Sultan Murad I (Part 1): The Battle of Sırpsındığı

Sultan Murad I (Part 1): The Battle of Sırpsındığı

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

اورخان غازی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سلطان مراد اول سلطنتِ عثمانیہ کے تیسرے حکمران بنے۔ اپنی غیر معمولی فوجی قابلیت کی بنا پر انہوں نے قلیل مدت میں تھریس، ادرنہ اور بلغاریہ سمیت یورپ کے متعدد علاقے فتح کیے۔ یہ تحریر سلطان مراد اول کے ابتدائی دور اور صلیبی افواج کے خلاف ادرنہ کے قریب ہونے والے معرکے کی داستان بیان کرتی ہے۔

سلطان مراد اول کی تخت نشینی

اورحان غازی کی وفات کے بعد ان کا چھوٹا بیٹا مراد 40 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا سلطان مراد میں ملک گیری اور حکمرانی کی وہ تمام خصوصیات بدرجہ غائیت موجود تھیں، جوآل عثمان کے ابتدائی فرما رواؤں کا ترہ امتیاز رہیں۔ سلطان مراد کی غیر معمولی فوجی قابلیت نے ایک قلیل مدت میں یورپ کی متعدد سلطنتوں کو سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا، سلطان مراد ہی وہ پہلے عثمان سلطان ہیں جنہیں میدان جنگ میں شہادت نصیب ہوئی تھی۔.

اور خان غازی نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ریاست کا نظم و نسق انہوں نےاپنے بیٹے "شہزادہ مراد" کو سونپ دیا مرادکو اس سے پہلے چھاپہ مار دستوں کا سردار مقرر کیا گیا تھا۔

تھریس اور ادرنہ کی فتوحات

جب سلطان مراد تخت نشین ہوئے تو اس وقت "بازنطینی سلطنت" کی حالت انتہائی خراب تھی، اس کے تمام ایشیائی مقبوضات پر عثمانی ترکوں کا قبضہ ہو چکا تھا اور یورپ میں قسطنطنیہ کے علاوہ صرف شمالی تھریس اور مقدونیہ اور موریہ کے کچھ حصے باقی رہ گئے تھے باہمی اختلاف کے باعث ابتدا میں تو کوئی عیسائی حکومت ترکوں کے مقابلے میں اس کی مدد کے لیے آمادہ نہ ہوئی۔ یہ سلطنت بلا شبہ ایک عیسائی سلطنت تھی، اور ترکوں کا حملہ مذہبی نقطہ نظر سے نہایت خطرناک تھا ،ان حالات میں سلطان مراد نے درے دانیال کو عبور کر کے ایک زبردست فوج کے ساتھ تھریس میں قدم رکھا اور سب سے پہلے انہوں نے قلع شورلو پر قبضہ کیا جو قسطنطنیہ سے صرف پانچ میل کے فاصلے پر واقع تھا ۔اس کے بعد دوسرا قلعہ کرک کلیسے فتح ہوا ،اس دوران 764 ھ بمطابق 1363 ء میں سلطان مراد کی بازنطینیوں کے ساتھ جنگ ہوئی، جس میں سلطان مراد نے انہیں بری طرح شکست دی۔

1391ء میں سلطان مراد اپنی فوج کے ساتھ ادرنا جا پہنچے جہاں کے تیکفور نے سلطان مراد کو روکنے کے لیے ایک فوج تیار کی ہوئی تھی۔ بازنطینی اور عثمانی فوجوں کے درمیان خون ریز معرکہ ہوا جس میں بازنطینی کمانڈر کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ کر ادرنہ شہر چلا گیا۔ اس نے شہر سے اپنا تمام قیمتی سامان جمع کیا اور جہاز میں بیٹھ کر یونان چلا گیا۔ جس پر اہل شہر نے فورا ًہتھیار ڈال دیے اور یوں تقریباً تمام تھریس سلطان مراد کے قبضے میں آگیا ۔یہ خوبصورت ترین شہر جو سلطان مراد نے فتح کیا تھا کچھ ہی عرصے کے بعد اسے سلطنت عثمانیہ کا نیا دارالحکومت بنا دیا گیا۔

اورخان غازی کی وصیت اور وفات

ادرنے کی فتح کے بعد سلطان مراد نے اناطولیہ میں سے ترکوں کو یہاں لا کر بسایا۔اور خاں غازی اس وقت بستر مرگ پر تھے، جب انہیں ادرنہ شہر کی فتح کی خبر سنائی گئی، تو وہ اس خبر سے بے حد خوش ہوئے اور اس شاندار فتح کے بعد اور خان غازی نے اپنے بیٹے مراد کو اپنے پاس بلایا اور اسے ایک طویل نصیحت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ۔:

" اے میرےبیٹے اپنے تاج و تخت پر کبھی بھی غرور اور تکبر نہ کرنا یہ مت بھولنا کہ موت نے تمہارے بھائی سلیمان کو بھی نہیں چھوڑا تھا، دنیا کی ہر سلطنت فانی ہے ،لیکن یہ زندگی سب کے لیے ایک ہی موقع ہے کہ اس زندگی میں اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کی جائے اور قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حاصل کی جائے ۔تم اس زندگی سے خوب فائدہ اٹھانا، اگر تم دنیا اور آخرت کو برابر دیکھو تو آخرت پر ترجیع دینا۔ اے میرے بیٹے عیسائی رعایا پر رحم کرنا، تم قسطنطنیہ کو ضرور فتح کرنا اور اس فتح کے بعد اپنے ترک سرداروں کی ویسی ہی عزت کرنا جیسی کہ تمہارے جد امجد کرتے آئے ہیں، اگر میری وفات کے بعد اناطولیہ میں بغاوت پیدا نہ ہوی ،تو تم اپنی فتوحات یورپ میں جاری رکھنا ہم نے اس ریاست کی بنیاد صوغوت جیسے چھوٹے شہر سے رکھی تھی اور اسے یورپ کے قلب تک لے کے جانا اور وہاں اسلام کا جھنڈا لہرانا، سلطنت عثمانیہ کے لیے دو براعظموں پر حکومت کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہم نے پوری دنیا میں پھیلانا ہے، جس طرح ہم سلجوقیوں کے وارث ہیں ویسے ہی ہم روم کے بھی وارث ہیں، کبھی بھی قران کے حکم سے انحراف نہ کرنا انصاف کے ساتھ حکومت کرنا، اپنے گزشتہ فوجیوں کا خاص خیال رکھنا غریبوں کو کھانا کھلانا ،ذاتی طور پر دین کی خدمت کرنے والوں کی خدمت کرنا اور ظالموں کو سزا دینے میں کبھی بھی دیر نہ کرنا اگر تم نے ان باتوں پر عمل کیا تو تم دنیا وآخرت میں فلاح پا جاؤ گے ۔اللہ تعالی تمہارے دورِ حکومت میں برکت عطا فرمائے اور اس نصیحت کے کچھ ہی عرصے کے بعد دوسرے عثمانی سلطان اورخان غازی کا انتقال ہو گیا۔

شہزادے مراد کے لیے یہ بڑا ہی کٹھن مرحلہ تھا ۔کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اپنے جوان بھائی شہزادے سلیمان کو کھویا تھا اور اب ان کا والد اورخان غازی بھی اس دنیا سے وفات پا چکا تھا۔ باپ اور بھائی کے دکھ کو دل میں لیے 36 سال کی عمر میں سلطان مراد سلطنت عثمانیہ کے تیسرے حکمران کے طور پر برسر اقتدار آئے اور یہاں سے سلطان مراد کی زندگی کا ایک اور باپ کھلتا ہے سلطان مراد نے 27 سال تختِ عثمانی پر حکومت کی اس دوران انہوں نے ذاتی طور پر 37 جنگوں میں حصہ لیا، سلطان مراد اول بلا شبہ ناقابل شکست شاندار جرنیل تجربہ کار اور شہید عثمانی سلطان تھے۔

اناطولیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ

اورحان اناطولیہ میں موجود باقی ترک قبائل کی نسبت سب سے زیادہ طاقتور ترین ترک سردار تھے۔ سو جیسے ہی اور خان غازی کی وفات ہوئی تو ان کی موت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ترک قبائل نے سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیا ان میں سے کرمان قبیلہ پیش پیش تھا۔ جس نے عثمانی سلطنت، پر حملہ کر کے انکرہ کے آس پاس کا علاقہ لوٹ لیا۔ جب سلطان مراد کو کرمان قبیلے کے حملے کی خبر ملی تو انہوں نے سب سے پہلی اناطولیہ میں موجود بازنطینی سلطنت کے آخری چند شہروں میں سے ایک شہر "ارغلی" پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔

اس کے بعد سلطان مراد اپنی فوجوں کے ساتھ انکرہ چلے گئے ۔جہاں پر انہوں نے کرمان قبیلے کی فوج پر حملہ کر دیا ۔جنہوں نے عثمانی علاقوں کو لوٹ کر یہاں قبضہ کر لیا تھا ۔سلطان مراد ایک تجربہ کار کمانڈر تھے۔ انہوں نے انتہائی کم وقت میں کرمانی فوج کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چھینے ہوئے علاقوں کو واپس حاصل کر لیا ،اس پر مجبوراً کرمان قبیلے کے سردار نے سلطان مراد سے عارضی طور پر صلح کی اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔

یورپ میں پیش قدمی اور بلغاریہ کی فتح

اناطولیہ میں موجود ترک قبائل کی جانب سے مطمئن ہونے کے بعد سلطان مراد یورپ کی جانب بڑھے ۔سلطان مراد یورپ میں مزید فتوحات حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے وہ اپنی فوج کے ساتھ یورپ کی جانب بڑھے اور اس دوران ان کے ساتھ دو عثمانی کمانڈر تھے۔ جن میں سے ایک"ایفرینوس بے" تھے جبکہ دوسرے "لالا شاہین پاشا" تھے۔ جنہیں سلطان مراد نے "بیلر بے "کا خطاب دیا تھا ۔سلطان مراد نے "ایفرینوس بےکو "کوموتینی" کے علاقوں کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیا۔ جبکہ لالا شاہین پاشا کو سلطان مراد نے بلغاریہ کی جانب "زاگورا"نامی علاقے کی فتوحات کے لیے روانہ کیا ۔سلطان مراد کے دونوں کمانڈر کامیاب رہے اور انہوں نے ان دونوں علاقوں کو فتح کر کے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔ یوں پہلی بار بلغاریہ میں عثمانیوں نے قدم رکھا۔

ان فتوحات کے بعد سلطان مراد نے یہاں کے علاقوں کا انتظام درست کیا ،نئے قلعے تعمیر کیے، لالا شاہین پاشا "زاگورا"نامی علاقے کی فتح کے "پلوودیف"شہر جا پہنچے، جو کہ بلغاریہ کا ایک اہم ترین شہر تھا اور کچھ ہی محاصرے کے بعد انہوں نے اس شہر کو فتح کر لیا۔ اس شہر کی فتح کے بعد کچھ بلغاری شہری اور سپاہی ہجرت کر کے سرویہ کے شہنشاہ "اسٹیفن اروش"کے پاس چلے گئے۔ انہوں نے شہنشاہ کو عثمانیوں کے حملوں کی خبر دی اور اسے باور کروایا کہ اگر اس نے عثمانیوں کے خلاف بروقت کروائی نہ کی تو اہل بلغار کے بعد اس کی بھی باری آئے گی اور عثمانی اس کے علاقوں کو بھی فتح کر لیں گے۔ سرویا کا بادشاہ عثمانیوں کے حملوں سے ڈر گیا اور اس نے انہیں روکنے کے لیے اور نیز ترکوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے جنگ کی تیاری شروع کر دی اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے یورپ میں مسیحی اتحاد بھی قائم کر لیا اور ایک صلیبی جنگ کے لیے یورپ کے تمام بادشاہوں کو اس نے خطوط لکھے ۔

قسطنطنیہ سے معاہدہ

یورپ کی فتوحات کے بعد سلطان مراد نے شہنشاہ قسطنطنیہ سے 1363ء میں ایک نیا معاہدہ کیا، جس کی رو سے اہل قسطنطنیہ پر سخت ترین پابندیاں لگائی گئیں، اس معاہدے کے تحت مشرقی رومی سلطنت عثمانیوں کو ٹیکس ادا کرے گی ،عثمانیوں کی جانب سے فتح کی گئی زمینوں میں وہ حقوق نہیں مانگ سکیں گے، عثمانی سلطنت کے خلاف وہ کسی دوسری مسیحی ریاست سے اتحاد نہیں کر یں گے، اور ضرورت پڑنے پر وہ عثمانیوں کو فوجی مدد بھی فراہم کریں گے۔

صلیبی اتحاد اور معرکۂ ادرنہ

ادھر یورپ میں سربیا کے شہنشاہ کی صلیبی جنگ میں حصہ لینے کے لیے "پوپ اربن پنجم" کے اکسانے پر ایک صلیبی فوج تیار ہو گئی، جس میں سربیا، ہینگری ،بلغاریہ ،ولاچیا اور بوسنیا نے شرکت کی ،جلد ان پانچ ریاستوں نے مل کر ایک بڑی فوج تیار کی جس کی تعداد کم و بیش 60 ہزار کے قریب تھی اور اس فوج کی کمان ہینگری کے بادشاہ "لایوش" کے زیر کمان تھی۔ جو اس فوج کو لے کر ادرنے پر حملے کے لیے روانہ ہوا۔ سلطان مراد اس وقت اناطولیہ میں بورسہ شہر میں موجود تھے ۔جیسے ہی ادرنے میں لالا شاہین پاشا کو عیسائیوں کے اس لشکر کے پیش قدمی کی خبر ملی تو ،انہوں نے سلطان مراد کو عیسائیوں کے حملے سے انہیں آگاہ کیا۔ عیسائی لشکر بغیر کسی آرام کے تیزی کے ساتھ عثمانیوں کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا ۔لالا شاہین پاشا نے اس فوج کی رفتار کو سست کرنے کے لیے فوری طور پر حاجی ایلبے کی کمان میں انہوں نے چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا دستہ روانہ کیا۔ اگرچہ لالا شاہین پاشا کے بھیجے ہوئے اس معمولی سے لشکر کا عیسائی لشکر کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں تھا لیکن یہ دراصل ایک حکمت عملی تھی۔ جس کے مطابق عیسائی لشکر کو روکے رکھنا تھا ۔تاکہ اس دوران سلطان مراد اناطولیہ سے یورپ میں باقی فوج کے ساتھ پہنچ سکیں۔

سلطان مراد نے اپنی فوجوں کو اناطولیہ میں جمع کیا، لیکن اگر سلطان مراد برق رفتاری سے بھی یورپ میں پہنچنا چاہتے تو ممکن نہیں تھا، کیونکہ صلیبی لشکر عثمانی سرحدوں کے بالکل قریب پہنچ گیا تھا اور سلطان مراد کے اور ادرنہ شہر کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ تھا۔ اگر لالا شاہین پاشا سلطان مراد کے آنے کا انتظار کرتے تو تب تک بہت دیر ہو جاتی، سو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سلطان مراد کا انتظار کیے بغیر اس عیسائی فوج کا مقابلہ کریں گے۔ شاہین پاشاہ جانتے تھے کہ برسوں سے جو فتوحات ہم نے یورپ میں کی ہیں اگر اس وقت عیسائیوں کو نہ روکا گیا تو یہ تمام علاقے ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔

لالا شاہین پاشا نے ادر نے میں اپنے ترک سرداروں کے ساتھ مشاورت کی، جس کے بعد انہوں نے ایک بڑا ہی مشکل لیکن تاریخی فیصلہ کیا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ادرنے میں دفاعی پوزیشن کے بجائے شہر سے نکل کر عیسائی فوج کا سامنا کریں گے اور میدان جنگ میں انہیں شکست دیں گے اس کے لیے انہوں نے جنگی تیاریاں مکمل کیں اور شہر سے نکل کر اپنی فوج کو ایک محفوظ مقام میں چھپا دیا اور حملے کی رات کو انہوں نے اللہ تعالی کی حضور رو کر اور گڑگڑا کر مدد کی دعا مانگی۔

ادھر صلیبی لشکر بغیر کسی عثمانی مزاحمت کے جب ادرنہ شہر تک پہنچ گیا تو اس نے یہ سمجھا کہ عثمانیوں پر فتوحات حاصل کرنا تو بالکل آسان کام ہے۔ اس لیے انہوں نے ادرنہ کو فتح کرنے سے پہلے ایک میدان میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور ایک بڑے جشن کا انہوں نے اہتمام کیا ۔عیسائی لشکر بے انتہا خوش تھا اور وہ اپنی اس ابتدائی فتوحات پر پھولے نہیں سما رہا تھا۔

شب خون اور صلیبیوں کی شکست

رات کے اندھیرے میں صلیبی فوج شراب اور نشے میں مدہوش ہو چکی تھی، کچھ سپاہی تو سو چکے تھے ،جبکہ باقی کے سپاہی شراب و کباب کی مستی میں مست تھے، کہ فتح کے جشن کے دوران اچانک پڑاؤ کے چاروں اِطراف سے تکبیر کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں، یہ دراصل عثمانی کمانڈر لالا شاہین پاشا کی ایک چال تھی وہ اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ وہ اپنے مختصر سے دستے کے ساتھ اس صلیبی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتے جس کی تعداد کم و پیش 60 ہزار کے آس پاس تھی۔ سو انہوں نے فیصلہ کیا کہ جب رات کے وقت صلیبی فوج آرام کر رہی ہوگی اور وہ شراب کے نشے میں دھت ہوگی تو اس وقت صلیبی لشکر پر حملہ کرنا انتہائی آسان ہوگا سو انہوں نے ایسا ہی کیا حملے سے پہلے عثمانی فوج نے ڈھول کی آواز سے رات کے اندھیرے میں خوف و ہراس پیدا کیا اور پھر لالا شاہین پاشا اور حاجی البے اپنے اپنے سپاہیوں کے ساتھ نعرے تکبیر کے ایمان افروز نعروں کی گونج کے ساتھ عیسائی لشکر پر ٹوٹ پڑے، یہ حملہ چاروں اطراف سے کیا گیا تھا ۔عیسائی لشکر کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عثمانی یوں ان پر اچانک رات کے وقت حملہ کر سکتے ہیں ۔اس لیے تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود صلیبی فوج نے عثمانیوں کے خلاف مزاحمت نہ کی۔ یہ رات صلیبی فوج کے لیے انتہائی خوفناک رات تھی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوا تو میدان صلیبی فوج کی لاشوں کے ساتھ اٹا پڑا تھا۔ بہت سے صلیبی فوجی جنگی قیدی بنا لیے گئے تھے جبکہ چند سو ہی زندہ بھاگنے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ہینگری کا بادشاہ لایوش بھی اس حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا

یوں یورپ سے ترکوں کو نکالنے کا خواب صلیبیوں کا خواب ہی رہا۔ لالا شاہین پاشا نے اس جنگ میں شاندار فتح حاصل کی۔ جب فتح کی خبر سلطان مراد کو پہنچی تو وہ اس فتح سے بے حد خوش ہوئے۔ اس فتح سے ترکوں کے قدم یورپ میں مزید مضبوط ہو گئے۔ اس کے بعد سلطان مراد ادر نے یورپ جا پہنچے اور انہوں نے ادر نے شہر کو سلطنت عثمانیہ کا نیا دارالحکومت بنا دیا۔ سلطان مراد کی تو یہ ابھی صرف ابتدائی فتوحات تھیں، ابھی مزید انہوں نے یورپ میں مذید فتوحات جاری رکھنی تھی۔

نتیجہ

سلطان مراد اول نے اپنے ابتدائی دورِ حکومت میں اناطولیہ کی بغاوتوں کو کچلا اور تھریس، ادرنہ اور بلغاریہ سمیت یورپ کے وسیع علاقے فتح کیے۔ ادرنہ کے قریب صلیبی اتحادی فوج کو شکست دے کر انہوں نے یورپ میں ترکوں کے قدم مضبوط کیے اور ادرنہ کو سلطنتِ عثمانیہ کا نیا دارالحکومت بنایا، جو ان کی آئندہ فتوحات کی بنیاد ثابت ہوا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms