یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
چالدران کی جنگ میں فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں فتوحات کا نیا دروازہ کھل چکا تھا، اور اب صفوی سلطنت کے بعد مصر کی مملوک سلطنت سلطان سلیم اول کے غضب کا نشانہ بننے والی تھی۔ یہ سلطان سلیم کے ہاتھوں مصر کی اڑھائی سو سالہ مملوک سلطنت کے ساتھ جنگ اور اس کے خاتمے کی تاریخ ہے۔
چالدران میں صفویوں کو شکست دینے کے بعد سلطان سلیم اول کی نظریں مصر کی اڑھائی سو سالہ مملوک سلطنت پر جم گئیں۔ مرج دابق سے لے کر ریدانیہ تک لڑی جانے والی جنگوں نے شام، مصر اور حجاز کی قسمت بدل دی اور خلافت کا منصب سلطنتِ عثمانیہ کو منتقل ہو گیا۔ یہ اسی فیصلہ کن دور کی تاریخ ہے۔
سلطان سلیم اول نے 1514 عیسوی میں صفوی حکمران شاہ اسماعیل صفوی کو چلدران کی جنگ میں شکست دیتے ہوئے صفویوں کے دار الحکومت تبریزپر قبضہ کر لیا تھا، لیکن شہر میں خوراک کی قلت اور فوج میں بغاوت کے خدشات کے باعث سلطان سلیم نے واپس استمبول جانے کا فیصلہ کر لیا۔ چلدران کی جنگ میں فتح نے سلطنت عثمانیہ کی مشرقی سرحدوں کو آنے والی چند صدیوں کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔ لیکن خطے میں آنے والے نئے مسائل نے سلطان سلیم کو مجبور کیا، کہ وہ اپنی جنوب کی سرحدوں کو بھی محفوظ کرے۔ اس دوران اناطولیہ میں صرف دو ہی ترک قبیلے ایسے رہ گئے تھے، جو کہ عثمانی سلطنت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک "بنو زوالقدر" جب کہ دوسرا بنو رمضان تھا۔ یہ دونوں ترک قبیلے کسی حد تک خود مختار تھے اور یہ مصر کے مملوکوں اور عثمانیوں کے درمیان ایک سرحد کا کردار ادا کر رہے تھے۔ لیکن 1515ء کے دوران سلطان سلیم نے ان دونوں قبیلوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد انہوں نے "سنان پاشا" کی سرکردگی میں ایک فوج روانہ کی۔ جس کے بعد ان دونوں قبائل کو فتح کر کے مکمل طور پر انہیں سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔
اب مصر کی مملوک سلطنت کی سرحدیں سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ مل چکی تھی اور اب عثمانیوں اور مملکوں کے درمیان کسی بھی وقت جنگ کی چنگاڑی اُبھر سکتی تھی۔
مملوک کون تھے؟
مملوکوں کی تاریخ جاننے کے لیے ہمیں تقریباً 600 سال پیچھے جانا ہوگا۔ 9ویں صدی عیسوی میں عباسی خلافت کے دوران نوجوان لڑکوں کو غلام بنانے کا رواج عام تھا۔ ان میں اکثریت ترک قبائل تھے، لیکن ان میں روسی اور عیسائی بھی شامل تھے۔ ان غلاموں کو جنگی تربیت دی جاتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں جنگی چالوں، مذہب، زبان اور سائنسی علم بھی سکھایا جاتا تھا۔ جس کے بعد یہ غلام مسلمان حکمرانوں کے محافظ دستے کا حصہ بن جاتے۔ یہ مملوک یعنی کہ غلام اپنے اثر و اسوخ کی وجہ سے حکومت میں بھی آ جاتے تھے، ایسے ہی انہوں نے خاندانی ریاستیں قائم کی۔ جن میں سے غزنوی، خوارزمی، ہندوستان میں دہلی سلطنت، عراق کا مملوک خاندان اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی سلطنت کے بعد قائم ہونے والی بحری مملوک سلطنت تھی۔
یہی وہ مملوک تھے جنہوں نے 1260ء میں عینِ جالوت کی مشہور جنگ میں منگولوں کو شکست دیتے ہوئے عالم اسلام کوایک بڑی تباہی سے بچا لیا تھا۔ جبکہ اس کے علاوہ مملوک سلطنت کا دوسرا بڑا کارنامہ 1271 سے 1272ء کے درمیان ہونے والی 9ویں صلیبی جنگ میں انہوں نے عیسائیوں کی کمر توڑتے ہوئے انہوں نے شام کے علاقے سے عیسائیوں کونکال دیا تھا اور یہ سب بحری مملوکوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ دراصل مصر کی مملوک سلطنت جو کہ تقریباً اڑھائی سو سال تک قائم رہی، اس کا دور دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا پہلا حصہ بحری مملوکوں پر مشتمل ہے۔ بحری کا مطلب دریا ہے اور ان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ ان کے فوجی کیمپ دریائے نیل کے قریب واقع تھے۔ ان مملوکوں کو ایوبی سلطنت کے آخری دور میں خریدا گیا۔ جس کے بعد ان کی فوجی تربیت کی گئی اور پھر ان بحری مملوکوں نے آخری ایوبی سلطان کو قتل کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن 1382ء میں ان بحری مملوکوں کا تختہ برجیوں نے الٹ دیا تھا۔ یہ برجی مملوک دراصل زیادہ تر قفقاز کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ جن میں چیچن، چرکسی اور جارجیائی غلام شامل تھے۔ ان کا نام برج سے لیا گیا، جس کا مطلب ہے قلع یا ٹاور یہ سپاہی قلعے میں تربیت پاتے اور وہاں سے طاقتور بن کر ابھرتے تھے۔ انہوں نے اناطولیہ میں موجود بنوں زوالقدر اور بنو رمضان قبیلے کو اپنے تابع کیا اور یوں 14ہویں سے پندرہویں صدی عیسوی تک مملوکوں اور عثمانیوں کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی۔ صرف ایک چھوٹی جھڑپ ہوئی تھی جو کہ 1485 سے 1491 عیسوی کے درمیان ایک سرحد پر ہوئی تھی۔ اس جنگ کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا تھا اور عثمانی سلطان نے امن معاہدہ کر لیا تھا۔ لیکن یہ امن زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہا۔ کیونکہ 15ہویں صدی عیسوی کے شروع میں ایران میں صفوی خاندان کے ایک رکن شاہ اسماعیل نے صفوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ جس کے بعد جب شاہ اسمعیل صفوی نے جنگ سے پہلے یورپ سے مدد لینی چاہی تو اس نے اپنا ایک وفد یورپ بھیجا، مملوکوں نے اس وفد کو اپنی زمینوں سے گزرنے کی اجازت دے دی۔ عثمانیوں کو اس بات کا علم تھا اور انہوں نے مملوکوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ شاہ اسمعیل کے وفد کو واپس شاہ تک نہ جانے دیں، لیکن مملوکوں نے ایسا ہرگز نہ کیا۔ پھرجب سلطان سلیم نے چالدران کی جنگ میں صفیوں کو شکست دیتے ہوئے بہت سے علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور اناطولیہ میں مملکوں کے حامی دونوں ترک قبیلوں کو سلطان نے عثمانی سلطنت میں شامل کیا۔ تو اس کے بعد مملوک سلطان قانصوہ الغوری کو فکر لاحق ہوئی کہ اب صفویوں کے بعد مملوکوں کی باری ضرور آئے گی،اور جلد یا بدیر سلطان سلیم مملوک سلطنت پر حملہ ضرور کرے گا۔ اسی وجہ سے اس نے 1516 عیسوی میں شاہ اسمعیل اول کے ساتھ عثمانیوں کے خلاف اتحادکر لیا تھا۔
جنگ کی طرف پیش قدمی
پھر مملوک سلطان قانصوہ الغوری نے 522ھ بمطابق 1516ء میں ایک زبردست لشکر تیار کیا اور وہ عثمانی سرحد کی جانب روانہ ہوا۔ جبکہ اس نے اپنے وزیر "طومان بے" کو مصر میں اپنی جگہ چھوڑتے ہوئے تمام اختیارات اسے دے دیے۔ یہ مملوکوں کی بدقسمتی تھی کہ سلطان سلیم اس وقت اپنے تمام یورپی ہمسائیوں کے ساتھ امن معاہدے قائم کر چکا تھا۔ جس کی وجہ سے اب عثمانیوں کو اپنی مغربی سرحدوں سے کوئی بھی خطرہ لاحق نہیں تھا اور اس دوران شاہ اسمعیل کے پاس اتنی فوجی قوت نھی نہ تھی کہ وہ عثمانیوں کے ساتھ اپنی شکست کا بدلہ لے سکے۔
اپریل میں سلطان سلیم نے اپنے وزیر سنان پاشا کی سرکردگی میں ایک لشکر "کارامان" کے پہاڑی علاقوں کی طرف بھیجا۔ جب سنان پاشا یہاں پہنچا تو اسے مملوک فوج نظرآئی، جس پر سنان پاشا جو کہ ایشیائے کوچک کے جنوب مشرق میں ترک لشکر کا سپہ سالار تھا، اس نے مملوک فوج کی آمد کی خبرکی اطلاع سلطان سلیم کو دی اور لکھا کہ ایسی صورت میں سلطان کے حسب ہدایت وادی فرات کی طرف کوچ کرنا خطرے سے خالی نہ ہوگا۔ جس پر سلطان سلیم نے قسطنطنیہ میں دیوان منعقد کر کے اس مسئلے کو غور بحث کے لیے پیش کیا۔
دنیائے اسلام کی یہ حالت سلطان سلیم سے پوشیدہ نہ تھی وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس زعف وانتشار کا ایک بڑا سبب یہ ہے، کہ خلافت اور سلطنت دو علیحدہ علیحدہ شخصیتوں میں تقسیم کر دی گئی ہیں۔ اور چونکہ سلطنت عثمانیہ سے زیادہ طاقتور اس وقت کوئی دوسری اسلامی ریاست نہ تھی اور دفاع و جہاد کا فرض جو منصب خلافت کا پہلا مقصد ہے، ڈیڑھ سو برس سے وہی ادا کر رہی تھیں۔ اس لیے دنیائے اسلام کی امامت کا حقدار بھی اس سے زیادہ کوئی دوسرا نہ تھا۔ لیکن حجاز اور مصر و شام پر جو اسلامی دنیا کے اصلی عناصر تھے،یہاں مصر کے مملوک سلاطین کی حکومت تھی۔ چنانچہ جب سلطان سلیم نے سنان پاشا کا خط دیوان کے سامنے پیش کیا تو نہ صرف "قانصوہ الغوری" کے معاندانہ روش پر غور کیا گیا، جو اسماعیل سے ملا ہوا تھا اور جس نے چالدران کی جنگ کے موقع پر سامانِ رسد کے قافلے کو عثمانی لشکر میں جانے سے روک دیا تھا۔ بالاخر یہ طے پایا کہ حریمین شریفین کی خدمت کا حق عثمانی سلطان سے زیادہ کسی دوسرے مسلمان حکمران کو نہیں پہنچتا اور اس کے لیے جنگ ناگزیر ہے۔ رئیس آفندی محمد پاشاہ نے اس رائے حق میں ایک نہایت پرزور تقریر کی اور کہا کہ سلطنت عثمانیہ کا فرض ہے کہ اس حق کو بذریعہ شمشیر حاصل کرے۔ سلطان سلیم محمد پاشاہ کی تقریر سے اس قدر خوش ہوئے کہ اسی وقت اس کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ غرض دیوان نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے قانصوہ الغوری سے اطاعت کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر جنگ۔ شروع کر دی جائے
چنانچہ سلطان سلیم نے اپنا ایک وفد حلب میں موجود مملوک سلطان کے پاس روانہ کرتے ہوئے وہ خود جولائی میں اپنی فوج کے ساتھ قونیہ شہر جا پہنچے۔ مملوکوں کے ساتھ جنگ سے پہلے ایرانی، عرب روایات میں آتا ہے کہ شاہ اسمعیل نے اپنی فوج مملوکوں کی مدد کے لیے روانہ کی تھی۔ لیکن اس فوج کو عثمانیوں کے ہاتھوں مشرقی اناطولیہ میں شکست ہوئی اور جب عثمانی وفد سلطان سلیم کا پیغام لے کر قانصوہ الغوری کے پاس پہنچا تو اس نے غصے میں آ کر ان سب کو قید میں ڈال دیا۔ لیکن سلطان سلیم جنگ کا ارادہ پہلے ہی کر چکے تھے۔ ایلچیوں کے روانہ کرنے کے فوراً ہی بعد وہ خود بھی فوج کے ساتھ قسطنطنیہ سے شام کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔ جب عثمانی لشکر شام کی سرحد میں داخل ہوا تو قانصوہ الغوری کو اپنی غلطی کی اہمیت کا احساس ہوا اس نے سلطان سلیم کے ایلچی کو فوراً رہا کر دیا اور صلح کی گفتگو شروع کی۔ مگر سلطان سلیم صلح کے لئےقسطنطنیہ سے روانہ نہیں ہوے تھے۔
