Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان فاتح کو آخری بازنطینی بادشاہ "کانسٹنٹائن" سے بھی زیادہ ٹف ٹائم دیا تھا۔ سلطان محمد فاتح کا یہ سب سے بڑا اور بدترین دشمن "ولاد سوم" اپنے بدترین نام "ولاد ڈریکولا" کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

"والاد" دراصل 1431ء میں پیدا ہوا۔ وہ ولاچیہ کے حکمران "ولاددوم" کا بیٹا تھا۔ جب جان ہنیاڈی نے عثمانی سلطنت پر حملہ کیا۔ تو اس وقت سلطان محمد فاتح کے والد مراد نے اس حملے کا قصوروار اُس وقت کے ولاچیا کےبادشاہ ولاد دوم پر لگاتے ہوئے اس کے دونوں بیٹوں "ولاد سوم" اور "راڈو" کو عثمانی دارالحکومت ادرنے میں سیاسی قیدی کے طور پر اپنے پاس بلا لیا۔ اس وقت ولاد کی عمر تقریباً 12 سال تھی، جب وہ عثمانی دارالحکومت "ادرنہ" پہنچا، اوریہاں 20 سال کی عمر تک اس نے عثمانی محل میں شہزادے محمد دوم جو کہ بعد میں "محمد فاتح" کے نام سے مشہور ہوئے کہ ساتھ اس نے تعلیم حاصل کی۔ عثمانی سلطان کے حکم پر "ولاد" اور اس کے بھائی "راڈو" نے شہزادے محمد کے ساتھ مولانا "گرانی" سے تفسیر پڑھی تھی۔ لیکن "ولاد" نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ غرض "ولاد" اور اس کا بھائی "راڈو" عثمانی دارالحکومت میں شاہی یرغمال کے طور پر پلے بڑھے تھے۔ شہزادے محمد کے ساتھ اس کی بڑی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ جیسے جیسے "ولاد" بڑا ہوتا گیا، عثمانی فوج میں اس کی قابلیت کی وجہ سے اس کی تعریف ہونے لگی۔ لیکن جب عثمانی سلطنت کے خلاف ہینگری کا سپہ سالار "جان ہونیاڈی" کھڑا ہوا اور اس نے بے شمار عثمانی علاقوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں تباہ و برباد کر دیا اور مغرب کی جانب عثمانیوں کے ایک اور قابل اعتماد البانوی جنرل "سکندر بیگ" نے سلطان مراد کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے اس نے البانیا میں اپنی حکومت قائم کی۔ تو تب سے "ولاد" نے سوچ لیا کہ وہ بھی ایک دن عثمانیوں کے خلاف آزادی حاصل کرتے ہوئے اپنے وطن ولاچیہ ضرور جائے گا، اور عثمانیوں سے ان کے کیے کا بدلہ ضرور لے گا۔ لیکن ولاد کو کوئی موقع مناسبت نظر نہیں آرہا تھا۔ جب سلطان مراد کی وفات کے بعد شہزادہ محمد سلطان بنا تو انہوں نے جولائی 1456ء عیسوی میں ہنگری کے بہت بڑے اور مضبوط قلعے "بلغراد" کا محاصرہ کیا ، تو سلطان محمد کے خلاف ہینگری کے سالار "جان ہونیاڈی" اپنی فوج کے ساتھ یہاں آپہنچا جس کی وجہ سے عثمانیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور بلغراد کا محاصرہ اُٹھا لیا گیا۔ سلطان فاتح نے اپنی یورپی سرحدوں کی حفاظت کے لیے "ولاد" کو روانہ کیا۔ "ولاد" نے سب سے پہلے تو کرائے کے چند فوجی بھرتی کیے اس کے بعد وہ پیش قدمی کرتا ہوا جلد دارالحکومت "تارگوستے" کے قریب جا پہنچا۔ جہاں اس کا مقابلہ اس کے کزن "لارڈ سیلاس دوم" کے ساتھ ہوا اور اس جنگ میں ولاد کو فتح حاصل ہوئی جس کے بعد اس نے اپنے کزن کو مار ڈالا۔ پھر وہ پیش قدمی کرتا ہوا بلا مقابلہ دارالحکومت "تارگوستے" میں داخل ہوا اور اگست 1456 ء میں وہ ولاچیہ کا بادشاہ بن گیا۔ تخت سنبھالنے کے بعد اس نے اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے اور ولاچیا کی طاقت کو بڑھانے کے لیے اس نے کسانوں پر ٹیکس نافذ کیا اس دوران ولاد کو خبر ملی کہ کچھ لوگ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں "ولاد" نے ان سازشیوں کو پکڑ کر بڑی ہی دردناک موت دی اس نے ان کی جائیدادیں ضبط کر لیں اور ان کسانوں کو دے دی جو ان زمینوں میں فصل کاشت کرنے کے بعد کے مہینوں میں فوجی خدمات دیتے تھے۔ اس نے ولاچیہ میں چوروں کو پھانسی دے دی، بھکاری ،بے گھر اور طاعؤن سے متاثرہ لوگوں کو گوداموں میں بند کر کے اس نے انہیں زندہ جلا دیا۔

