Sultan Selim II: 11th Ruler of the Ottoman Empire (1566–1574)

Sultan Selim II: 11th Ruler of the Ottoman Empire (1566–1574)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان سلیمان اعظم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کی باگ ڈور اس کے بیٹے سلیم ثانی کے ہاتھ آئی، اور یہیں سے اس عظیم سلطنت کے زوال کا آغاز ہوا۔ یہ تحریر سلطان سلیم ثانی (1566ء تا 1574ء) کے دورِ حکومت، یمن کی بغاوت، صدرِ اعظم محمد صوقولی کی تجاویز، اور قبرص و تیونس کی فتوحات کے ساتھ ساتھ جنگِ لیپانٹو کی تاریخ بیان کرتی ہے۔

سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کا آغاز

سلطان سلیمان اعظم کے بعد عنانِ حکومت ایک ایسے فرماں روا کے ہاتھ میں آئی جو کسی طرح اس کا اہل نہ تھا۔ سلطان سلیمان نے سلطنتِ عثمانیہ کو ہر حیثیت سے پایۂ کمال تک پہنچا دیا تھا؛ جس سلطنت کی بنیاد تیرہویں صدی عیسوی میں عثمان خان نے رکھی تھی، اس کا تکمیلی پتھر سولہویں صدی میں سلیمان کے ہاتھ سے رکھا گیا۔ تین سو برس کی مدت میں یہ سلطنت، جو ابتدا میں اناطولیہ کی چند جاگیروں پر مشتمل تھی، مکہ معظمہ سے بودا تک اور بغداد سے الجزائر تک پھیل گئی۔

لیکن سلیمان کی وفات کے بعد زوال شروع ہو گیا اور یہ عظیم الشان سلطنت اپنی قوت میں روز بہ روز گھٹتی گئی۔ اس زوال کے اسباب خارجی اور داخلی دونوں تھے۔ پندرہویں صدی سے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں نمایاں ترقی ظاہر ہونے لگی تھی؛ روس کی سلطنت، جو پہلے اپنے دورِ وحشت کی منزلیں طے کر رہی تھی، سولہویں صدی سے مہذب اور طاقتور سلطنتوں میں شمار کی جانے لگی۔ سلطنتِ عثمانیہ کی ہمسایہ سلطنت ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا تصادم ناگزیر تھا، اور سولہویں صدی کے بعد یورپ کی جن حکومتوں نے سلطنتِ عثمانیہ پر حملے شروع کر دیے ان میں روس سب سے آگے تھا۔

لیکن مسیحی سلطنتوں کا کوئی اتحاد سلطنتِ عثمانیہ کو زیادہ نقصان نہ پہنچا سکتا اگر خود نظامِ سلطنت میں اندرونی طور پر فساد پیدا نہ ہو گیا ہوتا اور زوال کے اسباب خود سلطان اور امرائے دولت کے ہاتھوں فراہم نہ ہو گئے ہوتے۔ انحطاط کی بنیاد سلیمان ہی کے عہد میں پڑ چکی تھی، لیکن اس کی غیر معمولی اور عظیم الشان شخصیت نے ان خرابیوں کو ظاہر نہ ہونے دیا، جو اس کے جانشینوں کے عہد میں سرعت کے ساتھ بڑھتی گئیں۔ سلطان سلیمان کے بعد جتنے سلطان تخت نشین ہوئے ان میں سے چند کے استثنا کے ساتھ کوئی بھی اتنی وسیع سلطنت کی، جو تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی اور جس میں تقریباً دو درجن مختلف نسلیں اور قومیں آباد تھیں، فرماں روائی کا اہل نہ تھا۔ نااہلوں کی اس طویل فہرست میں سب سے پہلا نام سلیم ثانی کا نظر آتا ہے، جس نے اپنے مختصر دورِ حکومت کو بادہ پرستی اور عیش پرستی کی نذر کر دیا اور امورِ سلطنت سے منہ موڑ کر اپنا تمام وقت عیش و عشرت میں ضائع کر دیا۔ یہ پہلا عثمانی سلطان تھا جو میدانِ جنگ میں جانے سے گریز کرتا تھا اور جس میں انتظامِ سلطنت کی مطلق اہلیت نہ تھی۔

سلیم ثانی کی تخت نشینی

سیگتوار میں اپنے والد سلطان سلیمان کی وفات کے بعد شہزادہ سلیم اپنے والد کی جگہ تخت نشین ہوا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد سلیم نے انہیں سلیمانیہ مسجد میں دفن کیا۔ اس کے بعد وہ ادرنے چلے گئے، جہاں آسٹریا اور صفوی سفیروں نے سلطان سلیم کو تخت نشینی پر مبارک باد دیتے ہوئے ان سے نئے معاہدوں کی تجدید کی۔ اسی دوران، 1567ء کے آخر میں، ان کے حکم پر معمار سنان نے عظیم سلیمیہ مسجد کی بنیاد رکھی۔

یمن کی بغاوت اور عثمانی اقتدار کی بحالی

سلطان سلیم ثانی کا دورِ حکومت جیسے ہی شروع ہوا، سلطنتِ عثمانیہ کو ایک سنگین اندرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ چیلنج کسی بیرونی طاقت کی طرف سے نہیں، بلکہ سلطنت کے اندر موجود اہم صوبے یمن سے اٹھا۔ یمن کا خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت، دینی اثرات اور قبائلی مزاحمت کے باعث ہمیشہ عثمانیوں کے لیے ایک حساس مقام رہا تھا۔ اس دور میں سلطنتِ عثمانیہ نے یمن کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے اسے دو انتظامی حصوں میں تقسیم کیا، لیکن یہی تقسیم آگے چل کر ایک بڑی کمزوری بن گئی۔

سنہ 1566ء میں جیسے ہی سلطان سلیم نے تخت سنبھالا، زیدی شیعہ امام “المُطَہَّر بن شرف الدین” نے عثمانی حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ انہوں نے یمن کے مقامی قبائل کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھی۔ زیدی امام نے عثمانی حکام کی کمزوریوں اور یمن میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تیزی سے عثمانی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ کچھ ہی مہینوں میں عثمانی اقتدار صرف بحرِ احمر کے ساحلی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

سلطنتِ عثمانیہ نے اس خطرناک بغاوت کا فوری نوٹس لیا۔ مصر کے بیلربی سنان پاشا کو اس مہم کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ ساتھ ہی کرت اوغلو حِزِر حیردین رئیس کو بحری بیڑے کا انچارج بنایا گیا تاکہ بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے، جبکہ عثمان پاشا کو بری فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جسے براہِ راست الحدیدہ کی بندرگاہ سے حملہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ عثمان پاشا نے الحدیدہ پر کامیاب حملہ کر کے ساحلی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔ اس دوران سنان پاشا بھی یمن کی جانب روانہ ہوا۔

تاہم دونوں اعلیٰ افسران کے درمیان اختیارات اور عزتِ نفس کا ٹکراؤ شدت اختیار کر گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عثمان پاشا کو معزول کر دیا گیا اور تمام کمان سنان پاشا کو سونپ دی گئی۔ سنان پاشا نے اپنی عسکری حکمتِ عملی کے تحت کئی مہینوں پر مشتمل سخت لڑائیوں میں زیدی باغیوں کو پے در پے شکست دی اور آخرکار یمن میں عثمانی اقتدار کو مکمل طور پر بحال کر دیا۔ یہ محض جنگی فتح نہیں تھی، بلکہ اس کے بعد عثمانی حکومت نے بہت نرمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ امام المطہر کو سزا دینے کے بجائے سیاسی طور پر معاف کر دیا گیا، اور اس حکمتِ عملی کا مقصد یمن کے زیدی (شیعہ) اور سنی آبادی کے درمیان مزید خانہ جنگی کو روکنا تھا۔

محمد صوقولی کی دو اہم تجاویز اور روس کے خلاف مہم

محمد صوقولی کے پیشِ نظر دو اہم تجاویز تھیں۔ وہ خاکنائے سوئز میں ایک نہر کھود کر بحیرۂ احمر اور بحرِ ہند کو ملا دینا چاہتا تھا، تاکہ ترک بیڑا ان دونوں سمندروں میں آسانی کے ساتھ داخل ہو سکے۔ دوسری تجویز دریائے ڈان اور دریائے والگا کو ایک نہر کے ذریعے ملا دینے کی تھی۔ یہ دونوں دریا روس سے نکل کر دور تک متوازی خطوط میں بہتے آتے ہیں اور ایک مقام پر ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہو جاتے ہیں کہ درمیانی فاصلہ صرف تیس میل رہ جاتا ہے، وہاں پہنچ کر پھر وہ علیحدہ ہو جاتے ہیں اور ایک بحرِ ازف میں جا کر شامل ہو جاتا ہے اور دوسرا بحرِ کاسپین میں۔ ان دریاؤں کو ایک نہر کے ذریعے اس مقام پر ملا دینے سے، جہاں درمیانی فاصلہ صرف 30 میل رہ جاتا ہے، ترکی جہازوں کے لیے دریائے ڈان اور دریائے والگا سے گزر کر بحرِ کاسپین میں پہنچ جانا اور وہاں سے صوبہ تبریز پر حملہ آور ہونا، جو سلطنتِ ایران کا مقبوضہ تھا، بہت آسان ہو جاتا۔ علاوہ ازیں اس تجویز کی کامیابی سے تجارتی فائدے بھی بہت کچھ حاصل ہو سکتے تھے۔ لیکن اس مقصد کا پورا ہونا اسی وقت ممکن تھا جب استراخان پر قبضہ کر لیا جاتا؛ یہ شہر مملکتِ روس کے قبضے میں تھا جس کی وسعت و قوت چند سالوں سے برابر ترقی کر رہی تھی۔

976ھ (1568ء) میں صوقولی نے پچیس ہزار ینی چری اور سپاہیوں کو ازف روانہ کیا؛ وہاں کریمیا کے 30 ہزار تاتاری بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور یہ متحدہ فوج استراخان پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھی، جو دریائے والگا کے دہانے پر واقع تھا۔ یہاں پہلی بار روسیوں اور ترکوں کا مقابلہ ہوا؛ ترکی فوج استراخان پر قبضہ نہ کر سکی اور تاتاریوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ عثمانی فوجیں مجبوراً ازف کی طرف واپس ہوئیں، لیکن قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے ان کا بیشتر حصہ بحرِ اسود میں ایک طوفان سے ضائع ہو گیا اور صرف سات ہزار سپاہی بخیریت واپس پہنچ سکے۔ اس ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈان اور والگا کو ملا دینے کی تجویز منسوخ کر دی گئی۔ روس میں ابھی اتنی قوت نہ تھی کہ وہ خود سلطنتِ عثمانیہ پر حملہ آور ہوتا؛ زار آئیوان نے 978ھ بمطابق 1570ء میں اپنا ایک سفیر بابِ عالی میں بھیجا اور استراخان کے حملے کی شکایت کی، نیز دونوں سلطنتوں کے درمیان امن و اتحاد قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ ایک صلح نامہ مرتب کیا گیا اور تقریباً ایک صدی تک روس اور سلطنتِ عثمانیہ میں پھر کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

تیونس اور قبرص کی فتح

یمن کی دوبارہ فتح کے بعد صوقولی نے تیونس کو اسپینیوں کے پنجے سے چھڑانے کے لیے 977ھ (1569ء) میں اولوچ پاشا کو الجزائر کا حاکم بنا کر اس کی سرکردگی میں ترک بیڑا روانہ کیا۔ اولوچ پاشا نے اسپینیوں کو شکست دے کر شہر پر قبضہ کر لیا، لیکن اسپینی فوج قلعے میں محصور ہو گئی اور 982ھ بمطابق 1574ء تک اس پر قابض رہی۔

978ھ (1570ء) میں سلیم نے قبرص پر حملہ کرنے کا قصد کیا۔ یہ جزیرہ جمہوریہ وینس کا مقبوضہ تھا، جو سلطنتِ عثمانیہ کی حلیف تھی۔ صوقولی نے اس تجویز کی مخالفت کی، لیکن قرہ مصطفیٰ پاشا کے اصرار اور خود سلیم کی خواہش نے اس کی مخالفت کو بے اثر رکھا۔ ایک حلیف کے مقبوضے پر حملہ کرنے کے لیے مفتیِ اعظم نے یہ علتِ جواز پیش کی کہ قبرص اس سے قبل ایک اسلامی حکومت (مصر) کے زیرِ نگیں رہ چکا تھا، یہ جزیرہ عثمانی بحری راستوں کے بیچ واقع تھا، اور اس کی موجودگی سے اناطولیہ کی سلامتی خطرے میں پڑتی تھی۔ چنانچہ 1570ء میں مصطفیٰ پاشا نے ایک لاکھ فوج اور 400 جنگی جہازوں کے ساتھ قبرص پر چڑھائی کی۔ سات ہفتے کے محاصرے کے بعد اس کا پایۂ تخت “نائیکوسیا” (Nicosia) فتح ہو گیا۔ پھر مصطفیٰ پاشا نے اس جزیرے کے سب سے مضبوط قلعے فاماگوستا (Famagosta) کا بھی محاصرہ کیا اور ایک طویل مدت کے بعد اگست 1571ء میں محصورین نے ہتھیار ڈال دیے۔

قلعے کی سپردگی کے وقت مصطفیٰ پاشا نے قبرص کے سپہ سالار براگا ڈنیو (Bragadino) کے سامنے نہایت نرم شرائط پیش کیں؛ اس نے عیسائی فوج اور وہاں کے عیسائی باشندوں کی جان و مال اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا اور وعدہ کیا کہ یہ فوج ترکی کے بحری جہازوں پر جزیرہ کریٹ پہنچا دی جائے گی اور وہاں آزاد کر دی جائے گی۔ لیکن عین اس وقت جب یہ جہاز تیاری کر رہے تھے، مصطفیٰ پاشا اور براگا ڈنیو میں بعض گزشتہ واقعات کے متعلق تکرار ہو گئی اور یہ بات یہاں تک بڑھی کہ مصطفیٰ پاشا نے غصے میں آ کر تمام عیسائی فوج کے قتل کا حکم دے دیا، اور اس کے ایک ہفتے بعد براگا ڈنیو کی زندہ کھال نکلوا لی گئی۔ فاماگوستا پر قبضہ پا جانے کے بعد ترکوں نے پورے جزیرے کو فتح کر لیا، لیکن اس فتح میں ان کے تقریباً پچاس ہزار آدمی کام آئے۔ تین سو برس تک قبرص سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ تسلط رہا، یہاں تک کہ 1878ء میں سلطنتِ عثمانیہ نے اسے گورنمنٹ برطانیہ کے حوالے کر دیا۔

جنگِ لیپانٹو

قبرص کے حملے سے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں نہایت تشویش پیدا ہوئی اور یورپ نے ترکوں کی بحری طاقت کا سدِ باب کرنے کے لیے بحرِ روم کی عیسائی حکومتوں کا ایک اتحاد قائم کیا، جس کے خاص ارکان اسپین، وینس اور مبارزینِ مالٹا تھے۔ اس اتحادی بحری بیڑے کا سالارِ اعظم ڈان جان (Don John) کو مقرر کیا گیا، جو شہنشاہ چارلس پنجم کا ناجائز لڑکا اور باوجود اپنی نوعمری کے نہایت ممتاز کمانڈر تھا۔ اتحادی بیڑا ستمبر 1571ء کو مسینا (Messina) میں جمع ہوا، لیکن قبرص اس وقت تک فتح ہو چکا تھا۔ ترکی بیڑا، جو اپنے جہازوں کی کثرتِ تعداد میں عیسائی بیڑے سے بڑھا ہوا تھا، خلیجِ لیپانٹو (Lepanto) میں لنگر انداز ہوا۔ امیر البحر علی پاشا ایک نوعمر سردار تھا، اس کو بحری جنگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ اولوچ پاشا، جس کی عمر کے 43 سال بحری جنگوں میں صرف ہو چکے تھے، اس بیڑے کا نائب امیر تھا؛ اس نے اتحادیوں پر فوراً حملہ کرنے سے اس بنا پر اختلاف کیا کہ تیاری جیسی چاہیے ابھی مکمل نہیں ہوئی، لیکن علی پاشا کو بلا توقف حملہ کر دینے پر اصرار تھا، جس پر اولوچ پاشا کو خاموش ہو جانا پڑا۔

سنہ 7 اکتوبر 1571ء کو خلیجِ لیپانٹو کے دہانے کے قریب دونوں بیڑوں کا مقابلہ ہوا۔ جنگ صرف چند گھنٹوں تک قائم رہی، مگر فریقین کو شدید نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ دونوں بیڑے ایک دوسرے سے اس قدر قریب آ گئے تھے کہ تلوار کی لڑائی ہونے لگی، جس میں امیر البحر علی پاشا مارا گیا۔ عیسائیوں نے اس کا سر کاٹ کر جہاز کے مستول پر لٹکا دیا؛ یہ دیکھ کر ترکوں کے قدم اکھڑ گئے اور اولوچ پاشا کی کوشش کے باوجود انہیں بری طرح شکست ہوئی۔ اولوچ پاشا بمشکل چالیس جہازوں کو لے کر سلامتی کے ساتھ وہاں سے نکل سکا، باقی پورا ترکی بیڑا، جس کے جہازوں کی تعداد 266 تھی، عیسائیوں کے قبضے میں آ گیا، ان میں سے کچھ غرق بھی کر دیے گئے۔ اس جنگ میں 30 ہزار ترک کام آئے اور پندرہ ہزار عیسائی غلام آزاد ہوئے۔

بحری بیڑے کی بحالی اور وینس سے صلح

خیال تھا کہ اتحادی اپنی عظیم الشان کامیابی سے فائدہ اٹھا کر آگے قدم بڑھائیں گے، لیکن اس فتح سے وہ کچھ ایسے مطمئن ہوئے کہ فوراً اپنے اپنے ملک کو روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر خوشیاں منانے لگے۔ اس کے برخلاف ترکوں نے فوراً اس نقصان کی تلافی شروع کر دی۔ سلیم نے بھی، جو عموماً عیش و عشرت میں سرشار رہتا تھا، اپنی جیبِ خاص سے ایک کثیر رقم عطا کی اور اپنے محل کے باغ کا ایک حصہ نئے جہازوں کی تعمیر کے لیے دے دیا۔ چنانچہ 168 جہازوں کی فوری تیاری شروع کر دی گئی اور چند مہینوں میں حیرت انگیز سرعت کے ساتھ یہ نیا بیڑا تیار ہو گیا۔

سنہ 980ھ (1572ء) میں اتحادی بیڑا پھر بحرِ روم کے مشرقی حصے میں جمع ہوا۔ اولوچ پاشا اپنے نئے بیڑے کے ساتھ اس کے مقابلے کے لیے نکلا، لیکن چونکہ اس کے جہاز رانوں کو ہنوز کافی تجربہ نہ تھا، اس لیے اس نے خود حملہ کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اتحادیوں کی پیش قدمی کا انتظار کرتا رہا۔ اتحادی ترکوں کی اس خلافِ توقع تیاری سے بظاہر اس قدر مرعوب ہوئے کہ ان کی طرف سے بھی کوئی حملہ نہ ہوا اور اولوچ پاشا اپنے پورے بیڑے کے ساتھ واپس آ گیا۔

سنہ 981ھ (1573ء) میں وینس نے سلطنتِ عثمانیہ سے صلح کی گفتگو شروع کی اور حسبِ ذیل معاہدہ مرتب ہوا: وینس نے نہ صرف قبرص کی فتح اور اس پر سلطنتِ عثمانیہ کا قبضہ تسلیم کر لیا، بلکہ اس کے حاصل کرنے میں جو اخراجات سلطنتِ عثمانیہ کو برداشت کرنے پڑے تھے اور جن کا تخمینہ تین لاکھ دوکات تھا، ان کی ادائیگی بھی منظور کی۔ جزیرہ زانطہ کے لیے جمہوریہ وینس اب تک 500 دوکات خراج ادا کرتی تھی؛ اس معاہدے کی رو سے خراج کی مقدار ڈیڑھ ہزار دوکات مقرر ہو گئی۔ البتہ قبرص کا خراج، جو آٹھ ہزار دوکات سالانہ آیا کرتا تھا، وہ اب موقوف کر دیا گیا۔ ڈلماشیا اور البانیا میں فریقین کے جو مقبوضات جنگِ لیپانٹو سے قبل تھے، وہی برقرار رکھے گئے۔

تیونس کا الحاق

وینس اور سلطنتِ عثمانیہ کی صلح کے بعد ڈان جان ایک اسپینی بیڑے کے ساتھ تیونس پر حملہ آور ہوا، اور چونکہ قلعے پر اسپین کا قبضہ جاری تھا، اس لیے آسانی کے ساتھ شہر کو فتح کر لیا۔ اس نے تیونس میں ایک جدید قلعہ تعمیر کرایا اور اپنے سپاہیوں کا ایک طاقتور دستہ وہاں چھوڑ کر خود واپس چلا گیا۔ اس واقعے کی خبر جب قسطنطنیہ پہنچی تو صدرِ اعظم صوقولی نے اولوچ پاشا کو ایک زبردست بیڑے کے ساتھ روانہ کیا۔ اولوچ پاشا کے ساتھ 40 ہزار فوج اور 298 جنگی جہاز روانہ ہوئے، اور اولوچ پاشا نے 33 دن کی مسلسل گولہ باری کے بعد بالآخر “لا گولیتی” پر قبضہ کر لیا۔ یوں 346 سالہ “حفصی سلطنت” کا خاتمہ ہوا، اور تیونس عثمانی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔

سلطان کی وفات

تیونس کی فتح کے صرف 15 دن بعد، 15 دسمبر 1574ء کو سلطان سلیم ثانی حمام میں پھسل کر گرے، انہیں دماغی شریان پھٹنے کا حملہ ہوا، اور وہ انتقال کر گئے۔ ان کی حکومت 8 سال 3 ماہ اور 8 دن پر مشتمل تھی۔ اگرچہ وہ کبھی کسی مہم پر خود شریک نہ ہوئے، مگر ان کے دور میں سلطنت نے فتوحات کا تسلسل جاری رکھا، جن میں قبرص اور تیونس کی فتوحات نمایاں ہیں۔ ان کی تدفین آیا صوفیہ مسجد میں ہوئی، اور ان کی یادگار سلیمیہ مسجد آج بھی سلطنتِ عثمانیہ کے شان دار دور کا نشان ہے۔

نتیجہ

سلطان سلیم ثانی کا دور عثمانی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں سے سلطنت کے زوال کی بنیاد کھل کر سامنے آنے لگی۔ ذاتی طور پر عیش پرست اور میدانِ جنگ سے گریزاں ہونے کے باوجود ان کے دور میں محمد صوقولی جیسے قابل صدرِ اعظم اور تجربہ کار سپہ سالاروں کی بدولت یمن کی بحالی اور قبرص و تیونس جیسی اہم فتوحات ممکن ہوئیں۔ تاہم جنگِ لیپانٹو کی شکست نے یہ عندیہ دے دیا کہ یورپ کی بحری طاقت اب عثمانی برتری کو چیلنج کرنے کے قابل ہو چکی تھی۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms