1144 عیسوی میں عیسائیوں نے مسلمانوں سے ان کا قبلہ اول بیت المقدس چھین لیا تھا اور اس صدمے سے ہر مسلمان کا دل تڑپ اٹھا تھا۔ حکمران نے فوج کو تیار ہونے کا حکم دیا فوج کے تمام سپاہی بڑی پھرتی کے ساتھ سامانِ جنگ سے لیس ہو کر صف آرا ہو گئے۔ وہ اپنے سالار کے حکم کے منتظر تھے ۔تازہ دم گھوڑے تیار کھڑے تھے، منجنیقیں اور دیگر اسلحہ اکٹھا کیا جا چکا تھا۔
مجاہدین اسلامی پرچم اٹھائے چاک و چوبند کھڑے تھے اور کسی بھی وقت لشکر اسلام روانہ ہو سکتا تھا ۔سالار نے اشارہ کیا اور نعرے تکبیر کی گونج میں اسلامی فوج الراہا کی طرف روانہ ہو گئی۔ ادھر الراہ ایعنی کہ ایڈیسا پر حکمران عیسائیوں کے رہنما جوسلین ثانی کو خبر مل گئی کہ اسلامی فوج آرہی ہے،تو اس کا چہرہ پریشانیوں اور تفکرات کی آماجکا بن گیا ۔اس نے فوج کے سالار کو بلا کر جلدی جلدی کچھ ہدایات دیں۔ تھوڑی دیر بعد جو سلن ثانی نے اپنے چند وفادار ساتھیوں سمیت فرار ہو کر کسی محفوظ مقام کا رخ کر دیا تھا۔
اسلامی لشکر جلد ہی الرہا کی فصیلوں تک آپہنچا ۔شہر کا محاصرہ کر لیا گیا اور مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ اسلامی فوج کے سالار نے کہا کہ شہر کے حکام کو پیغام بھیج دیا جائے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں گے تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا پیغام بھجوا دیا گیا ۔لیکن کچھ دیر بعد ہرقارے عیسائی حکام کا جوابی پیغام لا ئے۔ جس میں اسلامی لشکر کی پیشکش کو ٹھکرا دیا گیا تھا ۔
اب جنگ لڑنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہ تھی۔ اسلامی فوج کی منجنیقیں حرکت میں آگئیں۔ شہر پر حملوں کاآغاز ہو گیا شہر میں اسلحہ اور خوراک کا وافر ذخیرہ موجود تھا ۔چنانچہ اہلِ شہر قلعہ بند ہو کر مقابلہ کرنے لگے۔ 28 دن تک مقابلہ جاری رہا۔ لیکن 29ویں دن قلعے میں محصور عیسائی فوجی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ اسلامی فوج شہر کی فصیلیں توڑ کر شہر میں داخل ہو رہی ہے الراہا فتح ہو چکا تھا۔ وہی عیسائی جنہوں نے کچھ عرصہ قبل بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے تھے عورتوں کو ان کے سہاگ سے محروم کیا تھا معصوم بچوں کے سروں سے والدین کا سایہ چھین لیا تھا ۔اب مسلمان فوج کے رحم و کرم پر تھے اسلامی لشکر کے سپاہی غم و غصے سے بے چین تھے ۔ان کی آنکھوں میں صلیبی سپاہیوں کے لیے رحم کی کوئی علامت نہ تھی۔ لیکن یہ اسلامی لشکر تھا جس کا ایک ایک سپاہی اپنے افسر اعلیٰ کے حکم کا پابند تھا۔
اور وہ منتظر تھے کہ دیکھیں سالار صلیبیوں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں سپہ سالار نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھائیں، ان کے خوبصورت چہرے پر سکون تھا ،انہوں نے حکم دیا جو لوگ ہتھیار پھینک دیں انہیں کچھ نہ کہا جائے اور جن لوگوں کو قیدی بنایا گیا ہے انہیں رہا کر دیا جائے ۔یہ اس مسلمان حکمران کا اعلیٰ ظرف تھا اور ان کی مثالی رحم دلی تھی کیونکہ وہ اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی تھے۔ جنہوں نے 13 سال تک مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والوں کو فتح مکہ کے دن معاف کر دیا تھا۔ الرہا کی فتح کوئی معمولی واقعہ نہ تھا اس کی خبر فوراً ہی پوری دنیا میں پھیل گئی اور تمام مسیحی ممالک میں صف ماتم بچھ گیا۔
مشہور اسلامی مورخ علامہ ابن اسیر کے الفاظ ہیں کہ ایڈیسہ کی فتح فتح الفتو ح یعنی کہ فتح مبین تھی۔
ادھر پورے عالم اسلام میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔شعراء مبارکباد کی نظمیں کہہ رہے تھے۔علماء مشائخ الرہا کےفاتح کو محافظ الاسلام اور مجاہد کبیر کے خطاب دے رہے تھے ۔
خلیفہ بغداد اس فتح سے بے حد خوش تھے انہوں نے حکم دیا کہ الرہا کے فاتح کا نام خطبوں میں شامل کیا جائے۔
اپنے بھرپور جذبہ ایمانی ،مثالی غیرت اور بے پناہ جرات سے کام لیتے ہوئے صلیبیوں کے خلاف جہاد کا آغاز کرنے والے یہ عظیم مجاہد تھے سلطان عماد الدین زنگی جن کو بجا طور پر ملت اسلامیہ کا محسن قرار دیا جا سکتا ہے انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو عیسائیوں کی زبردست طاقت کے خلاف متحد اور منظم کیا بلکہ اپنے زیر انتظام علاقے میں اسلامی شریعت نافذ کر کے اسے ایک مثالی اسلامی ریاست بنا دیاتھا۔
History In Urdu