یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان مراد اول سلطنتِ عثمانیہ کے تیسرے سلطان تھے، جنہوں نے اپنی فتوحات کا رخ ایشیا کے بجائے یورپ کی طرف موڑا اور ادرنہ کو نیا دارالحکومت بنایا۔ ان کے دور میں جنگِ مارٹیزا میں عیسائی متحدہ افواج کو شکست ہوئی، جس نے بلغاریہ اور بلقان میں عثمانی طاقت کو مستحکم کر دیا۔
سلطان مراد اول کی تخت نشینی اور ابتدائی فتوحات
اورخان غازی کی وفات کے بعد سلطان مراد اول نے سلطنت عثمانیہ کے تیسرے سلطان کے طور پر عثمانی تخت سنبھالا ، اس کے بعد انہوں نے اناطولیہ میں طاقتور ترین ترک قبیلے" کرمانیہ" سے جنگ لڑتے ہوئے ان سے اپنے چھینے ہوئے علاقے واپس لے لیے ۔
جبکہ یورپ میں سلطان مراد اول کے بہترین کمانڈر لالا شاہین پاشا نے جنگِ مارٹیز میں عیسائی فوج کو شکست دیتے ہوئے بلغاریہ اور سربیہ کے بیشتر علاقوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ یوں اب عثمانی سلطنت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی۔
یورپ میں صلیبی لشکر کو شکست دینے کے بعد سلطان مراد نے بحرِمار مرا کے کنارے پر موجود رومی سلطنت کا ایک چھوٹا سا شہر "بیگا" کا محاصرہ کر لیا، یہ شہر دراصل بحری لٹیروں "قاتالان" کی آماجگاہ تھی ۔
جو عثمانیوں کے لئے دردِ سر بنے ہوئے تھے۔ اس شہر کی فتح کے لیے سلطان مراد نے خشکی کے راستے محاصرہ شروع کیا اور کچھ ہی دنوں میں یہ محاصرہ ختم ہو اور اہل شہر نے ہتھیار ڈال دیے ۔اس فتح کے بعد سلطان مراد اپنے لشکر کے ساتھ "بورصہ" شہرچلے گئے۔جہاں انہوں نے اس فتح کی خوشی میں ایک مسجد تعمیر کروائی۔
دارالحکومت کی یورپ منتقلی اور بلقان کے حالات
سلطان مراد اس وقت کی سیاست کو بڑی اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یورپ میں موجود صلیبی ریاستیں ان ترکوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ عیسائیوں کو ابتدائی شکست دینے کے بعد بھی سلطان مراد کو خدشہ تھا ،کہ عیسائی ایک بار پھر ان کے خلاف متحد ہوں گے ۔اس لیے سلطان مراد نے فیصلہ کیا کہ آئیندہ اپنی سلطنت کو بجائے ایشیاء کے وہ یورپ میں وسعت دینے کی کوشش کریں گے۔اسی غرض سے انہوں نے "ادرنہ"کو سلطنتِ عثمانیہ کا نیا دار الحکومت قرار دیا،اور اسکی یہ حیثیت"قسطنطنیہ" کی فتح تک قائم رہی۔
جب سلطان مراد نے دارالحکومت کو یورپ میں منتقل کیا ۔تو اس وقت "ادرنے" شہر کے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہمسائی بلغار ریاست کی حالت انتہائی نازک تھی۔ کیونکہ یہاں ایک سال پہلے یعنی کہ 1365ء میں بلغاری شہنشاہ "ائیوان الیکساندر" کی موت کے بعد بلغاری سلطنت اس کے چار بیٹوں کے درمیان تقسیم ہو کر ٹوٹ چکی تھی۔
اس کا سب سے بڑا بیٹا "ایوان "بلغاریہ کے مغربی حصے کا مالک بنا،جس کا مرکز" ودین" شہر تھا۔ اس کا چھوٹا بیٹا "کارال سیسمان" نیکو پولس ترنوا ،صوفیا اور سلسٹریا سمیت جنوبی بلغاریہ کے حصوں کو کنٹرول کرتا تھا اور اس کا مرکز تراننوا ،شہر تھا۔ اس کا تیسرا بیٹا "ڈوبروچ" بلغاریہ کے مشرقی حصے کا مالک تھا ،جس کا مرکز "وارنا" تھا۔ جبکہ اس کا چوتھا بیٹا باقی جنوبی بلغاری حصے کا مالک تھا۔
بلغاریہ کے بعد بلقان میں سب سے طاقتور ترین ریاست سرویہ کی تھی۔ لیکن اسٹیفن ڈوشن کی موت کے بعد سربین سلطنت کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے نیز 1364 ء میں سربوں کو عثمانیوں کے ساتھ جنگ میں ذلت آمیز شکست کے بعد انکی طاقت کافی حد تک کمزور ہو چکی تھی۔ یوں اب بلغاریہ کی طرح سربیا کا علاقہ بھی سلطان مراد کی عقابی نظروں میں تھا ۔سلطان مراد یورپ کے ان دونوں بڑے ملکوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی فتوحات کو یورپ میں مزید وسیع کرنا چاہتے تھے ۔
رومی سلطنت سے کشمکش اور گیلی پولی
اس کے لیے انہوں نے مشرقی رومی سلطنت کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے سلطان مراد اب ان رومیوں کی جانب سے مطمئن تھے ۔کیونکہ اس معاہدے کے تحت نہ تو وہ کھل کر عثمانیوں کے خلاف جنگ لڑ سکتے تھے اور نہ ہی وہ کسی دوسری عیسائی سلطنت کا ساتھ دے سکتے تھے ۔لیکن رومی شہنشاہ نے بظاہر تو عثمانیوں کے خلاف کوئی مزاحمت نہ کی ،لیکن وہ خفیہ طور پر دوسری عیسائی ریاستوں کو عثمانیوں کے خلاف انہیں اکسانے میں باز نہیں آ رہا تھا۔رومی شہنشاہ عثمانیوں کے خلاف کسی صلیبی جنگ کے انتظار میں تھا ،تاکہ وہ عثمانیوں سے اپنے چھینے ہوئے علاقے واپس حاصل کر سکے اور اس مقصد کے لیے اس نے یورپ میں پوپ کو کئی ایک خطوط بھی لکھے اور دیگر عیسائی بادشاہوں سے اس نے مدد بھی مانگی۔
جس کے نتیجے میں پوپ کی حوصلہ افزائی سے ایک بحری بیڑا عثمانیوں کے خلاف قسطنطنیہ کی جانب روانہ ہوا اور عیسائیوں کی اس بحریہ نے گیلی پولی پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ۔یہ قبضہ اس لیے بھی ممکن ہوا، کہ ترکوں کو سمندر میں لڑنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ اس لیےرومیوں نے ترکوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیلی پولی پر قبضہ کر لیا اور یوں یہ شہر پھر رومیوں کے پاس واپس چلا گیا۔ اناطولیہ اور یورپ کو آپس میں ملانے کے لیے یہ علاقہ بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ جس کے چھن جانے کے بعد ترکوں کو اناطولیہ میں آنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ سلطان مراد نے جب گیلی پولی کے چھن جانے کی خبر سنی تو وہ اس خبر سے بے حد غصہ ہوئے کیونکہ 1363 ء میں رومیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت وہ عثمانی سلطنت پر نہ تو حملہ کر سکتے تھے ،اورنہ ہی عثمانیوں کے خلاف کسی دوسری ریاست سے اتحاد کر سکتے تھے ۔لیکن شہنشاہ نے اس معاہدے کو توڑتے ہوئے گیلی پولی پر قبضہ کر لیا تھا۔سلطان مراد نے شہنشاہ قسطنطنیہ کو جلد از جلد گیلی پولی ترکوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن شہنشاہ نے سلطان مراد کے خط کا کوئی خاطرخاہ جواب نہ دیا اور اس نے گیلی پولی پر قبضہ برقرار رکھا۔ جس پر مجبوراً سلطان مراد نے ذاتی طور پر فوج کو تیار کیا اور انہوں نے رومی دارالحکومت قسطنطنیہ کی جانب پیش قدمی شروع کی اور انہوں قسطنطنیہ کے قریب رومیوں کے دو اہم ترین قلعوں پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا ۔
اس دوران جب سلطان مراد رومی علاقوں پر حملے کر رہے تھے تو ادھر بلغاریہ میں عثمانی کمانڈر" تیمور تاش پاشاہ" کی کمان میں عثمانی فوجیں بلغاریہ کے شہر"یامبول"کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور چند دنوں کے محاصرے کے بعد بلغاریہ کا یہ شہر بھی فتح ہو کر عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ سلطان مراد ان ابتدائی فتوحات کے بعد واپس اپنی فوج کے ساتھ "ادرنے" شہر چلے گئے، ادھر جنوبی بلغاریہ میں ایک اور عثمانی کمانڈر" ایورینوس بے" مقدونیہ کی فتوحات کے لیے نکلے ہوئے تھے۔
جبکہ شمال کی جانب لالہ شاہین پاشا صوفیا کے قریب "اہتیمان" شہر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور انہوں نے بھی اس شہر کو فتح کر لیا۔ اس شہر کی فتح کے بعد لالہ شاہین پاشاہ "سماکوو" نامی شہر کی فتح کے لئے روانہ ہوئے ،جو لوہے کی اہم کانوں کی وجہ سے مشہور تھا ۔یہ شہر بھی لالا شاہین پاشاہ نے فتح کر کے اسے عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا ۔یوں 1366 سے 1369 ء کے درمیان عثمانیوں نے یورپ میں بیشتر مقبوضات کو فتح کر کے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔
شہنشاہ کی سازشیں اور شہزادوں کی بغاوت
ادھر قسطنطنیہ میں شہنشاہ کو جلد اپنی محکومی کا احساس ہو گیا اوراس نے 71 ہجری بمطابق 1369 ءمیں یورپ کا سفر کیا اور پوپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے یورپ کی عیسائی حکومتوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف ابھارنے کی درخواست پیش کی۔ اس نے پوپ کی حمایت حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی ذلت گوارا کی یونانی کلیسا کے ان تمام عقائد سے بیزارگی ظاہر کی، جو کلیسائے روما سے مختلف تھے، اور مذہبی معاملات میں کلیسائے روما کی برتری بھی تسلیم کر لی۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود شہنشاہ اپنامقصد حاصل نہ کرسکا اورعیسائی حکومتیں ترکوں کے خلاف اعلان جنگ کے لیے آمادہ نہ ہوسکیں، شہنشاہ ناکام و نامراد ہو کر قسطنطنیہ کو واپس نکل پڑا اور واپسی میں جب وہ وینس سے گزر رہا تھا تو وہاں کے بعض ساہوکاروں نے جن سے روم کے سفر کے لیے اس نے روپیہ قرض لیا تھا انہوں نے اسے گرفتار کر لیا اس کے پاس اتنا پیسہ نہ تھا کہ قرض ادا کر سکے ۔
اس کا بڑا بیٹا اینڈرونیکس جسے و ہ قسطنطنیہ میں اپنا جانشین چھوڑ کر گیا تھا،وہ حکومت کی لذت سے آشنا ہو کر باپ کی رہائی کا خواہش مند نہ تھا۔ اس لیے اس نے بھی قرضہ ادا کرنے کی کوشش نہ کی جبکہ شہنشاہ کے چھوٹے بیٹے نےاپنی املاک فروخت کر کے قرض کی رقم فراہم کی اور شہنشاہ کو آزاد کرایا۔
قسطنطنیہ پہنچنے کے بعد شہنشاہ نےاینڈرونیکس کو حکومت کے تمام عہدوں سے معزول کرکےاس کی جگہ "مینوئل" کو مقرر کر کے اسے اپنے ساتھ تاج و تخت کا شریک قرار دیا۔"اینڈرونیکس" اپنی اس حق تلفی پر سخت برہم ہوا اور اس نے سلطان مراد کے سب سے چھوٹے بیٹے شہزادے" سادو جی" کو اس بات پرآمادہ کیا، کہ دونوں مل کر شہنشاہ اور مراد کو تخت سے اتار دیں گےاور ان کی جگہ خود فرما روا بن جائیں۔ سلطان مراد اس ایشائے کوچک میں تھے، اور صادو جی اس وقت یورپ میں ترک سپاہ کا افسر اعلیٰ تھا۔ اس نے سلطان مراد کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا کر فوراً بغاوت کا اعلان کر دیا ۔ادھر "اینڈرونیکس" نے بھی نو عمر بازنطینی اُمرا، کی ایک جماعت اپنے ساتھ ملا کر شہنشاہ کے خلاف جنگ کی تیاری شروع کر دی، ان شہزادوں کی متحدہ بغاوت نے خطرناک صورت اختیار کر لی تھی ۔سلطان مراد اس خبر کو سنتے ہی یورپ پہنچا شہنشاہ نے"اینڈرونیکس"کے جرم سے اپنی برات پیش کی اور اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے پوری آمادگی کا اظہار کیا۔
اس نے سلطان مراد کہ یہ تجویز بھی منظور کر لی کہ گرفتاری کے بعد دونوں شہزادے اپنی بینائی سے محروم کر دیے جائیں گے۔صادو جی کی فوج نے اپنے سلطان کی زبان سے عام معافی کا اعلان سن کر انہوں نے باغی شہزادے کا ساتھ چھوڑ دیا ۔صادو جی اینڈرونیکس اور نوجوان بازنطینی اُمراگرفتار کر کے سلطان مراد کے سامنے لائے گئے۔سلطان مراد نے پہلے صادو جی کی آنکھوں میں گرم سیسا پگھلا کر اسے اندھا کر دیا اور پھر اسے قتل بھی کرا دیا۔ بازنطینی امرا دریائے مارٹیزامیں غرق کر دیے گئے۔ شہنشاہ نے حسب وعدہ اس کی آنکھوں میں بھی سیسا ڈلوا دیا، ان واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ شہنشاہ کو ایک جدید معاہدہ کرنا پڑا جس کی رو سے اس نے دولت عثمانیہ کی باج گزاری ازسرِ نو تسلیم کی، عثمانی لشکر میں فوجی خدمت انجام دینے کا وعدہ کیا اور ضمانت کے طور پر اپنے بیٹے مینویل کو اس نے سلطان مراد کی خدمت میں بھیج دیا۔
جنگِ مارٹیزا
ادھر یورپ میں اگرچہ بلغاریہ نے جنگ ِمارٹیزا میں شرکت نہیں کی تھی۔ تاہم تھریس کی فتح اور عیسائیوں کی شکست نے اس کو بھی نہایت اہم خطرات میں مبتلا کر دیا تھا۔ خصوصاً ادرنہ اور فلپو پولیس پر قبضہ ہو جانے کے بعد بلغاریہ اور مقدونیا کی را ہ عثمانی ترکوں کے لیے کھل گئی تھی ۔بلقان کی باہمی بغض و عناد نے ان قوتوں کو کمزور کر دیا تھا ،اس لیے سلطان مراد کو شروع میں تو ان کی متحدہ طاقت سے مقابلہ پیش نہیں آیا تھا۔ لیکن جب 768 ھ بمطابق1366 ء اور 771 ھ بمطابق 1369 ء کے درمیان جب عثمانی فوجیں بلغاریہ میں بڑھتی چلی گئی اور انہوں نے کوہ روڈوپ تک وادی ماٹیزہ پر قبضہ کر لیا، تو سرویہ اب تک بلغاریہ کا شریک نہ تھا لیکن سلطان مراد کی ان فتوحات کے بعد اس نے بلغاریہ سے مل کر ترکوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
چنانچہ 773 ھ بمطابق 1371 ء میں سربیہ اور یونان کی متحدہ افواج عثمانی سلطنت کی جانب بڑھنے لگیں، تاکہ وہ ان عثمانی ترکوں کو تھریس سے نکال کر اناطولیہ واپس بھیج سکیں۔ مغربی مورخین کے مطابق اس عیسائی فوج کی تعداد 60 ہزار کے لگ بھگ تھی ۔یہ متحدہ افواج بڑی آسانی کے ساتھ عثمانی علاقوں میں داخل ہو گئی اور اس نے بغیر کسی عثمانی دستے کی مزاحمت کے دریائے ماٹیزہ کے ساتھ ساتھ کے علاقوں پرقبضہ کر لیا۔
ادھر ادرنے میں اس وقت عثمانی کمانڈر لالا شاہین پاشاموجود تھے۔ سلطان مراد اس بار بھی اناطولیہ میں گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے عیسائی لشکر کی آمد کی خبر سنتے ہی فوری طور پر سلطان مراد کو اناطولیہ میں خبر بھیجی اور مدد کی درخواست کی۔ سلطان مراد یہ خبر سنتے ہی فوراً بورسہ شہر سےروانہ ہوئے، لیکن گیلی پولی کا علاقہ رومی سلطنت کے پاس جانے کی وجہ سے سلطان مراد کا یورپ میں داخل ہونا تھوڑا مشکل تھا ۔جبکہ اس دوران عیسائی لشکر ادرنے کے پاس پہنچ چکا تھا۔ یوں لالہ شاہین پاشانے گزشتہ جنگ کی طرح بغیر کسی کمک کے خود عیسائیوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا۔
ُادھر ادر نے شہر پہنچنے تک عیسائی لشکر میں شام ہو چکی تھی۔عیسائی افواج نے ایک کھلے میدان میں پڑاؤ ڈالا ۔تاکہ وہ رات گزار کر اگلے دن ادر نے شہر پر حملہ کر سکے۔ لیکن اس دوران حاجی البے عیسائی لشکر کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے جاسوس عیسائی لشکر میں بھیجے تاکہ وہ عیسائی فوج کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا سکیں۔ عیسائیوں کی اس اتحادی افواج نے اپنے گزشتہ شکست سے کچھ بھی نہ سیکھا اور انہوں نے قیام کی رات وہی غلطی دہرائی جو کہ انہوں نے تقریبا سات سال پہلے جنگ ماٹیز کی رات کو دہرائی تھی۔ اس دوران لالا شاہین پاشا بھی اپنی فوج کے ساتھ یہاں پہنچ چکے تھے ۔اب اگر میدان جنگ میں دونوں لشکر آمنے سامنے لڑتے تو ترکوں کے لیے فتح حاصل کرنا مشکل تھا کیونکہ عیسائی افواج تعداد میں عثمانیوں سے کہیں زیادہ تھی۔ اسی لیے عثمانیوں نے رات کے وقت عیسائی لشکر پر حملے کا منصوبہ بنایا جب گہری رات چھا چکی تھی۔ تو اس وقت لالا شاہین پاشا اور حاجی ایلبےاپنے اپنے سپاہیوں کے ساتھ عیسائی لشکر کی جانب چل پڑے ۔
عیسائی لشکر پر رات کا حملہ
حملے سے پہلے پہاڑوں سے ڈھولوں کی آوازنے رات کی تاریکی کو مذید خوفناک بنا دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی نعرے تکبیر کی بلند صدا کے ساتھ عثمانی ترک عیسائی لشکر پر ٹوٹ پڑے ۔عیسائی لشکر جس کا بیشتر حصہ تو سویا ہوا تھا، جبکہ کچھ حصہ شراب کے نشے میں دھت تھا۔ یوں اچانک تکبیر کی آوازوں سے حیران اور پریشان ہو گیا ۔عثمانیوں کا حملہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ عیسائیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا عثمانی فوج کا اصل نشانہ شہنشاہ اور فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کا خیمہ تھا۔ رات کے اندھیرے میں عیسائی سپاہی عثمانی تلوار کا نشانہ بنتے ہوئے گاجر مولی کی طرح میدان میں گر رہے تھے ۔بیشتر مارے گئے بہت سونے بھاگ کر جان بچائی ،جبکہ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے، کہ جنہوں نے دریا میں چھلانگ لگا کر جان بچائی۔
اس جنگ کی فتح کے بعد بہت سا مال غنیمت اور قیدی عثمانیوں کے ہاتھ لگے یہ فتح عثمانیوں کے لیے بے حد سود مند ثابت ہوئی ۔کیونکہ اس فتح کے بعد کوہ بلقان تک بلغاریہ کا سارا علاقہ سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا تھا ۔
مزید فتوحات اور مقدونیہ
دوسرے سال لالہ شاہین پاشاہ اور عثمانی فوج کے دوسرے مشہور جنرل ایفرینوس بے نےمقدونیا پر حملہ کیا، جو سٹیفن ڈوشن کے زمانے سے سرویہ کا ایک صوبہ تھا اور "کوالہ ڈرومہ "اور" سریز" کے شہروں کو فتح کر کرتے دریائے "دروار"کو عبور کر کے قدیم سرویہ ،البانیہ اور بوسنیہ میں داخل ہوئے ۔لازار شاہ سریہ نے شکست کے بعد سلطان مراد کی اطاعت قبول کر لی ۔بلغاریہ کے بادشاہ سیسمان نے بھی اپنی لڑکی حرم سلطانی میں پیش کر کے صلح کی درخواست کی ۔چنانچہ بلغاریہ کا وہ حصہ جو کوہ بلکان کے شمال میں واقع تھا اور اس وقت تک سلطنت عثمانیہ میں شامل نہیں کیا گیا تھا اس کی حکومت میں رہنے دیا گیا۔
اس کے بعد 783 ھ بمطابق 1381 ء تک سلطان مراد اپنے اشیائی مقبوضات کی توسیع و استحکام میں مصروف رہے اور 783 ھ میں انہوں نے پھر سرویہ کا رخ کیا اور عثمانی فوج نے دریائے "دروار"کو عبور کر کے "مناستر" قبضہ کر لیا۔
نتیجہ
اس کے بعد 787 ھ بمطابق 1385 ء میں صوفیہ فتح ہوا سیسمان کو اپنی ملکہ اور خاندان کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر سلطان مراد سے رحم کی درخواست کرنی پڑی سلطان مراد نے سالانہ خراج قبول کر کے اسے بلغاریہ کے تخت پر قابض رہنے کی اجازت دے دی ۔787 ھ بمطابق 1386 ء میں 25 روز کے شدید محاصرے اور سخت ترین جنگ کے بعد نیش پر بھی جو سرویہ کے قلب میں ایک انتہائی مضبوط قلعہ تھا نیز قسطنطین اعظم کے مولد ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا تھا اس پر سلطان مراد نے قبضہ کر لیا۔ سرویہ نے اب ہزار پونڈ نقری سالانہ خراج اورعثمانی لشکر کے لیے ہزار سوار دینے کا وعدہ کر کے سلطان مراد اول سے صلح کر لی۔
History In Urdu