مغرب میں شام جنوب میں یمن اور اُومان مشرق میں چین تک اسلامی ملکت کی سرحدیں پھیل چکی تھیں۔

قسیم الدولہ آق سنقر بن عبداللہ اس وقت سلجوقی سلطان ملک شاہ سلجوقی کے معزز مصاحبین میں سے ایک تھے۔ آق سنقر "تُرک" زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی "سفید باز" کے ہیں۔ سلطان اپنے قابل وزیر نظام الملک طوسی کی رائے کا بڑا احترام کرتے تھے تو اسی کے مشورے پر سلطان نے آق سنقر کو 477 ھ بمطابق 1084ء میں حلب اور ہامہ کا گورنر مقرر کیا۔ یہ دونوں علاقے اب شام میں شامل ہیں۔ اسی سال آق سنقر کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے نوازا آق سنقر نے اپنے بیٹے کا نام عمادالدین رکھا۔ عماد الدین ہی آق سنقر کی اکلوتی اولاد تھے۔

پھر485ھ بمطابق 1092ء میں سلجوقی سلطنت کے آخری طاقتور ترین سلطان ملک شاہ سلجوقی کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے رقن الدین ابو المظر برکیارق شوال 487ھ/بمطابق اکتوبر 1094ء میں سلطنت کا انتظام سنبھالا۔

ناظرین یہ وہ دور تھا جب یورپ میں بیداری کی لہریں کروٹیں لے رہی تھی اس وقت تک عیسائیوں کی حکومت صرف براعظم یورپ تک محدود تھی۔ لیکن سلطان ملک شاہ سلجوقی کے انتقال کے بعد عیسائیوں نے بیت المقدس فلسطین اور دیگر علاقوں کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اسی دور میں فرانس کا ایک راہب "پیٹردی ہرمٹ" اٹھا، اس نے ملک ملک گھوم کر اپنی شعلہ بیانی سے عیسائیوں کے دلوں میں آگ بھڑکا دی۔ نومبر 1095ء میں فرانس کے شہر کلیئر مانٹ میں پوپ "اربن ثانی" نے عیسائیوں کا بہت بڑا اجتماع جمع کیا۔ اسی اجتماع میں عیسائی راہبوں پادریوں اور عام لوگوں نے اتنی بڑی تعداد میں شرکت کی کہ شہر بھر میں جہاں نظر اٹھائی جاتی عیسائی ہی نظر آتے۔ اسی اجتماع میں پوپ نے فتوی دیا کہ بیت المقدس کو کافروں یعنی کہ مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے خداوند یسوع مسیح کے ہر پیروکار کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنی جان کی بازی لگا دے۔

عماد الدین زنگی ابھی پروان چڑھ رہے تھے کہ 1094ء میں ان کے والد کو توتش نے قتل کر دیا گیا۔ اس دوران سلجوقی سلطان برکیارق نے امیر "کربوقا" کو موصل کا امیر مقرر کر دیا تھا۔ امیر کربو قا عماد الدین کے والد آق سنقر کے دوست تھے۔ انہوں نے عماد الدین کو اپنے پاس بلا لیا۔ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ مقرر کیے ان کی رہائش خوراک لباس اور دیگر ضرورتوں کا اعلیٰ انتظام کیا۔ 495ھ / بمطابق 1101ء میں جرکمیش کے امیر کی لڑکے ناصرالدین کی بیٹی سے عماد الدین زنگی کی شادی ہو گئی۔ اس کے بعد کے سالوں میں عماد الدین زنگی نے فوج میں اپنی ذہانت اور طاقت کا لوہا منواتے ہوئے وہ کافی مشہور ہو چکے تھے۔

سنہ 1111ء میں عماد الدین زنگی نے سلجوقی سلطان کے حکم پر عیسائیوں کے خلاف اپنی پہلی جنگی مہم میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے ایڈیسہ کا محاصرہ کیا،لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے عماد الدین ایڈیسہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہوے۔

سنہ511ھ میں سلجوقی سلطان برکیارق کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے سلطان محمود تخت نشین ہوئے انہوں نے 516ھ / بمطابق 1122ء عیسوی میں عماد الدین کو واسط کا حاکم بنایا اور ساتھ ہی بصرہ کی نیابت بھی سونپ دی۔

ستمبر1127ء میں موصؒ کے اتابک کا انتقال ہو گیا، ان کے انتقال کے بعد صلیبیوں نے موصل کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا، اس پر موصل کے دو سرکردہ علمائے کرام بہاؤ الدین ابو الحسن علی شہر زوری اور صلاح الدین محمد رحمۃ اللہ سلطان محمد کے پاس پہنچے اور ان کو مشورہ دیا کہ موصل میں کسی تجربے کار شخص کو حاکم بنایا جائے، مشیروں سے مشورہ لیا گیا تو سب نے متفقہ طور پر رائے دی کہ موصل کی امارت کے لئے عماد الدین زنگی سے بہتر کوئی نہی ہے۔ چنانچہ عماد الدین زنگی موصل کے گورنر مقرر کر دیے گئے۔

عماد الدین نے رمضان المبارک 522 ہجری / مطابق

ستمبر 1127ء میں موصل کا انتظام سنبھال لیا اس کے ساتھ ہی سلطان محمود نے اپنے دونوں بیٹوں الپ ارسلان اور فرخ شاہ کی تعلیم عماد الدین زنگی کے سپرد کر دی اور انہیں "اتابک" کا خطاب دیا۔ اتابک ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی بزرگ اور اتالیق کے ہیں۔ یہ لقب سب سے پہلے سلطان ملک شاہ سلجوقی نے اپنے قابل وزیر "نظام الملک طوسی" کو دیا تھا۔ اس کے بعد سلجوقی سلطنت میں اس خطاب کو نہایت اہمیت حاصل ہو گئی اور یہ صرف اس امیر کو دیا جاتا جو بے حد محترم اور ذی عزت سمجھا جاتا تھا اور نوجوان شہزادوں کی تربیت نگرانی اور نگہداشت بھی اسی کے سپرد کی جاتی

تھی۔

لیکن ناظرین موصل پر عماد الدین زنگی کی حکومت قائم ہونے سے ٹھیک ایک سال پہلے یعنی کہ 1126ء میں ایک اور ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے عماد الدین زنگی کو انعام کے طور پر موصل کی حکمرانی سونپی گئی تھی وہ واقعہ کیا تھا؟

دراصل 1126ء میں عباسی خلیفہ المسترشد نے سلجوقیوں کی سلطان محمود دوم سے آزادی حاصل کرتے ہوئے بغاوت کر دی تھی۔ سلطان محمود نے اس بغاوت کو کچلنے کے لیے عماد الدین زنگی کو ایک فوج دے کر روانہ کیا۔ چنانچہ 1126ءمیں واسط کی جنگ میں سلجوقی گورنر عماد الدین زنگی عباسی خلیفہ کی فوج کی بغاوت کو کچلنے میں کامیاب ہو گئے اور عباسی خلیفہ کوسلجوقی سلطان کی اطاعت کرنے پر مجبور کیا گیا۔

موصل کے ہاتھ آجانے کے بعد عماد الدین زنگی نے1128ء میں حلب پر قبضہ کر لیا۔ یوں ان ابتدائی فتوحات کے بعد عماد الدین زنگی کو اسلامی دنیا میں ایک ہیرو کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ اب مسلمانوں کو ایک ایسا شیردل جرنیل نظر آنے لگا تھا، کہ جس کے ساتھ مل کر وہ عیسائیوں کو ارضِ مقدس سے نکال کر، بیت المقدس کو آزاد کروا سکتے تھے۔ یوں عماد الدین زنگی پہلے اتابک تھے جنہوں نے صلیبی ریاستوں کے خلاف مسلمانوں کو جہاد کے لیے جمع کیا۔

اپنی ابتدائی فتوحات کے باوجود عماد الدین زنگی جانتے تھے کہ وہ عیسائی ریاستوں سے لڑنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں۔ خاص طور پر جب کہ یروشلم کا بادشاہ بالڈوین زندہ ہے۔ سو ابتدائی سالوں میں عماد الین زنگی نے بجائے عیسائیوں سے جنگ لڑنے کے انہوں نے اپنی نئی زنگی ریاست کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔ اس کے لیے انہوں نے ایڈیسا کے بادشاہ جوسلین کے ساتھ ایک عارضی معاہدے پر دستخط کیے۔ پھرعماد الدین زنگی نے عیسائیوں کے خلاف مسلم اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ اس کے لیے انہوں نے دمشق کی امارت کے امیر "بُری" کو عیسائیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی، بظاہر تو بُری نے امادالدین زنگی کی دعوت پر لبیک کہا اور انہوں نے اس اتحاد میں شامل ہونے کےلئے رضامندی دکھائی۔ لیکن خفیہ طور پر وہ امادالدین زنگی کے ساتھ اتحاد کرنے سے ڈرتا تھا اس نے عماد الدین زنگی پر عدم اعتماد کیا اور اس نے اپنا ایک خط اپنے بیٹے کے ہاتھ جوسلن کی طرف اتحاد کے لیے روانہ کیا، جسے عماد الدین زنگی نے پکڑ کر اسے حلب کے مشہور قلعے میں بند کر دیا۔ یوں اپنے دور حکومت کے ابتدائی تین سالوں میں عماد الدین زنگی نے اپنی طاقت کو موصل سے حمص تک پھیلا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے دمشق کی امارت اور زینگی سلطنت کے درمیان ابتدائی دشمنی کا آغاز شروع ہوا۔

دریں اثناء انطاکیہ میں ہونے والے واقعات کے بعد یروشلم کے بادشاہ بالڈوین کی صحت خراب ہونے لگی اور 1131 عیسوی میں بالڈوین اپنی موت کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا اور 21 اگست 1131 عیسوی کو بالڈوین کا انتقال ہو گیا۔ اس کی موت کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اس کی بیٹی "میلیسینڈا" اور اس کے شوہر "فالک" یروشلم کی حکومت کے مشترکہ بادشاہ بنے۔

بالڈوین کی موت کے بعد عیسائیوں کا ایک اور بہت بڑا رہنما جوسلین بھی انتقال کر گیا۔ اس کی موت کی وجہ عماد الدین زنگی کے ایڈیسہ قلعے کی محاصرہ میں ایک ناقص سرنگ بنی جب عماد الدین زنگی ایڈیسا کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو ایک سرنگ کے منہدم ہو جانے کی وجہ سے جوسلین شدید زخمی ہو گیا۔

اس دوران اناطولیہ کے ایک اور طاقتور ترین سلجوق قبیلے دانشمین کے سردار "غازی" نے ایڈیسا کے بادشاہ جوسلن کی خبر سنی اور غازی نے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کیسون کا محاصرہ کر لیا۔ جب سلجوقی سردار کے حملے کی خبر جوسلن کے کیمپ تک پہنچی تو جوسلن نے پہلے تو اپنے بیٹے جوسلن دوم کو سلجوقی سردار غازی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے روانہ ہونے کا حکم دیا۔ لیکن نوجوان جوسلن نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ دانشمند سردار غازی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس جواب سے بادشاہ سخت ناراض ہوا اور وہ اپنی شدید زخموں کے باوجود اس نے سلجوق وارلارڈ غازی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر سلجوق وار لارڈ جوسلن کی اچانک آمد پر حیران ہو گیا۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ جوسلن کا انتقال ہو چکا ہے، یوں جوسلن کی اچانک آمد پر غازی نے محاصرہ ختم کرتے ہوئے وہ واپس اناطولیہ چلا گیا۔ لیکن غازی کے خلاف یہ پیش قدمی جوسلن کو کافی مہنگی پڑی کیونکہ اس سفر کے دوران جوسلن کے زخم کھل گئے تھے۔ جس کے بعد وہ گھوڑے سے گرا اور ایک سڑک کے اوپر ہی اس کی موت ہو گئی۔ یوں اپنے باپ کی موت کے بعد اب لاطینی سلطنت کے نئے نوجوان وارث یروشلم کے ماتحت ہونے کے بجائے وہ خود مختار اور آزادانہ طور پر حکومت کرنے کے لیے بے تاب تھے اور ادھر یروشلم میں بھی نئے شاہی جوڑے کے پاس اب اتنے اختیار یا پھر طاقت نہیں تھی کہ وہ بیک وقت تمام صلیبی ریاستوں کو بالڈوین کی طرح اپنے ماتحت رکھ سکیں۔

اسی دوران 1131ء میں شہزادی ایلس انطاکیہ واپس آئی اور اس نے اہل شہر کو قائل کر لیا کہ وہ فلک کو اپنا حکمران تسلیم نہ کرے اور اس نے اس مقصد کے لیے طرابلس کے لارڈ کو بھی اس مقصد میں شامل ہونے پر آمادہ کر لیا تھا۔ ادھر جب یروشلم کے بادشاہ کو یہ خبر ملی تو وہ ایلس کو سزا دینے کے لیے یروشلم سے روانہ ہوا اور اس سفر کے دوران طرابلس کی فوجوں نے فالک کو زمینی راستے سے گزرنے سے روک دیا جس کے بعد فالک نے یروشلم کے بحری بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے وہ بیروت سے سینٹ سائمون کی بندر گاہ تک جا پہنچا۔ جہاں انطاکیہ کے جنوب میں باغیوں کے ساتھ بادشاہ فالک کی جنگ شروع ہو گئی۔ جس میں اس نے باغیوں کی طاقت کو کچل کر رکھ دیا اس نے انطاکیہ کی حکمرانی سے ایلس کو ہٹاتے ہوئے یہاں پر اپنی حکومت قائم کر لی اور اس نے انطاکیہ میں رینالڈ کو انتظامات سونپتے ہوئے وہ واپس یروشلم چلا گیا۔ یہاں یروشلم کے بادشاہ کے جانے کے باوجود ایلس نے اپنی سیاسی چالیں جاری رکھیں اور1135ءعیسوی کے آس پاس انطاکیہ کے محب وطن "برناڈ" کا انتقال ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی رینالڈ بھی منظر عام سے غائب ہو گیا. اس کے بعد نیا منتخب ہونے والا "ریڈالف" یروشلم کی ماتحت حکومت کرنے کا کوئی بھی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے اس نے ایلس کو واپس انطاکیہ بلایا۔

جب یروشلم کا بادشاہ فلک دوبارہ انطاکیہ پہنچا تو اس نے یہاں آ کر دیکھا کہ انطاکیہ اس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے کیونکہ اب کی بار یروشلم کے بادشاہ کو شہر کے اندر سے کوئی حامی نظر نہ آیا۔ اس دوران ایلس نے زنگی اتابک عماد الدین کے ساتھ معاہدہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ وہ اس بات کو بخوبی جانتی تھی کہ زنگی شام میں فالک کے ساتھ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ لہذا ایلس نے اس بار رومی شہنشاہ جان کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا اس نے انطاکیہ کی حفاظت کے بدلے رومی بادشاہ کو اپنی ریاست جاگیر کے طور پر دے دی، اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی بیٹی مستقبل کے بادشاہ مینویل کے ساتھ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن ایلس کے اس معاہدے پر اس کے اپنے حامی اور درباری سخت ناراض ہوئے، یہاں تک کہ اس کے اتحادی بھی اس کے خلاف ہو گئے۔ اس دوران یروشلم کے بادشاہ فلک نے اس بغاوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انطاکیہ کی اشرافیہ کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ جب ایلس نے دیکھا کہ تمام تر زمینی حقائق اس کے خلاف ہو گئے ہیں، تو اس نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔

ادھر 1131ء میں سلجوقی سلطان محمود کا انتقال ہو گیا سلطان محمود عماد الدین زنگی کے انتہائی قریبی ساتھی تھے اور اب ان کی وفات کے بعد اگر کوئی ایسا ادمی سلطان بن جاتا جس کے مراسم عماد الدین زنگی کے ساتھ اچھے نہ ہوتے تو یہ مستقبل میں عماد الدین زنگی کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ سجوقی سلطان کی موت کے بعد سلجوقی زمینیں اس کے دوسرے بیٹوں اور دعویداروں میں تقسیم ہو گئے،اور تخت کے کئی ایک دعویدار کھڑے ہو گئے، جن میں سے ایک نام مسعود کا تھا۔ جو کہ مشرق کا ایک نہایت کم اثر و اسوخ رکھنے والا سلجوقی خاندان کا شخص تھا۔ اس لیے اس نے عماد الدین زنگی سے فوجی مدد مانگی۔ جس کے بعد جون 1132ءکو عماد الدین زنگی اور مسعود دونوں نے اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ بغداد کی جانب پیش قدمی شروع کی، کیونکہ بغداد میں عباسی خلیفہ نے اپنا اقتدار مضبوط کر لیا تھا اور اب وہ سلجوقی سلطان کی موت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ سے عباسی خلافت کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔ یہاں پر عماد الدین زنگی کی فوج نے بڑی جلدبازی کے ساتھ عراق میں پیش قدمی کی جس کی وجہ سے اسے خلیفہ کی فوج نے سمارا جو کہ موجودہ دور کے تکریت کے قریب موجود ایک جگہ ہے یہاں پر خلیفہ اور زنگی کی فوج کی آپس میں گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں عماد الدین زنگی کو شکست ہوئی۔ اس ابتدائی شکست کے بعد عماد الدین زنگی اور سلجوقی شہزادہ مسعود میدان جنگ سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ناظرین یہاں پردلچسپ بات یہ ہے کہ عماد الدین زنگی کا سیاسی کیریئر شاید اس شکست کے بعد ختم ہو جاتا، اگر تقریت کے ایک مقامی کرد گورنر نجم الدین ایوب جو کہ صلاح الدین کا باپ تھا وہ عمام الدین زنگی کی مدد نہ کرتا۔ نجم الدین ایوب کی مدد سے عماد الدین زنگی جان بچاتے ہوئے واپس اپنے ریاست میں چلے گئے۔ اس دن کے بعد سے ایوبی قبیلے نے زنگی خاندان کا اعتماد حاصل کر لیا تھا اور وہ تیزی کے ساتھ عماد الدین زنگی کی نظروں میں مقبول ہوتے جا رہے تھے۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد عماد الدین زنگی نے مسعود کے ساتھ اپنی فوجوں کو دوبارہ منظم کیا اور انہوں نے ایک بار پھر بغداد پر حملے کی تیاری کی۔ لیکن اس بار بھی انہیں شکست ہوئی اور وہ بغداد پرقبضہ نہ کر سکے۔ اس کے چند سال بعد یعنی کہ 1135ء میں عماد الدین زنگی نے دمشق پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہے جس کے بعد عماد الدین زنگی نے اپنی مغرب میں موجود عیسائی ریاستوں کے ساتھ جہاد کا آغاز کیا۔ اس عظیم مقصد کے لیے عماد الدین زنگی نے 1133ء میں اپنے کمانڈر "سوار" کی کمان میں ایک فوجی دستہ طرابلس کے علاقے پر چھاپہ مارنے کے لیے روانہ کیا۔ زنگیوں کے اس اچانک حملے کو پسپا کرنے کے لیے طرابلس کا کاؤنٹ باہر نکلا، لیکن یہاں پر زنگی پہلے ہی گھات لگائے ہوئے بیٹھے تھے انہوں نے گھات لگا کر حملہ کیا اور اسے سخت ترین شکست دی۔ جس کے بعد وہ "مونٹ فرانڈ" قلعے میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔ جب یہ خبر یروشلم کے بادشاہ تک پہنچی تو اس نے پونس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس نے جلد صلیبی فوجوں کو جمع کیا اور زنگی کمانڈرپر اچانک حملہ کر دیا، جس کی وجہ سے "ساور" پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ یوں یروشلم کی اس مدد کی وجہ سے یروشلم اور طرابلس کے درمیان تعلقات بہتر ہو گئے۔

دریں اثناء زنگی کمانڈر "ساور" نے واپسی پر کاؤنٹ آف ایڈیسہ کے علاقوں پر چھاپے مارے۔ یہاں پر جوسلن ثانی کے پاس اپنے باپ کی طرح کوئی جنگی حکمتِ عملی کی صلاحیت نہیں تھی۔ اس لیے وہ زنگیوں کے ابتدائی حملوں سے شکست کھا کر پیچھے ہٹ گیا اور یہاں ابتدائی فتح کے بعد سلجوقی کمانڈر "ساور" نے اپنا فوجی کیمپ نصب کرتے ہوئے جیت کی جشن منایا۔ جبکہ اس دوران یروشلم کا بادشاہ اور طرابلس کا حکمران "پونس" اپنی اپنی فوجوں کے ساتھ پیش قدمی کرتے ہوئے وہ یہاں پہنچ چکے تھے اور انہوں نے رات کے وقت زنگی لشکر پر ایک کامیاب حملہ کیا۔ لیکن اس ابتدائی شکست کے باوجود بھی مسلمانوں کی تعداد آئے روز بڑھتی جا رہی تھی۔ کیونکہ عماد الدین زنگی نے جہاد کی جو تازہ روح مسلمانوں میں پیدا کر دی تھی۔ اس کی وجہ سے آئے روز سینکڑوں مسلمان نوجوان عماد الدین زنگی کی فوج میں شمولیت کے لیے جمع ہو رہے تھے جس کی وجہ سے زنگی کمانڈر "ساور" نے اپنی حملوں میں شدت لانا شروع کر دی۔

ادھر 1135ء میں سلجو قی سلطان مسعود نے عباسی خلیفہ کی فوج کو شکست دیتے ہوئے عباسیوں کی رہی سہی طاقت کا بھی خاتمہ کر دیا تھا۔ اس شکست کے بعد عباسی خلیفہ قزوین کی طرف چلے گئے۔ جہاں سلجوقی سلطان مسعود کے ایک قاتلانہ حملے میں عباسی خلیفہ کی موت ہو گئی۔ اس فتح کے بعد سلطان مسعود نے سماوا پر قبضہ کر لیا اور وہ اب مکمل طور پر ایک با اختیار سلطان بن چکا تھا۔

ان کامیابیوں کے بعد اب عمادالدین زنگی کے لیے مشرق میں اپنا ایک طاقتور ترین اتحادی اور سلجوقی سلطان موجود تھا۔ جس کی طرف سے عماد الدین زنگی کو عیسائیوں کے خلاف اب کھل کر جنگ لڑنے کا موقع مل چکا تھا۔ اس سے عماد الدین زنگی کو وہ تمام جنگی سامان اور فوجی قوت مل گئی جس کی اسے اپنے علاقے کو نہ صرف دمشق بلکہ عیسائی ریاستوں تک پھیلانے کا موقع مل گیا۔

عماد الدین زنگی نے اپنا پہلا حملہ 1135 عیسوی میں شروع کیا۔ انہوں نے عراق سے نئی بھرتی کی ہوئی فوج کے ساتھ اپنی فوجی پوزیشن مستحکم کی۔ اب کی بار عمادالدین زنگی صرف اپنی جنگی کاروائیاں چھاپہ مارنے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے عیسائیوں کی دفاعی پوزیشن کو جانچ کر انہوں نے انطاکیه اور ایڈیسہ کی عیسائی ریاست پر سب سے پہلے حملے کا فیصلہ

کیا۔

ایک مسلمان مؤرخ ابن اسیر کے مطابق یہ وہ دور تھا جب عیسائی حکمران شہروں پر آبادی کا لحاظ کیے بغیر خراج لگا رہے تھے وہ حلب کی نصف آمدنی اسی طرح وصول کر لیا کرتے تھے۔ انتہا یہ تھی کہ انہوں نے شہر کے دروازے پر باغ کے قریب نصب چکیوں پر بھی خراج لگا دیا تھا۔ صلیبی جب چاہتے دمشق اور حلب کی چراگاہوں میں آگھستے اور تباہی مچاتے۔ دمشق اور حلب کے نواہی علاقوں میں عیسائیوں کی ٹولیاں روزانہ لوٹ مار کیا کرتی تھیں۔

سنہ1136ء میں دمشق کے امیر یوسف کو اس کے ایک مملوک درباری نے عیسائیوں کے ساتھ امن برقرار رکھنے کی اس کی پالیسی کی وجہ سے اسے قتل کر دیا تھا۔ اس قتل کے بعد یہ مملوک "بازواش" اپنے ساتھیوں کے ساتھ بعلبک کی طرف بھاگ گیا اور اس نے دھمکی دی کہ اگر عیسائیوں کے ساتھ جنگ نہ لڑنے کے معاہدے کو ختم نہ کیا گیا۔ تو وہ اپنے دستوں کے ساتھ واپس دمشق آجائے گا۔ چنانچہ بازواش کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر نئے منتخب ہونے والے امیر محمود نے عئسائیوں کے ساتھ امن معاہدے کو توڑ دیا۔

اگلے سال بازواش نے طرابلس کے ایک علاقے پر حملہ کر دیا جہاں اس نے اور اس کی دمشق کی فوج نے لبنان کے پاس ایک گزرنے والے ایک علاقے پر جہاں پرعیسائیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ یہاں پر فوجوں کو بھیج کر حملہ کر دیا۔ یوں دمشق کی جانب سے اچانک حملے کی خبر سن کر کاؤنٹ پونس کو ایک بار پھر مکمل طور پر اپنی فوج کے ساتھ باہر نکلنا پڑا اور اس نے اپنے فوجی دستوں کو جمع کرتے ہوئے دمشق کی فوج پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہاں مسلمانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ مسلمانوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے وہ واپس پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔ جہاں اسے مقامی لوگوں نے دھوکہ دیتے ہوئے اسے پکڑ کر بازواش کے پاس بھیج دیا اور بازواش نے اسے قتل کر دیا۔ یوں پونس کی اچانک موت نے طرابلس کو تو تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا اور اگر بازواش طرابلس پر حملہ کرتا تو وہ اسے باسانی فتح کر سکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ پونس کی موت کے بعد اس کے 22 سالہ بیٹے ریمنڈ دوم نے اقتدار سنبھالا وہ اپنے باپ کے برعکس بہت زیادہ گرم مزاج شخص تھا۔ یوں اس نے انتقام کے شوق میں جلد فوجوں کو جمع کرتے ہوئے بازواش کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بازواش اس سے لڑنے کی بجائے وہ واپس دمشق چلا گیا۔ جس کے بعد اب ریمنڈ نے عماد الدین زنگی سے لڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ اس وقت حمص شہر کے محاصرے میں مصروف تھا۔ عماد الدین زنگی نے ریمنڈ کے یوں اچانک آجانے کی وجہ سے وہ کافی حیران ہوئے۔ انہوں نے جلد اپنی فوج کو محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیا اور وہ ریمنڈ کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ جب ریمنڈ کی فوج حمص کے قریب پہنچی تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی تعداد عمادالدین زنگی کی فوج سے کم ہے۔ سو اس وجہ سے اس نے "مونٹفیرانڈ " کے قلعے کی طرف پسپائی شروع کر دی۔ جس کے بعد عماد الدین زنگی بھی اپنی فوج کے ساتھ اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس قلعے کے باہر جا پہنچا۔ ریمنڈ نے جلد اپنی مدد کے لیے ایک خط یروشلم کے بادشاہ فالک کو روانہ کیا۔ جس کے بعد یروشلم کے بادشاہ اپنی فوج کے ساتھ اپنے عیسائی بھائی کی مدد کے لیے نکل کھڑا ہوا۔

اس دوران جبکہ محاصرہ ابھی جاری تھا کہ سلطان کو خبر ملی کہ، یروشلم کا بادشاہ بھی اس کی مدد کے لیے آ رہا ہے تو عماد الدین زنگی نے محاصرے میں شدت لانے کا حکم دیا اور جیسے ہی یروشلم کے بادشاہ کی فوج قلعے کے پاس پہنچی تو زنگی گھڑ سواروں نے برق رفتاری کے ساتھ ایک لمبا سفر طے کر کے آتی ہوئی عیسائی فوج پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں عیسائی میدان جنگ میں مارے گئے۔ صرف عیسائی بادشاہ اپنے ایک محافظ گھڑ سوار دستے کے ساتھ زندہ بچنے میں کامیاب ہوا اور وہ شہر میں داخل ہو گیا۔ جبکہ ادھر مرکز میں ریمنڈ جو کہ سلطان زنگی کی مرکزی فوج کے ساتھ جنگ لڑ رہا تھا اسے مسلمان پیدل دستوں نے پکڑ کر قید کر لیا اور اسے عماد الدین زنگی کے پاس بھیج دیا گیا۔ یہاں جب یروشلم کے بادشاہ فالک نے صورتحال دیکھی تو وہ کافی پریشان ہوا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اس نے طرابلس کے شہزادے کو بچانے کے لیے یورو شلم میں اپنے قائم مقام ولیم اور ایڈیسہ کے حکمران جوسلن ثانی کو فوجی مدد کے لیے خط لکھے اور دونوں حکمرانوں نے جلد فوجوں کو جمع کرتے ہوئے وہ اپنے بادشاہ کو بچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

ادھر عماد الدین زنگی نے "مونٹفیرانڈ "پر ایک آخری اور فیصلہ کن حملے کا حکم دیا، زنگی لشکر کے تابڑ توڑ حملوں ، شہر میں خوراک اور کمک نہ ہونے کی وجہ سے یروشلم کی بادشاہ نے عماد الدین زنگی کے ساتھ امن معاہدے کی شرائط کے لیے اپنا ایک سفیر عماد الدین زنگی کے پاس بھیجا۔ عماد الدین زنگی نے فراخ دلی کا معاہدہ کرتے ہوئے یروشلم کے بادشاہ کو زندہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اس معاہدے کے تحت فالک اور اس کے سپاہیوں کو زندہ بھاگنے کے لیے محفوظ راستہ دے کر چھوڑ دیا گیا۔ عیسائیوں نے بدلے میں "مونٹفیرانڈ " کا قلعہ زنگی کے حوالے کر دیا اس معاہدے نے زنگی کی طاقت کو مزید مضبوط کر دیا اور صلیبیوں کی پوزیشن کو کمزور کر دیا یہ واقعہ عماد الدین زنگی کی صلیبیوں کے خلاف کامیاب جہاد کی ایک بڑی مثال تھا۔

ان فتوحات سے عماد الدین زنگی مسلم دنیا میں ایک نجات کے طور پر دیکھے جانے لگے۔

Check Also

The Zangi Dynasty – Part 2

سلطان عمادالدین زنگی نے "بعرین"کی جنگ میں یروشلم کے بادشاہ "فالک" کوشکت دیتے ہوئے، ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms