Sultan Suleiman the Magnificent (Part 5): The Battle of Preveza (1538)

Sultan Suleiman the Magnificent (Part 5): The Battle of Preveza (1538)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان سلیمان کے دور میں عثمانی سلطنت اپنے عروج پر تھی اور سمندروں میں بھی عثمانی بحری طاقت کا سکہ قائم تھا۔ اس بحری عروج کے پیچھے سب سے نمایاں کردار سرخ داڑھی والے خیر الدین باربروسہ کا تھا، جو ایک بحری قزاق سے سلطنتِ عثمانیہ کی بحریہ کا امیر البحر بنا۔ اسی نے پرویزا کی جنگ میں اپنے سے کئی گنا بڑے صلیبی بحری بیڑے کو شکست دی۔ یہ تحریر عثمانی بحری طاقت کے عروج، خیر الدین باربروسہ اور پرویزا کی جنگ کا احاطہ کرتی ہے۔

عثمانی بحری طاقت کا پس منظر

بحری قوت کے لحاظ سے ایشیا یا پھر یورپ کی کوئی سلطنت اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کے ہم سر نہ تھی۔ اس وقت اسپین اور وینس کے بحری بیڑے پورے یورپ پر حاوی تھے، لیکن ترک بیڑے نے متعدد معرکوں میں ان کو شکست دی۔ بحری قوت کے اعتبار سے اسپین اور سلطنتِ عثمانیہ میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا، لیکن اسپین کے ساتھ فرانس اور اتحادیوں کے جہازوں کی کثرتِ تعداد کی وجہ سے وہ ترک بیڑے سے تعداد میں زیادہ ہو جاتے تھے۔ سلطان سلیمان کے ابتدائی عہد میں شمالی افریقہ کے مسلمان فرماں روا اس قدر کمزور تھے کہ وہ ساحلی علاقوں کے علاوہ اپنی مملکت کے جنوبی حصوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتے تھے، اور خود ساحل کے شہر بھی بحری قزاقوں کی عام گزرگاہ بن چکے تھے۔ ان میں سے بعض ان فرماں رواؤں کی اطاعت برائے نام تسلیم کرتے تھے، لیکن اکثر بطورِ خود بحرِ روم میں لوٹ مار مچاتے رہتے تھے۔ یہ بحری قزاق دس دس اور بیس بیس جہازوں کے بیڑے بنا کر اپنے جری اور نہایت تجربہ کار سرداروں کی قیادت میں مالِ غنیمت کے لیے بحرِ روم میں پھرا کرتے تھے اور اسپین، اٹلی، فرانس اور کبھی کبھی انگلینڈ اور آئرلینڈ کے ساحلوں پر بھی حملے کر دیا کرتے تھے۔

سلطان سلیمان نے بحری قوت پر خاص توجہ دی اور جہازوں کی تعداد اور سائز میں بہت اضافہ کیا اور بحری قوت کو پہلے سے زیادہ ترقی دی۔ لیکن عثمانیوں کے بحری سردار بے خوفی اور مہارتِ فن میں بحری قزاقوں کے ہم پلہ نہ تھے۔ یہ دیکھ کر سلطان نے ان لُٹیروں کو، جو اپنی قابلیت اور تجربے میں دوسروں سے ممتاز تھے، سلطنتِ عثمانیہ کی خدمت کے لیے مدعو کیا اور انہیں ان کے جہازوں اور آدمیوں کے ساتھ بلا کر ترک بیڑے کے اعلیٰ مناصب پر فائز کیا۔ ان میں سے سب سے پہلا اور اپنی غیر معمولی قابلیت کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور ہونے والا بحری سردار “خیر الدین بار بروسہ” تھا، جو کہ اپنی سرخ داڑھی کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں میں مشہور تھا۔ اس کے علاوہ دو اور نام، جن کا اس تحریر میں ذکر کیا جائے گا، وہ ترغوت اور پیالے ہیں۔

خیر الدین باربروسہ کی ابتدائی زندگی

خیر الدین 1478ء عیسوی میں یونانی جزیرے “لیسبوس” میں “خضر رئیس” کے نام سے پیدا ہوئے۔ خضر کے تین اور بھائی تھے: اسحاق، عروج اور الیاس۔ ان کے والد البانوی نژاد سپاہی تھے، جنہوں نے 1462ء عیسوی میں عثمانی ترکوں کو لیسبوس فتح کرنے میں مدد کی تھی، جس کے بعد ان کا اس جزیرے میں اچھا خاصا اثر و رسوخ قائم ہوا۔ اس کے بعد خیر الدین کے ایک بھائی عروج نے کمہار کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے ایک جہاز خریدا، جس کے ذریعے وہ اپنا سامان بیرونِ ملک فروخت کیا کرتا۔ خضر کی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے خاندانی کاروبار میں مدد کرنے میں گزرا۔ اس دوران جب خضر کا بھائی عروج اپنے چھوٹے بھائی الیاس کے ساتھ تجارت کی غرض سے نکلا تو وہ بدقسمتی سے نائٹ ٹیمپلرز کے ہتھے چڑھ گئے، جنہوں نے عروج کو اس کے چھوٹے بھائی سمیت پکڑا اور روڈس جزیرے میں لے گئے۔ یہاں انہوں نے عروج کے چھوٹے بھائی الیاس کو قتل کر دیا اور عروج کو گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیا۔ جب خیر الدین کو اپنے بھائی کی گرفتاری کا علم ہوا تو اس نے مبارزین کے اس جزیرے پر حملہ کرتے ہوئے اپنے بھائی عروج کو آزاد کروا لیا۔ اس واقعے کے بعد خیر الدین کے بڑے بھائی عروج کی زندگی تقریباً بدل گئی؛ اس نے اپنے خاندانی پیشے کو ترک کرتے ہوئے بحری قزاق بن گیا اور بعد میں اس نے مملوک اور عثمانی سلطنت کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ 1504ء عیسوی میں خیر الدین بھی اپنے اس بھائی کے ساتھ بحری قزاق کے پیشے میں شامل ہوا، جس کے بعد یہ دونوں بھائی تیونس کے حفصی سلطان کے دربار میں حاضر ہوئے، جہاں تیونس کے سلطان نے انہیں اپنی ایک بندرگاہ کے اختیارات دے دیے۔ اس کے کچھ ہی سال بعد یعنی 1509ء عیسوی میں ان کے ساتھ ان کا تیسرا بھائی اسحاق بھی شامل ہو گیا۔

شمالی افریقہ میں مہمات اور تیونس

یہ وہ زمانہ تھا جب اندلس کے مسلمانوں پر اسپین کی عیسائی حکومت انتہائی مظالم ڈھا رہی تھی۔ خیر الدین نے ان مظلوموں میں سے 70 ہزار کو اپنے جہازوں کے ذریعے اندلس سے الجزائر پہنچا دیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسپین اور اٹلی کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئے، کیونکہ انہوں نے عیسائی بیڑوں اور بندرگاہوں پر بے شمار حملے کرتے ہوئے عیسائیوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ پھر جب 1512ء عیسوی میں اسپین کا ایک بحری بیڑا الجزائر پر حملہ آور ہوا تو دونوں بھائیوں یعنی خیر الدین اور عروج نے اس بیڑے پر حملہ کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ ان کی ہر نئی فتح ان کی کامیابی کو چار چاند لگا دیتی اور اسلامی دنیا میں عروج اور باربروسہ کا نام فخر کے ساتھ مسلمان لینے لگے۔ انہوں نے یورپ میں اہلِ جینوا اور اسپین کی ولنسیا بندرگاہ پر حملے کرتے ہوئے عیسائیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد 1516ء عیسوی میں ان بھائیوں نے الجزائر میں سلطان کی حیثیت سے تقریباً ایک سال تک حکومت کی اور وہ ہسپانیوں کے خلاف برابر مقابلہ کرتے رہے۔ پھر انہوں نے سلطان سلیم کی اطاعت کو قبول کر لیا، جس کے بعد الجزائر سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ سلطان سلیم نے عروج کو بیلر بے کا خطاب دیتے ہوئے اسے شمالی افریقہ کا چیف گورنر بنا دیا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے شمالی افریقہ میں اپنی جنگی کارروائیاں جاری رکھیں اور پھر عروج اور اسحاق نے مراکش کے ایک شہر پر قبضہ کر لیا، جس پر ہسپانویوں کا پہلے سے قبضہ تھا۔ یہاں ایک خونریز جنگ ہوئی جس میں دونوں بھائی مارے گئے اور اب ان چاروں میں سے آخری بھائی خیر الدین زندہ بچا تھا۔ خیر الدین نے جب دیکھا کہ وہ تنہا یہاں اپنی خود مختار حکومت قائم نہیں رکھ سکتا تو اس نے الجزائر کو چھوڑ دیا۔ یہاں سے اس نے 1522ء عیسوی میں روڈس پر عثمانی حملے کے دوران حصہ لیا اور اپنے پرانے دشمن کو یہاں سے نکالنے میں مدد کی۔ اس کے علاوہ خیر الدین نے سسلی کے علاقوں پر حملہ کرتے ہوئے بے شمار دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور عیسائیوں میں عجیب طرح کا خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے بعد اب عیسائی بحری بیڑے سمندر میں آزادانہ طور پر گھومنے سے گریز کرنے لگے۔ پھر جب خیر الدین نے تیونس کی حفصی سلطنت پر حملہ کرتے ہوئے اسے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کرنا چاہا تو تیونس کے حفصی سلطان حسن نے شہنشاہ چارلس سے فریاد کی کہ مجھے عثمانیوں سے بچایا جائے۔ چارلس خود 500 جہازوں کا بیڑا اور 30 ہزار فوج لے کر خیر الدین بار بروسہ کے مقابلے کے لیے نکلا، جس کے بعد خیر الدین کو شکست ہوئی اور اسے تیونس چھوڑنا پڑا۔ چارلس فاتحانہ طور پر شہر میں داخل ہوا اور گو وہاں کے باشندوں نے اسپینی حملے کے خلاف خیر الدین کو کسی طرح کی مدد نہیں دی تھی، تاہم چارلس نے اپنے سپاہیوں کو شہر لوٹ لینے کی اجازت دے دی۔ اس واقعے پر ایک انگریز مورخ اویرسلے کا بیان ہے کہ:

“مظالم اور غارت گری کا جو منظر پیش آیا وہ ناقابلِ یقین ہے۔ شہر کے 30 ہزار بے قصور باشندے قتل کر دیے گئے اور 10 ہزار غلاموں کے طور پر فروخت کیے گئے۔ مسجدیں اور تمام خاص خاص عمارتیں جلا کر برباد کر دی گئیں۔ مسجدیں گرجوں کی شکل میں تبدیل کر دی گئیں۔ کتب خانے برباد کر دیے گئے۔ اتنی کتابیں راستے میں پڑی ہوئی تھیں کہ ان کے ڈھیروں کو روندے بغیر کوئی جامع مسجد تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔ لوگوں کو جبراً عیسائی بنایا گیا۔ مسلمانوں کی جائیدادیں اور مکانات چھین لیے گئے اور انہیں عیسائیوں کو دیا جانے لگا۔”

بہرحال اس تمام قتل و غارت گری کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیونس سلطنتِ عثمانیہ کے قبضے سے نکل کر پھر سلطان حسن کے زیرِ حکومت آ گیا، لیکن سلطان حسن کو سلطنتِ اسپین کی اطاعت قبول کرنی پڑی اور اس کی خود مختاری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ تیونس پر ترکوں کا مستقل قبضہ 982 ہجری بمطابق 1574 عیسوی تک نہ ہو سکا۔

عثمانی بحریہ کی گرینڈ ایڈمرلی

1532ء عیسوی میں خیر الدین باربروسہ کو قسطنطنیہ میں بلایا گیا، جہاں اسے سلطان سلیمان نے ایک خاص مشن سونپا۔ سلطان سلیمان نے خیر الدین کو عیسائیوں کے مشہور ایڈمرل جنرل اینڈریا ڈوریا کو شکست دینے کا حکم دیا، جو کہ سلطنتِ عثمانیہ کے یونانی علاقوں پر اس وقت حملہ آور تھا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ خیر الدین کا اینڈریا ڈوریا کے ساتھ سامنا ہوا ہو؛ اس کے بیڑے پہلے بھی کئی بار اس بے رحم ایڈمرل کے ساتھ جھڑپ کر چکے تھے۔ جلد سلطان کے حکم پر خیر الدین دارالحکومت استنبول سے نکلا اور اس نے جینیویز کے بحری بیڑے کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں پرویزا کے مقام پر جا لیا، جہاں اس نے سات گیلیو پر قبضہ کرتے ہوئے اینڈریا کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس ابتدائی فتح کے بعد سلطان سلیمان بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے بار بروسہ کو عثمانی بحریہ کا گرینڈ ایڈمرل مقرر کیا اور اسے خیر الدین یعنی ایمان کا بہترین خطاب دیا۔ پھر اس کے بعد خیر الدین نے بحرِ ایجین کے نو بڑے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے حملے شروع کیے، جس کے بعد اس نے کارفو کے جزیرے کو تقریباً تباہ کر دیا اور یہاں کی پوری آبادی کو غلام بنا لیا۔ یوں اپنے نقصانات سے بچنے کے لیے اہلِ وینس نے پوپ سے مدد کی درخواست کی، کیونکہ خیر الدین بار بروسہ بحیرۂ روم اور یورپ کے ساحلی علاقوں پر ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا تھا۔ اس کے خوف سے اب پوپ پال سوم نے ایک وسیع اتحاد جمع کیا۔ اس نے جینویز اور نائٹس ہاسپٹلرز، جو کہ اب مالٹا میں مقیم تھے، انہیں اپنے پاس بلایا، جس کے بعد 1538ء عیسوی کے موسمِ گرما میں عیسائیوں کا یہ عظیم الشان اتحاد “کارفو” کے ساحل پر جمع ہونا شروع ہوا۔ پرویزا کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے پوپ نے اپنے کمانڈر کے ماتحت دو جنگی جہاز بھیجے تاکہ وہ عثمانیوں کے زیرِ قبضہ قلعے پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیں، لیکن اس ابتدائی حملے میں انہیں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اپنے باقی اتحادیوں کا انتظار کرنے لگے۔ جلد عیسائیوں کا بقیہ بحری لشکر یہاں آ پہنچا۔ اس وقت ہولی لیگ کے پاس تقریباً 300 بحری جہاز تھے، جو کہ جزیرہ کارفو کے ارد گرد جمع ہوئے تھے۔ یوں تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا بحری بیڑا جمع ہوا۔ ان جہازوں میں سے تقریباً 160 جنگی جہاز “گیلیٹس” تھے اور باقی کے 140 “گیلینز” تھے۔ اس میں تقریباً 60 ہزار سپاہی شامل تھے، جو پورے یورپ سے بحریہ میں شامل ہوئے۔

پرویزا کی جنگ (1538ء)

اس کے برعکس خیر الدین باربروسہ کی کمان میں صرف 122 جہاز تھے اور عثمانی سپاہیوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار تھی۔ اس کے علاوہ ہولی لیگ کے پاس تقریباً 2500 توپیں تھیں، جبکہ عثمانی بیڑے کے پاس صرف 366 توپیں موجود تھیں۔ عیسائیوں کی اس ہولی لیگ کی تعداد عثمانی بحری بیڑے سے تقریباً تین گنا زیادہ تھی؛ توپوں کے لحاظ سے سات گنا اور سپاہیوں کی تعداد کے لحاظ سے تقریباً 8 گنا بڑا لشکر تھا۔

24 ستمبر 1538ء عیسوی میں باربروسہ نے اپنا بیڑا خلیجِ اٹا میں لنگر انداز کیا اور وہ اپنے کمانڈروں سے مشورہ کرنے لگا کہ ہمیں یہیں رہ کر جنگ لڑنی چاہیے یا پھر ہمیں کھلے سمندر میں قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ ادھر اتحادیوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا اور خیر الدین باربروسہ کو خلیج سے باہر نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے انہوں نے لیپانٹو پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور اس غرض سے اگلی صبح جزیرہ کارفو سے جنوب کی طرف اپنے جہازوں کے بادبان کھول دیے۔ جیسے ہی یہ لیپانٹو کے قریب پہنچے تو اس دوران باربروسہ بھی اپنے جہازوں کے ساتھ خلیج سے باہر نکلا۔ خیر الدین فجر کی نماز کے بعد اپنے سپاہیوں کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن حملے کے لیے کھلے میدان میں نکلے۔ عیسائیوں کا امیر البحر اینڈریا ڈوریا بار بروسہ کی اس دلیری پر حیران رہ گیا۔ ترک بیڑے نے ہلال کی شکل میں صفیں ترتیب دیں؛ اس کے مرکز میں خود خیر الدین باربروسہ کا جہاز تھا۔ عثمانی بحریہ کے دائیں جانب “صالح رئیس” جبکہ بائیں جانب “سیدی علی رئیس” کمانڈ کر رہے تھے، جبکہ ایک اور مشہور عثمانی امیر “ترگت رئیس” کمک کے طور پر اپنے جہازوں کے ساتھ پیچھے موجود تھے۔

دوسری طرف ہولی لیگ کے تمام بڑے جہاز سامنے فرنٹ لائن پہ تھے اور ان کے پیچھے چھوٹے جہاز تھے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہولی لیگ کے حق میں ہوا چل پڑی اور یہ ہولی لیگ کے لیے ایک بہترین موقع تھا، کیونکہ ہوا کے ساتھ تیزی سے چلنے والے بھاری گیلیٹس عثمانی جہازوں کو کچل سکتے تھے۔ خیر الدین بار بروسہ نے خطرہ محسوس کیا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ عیسائی اتحادیوں کے جہاز بڑی تیزی کے ساتھ عثمانیوں کی جانب آگے بڑھ رہے تھے، لیکن جیسے ہی یہ جہاز عثمانیوں سے کچھ فاصلے تک پہنچے تو یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا: وہ ہوا جس کے بل بوتے پر عیسائیوں نے برق رفتاری سے آگے بڑھ کر حملہ کیا تھا، اچانک رک گئی اور ان کی مخالف سمت چلنے لگی، جس کی وجہ سے ان کے تمام جہاز ایک جگہ پر ساکت ہو گئے۔ اینڈریا نے اپنے بڑے جہازوں سے عثمانیوں کی جانب توپ سے گولے پھینکنے کی کوشش کی، لیکن دوری اتنی زیادہ تھی کہ یہ گولے عثمانی جہازوں سے تھوڑی دور پانی میں جا گرے۔ چنانچہ اب بار بروسہ کی باری تھی؛ اس نے عیسائیوں پر حملے کا حکم دیا۔ عثمانی توپوں کی رینج زیادہ تھی، جس کی وجہ سے جب عثمانی توپیں گولے برسانے لگیں تو اس سے عیسائیوں کے جہازوں کا شدید نقصان ہوا اور ان میں سے بیشتر جہاز پانی میں غرق بھی ہو گئے۔ اینڈریا ڈوریا نے اپنے چھوٹے جہازوں کو آگے بھیجنے کی کوشش کی تاکہ وہ عثمانیوں کے دائیں اور بائیں جانب موجود جہازوں کا محاصرہ کر لیں، لیکن باربروسہ کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا اور اس کے جہاز واپس آ گئے۔ ادھر عثمانی جہاز لگاتار گولہ باری کر رہے تھے، جس سے عیسائیوں کے فرنٹ لائن پر موجود بڑے جہاز تقریباً سارے کے سارے غرق ہو گئے، اور ان میں چند ایک ہی تھے جو ابھی تک عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔ خیر الدین بار بروسہ نے جب دیکھا کہ عیسائیوں کے بڑے جہاز تقریباً غرق ہو گئے ہیں تو اس نے ایک فیصلہ کن حملے کا حکم دیا اور عثمانی جہاز عیسائیوں کی جانب بڑھنے لگے اور جلد دونوں جانب سے تابڑ توڑ حملے شروع ہوئے اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس معرکے میں دونوں جانب سے شدید جانی اور مالی نقصان ہوا۔ عثمانیوں کے بھی بیشتر جہاز عیسائی توپوں کی زد میں آئے اور غرق ہو گئے، لیکن ترک اپنے امیر البحر باربروسہ کی حیرت انگیز شجاعت کی وجہ سے اب بھی پرعزم تھے اور ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔ اس دوران ریزرو میں موجود ترگت رئیس کی کمان میں جہاز دائیں اور بائیں جانب سے عیسائیوں کے قریب آئے اور انہوں نے ان پر گولے برسانا شروع کر دیے، جس کی وجہ سے عیسائی ملاح گھبرا اٹھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اینڈریا ڈوریا نے اپنے جہازوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ یوں اب شام بھی ہو چکی تھی، اس لیے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اینڈریا ڈوریا اپنے بچے کھچے جہازوں کے ساتھ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

اس سے اگلے دن فجر کے بعد ڈوریا نے ایک حیران کن فیصلہ کیا اور میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے بحری جہازوں کو شمال کی طرف واپس کارفو کی طرف لے گیا۔ یہاں ونیشنز، پوپ اور مالٹا کے بحری بیڑوں کے کمانڈروں نے اینڈریا ڈوریا سے درخواست کی کہ وہ جنگ جاری رکھے، لیکن اس نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ یوں یہ جنگ عثمانیوں کی فتح پر ختم ہوئی۔ اس فتح کے تقریباً 8 سال بعد یعنی 953ھ بمطابق 1546 عیسوی میں عثمانی بحری طاقت کو عروج پر پہنچانے والے عظیم الشان امیر البحر خیر الدین باربروسہ کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اپنی حیرت انگیز شجاعت اور قابلیت سے نہ صرف سلطنتِ عثمانیہ کی بحری قوت کو عروج بخشا، بلکہ یہاں تک کہ یورپ کا سب سے بڑا اور طاقتور شہنشاہ چارلس پنجم بھی تنہا اس کے مقابلے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ گو وہ محض ایک سپاہی تھا، تاہم علوم و فنون کی سرپرستی کا شوق اسے حد سے زیادہ تھا اور اس نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ ایک کالج قائم کرنے میں صرف کر دیا۔

طورغوت اور پیالے

خیر الدین پاشا کے علاوہ سلطان سلیمان کو اس قسم کے دو اور بحری کپتانوں کی خدمات بھی حاصل ہو گئی تھیں، جن کی غیر معمولی شجاعت اور قابلیت کا سلسلہ بحرِ روم اور اس کے ساحلی علاقوں پر پھیلا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک طورغوت اور دوسرا پیالے تھا۔

طورغوت بھی ابتدا میں ایک بحری قزاق رہ چکا تھا۔ چنانچہ ایک بار اس نے 30 جہازوں کا بیڑا تیار کر کے جزیرہ “کارسیکا” پر حملہ کر دیا، لیکن ڈوریا نے اسے شکست دے کر گرفتار کر لیا اور زنجیروں میں جکڑ دیا۔ آخر کار مہینوں کے بعد خیر الدین بار بروسہ کی اس دھمکی سے کہ اگر “طورغوت” رہا نہ کیا گیا تو جینوا، یعنی وہ علاقہ جو ڈوریا کا وطن ہے، برباد کر دیا جائے گا، ڈوریا نے اسے آزاد کر دیا۔ طورغوت اپنی مہارتِ فن اور شجاعت میں خیر الدین سے بہت کچھ ملتا جلتا تھا؛ اٹلی اور اسپین کے ساحلی علاقے اس کے نام سے کانپتے تھے۔ عثمانی رعایا ہونے کے باوجود اس کو سلطان کے حلیفوں کے جہاز گرفتار کر لینے میں بھی کوئی تامل نہ ہوتا۔ چنانچہ ایک بار اس نے وینس کے چند تجارتی جہاز پکڑ لیے اور جب سلطان سلیمان نے بازپرس کرنے کے لیے اس کو قسطنطنیہ میں طلب کیا تو اس نے وہاں جانے سے انکار کر دیا اور اپنے بیڑے کو لے کر مراکش چلا گیا اور وہاں کے سلطان کی ملازمت اختیار کر لی۔ پھر خیر الدین پاشا کی وفات کے بعد سلطان سلیمان نے معافی اور اعلیٰ منصب کا وعدہ کر کے اسے بلا لیا اور چند دنوں کے بعد طرابلس کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ طرابلس اس وقت مبارزینِ مالٹا کا مقبوضہ تھا۔ طورغوت نے حملہ کر کے اسے فتح کرتے ہوئے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد وہ طرابلس کا حاکم مقرر ہوا۔ 973 ہجری بمطابق 1565ء میں جب ترکوں نے مالٹا پر حملہ کیا تو وہ بھی اپنا بیڑا لے کر سلطنتِ عثمانیہ کی مدد کو آیا، لیکن اس معرکے میں وہ مارا گیا۔

طورغوت کے بعد تیسرا نام “پیالے” کا آتا ہے۔ “پیالے” بھی ایک مدت تک بحری قزاق رہ چکا تھا۔ پھر اس نے سلطان سلیمان کی ملازمت اختیار کر لی اور رفتہ رفتہ عثمانی بیڑے کا امیر البحر مقرر ہو گیا۔ 967ھ بمطابق 1560ء عیسوی میں 200 جہازوں کا ایک عظیم الشان عیسائی بیڑا طرابلس کو ترکوں سے واپس لینے کے لیے ڈوریا کی سرکردگی میں روانہ کیا گیا تھا۔ “پیالے” بھی جلد اس کے مقابلے کے لیے درۂ دانیال سے نکلا، اور عثمانی جزیرہ جربہ کے قریب، جس پر عیسائیوں نے اپنی فوجیں اتار دی تھیں اور ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا، 14 مئی 1560ء عیسوی کو ڈوریا کے بیڑے پر حملہ آور ہو کر اسے نہایت سخت شکست دی۔ عیسائیوں کے تقریباً 50 جہاز برباد ہو گئے اور 7 گرفتار کر لیے گئے۔ جزیرے پر جو عیسائی فوجیں پہنچ چکی تھیں، انہیں بھی قلعے کا محاصرہ کر کے پیالے نے گرفتار کر لیا اور جربہ پر عثمانی علم پھر لہرانے لگا۔ اس کے بعد اس نے اردن کے صوبے پر، جو الجزائر کے مغرب میں واقع ہے، حملہ کر کے اسے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ 973ھ بمطابق 1565ء میں جب مالٹا پر حملہ ہوا تو وہی عثمانی بیڑے کا امیر البحر تھا۔

نتیجہ

سلطان سلیمان کے دور میں عثمانی بحریہ نے عالمی سطح پر ایک بے مثال طاقت کا درجہ حاصل کیا۔ خیر الدین باربروسہ نے، جو ایک بحری قزاق سے عثمانی بحریہ کا گرینڈ ایڈمرل بنا، پرویزا کی جنگ میں اپنے سے تین گنا بڑے صلیبی بیڑے کو شکست دے کر بحیرۂ روم پر عثمانی بالادستی قائم کر دی۔ اس کے بعد طورغوت اور پیالے جیسے بحری کمانڈروں نے اس روایت کو آگے بڑھایا اور عثمانی بحری قوت کو مزید مستحکم کیا۔

Check Also

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms