یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد اول کی وفات کے بعد بازنطینی شہنشاہ نے عثمانیوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کی، لیکن نوجوان سلطان مراد دوم نے یہ بغاوت کامیابی سے کچل دی۔ اس غداری سے برہم ہو کر سلطان نے 1422 عیسوی میں قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، جو عثمانیوں کی جانب سے اس شہر کا چھٹا محاصرہ تھا۔
بازنطینی سازش اور محاصرے کا پس منظر
1421 عیسوی میں "بازنطینی سلطنت" کے اس وقت کے شہنشاہ مینویل نے عثمانی سلطان "محمد اول" کی موت پر عثمانیوں کو آپس میں تخت کی خاطر لڑانے کے لیے اس نے "مصطفیٰ چلیبی" کو جو کہ سلطان بایزید یلدرم کا آخری بیٹا تھا، اسے فوج دے کر مرحوم سلطان" محمد اول" کے کم عمر بیٹے "شہزادے مراد دوم" کے خلاف روانہ کیا۔ شہنشاہ مینویل کہ اس اقدام سے سلطان مراد سخت برہم ہوئے۔ سلطان مراد نے اپنے چچا "مصطفیٰ چیلیبی" کی بغاوت کو کامیابی کے ساتھ کچل دیا اور اب سلطان مراد کی اس فتح سے رومی شہنشاہ کافی خوفزدہ تھا۔ رومی شہنشاہ کا خوفزدہ ہونا بنتا بھی تھا۔ کیونکہ سلطان مراد "بازنطینی شہنشاہ" کی اس طرح کی غداری سے بہت غصے میں تھے۔ سلطان سمجھ چکے تھے کہ جب تک قسطنطنیہ کو فتح نہیں کیا جا سکتا، رومی سلطنت عثمانیہ میں مداخلت کرتے رہیں گے۔ سو اب سلطان نے قسطنطنیہ کے محاصرے کی تیاری شروع کر لی تھی۔
رومی "شہنشاہ مینویل" یہ سوچتا تھا کہ عثمانیوں میں تخت کی خاطر لڑی جانے والی جنگیں جلد سلطنت عثمانیہ کو کمزور کر دیں گی، لیکن اس کا یہ سوچنا غلط ثابت ہوا۔ کیونکہ سلطان مراد نے اپنے چچا مصطفیٰ چیلیبی کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ میں بغیر خون بہائے اور بغیر کسی جانی نقصان کے انہوں نے اپنے چچا کو شکست دے کر سلطنت کو ایک بار پھر خانہ جنگی سے بچا لیا تھا۔ شہنشاہ مینویل جو کہ اس بڑی بغاوت کا سرغنہ تھا۔ وہ سلطان مراد کی وجہ سے خوفزدہ تھا۔ اس نے سلطان مراد کے غضب سے بچنے کے لئے اپنا سفارتی وفد سلطان مراد کے دربار میں بھیجا۔ تاہم "سلطان مراد" نے بازنطینی سفیروں کو تب تک ملنے کی اجازت نہ دی جب تک کہ انہوں نے قسنطنیہ پر حملے کی جنگی تیاری مکمل نہ کر لی, ان تمام جنگی تیاریوں کے بعد سلطان نے رومی سفیروں کو اپنے دربار میں آنے کی اجازت دے دی اور ان کے آنے کے بعد سلطان نے رومی سفیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ، ہم استنبول کی دیواروں کو شہنشاہ کے سر پر گرانے آرہے ہیں۔ یوں سلطان کے منہ سے نکلے والے ان جملوں کو سننے کے بعد رومی وفد کے پاؤں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ہو اور وہ خوفزدہ اور پریشان واپس قسطنطنیہ چلے گئے۔
قسطنطنیہ کے محاصرے کی تیاری اور آغاز
