Sultan Murad II (Part 4): The Battle of Varna (1444)

Sultan Murad II (Part 4): The Battle of Varna (1444)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان مراد دوم کے دور میں یورپ کی عیسائی طاقتوں نے، ہنگری کے سپہ سالار جان ہونیاڈی کی قیادت میں، ترکوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے ایک زبردست صلیبی اتحاد قائم کیا۔ 1444ء میں معاہدہ شکنی کے بعد وارنا کے مقام پر ہونے والی خونریز جنگ میں سلطان مراد نے اس متحدہ عیسائی فوج کو شکست دے کر سلطنتِ عثمانیہ کو تباہی سے بچا لیا۔

ہنگری میں سیاسی بحران

سلطان "مراد دوم" نے اناطولیہ میں بغاوتوں پر قابو پاتے ہوئے، انہوں نے یورپ میں ہنگری، سرویہ اور ولاچیا کو اپنا فرمانبردار بنا لیا تھا اور سلطان نے انہیں سالانہ خراج دینے پر بھی مجبور کر لیا تھا۔ بظاہر 1435ء تک حالات تقریباً نارمل ہو چکے تھے۔ لیکن 1437 عیسوی میں ہینگری کے بادشاہ "سجسمنڈ" کی موت کے بعد عثمانیوں کے خلاف یورپ سے ایک طوفان اٹھنے والا تھا،اور یہ طوفان اس قدر طاقتور تھا کہ اس کی لہریں عثمانیوں کے دارالحکومت ادرنے تک پہنچنے والی تھیں۔

1437ء میں ہینگری کے بادشاہ "سجمنڈ" کی موت نے ہینگری کے دارالحکومت "بوڈا" میں سیاسی عدم استحکام کا ایک نیا دور پیدا کیا۔ کیونکہ بادشاہ سجمنڈ کا کوئی بیٹا نہیں تھا جو کہ اس کی موت کے بعد اس کا وارث بنے اور تخت نشین ہو۔ بالاخر اسٹریا کے ڈیوک "البرٹ" کو جو کہ مرنے والے بادشاہ "سیجمنڈ" کا داماد تھا، اسے ہینگری کے اُمرا نے اسے ہینگری کے بادشاہ کے لیے منتخب کر لیا۔ لیکن اس کی تخت نشینی کے بعد ٹرانسلوینیا کے کسانوں کی بغاوت اور "ولاچیہ" کے علاقے سے عثمانیوں کے چھاپے نے نئے ہنگیرین بادشاہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا کیونکہ اس نے نہ تو کسانوں اور نہ ہی عثمانیوں کے خلاف کوئی اہم ترین پیش رفت کی تھی۔

اس دوران ہنگری میں سیاسی استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عثمانی سلطان مراد دوم نے مغربی "بلقان" پر عثمانی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے سلطان مراد نے سربیہ جو کہ ان کی اپنی جاگیر تھی اس پر حملہ کیا اور 844 ہجری بمطابق 1440 عیسوی میں تین ماہ کے شدید محاصرے کے بعد سربیہ کو فتح کر لیا گیا اور اب سربیہ براہ راست عثمانیوں کی حکمرانی میں آ چکا تھا اور اسے سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ بنا دیا گیا۔ اس شکست کے بعد سربیہ کا بادشاہ "دراڈ برینکو وچ" بھاگ کر ہینگری کے دارالحکومت "بوڈا" میں چلا گیا۔ اس دوران ہینگری میں سیاسی عدم استحکام مزید پھیل گیا۔ کیونکہ 1339 عیسوی کے موسم خزاں میں ہینگری کی نئے بادشاہ البرٹ عثمانیوں کے خلاف اپنی فوج جمع کرتے ہوئے "پیچس" لگنے کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی تھی۔ یوں البرٹ کی اچانک موت کے نتیجے میں 1440 عیسوی میں سلطان مراد نے ہینگری کہ مشہور قلعے "بلغرد" کا محاصرہ شروع کر دیا۔ لیکن سلطان مراد کو "بلغرد"کا محاصرہ اُٹھا لینا پڑا،اور سلطان ناکام واپس لوٹ آئے۔ یہ شہر "دریائے ڈینیوب" کے ساحل پر موجود "سربیا" کا ایک انتہائی اہم شہر تھا۔ لیکن 830 ہجری بمطابق 1427ء سے ہینگری کے قبضے میں تھا۔ ہینگری میں داخل ہونے کے لیے اس شہر کی فتح ناگزیر تھی۔ سلطان مراد نے اسی خیال سے اس کا محاصرہ کیا تھا۔ لیکن ہینگری کے عزم و استقلال کے مقابلے میں آخر کار عثمانیوں کو شکست ہوئی اور عثمانی سلطان محاصرہ اٹھا کر واپس دارالحکومت چلے گئے۔

ادھر ہینگری میں مزید افرا تفری پھیل چکی تھی کیونکہ نئے ہنگیرین بادشاہ البرٹ کی اچانک موت نے ہنگری میں ایک بہت بڑا سیاسی بحران پیدا کر دیا تھا۔ اگرچہ مرنے والے بادشاہ کی بیوہ نے کچھ ماہ بعد بیٹے "لیڈسلاوپنجم" کو جنم دیا تھا، لیکن ہینگری کے زیادہ تر اُمرا نے ہینگری کے تخت پر شیر خوار بچے کی حکومت کو مسترد کر دیا تھا۔ کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یورپ میں عثمانیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے ایک جنگجو بادشاہ کی ضرورت ہے۔ لہذا اس خلا کو پر کرنے کے لیے پولینڈ کے 15 سالہ بادشاہ "ولڈیسلاو ثالث" کو ہنگری کا تاج پیش کیا گیا۔ یوں 1440 سے 1441 عیسوی کے درمیان "لیڈسلاوپنجم اور "ولاڈسلاو ثالث" کے حامیوں کے درمیان ملک میں جنگیں ہوتی رہیں جس کا نتیجہ پولینڈ کے بادشاہ کے حق میں ہوا اور ہینگری کا شیر خوار بادشاہ آسٹریا کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ ادھر پولینڈ کا بادشاہ "ولاڈسلاو ثالث" ہنگری کے دارالحکومت بوڈا میں داخل ہوا اور اس نے اپنے وفاداروں کو خاص عہدوں پر مقرر کرنے کے بعد اس نے اپنی بادشاہت پر گرفت مضبوط کرنا شروع کی۔

جان ہونیاڈی کا عروج اور عثمانی شکستیں

اسی دوران ہینگری کا ایک با صلاحیت فوجی افسر جس کا نام "جان ہونیاڈی"ولاڈسلاو ثالث" تھا اور جس کی جنگی مہارت نے "ولاڈسلاو ثالث" کو تخت نشین ہونے میں مدد دی تھی. جو اپنے برق رفتار حملوں کی وجہ سے بہت جلد ہینگری کے باثر اراکین میں سے ایک بن چکا تھا سامنے آیا۔

ہینگری اور عثمانیوں کے درمیان اسی سال موسم گرما کے آخر میں جنگ شروع ہوئی جب "جان ہنیاڈی" نے عثمانیوں کے زیر قبضہ سرویہ پر ایک بہت بڑا حملہ کیا اور اس نے سرویہ میں موجود عثمانی گورنر "اسحاق پاشا" کو بری طرح شکست دیتے ہوئے کئی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا۔

یوں اس پہلی شکست کے رد عمل کے طور پر سلطان مراد نے اگلے سال یعنی کہ 1442ء کو ایک چھاپہ مار فوج اپنے عظیم کمانڈر "مزید پاشا" کی سربراہی میں ولاچیہ کے راستے "ٹراسلوینیا" میں دور تک حملہ کرنے کا سلطان نے حکم دیا۔ عثمانی پاشا دشمن کے علاقے میں فتوحات حاصل کرتا ہوا وہ ٹرانسلوینیا میں "ہرمان اسٹارٹ" کا اس نے محاصرہ کر لیا۔لیکن جلد ہونیاڈے اس قلعے کی مدد کے لیے آگے بڑھا اور ایک مختصر سی فوج کے ساتھ اس نے ترکوں کے عظیم الشان لشکر کو شکست دی۔ اس معرکے میں 20 ہزار ترک مارے گئے ہونیاڈے نے مزید بادشاہ اور اس کے بیٹے کو اپنے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا۔ اس کی لہو کی پیاس کسی طرح بجتی ہی نہ تھی مقتولوں کی چیخ و پکاراور تڑپ میں اسے خاص لذت محسوس ہوتی تھی۔ چنانچہ اس فتح کے بعد جب وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر دسترخوان پر بیٹھا تو اسی وقت ترک قیدیوں کو سامنے بلا کر سب کو نہایت بے دردی سے اس نے قتل کرا دیا۔ہر فتح کے بعد جودعوت ہوتی تھی اس میں مہمانوں کو یہ خونی تماشہ بھی ضرور دکھایا جاتا تھا۔ یہ ہونیاڈے اور ترکوں کا پہلا مقابلہ تھا۔ اس فتح کے بعد ہینگری کے دارالحکومت "بوڈا" میں جان ہو نیاڈے کو جنگی ہیرو کے طور پر اس کا استقبال کیا گیا۔ کیونکہ وہ ان چند یورپین میں سے ایک تھا جنہوں نے میدانِ جنگ میں عثمانیوں کو شکست دینے کی اہلیت ثابت کی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف ان ابتدائی فتوحات نے بنیاڈے کو نہ صرف اس کے اپنے ہم وطنوں بلکہ پورے عیسائی یورپ نے اسے "وائٹ نائٹ آف ٹرانسلوانیا" یعنی کہ "ٹرانسلوانیا کا سفید نائٹ" کا اسے خطاب دیا

اس دوران جب سلطان مراد کو اپنی فوج کی شکست کی خبر ملی اور سلطان کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کا عظیم پاشا "ہونیاڈے" کے ہاتھوں مارا گیا ہے تو سلطان نے اپنی شکست کا الزام اپنے ولاچین جاگیردار "ولیڈ ثانی" پر لگایا۔ سلطان نے اسے دارالحکومت "ادر نے" بلایا جہاں اسے سلطان کے حکم پر نظر بند کر دیا گیا۔ جبکہ اس کے بڑے بیٹے نے ولاچیا کا کنٹرول سنبھال لیا. سلطان مراد کا یہ اقدام انتہائی غلط ثابت ہوا کیونکہ سلطان کے اس اقدام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے " ہونیاڈی" نے ولاچیاکا رخ کیا. جب سلطان کو یہ خبر پہنچی تو سلطان نے 80 ہزار کی ایک دوسری فوج اپنے کمانڈر "شہاب الدین پاشا" کی سرکردگی میں روانہ کی. چنانچہ 1442 عیسوی کے موسم خزاں کے دوران ولاچیا میں عثمانی اور ہونیاڈے کی فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ جس میں حیرت انگیز طور پر ہنیاڈی نے ایک بار پھر عثمانی فوج کو شکست دے دی۔ اس جنگ کے بعد "ولاچیا" کے سابق حکمران کے کزن "بسرب"جو کہ ہینگری کا حامی تھا ہونیاڈی نے اسے تخت نشین کردیا۔ جبکہ سابق ولاچین حکمران کا بیٹا مرچہ دوم اپنے وفاداروں کے ساتھ بھاگ کر دہی علاقوں میں جا چھپا۔ اس دوران "ہونیاڈی" نے ولاچیہ سے فارغ ہونے کے بعد جب اس نے بوڈا کا ارادہ کیا تو واپسی کے سفر کے دوران اس نے عثمانی سلطان کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے "ورڈن" کے عثمانی قصبہ پر حملہ کرتے ہوئے اسے تباہ و برباد کر دیا۔ جان ہنیاڈی کی یہ فوجی مہمات بہت زیادہ اہم تھیں۔ کیونکہ کئی سالوں سے عیسائیوں کو عثمانیوں سے شکستوں کا سامنا تھا اور اب کہیں جا کے انہیں عثمانیوں کے مقابلے میں ایک طاقتور ترین عیسائی رہنما ملا تھا۔

اس دوران سلطان مراد نے "ولاد دوم" کو قید سے رہا کیا اور اسے ایک فوج دے کر ولاچیا پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیا اور1443ء کے موسمِ بہار تک اس نے ولاچیا پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سلطان مراد نے ولاچیہ کے حکمران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے مطابق اسے عثمانی دار حکومت کو سالانہ خراج ادا کرنا تھا۔ سلطان کی ینی چری فوج کے لیے پانچ سو بچے ہر سال ادرنے روانہ کرنے تھے اور آخر میں سلطان نے ولاد کے دونوں بیٹوں "راڈو" اور "ولائیڈ" کو یرغمال کے طور پر "ادرنے" بلا لیا تھا۔

صلیبی اتحاد اور اسکندر بیگ کی بغاوت

ہونیاڈی کی شاندار کامیابی اور ترکوں کی مسلسل شکستوں سے یورپ کی تمام حکومتوں میں امید کی ایک نئی کرن تازہ ہوئی اور یورپ سے ترکوں کو نکال دینے کے لیے ایک زبردست عیسائی اتحاد قائم کر لیا گیا۔ شاہ "ولیڈسلاو" جو اس وقت ہینگری اور پولینڈ دونوں مملکتوں کا فرمانوان تھا، اس تحریک کا اصل روحِ روان تھا اس اتحاد میں ہنگری، پولینڈ، ولاچیا اور بوسنیا کی حکومتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ شریک ہوئیں سرویہ بھی جو سٹیفن کے عہد میں عثمانیوں کا نہایت وفادار حلیف تھا اب اس کے جانشین "جارج برینکو وچ" کی سرکردگی میں اتحادیوں کی صف میں شامل ہو گیا۔ فرانس اور جرمنی نے مبارزین کی ایک کثیر فوج بھیجی اس کے علاوہ یورپ کے ہر ملک سے ایک بڑی تعداد سپاہیوں کی خود ا کر شریک ہوئی۔ لیکن سب سے زیادہ جوش پوپ نے دکھایا اس نے اپنے نمائندے" کارڈینل جولین سزرانی" کو ایک مسلہ فوج کے ساتھ روانہ کیا اور یورپ کے ہر حصے سے جنگ کے لیے کثیر رقم فراہم کر کے بھیجی۔ حقیقتاً یہ ایک صلیبی جنگ تھی جو عیسائیت کے مذہبی جوش نے اسلام کے خلاف چھیڑی تھی۔ اس سے پہلے ایشیائے کوچک میں بازنطینی اور ونیشینز سفارت کاروں کے اکسانے پر کارامان قبیلے کے سردار "ابراہیم" نے 1443ء کے موسمِ گرما میں عثمانی علاقوں پر حملہ شروع کیا۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ سلطان مراد اس وقت تک بلقان میں صلیبیوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہو جائے گا۔ لیکن کرمانی سردار اس دھوکے میں مارا گیا۔ کیونکہ عیسائیوں نے ابھی عثمانیوں کے خلاف جنگ شروع نہیں کرنی تھی۔ اب جب کہ کوئی صلیبی فوج نظر نہیں آرہی تھی ، تو اب یوں کرمانی سردار عثمانی سلطان کے رحم و کرم پہ تھا۔ سلطان مراد اپنے بیٹے شہزادے علاؤ الدین کے ساتھ کارامان قبیلے پر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے موسم گرما کا زیادہ تر حصہ کرمانیوں کے خلاف جنگ کے دوران گزارا اس حملے میں فتح کے باوجود سلطان نے کرمانی سردار ابراہیم کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے کیونکہ وہ مملوکوں کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جن کے قونیہ کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات تھے۔ اس فوجی مہم کے دوران سلطان مراد کا سب سے بڑا بیٹا اور تخت کا وارث علاؤالدین گھوڑے سے گر کر اچانک فوت ہو گیا جس کا سلطان مراد دوم کو بے حد صدمہ تھا۔ یوں 1443 عیسوی کے ابتدائی موسم خزاں تک سلطان مراد نے اپنی مشرقی سرحدیں محفوظ کر لی تھیں۔

دریں اثناء یورپ میں تقریباً 25 ہزار کی مضبوط عیسائی فوج نے سلطنت عثمانیہ کے زیر کنٹرول سربیہ پر حملہ کر دیا تھا۔ جبکہ سلطان مراد اس وقت ایشیائے کوچک میں کرمانیوں کی بغاوت کو کچھلنے میں مصروف تھے۔ اس دوران عیسائی فوج کی قیادت ہینگری کا بادشاہ "ولیڈسلاو" کر رہا تھا۔ لیکن اصل طاقت جان ہونیاڈی کے پاس تھی۔ اس عیسائی اتحاد کا اصل مقصد یورپ میں ان عیسائی ریاستوں کو دوبارہ قائم کرنا تھا جو کہ سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو چکی تھیں اور ان کا ایک دوسرا مقصد قسطنطنیہ کی مدد کرنا تھا۔ ہونیاڈی کے ان ابتدائی حملوں کے مقابلے کے لیے عثمانیوں کے تین بڑی فوجیں عیسائیوں کے ساتھ ٹکرائیں۔ سب سے پہلے "اسحاق پاشا" اور اس کے بعد "قاسم پاشا" اور آخر میں "تورحان پاشا" اپنی فوج کے ساتھ عیسائیوں کے مقابلے کے لیے نکلے، لیکن ان تینوں پاشاؤں کو عیسائیوں کے مقابلے میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان ابتدائی شکستوں کے دوران عثمانی سلطان کو ایک بہت بڑے فتنے کا سامنا کرنا پڑا جس نے آنے والی کئی دہائیوں تک وہ عثمانیوں کے لیے ایک ڈراونا خواب بنا رہا۔ یہ ڈراؤنا خواب دراصل "اسکندر بیگ" تھا جورومیلیہ میں عثمانی گورنر تھا۔ دراصل یہ البانیہ کے ایک جاگیردار کا بیٹا تھا، جسے سیاسی قیدی کے طور پر ادر نے بھیجا گیا تھا اس کا اصل نام "جارج کاستریو" تھا۔ اس کی ہونہاری اور فراست نے بہت جلد سلطان کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ سلطان مراد نے اپنی ذاتی نگرانی میں جارج کو اسلامی اور فوجی تعلیم دلوائی اور اس کی لیاقت اور شجاعت سے خوش ہو کر مخص 18 سال کی عمر میں اسے ایک سنجک کا حاکم بنا دیا اور "اسکندر بیگ" کے لقب سے اسے سرفراز کیا۔ جان کاستریو یعنی کہ "سکندر بیگ" کے باپ کا جب انتقال ہوا تو سلطان مراد نے اس کی ریاست سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی۔ یہ بات "اسکندر بیگ" کو بہت ناگوار گزری۔ لیکن اس نے ایک عرصے تک اپنے اندرونی جذبات کو ظاہر نہ ہونے دیا اور جب 848 ہجری بمطابق 1443 عیسوی میں عیسائی افواج ہونیاڈی کی کمان میں عثمانی علاقوں میں داخل ہوئیں اور انہوں نے عثمانیوں کو شکست دی تو سکندر بیگ نے موقع کو غنیمت سمجھا اور اس نے اپنے باپ کی ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے تیاری شروع کی دی۔ چنانچہ ایک روز وہ رئیس آفندی جو کہ سلطان مراد کا چیف سیکرٹری تھا اس کے خیمے میں اچانک داخل ہوا اور اس کے گلے پر خنجر رکھ کر البانیہ کے مضبوط شہر "آق حصار"جس کا قدیم نام "کروئیا" تھا، کے ترک افسر کے نام ایک حکم نامہ لکھوا لیا کہ شہر اور اس کے ملحق علاقے بحیثیت گورنر کے اسکندر بیگ کو دے دیے جائیں یہ تحریری حاصل کر لینے کے بعد اس نے رئیس آفندی کو فوراً قتل کر دیا اور اسی وقت وہ البانیا کی طرف روانہ ہوا۔ آق حصار پہنچ کر اس فرمان کے ذریعے سے وہ شہر پر قابض ہو گیا۔

معاہدہ زیجیڈین اور سلطان مراد کی گوشہ نشینی

اس دوران سلطان مراد اپنی اناطولیائی فوج کے ساتھ یورپ میں داخل ہوئے اور صوفیہ میں صلیبی فوج سے نمٹنے کے لیے سلطان نے مزید فوجیں جمع کرتے ہوئے سلطان نے عیسائیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا جس کی وجہ سے تیزی کے ساتھ نوجوان بھرتی ہونا شروع ہوئٓے۔

ادھر عیسائیوں کا اب اگلا نشانہ عثمانی دارالحکومت "ادرنے" شہر تھا۔ جب سلطان کو جاسوسوں نے یہ خبر دی کہ عیسائیوں کا اگلا نشانہ عثمانی دارالحکومت ادر نے شہر ہے تو سلطان نے حکمت عملی کے طور پر انہوں نے صوفیہ اور اس کے اس پاس کے دیہاتوں سے لوگوں کا انخلا کرواتے ہوئے ان تمام علاقوں کو خود جلا کر راکھ کر دیا اور دسمبر کے اوائل تک جب صلیبی فوج یہاں پہنچی تو رسد کی کمی کی وجہ سے ان کی حالات خراب ہونا شروع ہو گئے۔

سلطان مراد یہ جانتے ہوئے کہ ان کی یہ بھرتی کی جانے والی نئی فوج زیادہ تر تجربہ کار نہیں ہے، تو سلطان نے بڑی عقل مندی کا مظاہرہ کیا۔ سلطان نے ایک کھلے میدان میں عیسائیوں کے ساتھ لڑنے کی بجائے انہوں نے پہاڑی علاقوں کا انتخاب کیا۔ کیونکہ اس حکمت عملی کے ذریعے وہ ایک چھوٹی سی فوج کے ساتھ عیسائیوں کے بڑے لشکر کو شکست دے سکتے تھے۔ سو سلطان نے اپنی فوج کو "Trajn" کے مقام پر ایک تنگ پہاڑی درے میں صلیبیوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں موسمِ سرما کے وسط میں دونوں فوجیں ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملہ کر رہی تھی کہ اس دوران دونوں جانب پہاڑیوں کی اونچائی سے عثمانی توپیں نیچے درے میں صلیبی فوج پر گولے برسا رہی تھی اور یوں سلطان مراد کی اس حکمت عملی سے عیسائی فوج پسپا ہونا شروع ہو گئی۔ سلطان مراد نے بھاگتی ہوئی عیسائی فوج کا تعاقب کرنے کے لیے انہوں نے اپنے دو کمانڈر "قاسم بے" اور "تورہان بے" کو روانہ کیا کہ وہ دشمن کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں منتشر کریں۔ لیکن اس جنگ میں شکست کے باوجود ہونیاڈی نے ایک بہترین جنگجو ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس نے تعاقب کرنے والی عثمانی فوج کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس نے سربیہ کے ایک قصبے "کونویکا" کے قریب عثمانی فوج کو جال میں پھنسا لیا،اور جب تعاقب کرنے والی عثمانی فوج عیسائی لشکر کے پاس آئی تو چاروں طرف سے چھپی ہوئی فوج نے ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے بعد عثمانی فوج کو سخت ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس شکست کے دوران سلطان کے داماد "محمود چیلیبی" کو یرغمال کے طور پر عیسائی افواج اپنے ساتھ ہینگری لے گئی اور جنوری 1444ء کے آخر میں صلیبی فوج بلغرد میں داخل ہوئی۔ یہاں ہینگری میں جان ہنیاڑی کو قومی ہیرو کے طور پر اس کا استقبال کیا گیا۔

ادھر ان تمام شکستوں کی وجہ سے دارالحکومت ادرنے میں عثمانی حکام انتہائی اداس اور پریشان تھے۔ سو سلطان نے مزید جنگ سے بچنے کے لیے امن کا راستہ اختیار کیا ۔کیونکہ ان شکستوں کے بعد البانیہ کے نئے حکمران "سکندر بیگ" اور اناطولیہ میں کارمان سردار "ابراہیم" کی جانب سے ہونے والی بغاوتوں نے سلطان کو مجبور کر دیا کہ وہ ہنگری کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کریں۔ لیکن کارڈینل جورین صلح کا مخالف تھا۔ لیکن طویل گفت و شنید کے بعد بالاخر 26 ربیع الاول 848 ہجری بمطابق 12 جولائی 1444ء عیسوی کو زیجیڈین کے مقام پر ایک صلح نامہ مرتب ہوا۔ جس کی رو سے سرویہ سلطنت عثمانیہ سے آزاد کر دیا گیا اور ولاچیا ہنگری کو دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ سلطان مراد نے 60 ہزار دوکات عثمانی جنرل "محمود چیلیبی" کا زر فدیہ ادا کیا جو گزشتہ جنگ میں عیسائیوں کے ہاتھ گرفتار ہو گیا تھا۔ یہ صلح دس سال کے لیے کی گئی اس پر پابند رہنے کے لیے "لاڈسلاو" یعنی کہ "لارڈ سیلاس" نے انجیل اور سلطان مراد نے قران کو ہاتھ میں لے کر قسم کھائی تھی۔

ایشیائے کوچک میں امن پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔ اس صلح نامے سے یورپ کی جنگ کا بھی بظاہر خاتمہ ہو گیا اور سلطان مراد کو اطمینان حاصل ہوا 20، 22 سال کی مسلسل جنگوں نے سلطان کو اب امور سلطنت کی طرف سے دل برداشتہ کر دیا تھا۔ سلطان چاہتے تھے کہ بقیہ زندگی اب سکون کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ 1443ء عیسوی کی بڑی عثمانی فوجی شکستوں اور 1444ء کی ذلت آمیز صلح نامہ زیجیڈین اور اس کے علاوہ اناطولیہ کی کیمپین میں عثمانی شہزادے علاؤ الدین کی موت نے سلطان مراد کو اندر سے توڑ دیا تھا۔ یہ شہزادہ انتہائی لائق اور بہادر تھا سلطان مراد کو اس کی وفات کا بے حد رنج اور دکھ تھا اس لیے سلطان نے سلطنت سے مستقل طور پر کنارہ کش ہو جانے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ سلطان نے اپنے دوسرے چھوٹے بیٹے محمد کو جس کی عمر صرف 12 سال تھی تخت پر بٹھا کر وہ خود ریاست ایدین میں چلے گئے۔اپنے دارالحکومت ادر نے سے دور "مانیسہ" کے محل کےایک باغیچے میں وہ فلسفے اور روحانیت میں مشغول ہو گئے۔ یوں ابتدائی طور پر سلطان کے تخت چھوڑنے پر بہت سے عثمانی وزرا نے سلطان کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ نیا عثمانی سلطان شہزادہ محمد ایک نا تجربے کار شہزادہ ہے۔ لیکن سلطان کی خواہش پر انہوں نے سلطان کی اس حکم کی تعمیل کی اور نئے عثمانی شہزادے محمد کو عثمانی سلطان کے طور پر اسے قبول کیا اور یوں اگست ء1444 عیسوی کے آخر تک شہزادہ محمد کو نیا عثمانی سلطان بنا دیا گیا۔

معاہدہ شکنی اور صلیبی پیش قدمی

لیکن جس زندگی کی تلاش میں سلطان مراد نے تخت چھوڑ کر ایدین کی سکونت اختیار کی تھی۔ وہ حاصل نہ ہو سکی۔ جوں ہی یہ خبر مشہور ہوئی کہ سلطان مراد سلطنت سے کنارہ کش ہو گیا ہے اور اس کی جگہ نو عمر اور نہ تجربے کار محمد تخت نشین ہے توعیسائیوں کے دلوں میں ترکوں کو یورپ سے نکال دینے کا حوصلہ ایک بار پھر پیدا ہو گیا۔ صلح نامہ ذیجیڈین کی تحریر کو ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا۔ کہ ہینگری کی مجلسِ قومی نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کا فیصلہ کر لیا۔ اس غداری کا اصل محرک "کارڈینل جولین" تھا۔ جو پوپ کی پوری تائید کے ساتھ معاہدہ شکنی پر زور دے رہا تھا۔ حالات تمام تر عیسائیوں کے لیے اُمید افزا تھے۔ سلطنت عثمانیہ کی زمام حکومت ایک نو عمر لڑکے کے ہاتھ میں تھی۔ درے دانیال پر جینوا، وینس اور برگنڈیوں کے بحری بیڑوں کا قبضہ تھا۔ جن کی موجودگی میں ترک افواج کا ایشیا ئے کوچک سے یورپ آنا محال تھا۔ لیکن پھر بھی "ولیڈسلاو" شاہ ہینگری صلح نامہ کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن کارڈینل جولین نے اپنے مذہبی اثر سے کام لے کر اس کو مجبور کر دیا اور بادشاہ کے ضمیر کو اس فتوے سے مطمئن کر دیا کہ غیر عیسائیوں کے ساتھ معاہدے کی پابندی نہیں کرنی چاہیے۔ ہینگری کی مجلسِ قومی کے بعض ارکان کے مخالفت بھی اس فتوے سے دبا دی گئی اور جولین نے مجلس میں اعلان کیا کہ اس فتوے میں خود پوپ کی تائید بھی شامل ہے ۔

اس دوران ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے عیسائیوں کے حوصلے بڑھا دیے وہ واقعہ یہ تھا کہ 1444ء عیسوی میں موسم خزاں کے پہلے ہفتوں کے دوران عثمانی دارالحکومت "ادرنے" شہر میں ایک آگ بھڑک اٹھی۔ جس نے دو ہزار سے زیادہ گھروں اور عمارتوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ صلیبیوں نے اسے آنے والی فوجی مہم کے لیے خدا کی منظوری سے تعبیر کیا ابتدا میں جان ہنیاڈے نے بھی معاہدہ زیجیڈین کی خلاف ورزی سے اختلاف کیا، لیکن جب یہ وعدہ کیا گیا کہ بلخاریہ کو ترکوں سے فتح کرنے کے بعد اسے وہاں کا بادشاہ بنا دیا جائے گا تو وہ راضی ہو گیا البتہ اس نے یہ شرط رکھی کہ معاہدہ شکنی کا اعلان یکم ستمبر تک ملتوی کر دیا جائے۔ تاکہ اس وقت اتحادی صلح نامہ سے پورا فائدہ اٹھا لیں اور ان تمام قلعوں اور علاقوں پر قابض ہو جائیں جنہیں ترک معاہدہ کے مطابق دیانت داری کے ساتھ خالی کر رہے تھے۔ شاہ سرویہ کو اس کی سلطنت میں اضافے کا لالچ دیا گیا اور وہ بھی معاہدہ شکن اتحادیوں کے ساتھ مل گیا۔

ایک انگریز مورخ لین پول لکھتا ہے کہ:۔

جس طریقے سے یہ غداری عمل میں لائی گئی اس سے زیادہ معیوب بات یورپ کے سورماؤں اور ایک بڑے سپہ سالار کی شہرت کے لیے تصور میں بھی نہیں لائی جا سکتی۔ جس وقت عثمانی دستے مذکورہ بالا قلعوں اور علاقوں سے نکل آئے اور اتحادیوں نے صلح نامہ سے پوری طرح فائدہ اٹھا لیا ،تو شاہ "لاڈ سیلاس" کارڈینل جولین اور ہونیاڈے یکم ستمبر کو 20 ہزارکی فوج کے ساتھ سلطنت عثمانیہ پر حملہ کرنے کی غرض سے روانہ ہوئے۔ ترک اس فریب سے بالکل بے خبر تھے نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد قلعے ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔قلعوں کے ترک دستے قتل کر دیے گئے یا چٹانوں سے گرا کر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

دریائے ڈینیوب کو عبور کرنے میں تقریباً عیسائی فوج کو چار دن لگے۔ اس کے بعد صلیبی فوج نے ڈینیوب کے جنوبی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرق کی طرف مارچ شروع کیا اور وہ "ویڈین" اور "اوریا ہووہ" کے علاقوں کو تباہ و برباد کرتے ہوئے انہوں نے تمام تر باشندوں کو قتل کر دیا۔

20 اکتوبر کو نیکوپولس کا قلعہ بھی صلیبیوں کے قبضے میں آگیا۔عیسائیوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ اناطولیہ سے فوجی کمک عثمانیوں کو نہیں پہنچ سکتی، اس لیے انہوں نے فوری طور پر "ادر نے" شہر کی جانب پیش قدمی شروع کی۔

سلطان مراد کی واپسی اور جنگِ وارنا

اس دوران سلطان محمد کے وزیر "جاندارلی خلیل پاشا" نے ایک خط منیسا میں "سلطان مراد دوم" کو بھیجا۔ لیکن سلطان نے اس خط کا کوئی خاص جواب نہ دیا۔ سلطان نے لکھا کہ میں اب تخت چھوڑ چکا ہوں اور اب موجودہ بحران سے نکالنے کا کام اس کے بیٹے کا ہے، جب سلطان مراد کا یہ خط انکے بیٹے محمد نے پڑھا تو انہوں نے ایک خط اپنے والد مراد دوم کو لکھاجس میں انہوں نے لکھا کہ"۔

اگر اپ بادشاہ ہیں تو آئیں اور آ کر اپنی سلطنت کو دشمن سے بچائیں اور اگر میں سلطان ہوں تو میں اپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ آئیں اور میری فوجوں کی قیادت کریں"

ان واقعات کی خبریں سن کر سلطان مراد گوشہ نشینی سے نکل کر میدانِ جنگ میں آنے کے لیے تیار ہو گئے اور وہ بورصہ شہر میں سلطان نے اناطولیہ میں موجود ترک سپاہ کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد فوج تیار ہو گئی اور یورپ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی گئی۔ لیکن "درہ دانیال" پر عیسائی بیڑوں کا قبضہ تھا۔ جسکی وجہ سے سلطان نے جینوا کے جہازوں کو فی سپاہی ایک دوکات کی شرح سے محصول ادا کر کے اپنی پوری فوج کو یورپ میں منتقل کر دیا۔ اب عثمانیوں کے پاس ایک مضبوط فوج ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس ایک فوجی لیڈر بھی تھا۔ جو کہ "ٹرانسلوانیا" کے وائٹ نائٹ کا سامنا کرنے کے قابل تھا۔

دریں اثناء عیسائی لشکر نے بلغاریہ کے پرانے دارالحکومت "ترنووا" کا محاصرہ شروع کر دیا تھا تا ہم یہ محاصرہ عیسائیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ کیونکہ عثمانی سپاہیوں نے عیسائی فوج کی بے شمار رسد تباہ کردی تھی۔اب رسد کی کمی کی وجہ سے ہنیاڈی نے فوج کو مشرق کی طرف بحیرہ اسود کے ساحل کی طرف جانے کا حکم دیا جہاں صلیبی بحری بیڑے انہیں دوبارہ رسد کی فراہمی کر سکتے تھے۔ یوں اب "ادرنے" کی جانب پیش قدمی کو عارضی طور پر ترک کر دیا گیا۔ بحیرہ اسود کے ساحل پر پہنچ کر عیسائی افواج نے جنوب کا رخ کیا اور کئی اہم مقامات کو فتح کرتے ہوئے وہ "وارنا" جا پہنچے اور اس مشہور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یہاں بھی ترک اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہ تھے اور مجبوراً انہیں ہتھیار ڈال دینے پڑے اور وارنا پر بھی عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا۔

اس دوران سلطان مراد کی یورپ میں آمد کی خبر صلیبی فوج تک پہنچ چکی تھی۔ سلطان مراد نے یورپ میں ادرنے شہر فوجوں کوجمع کیا اور نومبر کے پہلے ہفتے تک جبکہ عثمانی فوجیں تیار ہو چکی تھی سلطان نے اپنے کم عمر بیٹے محمد اور وزیر جاندار لی خلیل پاشا کو ادھر نے شہر چھوڑ کر وہ خود 40 ہزار کی مضبوط فوج کے ساتھ وارنا کی جانب پیش قدمی کرنے لگے۔ یوں 9نومبر کو جان ہونیاڈی کے ٹرانسلوینیائی گھڑسواروں نے سلطان مراد کی عظیم فوج کو آتے ہوئے دیکھا۔

میدانِ جنگ کی صف بندی

10 نومبر کی صبح کو سلطان مراد اور "لارڈ سیلاس" کی دونوں فوجیں وارنا کے قلعے کے باہر ایک میدان میں جمع تھیں۔ وارنا کے میدان جنگ میں مشرق کی جانب "بحیرہ اسود" تھا، جبکہ شمال میں گھنا جنگل اور جنوب میں جھیل وارناموجود تھی۔ اس جنگ میں سلطان مراد نے اپنی فوج کو ہلال کی شکل میں تعینات کیا ہوا تھا، جو کہ تقریباً پانچ میل تک پھیلا ہوا تھا۔ سلطان کے دائیں جانب اناطولیائی بیلر بے "کراچا پاشا" تیمورلی سپاہیوں کے ساتھ فوج کے دائیں بازو کی قیادت کر رہے تھے۔ جبکہ رومیلین بیلر بے "شہاب الدین پاشا" رومیلین تیمورلی سپاہیوں کے ساتھ فوج کے بائیں بازو کی قیادت کر رہے تھے۔ دریں اثناء سابق عثمانی سلطان خود اپنے بھاری کیپیکولو سپاہی کیولرڑی، الیڈینسریز اور توپ خانے کی ایک چھوٹی یونٹ کے ساتھ مرکز میں موجود تھے۔ پوری فوج کے ہر اول دستے میں کمانوں کلہاڑیوں سے لیس ہلکے ازب پیادہ دستے تھے۔

صلیبی فوج کی تعداد عثمانی فوج کے مقابلے میں آدھی تھی جو کہ تقریباً 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ تا ہم "کوسوو" اور "نائیکوپولس"کی گزشتہ جنگوں کی طرح عیسائی فوج نے اپنی کمتر تعداد کو اپنے اعلیٰ ہتھیاروں سے پورا کیا۔ جان ہونیاڈی کے بہنوئی "مائیکل سیلگی" بائیں بازو کی قیادت کر رہا تھا، جو کہ ٹرانسلوینیائی بھاری نائٹس اور ہلکے حصار گھڑسواروں پر مشتمل تھا۔ یہ گھڑسوار دستے عثمانی ترکوں کے خلاف طویل مہم اور دیگر فوجی مہمات کے سخت تجربے کار تھے۔ بادشاہ "لاڈ سیلاس" اور "جان ہونیاڈی" مرکز کی کمان کر رہے تھے۔ جس میں بادشاہ کا ذاتی گھڑ سوار دستہ ہینگری اور پولینڈ کے ہیوی ماؤنٹڈ نائٹس اور جرمنی سے کرائے کی پیادہ سپاہی فوج میں شامل تھے۔

"جان ڈی ڈومینس" صلیبی لشکر کے دائیں بازو کی قیادت کر رہا تھا۔جس کے پاس ہنگری کے بھاری پیادہ، جبکہ بوسنیا اور کروشیا سے ہلکی پیادہ گھڑسوار دستے شامل تھے۔ آخر میں جولین سسرانی کے پاس ایک گھڑ سوار دستہ تھا ۔اس کے علاوہ سب سے آخر میں لشکر کے عقب میں موجود شہزادے مرچا اپنے گھڑسواروں کے ساتھ عقب میں تعینات تھا۔

اس جنگ میں سلطان مراد کے زیر کمان ینی چری دستوں میں ایک سپاہی نے ایک اونچے نیزے کے سرے پر صلح نامہ زیجڈین کی نقل فوجی نشان کے طور پر لٹکائی ہوئی تھی۔

حملے کا آغاز عیسائی فوج کے بائیں پہلو نے سب سے پہلے کیا جہاں پر عثمانی فوج کے دائیں بازو پر موجود "کراچہ بے" نے اپنے سواروں کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا اور جیسے ہی جنگ شروع ہوئی "میرچہ دوم" کے ماتحت ولاچین گھڑ سوار دستے میدان میں داخل ہوئے اور ان دوستوں کے مقابلے کے لیے سلطان مراد نے مرکز سے دو پیدل دستوں کو روانہ کیا۔ اس دوران اناطولیائی بیلر بے "کراچہ" کے گھڑ سوار دستے دشمن کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور بے شمار سپاہی اس ابتدائی حملے میں مارے گئے اور چند ایک گھڑسوار دستے تو میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ جنگ کی گرمی کی شدت کے دوران کراچہ بے اپنے سپاہیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئےانہوں نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ لیکن اس گمسان کی جنگ میں کراچہ بے اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ بڑی مردانگی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی اناطولیائی سپاہی میدان جنگ سے بھاگ نکلے۔ اب یوں دیکھا جائے تو عیسائیوں نے جنگ کا ابتدائی مرحلہ بڑی آسانی کے ساتھ جیت لیا تھا۔ لیکن دوسری جگہوں پر وارنا کی جنگ اب بھی بدستور جاری تھی۔ عثمانی فوج کے بائیں جانب شہاب الدین پاشا اپنے اکنجی گھڑسواروں کے ابتدائی حملوں کی وجہ سے کامیاب ہو چکے تھے اور ان کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے "جان ڈی ڈومینس" کی فوجیں مکمل طور پر شکست کھا کر لشکر کے عقب میں جنگی ویگنوں کی طرف بھاگنے لگیں۔ اس دوران "جان ہونیاڈی" نے دو گھڑسوار دستوں کی کمان کرتے ہوئے اس نے شہاب الدین کے دستے پر حملہ کر دیا۔ لیکن یہاں ترک تیر اندازوں نے صلیبیوں کہ اس جنگی ہیرو کو واپس پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی دوران ایک تیر جان ہونیا ڈی کے ہیلمٹ کو چیرتا ہوا اس کے سر تک جا پہنچا اور وہ بڑی مشکل کے ساتھ واپس میدان جنگ میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ شہاب الدین پاشا نے صلیبی فوج کے چار جھنڈوں پر قبضہ کرتے ہوئے وہ اب بحر اسود کی سمت آگے بڑھنے لگے اور جلد ہی شہاب الدین پاشا اپنی فوج کے ساتھ یہاں پہنچ گئے اور گھمسان کی جنگ ہوئی۔ اس دوران ہونیاڈی اور "لارڈ سیلاس" اپنے اس لشکر کی مدد کے لیے میدان میں اترے اب یہ دیکھتے ہوئے کہ دشمن کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے شہاب الدین پاشا اپنی تھکی ہوئی افواج کو میدان سے واپس پسپا کرنے کا انہوں نے حکم دیا۔ لیکن اس پسپائی میں آدھی فوج ماری گئی یوں جنگ وار نہ کہ ان ابتدائی گھنٹوں میں دونوں جانب سے ہزاروں سپاہی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھےاور میدان میں پڑے زخمیوں کی آہوں کے علاوہ خون الود لاشوں، بارود اور پسینے کی بدبو کسی جہنم سے کم نہ تھی۔

زیادہ تر عثمانی فوج یا تو میدان چھوڑ کر بھاگ گئی تھی، یا جنگ میں ماری گئی تھی۔ یوں دوپہر میں آگ برساتا سورج میدان جنگ کے اوپر چمک رہا تھا دونوں فوجوں کے درمیان لڑائی میں تھوڑا وقفہ ہوا۔

اس مختصر سے جنگی وقفے کے دوران عیسائی رہنماؤں نے لشکر کے عقب میں اپنے اگلے لاہ عمل پر بات چیت شروع کی "وائٹ نائٹ آف ٹرانسلوینیا" یعنی کہ جان ہونیاڈی نے اپنے بادشاہ پر زور دیا کہ وہ فوج کو آرام کرنے دے جب کہ بادشاہ کے مشیروں نے اس کی بجائے اپنے بادشاہ پر اس بات کا زور دیا کہ وہ آرام کے بجائے عثمانیوں پر حملہ کرے کیونکہ ترک فوج کا بڑا حصہ یا تو بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ جبکہ ان میں سے بیشتر مارے گئے تھے۔ اس پر بادشاہ نے اپنے مشیروں کی رائے کا ساتھ دیا اور اس میٹنگ کے اختتام پر 20 سالہ"لارڈ سیلاس"اپنے 500 بھاری سواروں کے گروپ کے ساتھ اس نے اپنی تلوار نکالی اور عثمانیوں کی جانب آگے بڑھنے لگا اور جلد وہ عثمانی فوج کے قریب جا پہنچا۔ "لارڈ سیلاس" نہایت بہادری سے لڑ رہا تھا لیکن اس کا گھوڑا زخمی ہو کر گرا اور اس نے ینی چری سپائیوں سے گرفتار کرنے کی خواہش ظاہر کی ،کہ اسے قید کر لیا جائے مگر ترکوں میں عیسائیوں کی معاہدہ شکنی سے اس قدر برہمی پھیلی ہوئی تھی کہ انہوں نے اس کی خواہش پر توجہ نہ دی،اور ایک پرانے ینی چری خواجہ "خیری" نے فوراً اس کا سر کاٹ کر ایک نیزے پر رکھا اور نیزے کو بلند کر کے عیسائیوں کی طرف بڑھا۔ اُمرائے ہینگری کے دل اس منظر کو دیکھتے ہی بیٹھ گئے اور وہ نہایت بدحواسی کے عالم میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

اس دن شام تک "جان ہونیاڈی" عثمانی ینی چری سپاہیوں سے اپنے بادشاہ کی لاش لینے کی کوشش کرتا رہا لیکن سر توڑ کوشش کے باوجود وہ ناکام رہا اور آخر کار وہ بھی بقیہ عیسائی دستوں کے ساتھ بڑی مشکل سےجان بچا کر بھاگا۔ لیکن اس سے قبل اتحادی فوجوں کا دو تہائی حصہ قتل ہو چکا تھا۔ لارڈ سیلاس کے علاوہ مقتولین میں دو مشہور بشپ اور بعض نہایت ممتاز فوجی افسر بھی تھے ۔لیکن سب سے زیادہ عبرت انگیز نعیش کارڈلین جولین کی تھی جو کہ معاہدے زیجیڈین کی شکست کا خاص محرک تھا اور ہزاروںعیسائیوں کی ہلاکت کا اصلی سبب تھا۔

جنگِ وارنا کے نتائج

جنگِ وارنا کے بعد ہینگری پر ترکوں کا قبضہ تو فوراً نہ ہو سکا۔ لیکن سرویہ اور بوسنیا کی مملکتیں مکمل طور پر فتح کر لی گئی یہ دونوں جو یونانی کلیسا سے وابستہ تھیں دولت عثمانیہ کے زیر تسلط آنا بھی چاہتی تھیں۔ کیونکہ ہونیاڈی کی کامیابی کی صورت میں انہیں جبراً لاتینی کلیسا میں داخل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

سرویا کا مورخ "رانکی" نقل کرتا ہے کہ"۔

" ایک بار جارج برینکو وچ نے ہنیاڈے سے دریافت کیا کہ اگراسے کامیابی حاصل ہوئی تو مذہب کے متعلق اس کا رویہ کیا ہو گا، ہونیاڈے نے جواب دیا کہ میں سرویہ کو رومن کیتھولک مذہب قبول کرنے پر مجبور کروں گا۔ اس کے بعد برینکوویچ نے یہی سوال سلطان مراد سے کیا سلطان نے جواب دیا کہ میں ہر مسجد کے پاس ایک گرجا بنوا دوں گا اور لوگوں کو پوری آزادی حاصل ہوگی کہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق مسجد یا گرجا میں عبادت کریں۔

اسی طرح کلیسائے رومہ کی مذہبی زیادتیوں نے بوسنیا کی تسخیر میں بھی ترکوں کی مدد کی اور 8روز کے اندر بوسنیا کے 70 قلعوں نے عثمانی فوجوں کے لیے اپنے پھاٹک کھول دیے بوسنیا کا شاہی خاندان مٹ گیا اور اس کے بہت سے ممتاز امراء اسلام میں داخل ہوئے۔

نتیجہ

جنگِ وارنا اسلامی تاریخ کا ایک فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوا۔ اگرچہ ہنگری فوراً فتح نہ ہو سکا، لیکن اس فتح کے بعد سرویہ اور بوسنیا کی مملکتیں سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ تسلط آ گئیں، اور یورپ میں عثمانی اقتدار مزید مستحکم ہو گیا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms