یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
وارنا کی جنگ میں شاندار فتح کے بعد سلطان مراد ثانی نے سلطنتِ عثمانیہ کو یورپ میں مزید مستحکم کر دیا تھا۔ اس فتح کے بعد سلطان کی دستبرداری اور واپسی، دربار کی کشمکش اور بالآخر 1448ء میں کسوا کی دوسری فیصلہ کن جنگ نے عثمانی تاریخ کا ایک اہم باب رقم کیا۔ یہ تحریر انہی واقعات اور جان ہونیاڈے کے خلاف عثمانی فتح کا احاطہ کرتی ہے۔
وارنا کی فتح کے اثرات
وارنا کی جنگ میں عثمانی سلطان مراد دوم کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس جنگ نے گزشتہ کئی سالوں سے عثمانی شکستوں کے داغوں کو تقریباً دھو ڈالا تھا۔ کیونکہ سلطان مراد نے گزشتہ چار پانچ سالوں میں جتنے بھی لشکر "ہونیاڈی" کے مقابلے کے لیے بھیجے تھے ان سبھی کو تقریباً عبرت ناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لیے وانا کی جنگ میں فتح حاصل کرنا عثمانیوں کے لیے بے حد ضروری تھا۔ اس جنگ میں فتح نے یورپ میں عثمانیوں کے قدموں کو مزید مضبوط کر دیا تھا۔ پچھلے دو سالوں سے عثمانیوں کے خلاف جنگ میں فتح سے "جان ہونیاڈی" عیسائیوں کے ہیرو کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ لیکن وارنا کی یہ عبرت ناک شکست جان ہنیاڈی کی عزت کو تار تار کر گئی اور یوں اس طرح عیسائیوں کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔
وارنا کی جنگ میں فتح کے بعد عثمانی سلطان مراد نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد سلطان مراد دارالحکومت "ادرنے" پہنچے۔ جہاں تُرکوں نے سات دن اور سات راتوں تک اس فتح کا جشن منایا اور رات کو آتش بازی بھی کی گئی۔ وارنا کی جنگ میں فتح کے بعد سلطان مراد نے اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے مسلم ریاستوں کو کئی ایک خطوط بھیجے۔ سلطان نے اس فتح کی علامت کے طور پر کئی ایک عیسائی قیدی جو کہ اپنے جنگی لباس پہنے ہوئے تھے انہیں مملوکوں کے پاس بھیجا اور اسی طرح کے کچھ مذید قیدی سلطان نے "قارا قیونلو" اور تیموری حکمران شارخ تیمور کے پاس بھیجے۔ یہ دراصل مسلم دنیا میں اپنی طاقت کا ایک مظاہرہ بھی تھا تاکہ اپنے مسلمان ہم عصروں کو یہ باور کروایا جائے کہ ان کا ہمسایہ بادشاہ کس قدر طاقتور ہے۔
وارنا کی جنگ نے کئی ایک ملکوں کی قسمت کا فیصلہ کیا۔
سلطان مراد کی دستبرداری اور دربار کی سیاست
اس فتح کے بعد "ٗادرنے" میں سلطان مراد نے کچھ دن یہاں آرام کیا اور اس کے بعد انہوں نے مال غنیمت کو خزانے میں جمع کروانے کے بعد جنگ میں شہید ہونے والے سپاہیوں کے خاندانوں کو رقم بھجوائیں۔ اب سلطان چاہتے تھے کہ چونکہ عیسائیوں کی طرف سے اب کوئی خطرہ نہیں۔ تو انہیں دوبارہ "ایدین" کی پرسکون فضا میں جا کر زندگی کے بقیہ دن گزارنے چاہیئیں۔ لیکن سلطان مراد کا وزیر جاندار لی خلیل پاشا یہ نہیں چاہتا تھا کہ کم عمر شہزادہ محمد تخت نشین ہو اور بوڑھا تجربے کار سلطان مراد بنو عہدین میں اپنی زندگی کے بقیہ دن گزارے۔ وہ چاہتا تھا کہ اب سلطان مراد خود دوبارہ تخت کو سنبھال لیں۔ لیکن اپنے تمام تر اصرار کے باوجود "جاندارلی خلیل" سلطان مراد کو ادرنے میں تخت سنبھالنے پر آمادہ نہ کر سکا اور 1445 عیسوی میں سلطان مراد نے تاج و تخت پھر شہزادے کے حوالے کیا اور وہ خود اے دین کی پرکیف فضا میں علماء و مشائخ کی صحبتیں میں پھر سے مشغول ہو گئے۔
اس دوران "ادرنے" میں کم عمر شہزادے محمد کے خلاف ان کے والد کے وزیروں کا گھیرا تنگ ہونے لگا تھا۔ کیونکہ سلطان محمد کے دربارمیں ان کے وزیر دو گروہوں میں تقسیم تھے ایک گروہ ان کے والد سلطان مراد دوم کے دور کے وزیروں کا تھا۔ جبکہ دوسرا گرہ ان کے خود کے یعنی کہ سلطان محمد کے وزیروں اور مشیروں کا تھا۔ سلطان محمد کے وزیروں میں ایک زانوس پاشا، جو کہ مستقبل میں ان کا سسر بھی بنا، یہ شخص دراصل البانومی تھا اور اس کے والد مراد دوم کے دور میں وہ محل میں چیف خزانچی کے عہدے پر مامور تھا اس کے علاوہ وہ البانیا میں ایک سنجک بے بھی رہ چکا تھا۔
اس کے بعد اسے منیسا میں سلطان محمد کی نگرانی کے لیے سلطان مراد نے وہاں بھیج دیا اور جب سلطان محمد تخت نشین ہوئے تو انہوں نے اس سے اپنے وزیروں میں شامل کر لیا تھا۔ سلطان مراد کے منیسا کی طرف جانے کے بعد اس نے چند ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کی جس سے کہ چھوٹے سلطان کے اختیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ سلطان محمد کے حامی گروہ کا دوسرا وزیر جو کہ وزیراعظم جاندارلی حلیل پاشا کا سب سے بڑا حریف تھا وہ شہاب الدین پاشا تھا۔ جو کہ رومیلیا کا گورنر بھی رہ چکا تھا۔ یہ دراصل جارجیائی نژار تھا۔ جو کہ 1439ء کے اوائل میں رومیلیا کا بیلر بے بنا۔
اس نے سربیا کی فتح کے دوران بہت سے سربیائی قلعوں کو فتح کیا جس سےاسے کافی شہرت حاصل کی تھی اور 1442 عیسوی میں مزید بے جو کہ جان ہنیاڈی کے ہاتھوں جنگ میں شہید ہو گئے تھے، کا بدلہ لینے کی مہم پر سلطان نے انہیں مامور کیا تھا۔ لیکن جان ہنیاڈی کے خلاف جنگ میں انہیں بھی شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی اور جیسے ہی وہ دارالحکومت ادر نے پہنچے تو سلطان مراد نے انہیں بیلر بے کے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے انہیں فوج سے علیدہ کر دیا۔
اس دوران 1443 عیسوی کی عظیم مہم میں عیسائیوں کے خلاف رومیلیا کے نئے بیلر بے "قاسم پاشا" کی ناکامیوں کی وجہ سے "شہاب الدین پاشا" کو انہیں اپنے سابق عہدے پر سلطان مراد نے بحال کر دیا۔ دراصل "شہاب الدین پاشا" جنگ کے فن میں ماہر کمانڈر تھے اور وارنا کی جنگ میں وہ سلطان مراد کے بائیں بازو کی کمانڈ کر رہے تھے۔ اسی لیے سلطان محمد نے انہیں وزیر کے عہدے پر ترقی دی تھی۔
اس کے علاوہ سلطان مراد کے دربار میں ایک اور وزیر عیسیٰ بے بی شامل تھے۔ جنہیں وارنہ کی جنگ میں شہید ہونے والے قراچہ بے کی جگہ پر انہیں اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ عیسیٰ بے اصل میں البانوی تھے اور انہوں اناطولیہ کی افواج کا کنٹرول دیا گیا تھا اور یہ جاندارلی حلیل پاشا کے حامی تھے۔ حلیل پاشا کی حمایت کرنے والوں میں ایک ینی چری آغا "کروچ دوگان آغا" تھا۔ "کرچود غان آغا" سات سال سے اس عہدے پر فائز تھا اور وہ سلطان مراد کے سب سے وفادار خادموں میں سے ایک تھا۔ اس نے عثمانی وزیر جاندار لی خلیل پاشاہ کو دارالحکومت میں بہت زیادہ طاقت فراہم کی تھی۔
خلیل پاشا کا ایک اور سابق وزیر اسحاق پاشا تھا جو کہ اس کا بہت بڑا حامی تھا یہ سابق سلطان مراد دوم کے سب سے وفاداروں میں سے ایک تھا۔
غرض دارالحکومت ادرنے میں سلطان محمد کے تخت کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ کیونکہ سلطان محمد قسطنطنیہ کو فتح کرنے جا رہے تھے اور یہ جاندارلی خلیل پاشا کو بلکل بھی قبول نہیں تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ قسطنطنیہ پر حملہ سلطنت کو ایک نئے مشکل موڑ پر لا کھڑا کرے گا۔
ینی چری کی بغاوت اور سلطان مراد کی واپسی
ادھر منیسا میں سلطان مراد دوم کو اب کی بار بھی یہ تنہائی راس نہ آئی۔ وارنا کی شکست نے عیسائیوں کی قوت کو بالکل توڑ دیا تھا اور سلطنت عثمانیہ کو اب کسی حملے کا خوف نہیں تھا۔ لیکن شہزادے محمد کی کم عمری سے خود ینی چری نے فائدہ اٹھانا چاہا اور انہوں نے تنخواہ کے اضافے کا مطالبہ پیش کیا، شہزادے محمد کے انکار پر انہوں نے بغاوت کر دی اور ادر نے میں قتل و غارت گری کا بازار ایسا گرم ہوا، کہ وزرائے سلطنت نے مجبور ہو کر سلطان مراد سے منت و سماجت کی کہ وہ آئیں اور آ کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر اس فتنے کو ختم کریں۔
چنانچہ سلطان مراد کو بادل ناخواستہ اے دین کا سکون پرور ماحول چھوڑنا پڑا، سلطان کے ادرنے پہنچتے ہی باغیوں نے سرِ اطاعت خم کر دیا اور شہر میں امن قائم ہو گیا۔ دو بار کے تجربے سے سلطان مراد کو اندازہ ہو گیا تھا ،کہ شہزادے محمد میں ابھی سلطنت کو سنبھالنے کی قابلیت پیدا نہیں ہوئی۔ چنانچہ سلطان نے پھر تخت چھوڑنے کا کبھی بھی ارادہ نہ کیا۔ بلکہ بقیہ زندگی امور سلطنت کے سر انجام دینے میں گزار دی۔ بادشاہوں کے تخت سے دستبردار ہو جانے کی متعدد مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض کا حالات سے مجبور ہو کر دوبارہ عنانِ سلطنت کو ہاتھ نہ لینا بھی ثابت ہے۔
لیکن دوسری بار تخت چھوڑ کر پھر سلطنت کی ذمہ داریوں کو اپنے سر لینا ایک ایسا واقعہ ہے جو صرف مراد ثانی کے ساتھ مخصوص ہے اور جس کی کوئی نظیر تاریخ کے کسی دور میں نہیں ملتی مشہور مورخ گبن کے نزدیک سلطان مراد کی زندگی اور سیرت کا سب سے زیادہ موثر واقعہ یہی ہے کہ یہ فلسفی سلطان دنیاوی عظمت کی بے حقیقی سے آگاہ ہو کر 40 سال کی عمر میں دوبارہ تخت سے علیحدہ ہو گیا تھا۔
سلطان مراد نے دوبارہ تخت سنبھالنے کے بعد اپنے بیٹے اور ان کے وزیروں زانوس پاشا، شہاب الدین اور دیگر کو اپنے بیٹے کے ہمراہ منیسا بھیج دیا، شہزادہ محمد سمجھ چکا تھا کہ ان سب واقعات کا سرغنہ جاندارلی حلیل پاشا ہے جس نے خفیہ انتظامات کر کے اسے تخت سے ہٹایا ہے ۔
ادھر دارالحکومت میں سلطان مراد دوم کے واپس تخت نشین ہونے کے بعد وزیراعظم "جاندارلی خلیل پاشا" کی حیثیت اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی اور یوں اب "خلیل پاشا" اپنے حریف شہاب الدین اور زغانوس پاشا کو دارالحکومت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
موریہ کی مہم اور جان ہونیاڈے کی سرگرمیاں
دوبارہ تخت پر آنے کے بعد سلطان مراد دوم کی زندگی کے بقیہ چھ سال تقریباً تمام تر میدانِ جنگ ہی میں گزرے سب سے پہلے سلطان نے موریہ کی طرف توجہ دی جہاں شہنشاہ قسطنطنیہ کے دو بھائی "قسطنطین اور "تھامس" علیحدہ علیحدہ حصوں پر حکمران تھے۔ قسطنطین نے اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لیے خاکنائے کورنتھ کی قلعہ بندی کی اور ادھر سے اطمینان کر لینے کے بعد "تھیبیز" کے شہر پر جو اس سرحد سے قریب سلطنت عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اس نے یہاں اچانک حملہ کر کے یہاں قبضہ کر لیا۔ جب اس واقعے کی خبر سلطان مراد کو پہنچی تو سلطان فوراً مورا کی طرف روانہ ہوئے "کورنتھ" کا مضبوط قلعہ سلطان کی راہ میں حائل تھا مگر عثمانی توپوں کی گولہ باری کے سامنے وہ زیادہ دیر ٹھہر نہ سکا۔
عثمانی فوج میں توپوں کے استعمال کا یہ پہلا موقع تھا۔ کورنتھ کی فتح کے بعد موریہ کا راستہ بالکل صاف ہو گیا اور قسطنطین اور تھامس کے لیے اظہار اطاعت کے علاوہ اب کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے خراج دینا منظور کیا اور موریہ بھی سلطنت عثمانیہ کی باج گزار ریاستوں میں شامل ہو گئی۔
دریں اثناء وارنہ کی جنگ کے فوراً بعد ہینگری میں دوبارہ بدمنی پھیل گئی کیونکہ پولینڈ اور ہینگری کے بادشاہ لارڈ سیلاس کی وارنہ کی جنگ میں موت کے ساتھ ہی پولینڈ اور ہنگری الگ ہو گئے اور پھر وہ کبھی بھی دوبارہ متحد نہ ہوئے۔ اس دوران ہینگری کے امراء نے سابق بادشاہ اور جرمن شہنشاہ "البرٹ پنجم" کے چھوٹے بیٹے "لارڈ سیلاس پنجم" کو ہینگری کے تخت کے لیے منتخب کر لیا۔ اگرچہ "لارڈ سیلاس" پنجم اب بھی کم عمر تھا اور وہ اتنا تجربے کار نہیں تھا کہ وہ ہینگری پر حکومت کر سکے اس وجہ سے ہینگری کی پارلیمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک "لارڈ سیلاس" حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو جاتا۔ تب تک نائب کے طور پر تمام معاملات "جان ہونیاڈے" کے سپرد ہوں گے۔ یوں اس طرح "جان ہونیاڈی" نے "کنگ لارڈ سیلاس پنجم" کے نائب کے طور پر اس نے عہدہ سنبھال لیا۔اس کے بعد "جان ہونیاڈی" نے سب سے پہلے اپنے ہمسائے میں موجود "ولاچیا" کی سلطنت پر نظریں جما لیں۔
کیونکہ وارنا کی جنگ میں شکست کے بعد جب "جان ہونیاڈے" واپس ہینگری جانے کے لیے روانہ ہوا تو اس نے ولاچیا کے راستے کا انتخاب کیا اور جب وہ اپنی فوج کے ساتھ شمال کی طرف دریائے ڈینیوب کے پاس پہنچا تو یہاں سے سپاہیوں نے شکست خوردہ "ہونیاڈے" کو پکڑ کر اسے گرفتار کر لیا اور ایسا "ولاد" کے کہنے پر کیا گیا تھا اور "ولاد" نے ایسا اس لیے کیا تھا، تاکہ وہ ہونیاڈے کو گرفتار کر کے عثمانیوں کے حوالے کر دے اور اس کے عثمانیوں کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات پھر سے قائم ہو جائیں، لیکن ہینگری کی جانب سے مسلسل جنگ کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر "ولیڈ" نے "جان ہونیاڈے" کو چھوڑ دیا۔
لیکن اب جب کہ ہونیاڈے ہینگری کے سیاہ و سفید کا تقریباً مالک بن چکا تھا۔ تو ولاچیا میں موجود ولاد کو یہ بات ستانے لگی کہ جلد یا بدیر ہونیاڈے اس کی زمینوں پر حملہ ضرور کرے گا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا تخت اس سے چھین لیا جائے گا۔چناچہ نومبر 1447ء میں اچانک جان ہونیاڈی ولاچیا کی سرزمینوں پر حملہ آور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ "جان ہونیاڈے" نے ولاد اور اس کے بڑے بیٹے میرچا کو اس کے سپاہیوں کے سامنے جلا کر مار ڈالا تھا اور آج تک یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ولاد کو کہاں دفن کیا گیا اس سے ان روایات کو تقویت ملتی ہے کہ واقعی ہنیاڈی نے اسے جلا کر مار دیا تھا۔
یوں "ولاچیا" کے بادشاہ ولاد کی موت کے بعد اس کے خاندان کا تقریباً خاتمہ ہو گیا، سوائے اس کے دو بیٹوں کہ جنہیں اس نے عثمانی سلطان مراد کے پاس سیاسی قیدی کے طور پر بھیجا ہوا تھا۔ ان میں سے اس کا بڑا بیٹا ولاد جو کہ بعد میں "ڈریکولا" کے نام سے مشہور ہوا وہ اور دوسرا اس کا بیٹا "راڈو" تھا۔ ان دونوں کی عثمانی محل میں ولاچیا کے مستقبل کے بادشاہ کے طور پر ان کی تربیت کی گئی تھی۔
البانیہ کی مہم اور نئی صلیبی جنگ کی تیاری
اس دوران "اسکندربیگ" کے خلاف عثمانی کمانڈر مصطفیٰ پاشا کو شدید ترین شکست ہوئی اور وہ ناکام واپس لوٹے جس کے بعد سلطان مراد نے ذاتی طور پر البانیہ پر حملہ کرنے کے لیے انہوں نے پیش قدمی کی۔ سلطان نے 15 ہزار سپاہیوں کو مصطفیٰ پاشا کی کمان میں البانیا کی جانب وونیشینز کی مدد کے لیے روانہ کیا کیونکہ اس دوران البانیا میں ایک قلعے کو لے کر "اسکندربیگ" اور ونیشینز کے درمیان جنگ جاری تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ عثمانی فوج مصطفیٰ پاشا کی سرکردگی میں وینس کی فوج کے ساتھ مل کر "اسکندربیگ" کو شکست دیتی "اسکندربیگ" نے ونیشینز کو شکست دے دی تھی۔
اور تین ہفتے بعد "اورنگ" کے قریب مصطفیٰ پاشا کا "اسکندربیگ" کی فوج کے ساتھ آمنا سامنا ہوا اس جنگ میں بھی مصطفیٰ پاشا کو شکست ہوئی اور مصطفیٰ پاشا سمیت 12 عثمانی کمانڈروں کو "اسکندربیگ" نے زندہ گرفتار کر لیا۔ ادھر دوسری جانب سلطان مراد مرکزی لشکر کے ساتھ البانیہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے البانیا میں "کوچاک" نامی علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن سکندر بیگ سلطان مراد ثانی کا سامنا کرنے سے ڈرتا تھا اور اس نے سلطان مراد کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کی اور 31 جولائی 1448 عیسوی کو سلطان نے اس شہر کو فتح کر لیا۔
اس سے پہلےکہ سلطان مراد البانیہ میں مزید علاقوں کو فتح کرتے کہ انہیں جاسوسوں نے خبر دی کہ جان ہنیاڈے ہینگری میں اپنی فوج کو جمع کر چکا ہے اور وہ اب سلطنت عثمانیہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جس پر سلطان نے البانیا کی اس مہم کو ترک کر دیا اور سلطان مراد بقیہ فوج کے ساتھ صوفیہ میں چلے آئے جہاں انہوں نے تمام فوجوں کوجمع ہونے کا حکم دیا۔
ادھر ہینگری میں "جان ہونیاڈے" وارنا کی جنگ میں اپنی شکست کا داغ دھونا چاہتا تھا اور وہ ہینگری میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے اس نے عثمانیوں کے خلاف وارنا کی جنگ کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے یورپ میں ایک نئی صلیبی مہم کے لیے اس نے اتحاد پر کام شروع کیا۔ شروع میں انگلینڈ اور فرانس جنہیں اس نے اس اتحاد میں مدعو کیا تھا انہوں نے ہنیاڈی کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ اس کے علاوہ وینس، اراگون اور باقی ریاستوں نے بھی اپنی فوجوں کو بھیجنے سے منع کر دیا۔ جبکہ ولاچیا، بوہیمیہ، پولینڈ، مالدیوا ،جرمنی اور بوسنیائی فوجوں نے "جان ہونیاڈے" کا ساتھ دیا ۔ یوں اپنے دامن پر لگے داغ کو ختم کرنے کے لیے"ہونیاڈے"نے چار سال کے اندر 80 ہزار کی ایک زبردست فوج پھر جمع کر لی تھی اور اب جب کہ اسے معلوم ہوا کہ سلطان مراد خود البانیہ کی مہم میں مصروف ہے تو اس نے حملہ کرنے کا بہترین موقع جانا۔
ادھر سلطان مراد نے اب تک صوفیہ میں اپنی فوجوں کو جمع کر لیا تھا۔ اناطولیہ اور یورپ کے ہر حصے سے نوجوانوں نے اس جنگ میں شرکت کی۔ اس جنگ میں سلطان مراد کے اکلوتے بیٹے شہزادے محمد نے بھی حصہ لیا اس دوران جبکہ "جان ہونیاڈے" اپنی فوج کے سات سربیا میں داخل ہوا تو سلطان مراد نے ولاچیا کے شہزادے ولیڈ کو ایک فوج دے کر "ولاچیا" میں تخت پر قبضہ کرنے کے لیے اسے بھیجا جہاں شہزادہ ولیڈ اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جلد "تارگوویستے"جا پہنچا، اور صرف 17 سال کی عمر میں شہزادے ولایڈ نے "ولاچیا" کے بادشاہ جو کہ اس کا چچا زاد بھی تھا کو قتل کر کے تخت پر قبضہ کر لیا۔
کسوا کی دوسری جنگ
"کسوا" کی یہ دوسری جنگ ٹھیک اسی میدان میں ہوئی جہاں تقریباً 60 سال پہلے سلطان مراد اول نے سرویہ کی طاقتور سلطنت کو شکست دے کر اس سے اپنا باجگزار بنایا تھا۔
جمعہ کے روز صبح کی نماز کے وقت عثمانی فوجیں میدان میں پہنچیں۔ میدانِ جنگ میں پہنچنے کے بعد سلطان نے 8 افراد پر مشتمل ایک وفد "جان ہنیاڈے" کے پاس امن کے لیے بھیجا۔ لیکن جان نے سلطان کے اس سفارتی وفد کی بات سننا بھی گوارا نہ کی اور بغیر بات سنے اس نے سلطان کے اس وفد کو واپس بھیج دیا اور یوں دونوں لشکر جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔
فریقین کی صف بندی
16 اکتوبر 1448 عیسوی کو جان ہونیاڈے کے لشکر کے بائیں جانب جرمن اور پولش گھڑ سوار دسے ،جبکہ ان کے آگے بوہیمیہ اور ٹرانسلوینیا کی پیدل فوج تھی جن کے پاس رائفل اور تیر تھے۔
جبکہ عیسائی فوج کے دائیں بازوں میں پولش گھڑ سوار دستے اور بوہیمین اور ٹرانسلوینین پیدل رائفل فوجی دستے شامل تھے۔
فوج کے مرکز میں ہنگیرین فوج تھی جس کا کمانڈر ان چیف "جان ہونیاڈے" خود تھا۔ یہاں ولاچیا اور مالدیوا کے گھر سوار اور پیادہ دستے مرکز میں شامل تھے۔ اس ترتیب سے فوج کو تقریبا 38 مختلف شاخوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
ادھر عثمانی فوج کے دائیں بازو پر قراچہ بے اور شہزادہ محمد رومیلین افواج کی کمان کر رہے تھے۔ جبکہ بائیں بازوں پر عیسیٰ بے کی کمان میں اناطولیہ کی فوجیں تھیں اور مرکز میں سب سے آگے پیدل نیزہ بردار سپاہی تھے ان کے پیچھے ایک لمبی خندق کھودی گئی تھی اس خندق کے پیچھے ینی چری سپاہی تھے۔ جبکہ ان کے پیچھے خود عثمانی سلطان مراد اول اپنی کیپیکولو فوج کے ساتھ موجود تھے۔ اس فوج کے علاوہ دو عثمانی دستے مشرقی اور مغربی پہاڑی کے عقب میں عیسیٰ بے اور خضر بے کی کمان میں چھپے ہوئے تھے اس جنگ میں عثمانی فوج کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک تھی جبکہ عیسائیوں کی تعداد 80 ہزار کے قریب تھی۔
جنگ کا آغاز 17 اکتوبر 1448ء کو ترک فوج کے حملے سے ہوا یہ حملہ عثمانی سپاہیوں نے بیک وقت تمام محازوں سے کیا۔ جبکہ ان کے مقابلے میں عیسائی افواج نے وہیں کھڑے ہو کر دفاعی پوزیشن میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا اور جب جان ہنیاڈے نے عثمانی سپاہیوں کو قریب آتے دیکھا تو اس نے صلیبی سپاہیوں جن کے پاس رائفل اور تیر تھے انہیں حملے کا حکم دیا جس سے یک دم سینکڑوں تیر اور گولیاں عثمانی سپاہیوں کا کلیجہ چیرتی ہوئی آگے نکلیں۔ لیکن عثمانی سپاہیوں نے ان پر برسنے والے تیروں اور گولیوں کی بالکل بھی پرواہ نہ کی اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور خوف کے صلیبی صفوں میں جاگھسے۔ عیسائی توپ خانے کے ابتدائی حملے سے ترک افواج کا کافی جانی نقصان ہوا۔ جبکہ ترکوں کے مقابلے میں عیسائیوں کا بہت کم جانی نقصان ہوا لیکن ترک یہاں ڈٹے رہے اور ترکوں اور عیسائیوں کے درمیان گھمسان کی یہ جنگ شام تک جاری رہی۔ شام ہوتے ہی فریقین نے لڑائی بند کر دی اور صبح کے وقت اپنی پوزیشنوں پر پیچھے واپس چلے گئے۔
"جان ہونیاڈے" نے جب دیکھا کہ اس ابتدائی حملے میں اس کا کوئی خاص جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں عثمانیوں کے بے شمار سپاہی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں تو اس کا خیال تھا۔ کہ ترک زیادہ دیر تک میدان میں ٹھہر نہیں سکیں گے اس وجہ سے اس نے سوچا کہ ترکوں پر جو کہ ابتدائی جنگ ہار چکے ہیں اور وہ تھکے ہارے اپنے خیموں میں آرام کر رہے ہوں گے تو رات کے وقت ان پر حملہ کرنا انتہائی آسان ہوگا۔ لہذا اس نے رات کے آخری پہر اپنی فوج کے ساتھ وہ عثمانی لشکر پر حملہ آور ہوا۔ جب عیسائی افواج عثمانی لشکر کے قریب پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ ترک افواج ان کے انتظار میں بالکل چکنا کھڑی ہے اور جیسے ہی عثمانی لشکر کے قریب عیسائیوں کا لشکر پہنچا تو عثمانی توپوں نے رات کی خاموشی کو چیرتے ہوئے دشمن پر موت کے گولے برسانے لگی۔ یوں اس طرح خوفناک ترین جنگ شروع ہوئی ۔ رات کے اندھیرے میں عثمانیوں پر حملہ کرنے کا یہ منصوبہ جان ہنیاڈے کو بہت مہنگا پڑا اس ابتدائی شکست کے بعد جان ہونیاڈے نے اپنی فوج کو واپس کیمپ میں جانے کا حکم دیا۔
اگلے دن ہونیاڈے نے اپنے دائیں اور بائیں بازو کو عثمانی لشکر کی طرف حملہ کرنے کا اس نے انہیں حکم دیا۔ جلد صلیبی فوج ترکوں کے بالکل قریب آ پہنچی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد عثمانی فوج کے دائیں بازو اور پھر بائیں بازوں نے آہستہ آہستہ پسپائی کرنا شروع کر دی۔ بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ صورتحال بالکل وارنا کی پہلی جنگ جیسی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار عثمانی فوج پسپائی کر رہی تھی جو کہ ایک فرضی پسپائی تھی۔ سلطان مراد جانتے تھے کہ ہونیاڈے وارنا کی جنگ کا بدلہ لینے کے لیے بے چین ہے اس وجہ سے وہ اسے چاندی کے تھال میں وارنا کی جنگ کا بدلہ دینے کی پیشکش کر رہے تھے۔
جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ
جب عثمانی فوج کا دایاں اور بایاں بازو پسپائی اختیار کرتا ہوا مرکز سے بھی پیچھے ہٹنے لگا، تو اب مرکز میں سلطان مراد کا صرف کیپیکولو اور ینی چری دستہ رہ گیا تھا۔ہونیاڈے نے موقع غنیمت جانتے ہوئے سلطان کو ینی چری دستے سمیت ختم کرنے کا ارادہ کیا اور وہ اپنے پورے مرکزی لشکر کے ساتھ ٹوٹ پڑا۔
اس دوران ینی چری دستہ سلطان مراد کی حکم پر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا اس طرح بظاہر پوری عثمانی فوج پسپا ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ جب "ہونیاڈے" کو یقین ہو گیا کہ عثمانی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ رہی ہے اور جب اسے اپنی جیت کا پورا یقین ہو گیا۔ تو وہ بقیہ فوج کے ساتھ میدان میں اترا۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ کیونکہ 30 ہزار پر مشتمل وہ عثمانی دستے جو کہ مشرقی اور مغربی پہاڑی دروں میں سلطان کے حکم پر چھپے کھڑے تھے۔ جیسے ہی عیسائی افواج سلطان کے جال میں آئی تو سلطان کی حکم پر ان دونوں دستوں نے عقب سے برق رفتاری کے ساتھ عیسائیوں کے عقب پر حملہ کر دیا۔
اس دوران پسپائی اختیار کرتی ہوئی عثمانی فوج کو سلطان نے پلٹ کر جوابی حملے کا حکم دیا۔ جس پر پسپائی اختیار کرتی ہوئی عثمانی فوج یکدم واپس پلٹی،اور اس نے دشمن پر اچانک حملہ کر دیا۔ یوں اب وارنا کی دوسری جنگ میں میدان میں موجود عیسائی افواج پوری کی پوری عثمانی فوج کے نرغے میں آ چکی تھی۔ جلد صلیبی فوج میں گھبراہٹ اور خوف پھیل گیا اور وہ جان بچانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنے لگے۔ یوں اس دن شام تک عیسائی افواج جو کہ عثمانیوں کے نرغے میں آ چکی تھی۔ محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرتی رہی اور رات کو کہیں جا کر "ہونیاڈے" اور اس کے چند ایک گھڑ سوار زندہ عثمانی لشکر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
اور وہ بھاگتے ہوئے کیمپ میں پہنچے۔ زیادہ تر صلیبی فوج عثمانیوں کی تلوار کا مزہ چکتے ہوئے ختم ہو چکی تھی، جان ہنیاڈے نے اس دوران جب وہ جان بچا کر اپنے کیمپ میں پہنچا تو اس نے بچ جانے والے کمانڈروں کو کیمپ کے سامنے نئی صف بندی کا حکم دیا اور اس نے اعلان کیا کہ وہ بقیہ عیسائی فوج کے ساتھ کل عثمانیوں پر حملہ کریں گے۔ اور اس نے سپاہیوں کو چکنہ رہنے کا حکم دیا۔
یوں ساری رات جرمن اور بوہیمیہ کے سپاہی چکنا رہے۔ جبکہ رات کی اندھیرے میں چپکے سے جان ہونیاڈے اپنے چند خاص آدمیوں کے ساتھ بھاگ کر ہینگری چلا گیا۔ اگلے دن جب عثمانی فوج عیسائی کیمپ کے پاس پہنچی تو انہیں عیسائیوں کے توپ خانے کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب میدان پورے کا پورا عثمانی فوج کے ہاتھ میں تھا۔ عثمانی فوج نے جلد عیسائیوں کے کیمپ پر حملہ کرتے ہوئے بچے کچھے تمام عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تین روز کی شدید ترین جنگ کے بعد 18 شعبان 852 ہجری بمطابق 17 اکتوبر 1448 عیسوی میں سلطان مراد نے "ہنیاڈے"کی متحدہ افواج کو بری طرح شکست دے دی تھی۔ کسوا کی دوسری عظیم الشان جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرویہ کی آزادی بالکل ختم کر دی گئی اور وہ چند سال بعد سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ جبکہ سلطان مراد نے بوسنیا سے سالانہ خراج قبول کرنے پر ہی ایک اتفاق کیا۔
سلطان مراد ثانی کی وفات اور ورثہ
اس جنگ میں فتح کے بعد سلطان مراد مخص دو سال ہی زندہ رہے اور پانچ محرم الحرام 855 ہجری بمطابق 9 فروری 1451ء کو سلطان مراد نے ادرنے میں وفات پائی۔ جبکہ سلطان مراد کی تجہیز و تکفین قدیم عثمانی پائہ تخت بورصہ میں کی گئی۔
سلطان مراد کے عدل و انصاف اور شریفانہ اوصاف کا اعتراف سلطان کے دشمنوں نے بھی کیا ہے۔ یونانی مورخین بھی سلطان کی فوجی قابلیت کے علاوہ ان کی اخلاقی عظمت کی شہادت دیتے ہیں اور اس بات میں وہ ترک مورخین کے ہم نوا ہیں۔
چنانچہ لارڈ ایورسلے جس کے قلم سے آل عثمان کے لیے بہت کم تعریف سننے کو ملتی ہے اس نے سلطان مراد کے عہد حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ۔:
"اس کی حکومت پر نظر ڈالنے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے توسیح سلطنت کے مقصد سے لڑائیاں لڑیں تقریباً ہر جنگ کے لیے وہ مجبور کیا گیا۔ تین بار امیر کرمانیہ نے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ ہر بار سلطان مراد نے اس کو شکست دی اور کرمانیہ کو صرف ایک باج گزار ریاست بنا لینے پر ہی قناعت کی۔ یہ دیکھا جا چکا ہے کہ شہنشاہ قسطنطنیہ کا طرز عمل کس قدر غدارانہ تھا اور سلطان مراد اس کے مقبوضات کے دائرے کو تنگ سے تنگ کر دینے میں کسی درجہ حق بجھانب تھا۔ اسی طرح سالو نیکا پر بھی سلطان مراد کا حملہ، جبکہ وہ شہر جمہوریہ ونس کے ہاتھ میں تھا، بالکل حق بجانب تھا۔ کیونکہ شہنشاہ قسطنطنیہ کو اسے فروخت کرنے اور یہاں ایک غیر حکومت کو وہاں قدم جمانے کی جگہ دینے کا کوئی حق نہ تھا۔ شمالی سرحد پر جو لڑائیاں ہوئیں ان میں سلطان مراد کو اہل ہینگری اور ان کی حلیف مسیحی طاقتوں کے جارحانہ اقدام سے مجبور ہو کر میدان میں آنا پڑا۔ اتحادیوں نے تلوار سے فیصلہ چاہا اور فیصلہ ان کے خلاف ہوا۔"
ایک اور مشہور انگریز مورخ گبن ایک ترک مورخ کا بیان نقل کرتا ہے کہ۔:
"سلطان مراد نے 49 سال کی عمر پائی اور سلطان نے 30 سال 6 مہینے اور 8 روز حکومت کی۔ وہ ایک عادل اور بہادر فرما روا تھے۔ نہایت کشادہ دل، مستقل مزاج، عالم، رحم دل، پابند مذہب اور فیاض تھے۔ وہ اہل علم اور ان تمام لوگوں سے جو کسی علم یافن میں کمال رکھتے محبت کرتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ وہ ایک نیک شہنشاہ اور ایک جلیل القدر سپہ سالار تھے۔ کسی شخص نے مراد سے زیادہ اس سے بڑی فتوحات نہیں کیں۔ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے تو سب سے پہلے وہاں مسجدیں اور کارواں سرائے، ہسپتال اور مدرسے تعمیر کرواتے۔ ہر سال سلطان ایک ہزار طلائی سکے سادات کی نظر کرتے اور اڑھائی ہزار مکہ معظمہ ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس کے دیندار لوگوں کے لیے روانہ کرتے تھے۔"
اس کے بعد یہی انگریز مورخ گبن اپنی تحقیق لکھتا ہے کہ۔:
" سلطان مراد کی عدل انصاف اور بردباری کی تصدیق اس کے طرز عمل نیز خود عیسائیوں کی شہادت سے ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ اس کے عہد کی خوشحالی اور اس کی پرسکون موت اس کے غیر معمولی اوصاف کا صلہ تھی اپنی عمر اور فوجی قوت کے دور شباب میں بھی اس نے شاید ہی کسی میدان جنگ میں قدم رکھا جب تک پہلے دشمن کی طرف سے اس کو جنگ کے لیے اُکسایا نہ گیا ہو۔ دشمن کے مطیع ہو جانے کے بعد فاتح سلطان اپنے ہتھیار کو کھول کر رکھ دیا کرتے اور صلح ناموں کی پابندی میں ان کا عہد ناقابل شکست اور مستحکم تھا۔ حملے کی ابتدا عموماً اہل ہنگری کی طرف سے ہوا کرتی تھی۔ "اسکندربیگ" کے خلاف سلطان کو اشتعال خود "اسکندربیگ" کی بغاوت کی وجہ سے پیدا ہوا اور کرمانیہ کے غدار امیر کو سلطان نے دو بار زیر کیا اور دونوں مرتبہ معاف کر دیا۔ قبل اس کے کہ وہ موریہ پر چڑھائی کرتے کہ موریہ کے فرمانروان نے اچانک سلطنت عثمانیہ کی ایک علاقے پر حملہ کیا۔
یوں کسوا کی دوسری جنگ میں فتح نے سلطنتِ عثمانیہ کے یورپی مقبوضات کو مزید مضبوط کر دیا، اور سلطان مراد ثانی اپنے عدل، بہادری اور فیاضی کے باعث دوست و دشمن دونوں کے ہاں قابلِ احترام ٹھہرے۔
History In Urdu