اس کے بعد 1422 عیسوی میں سلطان کے حکم پر عثمانی فوجیں حرکت میں آئیں۔ سلطان نے سب سے پہلے اپنے نئے وزیر "جاندار لی زادہ ابراہیم پاشا" کو فوج دے کر "تھیسالونیکا" کے محاصرے کے لیے اسے روانہ کیا۔ جبکہ اس کے بعد سلطان خود اپنی ذاتی فوج کے ساتھ قسطنطنیہ کے محاصرے کے لیے روانہ ہوئے ۔جس کے بعد اناطولیہ میں موجود آخری رومی شہر نیکو میڈیا پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا گیا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یونان میں مزید دو رومی قلعوں پر حملہ کرتے ہوئے عثمانی فوجوں نے انہیں بازنطینیوں سے چھین لیا۔
استمبول کے گرد و نواح پر حملے کے لیے سلطان نے 10 ہزار کا ایک لشکر اپنے عظیم اُچ بے سردار "میہائیل اوغلو محمد بے" کو یہ کام سونپا۔ "میہائیل اوغلو محمد بے" دراصل "میہائیل اُغلو" خاندان کے انتہائی اہم اور عظیم جنگجو تھے۔ جو کہ بلقان میں سلطنتِ عثمانیہ کی جانب سے "اُچ بے" یعنی کہ سردارِ اعلیٰ تھے۔ انہوں نے 1403 سے 1413 ء کے درمیان عثمانی سول وار میں انتہائی اہم کردار ادا کیا اور ان کے ہاتھوں بے شمار فتوحات ہوئیں. "میہائیل اوغلو محمد بے" نے مشرقی رومی سرزمینوں پر حملہ کرتے ہوئے بہت سے علاقوں پر عثمانی پرچم لہرایا۔
ان ابتدائی فتوحات کے بعد خود سلطان مراد خان اول اپنی فوج کے ساتھ استنبول کی جانب پیش قدمی کرنے لگے اور جلد انہوں نے استنبول کا محاصرہ شروع کر دیا۔ اس طرح قسطنطنیہ یعنی کہ استنبول کا عثمانیوں نے چھٹی بار محاصرہ شروع کیا تھا۔ قسطنطنیہ پر پہلے چار حملے سلطان با یزید یلدرم نے کیے اور پانچواں حملہ موسیٰ چلیبی نے کیا تھا۔
1422 عیسوی کے موسمِ میں گرما کی ایک خوبصورت صبح کو قسطنطنیہ کے شہری جب صبح کو بیدار ہوئے ،تو پورے رومن دارالحکومت میں چرچ کی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ اچانک ان گھنٹیوں کی آواز میں اللہ اکبر کی آوازوں نے خلل ڈالا۔ اس کے ساتھ ہی بڑے دھماکوں کی آوازوں سے زمین کانپ اٹھی ۔جب شہریوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تو عثمانی فوج اپنی پوری قوت کے ساتھ تھیوڑو سین دیواروں کے دروازوں پر پہنچ چکی تھی۔ 20 سال کی اندرونی کشمکش اور خانہ جنگیوں کے بعد قسطنطنیہ پر قبضہ کرنے کا عثمانی عزم دوبارہ پوری قوت اور شدت کے ساتھ شروع ہوا۔
محاصرے کی شدت اور دفاع
شہنشاہ قسطنطنیہ نے سلطان کے پاس امن اور صلح کے لیے ایک وفد بھیجا۔ لیکن سلطان نے اس وفد کو واپس بھیج دیا شہر کے باہر پوری زمین پر عثمانی فوج کا قبضہ تھا۔ جبکہ شہر کی فصیل سے کچھ فاصلے پر عثمانیوں نے خندقیں کھود ڈالی تھیں۔ اسی دوران سلطان کے حکم پر عثمانی توپوں نے شہر پر آگ برسانا شروع کر دی اور عثمانی فوج نے شہر کی دیواروں کے کمزور مقامات کو نشانہ بنایا۔ یوں تقریباً 63 دنوں تک عثمانی توپیں شہر پر آگ کی بارش برساتی رہیں۔
اس محاصرے کے دوران شہنشاہ مینویل جو کہ اس وقت بہت بوڑھا ہو گیا تھا اور وہ بیمار بھی تھا،اس نے اپنے تمام تر حکومتی معاملات اپنے بیٹے یوآنیس کے ہاتھ میں دے دیے تھے۔
اس محاصرے کے دوران ایک اور واقعہ پیش آیا جس نے عثمانی فوج کے حوصلوں کو بلند کر دیاتھا۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ عثمانی لشکر میں ایک بہت ہی قابل احترام شخصیت "امام شیخ بخاری" تشریف لائے۔ جو کہ ایک بہت ہی معزز مذہبی شخصیت تھے۔ شیخ بخاری اپنے ساتھ 500 طلباء بھی لائے جنہوں نے اس محاصرے میں حصہ لیا۔ وہ سفید گھوڑے پر سوار تھے اور اپنے قد اور چہرے پر نمایاں خصوصیات کی وجہ سے انہوں نے سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ انہوں نے پیشن گوئی کی کہ قسطنطنیہ 24 اگست کو فتح ہو جائے گا۔ شیخ بخاری کی اس پیشن گوئی سے عثمانی فوج کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور انہوں نے محاصرے میں مزید شدت دکھائی۔ جس کی وجہ سے رومیوں میں شدید مایوسی پیدا ہو گئی۔ شیخ بخاری نے چونکہ 24 اگست کو فتح کی خوشخبری سنائی تھی اس لیے عثمانی فوج نے 24 اگست کو عام حملہ کیا اور جلد عثمانی فوج قسطنطنیہ کی دیواروں کے نیچے پہنچ گئی۔ اس دوران شہنشاہ کا بیٹا یونیس مرکزی دروازے میں اپنے سپاہیوں کی کمان کر رہا تھا۔ اس نے اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ وہ اپنے مذہب اور وطن اور آزادی کے لیے عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔اس گھمسان کی جنگ میں عثمانی سپاہیوں کے منہ سے نکلنے والے "اللہ اکبر" کے نعروں سے رومیوں کے دل دہل رہے تھے۔ اس دن کی شام تک عثمانیوں نے دیوار پر چڑھنے کی کوشش کی جس پر رومیوں نے عثمانی سپاہیوں پر ابلتے ہوئے ،یونانی آگ، اور پتھر برسائے جس سے بے شمار عثمانی سپاہی شہید ہوئے۔ لیکن عثمانی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر وہ آگے بڑھتے رہے۔ عثمانیوں کے اس محاصرے کے دوران رومیوں نے جان کی بازی لگا دی تھی اور انہوں نے بہت اچھا دفاع کیا تھا ۔شام کوغروب آفتاب کے بعد عثمانی فوج اپنے کیمپ میں چلی گئی تھی۔ اس رات شہنشاہ مینویل نے سوچا کہ اس محاصرے کو ختم کرنے کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کرنا پڑے گا کیونکہ سلطان مراد نے شہنشاہ کی جانب سے امن کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔ سوشہنشاہ میںنویل نے جلد عثمانیوں کے محاصرے کو توڑنے کا حل نکال لیا۔
شہزادہ مصطفیٰ کی بغاوت اور محاصرے کا خاتمہ
وہ حل کارمان قبیلے کے دارالحکومت "قونیہ" میں موجود ایک عثمانی شہزادہ مصطفیٰ چلیلیبی تھا۔ یہ "مصطفیٰ چلیلیبی" دراصل سلطان مراد دوم کا سوتیلا بھائی تھا۔ جب سلطان محمد اول کا انتقال ہوا تو "مصطفیٰ چلیلیبی" جو کہ مراد دوم کا سوتیلا بھائی تھا۔ وہ اس وقت کارمان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ میں موجود تھا اور "قونیہ" میں آنے کا اس کا مقصداپنی جان بچانا تھا۔ کیونکہ اسے خوف تھا کہ تخت نشین ہونے کے بعد اس کا بھائی مراد دوم اسے جان سے مار دے گا۔ اب جب کہ سلطان مراد دوم عثمانی سلطنت کے واحد سلطان بن چکے تھے اور انہوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو شہنشاہ نے جلد اپنے سفیروں کو "مصطفیٰ چیلیبی"کے سرپرست "الیاس بے" کے پاس بہت سا سونا دے کر بھیجا اور اس نے مزید انعام سے نوازنے کا وعدہ کیا اور اسے اس بات پر امادہ کر لیا کہ وہ "مصطفیٰ چیلیبی" کو سلطان مراد دوم کے خلاف بغاوت پر اکسائے اور اناطولیہ میں خود کے سلطان ہونے کا دعویٰ کرے اور اس نے یقین دلایا کہ اناطولیہ میں موجود تمام ترک قبیلے اس کی حمایت کریں گے۔ الیاس بے کے لیے شہزادے کو راضی کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں تھا۔ کیونکہ اسے اس بات کا بخوبی اندازہ تھا، کہ اگر سلطان مراد کی جگہ پر مصطفیٰ چیلیبی عثمانی سلطان بن جاتا ہے تو اسے کس قدر مال و دولت اور نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اس دوران کا رامان اور گرمیان قبیلے نے بھی شہزادے مصطفیٰ کی حمایت کے لیے فوجیں بھیجیں اور جلد شہزادے مصطفیٰ نے اپنے پاس جمع شدہ افواج کے ساتھ اس نے بورصہ شہر کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے، کیونکہ ایک ہی نام کے دو مختلف شہزادے سامنے آتے ہیں۔ پہلے بغاوت کرنے والا مصطفیٰ دراصل سلطان بایزید یلدرم کا بیٹا تھا، جبکہ یہ کم عمر بغاوت کرنے والا شہزادہ مصطفیٰ سلطان بایزید یلدرم کا پوتا تھا۔ اسی لیے مؤرخین الجھن سے بچنے کے لیے اسے "لٹل مصطفیٰ" یعنی چھوٹا مصطفیٰ کہتے ہیں۔ چنانچہ پہلے سلطان مراد دوم نے اپنے چچا مصطفیٰ چیلیبی کی بغاوت کو کچلا تھا، اور اب ان کے سوتیلے بھائی چھوٹے مصطفیٰ چیلیبی نے ان کے خلاف بغاوت کی تھی۔
جب "مصطفیٰ چیلیبی" نے خود کے سلطان ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ تو اس وقت اس نے اپنے سرپرست الیاس کو اپنا وزیر بنا دیا اس میں کوئی شک اور کوئی دو رائے نہیں کہ چھوٹے شہزادے مصطفی کا یہ مفاد پرست، سرپرست اور وزیر الیاس اپنے مفادات اور عزائم کی خاطر اس نے شہزادے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ اس دوران شہزادہ مصطفیٰ بورصہ شہر پہنچا اور اس نے سلطان مراد کے وفاداروں سے شہر کی کنجیاں مانگیں۔ لیکن انہوں نے سلطان مراد سے وفاداری کی قسم اٹھائی ہوئی تھی۔ سو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بورصہ کی چابیاں نہیں دے سکتے اور ایسا کرنے سے انہوں نے معذرت کرلیجس کے بعد انہوں نے محاصرہ اٹھا لیا اور یوں یہ باغی گرہ "ازنیک شہر" کی جانب کوچ کرنے لگا۔ یہاں ازنیک شہر میں "مصطفیٰ چیلیبی"کے خلاف اہل شہر نے مزاحمت کی اور 40 دن تک محاصرہ جاری رہا بالاخر مصطفیٰ نے یہ شہر فتح کر لیا اور اس نے یہاں اپنے سلطان ہونے کا اعلان کیا۔
اس دوران جبکہ اناطولیہ میں بغاوت ہو گئی تھی۔ بازنطینی شہنشاہ مینویل نے سلطان مراد کے دو اور بھائیوں محمود اور یوسف کو آزاد کرتے ہوئے انہیں اناطولیہ بھیج دیا تاکہ عثمانی سلطنت میں مزید خانہ جنگی کو ہوا دی جا سکے۔ اس دوران اناطولیہ میں جنید بے نے سمرنا پر حملہ کرتے ہوئے یہاں قبضہ کر لیا اور اس نے بنو ایدین سلطنت کو دوبارہ قائم کر لیا۔
اُدھر سلطان مراد "قسطنطنیہ" کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ اچانک ایک قاصد اناطولیہ سے سلطان کے خیمے میں داخل ہوا اور اس نے سلطان کو خبر دی کہ اپ کے سوتیلے چھوٹے بھائی مصطفیٰ نے بغاوت کرتے ہوئے اناطولیہ میں اپنی حکومت قائم کر لی ہے۔ یوں محاصرے کے انتہائی عروج پر ملنے والی اس خبر نے سلطان مراد کو مکمل طور پر توڑ دیا تھا۔ اس خبر کے ملنے کے بعد اگلے روز سلطان نے قسطنطنیہ کا محاصرہ ختم کر دیا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ میں اپنے باغی بھائی کی بغاوت کو کچلنے کے لیے گیلی پولی کے لئے روانہ ہوئے۔ اس دوران سلطان نے ایک چال چلی سلطان نے کیا کچھ یوں کہ "مصطفیٰ چیلیبی" کے وزیر الیاس کے پاس سلطان نے اپنا قاصد بھیجا اور اسے اناطولیائی بیلر بے مقررکرتے ہوئے سلطان نے "الیاس بے" سے یہ مطالبہ کیا کہ میرے ازنیق شہر پہنچنے تک تم شہزاد مصطفیٰ کو مصروف رکھو گے اور اسے بھاگنے نہیں دو گے۔ الیاس بے نے فوری طور پر شہزادے مصطفیٰ کچھ چھوڑ کر وہ سلطان مراد سے جا ملا اور اس بار بھی اس نے اپنا پہلو بدلنے میں ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ اس سے جو کچھ سلطان مراد کے لیے ہو سکتا تھا اس نے وہ کیا۔ سلطان برق رفتاری کے ساتھ ازنیک شہر جا پہنچے اور تمام رات سفر کرتے رہے،اور صبح کو انہوں نے حملہ کر دیا اس وقت "مصطفیٰ چیلیبی" حمام میں تھا۔کہ"مصطفیٰ چیلیبی"کے وزیر الیاس نے شہزادے کو پکڑ کر سلطان مراد دوم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلطان بغیر وقت ضائع کیے شہزاد مصطفیٰ کا گلا گھونٹ کر اسکا کام تمام کر دیا اور اس کی لاش کو بورصہ روانہ کیا، جہاں سلطان نے اپنے والد محمد کی قبر کے پاس اسے دفن کیا یوں سلطان مراد دوم نے اپنے چچا مصطفیٰ کے مقابلے میں اپنے سوتیلے بھائی مصطفیٰ کی بغاوت کو بڑی آسانی کے ساتھ ختم کر دیا تھا۔
نتیجہ
یوں سلطان مراد دوم نے پہلے اپنے چچا اور پھر اپنے سوتیلے بھائی کی بغاوت کو بڑی مہارت کے ساتھ ختم کیا۔ اگرچہ اندرونی بغاوت کی وجہ سے قسطنطنیہ کا محاصرہ اٹھانا پڑا، لیکن سلطان نے سلطنت کو خانہ جنگی سے بچا کر اپنے اقتدار کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر لیا۔
History In Urdu