یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
یورپ میں بلغاریہ، مقدونیہ اور سرویہ کو شکست دینے کے بعد سلطان مراد نے سلطنت عثمانیہ کی سرحدیں یورپ تک وسیع کر لی تھیں۔ اب عثمانی ترک اس خطے کے اصل مالک تھے۔ ان تمام فتوحات کے بعد سلطان مراد نے سلطنت کے انتظام و استحکام کی جانب توجہ مبذول کی۔ لیکن اناطولیہ میں ترک قبائل میں سے ایک ترک قبیلہ عثمانیوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت سے بے حد خائف تھا اور وہ اناطولیہ میں خود کو سلاجقہ روم کا اصل وارث سمجھتا تھا۔ یہ طاقتور ترین ترک قبیلہ کرمانیہ تھا، جس نے سلطان مراد کی توجہ یورپ سے ہٹا کر اناطولیہ کی جانب مبذول کروائی اور نہ چاہتے ہوئے بھی سلطان مراد کو اپنے ترک بھائیوں کے خلاف تلوار اٹھانی پڑی۔ یہ تحریر سلطنتِ عثمانیہ اور کرامان قبیلے کے درمیان ہونے والی اسی خون ریز جنگ کا احوال بیان کرتی ہے۔
اناطولیہ کے ترک قبائل اور کارامان کی برتری
یورپ میں جیسے جیسے جنگیں ختم ہوئیں ویسے ویسے سلطان مراد نے اپنی نظریں اناطولیہ میں موجود باقی ترک قبائل کی جانب مبذول کر دیں۔ تیرہویں صدی عیسوی کےآغاز میں جب ان اناطولیہ میں سلاجقہ روم کا خاتمہ ہوا۔ تو اس کے زوال کے بعد سے اناطولیہ میں بحر ایجین سے لے کر مغرب تک ترک سرداروں کی اپنی اپنی خود مختار ریاستیں موجود تھیں ۔جن میں سے گر میان، کارامان ،جاندار، تکا، حمید ، بنو آرتین، بنو رمضان ،اوربنو ذو القدر قبائل موجود تھے ۔ان ترک قبائیل کی آپس میں وقتاً فوقتاًچپکلش رہا کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے خلاف تلوار اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ ابتدا میں عثمانی قبیلہ ان باقی ترک قبائل میں سے ایک چھوٹا سا قبیلہ تھا ۔لیکن سلطان مراد اول کے دور حکومت تک اب یہ عثمانی قبیلہ مخص اناطولیہ کا ایک چھوٹا سا قبیلہ نہیں رہا تھا ۔سلطان مراد اول نے اپنی قابلیت اور صلاحیت کے بلبوتے پر اس چھوٹے سے عثمانی قبیلے کی سرحدیں اناطولیہ سے یورپ تک وسیع کر لی تھیں ۔ اب چونکہ عثمانی یورپ کے وسیع و عریض خطے کے مالک بن چکے تھے، اس لیے عثمانی قبیلہ باقی ترک قبیلوں کی نسبت اس خطے کا سب سے طاقتور ترین خاندان بن چکا تھا۔
1370ء کے آغاز تک کارامان قبیلہ جو خود کو سلاجقہ روم کے اختتام کے بعد سلجوقیوں کے دارالحکومت "قونیہ" کے وارث کے طور پر خود کو اناطولیہ کا سب سے طاقتور ترین قبیلہ سمجھتا تھا ۔اس نے اپنے کمزور پڑوسیوں کے خلاف جنگی کاروائیاں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا تھا اور اس کا اصل نشانہ بنو ارتین، گر میان اور بنو حمید تھے۔
شادیوں اور معاہدوں کے ذریعے توسیع
کرمانیوں کی جانب سے آئے روز حملوں سے تنگ آ کر گرمیان قبیلے کے سردار سلیمان شاہ نے سوچا کہ اسے عثمانیوں کے ساتھ اتحاد قائم کر کے خود کو کرمانیوں کے حملوں سے بچا لینا چاہیے ۔کیونکہ عثمانیوں کا مستقبل روشن تھا اور وہ اس خطے کا سب سے طاقتور ترین ترک قبیلہ تھا ۔سلیمان شاہ نے اپنی بیٹی عروس کا نکاح سلطان مراد اول کے بیٹے شہزادے بایزید سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ سلیمان شاہ نے قیمتی تحائف کے ساتھ نکاح کا یہ پیغام سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت ادرنے روانہ کیا۔ گرمیان قبیلے کے سردار نے جہیز میں اپنی سلطنت کا ایک مضبوط اور بڑا قلعہ کوتاہیہ جو اپنی وسعت کے اعتبار سے کمال کا شہر تھا اور اس کے ساتھ تین مزید شہر جہیز کے طور پر شہزاد بایزید کو دینے کا فیصلہ کیا۔ سلطان مراد اول نے اس تجویز کو پسند کیا اور انہوں نے اپنے بیٹے شہزادے بایزید کا نکاح امیر گرمیان کی بیٹی سے کرنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ 778 ہجری بمطابق 1376 عیسوی میں عثمانی شہزادے بایزید اور گرمیان قبیلے کی شہزادی عروس کا نکاح کر دیا گیا۔ عروس کو ریاست گرمیان کا بڑا حصہ اور قلعہ" کوتاہیہ" جو اپنے مقام کے لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا تھا ۔جہیز میں ملا اور یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ شادی کی تقریب بورصہ میں بڑی دھوم دھام سے منائی گئی۔ اناطولیہ کی تمام ترک ریاستوں کے نمائندے اور سلطنت مصر کے سفیر شریک ہوئے یہ لوگ اپنے ساتھ عرب کے برق رفتار گھوڑے، یونان کی حسین کنیزیں اور اسکندریہ کے حیرت انگیز ریشمی کپڑے نظرانے کے طور پر لائے تھے۔ منو جملہ سونے کے تحائف اور چاندی کے ظروف بھی تھے، جن میں طلائی اور نقری سکے بھرے ہوئے تھے نیز پیالے اور تشت بھی تھے ،جن میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ یہ تمام چیزیں سلطان مراد نے اپنے مہمانوں میں تقسیم کر دیں۔ لیکن جب عروس نے گرمیان کے قلعوں کی کنجیاں پیش کیں۔ تو سلطان نے انہیں اپنے ہی پاس رکھا۔
اس کامیاب شادی کے بعد گرمیان قبیلے کے ہمسائے میں موجود ایک اور ترک سردار حسین نے یہ سوچا کہ اگر وہ بھی عثمانیوں کے ساتھ اتحاد کر لے تو اسے امیر کرمانیہ سے نجات مل جائے گی۔ تو اس غرض سے اس نے سلطان مراد اول سے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اس نے آق شہر،یالواچ،بے شہر، سیڈی شہر اور اسپاٹا کے قصبوں کو 80 ہزار سونے کے سکوں کے عوض کرمانیوں سے تحفظ کے عوض سلطان مراد اول کو بیچ دیا اور یہ علاقے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیے گئے یوں عثمانیوں نے بغیر جنگ لڑے گر میان اوربنو حمید قبیلے کا بیشتر علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیاتھا۔
لیکن اس سب کے باوجود سلطان مراد اناطولیہ میں امن و امان قائم رکھنا چاہتے تھے۔ اس غرض سے انہوں نے اپنی بیٹی نفیسہ کا نکاح کارامان قبیلے کے سردار علاؤ الدین بے کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کرمانیہ اور آل عثمان کی اویزش ابتدا سے چلی آرہی تھی۔ اسے ختم کرنے کے لیے سلطان مراد نے اپنی بیٹی نفیسہ کا نکاح علاؤالدین امیر کرمانیہ سے کر دیا ۔چنانچہ تقریباً 10 سال یہ صلح قائم رہی۔ لیکن ان میں سے ہر فریق اناطولیہ کے ترکوں کی سرداری کا دعوےدار تھا۔ چنانچہ اپنی بیٹی کی شادی امیر کرمانیہ سے کرنے کے بعد سلطان مراد اناطولیہ کی جانب سے مطمئن ہو گئے اور انہوں نے یورپ کی جانب اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔
یورپ میں فتوحات اور تھیسالونیکی کی فتح
کیونکہ انہوں نے بلکان میں اپنی سلطنت کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ بنایا تھا ۔سلطان مراد اپنی فوج کے ساتھ واپس دارالحکومت ادرنے چلے گئے جہاں سلطان مراد نے بازنطینی شہنشاہ مینویل دوم کی بغاوت کو کچلنے کے لیے ایک فوج اپنے وزیر جاندارلی حلیل پاشاہ کی کمان میں 1383 عیسوی میں روانہ کی اور ایک طویل محاصرے کے بعد 1387 عیسوی میں عثمانی وزیر جاندار علی حلیل پاشاہ نے "تھیسالونیکی"شہر پر قبضہ کر کے اسے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا اور یوں بازنطینی سلطنت ایک اور اہم ترین شہر سے محروم ہو گئی۔
کرمانیہ کے خلاف اعلانِ جنگ
سلطان مراد جو کہ اس دوران یورپ میں اپنی فتوحات کو وسعت دے رہے تھے ۔تواناطولیہ میں موجود امیر کرمانیہ نے سلطان مراد کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اناطولیہ میں موجود عثمانی سلطنت کے ایک شہر "بے شہر" پر قبضہ کر لیا ۔سلطان مراد کو جب امیر کرمانیہ کی اس بغاوت کی خبر ملی تو وہ اس پر سخت برہم ہوئے اور انہوں نے اپنے اتحادیوں کو مدد کے لیے ادرنے شہر بلایا اور باقی فوجوں کو بھی جمع ہونے کا حکم دیا۔ جس کے بعد انہوں نےامیر کرمانیہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اس جنگ میں سلطان مراد کے پاس ان کے دو بیٹے بایزید اور شہزادہ یعقوب تھے ۔جبکہ ان کے ایک بہترین کمانڈر کارا تیمور تاش پاشاہ بھی عثمانی فوج میں شامل تھے ۔قسطنطنیہ سے شہنشاہ جان پنجم کی قیادت میں ایک فوجی دستہ اور سرویہ کے شہنشاہ لا زار کی کمان میں بھی ایک فوجی راستہ سلطان مراد کی مدد کے لیے ادرنے شہر پہنچ گیا ۔یوں اب سلطان مراد کے پاس ایک زبردست اور عظیم فوج تھی جس کی تعداد تقریبا 40 سے 70 ہزار کے لگ بھگ تھی۔
کونیا کا معرکہ
سلطان مراد اپنی اس فوج اور اتحادیوں کے ساتھ جلد پرانے دارالحکومت بورصہ شہر جا پہنچے۔ جہاں انہوں نے موسم سرما گزارا اور اس کے بعد انہوں نے 1387 عیسوی کے موسم بہار میں امیر کرمانیہ کو شکست دینے کے لیے اپنی فوج کے ساتھ بورصہ شہر سے نکلے اور کونیا کے قریب ایک میدان میں دونوں ترک فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔
جنگ کے میدان میں عثمانی فوج کے مرکز میں سلطان مراد اپنے ذاتی محافظوں کے ساتھ موجود تھے، لشکر کے دائیں جانب شہزاد یعقوب کے پاس گھڑ سوار دستے کی کمان تھی ۔جبکہ لشکر کے بائیں جانب شہزادہ بایزید گھڑ سوار دستے کا سربراہ تھا۔ لشکر کی دائیں جانب بازنطینی پیدل نیزہ باز اور مغرب میں سربیائی پیدل نیزہ باز دستے موجودتھے۔ لشکر کے سامنے یعنی کہ فرنٹ پہ عثمانی کمانڈر تیمور تاش پاشاہ پیدل دسوں کے ساتھ کھڑے تھے۔
ادھر کرمانی فوج کے مرکز میں علاؤ الدین بھی اپنی فوج کے ساتھ موجود تھے اس جنگ میں کرمانی فوج کی تعداد تقریبا 20 ہزار بتائی جاتی ہے۔
جیسے ہی جنگ کی شروعات ہوئی تو عثمانی فوج نے کرمانیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے یہ حملے اس قدر شدید اور تیز تھے ،کہ چند ہی منٹوں میں کرمانی فوج کاہراول دستہ عثمانی فوج کے حملے سے مارا گیا اور کرمانی فوج کی صفیں بے ترتیب ہو گئیں ۔جس کے بعد کرمانی فوج میدان جنگ سے باگ کھڑی ہوئی جبکہ کرمانی سردار علاؤ الدین بڑی مشکل سے جان بچا کر کونیا شہر میں داخل ہوا ۔لیکن عثمانی فوج نے اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس شہر کا محاصرہ کر لیا اور بیشتر دستےاس شہر میں داخل ہونے میں کامیاب بھی ہو گئے ۔قریب تھا کہ یہ عثمانی فوج باغی عثمانی داماد کا کام تمام کر دیتی کے علاؤالدین نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اپنی بیوی جو کہ سلطان مراد اول کی بیٹی تھی کو بات چیت کے لیے اپنے والد مراد اول کے پاس بھیجا۔ سلطان مراد اگر چاہتے تو علاؤ الدین کو قتل کر کے اس کی ریاست پر قابض ہو جاتے لیکن اپنی بیٹی نفیسہ کی التجاؤں سے متاثر ہو کر انہوں نے علاؤ الدین کا قصور معاف کر دیا اور اس کی ریاست پھر اسے بخش دی ۔علاو الدین نے سلطان مراد کو اپنا آقا تسلیم کر لیا اسی جنگ میں شہزاد بایزید نے اپنے حملوں کی حیرت انگیز سرعت اور شدت کی بنا پر یلدرم یعنی کہ بجلی کا لقب حاصل کیا تھا ۔
نتیجہ
اس فتح کے بعد سلطان مراد واپس بورصہ شہر چلے گئے اب ان کی خواہش تھی کہ بقیہ عمر آرام اور یاد الہٰی میں گزار دیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے انہوں نے ریاست تکا پر حملہ کر کے اسے اپنی سلطنت میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور جس فوجی افسر نے یہ تجویز پیش کی تھی اسے یہ جواب دیا کہ امیر تکہ بہت غریب اور کمزور ہے مجھے اس سے جنگ کرنے میں شرم آنی چاہیے شیر مکھیوں کا شکار نہیں کرتا۔ یوں سلطان مراد اول نے شادیوں، معاہدوں اور بروقت طاقت کے استعمال سے اناطولیہ کے ترک قبائل پر عثمانی برتری قائم کر لی، اور کرمانیہ سمیت بیشتر ترک ریاستوں کو اپنی اطاعت میں لے آئے۔
History In Urdu