Sultan Murad II (Part 1): The Revolt of Prince Mustafa (1421)

Sultan Murad II (Part 1): The Revolt of Prince Mustafa (1421)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان محمد اول کی اچانک وفات کے بعد ان کے نوجوان بیٹے مراد دوم کو محض اٹھارہ برس کی عمر میں عثمانی تخت سنبھالنا پڑا۔ ابھی وہ اقتدار سنبھال ہی رہے تھے کہ ان کے چچا شہزادہ مصطفیٰ چیلیبی نے بازنطینی شہنشاہ مینویل کی مدد سے تخت کے لیے بغاوت کر دی۔ یہ تحریر 1421ء میں اٹھنے والی اسی بغاوت اور اس کے انجام کی کہانی بیان کرتی ہے۔

1421ء کے موسم میں بہار میں بورصہ کے سر سبز جنگلات کے قریب "سلطان محمد اول" شکار کی ایک مہم پر تھے، کہ اس دوران 45 سالہ عثمانی سلطان محمد اول اپنے گھوڑے سے گرکر وہ شدید زخمی ہوے اور اس دوران ہی انہیں فالج پڑ گیا۔

سلطان محمد اول کی وفات اور مراد دوم کی تخت نشینی

جب سلطان "محمد اول" ادر نے شہر میں بستر مرگ پر تھے۔ تو انہوں نے فوراً ایک قاصد بھیج کر اپنے بیٹے "شہزادے مراد" کو اماسیہ سے اپنے پاس بلایا، تاکہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے مراد کو تخت نشین کر دیں۔ لیکن شہزادے مراد کے دارالحکومت میں پہنچنے سے پہلے ہی 26 مئی 1421ء کو پانچویں عثمانی سلطان "محمد اول" کی موت واقع ہو گئی۔

یوں عثمانی سلطان محمد اول جنہوں نے گزشتہ 20 سالوں میں 24 جنگیں لڑی اور ان جنگوں کے دوران انہیں 40 سے زیادہ زخم آئے۔ وہ اپنے بیٹے کی آمد سے پہلے ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ سلطان کی موت کے بعد ان کے وزیر بایزید اور ان کے ذاتی عملے نے تقریباً 42 دنوں تک انہوں نے سلطان کی موت کو خفیہ رکھا۔ اور شہزادے کے ادرن شہر پہنچنے تک انہوں نے سلطان کی موت کی خبر کسی کو نہ دی اور

شہزادے مراد کے بورصہ شہر پہنچنے پر جون 1421ء کو انہیں چھٹے عثمانی سلطان کے طور پر تخت نشین کیا گیا۔

تخت نشین ہونے کے بعد سلطان مراد نے اپنے والد محمد اول کی لاش کو بورصہ شہر میں سابق عثمانی سلاطین کے پہلو میں انہیں سپرد خاک کیا۔

جب "مراد دوم" تخت نشین ہوئے تو اس وقت ان کی عمر صرف 18 سال تھی۔ تخت نشین ہونے کے بعد سلطان مراد کی ہمسائی ریاستوں میں ان کی تخت نشینی کا اعلان کیا گیا اور ان میں سے بہت سی ریاستوں کے ساتھ نئے معاہدے کیے گئے۔ اس دوران جبکہ شہزادہ مراد اب عثمانی سلطان بن چکا تھا۔ مشرقی رومی سلطنت کا سفیر سلطان مراد دوم کو مبارک باد دینے کے لیے بورصہ شہر پہنچا۔ اوررومی سفیر نےنئے عثمانی سلطان کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ زمین حاصل کرنا چاہیں، لیکن سلطان نے سختی کے ساتھ رومی سفیر کو روکا اور اسے اپنے دربار سے نکال باہر کیا۔

شہزادہ مصطفیٰ چیلیبی کی بغاوت

اب چونکہ سلطان مراد کا چچا اور ان کے والد محمد اول کا بھائی مصطفی چیلیبی قسطنطنیہ میں بازنطینی شہنشاہ "مینویل" کے پاس موجود تھا اس لیے سلطان مراد کو اس چیز کا ڈر تھا کہ ان کے خلاف شہنشاہ مینویل ان کے چچا کو فوج دے کر بغاوت پرکروائے گا۔ اور یوں سلطنت ایک بار پھر خانہ جنگی میں پھنس جائے گی۔

سو ایسا ہی ہوا شہنشاہ میںویل نے نئے عثمانی سلطان کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس نے شہزادے مصطفیٰ چلیبی کو اپنے گورنر "لاسکریس" کے ساتھ بحر ایجین میں موجود اپنے ایک جزیرے میں بھیجا جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں رومی سپاہی باغی عثمانی شہزادے مصطفیٰ کی کمان میں جمع کیے گئے۔ لیکن اس بغاوت سے پہلے شہنشاہ مینویل نے مصطفیٰ چیلیبی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ وہ معاہدہ یہ تھا کہ اگر مصطفیٰ چیلیبی رومی سپاہیوں کے ساتھ اپنے بھتیجے "مراد دور" سے تخت حاصل کر لیتا ہے۔ تو وہ بدلے میں شہنشاہ مینویل کو بحیرہ اسود اور بحیر ایجین اور بحر مارمرا کی تمام ساحلی پٹی رومیوں کو دے دے گا۔ مصطفیٰ بی نے شہنشاہ کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیا اور وہ عثمانی تخت حاصل کرنے کے لیے رومی فوج کے ساتھ بحیر ایجین کے جزیرے سے نکلا۔اس دوران وہ رومی جہازوں پر سوار ہوا اور گیلی پولی کے ساحل پر اترا۔ گیلی پولی پہنچنے کے بعد گیلی پولی قلعے کے محافظ اور آس پاس کے لوگوں نے فوری طور پر مصطفیٰ چیلیبی کے ساتھ اپنی اطاعت اور وفاداری کا وعدہ کرتے ہوئے اسے نئے عثمانی سلطان کے طور پر خوش آمدید کہا اور جلد مصطفیٰ فتوحات حاصل کرتا ہوا دارالحکومت "ادر نے" شہر جا پہنچا۔ اس دوران رومی فوج کے علاوہ بہت سے ترک سپاہی اور کمانڈر مصطفیٰ کے پاس چلے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت کم عرصے میں مصطفیٰ چیلیبی نے یورپ کے تمام عثمانی علاقوں پر قبضہ کر لیا اس تیز رفتار کامیابی کی ایک اور بڑی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں عثمانی فوج کا زیادہ تر حصہ سلطان محمد اول کی وفات کے بعد ان کے بھائی ہونے کے ناطے مصطفیٰ کا طرفدار ہو گیا تھا اور چونکہ اب سلطان مراد کم عمر تھے اس لیے انہوں نے مصطفیٰ چلیبی کو عثمانی تخت پر دیکھنا زیادہ پسند کیا۔ کیونکہ وہ کم عمر شہزادے مراد کو تخت کے لائق نہیں سمجھتے تھے اور اب چونکہ مصطفیٰ چیلیبی ایک تو سلطان بایزید یلدرم کا بیٹا تھا اور دوسرا وہ ایک تجربے کار بوڑھا تُرک تھا اور اسی لیے یورپ میں موجود ترک سپاہ مصطفیٰ کی طرف دار ہوگئی۔

اس دوران جبکہ یورپ میں مصطفیٰ نے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا سلطان مراد اول اس وقت پرانے دارالحکومت بورصہ شہر میں موجود تھے۔ جب انہیں یہ خبر ملی تو انہوں نے جلد 30 ہزارکا ایک لشکر اپنے وزیر بایزید کی سرکردگی میں یورپ میں اپنے چچا مصطفیٰ کے خلاف روانہ کیا۔ یورپ میں بایزید کی فوج ادر نے شہر کے قریب مصطفیٰ چلیبی کی فوج کے آمنے سامنے ہوئی ،اس جنگ میں شہزادے مراد کا عظیم وزیر بایزید پاشا باغی فوج کے ہاتھوں مارا گیا۔

کارامان کی بغاوت اور مصطفیٰ کا زوال

اس دوران جب کہ سلطنت عثمانیہ میں پھر سے ایک بار تخت کی جنگ شروع ہو گئی تھی کارامان قبیلے نے اپنی پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے سلطان مراد کے خلاف بغاوت کر دی اور اس نے "اک شہر" اور "بے شہر" پر حملہ کر کے اسے کارامان قبیلے میں شامل کر لیا۔

ادھر رومیلیا میں فتح کے بعد جب باغی شہزادہ مصطفیٰ تخت نشین ہوا تو بازنطینی شہنشاہ مینویل کا سفیر عثمانی دربار میں مصطفیٰ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے اپنے گزشتہ معاہدے کے تحت جلد بحیر اسود اور گیلی پولی کی ساحلی پٹی رومیوں کے حوالے کرنے کا معاہدہ یاد دلایا لیکن مصطفی اپنے اس وعدے سے بالکل مکر گیا اور اس نے یہ تمام علاقے جو کہ اس نے معاہدے کے تحت شہنشاہ مینویل کے کو دینے تھے اس نے وہ علاقے دینے سے صاف صاف انکار کر دیا۔

اس کے بعد مصطفی نے اناطولیہ میں باقی عثمانی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ روانہ ہوا اور یوں جنوری 1422 عیسوی کو مصطفیٰ کی 17 ہزار پر مشتمل فوج نے پرانے عثمانی شہر بورصہ کا محاصرہ شروع کر دیا ۔لیکن مصطفیٰ کا یہ اقدم اس کی فوج کو ناراض کرنے کے لیے کافی تھا۔ کیوں کہ اس کا کیپی کولو دستہ اناطولیہ میں لڑنے کی بجائے وہ بلکان میں تعینات رہنا چاہتا تھا۔ اس دوران باغی سلطان مصطفی کو ایک اور جھٹکا تب لگا جب اس کا حامی ترک سردار جنید بے اسے چھوڑ کر سمرنا میں اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنے سپاہیوں کے ساتھ وہاں چلا گیا۔ یوں جنید بے کے چھوڑنے اور اس کے کیپیکولو دستے کی ناراضگی اور اس کے علاوہ رومی شہنشاہ مینویل کی جانب سے فوجی اور مالی امداد سے محرومی باغی شہزادے مصطفیٰ کی شکست کے لیے کافی تھی۔ جلد مصطفیٰ کو اس محاصرے میں ناکامی ہوئی اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ لیکن سلطان مراد نے اس کا تعاقب نہ چھوڑا اور اس کا سخت ترین تعاقب شروع کر دیا اور اس پسپائی کے دوران مصطفیٰ نے اپنی تقریباً پوری فوج جو کہ وہ یورپ سے مراد دوم کے مقابلے کے لیے لایا تھا وہ یا تو ختم ہو گئی یا اس نے سلطان مراد کی فوج میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

مصطفیٰ کی گرفتاری اور انجام

باغی شہزادہ مصطفیٰ جلد یورپ میں "ادر نے" شہر پہنچا تاکہ وہ وہاں مراد کے خلاف کچھ فوج جمع کر سکے۔ لیکن سلطان مراد برق رفتاری کے ساتھ اس کا تعاقب کیے ہوئے تھے۔یورپ میں پہنچنے کے بعد مصطفیٰ اپنے چند خاص آدمیوں کے ساتھ ولاچیا کی جانب بھاگنے لگا، لیکن سلطان مراد کے گھڑ سواروں نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے انہوں نے باغی شہزادے مصطفیٰ کو گرفتار کر لیا اور سلطان مراد دوم نے بغیر وقت ضائع کیے اپنے والد سلطان "محمد اول" کے بھائی اور اپنے دادا "سلطان بایزید یلدرم" کے بیٹے مصطفی کو پھانسی دے دی۔ یوں سلطان بایزید یلدرم کا یہ آخری بیٹا بھی تخت کی جنگ میں مارا گیا۔

نتیجہ

یوں اٹھارہ سالہ نوجوان سلطان مراد دوم نے تخت نشینی کے فوراً بعد اپنے چچا مصطفیٰ چیلیبی کی بغاوت کا کامیابی سے سامنا کیا۔ رومی شہنشاہ مینویل کی پشت پناہی کے باوجود مصطفیٰ کو شکست ہوئی اور سلطان مراد نے اپنی گرفت مضبوط کر کے سلطنتِ عثمانیہ کو ایک اور خانہ جنگی سے بچا لیا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms