یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان مراد اول کی قیادت میں عثمانی اناطولیہ کا طاقتور ترین ترک خاندان بن چکے تھے اور یورپ میں سلطان مراد نے بلقان میں مزید فتوحات حاصل کیں۔ یہ مضمون سلطنت عثمانیہ کے جلالی سلطان مراد اول کی زندگی کے آخری چند سالوں اور ان کی زندگی کی آخری جنگ "جنگِ کوسوو" کے بارے میں ہے، جس کے اختتام پر عظیم جلالی سلطان مراد اول شہید ہوئے تھے۔
پس منظر: سربیائی بغاوت اور یورپی اتحاد
1387ءمیں اناطولیہ میں موجود کارامانی قبیلے کو شکست دینے کے بعداناطولیہ میں عثمانی سلطنت ایک اہم طاقتور ترین سلطنت بن چکی تھی اور اس کا سہرا سلطان مراد اول کے سر تھا۔ کرمان قبیلے کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد جب سلطان مراد بورسہ شہر پہنچے تو انہیں یورپ میں اپنے سربیائی جاگیرداروں کی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا جو کہ قونیہ کی جنگ میں سلطان مراد اول کے ساتھ تھے۔
یوں تو یورپ میں اس وقت 790 ہجری بمطابق 1388 عیسوی تک تقریبا ًتمام قدیم تھریس اور جدید رومیلیہ سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو چکا تھا ۔اس کے علاوہ بعض دوسری اہم فتوحات بھی حاصل ہو چکی تھی۔ ان علاقوں میں ترک اور عرب نو آبادیاں قائم کر دی گئی تھیں اور وہاں کے اکثر باشندے دوسرے مقامات کو منتقل کر دیے گئے تھے ان نو آبادیوں نے عیسائیوں میں ایک عام بے چینی پیدا کر دی ۔ینی چری کے لیے ہر سال ایک ہزار عیسائی لڑکوں کے مطالبے سے اس بے چینی میں برہمی بھی شامل ہوگئی۔ ترکوں کے خلاف غصے کا جذبہ پورے جوش کے ساتھ موجود تھا ۔اسے مشتعل کرنے کے لیے جس چنگاڑی کی ضرورت تھی وہ بھی جنگ قونیہ کے بعد ہاتھ آگئی تھی۔
اس جنگ میں عثمانی فوج کے ساتھ سربیا کے دو ہزار سپاہی بھی شریک تھے ۔جو سابق معاہدے کی رو سے طلب کیے گئے تھے۔ کوچ سے پہلے ہی سلطان مراد نے فوج میں عام اعلان کرا دیا تھا ۔کہ کرمانیہ کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد بھی ریاست کے عام باشندوں کی جان و مال کو ہرگز کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے اور جو شخص اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا۔ لیکن سربیائی سپاہیوں نے جو یورپ کے دستور کے مطابق دشمن کے ملک میں پہنچ کر ہر قسم کی غارت گری کو بالکل جائز خیال کرتے تھے۔ اس حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا اور راستے میں نہایت وحشیانہ طریقے پر لوٹ مار شروع کر دی تھی۔ سلطان مراد نے ان کی اس حرکت پر کچھ کو تو سخت ترین سزائیں دی اور بازوں کو قتل بھی کر ادیا۔ سلطان مراد کا یہ فعل فوجی قانون کی روح سے بالکل جائز تھا۔ لیکن اہل سرویہ کے لیے یہ سخت اشتعال کا باعث بنا۔
جبکہ اسی سال 20 ہزار کی عثمانی فوج "تیمور تاش پاشا" کی کمان میں سربیا کےبادشاہ لازار کے خلاف سرحد کی جانب روانہ ہوئی جس کے مقابلے کے لیے لازار نے 30 ہزار کی ایک فوج کو جمع کیا اور دریائے ڈینیوب کے دامن میں موجود ایک وادی میں ترکوں اور سربوں کی آپس میں جنگ ہوئی ،جس میں ترکوں کو بری طرح شکست ہوئی اور چند ایک ہی ترک سپاہی زندہ جان بچا کر واپس پہنچ سکے۔ترکوں کی شکست سے حوصلہ پا کر اہل یورپ نے اب عثمانیوں کے خلاف متحد ہونے کا فیصلہ کیا ۔لازار شاہ نے سلطان مراد اول کو سالانہ خراج دینے سے انکار کرتے ہوئے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔ اس دوران سلطان مراد اول کو ایک اور حادثے سے دوچار ہونا پڑا۔ سلطان مراد کے قابل اعتماد عظیم الشان عثمانی وزیر جاندار لی خلیل پاشاہ وفات پا گئے تھے، سو اہل یورپ کے خلاف جنگ لڑنے سے پہلے سلطان مراد اول نے ادرنے شہر میں جاندار لی خلیل پاشا کے بیٹے جاندار لی علی پاشا کو نیا وزیراعظم منتخب کیا۔
اس دوران اپنے عقب کو محفوظ کرنے کے لیے سربیائی شہزادے لازار نے ہینگری کے بادشاہ سیکزمنٹ کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تاکہ وہ اپنی سرحد کو ہنگری کے ساتھ محفوظ کرتے ہوئے عثمانیوں کے خلاف کھل کر جنگ لڑ سکے۔ اس معاہدے کے بعد اس نے باقی عیسائی ریاستوں کے ساتھ اتحاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ جب سلطان مراد اول نے دیکھا کہ اہل یورپ مل کر اس کے خلاف ایک اتحاد کرنے جا رہے ہیں۔ تو 1388 عیسوی کے موسم بہار کے دوران سلطان مراد نے اپنی فوجوں کوروانگی کا حکم دیا۔ سلطان کا یہ حملہ دو طرفہ حملہ تھا۔
بلغاریہ کی مہم
سلطان نے سب سے پہلے اپنی باج گزار ریاست بلغاریہ کے حکمران ایوان ششمان کے خلاف اپنے لشکر کو روانہ کیا جس کے بارے میں یہ افواہ تھی کہ اس نے لازار کے اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور وہ اب عثمانیوں کے خلاف تلوار اٹھائے گا ۔جبکہ سلطان مراد کا دوسرا بڑا حملہ براہ راست سربیا کے شہزادے لازار کے خلاف تھا۔
سلطان مراد کے پہلے لشکر کی قیادت عثمانی وزیر جاندار لی علی پاشا کے ہاتھ میں تھی۔ 1388 عیسوی کے آخر میں وہ اپنے 30 ہزار مضبوط عثمانی لشکر کے ساتھ سلطان مراد کے حکم سے بلقان کے پہاڑوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے برق رفتاری کے ساتھ شمالی بلغاریہ کے میدانوں میں اترے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے بلغاریہ کے تین اہم شہروں پر حملہ کر کے انہیں فتح کر لیا۔ بلغاریہ کا شہنشاہ ایوان ششمان عثمانیوں کے حیرت انگیز حملوں سے گھبرا اٹھا اور وہ جان بچاتا ہوا اپنے دارالحکومت "ترنوا" سے نکل کر نیکوپولس کے قریب ڈینیوب قلعے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ جہاں اس نے عثمانی لشکر کے خلاف جنگی تیاری شروع کی۔ لیکن عثمانی وزیر جاندار لی علی پاشاہ کے برق رفتار حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے شمار بلغاریائی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔ان ہتھیار ڈالنے والے شہروں میں سے چیروین، شومن، وینچن، سویش توف اور او وچ کے فوجی دستے شامل تھے ۔
یوں مشرقی بلغاریہ کے بڑے حصے کو فتح کرنے کے بعد علی پاشا کی افواج مغرب کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئےانہوں نے نیکوپولس قلعے کا محاصرہ کر لیا ۔جہاں "ایوان شیشمان" اپنی بچی کچی فوج کے ساتھ عثمانی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے لگا ،تاہم یہاں کچھ عرصہ محاصرہ جاری رہنے کے بعد علی پاشا سمجھ گئے کہ وہ اپنے مختصر سی فوج کے ساتھ نائیکوپولس کو فتح نہیں کر سکتے اس لیے انہوں نے مزید فوجی کمک کے لیے دارالحکومت ادر نہ سلطان مراد اول کو خط لکھا۔
جب بلغاریائی شہنشاہ ایوان شیشمان کو معلوم ہوا کہ مزید عثمانی فوج اس کے مقابلے کے لیے ادرنہ سے آنے والی ہے تو اس نے یہ دیکھتے ہوئے اور اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے اس نے عثمانی سلطان مراد اول کے ساتھ مذاکرات شروع کیے اور کچھ دنوں کے بعد یہ مذاکرات کامیاب رہے اور ایک نیا معاہدہ کیا گیا جس کے تحت ایوان ششمان نے مکمل طور پر عثمانی سلطنت کا باج گزار ہونا قبول کیا اور اس نے معاہدے کے تحت تین اہم ترین قلعے سلطان مراد کے حوالے کر دیے اور اس نے سلطان مراد کو یہ یقین دلایا اور وعدہ کیا کہ وہ لازار کے فوجی اتحاد میں شامل نہیں ہوگا ۔یوں اس فتح کے بعد اب بلغاریہ کے پاس سوائے ترنوا اور نیکوپولس کے چند ایک چھوٹے چھوٹے قلعے ہی باقی بچے تھے۔
کوسوو کے میدان کی تیاری
اس پہلی کامیاب فوجی مہم کے بعد سلطان مراد نے یورپ میں اپنی فوجوں کو جمع ہونے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ انہوں نے اناطولیہ میں موجود ترک قبائل جن میں سے گرمیان ،کارامان، بنو حمید، بنو جاندار، بنو رمضان ،اور باقی کے ترک قبائل سے فوجی مدد مانگی اور جلد ان ترک قبائل نے کفار کے خلاف فتح کے لیے اپنے مجاہدین کو اناطولیہ میں سلطان مراد کے پاس روانہ کیا۔
1389 ءمیں بوڑھا ترک فاتح سلطان مراد اپنی فوج کے ساتھ پلو دیو شہر میں داخل ہوا اور انہوں نے اناطولیہ میں اپنے بیٹے بایزید اور یعقوب کو خط بھیجے تاکہ وہ اپنی فوجوں کے ساتھ اناطولیہ میں اپنے باپ کی فوج کے ساتھ شامل ہو جائیں ۔اسی سال یعنی کہ 1389ء کے موسم بہار کے دوران تقریبا 40 ہزار کا ایک عثمانی لشکر پلو دیو شہر میں جمع ہو چکا تھا۔ اس دوران سر بیائی شہزادہ لازار غافل نہیں بیٹھا ہوا تھا ۔اس نے بھی عثمانیوں کے خلاف اپنی جنگی تیاریوں کو تیز کیا ۔
عیسائیوں کے اس لشکر میں بوسنیا، ہینگری، البانیا، ولاچیا اور یہاں تک کہ نائٹس ہاسپٹلرز کا ایک چھوٹا سا دستہ بھی اس عیسائی اتحاد میں شامل تھا۔ جون کے پہلے ہفتے لازار کے ما تحت عیسائی اتحادی فوج عثمانیوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے جنوب کی جانب اس نے پیش قدمی شروع کی اور 15 جون 1389 ء کو "کوسوا"کے میدان میں لازار اورعثمانی سلطان مراد اول کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔
رات کے وقت سلطان مراد نے اپنی جنگی کونسل کو جمع کیا اور انہوں نے جاندار لی علی پاشا، شہزاد بایزید،تجربے کار عثمانی کمانڈر تیمور تاش پاشااور غازی ایورینوس بے، کے ساتھ مل کر جنگی منصوبہ تیار کیا۔ اس رات سلطان مراد اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر مجاہدین کی نصرت کے لیے اللہ سے دعائیں مانگتے رہے۔سلطان مراد کی عمر اس وقت اگرچہ 70 سال ہو چکی تھی ۔لیکن اس بڑھاپے میں بھی سلطان مراد دشمن کو شکست دینے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ میدان میں موجود تھے۔
جنگِ کوسوو کا آغاز
میدان جنگ میں عثمانی فوج کے سب سے آگے ہزار کی تعداد میں تیر اندازوں کا دستہ موجود تھا جو دونوں فوجوں کے درمیان دفاعی پوزیشن میں کھڑا تھا ان کے پیچھے پیادہ فوج کھڑی تھی ،جو بنیادی طور پر عثمانیوں کی بے قاعدہ لائٹ انفنٹری یونٹ تھی ،جنہیں اناطولیہ سے بھرتی کیا گیا تھا ۔جبکہ اس سے مزید پیچھے عثمانی گھڑ سوار دستہ کھڑا تھا، جو کہ زیادہ تر اکنجیوں پر مشتمل تھا ۔عثمانی لشکر کے دائیں پہلو پر شہزادہ بایزید جبکہ بائیں پر شہزادہ یعقوب کمانڈ کر رہا تھا ۔ خود جلالی سلطان مراد اول اور عثمانی وزیر جاندار لی علی پاشا عثمانی مرکز کی کمان کر رہے تھے۔
اس جنگ میں اگرچہ سلطان مراد کے پاس عیسائیوں کی نسبت تعداد زیادہ تھی، لیکن عثمانی ترکوں کے مقابلے میں اہل یورپ کے لشکر کی قوت عثمانیوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور بہتر تھی، عیسائی فوج بہترین اسلحے سے لیس تھی ،سربیا کے ہر اول دستے میں نیزہ بردار نائٹس اور گھڑ سوار تیر انداز دستے شامل تھے۔ جبکہ ان کے پیچھے پیدل انفینٹری دسے تھے جو کہ شہنشاہ لازار کے اتحادیوں کے دسے تھے، لازار شاہ خود لشکر کے مرکز کی کمان کر رہا تھا۔ جبکہ بوسنیا کا گرینڈ ڈیوک" ولا ٹکو وکوچ" اور" ووک برینکو وچ" کو بالترتیب سرویہ کے بائیں اور دائیں بازو پر کمان دی گئی تھی۔
جنگ کا آغاز عثمانیوں کی جانب سے ہوا ،سلطان مراد کے حکم پر گھڑسوار دستے حرکت میں آئے اور انہوں نے اپنے کیمپ سے نکل کر دشمن کی فوج پر حملہ کر دیا ۔اس ابتدائی حملے میں دونوں جانب حساب برابر تھا۔ یوں چند ایک عیسائی سپاہیوں کو ختم کرنے کے بعد عثمانی گھڑ سوار دستہ واپس اپنے لشکر میں آگیا۔
جس پر لازار نے اپنے ہر اول دستے کو پوری طاقت کے ساتھ عثمانیوں سے ٹکرانے کا حکم دیا۔
جب سرویہ کے گھڑسوار نائٹس دستے عثمانیوں کی جانب بڑھے تو عثمانی تیر اندازوں نے دفاعی پوزیشن کو سنبھالتے ہوئے دشمن پر تیروں کی بارش کر دی ۔لیکن عیسائیوں کے ہر اول دستے نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ عثمانیوں کے تیر اندازوں پر حملہ کرتے ہوئے انہیں ختم کر دیا اور یہ عثمانیوں کا ابتدائی نقصان تھا ۔
سلطان مراد اول کی شہادت
کوسوو کی جنگ کے بارے میں مختلف مورخین کی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ جس میں سے ایک عیسائی مورخ جس کا تعلق بوسنیا سے تھا۔ اس کے مطابق جنگ کے دوران 12 سربیائی نائٹس کا ایک گروپ تھا جنہوں نے سلطان مراد کو قتل کرنے کی قسم کھائی اور وہ ترکوں سے لڑتے لڑتے سلطان مراد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے سلطان کے ذاتی محافظوں کو ختم کرتے ہوئے سلطان مراد پر حملہ کر دیا جس حملے میں سلطان مراد کی موت ہو گئی۔
اگر عثمانیوں کی بات کی جائے تو وہ بھی ان ذرائع سے متفق ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ سلطان کی وفات تو ہوئی تھی ،لیکن وہ جنگ کے دوران نہیں بلکہ جنگ کے اختتام کے بعد ہوئی تھی۔ ان میں سے بعض مورخین کا کہنا ہے کہ جب کوسووکی جنگ کا اختتام ہوا تو سلطان مراد میدان جنگ میں مردوں کا معائنہ کر رہے تھے، کہ ایک عیسا ئی نائٹ جو کہ مردہ ہونے کا بہانہ کیے ہوئے تھا۔ جب سلطان مراد اس کے پاس پہنچےتو اس نے اچانک خنجر سے سلطان مراد پر ایک جان لیوا وار کیا، جس سے سلطان کی موت ہو گئی۔
جبکہ ایک آخری حوالہ جو کہ سلطان مراد کی شہادت کا ملتا ہے اور جسے بیشتر مسلمان مورخین نے نقل کیا ہے وہ حقیقت کے بالکل قریب معلوم ہوتا ہے، وہ تاریخی حوالہ یہ ہے کہ۔:
" جب کوسوو کی جنگ کا اختتام ہوا تو ایک سروی امیر" میلوش کو بیلویچ" عثمانی لشکر کی طرف گھوڑا دوڑاتا ہواآیا اور اس نے لازار شاہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے اس نے یہ کہا کہ مجھے کچھ نہایت اہم راز سلطان کو بتانے ہیں چنانچہ اسے سلطان مراد کی خدمت میں لایا گیا لیکن قدم بوسی کے وقت اس نے اچانک اٹھ کر سلطان مراد پر خنجر سے حملہ کیا جس سے سلطان مراد شدید زخمی ہو گئے اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر بھاگنے کی کوشش میں تھا کہ عثمانی محافظوں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے ۔مگر سلطان مراد کو کافی گہرا زخم پہنچ چکا تھا اور وہ محسوس کر رہا تھا کہ وہ تھوڑی دیر کا مہمان ہے میلوش کے واقعے کے بعد سے یہ قانون ہو گیا کہ جب کوئی اجنبی شخص سلطان کے حضور میں لایا جاتا تو دو آدمی اس کے بازو پکڑے رہتے تاکہ وہ دھوکہ دہی سے سلطان پر حملہ نہ کر دے ۔
عثمانی فتح
سلطان کی شہادت سے پہلے عثمانی لشکر کے بائیں جانب جس کی قیادت شہزادہ یعقوب کر رہا تھا وہاں "برینکو ویچ" کے تابڑ توڑ حملوں سے عثمانی لشکر کافی کمزور دکھائی دے رہا تھا اور قریب تھا کہ عثمانی میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوتے کہ سلطان مراد نے اپنے پاس کھڑے ینی چری کے چند دستوں کو شہزاد یعقوب کی مدد کے لیے بھیجا۔ یوں شہزادہ یعقوب کو جب مدد ملی تو اس نے ایک آخری اور فیصلہ کن حملے کا حکم دیا اور اب میدان آہستہ آہستہ عثمانیوں کی جانب پلٹ رہا تھا ۔
کہ یہاں شہزادے بایزید نے اپنے پاس موجود اناطولیہ سے بھرتی کیے ہوئے گھڑ سوار ترکوں کے دستوں کو سامنے لا کر دشمن کے ساتھ لڑا دیا اور عیسائی فوج کا بایاں پہلو کمزور ہوتا گیا۔ شہزادے بایزید کے برق رفتار حملوں سے عاجز آکر "لازار" کا بایاں پہلو کمزور ہوتا گیا اور اس کا کمانڈر اپنی فوج کے ساتھ میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ جس کے بعد شہزادے بایزید نے اپنے پیدل دستوں کے ساتھ لازار کی فوج پر حملہ کر دیا ۔
عثمانیوں کے تابڑ توڑ حملوں اور اپنے اتحادی کے میدان جنگ سے بھاگ جانے کی وجہ سے لازار کی فوج میں خوف و حراس پیدا ہونے لگا اور یہاں میدان جنگ پورے کا پورا عثمانیوں کے ہاتھ میں آگیا کیونکہ اس دوران برینکو ویچ نے بھی اپنے دستوں کے ساتھ میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا اور وہ اپنے اتحادی لازار کو ترکوں کے رحم کرم پر چھوڑ کر میدان جنگ سے فرار ہو گیا تھا ۔جبکہ شہزادے یعقوب نے برینکو ویچ کے تعاقب کے لیے اس کا پیچھاجاری رکھا۔
کچھ تاریخی روایات یہ بھی کہتی ہیں کہ ووک برینکو ویچ اس لیے بھی میدان جنگ سے پسپا ہو گیا۔ کہ اس نے خفیہ طور پر سلطان مراد کے ساتھ سربیہ کے تخت کے لیے بات چیت کی ہوئی تھی ۔لیکن اب جو بھی ہو لا زار عثمانیوں کے رحم و کرم پہ تھا ۔عثمانی ترک لازار کی فوج پر تابڑ توڑ حملے کیے جا رہے تھے اور سینکڑوں سربیائی جنگجو اس جنگ میں مارے جا رہے تھے۔بیشتر نے راہ فرار اختیار کی جبکہ لازار گرفتار کر لیا گیا ۔یو برسوں سے بلقان میں عثمانیوں کی راہ میں کانٹا بننے والے لازار کو پکڑ کر سلطان مراد کے سامنے لایا گیا اور سلطان مراد نے لازار کے قتل کا فرمان جاری کیا۔
یوں بلکان میں اس عظیم الشان فتوحات کا سہرا سلطان مراد خان اول کے سر جاتا ہے لیکن اس فتح کے لیے سلطان مراد کو اپنی جان دینی پڑی ۔کوسوو کی جنگ سلطنت عثمانیہ کے قائم ہونے کے بعد سے اب تک کی لڑی جانے والی سب سے بڑی اور خون ریز جنگ تھی۔
سلطان مراد اول کا ورثہ
کوسووکی جنگ کے بعد 5 برس تک اہل سرویہ نے پھر کبھی متحد ہو کر ترکوں سے مقابلہ کرنے کی جرت نہیں کی تھی۔اس جنگ میں سلطان مراد کی شہادت ترکوں کے لیے ایک عظیم صدمہ تھا۔
سلطان مراد کا عہدِ حکومت تاریخ ِآل عثمان کے اہم ترین عہد و میں سے ایک ہے۔ اس نے 30 سال تک حکومت کی ان میں سے 24 سال سلطان میدان جنگ میں مصروف رہا اور ہر جنگ میں وہ کامیاب رہا ۔سلطان مراد سے پہلے ترکوں کا مقابلہ یورپ کی قوموں میں سے صرف بازنطینیوں سے ہوا تھا۔ جن کی سلطنت اپنے زوال کی آخری منزلیں طے کر رہی تھی، لیکن سلطان مراد کی فتح یا ب فوجیں ان ملکوں میں بھی پھیل گئیں، جو یورپ کی نہایت طاقتور سیلانی قوموں کے زیر نگین تھے اور بلغاریہ سرویہ اور بوسنیا پر سلطنت عثمانیہ کا تسلط قائم ہو گیا۔ عظیم سلطان مراد کی فتوحات نے سلطنت عثمانیہ کے دائرہ اقتدار کو دریائے ڈینیوب تک پہنچا دیا اور گو بعض ریاستوں یعنی کہ سرویہ اور بوسنیاسے مخص خراج قبول کرنے پر قناعت کی گئی، تاہم تھریس مقدونیہ اور جنوبی بلغاریہ کی ریاست مکمل طور پر سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی گئی۔
ایک انگریز مورخ لکھتا ہے کہ 30 سال تک سلطان مراد نے عثمانیوں کی قیادت کی کہ اس عہد کا کوئی مدبر اس پر فوقیت حاصل نہ کر سکا ،مخص اس لیے کہ مراد کی بہ نسبت محمد فاتح اور سلیمان اعظم سے متعلق ہماری معلومات بہت زیادہ ہیں، سلطان مراد کا صحیح مقام کہ وہ خاندان عثمانی کا سب سے زیادہ ممتاز اور کامیاب ماہر سیاست دان تھا ،کبھی پہچانا نہ جا سکا، جب ہم ان دشواریوں کا جن کا اس نے مقابلہ کیا، ان مسائل کا جنہیں اس نے حل کیا اور اس کے عہد حکومت کے نتائج کا موازنہ اس کے زیادہ پرشکوہ جانشینوں کے کارناموں سے کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ ان سے بڑھ کر نہیں تو ان کے برابر ضرور تھا ،جو تغیر اس نے اپنی مدت حیات کے اندر کر دیا وہ تاریخ کی نہایت حیرت انگیز واقعات میں سے ہے ان فتوحات کو پانچ صدیوں تک قائم رہنا تھا۔
سلطان مراد نے عیسائی علاقے فتح کر کے ان میں اسلامی حکومت قائم کی، لیکن عیسائیوں کو جبراً اسلام میں داخل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ،برخلاف اس کے کہ انہوں نے انہیں پوری مذہبی آزادی دے رکھی تھی ،جس کی واضح شہادت اس خط میں محفوظ ہے جو 787 ہجری بمطابق 1385 ء میں یونانی کلیسا کے بطریق اعظم نے پوپ اربن ششم کو لکھی تھی اس نے اس خط میں یہ اقرار کیا کہ سلطان مراد نے کلیسا کو وہ مکمل آزادی بخش دی تھی ۔یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ 1360 سے 1399 ء کے درمیان بطریق اعظم کے دفتر میں کوئی ایک شکایت بھی عثمانیوں کے ہاتھوں ارباب کلیسا کی بدسلوکی کی درج نہیں ملتی۔
بایزید اول کی تخت نشینی
کسو واکی جنگ میں فتح کے بعد جب عثمانی وزیر جاندار لی علی پاشاہ اور شہزادہ بایزید سلطان مراد کے پاس پہنچے تو اس وقت سلطان مراد کی آخری سانسیں چل رہی تھیں، وزیراعظم کی مشاورت سے شہزادے بایزید کو نیا عثمانی سلطان منتخب کر لیا گیا سلطان مراد نے بھی اسرار کیا کہ شہزاد بایزید کی بیعت کر لی جائے۔ چنانچہ شہزادے بایزید کو عثمانی سلطان بنا دیا گیا اور سلطان مراد اول کی بھی وفات ہو گئی ۔اس دوران سلطان مراد اول کا دوسرا چھوٹا بیٹا شہزادہ یعقوب جو کہ عیسائی لشکر کے تعاقب میں گیا ہوا تھا اسے نہ تو اپنے والد کی شہادت کی خبر میں ملی اور نہ ہی اسے یہ پتہ چل سکا کہ جس عثمانی لشکر میں وہ واپس جا رہا ہے وہاں پر اس کا بڑا بھائی بایزید تخت نشین ہو چکا ہے۔
اس دوران عثمانی پاشاؤں نے جنہوں نے 1373 ءمیں عثمانی خانہ جنگی کا ایک تلخ تجربہ کیا ہوا تھا اور سلطان مراد ہی کے ایک بیٹے شہزاد ساوچی کی بغاوت دیکھی ہوئی تھی، انہوں نے فیصلہ کیا اور سلطان بایزید کو یہ مشورہ دیا کہ تخت کی خانہ جنگی سے بچنے کے لیے اپنے بھائی کو قربان کرنا پڑے گا ،چنانچہ جب شہزادہ یعقوب واپس عثمانی لشکر میں پہنچا ، تو سلطان بایزید کے حکم پر معصوم شہزادے یعقوب کا گلا گھونٹ کر اس کا قتل کر دیا گیا، یوں شہزادے یعقوب کا قتل تخت آل عثمان کے لیے دوسرا بڑا قتل تھا اور اس کے بعد یہ روایت پڑ گئی کہ جو بھی عثمانی خاندان کا فرد تخت نشین ہوتا تو وہ اپنے بھائیوں کو قتل کرا دیا کرتا تھا۔
سلطان بایزید یلدرم نے سلطان بننے کے بعد اپنے والد اور اپنے بھائی شہزاد یعقوب کو بورصہ میں دفن کیا لیکن اس سے پہلے سلطان با یزید نے اپنے دارالحکومت ادرنہ میں اپنے تخت کو محفوظ کرنے کے لیے چند دن گزارے ۔اہل یورپ نے سلطان مراد اول کی شہادت پر خوب جشن منایا تا ہم زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف تھے ۔
نتیجہ
اب دارالحکومت میں سلطان بایزید کہ وزیر اور مشیر آپس میں یہ چہ مگویاں کر رہے تھے ،کہ سلطان بایزید اپنے والد مراد اول کی موت کا بدلہ اہل یورپ سے کب لیں گے۔ کسوا کی جنگ عثمانی تاریخ کی ایک عظیم الشان فتح تھی، جس نے ترکوں کو یورپ اور اناطولیہ میں ایک طاقت ور ترین ریاست بنا دیا تھا۔ یوں سلطان مراد اول نے اپنی جان دے کر بلقان میں سلطنت عثمانیہ کی بنیادوں کو مضبوط کیا، اور ان کی شہادت پر حاصل ہونے والی یہ فتح آنے والی صدیوں تک عثمانی طاقت کی ضامن ثابت ہوئی۔
History In Urdu