Sultan Selim I the Grim (Part 2): The Struggle for the Throne

Sultan Selim I the Grim (Part 2): The Struggle for the Throne

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان سلیم اول سلطنتِ عثمانیہ کے نویں سلطان تھے، جو اپنے والد سلطان بایزید کو تخت سے دستبردار کر کے حکمران بنے۔ اپنے دورِ حکومت کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے تخت کے تمام دعویداروں یعنی اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کی بغاوتوں کو کچل کر سلطنت میں خانہ جنگی کا مکمل خاتمہ کیا۔

تخت نشینی اور سلطان بایزید کی وفات

شہزادے سلیم نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے انہیں تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور سلطان بایزید نے بھی سلیم کے حق میں تخت کو خیر اباد کہتے ہوئے اقتدار اپنے بیٹے کے سپرد کر دیا تھا۔ یوں سلطان سلیم سلطنت عثمانیہ کے نویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہو چکے تھے۔

سلطان سلیم اول نے اپنے دورِ حکومت کے ابتدائی چند سالوں میں اپنے دادا سلطان فاتح کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرتے ہوئے اپنے 2 بھائیوں اور10 بھتیجوں کو مار ڈالا تھا۔

سلطان سلیم کے تخت نشین ہونے کہ 20 دن بعد ان کے والد یعنی کہ سابق عثمانی سلطان بایزید نے اپنے بیٹے اور موجودہ سلطان سے ڈیموٹیکا جانے کی اجازت طلب کی۔ جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ جس پر سلطان سلیم کے حکم پر کیپیکلو دستے 2 قطاروں میں سلطان بایزید کو رخصت کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ سلطان سلیم نے اپنے والد کے گھوڑے کی لگام کو پکڑ کر پیدل انہیں دارالحکومت استنبول سے رخصت کیا۔ جس پر سابق عثمانی سلطان بایزید نے اپنے بیٹے سلیم کودعائیں دیں۔ سلطان سلیم نے اپنے والد بایزید کا ہاتھ چوم کر انہیں رخصت کر دیا۔اس سے پہلے کہ سلطان بایزید ڈیمو ٹیکا پہنچتے کہ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے چند دن بعد جنوب مشرق میں ایک گاؤں کے قریب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ان کی وفات ہو گئی۔

شہزادہ احمد کی بغاوت

جس وقت سلطان سلیم تخت نشین ہوئے تھے تو ان کے دونوں بڑے بھائی کرکوت اور احمد ایشیائے کوچک یعنی کہ "اناطولیہ" کے دو صوبوں کے حاکم تھے۔ ان دو بھائیوں اور بھتیجوں سمیت کل نو شہزادے تھے۔ سلطان سلیم اپنے ان بھتیجوں اور بھائیوں سے بالکل بھی مطمئن نہیں تھے۔ کیونکہ کسی بھی وقت کوئی بھی عثمانی شہزادہ ان کے خلاف بغاوت کر سکتا تھا۔ سلطان سلیم کے اپنے بھائیوں کے بارے میں جو خدشات تھے وہ بالکل صحیح ثابت ہوئے کیونکہ اس دوران شہزادہ احمد جو کہ سلطان سلیم کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے اماسیہ میں بھائی کے خلاف بغاوت شروع کر دی اور اس نے اپنے بھائی کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ "رومیلی کا علاقہ تمہارا جبکہ اناطولیہ کا علاقہ میرا ہوا" اس بغاوت کے اعلان کے بعد شہزاد احمد نے اپنے بڑے بیٹے علاؤ الدین کو ایک فوج دے کر بورسہ شہر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا جبکہ وہ خود اناطولیہ کے دیگر سرداروں سے بیعت لینے میں مصروف ہو گیا۔ شہزاد احمد کو قونیہ میں کرمانیوں کی جانب سے مکمل حمایت حاصل تھی اور اس کے علاوہ بنو من تشا نے بھی شہزادے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس کے پاس اپنے چند سپاہی بھیجے۔ ادھر جب علاؤ الدین فوج کے ساتھ بورصہ شہر پہنچا تو اس نے سلطان سلیم کے مقرر کردہ پاشا کو پھانسی دیتے ہوئے شہر پر قبضہ کر لیا۔ جب بورسہ شہر کے چھن جانے کی خبر سلطان سلیم تک پہنچی تو انہوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے سخت ترین اقدامات کیے۔ انہوں نے جس قدر ممکن ہو سکتا تھا یورپ کی افواج کو جلد از جلد دارالحکومت استنبول میں جمع ہونے کا حکم دیا اور جب فوج استنبول میں جمع ہو گئی، تو سلطان سلیم نے اپنے بڑے بیٹے شہزاد سلیمان کو ضلعی گورنر کے طور پر چھوڑتے ہوئے، اس نے 70 ہزار کی فوج کے ساتھ وہ استنبول سے روانہ ہوئے جب بورسہ شہر میں علاؤ الدین کو اپنے چچا یعنی کہ سلطان سلیم کی فوج کی آمد کی خبر ملی تو وہ اپنے چند بھروسے کے ساتھیوں کے ساتھ چپکے سے بورسہ شہر چھوڑ کر فرار ہو گیا اور جب سلطان سلیم اپنے لشکر کے ساتھ انقرہ پہنچے تو احمد وہاں سے بھاگ نکلا اور اس نے اپنے دو بیٹوں کو شاہ اسماعیل کے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے ایران روانہ کیا۔ سلطان سلیم نے اپنے بڑے بھائی شہزادے احمد کو اماسیہ کی گورنری سے برطرف کرتے ہوئے اس کی جگہ مصطفی بے کو اماسیہ کا گورنر مقرر کر دیا۔

سلطان سلیم نے اگرچہ بورسہ شہر کو دوبارہ واپس حاصل کر لیا تھا۔ لیکن اس کی فوج کے بعض افسر شہزاد احمد سے جا ملے اور جنگ پھر شروع ہو گئی ابتدا میں شہزاد احمد کو چند معمولی فتوحات حاصل ہوئیں لیکن بالاخر اسے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا۔ اور اس کے بعد اس نے اپنے پانچ بھتیجوں کو جو کہ بورسہ کے بعض اُمرا کے گھروں میں چھپے ہوئے تھے گرفتار کر کے انہیں مروا ڈالا یہ شہزادے اس کے مرحوم بھائیوں شہنشاہ شاہ عالم اور محمود جو کہ سلطان بایزید کی زندگی میں ہی وفات پا چکا تھا کہ اولاد تھے۔

شہزادہ قورقود کا انجام

شہزادہ کرکوت جو کہ اس وقت سارو خان میں خاموشی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اب تک اپنے بھائی کے خلاف بغاوت نہیں کی تھی۔ لیکن جب ان شہزادوں کے قتل کی خبریں اس تک پہنچیں تووہ سمجھ گیا کہ اس کی بھی باری ضرور آئے گی۔ اس لیے وہ بھی اب اپنی جان کی حفاظت کا سامان کرنے لگا اور اس نے عثمانی اسٹیبلشمنٹ یعنی کہ ینی چری کو اپنا طرفداربنانے کی کوشش شروع کر دی۔ سلطان سلیم نے شہزادے کرکوت کو احکامات جاری کیے کہ وہ اپنے پاس موجود فوج کو ختم کر دے۔ جس پر شہزادے کرکوت نے سلیم کی اطاعت کرتے ہوئے اسے یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس سے بغاوت کا اندیشہ ہو۔ لیکن پس پردہ شہزادہ کرکوت جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھا سلطان سلیم کو شبہ تھا کہ اس کا یہ بھائی بھی بڑے بھائی کی طرح اس کے خلاف بغاوت کرے گا اور اس یقین دہانی کے لیے اس نے ایک چال چلی۔ سلطان سلیم نے اپنے ماتحت کئی ایک پاشاؤں کو حکم دیا کہ وہ شہزاد کرکوت کوخفیہ خط لکھیں۔ جس کا متن کچھ اس طرح ہو کہ وہ موجودہ سلطان سے ناخوش ہیں اور وہ کرکوت کو تخت پر دیکھنا چاہتے ہیں اور ان تمام پاشاؤں نے شہزاد کرکوت کو اپنی حمایت کا یقین بھی دلایا۔ جس پر شہزادے کرکوت نے ان تمام پاشاؤں کو مثبت جوابات دیے اب سلطان سلیم کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کا یہ بھائی بھی اس کے خلاف بغاوت کرے گا۔ چنانچہ ایک روز سلطان سلیم انتہائی خاموشی کے ساتھ شکار کا بہانہ کر کے 10 ہزار سواروں کے ساتھ کرکوت کی حکومت میں داخل ہوئے اور اسے گرفتار کر لینا چاہا لیکن کرکود بھاگا، اور جلد پکڑ لیا گیا۔ سلطان سلیم نے سنان نامی ایک افسر کو اس کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ مرنے کے لیے فوراً تیار ہو جاؤ، رات کا وقت تھا اور کرکوت سو رہا تھا سنان نے اس کو بیدار کر کے سلطان سلیم کا حکم سنایا۔ کرکود نے صرف ایک گھنٹے کی مہلت مانگی اس فرصت میں اس نے اپنی بے کسی کی موت پر ایک طویل خط اپنے بھائی سلیم کے نام لکھا جس میں اس کی بے رحمی کی شکایت کی۔ اس کے بعد اس نے اپنی گردن چلا کے حوالے کر دی۔ سلطان سلیم نے جب یہ خط پڑھا جو کہ حقیقتاً ایک نہایت دردناک مرثیہ تھا تو سلطان سلیم بہت روئے اور انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ تین روز تک خود بھی ماتم کرتے رہے اور تمام سلطنت کو بھی ماتم کا حکم دیا۔ جن ترکمانوں نے کرکوت کے چھپنے کی جگہ کا پتہ بتایا وہ اب انعام کے لیے سلیم کے حضور حاضر ہوئے سلیم نے ان سب کو قتل کرا دیا۔ یوں 12 مارچ 1513 عیسوی کو سلطان سلیم نے اپنے پہلے باغی بھائی کی بغاوت کو ختم کرتے ہوئے اپنے تخت کو کسی حد تک مضبوط کر لیا تھا اور اب شہزادے احمد کے علاوہ تخت کا دعوی دار کوئی نہیں بچا تھا۔

شہزادہ احمد سے فیصلہ کن معرکہ

دوسری جانب شہزادے احمد نے صفیوں اور مملوکوں سے فوجی مدد حاصل کر لی تھی۔ اس دوران سلطان سلیم نے وہی چال چلی جو اس نے اپنے دوسرے بھائی شہزاد کرکوت کے ساتھ چلی تھی۔ اس نے اپنے پاشاؤں کو خفیہ طور پر شہزاد احمد کے ساتھ خط و کتابت کا حکم دیا۔ جس میں باغی شہزادے کو تخت نشین ہونے کی دعوت اور اسے پوری حمایت کا یقین دلایا گیا۔ یہاں تک کہ ان پاشاؤں نے شہزاد احمد کو اس حد تک یقین دلایا، کہ اگر میدان جنگ میں دونوں بھائیوں کی جنگ ہو تو وہ سلطان سلیم کو گرفتار کر کے شہزاد احمد کو تخت نشین کر دیں گے۔ یوں ان خطوط کی وجہ سے شہزادے احمد نے یقین کر لیا کہ اب اسے تخت حاصل کرنے کے لیے صرف ایک آخری جنگ لڑنی ہوگی اس نے فوراً ایک فوج اپنی کمان میں اماسیہ میں جمع کی اور وہ اماسیہ شہر سے روانہ ہوا۔ اس نے سب سے پہلے طوسی میں موجود عثمانی پاشا محمت کے ساتھ جنگ لڑی محمد کے پاس فوج کم ہونے کی وجہ سے اسے پسپا ہونا پڑا اور وہ اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ انکرہ واپس چلا گیا اور اس نے سلطان کو خط لکھا کہ شہزادے احمد نے بغاوت کرتے ہوئے اسے طوسیہ شہر سے نکال دیا ہے۔

یوں اس ابتدائی فتح کی وجہ سے شہزاد احمد کے پاس سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا اور وہ اپنی 30 ہزار کی فوج کے ساتھ پہلے طوسیہ اور پھر انکرہ شہر کو فتح کرتا ہوا 4اپریل کو شہزادہ احمد بورسہ شہر کی سمت روانہ ہوا تقریباً 11 دن کی مسلسل پیش قدمی کے بعد مارچ کے اخر میں دونوں بھائیوں کی فوجیں ینی شہر کے میدان میں آمنے سامنے ہوئیں۔ یہاں میدان جنگ میں شہزادے احمد نے اندازہ لگایا۔ کہ سلطان سلیم کی جانب سے نہ تو کوئی بغاوت ہوئی ہے اور نہ ہی فوج اس کے لشکر میں شامل ہوئی ہے جس پر اسے معلوم ہو گیا کہ اسے بھیجے گئے تمام خاتون جعلی تھے اور یہ کہ وہ اب ایک ایسی جنگ میں داخل ہو گیا ہے جس میں اب واپسی ناممکن ہے دونوں بھائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی جنگ کی ابتدا میں شہزادے احمد کو کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن سلطان سلیم نے ابھی اپنا آخری پتہ نہیں کھیلا تھا۔

ہوا دراصل کچھ یوں تھا کہ سلطان سلیم نے کریمیا کے گھڑسواروں کا ایک دستہ پہاڑ کی عقب میں گھات لگانے کے لیے چھپایا ہوا تھا جب جنگ اپنے زوروں پر تھی اور سلطان سلیم کی فوج پسپائی اختیار کرتے ہوئے اپنے کیمپ تک جا پہنچی تھی تو شہزاد احمد کی فوج اس کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے مرکز سے کافی دور آگئی تھی۔ جس پر سلطان سلیم نے اپنے ان گھڑ سواروں کو حملے کا حکم دیا اور ان گھڑ سواروں نے برق رفتاری کے ساتھ باغی شہزادے کی فوج کے عقب پر حملہ کر دیا۔ یہاں شہزاد احمد کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کر دی ہے لیکن اب واپسی کے راستے بند ہو چکے تھے۔ سلطان سلیم کی فوج نے چاروں اطراف سے شہزاد احمد کی فوج کو گھیر لیا تھا اور یوں یہ فوج محصور ہو کر رہ گئی تھی شہزاد احمد نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس پسپائی کے دوران اس کا گھوڑا لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا اور بنو ذوالقدر کے سردار احمد پاشا نے فوراً آگے بڑھ کر باغی شہزادے کو گرفتار کر لیا۔

شہزادے احمد نے پکڑے جانے کے بعد اپنے بھائی سلطان سلیم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اسے اس کی اجازت نہ دی گئی اور اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنی انگوٹھی اتار کر اپنے بھائی سلیم کو بطور یادگار کے دے دی اور جب اس کی لاش سلطان سلیم کے خیمے میں لائی گئی تو سلطان اپنے اس بھائی کی موت پر بے حد روئے اور انہوں نے بورسہ میں اپنے بھائی کو باقی عثمانی خاندان کے ساتھ دفن کر دیا شہزاد احمد کے بچ جانے والے چار بیٹوں میں سے دو مصر اور باقی دو صفیوں کی سرزمین میں فرار ہو گئے تھے اور یوں سلطان سلیم اول نے اپنی حکومت کی ابتدائی چند سالوں میں خانہ جنگی کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔

نتیجہ

اس کے بعد سلطان سلیم کی نظریں یورپ کی بجائے ایشیا پر مرکوز ہو گئیں۔ آگے چل کر سلطان سلیم اور صفوی سلطنت کے حکمران شاہ اسماعیل کے درمیان خونریز جنگِ چالدران ہوئی، جس میں شکست کے بعد سلطان سلیم نے صفیوں کی طاقت توڑ دی۔ یوں سلطان سلیم اول نے اپنی حکومت کے ابتدائی چند سالوں میں ہی خانہ جنگی کا خاتمہ کر کے اپنے تخت کو مضبوط کر لیا تھا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms