یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان مراد دوم کے دور میں سلطنتِ عثمانیہ کو بیک وقت اناطولیہ کی بغاوتوں اور یورپ کے محاذوں کا سامنا تھا۔ یہ تحریر سالونیکا کی فتح، البانیہ کی مہم اور بنو جاندار، کارامان، وینس، سربیا اور ہنگری کے خلاف عثمانی جدوجہد کی داستان بیان کرتی ہے، جس کے اختتام پر سلطان مراد نے وینس کے تمام اتحادیوں کو الگ الگ کر کے شکست دی۔
سالونیکا کی اہمیت اور بدلتی ملکیت
“سالونیکا” جو “تھسالونیکا” کے نام سے بھی مشہور ہے، یہ شہر استنبول کے بعد مشرقی رومی سلطنت یعنی “بازنطینی سلطنت” کا سب سے بڑا اور اہم ترین شہر تھا۔ اس شہر کو سب سے پہلے 1387ء میں “سلطان مراد اول” کے دورِ حکومت میں “جاندارلی کارا خلیل” نے فتح کیا تھا، لیکن یہ شہر جلد ہی رومیوں کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے بعد 1394ء میں “سلطان بایزید یلدرم” کے دور میں ان کی برق رفتار فتوحات کے دوران یہ شہر فتح ہو کر عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد 1402ء میں “امیر تیمور” کے سلطنتِ عثمانیہ پر حملے اور پھر شہزادوں کی آپس میں تخت کی جنگوں نے بازنطینیوں کو اس قدر موقع دیا کہ انہوں نے تیسری بار پھر اس شہر کو واپس حاصل کر لیا۔
تختِ حکومت پر سلطان مراد دوم اور ابتدائی بغاوتیں
پھر جب سلطان مراد دوم تخت نشین ہوئے تو ان کے خلاف بازنطینی شہنشاہ “مینوئل” نے ان کے چچا “مصطفیٰ چیلیبی” کو فوج دے کر سلطان مراد کے خلاف تخت کے دعویدار کے طور پر یورپ بھیجا، جس کے نتیجے میں سلطنتِ عثمانیہ میں ایک بار پھر تخت کی جنگ شروع ہو گئی۔ لیکن سلطان مراد نے اس بغاوت کو کچلنے کے بعد بازنطینی سلطنت کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہوئے استنبول کا محاصرہ شروع کر دیا تھا۔
اس دوران، جبکہ 1422ء میں ایک طرف تو سلطان مراد قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو وہیں دوسری جانب بازنطینی سلطنت کے دوسرے بڑے شہر “سالونیکا” کا محاصرہ بھی جاری تھا۔ رومی شہنشاہ نے اس محاصرے سے بچنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کی، یہاں تک کہ اس نے سلطان مراد کے سوتیلے چھوٹے بھائی “مصطفیٰ چلیبی” کو سلطان کے خلاف اناطولیہ میں کھڑا کر دیا۔ اس نے نہ صرف مصطفیٰ کی بغاوت کو سپورٹ کیا بلکہ مالی مدد بھی کی۔
اناطولیہ میں دیگر ترک قبائل، جن میں “بنو جاندار” اور “بنو کارامان” شامل تھے، نے اس بغاوت میں حصہ لیتے ہوئے اپنی فوجیں بھی بھیجی تھیں۔ اس بغاوت کے دوران کارامان سردار “محمد بے” نے اناطولیہ میں موجود عثمانی “صوبہ حامد” پر حملہ کرتے ہوئے بہت سی زمینوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اسی دوران “بنو تکہ” قبیلے کے سردار عثمان بے نے “انطالیہ”، جو عثمانی سلطنت کے زیرِ تسلط ایک قلعہ تھا، اس کا محاصرہ کر لیا، جبکہ کارامان سردار “محمد بے” نے اس محاصرے میں حصہ لینے کے لیے “قونیہ” سے پیش قدمی شروع کی۔ دریں اثنا سلطان نے اناطولیہ میں اپنے سوتیلے چھوٹے بھائی “مصطفیٰ چیلیبی” کی بغاوت کو کچلتے ہوئے اسے پھانسی دے کر قتل کر دیا تھا۔
بنو جاندار اور کارامان کے خلاف مہمات
جہاں ایشیائے کوچک میں سلطان کو ان بغاوتوں کی خبریں ملیں، وہیں انہیں یورپ سے بھی تشویش ناک خبریں موصول ہونے لگیں۔ یورپ میں ولاچیا کے بادشاہ نے اناطولیہ میں عثمانی سلطان کے خلاف ہونے والی بغاوتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دریائے ڈینیوب کو عبور کر کے عثمانی شہروں پر حملہ کر دیا۔ جس پر سلطان مراد نے فوراً یورپ میں اپنے کمانڈر “فیروز بے” کو خط بھیجا کہ وہ جلد “ولاچیا” کے خلاف فوجیں لے کر روانہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سلطان نے “موریہ اور البانیہ” کی جانب بھی اپنی فوجوں کو روانہ کیا، جبکہ خود سلطان نے اناطولیہ میں “بنو جاندار” قبیلے کے خلاف فوجی مہم شروع کی۔
جلد سلطان مراد دوم پیش قدمی کرتے ہوئے “بنو جاندار” قبیلے کے سردار “اسفندیار بے” کو سبق سکھانے کے لیے جاندار قبیلے میں داخل ہوئے اور “بولو” شہر کے قریب ایک میدان میں عثمانی اور جانداری فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ عثمانیہ اور بنو جاندار کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی، جس میں کلہاڑی کا ایک گہرا زخم لگنے کی وجہ سے “اسفندیار بے” شدید زخمی ہو گئے اور وہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر بحرِ اسود کے ساحل پر موجود اپنے ایک شہر “سینوپ” میں جا چھپے۔ عثمانی فوجوں نے اپنے سلطان کے حکم پر اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور وہ بنو جاندار قبیلے کے دارالحکومت “کستامونی” جا پہنچے۔ اس دوران جب “اسفندیار بے” کو سلطان کے یہاں پہنچنے کا علم ہوا تو وہ خوفزدہ ہو گیا کہ کہیں عثمانی فوجیں اس کی تمام سلطنت پر قبضہ نہ کر لیں۔ اس خوف سے اس نے سلطان مراد سے معافی مانگتے ہوئے سلطان کو خط لکھا، جس میں اس نے کہا کہ:
“اے میرے بیٹے مراد! تمہارے والد اور دادا ہمیشہ مجھ پر مہربان رہے۔ آپ ایک نوجوان سلطان ہیں، میری بدتمیزی کو درگزر کریں اور اپنی رحم دلی اور مہربانی کا ثبوت دیتے ہوئے مجھ پر احسان کریں اور میری زمینیں مجھے بخش دیں۔ میری فوجیں ہر وقت آپ کی خدمت میں تیار رہیں گی اور آپ جو مجھے حکم دیں گے وہ میں پورا کروں گا۔”
یوں سلطان مراد بنو جاندار قبیلے کے بوڑھے سردار کی التجاؤں سے متاثر ہو کر اس پیشکش کو قبول کرتے ہوئے صلح کر لی، اور “کستامونی” کے پہاڑوں میں موجود تانبے کی کانیں عثمانیوں کے حوالے کر دی گئیں۔ سلطان مراد دوم نے “اسفندیار بے” کی ایک پوتی کے ساتھ شادی کر لی۔
بنو جاندار قبیلے کے بعد اب کارامان قبیلے کی باری تھی۔ شہزادے مصطفیٰ کی بغاوت میں امیرِ کرمانیہ پیش پیش تھا۔ اس کا یہ طرزِ عمل اس قدیم انا کی بنیاد پر تھا جو آلِ عثمان اور کرمانیہ کے درمیان ابتدا سے چلی آ رہی تھی۔ چنانچہ سلطان مراد نے اس کی سرکوبی کے لیے کرمانیہ پر حملہ کیا اور محمد بے کو قتل کر کے اس کے بیٹے ابراہیم کو کرمانیہ کا سردار بنا دیا۔ سلطان نے کرمانیہ کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا، بلکہ صرف اس کے باج گزار ہونے پر ہی اکتفا کیا۔ ادھر انطالیہ کے قلعے کے حاکم “حمزہ بے” شہر سے باہر نکلے اور انہوں نے عثمان بے پر حملہ کرتے ہوئے اسے قتل کر دیا۔
یورپ کی مہمات: البانیہ، موریہ اور سالونیکا
یوں ایشیائے کوچک میں امن و امان قائم کرنے کے بعد سلطان مراد 827 ہجری بمطابق 1424ء میں واپس یورپ چلے گئے۔ اس درمیان میں شہنشاہ مینویل کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا جان پیلیو لوگس قسطنطنیہ کا فرماں روا بنا۔ سلطان مراد نے دوبارہ قسطنطنیہ کا محاصرہ نہیں کیا بلکہ جان سے صلح کر لی، اور جان نے 30 ہزار دوکات سالانہ خراج دینے کا معاہدہ کیا اور کچھ علاقے سلطان کے حوالے کر دیے۔ یوں بازنطینی سلطنت کا خاتمہ چند دنوں کے لیے اور ملتوی ہو گیا۔
یورپ میں عثمانی کمانڈر “فیروز بے” نے ولاچیا میں داخل ہو کر ولاچین فوج کو ناکوں چنے چبوائے، جس کی وجہ سے ولاچیا کے بادشاہ ڈین نے عثمانی سلطنت سے اپنی وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے اپنے دو بیٹوں کو عثمانی سلطان کے پاس یرغمال کے طور پر بھیجا۔
دوسری جانب “ایورینس اوغلو عیسیٰ بے”، جنہیں البانیہ کی مہم پر مامور کیا گیا تھا، انہوں نے البانیا کے چند شہروں پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے البانیہ کے مشہور حکمران “جان کسترو”، جو البانیا کے مشہور حکمران خاندان کا سربراہ تھا اور اب کافی بوڑھا ہو چکا تھا، اس نے اپنے چار بیٹوں کو یرغمال کے طور پر سلطان کے پاس “ادرنے” محل میں بھیج دیا۔ ان میں سے تین تو بچپن میں ہی انتقال کر گئے، جبکہ اس کا چوتھا بیٹا “جارج کاسترو” زندہ رہا اور اس کی ہونہاری اور فراست نے بہت جلد سلطان کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ سلطان نے اسے “اسکندر بک” کا لقب دیا۔ یہ وہی سکندر بک ہے جو مستقبل میں عثمانی سلطنت کے لیے بڑی مصیبت کا باعث بنا، اور جب تک وہ زندہ رہا البانیا واپس عثمانیوں کے قبضے میں نہ آ سکا۔
اس دوران “تورحان بے”، جنہیں یونان کی فتح پر سلطان مراد نے مامور کیا تھا، انہوں نے “تھیسالی” کے علاقے پر حملہ کرتے ہوئے اسے فتح کر لیا، جس کے بعد سلطان نے انہیں یہاں کا گورنر مقرر کر دیا۔ “تورحان بے” نے یہاں 25 ہزار کی فوج جمع کی اور وہ موریہ کی جانب بڑھنے لگے۔ جلد “تورحان بے” جزیرہ نما موریہ میں داخل ہوئے اور یہاں ان کا سامنا مشرقی رومی سلطنت کے کمانڈر “تھیوڈوروز” سے ہوا جس کے پاس چھ ہزار کی فوج تھی۔ اسے تورحان بے نے زبردست شکست دی اور اس کے بعد وہ اسپاٹا کی جانب بڑھے اور اسپاٹا پر بھی حملہ کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔ یوں مشرقی رومی سلطنت کا موریہ سے تعلق بالکل منقطع ہو گیا۔ اب قسطنطنیہ کے شدید محاصرے، سالونیکا کے نقصان اور موریہ کی فتح نے بازنطینی سلطنت کو ایک بار پھر باور کروایا کہ ترک کس قدر طاقتور ہیں۔
اس دوران عثمانی فوجوں نے “سالونیکا” کا محاصرہ بدستور جاری رکھا ہوا تھا۔ شہنشاہ جان کے دورِ حکومت میں اس کا حاکم شہنشاہ کا بھائی “اینڈرونیکس” تھا، جس نے غداری کرتے ہوئے اس شہر کو وینس کے ہاتھوں فروخت کر دیا، اور وینس نے 50 ہزار دوکات کے عوض اس شہر کو خرید لیا۔ چونکہ یہ مقدونیہ کا ایک اہم ترین شہر تھا اور اس سے قبل تین بار ترکوں کے قبضے میں رہ چکا تھا، اس لیے سلطان مراد نے اس معاملے میں مخالفت کی اور 83 ہجری بمطابق 1430ء میں “سالونیکا” کو عثمانیوں نے بزورِ شمشیر فتح کر کے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا۔
وینس سے جنگ اور اتحادیوں کی شکست
یورپ میں امن و امان قائم کرنے کے بعد ادرنے میں سلطان کے دربار میں وینس کا ایک سفیر داخل ہوا اور اس نے سلطان سے اپنے پرانے معاہدوں کی تجدید کی درخواست کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سلطان کو سالانہ خراج پیش کرنے کی پیشکش بھی کی کہ اگر سلطان “سالونیکا” کو وینس کے حوالے کر دیں تو وہ سلطان کو سالانہ خراج ادا کرتے رہیں گے۔ سالونیکا جو ایک انتہائی اہم بندرگاہ تھی، سلطان نے اسے وینس کے حوالے کرنے سے بالکل انکار کر دیا، جس کے بعد عثمانیوں اور ونیشینز کے درمیان جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔
جلد “آندریا” کی کمان میں ونیشین بحریہ گیلی پولی میں داخل ہوئی، لیکن اس بحری بیڑے کو گیلی پولی میں موجود ترک ملاحوں نے زبردست شکست دی، اور یوں عثمانیوں نے وینس کے ساتھ اپنی پہلی شکست کا بدلہ لے لیا۔ اس شکست کے بعد وینس جان چکا تھا کہ وہ سلطنتِ عثمانیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے عثمانیوں سے نمٹنے کے لیے اتحادیوں کی تلاش شروع کر دی۔ جلد وینس ہنگری کے بادشاہ سجمنٹ کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوا اور اس نے پانچ سال کے لیے ہنگری کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے مطابق اگر وینس ترکوں کے ساتھ جنگ کرتا ہے تو ہنگری اس کی مالی اور فوجی مدد کرے گا۔ جلد ہنگری نے ولاچیا کے بادشاہ ڈین کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے ولاچیا کو اپنی جاگیر بنا لیا۔
جب سلطان مراد دوم کو یہ خبر ملی تو انہوں نے ڈین کے مقابلے میں “راڈو دوم” کی حمایت کی اور “راڈو” کو تخت سنبھالنے میں مدد کے لیے عثمانی فوجیں روانہ کیں۔ ادھر ہنگری نے بھی ڈین کی مدد کے لیے فوج بھیجی، لیکن فتح “راڈو” کو حاصل ہوئی۔ راڈو دوم نے ولاچیا کے تخت پر قبضہ کر لیا اور سلطان مراد کی بیعت کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی۔ لیکن ہنگری کے بادشاہ کو یہ قبول نہیں تھا کہ “راڈو” ولاچیا کے تخت پر بیٹھے، سو وہ خود ایک لشکر کے ساتھ ولاچیا آیا اور اس نے راڈو کا تختہ الٹتے ہوئے اپنے حامی ڈین کو تخت نشین کر دیا۔
830 ہجری بمطابق 1420 عیسوی میں سٹیفن لازارویچ، شاہِ سرویہ کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ “جارج برینکو ویچ”، جو اس کا بھتیجا تھا، تخت نشین ہوا۔ اسٹیفن لازار اس معاہدے کے مطابق جو “جنگِ کوسوو” کے بعد بایزید یلدرم سے کیا تھا، ہمیشہ سلطنتِ عثمانیہ کا وفادار رہا، اور اس نے اپنی بہن شہزادی ڈسپنہ کو سلطان بایزید کے نکاح میں دے کر اس تعلق کو اور مضبوط کر دیا تھا۔ لیکن جارج کا سلطان مراد کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہ تھا؛ اس نے تخت نشینی کے بعد سرویہ میں ترکوں کے اقتدار کی مخالفت شروع کر دی اور ترکوں کے خلاف ہنگری سے باہمی امداد کا معاہدہ کیا، اور دریائے ڈینیوب کے ساحل پر سمندریہ میں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کرایا۔ سلطان مراد نے جارج کے ارادوں سے واقف ہو کر اس قلعے کے گرانے کا مطالبہ کیا اور انکار پر جارج کے مقابلے کے لیے فوج کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔ جلد سرویہ کو عثمانیوں کے مقابلے میں شکست ہوئی اور یہاں عثمانی افواج کا قبضہ ہو گیا، اور 844 ہجری بمطابق 1440ء میں سرویہ مکمل طور پر ترکوں کے تسلط میں آ گیا تھا۔
ادھر اناطولیہ میں 1428ء کو کارامان قبیلے کے سردار ابراہیم بے نے بنو حمید کی زمینوں پر حملہ کرتے ہوئے عثمانی گورنر الیاس بے کو گرفتار کر لیا۔ یوں ایک جانب یورپ میں عثمانیوں کے خلاف عیسائی اٹھ کھڑے ہوئے تھے تو ادھر اناطولیہ میں ترک قبیلوں نے عثمانیوں کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ لیکن چونکہ یورپ کا مسئلہ اناطولیہ سے زیادہ اہم تھا، اس وجہ سے سلطان نے یورپ کو چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ ہنگری کے بادشاہ کو عثمانیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر واپس ہنگری پہنچا اور اس نے عثمانیوں کے ساتھ تین سالہ جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یوں اپنے اتحادی کی عبرت ناک شکست کے بعد سربیا کے نئے بادشاہ “برینکو ویچ” نے سلطان مراد کی بیعت کی، اور ولاچیا کے تخت پر بیٹھے بادشاہ “ڈین” نے بھی صورتحال سے مجبور ہو کر عثمانی سلطان کی بیعت کی اور خراج دینے کا وعدہ کیا۔ یوں وینس کے تمام اتحادیوں کو سلطان مراد دوم نے تنہا کر کے شکست دے دی تھی۔
نتیجہ
سلطان مراد دوم کے اس دور نے ثابت کیا کہ ایک طرف اناطولیہ میں بغاوتوں کو کچلتے ہوئے اور دوسری طرف یورپ میں بازنطینیوں، وینس، سربیا اور ہنگری جیسے دشمنوں سے نبرد آزما رہتے ہوئے بھی عثمانی سلطنت اپنی طاقت کو نہ صرف برقرار رکھ سکتی تھی بلکہ سالونیکا اور تھیسالی جیسی فتوحات سے اسے وسعت بھی دے سکتی تھی۔ سکندر بک جیسے کردار البانیہ میں مستقبل کے چیلنج کا اشارہ ضرور تھے، لیکن مجموعی طور پر سلطان مراد نے حکمتِ عملی اور صبر سے اپنے تمام مخالف اتحادیوں کو الگ الگ کر کے زیر کر لیا۔
History In Urdu