مرجِ دابق کی جنگ (1516)
چنانچہ 25 رجب 922ھ بمطابق 24 اگست 1516ء کو حلب کے قریب "مرج وابق" کے میدان میں مملوکوں اور عثمانیوں کے درمیان پہلا معرکہ پیش آیا۔ جس نے شام کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ تاریخ میں اس جنگ کے حوالے سے فوج کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ جس کے مطابق مملوکوں کے پاس اس جنگ میں تقریباً 20 سے 50 ہزار کے درمیان، جبکہ سلطان سلیم کے پاس 30 سے 60 ہزار کے درمیان فوج تھی۔ مملوکوں کے پاس بارودی ہتھیار بہت کم تھے اور ان کے پاس کوئی بھی توپ خانہ نہ تھا۔ لیکن ان کے بھاری گھڑ سوار جنگجو اپنی بہادری اور تیغ زنی کی وجہ سے بہت مشہور تھے اور میدان جنگ میں وہ ناقابل شکست تھے۔ مملوکوں اور عثمانیوں کا سامنا اگست میں مرج وابق کے مقام پرآمنہ سامنا ہوا۔ مملوک سلطان قانصوہ الغوری نے اپنے گھڑسواروں کو الٹے حلال کی شکل میں اپنے پیدل دسوں کے آگے کھڑا کیا ہوا تھا۔ جبکہ وہ خود مرکزی دستے میں شامل تھا۔ دمشق کا گورنر فوج کے دائیں جبکہ حلب کا گورنر فوج کے بائیں جانب متعین تھا۔ جبکہ پیدل فوج لشکر کے آخر میں کھڑی تھی۔
عثمانی فوج میں عثمانیوں کے کچھ سوار دست پہلی صف میں دو حصوں میں تقسیم کھڑے تھے۔ عثمانی توپیں لشکر کے دائیں جانب موجود تھیں۔ جبکہ عثمانی سلطان سلیم خود اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ لشکر کے درمیان میں موجود تھا اور اس کے دائیں اور بائیں بارودی ہتھیاروں سے لیس جان نثاری موجود تھے۔ جبکہ ان کی بھاری توپیں گاڑیوں میں سب سے پیچھے لگا دی گئی تھیں۔
معرکہ اور مملوکوں کی شکست
جنگ کی ابتدا مملوکوں کی جانب سے ہوئی اس پہلے حملے میں عثمانیوں کو زبردست پسپائی اختیار کرنا پڑی، کیونکہ اس حملے کی وجہ سے عثمانی گھڑسواروں کو پیچھے پٹنا پڑ گیا تھا۔ جبکہ بائیں جانب موجود عثمانی گھڑسوار دستہ آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کرنے لگا۔ جبکہ مملوکوں کے حملے برابر جاری تھے۔ کہ مملوک فوج کا بایاں حصہ جب عثمانی فوج کی توپوں کے بالکل قریب پہنچا تو یہاں عثمانی توپوں نے آگ کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں مملوک دیکھتے ہی دیکھتے موت کی وادی میں داخل ہو گئے۔ لیکن اس دوران دائیں جانب مملوک لشکر ڈٹ کر عثمانیوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔ یہاں عثمانی فوج کی قیادت خود سلطان سلیم کے پاس تھی۔ اس نے انتہائی احسن طریقے کے ساتھ وہ اپنے پیدل جانثاریوں کو ساتھ لے کر جنگی توپوں کے پیچھے چلا گیا۔ جس کی وجہ سے ان توپوں نے مملوک لشکر کے مرکزی حصے پر گولے برسئے۔ اس حملے کی وجہ سے مملوک گھبرا اٹھے اور انہوں نے پسپائی شروع کر دی جبکہ دائیں جانب مملوکوں کے دستے نے عثمانی گھڑ سواروں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن جیسے ہی عثمانی گھڑ سوار دستہ سائیڈ پر ہوا تو پیچھے کھڑے عثمانی جانثاریوں نے جن کے پاس رائفل تھیں انہوں نے یک دم مملکوں کے دائیں دستے پر ایسا حملہ کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں مملوکوں کو جان کی قربانی دینی پڑی جس کی وجہ سے قانصوہ الغوری نے اپنے اس دستے کو واپس آنے کا حکم دیا۔ تاکہ وہ پھر سے عثمانیوں پر حملہ آور ہو سکے۔ اب دایاں دستہ تو مملوک سلطان کانسوا کے پاس پہنچ گیا تھا۔ لیکن بائیں دستے نے واپس آنے سے انکار کر دیا۔ مملوک نہایت بہادری سے لڑے لیکن آپس کے اختلافات کی وجہ سے ان کی قوت کمزور ہو گئی تھی۔ جبکہ مملوک سلطان قانصوہ الغوری کے دو فوجی سردار یعنی کہ "خیر بے" اور "غزالی" نے جنگ سے پہلے ہی سلطان سلیم کے ساتھ ساز باز کر لی تھی، خیر بے حلب کا گورنر تھا اور غزالی فوج کا ایک بہت بڑا افسر تھا۔ ان دونوں نے عین موقع پر غداری کی۔ چلبانوں کے دستوں کو لے کر جو چرکسی مملکوں سے نیچلے درجے کے مملوک تھے اور چرکسیوں سے حریفانہ رقابت رکھتے تھے اس نے انہیں ساتھ لیا اور وہ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے۔ قانصوہ الغوری کے پاس توپیں نہ تھیں،اور عثمانی توپوں کی گولہ باری نے مملکوں کی کمر کو توڑ دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ مملوک فوج زیادہ دیر میدانِ جنگ میں ٹھہر نہ سکی۔ صرف ایک گھنٹے کے اندر مملوکوں اور عثمانیوں کے درمیان یہ جنگ جاری رہی۔ بوڑھا مملوک سلطان قانصوہ الغوری بھی یہ دیکھ کر کہ اب مقابلہ بے سود ہے۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن کہا جاتا ہے کہ قانصوہ الغوری شاید اپنے ہی سپاہیوں کی بھیڑ میں دب کر مارا گیا۔ اس جنگ میں عثمانی فوج کے 10 ہزار سپاہی مارے گئے جبکہ مملوک لشکر کے تمام بہترین گھسوار اور ہزاروں سپاہی اس جنگ میں کام آئے۔ اس فتح کے بعد عثمانی سلطان سلیم فاتح کی حیثیت سے حلب شہر میں داخل ہوا "خیر بے" نے شہر کی کنجیاں سلطان کو پیش کیں شہر کے لوگوں نے حاضر ہو کر سلطان سے وفاداری کا حلف لیا۔ اس دور کے ایک مورخ مفتی وحلوان مکی لکھتے ہیں کہ:۔
حلب میں سلطان سلیم کا داخلہ
" حلب کے باشندے اپنے علماء اور صلحا کے ساتھ سروں پر قران رکھے ہوئے سلطان کے استقبال کو آئے انہوں نے سلطان کو فتح کی مبارکباد پیش کی اور سلطان سے رحم کی درخواست کی سلطان سلیم ان سب سے مہربانی کے ساتھ پیش آیا۔ پھر جب وہ جامعہ مسجد میں گیا تو اس کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ پہلے سلاطین مصر کے القاب میں خادم الحرمین شریفین کا لقب شامل کیا جاتا تھا لیکن حلب کی فتح کے بعد جامع مسجد کا خطیب جب خطبہ دینے کھڑا ہوا تو سلطان سلیم خان کے نام کے ساتھ اس لقب کا اضافہ کیا گیا۔ سلطان سلیم نے اسے آئندہ کامیابی کی بشارت خیال کیا اور وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جو لباس انہوں نے پہنا ہوا تھا اسے اتار کر اسی وقت خطیب کو دے دیا۔ حلب میں چند دن قیام کے بعد سلطان سلیم نے شام کی دوسرے شہروں کی فتح کے لیے لشکر روانہ کیے۔ ہر شہر نے بغیر کسی مزاحمت کے اپنے دروازے تُرکوں کے لئے کھول دیے اور تمام لوگوں نے آگے بڑھ کر سلطان کا خیر مقدم کیا۔ سلمان سلیم نے ان کے ساتھ نہایت نرمی کا سلوک کیا۔ چنانچہ دمشق، بیت المقدس، حمس اور متعدد دوسرے شہر نہایت آسانی کےساتھ فتح ہو گئے اور ہر جگہ سلطان سلیم کے نام کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ دمشق میں سلطان سلیم نے شیخ محی الدین ابن عربی کے مزار پر ایک مقبرہ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
شام کی اس طرح اسانی سے فتح ہو جانے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مملوک سلطان قانصوہ الغوری کی وفات پر اس کے جانشین کے انتخاب کے لیے مملوکوں کے تمام بڑے بڑے فوجی سردار فوراً قاہرہ روانہ ہو گئے تھے اور میدان عثمانیوں کے لیے خالی ہو گیا تھا۔ مملوکوں میں یہ دستور تھا، کہ سلطان کا انتخاب 24 بلند پایہ امرا کیا کرتے تھے۔ جو فوج اور حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر مامور ہوتے تھے۔ چنانچہ اس موقع پر بھی یہ اُمرا قاہرہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے طومان بے کو جو اپنی حیرت انگیز شجاعت، فوجی قابلیت اور شریفانہ اوصاف کی وجہ سے خاص طور پر ممتاز تھا۔ اسے نیا مملوک سلطان منتخب کر لیا۔ طومان بے کے انتخاب سے مملکوں میں ایک نئی روح پیدا ہو گئی۔
مصر کی طرف پیش قدمی
شام کی فتح کے بعد سلطان سلیم نے مصر کی طرف کوچ کی تیاری کی ادھر نئے مملوک سلطان "طومان بے" بھی مدافت کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے ایک فوج غزہ روانہ کی، تاکہ عثمانی لشکر کو مصر کی طرف بڑھنے سے روکا جا سکے اور وہ خود قاہرہ کے قریب مصری افواج کے بڑے حصے کو جمع کرنا شروع ہو گئے۔
خان یونس کی جھڑپ
ادور اکتوبر کے آخر میں "خان یونس" کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ جنگ کا آغاز عثمانی توپوں کی گولا باری سے شروع ہوا۔ مملوک سپاہ سالار غزالی کو معلوم تھا کہ اس کے گھڑسوار عثمانی گولا باری کا زیادہ دیر تک سامنا نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے اس نے اپنی فوج کو حملے کا حکم دیا۔ البتہ یہ صرف ایک چال تھی ابتدائی جھڑپ کے بعد مملوک گھڑ سوار جنوب کی جانب پسپا ہونے لگے۔ جس پر عثمانی گھڑسواروں نے ان کا پیچھا شروع کر دیا اور کچھ دیر تک دونوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ مملوکوں کی بہترین گھڑ سوار مرج وابق کی جنگ میں مارے جا چکے تھے اور نئے بھرتی ہونے والے سپاہی نا تجربہ کار تھے اور جنگ کا پلڑا اس وقت پلٹا جب عثمانی جان نثاری پیدل دستے مملوکوں کے عقب پہ جا پہنچے۔ اب چونکہ ان جانثاریوں کے پاس رائفلز تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے دونوں اطراف سے مملوکوں پر گولیاں برسائیں۔ جس سے سینکڑوں مملوک مارے گئے اور بچے کچے مملکوں نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی اور جلد یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی اس جنگ میں تقریباً پانچ ہزار مملوک سپاہیوں کا جانی نقصان ہوا۔ جبکہ عثمانی فوج کے چند سو سپاہی مارے گئے۔
روانیہ کا معرکہ
اس کے بعد مصر کی سرحد تک پھر کوئی مزاحمت نہ ہوئی اور سلطان سلیم کی فوج نے 10 روز کے اندر ریگستان کو عبور کر لیا۔ سلطان سلیم نے اس مہم کے لیے کئی ہزار اونٹ خرید لیے تھے۔ ان پر فوج کے لیے پانی کے مشکیزے لدے ہوئے تھے۔ مصری فوجیں قاہرہ سے تھوڑے دور فاصلے پر روانیہ میں خیمہ زن تھیں۔ یہیں 29 ذی الحج 942 ہجری/ بمطابق 22 جنوری 1517ء کو عثمانیوں اور مملوکوں کے درمیان ایک آخری معرکہ ہوا۔ اس دوران مملوک سلطان سمجھ چکا تھا کہ مملوک اپنی بہترین اور طاقتور ترین فوج کے ہوتے ہوئے کیوں ہر جنگ میں ہارے۔ اس کی ایک بڑی وجہ توپوں کی کمی تھی۔ چنانچہ روانیہ کی جنگ میں نئے مملوک سلطان نے وینس سے 300 جنگی توپیں خرید لی تھی اور اس نے ان توپوں کو لشکر کے عقب میں رکھا۔ جنگ کا آغاز دونوں جانب گولہ باری سے شروع ہوا۔ مملوک توپیں کچھ دیر چلنے کے بعد خاموش ہو گئیں۔ جس کے بعد عثمانی توپوں نے دیکھتے ہی دیکھتے مملوکوں کے توپ خانے کو ختم کر دیا۔ کیونکہ مملکوں کے پاس تو خانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔ جبکہ عثمانی فوج ان توپوں کو کئی سو سالوں سے جنگ میں استعمال کرتے چلی آرہی تھی۔ اس جنگ میں اگرچہ پہلی جنگوں کی طرح توپ خانوں کی وجہ سے میدان ترکوں کے ہی ہاتھ رہا تا ہم مملکوں نے جیسی غیر معمولی شجاعت اور جان بازی کا ثبوت دیا اس کی مثال تاریخ کے صفحات میں بہت کم ملتی ہے۔ جنگ کے شروع میں ہی سواروں کا ایک دستہ جو سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھا۔ عثمانی فوج کے قلب پر جہاں سلطانی علم لہرا رہا تھا حملہ آور ہوا، اس دستے کی قیادت خود طومان بے اور اس کے دو بہترین افسرالان بے اور قرط بے کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے قسم کھائی تھی کہ یا تو سلطان سلیم کو زندہ گرفتار کریں گے یا اسے قتل کر کے چھوڑیں گے۔ یہ قسم پوری ہو کر رہتی مگر حسن اتفاق دیکھیے کہ اس وقت بجائے سلیم کے صدر اعظم سنان پاشا وہاں چند خاص فوجی افسروں کے حلقے میں موجود تھے۔ طومان بے نے اسی کو سلیم سمجھ کر ایک نیزہ ایسا مارا کہ سینے کے پار ہو گیا۔ الان بے اور قرط بے نے بھی ایک ایک پاشا کو قتل کیا اور پھر گھوڑے موڑ کر یہ تینوں باحفاظت اپنی فوج میں واپس آگئے۔ البتہ الان بے کو بندوق کی گولی سے ایک زخم لگ گیا تھا۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے ہو گیا۔ طومان بے سمجھتا تھا کہ سلیم کے قتل کے بعد ترکوں کی ہمت چھوٹ جائے گی۔ دوسرے مملکوں نے بھی اپنے سرداروں کی طرح سپاہ گری اور جانبازی کا حق ادا کر دیا لیکن ان کی بے مثل شجاعت اور سرفروشی توپوں کے مقابلے میں بے سود ثابت ہوئی۔ 25 ہزار مملوک سواروں کی لاشیں وطن کے تحفظ کی قیمت ادا نہ کر سکیں اور طومان بے کو بالاخر اپنی بقیہ فوج کے ساتھ میدانِ جنگ چھوڑنا پڑا۔
قاہرہ میں قتل عام
جنگ روانیہ کے ایک ہفتہ بعد عثمانی فوج کا ایک دستہ بلا مزاحمت قاہرہ میں داخل ہوا۔ لیکن طومان بے نے آکر اچانک اس پر چھاپا مارا اور پورے دستہ کو تہ تیغ کر دیا ، اب سلیم نے اپنی بہترین فوجیں قاہرہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیں ، لیکن مملوکوں نے گویا ہر سڑک کو میدانِ جنگ او ہر مکان کو قلعہ بنادیا تھا۔ عثمانوں کو ہر قدم پر مزاحمت کا سامنا تھا۔ تین دن تک نہایت سخت لڑائی ہوتی رہی، آخر کار خیر بے کے مشورے سے سلیم نے یہ اعلان کرا دیا کہ جو مملوک ہتھیار ڈال دیں گے، ان کی جانیں بخش دی جائیں گی ، اس اعلان پر اعتبار کر کے مملوکوں نے لڑائی ختم کر دی اور ان میں سے آٹھ سو ممتاز آدمیوں نے خود کو سلیم کے حوالہ کر دیا سلیم نے خلاف عہد ان سب کو قتل کر دیا، اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ شہر کے تمام باشندے تہ تیغ کر دیے جائیں، کریسی کا بیان ہے کہ پچاس ہزار آدمی اس قتل عام میں مارے گئے۔
قرط بے سے سلطان سلیم کی گفتگو
قرط بے کچھ دنوں تک قاہرہ میں چھپارہا۔ لیکن پھر سلیم کے وعدوں پر اعتماد کر کے اس نے بھی خود کو پیش کر دیا ، اس موقع پر سلیم اور قرط بے کے درمیان جو گفتگو ہوئی اسے ہم بیان کریں گے ، کریسی نے ان دونوں کی ملاقات کا حال اور ان کی گفتگو "فان ہیمر" کے حوالہ سے نقل کی ہے اور فان بیمر من جملہ اور اسناد کے ایک ایسے شخص کی سند بھی پیش کی ہے جو طومان بے کے دربار کا ایک عہدہ دار تھا، قرط بے جب سلیم کے سامنے آیا تو وہ فوج کے تمام بڑے بڑے افسروں کے حلقہ میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ لیکن فاتح سلطان کی یہ شان اس بہادر مملوک کو بلکل متاثر نہ کر سکی۔ سلیم نے اس کے بے خوف چہرے پر نظر ڈالی اور پوچھا: ” تو ایک نامور شہ سوار تھا، تیری شجاعت اب کہاں ہے؟ قرط بے نے جواب دیا کہ وہ ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔“
سلیم نے کہا: ” کیا تجھے معلوم ہے کہ تو نے میری فوج کے ساتھ کیا کیا ہے؟
مجھے خوب معلوم ہے ۔ یہ جواب بھی پہلے جواب کی طرح مختصر تھا۔ اس کے بعد سلیم نے اس دلیرانہ حملہ پر اظہار تعجب کیا جو فرط بے نے روانیہ کے میدان میں طومان بے اور الان بے کے ساتھ اس پر کرنا چاہا تھا اور جو سنان پاشا کے لیے اس قدر مہلک ثابت ہوا، قرط بے اپنی خوش بیانی کے لیے بھی اسی قدر مشہور تھا جس قدر اپنی بہادری کے لیے ، اس نے اس کے جواب میں مملوکوں کی شجاعت پر ایک پر زور تقریر کی، جس میں توپ اور بندوق کا ذکر نفرت اور حقارت کے ساتھ کیا کیونکہ ان کا وار بہادرانہ نہیں ہوتا ، بلکہ وہ بزدلانہ طریقہ پر مارتی ہیں، اس نے سلیم کو بتایا کہ بندوقیں مصر میں سب سے پہلے اشرف قانصوہکے عہد میں لائی گئ تھیں۔جبکہ ماریشش نام کے ایک شخص نےمملوکوں کو مسلح کر دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ لیکن سلطان اور اس کے فوجی افسروں نے جنگ میں اس بدعت کے جاری کرنے سے نکار کر دیا تھا۔ کیونکہ ایک تو یہ حقیقی شجاعت کے شایانِ شان نہیں، دوسرے حضور نبی کریم ملا کے طریقہ کے بھی خلاف ہے۔ قرط بے نے کہا کہ جب اس شخص سے انکار کیا گیا تو وہ چلا اُٹھا اور کہنے لگا کہ تم میں سے کچھ لوگ اس وقت تک زندہ رہیں گے اور دیکھیں گے یہ سلطنت ان ہی گولیوں سے ختم ہو کر رہے گی ، یہ بیان کر کے قرط بے نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا کہ افسوس یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ لیکن تمام قدرت اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھوں میں ہے ۔“
سلیم نے پوچھا کہ اگرتم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم نے تمہیں شکست دی اور تمہارے قلعوں سے تم کو مار بھگایا اورتم اس وقت میرے سامنے ایک قیدی کی حیثیت سے کھڑے ہو۔ قرط بے نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم ہمیں شکست اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ تم لڑائی میں ہم سے زیادہ بہادر یا ہم سے زیادہ بہتر شہ سوار تھے، بلکہ ہم اس لیے ہارے کہ ہماری تقدیر میں تھا۔ کیونکہ ہروہ شے جو ابتدا رکھتی ہے، ایک روز ختم ہو کر رہے گی اور سلطنت کی مدت بھی محدود ہے، خلفا یعنی اسلام کے وہ زبردست حامی آج کہاں ہیں؟
دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتور سلطنتیں کہاں ہیں؟
اے آلِ عثان ! تمہارا وقت بھی آنے والا ہےاور تمہاری حکومت بھی اپنے وقت پر ختم ہو کر رہے گی ، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے اے سلطان سلیم ! میں تیرا قیدی نہیں ہوں، بلکہ تیرے وعدوں اور عہد و پیمان کی بنا پر یہاں آزاد اور بے خطر کھڑا ہوں ۔
اس کے بعد قرط بے خیر بے کی طرف متوجہ ہوا جو سلیم کے پاس ہی کھڑا ہوا تھا اور اس پر نہایت سخت لعن وطعن کرنے کے بعد سلیم سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ اس غدار کا سر اُڑا دے ورنہ کہیں تجھے بھی اپنے ساتھ یہ جہنم میں گھیٹ کر نہ لے جائے ۔ اس پر سلیم نے غضبناک ہو کر کہا: "میں نے سوچا تھا کہ تجھے آزاد کر دوں گا، بلکہ اپنے اعلیٰ فوجی عہدہ داروں میں بھی شامل کر لوں گا۔ لیکن تو نے بے ادبی کے ساتھ گفتگو کی ہے اور میری موجودگی کا احترام ملحوظ نہیں رکھا ہے، جو شخص بادشاہوں کے حضور میں خلاف ادب طریقہ اختیار کرتا ہے ، وہ فضیحت کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔“ قرط بے نے دلیری کے ساتھ جواب دیا: ”اللہ مجھے تیرا عہدہ دار ہونے سے بچائے۔ یہ سن کر سلیم کا غصہ نا قابل برداشت ہو گیا اور اس نے جلادوں کو طلب کیا ، قرط بے نے سلیم سے کہا: ” تنہا میرے قتل سے تجھے کیا فائدہ پہنچے گا ، جب کہ بہت سے بہادر خود تیرے سر کی فکر میں ہیں اور طومان بے اب بھی اپنی کامیابی کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔ سلیم نے جلادوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا ، جلا د نے جوں ہی تلوار اُٹھائی قرط بے نے ایک بار پھر خبربے کا طرف متوجہ ہو کر کہا اے غدار میرے خون آلود سر کو لے جا اور اپنی بیوی کی گود میں ڈال دے، خدا غدار کو اس کے فعل کا ویسا ہی بدلہ دے ۔ یہ آخری الفاظ تھے جو اس بہادر مملوک کی زبان سے ادا ہوئے۔
طومان بے کا قتل
قاہرہ کے فتح ہو جانے کے بعد بھی طومان بے مایوس نہیں ہوا تھا، اب چونکہ ملوکوں کی بہت بڑی تعداد قتل ہو چکی تھی ، اس لیے اس نے مملوک سلاطین کی سابق روایات کے برخلاف عربوں کو اپنی فوج میں داخل کیا اور چند دنوں تک کامیابی کے ساتھ عثمانی دستوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ سلیم نے اس کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر عثمانی سلطنت کی اطاعت قبول کر لو تو مصر کا تخت تمہارے لیے چھوڑ دیاجائے گا۔
لیکن قاہرہ کے غدارانہ قتلِ عام اور قرط بے کے قتل سے نہ صرف سلیم کے وعدوں کا اعتبار اٹھ گیا تھا، بلکہ مملوکوں کی آتشِ غضب بھڑک اٹھی تھی۔ چنانچہ جب سلیم کا ایلچی یہ پیغام لے کر طومان بے کے دربار میں پہنچا تو اس نے اسے اور اس کے تمام ہمراہیوں کو قتل کرا دیا۔ سلیم نے اس کے جواب میں تین ہزار مملوک قیدیوں کو تہ تیغ کرا دیا، ان واقعات سے یہ صاف ظاہر تھا کہ صلح کی کوئی اُمید نہیں بچی، کچھ عرصہ تک لڑائی کا سلسلہ جاری رہا، مگر بد قسمتی سے اس زمانہ میں جب عثمانی فوج حملہ کر رہی تھی ، خود عربوں اور مملوکوں میں باہم جھگڑے شروع ہو گئے ، جس سے طومان بے کی قوت کو سخت نقصان پہنچا، آخر میں اس کی تمام فوج منتشر ہو گئی اور اسے بھاگ کر روپوش ہونا پڑا۔ لیکن بعض ساتھیوں نے اس کے ساتھ غداری کی اور اسے عثمانیوں کے حوالہ کر دیا۔ سلیم کو جب اس کی گرفتاری کی خبر ملی تو وہ جوشِ مسرت میں چلا اٹھا۔ کہ "الحمد للہ مصراب فتح ہوا۔
بہر حال اس نے شروع میں طومان بے کے ساتھ مناسب عزت و احترام کا سلوک کیا لیکن چند دنوں کے بعد غزالی اور خیر ہے نے طومان بے کے خلاف اس کے کان بھرنا شروع کیے اور اسے یقین دلایا کہ طومان بے کو آزاد کرانے کے لیے ایک زبردست سازش کی جارہی ہے سلیم نے ان غداروں کے فریب میں آکر طومان ہے تو قتل کرا دیا ، یوں سلاطینِ مصر کے مملوکوں کے سلسلہ کی یہ آخری کڑی تھی۔ جو 17 اپریل 1517ء کوٹوٹ گئی۔
خادم الحرمین الشریفین
مصر کی فتح کے بعد حجاز پر بھی جو اس وقت تک مملوک سلاطین کے زیر حکومت تھا، سلطنتِ عثمانیہ کا اقتدار قائم ہو گیا۔ لیکن شروع میں سلیم کو امید نہ تھی کہ حرمین شریفین کی خدمت کا شرف بغیر جنگ کے حاصل ہو سکے گا۔ کیونکہ حجاز کی حکومت سابق سلاطینِ مصر کے عمال کے ہاتھوں میں تھی، چنانچہ ان عمال کو برطرف کرنے کے لیے اس نے ایک فوج حجاز میں بھیجنا چاہی۔ لیکن قاضی صلاح الدین کے مشورےپر،فوج کو واپس بلا لیا۔
مفتی وحلان لکھتے ہیں کہ قاضی موصوف نے سلطان سلیم کے وزیر کو یہ مشورہ دیا کہ حجاز میں فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ شریف برکات بن حسن بن عجلان ( جو اس وقت مکہ معظمہ کے امیر تھے ) سلطان کی اطاعت کے لیے آمادہ ہیں اور ان کے اثر سے اہل حرمین اور باقی لوگ بھی سلطان کی بیعت کے لیے تیار ہو جائیں گے ، اس لیے بجائے فوج کے شریف کے نام صرف ایک فرمان بھیج دینا کافی ہو گا،سلطان سلیم نے اس تجویز کو بہت پسند کیا اور امیر صلح بیگ کو ایک فرمان بمع بیش قیمت خلعتوں کے، ایک خود شریف برکات کے لیے اور دوسرا ان کے بیٹے ابونمی کے لیے جو مکہ کی امارت میں اپنے باپ کا شریک تھا بھیجا اور دونوں کو بدستور ان کے عہدوں پر قائم رکھا۔ حج کا زمانہ قریب تھا ، اس لیے سلیم نے مصلح بیگ کے ساتھ محمل شریف کو بھی روانہ کیا، چنانچہ جب مصلح بیگ مکہ کے قریب پہنچا تو شریف برکات اپنے بیٹے اور دیگر معززین کو لے کر اس کے استقبال کے لیے نکلے، باپ بیٹوں نے خلعت سلطانی
کو پہنا اور مکہ معظمہ واپس آکر لوگوں سے سلطان کی بیعت لی اور سلیم کے نام کا خطبہ پڑھا۔ خام الحرمین الشریفین کا جو ایک مسلمان فرماں روا کے لیے سب سے زیادہ معزز لقب ہے، سلطان سلیم کے نام کے ساتھ شامل کیا گیا اور اس کا اعلان اس مقدس سرزمین میں ایسے وقت میں ہوا، جب تمام دنیا کے مسلمان حج کے لیے اکٹھے ہوئے تھے، حرمین شریفین کی خدمت کا شرف سلیم کے بعد اس کے جانشینوں کو چار سو برس تک حاصل رہا، اس طویل مدت میں انہوں نے باشندگان جاز اور خصوصاً اہل حرمین کی خدمت کا حق جس طرح ادا کیا اس کی تفصیلات تاریخ کے صفحات پر ہیں اور اس کی یاد اب ان عربوں کو خون کے آنسو رلا رہی ہے۔ جنہوں نے جنگِ عمومی میں اپنی آزادی کی پیاس ترکوں کے خون سے بجھانی چاہی مگر طلسم فرنگ کے پیدا کردہ سراب سے حقیقی حریت کی موجیں آج تک نہ اُٹھ سکیں ۔ سلیم کو اہل حرمین کی خدمت کا موقع صرف تین سال کے لیے حاصل ہوا ، اس قلیل مدت میں اس نے جو کچھ کیا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل واقعات سے ہو سکتا ہے جو مفتی وحلان کی مستند تالیف فتوحات اسلامیہ" سے ماخوذ ہیں:۔
" سلاطینِ مملوک کی طرف سے شریفِ مکہ کو جو وظیفہ ملتا تھا، سلیم نے اس میں پانچ سو دینار کا اضافہ کر دیا، اس نے ایک دفتر قائم کیا جس میں حرم محترم کے مجاوروں کے نام لکھے گئے ، ان میں سے ہر ایک کا وظیفہ سودینار مقرر کیا گیا،جو مصر کے خزانہ سے ادا کیا جاتا تھا، اس نے تمہیں آدمیوں کی ایک جماعت بھی مقرر کی جو روزانہ قرآن پاک کا ایک ختم پڑھتی تھی اور ان میں سے ہر ایک کی تنخواہ بارہ وینار مقرر کی ، سلاطین مصر ہر سال بدوؤں ، فقرائے مکہ کے لیے غلہ بھیجا کرتے تھے سلیم نے اس دستور کو جاری رکھا اور حکم دیا کہ ہر سال سات ہزار من غله اہل حرمین کے لیے بھیجا جائے ، اس میں سے پانچ ہزار من ، مکہ معظمہ کے لیے اور دو ہزار من مدینہ منورہ کے لیے مقرر ہوا، مفتی و حلان لکھتے ہیں کہ سلیم کے بعد دوسرے سلاطین عثمانی غلہ کی مقدار میں اضافہ کرتے گئے۔ یہاں تک کہ مکہ معظمہ کے لیے بارہ ہزار من اور مدینہ منورہ کے لیے سات ہزار من غلہ آنے لگا۔
سلطنتِ عثمانیہ کے عہد میں حجازِ مقدس میں لوگوں کی کثرت تھی، رزق وسیع تھا، خوش الحالی اور فارغ البالی تھی اور لوگ اس سلطنت کے زیر سایہ امن واطمینان کے ساتھ اور اس کے انعام واکرام کے دریا میں غوطے لگا رہے تھے۔
غرض حرمین شریفین کی خدمت کا شرف جب سلطان سلیم کو حاصل ہو گیا۔ تو آخری عباسی خلیفہ المتوکل نے جو قاہرہ میں سلاطینِ مملوک کے زیر سایہ ظاہری شان و شوکت کے ساتھ مگر حقیقتاً بغیر کسی اختیار و اقتدار کے زندگی بسر کر رہا تھا، خلافت کے تمام حقوق و امتیازات بھی اسے تفویض کر دیے اور مقامات مقدسہ و حرمین شریفین کی کنجیاں، نیز بعض آثارِ نبویہ مثلاً حضور نبی کریم س کی تلوار مبارک، علم مبارک اور چادر مبارک بطور سند خلافت اس کے حوالہ کر دیے ، اس تاریخ سے سلاطینِ عثمانی خلیفہ کے لقب سے دنیا میں مشہور ہوئے اور خطبوں میں ان کا ذکر بحیثیت امیر المومنین کے ہونے لگا، اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت دنیائے اسلام کی خلافت کا حق بھی انہی کو پہنچتا تھا، کوئی دوسری اسلامی سلطنت طاقت اور وسعت میں دولتِ عثمانیہ کے برابر نہ تھی ، یہی سلطنت تمام دوسری سلطنتوں سے زیادہ شرع وملت کی حفاظت کی طاقت رکھتی تھی اور قریباً ڈیڑھ صدی سے جہاد کا فرض ادا کرتی آرہی تھی، چنانچہ یہی وجہ تھی کہ جب سلطان سلیم کی خلافت کا اعلان کیا گیا تو دنیائے اسلام کے کسی گوشہ سے اس کی مخالفت نہیں ہوئی ، اس منصب کے لیے سلاطین عثمانی کا حق اس قدر مسلم سمجھا گیا کہ سلیم کے عہد سے لے کرآخری عثمانی سلطان تک پوری چار صدیوں میں ایک مدعی خلافت بھی ان کے مقابلہ میں نہیں اٹھا، بنوامیہ اور خلافتِ عباسیہ کے عہدوں میں خلافت کے بہت سے دعوے دار نظر آتے ہیں لیکن عثمانی خلافت کی پوری تاریخ میں کسی ایک حریف کو بھی سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔
منصبِ خلافت پرفائیز ہوجانے سے سلطان کا اثرو اسوخ بڑھ گیا۔
شام واپسی اور آخری ایام
مصر اور حجاز کے ضروری انتظامات سے فارغ ہو کر شعبان 923ھ (ستمبر 1517ء) میں سلطان سلیم شام کی طرف واپس روانہ ہوئے،1 ہزار اونٹ سونے اور چاندی سے لدے ہوئے سلطان کےساتھ تھے، مالِ غنیمت کا زیادہ قیمتی حصہ جہازوں کے ذریعہ سے پہلے ہی قسطنطنیہ بھیجا جاچکا تھا، انہی جہازوں پر قاہرہ کے بہترین صناع اور کاریگر بھی روانہ کیے گئے تھے۔ جو قسطنطنیہ لے جا کر آباد کیے گئے۔
20 رمضان المبارک 923ھ کو سلطان سلیم دمشق پہنچے اور وہاں 22 صفر 924ھ تک قیام کیا ،پھر سلطان دمشق سے حلب روانہ ہوئے اور وہاں بھی دو ماہ قیام کیا، اس مدت میں سلطان نے شام کی حکومت کے انتظامات مکمل کیے۔ 17 رجب المرجب 924ھ (25) جولائی 1518ء) کو سلطان واپس قسطنطنیہ پہنچے، سلطان کو وہاں سے روانہ ہوئے صرف دو سال گزرے تھے، اس تھوڑی مدت میں انہوں نے شام، مصر اور حجاز کو فتح کر کے سلطنتِ مملوکیہ کا خاتمہ کر دیا اور سلطنتِ عثمانیہ کے رقبہ کو تقریباً دو گناہ کر دیا۔
اسپین سے معاہدہ
سلطان سلیم جب قسطنطنیہ واپس آیے، تو اسپین کا سفیر عیسائیوں کے لیے بیت المقدس کی زیارت کی اجازت حاصل کرنے کی غرض سے اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے معاوضہ میں وہ رقم جو پہلے سلاطین مصر کو دی جاتی تھی ، سلطنتِ عثمانیہ کو ادا کرتے رہنے کا وعدہ کیا۔ سلطان سلیم نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔
روڈس کی مہم کی تیاریاں
روڈس پر حملے کی تیاریاں کے بعد سلطان سلیم نے بحری طاقت کو ترقی دین کی طرف توجہ دی، اس نے مختلف سائز کے ڈیڑھ سو نئے جہاز بنوائے، ان کے علاوہ سو جہاز او بھی بنائے اورحکم دیا کہ وہ کسی مہم پر روانہ ہونے کے لیے ہر وقت پوری طرح مسلح اور تیار رکھے جائیں، 60 ہزار فوج بھی بمع ایک بڑے توپ خانہ کے ایشیائے کو چک میں جمع کی گئی ، بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ یہ تیاریاں ایران پر حملے کی غرض سے کی جارہی ہیں۔ لیکن عام رائے یہ تھی کہ حملہ روڈس پر ہونے والا ہے، جہازوں، بندرگاہوں اور سلاح خانوں کی تعمیر سے اس رائے کی تائید ہوتی تھی۔ سلطان سلیم ان تیاریوں میں مصروف تھے اور اس مہم کو اس وقت تک ملتوی کھنا چاہتا تھا، جب تک روڈس جیسے مضبوط قلعہ پر کامیابی کے ساتھ حملہ کرنے کے لیے کافی سامان فراہم نہ ہو جائے، چنانچہ ایک روز اس نے اپنے وزیروں کو بلاکر یہ کہا کہ:۔
" روڈس کی فتح کے لیے مجھ جلدی کرانا چاہتے ہو، مگر تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ایسی مہم کےلیے کتنے سامان کی ضرورت ہے، تم بتاسکتے ہوکہ اس وقت کس قدر بارود تمہارے پاس موجود ہے؟
وزرا اس سوال کے جواب کےلیے تیار نہ تھے، لیکن دوسرے روز انہوں نے آکر سلیم سے کہا کہ ” ہمارے پاس چار مہینے کے محاصرہ کے لیے کافی سامان موجود ہے۔“ سلیم یہ سن کر غصہ ہوے اور کہنے لگے، کہ چار ماہ کے سامانِ جنگ سے کیا ہوتا ہے، جب کہ اس کی دو چند مقدار بھی کافی نہ ہوگی ، کیا تم چاہتے ہو کہ سلطان محمد ثانی کی سی رسوائی مجھے بھی نصیب ہو، میں اس وقت تک لڑائی نہیں شروع کروں گا اور نہ ایسی نا کافی تیاریوں کے ساتھ روڈس کا سفر کروں گا، علاوہ ازیں میرا خیال ہے کہ اب مجھے صرف ایک ہی سفر اختیار کرنا ہے یعنی سفر آخرت ۔“
وفات
سلطان کا یہ خیال صحیح ثابت ہوا، وہ ادرنے کے لیے قسطنطنیہ سے روانہ ہوے، مزاج پہلے ہی سے ناساز تھا، مگر طبیبوں کے منع کرنے کے باوجود سلطان نے گھوڑے کی سواری نہ چھوڑی ، راستہ میں مرض کی شدت اتنی بڑھی کہ اسے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اُتر جانا پڑا اور وہیں 9 شوال 926ھ بمطابق 22 ستمبر( 1520ء) کو اپنی حکومت کے نویں سال میں انکا انتقال ہوا۔
نتیجہ
یوں سلطان سلیم اول نے صرف دو سال کے عرصے میں شام، مصر اور حجاز کو فتح کر کے اڑھائی سو سالہ مملوک سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور سلطنتِ عثمانیہ کے رقبے کو تقریباً دوگنا کر دیا۔ خادم الحرمین الشریفین اور خلافت کے القاب کے ساتھ عثمانی سلطان پوری اسلامی دنیا کے قائد بن کر ابھرے۔
History In Urdu