Sultan Selim I (Part 3): The Battle of Chaldiran (1514) — Ottomans vs Safavids

Sultan Selim I (Part 3): The Battle of Chaldiran (1514) — Ottomans vs Safavids

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

تخت کے حصول کے لیے اپنے بھائیوں سے خانہ جنگی کے بعد سلطان سلیم اول کو مشرقِ وسطیٰ سے اٹھنے والے ایک نئے چیلنج یعنی صفوی سلطنت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے سلطان سلیم نے 1514ء میں شاہ اسماعیل صفوی کے خلاف چالدران کے مقام پر خونریز جنگ لڑی۔ یہ تحریر اسی جنگ کے اسباب، واقعات اور نتائج کو بیان کرتی ہے۔

صفوی سلطنت کا عروج

سنہ 1476ء میں سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں آؤٹ لک بیلی کے جنگ میں آق قیونلو کے سلطان "اوزون حسن" کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ شکست آق قیونلو قبیلے کے خاتمے کا بہت بڑا سبب بنی۔ عثمانیوں کے ہاتھوں اس شکست نے اسے اندرونی بغاوتوں میں مبتلا کر دیا، جس کی وجہ سے یہ قبیلہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ 1501ء میں صفوی خاندان کے ایک رکن اسماعیل نے تبریز پر متعدد ترکمان قبائل کی حمایت کے ساتھ اس نے خود کو شاہ قرار دیتے ہوئے بغاوت کھڑی کر دی اور 1503 عیسوی میں اس نے آق قیونلو کے آخری سلطان مراد کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے اسے شکست دی ،اور یوں آق قیونلو قبیلے کا خاتمہ ہو گیا۔

جس کے بعد ان علاقوں پر شاہ اسمعیل نے صفوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ شاہ اسماعیل صفوی اور اس کے خاندان کا تعلق اسلام کی شیعہ شاخ سے تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس نے سب سے پہلے بنو زوالقدر جو کہ عثمانی سلطنت کا ایک باج گزار ترک قبیلہ تھا، اس پر 1507ء میں اس نے حملہ کیا۔ جس کے جواب میں اس وقت کے عثمانی سلطان بایزید دوم کے بیٹے شہزاد سلیم نے صفوی علاقے پر حملہ کرتے ہوئے جوابی کاروائی کی۔ جبکہ سلطان بایزید نے اپنا ایک سفیر مشرق میں محمد شعبانی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ وہ مشرق سے شاہ اسماعیل کی سلطنت پر حملہ کریں اور بعد ازاں 1510ء عیسوی میں وسطیٰ ایشیاء کے ایک اور نامور حکمران محمد شیبانی نے شاہ اسماعیل کے علاقے پر حملہ کیا لیکن مرو کے مقام پر شاہ اسماعیل نے ایک خون ریز جنگ کے بعد محمد شیبانی کو شکست دیتے ہوئے اسے قتل کر دیا تھا۔

اور پھرشاہ اسمعیل نے 1511 عیسوی میں اناطولیہ میں عثمانی سلطان کے خلاف بغاوت کروا دی تھی جو کہ شاکول نامی بغاوت کے نام سے تاریخ میں مشہور ہے۔ اس بغاوت کو سلطان کے ایک وزیر احمد نے ختم کیا تھا۔ پھر جب سلطان بایزید کی وفات کے بعد شہزادہ سلیم تخت نشین ہوا تو اسے اپنے بھائیوں کی جانب سے بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ان تمام بغاوتوں کی شاہ اسماعیل نے نہ صرف مدد کی بلکہ اس نے شہزاد احمد کی حمایت کرتے ہوئے فوجی مدد بھی کی۔

لیکن جب سلطان سلیم نے ان تمام بغاوتوں کو کچلتے ہوئے وہ تختِ سلطنت کی طرف سے مطمئن ہو چکے تھے، تو اس کے بعد سلطان ایشیائے کوچک سے یورپ واپس روانہ ہوئے۔ یورپ کی مختلف حکومتوں سے صلح ناموں کی تجدید کر کے سلطان نے اپنی سلطنت کے مغربی حصے کو ہر طرح کے بیرونی خطرات سے محفوظ کر لیا تھا ۔ جس کے بعد وہ مشرق کی جانب متوجہ ہوے۔ ایران کے تخت پر اس وقت شاہ اسماعیل صفوی تخت نشین تھا۔ واضح رہے کہ اس نے چند سال قبل عراق عرب خراسان اور دیار بکر پر قبضہ کر لیا تھا اور916ھ مبطابق1510ء عیسوی میں فارس اور اذربائجان بھی سلطنت ایران میں شامل کر گئے ۔

جو خلیج فار س سے بحرِ کاسپین اور فرات سے دریائے آمو تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس طرح ایران کی سرحد سلطنت عثمانیہ کی سرحد سے مل گئی تھی۔ اتفاق یہ کہ دونوں سلطنتوں کے فرمانروا بھی شجاعت، عظمت اور ملک گیری کی ہوس میں ایک دوسرے کے ہم پلہ تھے۔ ایسی صورت میں دونوں کے درمیان جنگ ناگزیر تھی، جنگ کے متعدد اسباب موجود تھے، سب سے بڑا سبب مذہب کا اختلاف تھا۔ شاہ اسماعیل ایک غالی شیعہ اور سلیم ایک متشدد سنی تھا۔ سلطنت عثمانی کے اشیائی مقبوضات میں شیعوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ شاہ اسماعیل کے کارندے اناطولیہ میں شیعت کی تبلیغ کرتے پھرتے تھے اور وہ اندر ہی اندر عثمانی سلطان کے خلاف لوگوں کو ابھارتے رہتے تھے۔

سلطان سلیم شیعت کے سخت دشمن تھے اور اسے سلطنت کے لیے ایک بڑا فتنہ خیال کرتے تھے۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ اس کی تخت نشینی سے ایک ہی سال قبل شاہ اسماعیل کے ایوان میں سے شاہ کلی نامی ایک شخص نے کس طرح شیعت کی تبلیغ کر کے اس نے اناطولیہ میں لوگوں کو بغاوت پر آمادہ کرلیا اور اس فتنے کے کو ختم کرنے میں کس قدر دشواری پیش آئی تھی۔ چنانچہ جب اسے اس قسم کا خطرہ پھر محسوس ہوا تو اس نے اپنی سلطنت سے شیعت کا استحصال کر دینا چاہا اور سلطان سلیم نے جاسوسوں کے ذریعے سے سلطنت کے تمام شیعوں کی مردم شماری کروائی اور ان کی تعداد 70 ہزار نکلی۔

پھر ایک روز اچانک سلطان نے ان میں سے 40 ہزار کو قتل کرا دیا اور باقی 30 ہزار کو جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے قید میں ڈال دیا۔ اس واقعے سے تمام ایران میں ایک آگ سی لگ گئی لیکن سلطان سلیم کی قوت اور طاقت کے مقابلے میں اس وقت شاہ اسمعیل کو جوابی کاروائی کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ بہرحال ایران اور سلطنت عثمانیہ کی جنگ کا یہی ایک سبب نہ تھا اس قتل عام سے قبل بھی دونوں سلطنتوں کے تعلقات کشیدہ ہو چکے تھے۔ یعنی کہ شاہ اسماعیل سلطان بایزید ثانی کے عہد سے ہی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑ چکا تھا۔

جنگ کے اسباب

لیکن سب سے بڑا سبب جس نے سلطان سلیم کو صفوی سلطنت پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا تھا اور جس نے سب سے زیادہ اسے اشتعال دلوایا تھا وہ، یہ تھا کہ شاہ اسماعیل نے عثمانی مرحوم شہزادے احمد کے بیٹے شہزادے مراد کو پناہ دیتے ہوئے اس کی اعلانیہ مدد کی۔ اس نے نہ صرف فوجی مدد کی بلکہ اس نے سلطان سلیم کو تخت سے اتار کر مراد کو اس کی جگہ بٹھانے کے لیے اس نے فوجیں جمع کر رہا تھا۔ جب سلطان سلیم کو اس کی خبر ملی تو انہوں نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور انہوں نے ایک خط شاہ اسماعیل کو بھیجتے ہوئے اسے میدان جنگ میں مقابلے کی دعوت دی۔

تبریز کی جانب پیش قدمی

چنانچہ جنگی تیاریوں کے بعد سلطان سلیم استنبول میں مشہور صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر پر حاضر ہوئے اور یہاں انہوں نے غریبوں میں خیرات تقسیم کرنے کے بعد انہوں نے استنبول کے تمام انتظامات اپنے بیٹے شہزادے سلیمان کو دیتے ہوئے وہ اناطولیہ کی جانب روانہ ہوئے۔ جہاں عثمانی فوجیں ینی شہر کے میدان میں جمع ہویں۔

سلطان سلیم 23 سفر 920 ہجری بمطابق 20 اپریل 1514 عیسوی کو ایک لاکھ 40 ہزار کی فوج اور300 توپوں کے ساتھ ایران کے پائے تخت تبریز کی طرف روانہ ہوے۔

ینی شہر سےروانہ ہونے کے بعد سلطان سلیم نے قونیہ میں مولانا جلال الدین رومی کی قبر پر حاضری دی،اور پھر انہوں نے تبریز کا رخ کیا۔ یہاں سے تبریز کا فاصلہ ایک ہزار میل سے زیادہ تھا۔ یہ راستہ پہاڑی تھا اور درمیان میں کوئی سڑک بھی نہ تھی۔ سب سے بڑی دشواری سامانِ رسد کی فراہمی کی تھی۔ جب سلطان سلیم ایران کی سرحد پر پہنچے تو شاید اسماعیل نے بجائے مقابلہ کرنے کے تمام علاقے ویران کرا دیے اور وہ خود پائے تخت کی طرف لوٹ گیا اس سے سلطان سلیم کی مشکلات اور بڑھ گئیں تھیں۔ رسد کے ملنے میں سخت دشواری پیش آنے لگیں۔ فوج میں جو اپنے طویل سفر سے بالکل خستہ حال اور کمزور ہو چکی تھی، اس میں بے دلی کے آثار نمایاں ہونے لگے اور اس نے آگے بڑھنے میں سستی دیکھائی۔

لیکن سلطان سلیم کی مستقل مزاجی بدستور قائم رہی اور باوجود اس کے کہ رسد کی فراہمی روز بروز دشوار ہوتی جا رہی تھی، اس کے قدم نہ رکے بالاخر فوج نے اعلانیہ طور پر اگے بڑھنے سے انکار کر دیا سلطان سلیم کے لیے یہ موقع نہایت نازک تھا مگر ان کی غیر معمولی شجاعت نے فوج کو قابو سے باہر نہ ہونے دیا اور دلیری کے ساتھ ان کے سامنے سلطان نے ایک پرزور تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ:۔

سلطان سلیم کی للکار

" کیا اس طرح تم اپنے سلطان کی خدمت کرتے ہو؟ کیا تمہارا عہدِ وفا مخص زبانی تھا؟ جو لوگ واپس جانا چاہتے ہیں وہ فوج سے علیحدہ ہو جائیں اور چلے جائیں۔ لیکن میں نے تو اتنی دور کا سفر اس لیے نہیں کیا ہے کہ یہاں سے لوٹ جاؤں۔ تم میں سے جو بزدل ہیں وہ فوراً ان بہادروں سے علیحدہ ہو جائیں جنہوں نے تیغ زنی اور جسم و روح کے ساتھ ہماری مہم کے لیے اپنی جانیں وقف کر دی ہیں" یہ کہہ کر سلطان نے دستہ قائم کر کے فوج کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور کسی ایک سپاہی کو بھی جرات نہ ہوئی کہ اپنا دستہ چھوڑ کر علیحدہ ہو جائیں۔

یوں عثمانی فوج سخت ترین مشکلات کے باوجود پیش قدمی کرتے ہوئے تبریز جا پہنچی۔ جب عثمانی فوج تبریز کے قریب پہنچی تو شاہ اسماعیل کو مجبوراً مقابلے کے لیے نکلنا پڑا۔ دونوں فوجیں 2 رجب 920 ھ بمطابق 24 اگست1514ء کو وادی چلداران میں صف آرا ہوئیں۔ ترک لشکر کی تعداد جس نے 1200 میل کی سخت دشوار گزار راہ صرف 126 روز کی قلیل مدت میں طے کی تھی اب ایک لاکھ 40 ہزار سے کم ہو کر ایک لاکھ 20 ہزار رہ چکی تھی۔ جس میں 80 ہزار سوار تھے۔

چالدران کی جنگ

ایرانی فوج کی مجموعی تعداد 80 ہزار تھی یہ سب سوار تھے اور اپنی شجاعت اور سپاہ گری کے لحاظ سے نہایت ممتاز تھے۔ عثمانی فوج بالکل خستہ حال تھی برخلاف اس کے کہ ایرانی سوار تازہ دم تھے۔

کہا جاتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے شاہ اسماعیل کے سالاروں نے اسے مشورہ دیا تھا، کہ رات کے وقت عثمانی فوج پر حملہ کیا جائے۔ تاکہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے عثمانی فوج اپنی توپوں کا استعمال نہ کر سکے لیکن شاہ اسماعیل نے اس طرح کی جنگ لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

جنگ کی ابتدا سلطان سلیم کی جانب سے ہوئی سلطان سلیم کے حکم پر فوج کے درمیان میں موجود ینی چری سپاہی میدان جنگ میں اترے ان پیدل سپاہیوں کے پاس دشمن کو منتشر کرنے کے لیے بارودی رائفلز تھیں۔ ان کے مقابلے کے لیے شاہ اسماعیل خود اپنے گھڑسواروں کے دستے کے ساتھ میدان جنگ میں اترا اور اس نے ینی چری کے شدید حملے کے باوجود انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد اب عثمانی گھڑ سوار مقابلے کے لیے آگے بڑھے اور ایک طویل جنگ کے بعد دونوں فوجیں واپس اپنے اپنے کیمپس میں چلی گئیں۔

پھرشاہ اسماعیل نے اپنی گھڑسوار فوج کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اس نے عثمانی فوج کے دائیں اور بائیں جانب حملے کا حکم دیا۔ ایرانیوں کا یہ حملہ کامیاب رہا اور عثمانی گھڑ سواروں کو بھاری نقصان پہنچا جس کے بعد بچے کچے عثمانی دستے مرکز کی جانب جمع ہونے لگے جب صفی فوج عثمانی توپوں کے بالکل عین نشانے پر آگئیں، تو سلطان سلیم نے حملے کا حکم دیا جس کے بعد عثمانی توپوں نے گولے برسانا شروع کر دیے۔ ایرانیوں کے پاس توپ خانہ نہیں تھا اور وہ اس حملے کی تاب نہ لا سکے اوروہ 25 ہزار لاشیں میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ خود شاہ اسماعیل بھی زخمی ہو گیا تھا اور وہ بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگ سکا۔

فتح کے نتائج

یوں14 رجب 920 ھ بمطابق 4 ستمبر 1514ء کو سلطان سلیم تبریز میں فاتحانہ داخل ہوے، وہاں سے سلطان نے شاہی خزانے کے علاوہ ایک ہزار بہترین کاریگر استمبول روانہ کیے۔ استمبول میں ان لوگوں کے رہنے کے لیے مکانات اور اپنے پیشوں کو جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری سامان دیا گیا۔ تبریز میں 8 روز قیام کرنے کے بعد سلطان شمال میں قرہ باغ کی طرف روانہ ہوے، سلطان کا ارادہ تھا کہ موسم سرما آذربھائیجان کے میدانوں میں گزارنے کے بعد بہار شروع ہونے پر پھر فتوحات کا سلسلہ شروع کرے۔ لیکن عثمانی فوج اب تھک چکی تھی اور آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ تھی۔

سلطان سلیم کو خطرہ لاحق ہوا کہ سختی کرنے سے ممکن ہے کہ فوج بغاوت پر اتر آئے اس لیے مجبوراً سلطان کو استمبول کی طرف واپس جانا پڑا۔ شاہ اسماعیل سے کوئی صلح نامہ نہ ہوا اور دونوں سلطنتوں میں جنگ کا سلسلہ کسی نہ کسی حد تک سلطان سلیم کی حیات تک قائم رہا۔ لیکن چالدران کی جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیار بکر اور کردتسان کے صوبے مکمل طور پر فتح کر لیے گئے اور ایران سے نکل کر انہیں سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔

سلطان سلیم نے ان صوبوں کا حاکم مشہور مورخ ادریس کو مقرر کیا۔ سلطان سلیم کے لیے پورے ایران کو عثمانی مقبوضات میں داخل شامل کر لینا دشوارنہ تھا۔ لیکن کسی مصلحت کے تحت انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک انگریز مورخ ایورسلے کا خیال ہے کہ شیعت سے سلطان کو جس قدر نفرت تھی، عین ممکن ہے کہ سلطان سلیم نے ایران کو اپنی سلطنت میں شامل کرنے کے بجائے علیحدہ رکھنا ہی بہتر سمجھا تھا۔ اسی تشدد کے تحت سلطان نے ایک فرمان نافظ کر کے ایران سے تجارت کرنا حرام قرار دیا اور جب سلطان کو معلوم ہوا کہ چند تاجروں نے اس کے فرمان کی حکم عدولی کی ہے، تو اس نے ان سب کے قتل کا حکم جاری کیا۔ لیکن مفتی اعظم جمالی نے بڑی مشکل سے یہ حکم منسوخ کروایا تھا۔

نتیجہ

یوں چالدران کی فیصلہ کن جنگ میں فتح کے بعد سلطان سلیم اول نے دیار بکر اور کردستان کے صوبوں کو سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا اور صفوی خطرے کو وقتی طور پر پسپا کر دیا۔ اس فتح نے مشرق میں عثمانی طاقت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms