یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد تخت کی خاطر عثمانی خاندان میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی، اور شہزادہ جمشید نے پہلے تو تخت کے حصول کے لیے اپنے بھائی کے ساتھ جنگ لڑی اور پھر 13 سال تک وہ یورپ میں قید رہا اور وہیں اُس کی موت واقع ہوئی۔ یہ مضمون سلطان بایزید ثانی کی زندگی کے آخری چند سال اور ان کے بیٹے سلیم اول کی بغاوت اور اس کے تخت نشین ہونے کی تاریخ کے بارے میں ہے۔
جانشینی کا مسئلہ: بایزید ثانی کے بیٹے
سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد ان کا بیٹا بایزید ثانی تخت نشین تھا۔ بایزید اب کافی بوڑھا ہو چکا تھا اور اس کی صحت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔ اس لیے وہ ریاستی امور کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا تھا۔ جسکی وجہ سے دارالحکومت میں آئے روز یہ مسئلہ زیر بحث رہتا تھا کہ سلطان بایزید کی وفات کے بعد اگلا عثمانی سلطان کون ہوگا؟
سلطان بایزید ثانی کے تین بیٹے تھے۔ جو کہ ان کے بعد تخت نشین ہو سکتے تھے۔ سلطان کا پہلا بڑا بیٹا شہزادہ احمد "اماسیہ" کا گورنر تھا۔ دوسرا بیٹا کرکوت ٹیکے کا ، جبکہ اس کا سب سے چھوٹا بیٹا شہزادہ سلیم طرابزون کا گورنر تھا۔ سلطان بایزید کے تمام مصائبین نے سلطان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنے بڑے بیٹے شہزادے احمد کو اپنے بعد تخت کا وارث منتخب کر لے، کیونکہ شہزادہ احمد اپنے والد کی طرح ایک نرم مزاج شخص تھا اور اسی لیے زیادہ وزراء اس شہزادے کے حامی تھے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم ہاد علی پاشا جو کہ سلطان کے بعد عثمانی سلطنت کا دوسرا طاقتور ترین فرد تھا، وہ بھی شہزادے احمد کو تخت پر دیکھنا چاہتا تھا۔ دوسری طرف سلطان بایزید بھی اپنے اس بڑے بیٹے شہزادے احمد سے بے حد پیار کرتے تھے،اور وہ چاہتے تھے کہ شہزادہ احمد ان کے بعد سلطان بنے۔
ینی چری فوج اور شہزادہ سلیم
لیکن عثمانی اسٹیبلشمنٹ یعنی کہ ینی چری فوج جس نے سلطان محمد فاتح کے دور میں بے شمار فتوحات حاصل کیں اور انہوں نے کئی ایک جنگوں میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے وہ اب سلطان بایزید کے امن کے زمانے سے تنگ اچکے تھے۔ کیونکہ سلطان فاتح کی وفات کے بعد ان کا بیٹا بایزید تخت نشین ہوا تھا اور اس کے دور میں نہ تو کوئی بڑی جنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی بڑی فتح ہوئی اور اب چونکہ خود عثمانی سلطان اور اس کے وزراء شہزاد احمد کی طرف دار تھے اور اسے تخت پر دیکھنا چاہتے تھے تو یہ کسی طرح بھی ینی چری فوج کو قابل قبول نہیں تھا۔ کیونکہ وہ بھی اپنے باپ کی طرح انتہائی نرم مزاج کا مالک تھا اس کے برعکس عثمانی فوج کی نظریں سب سے چھوٹے شہزادے سلیم پر تھیں وہ چاہتے تھے کہ شہزادے سلیم کی بیعت کر کے اسے سلطان بنایا جائے۔ کیونکہ اس میں اپنے دادا سلطان فاتح کی طرح جنگ و جدل کے صفات پائی جاتی تھیں۔
عثمانی وزیر اور پاشا ایک سخت اور جنگجو سلطان تخت پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ کیونکہ اس کے مقابلے میں ایک نرم مزاج سلطان کو وہ اپنے فیصلوں پر آسانی کے ساتھ قائل کر سکتے تھے۔ اس لیے وہ شہزادے سلیم کو سلطان بایزید کے بعد تخت نشین ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
صفوی خطرہ اور شہزادہ سلیم کا ردعمل
شہزادہ سلیم اس وقت طرابزون جو کہ عثمانی سلطنت کی مشرقی سرحدوں کا آخری حصہ تھا، وہاں کا گورنر تھا اور یہاں عثمانیوں کی ہمسایہ سلطنت آق قیونلوتھی۔ جو کہ ایک سنی سلطنت تھی۔
لیکن 1501 عیسوی میں اسکے ایک فوجی افسر شاہ اسماعیل نے بغاوت کرتے ہوئے آق قیونلوسلطنت کا خاتمہ کرتے ہوئے، اس نے شیعت پر مبنی صفی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس نے اپنی پوری سلطنت میں شیعت کو رائج کیا اور سنیوں کے خلاف اس نے جبر کی پالیسی کو اپنایا۔ اہل سنت پر ہونے والے مظالم کی خبریں شہزادہ سلیم تک پہنچ رہی تھیں اور اس کے جاسوس تبریز میں شاہ اسماعیل کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کا قریب سے مشاہدہ کر چکے تھے۔ اس دوران بے شمار اہلِ سنت مظلوموں نے نئے عثمانی سلطان بایزید کو خط لکھے کہ وہ شاہ اسماعیل کے خلاف ان کی مدد کریں۔ تاہم سلطان بایزید اپنے ریاستی وقار اوربڑھاپے کی وجہ سے صورتحال کی نوعیت کو سمجھنے سے بالکل قاصر تھا اور اس نے شاہ اسماعیل کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات جاری رکھے۔
دوسری جانب شہزادہ سلیم جو کہ ان واقعات کو قریب سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے والد کو تنبیہ کی کہ وہ مظلوم سنیوں کی مدد کریں۔ لیکن اسے اپنے والد کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ جس پر شہزاد سلیم نے ارزنجان کے علاقے پر حملہ کرتے ہوئے، اس نے یہاں سے شاہ اسماعیل کے سپاہیوں کو نکال باہرکرتے ہوئے، شہزادہ سلیم نے یہاں پر قبضہ کر لیا۔ اس پر اسماعیل نے سلطان بایزید کو خط لکھا اور بتایا کہ اپ کے شہزادے نے اپ کے حکم کے بغیر میرے علاقے پر حملہ کرتے ہوئے میری چند زمینوں کو اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔ جب قسطنطنیہ میں سلطان بایزید کو شہزادہ سلیم کے اس حملے کی خبر ملی تو وہ سخت برہم ہوئے، انہوں نے فوراً ایک قاصد اپنے بیٹے سلیم کے پاس بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اورزنجان کے علاقے کو فوراً خالی کرتے ہوئے اسے صفیوں کو واپس کر دیا جائے۔ جس پر شہزادہ سلیم نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے والد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہوں نے یہ علاقہ خالی کر دیا۔
شہزادہ احمد کی ولی عہدی اور سلیم کی بغاوت
شہزادہ سلیم کی اس حرکت پر ان وزراء کو جو کہ سلیم کو تخت نشین ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ انہیں موقع مل گیا اور انہوں نے سلطان کے کان بھرنا شروع کر دیے، کہ جو شہزادہ آپ کے حکم کے بغیر اپ کی ہمسائی ریاست پر حملہ کرچکا ہے وہ تخت کے لائک نہیں۔ جس کے بعد سلطان بایزید نے اپنے سب سے بڑے بیٹے شہزادے احمد کو اپنے بعد تخت کا وارث منتخب کر لیا۔
جب شہزادہ سلیم کو صورتحال کا علم ہوا۔ تو اس نے تخت حاصل کرنے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں، اسے بخوبی پتہ تھا کہ وہ اپنے والد کے حکم پر سلطان نہیں بن سکتا اور خاص کر اس کے دادا سلطان محمد فاتح نے بھائیوں کے قتل کا جو قانون بنایا تھا۔ اس کے مطابق جو بھی شہزادہ سلطان بنے گا۔ وہ اپنے بھائیوں کو سب سے پہلے قتل کرے گا۔ اس لیے اسے تخت حاصل کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نظر نہ آیا۔
دوسری جانب شہزادہ احمد نے بولو شہر میں موجود اپنے بھتیجے اور شہزاد سلیم کے بیٹے سلیمان کو برطرف کرتے ہوئے اسے کریمیا میں کیف شہر کا سنجک بے تعینات کر دیا۔ سلیم اپنے بڑے بھائی اور ولی عہد کہ اس فعل سے سخت برہم ہوا، جس پر اس نے سپاہیوں کو جمع کیا اور وہ یہاں سے سفر کرتا ہوا کریمیا میں کیف شہر جا پہنچا۔ یہاں پر اس نے اپنے سسر خانے کریمییا سے فوجی مدد حاصل کی اور شہزادہ سلیم پیش قدمی کرتا ہوا مارچ 1511 عیسوی میں استمبول کی جانب روانہ ہوا۔
قزلباش بغاوتیں
اس دوران جبکہ شہزادہ سلیم اپنے والد کے حکم کے بغیر پیش قدمی کر رہا تھا، توادھراناطولیہ میں اس کے بڑے بھائی شہزادے کرکوت نے بھی اپنے والد کے حکم کے بغیر پیش قدمی شروع کر دی۔ اس نے اپنے والد سلطان بایزید سے مانیسا کی حکمرانی کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے سلطان نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جسکی وجہ سے وہ اپنی فوج کے ساتھ پیش قدمی کرتا ہوا مانیسا جا پہنچا۔
اس دوران شہزادہ احمد نے جو کہ ولی عہد تھا۔ اس نے اپنے والد سے دونوں بھائیوں شہزادہ سلیم اور کرکوت کو روکنے کے لیے جنگ کی اجازت چاہی۔ جس پر سلطان بایزید ثانی نے اسے سختی سے ڈھانٹا اور اس نے بھائیوں کے درمیان جنگ ہونے سے روک دیا۔
اس دوران شہزادہ سلیم اپنی فوج کے ساتھ ادرنے شہر پہنچ چکا تھا۔ جس کے بعد عثمانی وزیروں اور مشیروں نے سلطان بایزید کو شہزاد سلیم کے بغاوت کو کچلنے کے لیے امادہ کر لیا۔
ادھر عثمانی سلطنت میں جب کہ سلطان ابھی زندہ تھےکہ تخت کی خاطر جنگیں شروع ہونے والی تھیں، تو موقع غنیمت سمجھتے ہوئے صفوی سلطنت کے حامی قزلباش تُرکمانوں نے جب دیکھا کہ شہزادے آپس میں لڑنے کے لیے بالکل تیار ہیں، تو انہیں لگا کہ سلطان بایزید کا انتقال ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب عثمانی شہزادے تخت کی خاطر ایک دوسرے سے جنگ لڑنے والے ہیں۔ سو انہوں نے شہزادوں کے اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ "شہکولو" نامی ایک اہل تشیع نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔ ان باغیوں کا مقصد اناطولیہ پر قبضہ کر کے اسے شاہ اسماعیل کے حوالے کرنا اور اناطولیہ کو شیعہ قزلباش ترکوں کی حکومت میں لے جانا تھا۔ شہزادہ سلیم نے جس خطرے کے بارے میں اپنے والد سلطان بایزید کو برسوں پہلے خبردار کیا تھا وہ قزلباش شیعہ تھے اور آخر کار یہ سچ ثابت ہوا کہ شہزاد سلیم کے خدشات بلکل درست تھے۔ یہ باغی جلد قتل و غارت گری کرتے ہوئے اناطولیہ کے مشہور شہر کوتاہیہ جا پہنچے۔ جہاں پر اناطولیہ کے بیلر بے "کاراگوز" پاشا نے ان باغیوں کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن انہیں اس جنگ میں شکست ہوئی اور قزلباش ترکوں نے انہیں پھانسی دے کر انہیں مار ڈالا۔ اپنے بیلربے کی شہادت اور قزلباش ترکوں کی بغاوت کی خبر سننے کے بعد سلطان نے اپنے وزیر "ہادم علی پاشا" کو ایک فوج دے کر اناطولیہ میں ان باغیوں کو کچلنے کے لیے روانہ کیا اور اناطولیہ میں موجود شہزادے احمد کو بھی سلطان نے وزیراعظم کے ساتھ مل کر اس جنگ میں لڑنے کا حکم دیا۔
دریں اثناء قزلباش باغی ترکوں کو جب معلوم ہوا کہ سلطان بایزید تو بھی زندہ ہے اور عثمانی فوج استمبول سے انہیں کچلنے کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ تو ان باغیوں کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ کیونکہ وہ اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتے تھے جو ان کے خیال میں سلطان بایزید کی موت کے بعد پھوٹ چکی تھی۔
ادرنہ کی جنگ اور سلیم کی شکست
ادھر ادرنہ میں شہزاد سلیم کی فوج کے ساتھ موجودگی سے سلطان بایزید سخت برہم ہوئے اور وہ اپنی فوج کے ساتھ ادرنہ کی جانب روانہ ہوئے۔
جلد ادرنے شہر کے باہر عثمانی سلطان بایزید اور ان کے سب سے چھوٹے بیٹے شہزادہ سلیم کی فوج آمنے سامنے تھی۔ دونوں کے درمیان خون ریز جنگ ہوئی۔ جس میں شہزادہ سلیم کو شکست ہوئی اور وہ بڑی مشکل سے اس جنگ میں زندہ بچنے میں کامیاب ہوا۔ اس پہلی شکست کے بعد شہزادہ سلیم واپس کریمیا کی طرف بھاگ نکلا جہاں اس کا سسر فرما روا تھا اور یہاں اس نے پھر نئے سرے سے اپنی فوج کو جمع کرنا شروع کر دیا۔
ادھر اناطولیہ میں وزیراعظم "علی پاشا" ولی عہد شہزاد احمد کی فوج کے ساتھ متحد ہو چکا تھا اور یہاں عثمانی فوج اور قزلباش ترکمان باغیوں کے درمیان سیواس کے علاقے میں جنگ ہوئی۔ قزلباش باغیوں کو شکست ہوئی لیکن اس جنگ میں عثمانی وزیر علی پاشا شہید ہو گئے۔
شہزادہ احمد کی نااہلی اور دوسری بغاوت
جب سلطان بایزید کو اپنے وزیر کے شہید ہونے کی خبر ملی تو ان کی صحت مزید خراب ہو گئی۔ جس کی وجہ سے درباریوں نے ان کے بڑے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ احمد کو استمبول آنے کی دعوت دی۔
جب یہ خبر ینی چری تک پہنچی، کہ شہزادہ احمد تخت نشینی کے لئے استمبول آ رہا ہے، تو انہوں نے بغاوت کرتے ہوئے لوٹ مار مچانا شروع کر دی۔ کیونکہ شہزادہ احمد فوج میں انتہائی غیر مقبول تھا۔ اپنے نرم رویے کی وجہ سے ینی چری اسے پسند نہیں کرتی تھی۔ جبکہ سلطان سلیم جو کہ ایک جنگجو طبیعت کا مالک تھا وہ چاہتے تھے کہ شہزادہ سلیم ہی تخت نشین ہو جس کی وجہ سے زیادہ شہزادہ احمد استمبول نہ پہنچ سکا۔ اس کے استمبول نہ جانے کی ایک دوسری بڑی وجہ اناطولیہ میں قزلباش ترکمانوں کی ایک اور بغاوت تھی۔ جو کہ پہلی بغاوت کے چند ہی سال کے بعد کھڑی ہو گئی تھی۔
نور علی نامی ایک قزلباش نے تقریباً 20 ہزار علوی ترکمانوں کو جمع کر کے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا اور انہوں نے سرعام سیواس اور اماسیہ کے آس پاس کے علاقوں کو شاہ اسماعیل صفوی کی حکومت سے اس کی وابستگی کا اعلان کیا اور انہوں نے یہاں کے ارد گرد کے علاقوں کو خوب لوٹا۔ جب اس بغاوت کی خبر اناطولیہ میں شہزاد احمد کو ہوئی۔ تو انہوں نے اپنے وزیر "سنان پاشا" کو اس کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اماسیہ کے قریب دونوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اور اس جنگ میں عثمانی وزیر سنان پاشا بڑی مشکل سے جان بچا کر زندہ بھاگنے میں کامیاب ہوا اور یوں ایک بار پھر قزلباش ترکوں نے اناطولیہ کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا اس دوران شہزادے احمد کی نااہلی کھل کر فوج اور وزیروں کے سامنے ظاہر ہوئی۔
سلطان سلیم اول کی تخت نشینی
اُدھر شہزادہ سلیم کریمیا سے ایک تازہ دم فوج کے ساتھ استنبول جا پہنچا سلطان بایزید نے ینی چری کہ ایک دستے کو اپنی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت دے دی اور ان سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ضعیف العمر اور کمزور ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ سلیم تخت نشین ہو۔ سلطان بایزید نے جب دیکھا کہ فوج ان کے قابو سے باہر ہو چکی ہے تو انہوں نے اعلان کیا کہ میں اپنے بیٹے سلیم کے حق میں تخت سلطنت سے دستبردار ہوتا ہوں۔ اللہ تعالی اس کو ایک خوشحال عہد حکومت عطا فرمائے۔ اس کے بعد بوڑھا سلطان تخت سے اترا ۔ سلطان با یزید کی خواہش تھی کہ وہ اپنی بقیہ زندگی ایشیائے کوچک میں گزارے جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ لیکن موت نے اس کی خواہش کو پورا نہ ہونے دیا اور قسنطنیہ سے روانہ ہونے کے ٹھیک تین دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
جس وقت شہزاد سلیم نے اپنے والد بایزید کو تخت سے اتار کر سلطنت کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔ اس وقت وہ 47 سال کی پختہ عمر کو پہنچ چکا تھا اور اس کی فوجی اور انتظامی قبلیت پوری طرح مسلم ہو چکی تھی۔ انہوں نے نہ صرف اٹھ سال حکومت کی۔ لیکن اس قلیل مدت میں سلطنت عثمانیہ کی وسعت کو دو گنا کر دیا۔ سلطان سلیم نے یورپین مقبوضات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ مگر ایشیاء میں دیارِ بکر، کردسان، شام، مصر اور عرب کا ایک بڑا حصہ جس میں حریمین شریفین بھی شامل تھا۔ فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔
سلطان سلیم کی سختی اور طرزِ حکومت
سلطان سلیم کی طبیعت حد درجہ اشتعال پذیر تھی۔ وہ اپنے خلاف خفیف سی مخالفت بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور جو لوگ اس کی رائے سے ذرا بھی اختلاف کرنے کی جرات کرتے ان کا فوراً قتل کر دیا جاتا۔ اس کے مختصر عہد حکومت میں 7 وزیراعظم اس کے حکم سے قتل ہوئے ان کے علاوہ متعدد فوجی اور ملکی عہدے داروں کو بھی اس کی ناخوشی کی پاداش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جو لوگ وزیراعظم کے عہدے پر مقرر کیے جاتے تھے ان کو اپنے انجام کا اس قدر یقین ہوتا، کہ وہ اس ہلاکت آفرین ذمہ داری کو قبول کرنے سے پہلے ایک وصیت نامہ لکھ کر چھوڑ جاتے تھے اور اکثر ان کی پیش بینی صحیح ثابت ہوتی تھی۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ایک روز وزیراعظم پیری پاشا نے سلطان سلیم سےعرض کیا کہ:۔
" اے میرے بادشاہ میں جانتا ہوں کہ جلد جب یا بدیرتجھے اس وفادار غلام کو قتل کرنے کا کوئی نہ کوئی حیلہ مل جائے گا، لہذا میری درخواست ہے کہ قتل سے پہلے مجھے تھوڑی مہلت عطا فرما تاکہ میں اس دنیا سے متعلق اپنے کاروبار کا انتظام کر لوں اور تیرے حکم سے دوسری دنیا میں جانے کے لیے تیار ہو جاؤں اس میں سلطان سلیم نے اس کی اس درخواست پر ہنس کر کہا کہ میں کچھ دنوں سے تیرے قتل کی نسبت غور کر رہا تھا،لیکن فی الحال تیرا کوئی جانشین مجھے نظر نہیں آتا ورنہ تیری یہ درخواست میں خوشی سے منظور کر لیتا۔
سلطان سلیم کی یہ سختی جو عموماً ظلم سے تعبیر کی جاتی ہے ایک خاص اصول کے ماتحت تھی وہ جو بھی کرتے سلطنت کے لیے کرتے۔ سلطان دیکھ چکے تھے کہ ان کے باپ کے نرم رویے نے حکومت کے تمام شعبوں میں بدنظمی پیدا کر دی تھی۔ فوج میں خود سری آ گئی تھی۔ وزرا اپنے فرائض کو بھولے ہوئے تھے۔ قاضیوں کے فیصلوں میں جانبداری کی جھلک نمایاں تھی اور ان تمام حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے سختی ناگزیر تھی اور وہ بعض اوقات سزا کی شدت جرم کی شدت سے بڑھ جاتی تھی۔ تاہم اس سخت گیری کا عام اثر نہایت مفید ثابت ہوا اور وہ تمام خرابیاں دور ہو گئیں جو حکومت کی بنیاد کو کمزور کرنے کے لیے کافی تھیں۔
نتیجہ
یوں تخت کی طویل کشمکش، بھائیوں کی رقابت اور قزلباش بغاوتوں کے بعد سلطان سلیم اول تخت نشین ہوا۔ اپنے نرم مزاج والد اور بھائیوں کے برعکس وہ ایک سخت گیر اور جنگجو حکمران تھا، اور اسی سخت گیری نے سلطنت میں پھیلی بدنظمی کو ختم کیا۔ صرف آٹھ سال کی مختصر مدت میں سلطنت عثمانیہ کی وسعت دوگنا کرنے والا یہ سلطان تاریخ میں "سلیم گرِم" کے نام سے جانا گیا۔
History In Urdu