"ولاد" نے فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے بعد 1458ء میں اپنی فوج کے ساتھ "ٹراسلوانیا" کے ایک علاقے پر اس نے حملہ کیااور ان سب لوگوں کو جن کے بارے میں اسے خبر ملی تھی کہ وہ "ولاد" کی حریفوں کو پناہ دیتے ہیں۔ اس نے ان سب کو بے رحم طریقے سے قتل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ جب اس کی قتل و غارت گری کی خبریں ہینگری کے بادشاہ "مھتیاس" کوملیں، تو اس نے ولاد کی حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس نے اس کی جگہ "ڈین سوم" کو جو کہ ولاد کے والد اور اس کے بھائی کے قتل میں شامل تھا، اسے ولاچیہ کے تخت پر لانے کا اس نے فیصلہ کیا۔ کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ "ولاد" ٹراسلوینیا کے لئے ایک خطرہ بن سکتا ہے جو کہ ہینگری کا ایک صوبہ تھا۔اس دوران اب تک "ولاد" نے عثمانی سلطنت کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہیں کیا تھا۔ جب ڈین کا یہ لشکر ولاچیا پہنچا تو ولاچیا کے گھنے جنگلوں میں "ولاد" پہلے سے ہی ڈین کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ اسے اس سازش کی اطلاع پہلے سے ہی مل چکی تھی۔ جب یہ فوج جنگل کے درمیان میں پہنچی تو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "ولاد" نے ڈین پر حملہ کرتے ہوئے اسے اس کی فوج سمیت قتل کر دیا۔ اس کے بعد "ولاد" نے غصے میں ہینگری کے صوبے "ٹراسلوانیا" پر حملہ کرتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو دردناک طریقے سے قتل کر دیا۔ جس کے بعد ہنگری کے بادشاہ میتھیاس کو اس بات کا احساس ہوا۔ کہ اس کا ٹرانسلوینیائی صوبہ خطرے میں ہے جس کے بعد اس نے "ولاد" کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ جس کے تحت اس نے "ولاد" کے تمام حریفوں اور مخالفوں کو ولاد کے ہوالے کر دیا اور اس نے 15ہزار سونے کے سکے "ولاد" کو دیے۔ جبکہ بدلے میں "ولاد" نے عثمانیوں کو ٹرانسلوینیا میں داخل ہونے سے روکنے کا وعدہ کیا۔

اپنی شمال مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کے بعد "ولاد" نے ڈینیوب کے قریب ایک نیا دارالحکومت بنا کر اپنی طاقت کو مزید مضبوط کرنا چاہا۔ اس نے اپنے موجودہ دارالحکومت "ٹارگوستے" سے دور دریائے ڈینیوب کے قریب "بخارسٹ" کو ولاچیا کا نیا دارالحکومت بنایا۔ جو کہ قدرتی کھائیوں، سانپوں اور مچھروں سے بھرا ہوا تھا، جو کسی بھی حملہ آور فوج کے لیے ایک قدرتی رکاوٹ تھی۔ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے بعد "ولاد" نے مالدیویا کے تخت کے لیے اس نے شہزادے اسٹیفن کو فوجی مدد فراہم کی، جو کہ مالدیویہ کا تخت سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسی زمانے میں ولاجیہ کے مظلوموں کی دردناک چیخیں قستنطیہ تک جا پہنچیں، جنگِ کوسوا جو کہ1389ء میں لڑی گئی تھی، کے بعد ولاچیہ نے سلطنتِ عثمانیہ کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ سلطان محمد فاتح کے دورِ حکومت میں یہاں کا امیر ان کا بچپن کا دوست "ولاد" تھا۔ اس نے سلطان کے خلاف بغاوت کر دی اور عثمانی تاجروں کو جو کہ ولاچیا میں قیام پذیر تھے۔ سخت اذیتوں کے ساتھ انہیں قتل کرا دیا۔

اس کے مظالم اس قدر زیادہ تھے کہ وہ ڈرا کول یعنی شیطان کے لقب سے مشہور تھا۔ اسے لوگوں کو قتل کرنے میں خاص لطف ملتا تھا اور قتل کی عجیب و غریب طریقے ایجاد کرتا رہتا تھا۔ لیکن سب سے زیادہ لطف اسے جسم میں میخیں ٹھونک کر قتل کرانے میں آتا تھا اکثر کئی کئی سو آدمیوں کو ایک ساتھ اس طریقے سے قتل کراتا اور ان کی تڑپتی لاشوں سے اس کی شیطانی روح کو ایک خاص طرح کی لذت حاصل ہوتی تھی۔ غرض جب اس کے مظالم کی فریاد قسطنطنیہ پہنچی، تو سلطان ایک زبردست فوج لے کر اس کے خاتمے کے لیے روانہ ہوئے۔ لیکن قبل اس کے کہ وہ حملہ آور ہوتے۔ ولاد نے سلطان کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور ان کی اطاعت قبول کر کے 10 ہزار دوکان سالانہ خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا اور یہ درخواست کی کہ سلطان کی جانب سے اس معاہدے کی از سرِنو تصدیق کر دی جائے جو 795 ہجری بمطابق1393ء میں سابق عثمانی سلطان بایزید یلدرم اور ولاجیہ کے سابق امیر کے درمیان ہوا تھا سلطان فاتح نے اسے منظور کر لیا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ میں ایک اور مہم کے لیے روانہ ہو گئے۔ لیکن یہ معاہدہ "ولاد" کا مخص ایک وقتی بہانہ تھا۔ وہ اس بہانے سے سلطان کو ٹال کر اپنی فوجی تیاریاں کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ عثمانی فوجوں کے واپس جاتے ہی اس نے بغاوت کھڑی کر دی۔ جب سلطان کو اس بغاوت کی خبر ملی تو سلطان نے تحقیق کے لیے اپنے نمائندے اور ایک فوجی دستہ ولاچیہ میں بھیجا۔ اس میں سلطان کا سسر حمزہ بے جو کہ "ولاد" کے بچپن کا استاد بھی شامل تھا۔ "ولاد" نے عثمانی دستے پر حملہ کرتے ہوئے تمام تُرک سپاہیوں کو بڑی دردناک موت دے کر انہیں قتل کیا۔ جبکہ اس نے سلطان کے سسر حمزہ بے کاسر اُتار کر ایک برتن میں ہینگری کے بادشاہ میتھیاس کو بھیجا تاکہ وہ جان سکے کہ "ولاد" کس قدر عثمانیوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے ہینگری کے بادشاہ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا اور نہ ہی کوئی فوجی مدد ہینگری کے بادشاہ نے "ولاد" کے لیے بھیجی۔ جس کے بعد "ولاد" نے 1461ء کا بقیہ حصہ جنگ کے لیے اپنی فوجوں کو تربیت دینے میں گزارا اور اس نے "بخار سٹ" جو کہ اس کا نیا دارالحکومت تھا۔اسے اس نے مضبوط کیا۔

اس دوران جب "ولاد" کو معلوم ہوا کہ سلطان اناطولیہ میں جنگ میں مصروف ہیں۔ تو اس نے عثمانی سرزمین پر حملہ کرنے کا بہترین موقع جانا اور 1462ء کے اوائل میں اس نے برف سے ڈھکے ہوئے "دریائے ڈینیوب" کو عبور کیا اور بلغاریہ میں موجود عثمانیوں کے ایک مضبوط قلعے "جورجو" پر قبضے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے اس نے بجائے جنگ لڑنے کی ایک چال چلی اس نے ایک عثمانی اعلیٰ عہدے دار کا لباس پہن کر اس نے خالص ترک زبان میں بات کرتے ہوئے شہر کے کمانڈر کو دروازہ کھولنے کا حکم دیا۔ دروازے پر موجود عثمانی سپاہیوں نے اسے عثمانی عہدہ دار سمجھتے ہوئے اسے اندر جانے دیا۔ اب چونکہ ولاد بچپن ہی سے عثمانیوں کے درمیان پلا بڑھا تھا۔ اس لیے اسے ترک زبان بڑی اچھی طرح سے آتی تھی۔ یہاں شہر میں داخل ہونے کے بعد "ولاد" کے ساتھی عثمانی سپاہیوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتارتے ہوئےشہر کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ جس سے کہ بقیہ ولاچیین گھڑ سوار شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں اس نے تمام عثمانی دستے کو ختم کرتے ہوئے شہر کو خوب لوٹا اور لوٹنے کے بعد اس نے شہر کوآگ لگا دی۔ اس ابتدائی فتح کے بعد "ولاد" واپس ولاچیا چلا گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ "ولاد" ڈراکولا کے افسانے کو تقویت دیتا ہے۔ اگلے دو ہفتوں میں اس کے گھڑ سوار چھاپہ مار دستوں نے برف سے ڈھکے دریائے ڈینیوب کے ساتھ "بحیرہ اسود" تک 800 کلومیٹر کے علاقے پر جو کہ عثمانی سلطنت کا حصہ تھا اس نے عثمانیوں اور دیگر عیسائی بستیوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔

اس سب کے بعد "ولاد" کو اب امید تھی کہ یورپ کے عیسائی اس کے جھنڈے تلے ترکوں کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ لیکن یورپ اپنی ہی جنگوں میں مصروف تھے۔ یہاں بلغاریہ میں "ولاد" نے جو حملہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بلغاریہ کے 25 ہزار باشندے "ولاد" اور اس کے بے رحم سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس نے ولاچیہ کی سرحد کے ساتھ ان تمام مضبوط قلعوں اور زرعی کھیتوں کو تباہ کر دیا تاکہ اگر عثمانی فوج یہاں پر حملہ آور ہو تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن "ولاد" کو کیا خبر کہ بہت جلد سلطان فاتح ان تمام ظلموں کا بدلہ لینے کے لئے ولاچیا کا رُخ ضرور کرے گا۔

اس دوران سلطان فاتح نے اناطولیہ میں عیسائیوں کے دو بڑے اہم علاقوں "اماسرا" اور "طربزون" کو فتح کر کے اناطلیہ سے عیسائیوں کو بے دخل کر دیا تھا اور اس فتح کے بعد وہ اپنے دارالحکومت قسطنطنیہ واپس آگئے تھے۔ اور یہاں سلطان کو "ولاد" کے تمام ظلموں اور اس کے حملوں کی خبر دی گئی۔ جب سلطان نے تمام واقعات کو سنا تو اس کے بعد سلطان نے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ولاد ڈراکولا کی مسلسل بغاوت اور قتل و غارت گری بلقان میں عثمانی سلطنت کو غیر مستحکم کر سکتی تھی اور یورپ میں عیسائیوں کو یہ پیغام جاتا کہ سلطان فاتح "ولاد" ڈراکولا سے ڈرتا ہے اور اس نے "ولاد" کے خلاف کوئی فوجی کاروائی نہیں کی۔ قسطنطنیہ میں آئے روز "ولاد" ڈراکولا کے بارے میں خبریں سلطان کو فکر مند کیے جا رہی تھیں۔

ادھر ہینگری کے بادشاہ "میتھیاس نے ولاد کی جنگی کاروائیوں کی حمایت میں اپنا ایک تجربہ کار گھڑ سوار دستہ بھیجا۔ اگر یہ بات درست تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنگری کے بادشاہ اور "ولاد" کے درمیان عثمانیوں کے خلاف ایک اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔ سلطان محمد کو مزید شک تھا کہ عیسائیوں کا ایک وسیع اتحاد عثمانی سلطنت کے خلاف قائم ہونے جا رہا ہے۔ کیونکہ ہینگری نے بلغراد میں اپنی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کردیا تھا۔

اب اگرچہ صلیبی جنگ ہو یا نہ ہو سلطان فاتح ولاد کے خاتمے کا ارادہ کر چکے تھے۔ سلطان نے دارالحکومت قسطنطنیہ میں ڈیڑھ لاکھ کی فوج تیار کی اور وہ اپنی تین سو جنگی توپوں کے ساتھ دارالحکومت سے روانہ ہوئے۔ یہ بہار 1462 عیسوی کا سال تھا۔ سلطان فاتح نے ڈیڑھ لاکھ کی فوج اس خیال سے جمع کی تھی۔ کہ اسے ولاچیہ میں "ولاد" اور ہینگری کے بادشاہ کی متحدہ افواج کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہنگری نے اس سرپھرے شہزادے "ولاد" کی کوئی فوجی مدد نہ کی اور وہ آخر وقت تک ہنگری کے بادشاہ کی طرف سے فوجی مدد کا منتظر رہا۔ "ولاد" نے سلطان فاتح کو جو ٹف ٹائم دیا وہ سلطان کو قسطنطنیہ کی فتح کے دوران بھی نہیں ملا تھا۔ اس نے عثمانیوں کے زیرِ کنٹرول بلغاریہ کے علاقے کو تباہ و برباد کر دیا اور اس نے وہاں پر موجود تمام عثمانی چوکیوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں ختم کر دیا تاکہ اگر کبھی سلطان فاتح اس کی طرف پیش قدمی کرے تو نہ تو سلطان کو بھاگنے کی جگہ ملے اور نہ ہی سلطان کو کوئی وہاں سے فوجی کمک مل سکے۔

ادھر "ولاد" کو جب سلطان فاتح کی پیش قدمی کی اطلاع ملی تو اس نے ولاچیہ میں موجود تمام مردوں کو جو کہ لڑائی کے قابل تھے انہیں اپنی فوج میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ اس کے پاس تقریبا 2 ہزار کے قریب تجربے کار فوجی موجود تھے جب کہ اس کے خود کے ذاتی محافظ غیر ملکی کرائے دار فوجی تھے اور اس کی فوج میں کسان بھی شامل تھے۔ اب "ولاد" کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار کی فوج موجود تھی۔ جس کے ساتھ اس نے اب عثمانی طوفان کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس 20 ہزار کی کم تر فوج کے ساتھ "ولاد" کو اب بھی امید تھی۔ کہ ہینگری کا بادشاہ اسے فوجی مدد ضرور بھیجے گا اور یہ فوجی مدد مل جانے کے بعد وہ سلطان فاتح کے خلاف ایک تاریخی جنگ لڑ سکتا ہے۔ اس نے ڈینیوب میں عثمانیوں کے بحری جہازوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ اسے ہینگری کے بادشاہ کی جانب سے مدد کا اس قدر یقین تھا کہ وہ اپنے سپاہیوں کو اکثر کہا کرتا، کہ ڈینیوب پر موجود برف پگھلنے سے پہلے اپریل تک ہنگری کی فوج ولاچیا کی مدد کے لیے آپہنچے گی۔ کیونکہ اپریل میں دریائے ڈینیوب میں موجود برف پگھلنے کے بعد بحیرہ اسود کے راستے عثمانی بحریہ ڈینیوب میں آسانی کے ساتھ داخل ہو سکتی تھی۔

لیکن اپریل آنے کے بعد دریائے ڈینیوب کی برف تو پگھل گئی، لیکن ہینگری کی جانب سے کوئی فوجی مدد "ولاد" تک نہ پہنچ سکی۔ جس کے بعد "ولاد" کو اب احساس ہوتا ہے کہ اسے اپنے جنگی منصوبوں کو پھر سے ترتیب دینی ہوگی۔

کیونکہ اسے جاسوسوں نے خبر دے دی تھی کہ عثمانی فوج مئی کے شروع میں ادرنےسے نکل چکی ہے۔ سلطان فاتح نے اپنی فوج کے لیے محفوظ راستہ اختیار کیا اور اس نے نیکو پولس کی جانب مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ کیونکہ اگر سلطان بلغاریہ کے راستے میں داخل ہوتے تو انہیں اپنی فوج کے لیے کوئی سپلائی نہیں مل سکتی تھی۔ جبکہ نائیکوپولس کے راستے وہ بڑی آسانی کے ساتھ ولاچیا کے پرانے دارالحکومت ٹارگوستے پہنچ سکتے تھے۔

اس دوران 175 بحری جہازوں پر مشتمل عثمانی بحری بیڑا بحر اسود سے مزید فوجی کمک لے کر دریائے ڈینیوب کی جانب کوچ کرنے لگا ادھر "ولاد"جانتا تھا کہ ہنگری کی فوجی مدد کے بغیر وہ کھلے میدان میں عثمانیوں کا بالکل بھی مقابلہ نہیں کر سکتا اور جنوب سے آنے والی عثمانی فوج کے مقابلے کا واحد راستہ گوریلا جنگ تھا۔ جس میں دشمن کی فوج پر گھات لگا کر حملہ کرنے اور رات کو شب خون مارنے کی وجہ سے سلطان فاتح کی رفتار سست ہو سکتی تھی۔

اس نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے فوج کا ایک حصہ مشرق کی جانب سے آنے والے عثمانی لشکر کو روکنے کے لیے روانہ کیا۔ عثمانی فوج کے ایک دستے نے مالدیویا اور ولاچیا کی سرحد کے درمیان موجود ایک انتہائی اہم سرحدی شہر کلیہ کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن جلد اس محاصرے کو ختم کرنے کے لیے کے لیے مالڈیوا کا بادشاہ اسٹیفن آ پہنچا جس کی وجہ سے عثمانیوں کا یہ محاصرہ ناکام ہو گیا۔

ادھر دریائے ڈینیوب کے کنارے پر سلطان فاتح اپنے بحری جنگی جہازوں کا انتظار کر رہے تھے۔ جلد عثمانی جنگی جہاز یہاں آ پہنچے اور سلطان نے اپنی فوج کو دریا عبور کرنے کا حکم دیا۔ یکم جون 1462ء کو جب سلطان فاتح اپنی فوج کو دریائے ڈینیوب عبور کروا رہے تھے۔ تو یہاں پر "ولاد" نے اپنی فوج کے ساتھ اچانک زبردست حملہ کیا یہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ ابتدائی حملوں میں سینکڑوں عثمانی ینی چری سپاہی ولاد اور اس کے سپاہیوں کے ہاتھوں بے رحم موت مارے گئے۔ لیکن عثمانیوں کے بھاری نقصان پہنچنے کے باوجود عثمانی لشکر تین جون تک دریائے ڈینیوب کو عبور کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا اور ولاد کے لیے اب پیچھے ہٹنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ اگلے مزید چار دنوں تک یعنی کہ چار جون کے آخر تک بقیہ عثمانی فوج نے بھی ڈینیوب کو عبور کر لیا تھا۔

دریائے ڈینیوب کو عبور کرنے کے بعد سلطان فاتح نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا لشکر کی مرکزی کمان سلطان نے اپنے پاس رکھی۔ جبکہ لشکر کا دوسرا حصہ جو کہ رومیلین سپاہیوں پر مشتمل تھا اور جس کا کمانڈر محمود پاشا تھا اس دستے کو سلطان نے تارگوستے کی جانب جانے کا حکم دیا۔ اب یہاں سلطان نے گرمی سے بچنے کے لیے ٹھنڈے علاقے کا انتخاب کیا یہ علاقہ دراصل ولاچیہ کا گھنا جنگل تھا۔ جو کہ عثمانی فوج کے لیے بالکل غیر محفوظ تھا۔ شدید گرمی سے بچنے کے لیے تو یہ طریقہ بالکل محفوظ تھا لیکن یہاں ولاد اپنی فوج کے ساتھ عثمانیوں پر گوریلا وار کر سکتا تھا اور ایسا ہی ہوا۔ جب عثمانی فوج پیش قدمی کرتی ہوئی گھنے جنگل میں داخل ہوئی۔ تو "ولاد" ڈریکولا کی چھپی ہوئی فوج نے اچانک عثمانی فوج پر حملہ کر دیا اوریوں مزید گزرتے دنوں کے ساتھ وہ رات کو بھی عثمانی فوج پر حملہ کر کے عثمانیوں میں خوف و ہراس کی ایک نئی لہر دوڑا دیتا۔ اب چونکہ سلطان "ولاد" کی چالوں کو سمجھ چکے تھے۔ اس لیے سلطان نے اپنی دفاعی پوزیشن مستحکم کی۔ سلطان صبح فجر کی نماز کے بعد فوج کو روانہ ہونے کا حکم دیتے اور سپاہیوں کو چوکنہ رہنے کا حکم دیا۔ سلطان نے رات کو خیموں کے ارد گرد سخت پہرے کا بندوبست بھی کیا۔ جس کی وجہ سے "ولاد" کے حملوں میں تھوڑی بہت کمی واقع ہوئی۔

یہاں "ولاد" ڈریکولا عثمانی فوج کی پیش قدمی کو سست کرنا چاہتا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح عثمانی فوج کی پیش قدمی سست ہو جائے تاکہ مشرق میں موجود اس کا وہ گھڑسوار دستہ جو کہ عثمانیوں کے مقابلے کے لیے گیا ہوا تھا۔ وہ اس سے آ ملے۔

ادھر محمود پاشا کی سربراہی میں جو رومیلین دستہ ولاچیا کے دارالحکومت "بخار سٹ" پہنچا۔ تو اسے سوائے یہاں لاشوں، جلے ہوئے کھیتوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہ ملا۔ یہ سب "ولاد" نے اس لیے کیا تھا۔ تاکہ عثمانی فوج رسد سے بالکل محروم ہو جائے۔ سلطان کو بھی اس پیش قدمی کے دوران بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ علاقہ چونکہ دلدلی تھا۔ اس لیے بہت سے جانور اس پیش قدمے میں مارے گئے۔ جبکہ خراب موسم کی وجہ سے عثمانیوں میں بہت سی وبائیں بھی پھوٹ پڑیں۔ لیکن ان تمام مصیبتوں اور پریشانیوں کے باوجود بلاآخر عثمانی فوج تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل پیش قدمی کے بعد جنگل سے نکل کر ٹارگویتےکے جنوب میں دریائے "لالو میٹا" کے کنارے پر سلطان نے اپنی فوج کو کیمپ نصب کرنے کا حکم دیا۔

یہاں عثمانی لشکر کے مرکز میں سلطان خود اپنے ذاتی محافظوں اور ینی چری سپاہ کے ساتھ موجود تھے۔ جبکہ دائیں جانب رومیلیا کے سپاہی اور بائیں جانب اناطولیہ کے گھڑسوار دستے موجود تھے۔ رات کے اندھیرے میں "ولاد" نے مشرق کی جانب سے آنے والے اپنے دوسرے فوجی دستے کے کپتان سے رابطہ کرتے ہوئے اس نے رات کو عثمانی فوج پر گھات لگا کر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا، کہ مشرق اور مغرب دونوں جانب سے بلغاریہ کی فوج متحد ہو کر لشکر کے عقب پر حملہ کریں گی اور وہ عثمانی صفوں کو چیرتا ہوا سلطان کے خیمے تک جا پہنچے گا اور سلطان کو قتل کرنے کے بعد عثمانی لشکر کو بھی مار دے گا۔

"ولاد" کے اچانک حملے سے عثمانی فوج چوکنہ ہو جاتی ہے اور تقریباً ایک گھنٹے کی خونریز جنگ کے بعد بمشکل "ولاد" عثمانی لشکر کے مرکز میں داخل ہوتا ہے اور وہ لشکر میں موجود سرخ خیمے کی جانب اپنی فوج کو بڑھنے کا حکم دے رہا تھا۔ یہ سرخ خیمہ سلطان فاتح کا تھا۔ ولاچیہ کہ سپاہی عثمانیوں کی صفوں کو توڑتے ہوئے سلطان کے خیمے کے بالکل سامنے جا پہنچے، جہاں پر ینی چری کا دستہ سلطان کی حفاظت کے لیے موجود تھا، ولاد یہاں پر اپنے گھڑ سوار دستوں کو حملے کا حکم دیتا ہے۔ اس گھڑسوار دستے کے حملے کی وجہ سے ینی چری فوج میں بھگدڑپھیل جاتی ہے جسکی وجہ سے صفیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ لیکن جلد ینی چری دوبارہ سے ایک حفاظتی دیوار بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ادھر "ولاد" بے چینی کے ساتھ اپنے مشرق سے آنے والے دستے کو دیکھتا ہے جسے اب تک یہاں پہنچ جانا چاہیے تھا لیکن شاید وہ ولاد کی طرح اتنا ماہر نہیں تھا۔ کہ وہ جلد یہاں پہنچ جاتا ہو سکتا ہے کہ اس نے "ولاد" کو دھوکا دیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ عثمانی فوج کے ہاتھوں مارا گیا ہو۔ دوسرا یہ کہ رات کے اس اندھیرے میں بیسیوں کلومیٹر دور ہو جانے کی وجہ سے ولاد کا اپنے اس دستے کے ساتھ رابطہ بالکل ٹوٹ چکا تھا اور اب ولاد عثمانی فوج کے نرغے میں اپنے مختصر سے دستے کے ساتھ سلطان کو ختم کرنے کی ایک آخری اور ناکام کوشش میں مصروف تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح کو قتل کرنے کی اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی۔اگرچہ رات کو اندھیرا تھا لیکن عثمانی سپاہی حملے سے باخبر ہو گئے اور جلد وہ سلطان فاتح کے مرکزی لشکر کی جانب بڑھنے لگے۔ لیکن اس وقت تک عثمانی لشکر کے بائیں جانب موجود رومیلین سپاہیوں کو حملے کی خبر نہیں ہوئی تھی۔ سو ولاد کے لیے اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ جنوب مشرق کی طرف پیچھے ہٹ جائے۔ سو طلوع آفتاب سے پہلے ولاچیا کے تقریباً پانچ ہزار اور 15 ہزار عثمانی فوج رات کے اس حملے میں مارے جا چکے تھے اور ولاد جو سلطان فاتح کی جان لینے آیا تھا بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر عثمانی لشکر سے بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ اگلے دن جب سلطان "ٹارگوستے" پہنچے تو یہاں سلطان کو سوائے جلے ہوئے کھیتوں شہروں اور بانس میں پروئی ہوئی لاشوں کے سوا سلطان کو کچھ بھی نہ ملا، سلطان اب مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ یہاں مزید رکنا عثمانی فوج کو موت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف تھا۔ سلطان نے جلد تارگوستے سے پیش قدمی کا حکم دیتے ہوئے وہ مشرق میں اپنے بحری بیڑے کی جانب روانہ ہوئے اور ایک اکنجی گھڑسوار دستہ سلطان نے "ولاد" کے چھوٹے بھائی "راڈو" کو دیتے ہوئے ولاچیا کا تخت سنبھالنے کے لیے اسے روانہ کیا اور جلد "راڈو" نے عثمانی فوج کی مدد سے ملک کے جنوب میں زمینوں اور تجارتی راستوں کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اب "راڈو" چونکہ اپنے بھائی "ولاد" کی نسبت رحم دل تھا۔ اس لیے عوام نے اس کی حمایت کی۔

اپنے چھوٹے بھائی راڈو کے تخت نشین ہونے کے بعد ولائڈ نے ہینگری کے بادشاہ میتھیاز سے فوجی مدد کی درخواست کی لیکن ہینگری کے بادشاہ میں اتیاز نے ولاد کو فوج دینے سے انکار کر دیا کیونکہ ہنگری کا بادشاہ جانتا تھا کہ اگر اس نے راڈو کے خلاف حملے کی حمایت کی یا پھر کوئی فوجی مدد کی، تو عثمانی سلطان فاتح اسے جنگ کے اعلان کے طور پر سمجھیں گے۔ ہنگری کے بادشاہ کی جانب سے مدد نہ ملنے پر ولاد نے اکیلے راڈو پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور نومبر 1462 عیسوی کے آخر میں وہ ٹارگویستے سے اپنے چھوٹے بھائی کو تخت سے اتارنے کے لیے روانہ ہوا۔ لیکن ابھی وہ راستے میں تھا کہ بوہیمیا کے کرائے کے کمانڈر "جان گسگرا" نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ جسے ہینگری کے بادشاہ نے حکم دیا تھا۔ اس حملے میں تمام سپاہی جو کہ ولاد کے ساتھ تھے وہ مارے گئے اور ولاد کو گرفتار کر کے ہنگری کے بادشاہ کی خدمت میں بھیجا گیا کیونکہ ہینگری کا بادشاہ مھتیاز عثمانیوں کے خلاف بالکل بھی جنگ لڑنے کے حق میں نہیں تھا۔

Check Also

The Story of the Janissaries: Elite Soldiers of the Ottoman Empire

ایک عام سا عثمانی سپاہی اٹلی کے لوگوں کا ہیرو کیسے بنا؟ کیسے اس ینی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms