یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد فاتح کی فتوحات کا سلسلہ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد بھی جاری رہا۔ اس سے قبل سلطان فاتح ولاد ڈریکولا کو شکست دے چکے تھے، اور اناطولیہ میں آق قیونلو کے سلطان اوزون حسن کو زیر کرنے کے بعد انہوں نے طرابزون کی عیسائی ریاست کا بھی خاتمہ کر دیا تھا۔ زیرِ نظر تحریر میں سلطان فاتح کے وہ معرکے اور فتوحات بیان کی گئی ہیں جن میں بوسنیا اور رومی موریا کی فتح، البانیہ کے جنگجو اسکندر بیگ اور مالدیویہ کے اسٹیفن سے خونریز جنگیں، کریمیا اور اوٹرانٹو کی فتح اور روڈس کی ناکام مہم شامل ہیں۔
بوسنیا کی فتح
سربیا کی فتح کے بعد بوسنیا کے دروازے عثمانیوں کے لئے کھل چکے تھے،کیونکہ کلیسائےرومہ کے مظالم سے بوسنیا کے باشندے اہل سرویا سے بھی زیادہ عاجز تھے، انہوں نے بھی ترکوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھا۔ صدیوں سے وہاں لاطینی اور یونانی کلیساؤں کے معر کے گرم تھے، جن سے پریشان ہو کر بہت سے لوگ ان دونوں مسلکوں سے علیحدہ ہو گئے تھے اور اپنی عافیت کے لیے ایک نیا مذہب اختیار کر لیا تھا، جو بدعت بو گول (Bogumil Heresy) کے نام سے مشہور ہوا۔ لیکن اب اس جدید فرقہ کے لوگوں پر دوہرے مظالم ہونے لگے، وہ کبھی یونانی کلیسا کے شدید مظالم کا شکار ہوتے اور کبھی لاطینی کلیسا کے، یہ مظالم دیکھ کر اکثر اہل بوسنیا کو اسلام ہی کے دامنِ رحمت میں پناہ نظر آئی۔
اور جب "اسٹیفن توماسویچ"نے عثمانی سلطنت کو خراج دینے سے انکار کیاتو، سلطان فاتح نے محمود پاشا کی کمان میں ایک فوج روانہ کی۔ تُرک فوج فاتحانہ آگے بڑھتی گئی، بہت سے قلعوں نے ترکوں کا خیر مقدم کیا، "اسٹیفن توماسویچ" میں جب مقابلہ کی طاقت نہ رہی تو اس نے جان بخشی کے وعدہ پر ہتھیار ڈال دیے، مگر سلطان فاتح نے اسکی جانبخشی نہ کی اور اسے اسکے بیٹے سمیت قتل کر دیا، یوں بوسنیا بھی 867ھ بمطابق (1462ء) میں سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ بن گیا، جسکے بعد یہاں کے نوجوانوں میں سے تیس ہزار ینی چری فوج کے لیے چن لیے گئےاور اس کے اکثر اُمر مشرف بہ اسلام ہوئے۔
موریا پر قبضہ
بوسنیا کی فتح کے بعد اب "رومن موریہ" کی باری آئی۔ موریا میں خاندانِ پلیولوگس کی حکومت کا بھی بتدریج خاتمہ ہورہا تھا ، "طامس" اور "دمتریس" نے خراج کے وعدہ پر اپنی خود مختاری قائم کی ہوئی تھی۔ لیکن جب بلغراد کی مہم میں سلطان کو ناکامی ہوئی اور یورپ کے مذہبی جوش نے ترکوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو ایک لمحےکے لیے روک دیا، تو موریا کے فرماں رواؤں کو بھی سلطنتِ عثمانیہ کی سیادت کا بار محسوس ہونے لگا، پوپ نے بھی ان کے جذبات کو ہوا دی، چنانچہ جب پوپ کا جنگی بیڑا "بحرِایجین" میں نمودار ہوا، تو طامس نے ہمت کر کے خراج کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا، اس سے قبل بھی تین سال سے باوجود متعد د تقاضوں کے سلطان کو مور یا سے خراج کی کوئی رقم وصول نہیں ہوئی تھی۔ لیکن ابھی تک اعلانیہ انکارکی نوبت نہیں آئی تھی۔ اس لیے سلطان محمد فتح نے کسی قسم کی سختی بھی نہی کی تھی۔ اب یہ انکار گویا بغاوت کا اعلان تھا، چنانچہ سلطان فاتح 863 ھ بمطابق(1458ء) میں ایک بڑی فوج لے کر خود موریا روانہ ہوئے اور متعدد قلعوں کو فتح کرتے ہوئے "پتراس" جا پہنچے جو طامس کی حکومت کا مرکز تھا۔ پتر اس کے باشندے شہر چھوڑ کر بھاگ گئے، قلعہ کے فوجی دستے نے بھی مزاحمت کی جرات نہ کی محمد فاتح نے "پتراس" کے باشندوں کے ساتھ بڑی فیاضی اور کشادہ دلی کا برتاؤ کیا۔ اس کے بعد "کورنتھ" فتح ہوا۔ کورنتھ کے باشندوں کو بھی سلطان نے ویسی ہی مراعات دیں اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن وہاں کے بہت سے لوگوں کو سلطان نے قسطنطنیہ اور اس کے مضافات میں لے جا کر آباد کیا، یہ لوگ کاریگر اور کاشت کار تھے، طامس اور دمتریس کے پاس اب صلح کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔ سلطان محمد فاتح نے ان کی درخواست قبول کی اور صلح نامہ کی تکمیل کے بعد وہ موریا سے روانہ ہوئے۔ لیکن سلطان کے جاتے ہی ان بھائیوں نے پھر بغاوت شروع کر دی۔ سلطان محمد فاتح کو مجبوراً واپس لوٹنا پڑا، اب کی بار سلطان نے ارادہ کر لیا، کہ موریا کو سلطنتِ عثمانیہ کا ایک صوبہ بنا کر رہے گا ، "دمتریس" نے خود کو"مسٹرا" ( MYstra) کے قلعہ میں بند کر لیا اور مدافعت کی کوشش کی، مگر بہت جلد اسے ہتھیار ڈال کر قلعہ ترکوں کے سپرد کر دینا پڑا، سلطان محمد فاتح نے اس کے اخراجات کے لیے پچاس ہزار ایسپر (Asper) بطور پیشن کے مقرر کر دیے. لیکن "دمتریس" نے آخر میں رہبانیت اختیار کر لی اور 875ھ (1470ء) میں اس کا انتقال ہوگیا۔ دمتریس کے بعد سلطان فاتح "طامس" کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے شہروں کو یکے بعد دیگرے فتح کرنا شروع کیا ، طامس نے اپنے مقبوضات کو بچانے کی ذراسی بھی کوشش نہ کی اور اپنے خاندان کے ساتھ جہاز پر سوار ہو کر کا رفو چلا گیا۔ لیکن صرف 3ماہ بعد اس نے "کارفو" کو بھی خیر باد کہا اور رومہ پہنچ کر پوپ کے دامن میں پناہ لی،اور وہیں 870ھ (12 مئی 1465ء) میں اس کا انتقال ہوا۔ سلطان محمد فاتح نے موریا کے تمام علاقوں کو فتح کر کے انہیں سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ اور 864 ھ (1460ء) میں موریا بھی سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ بن گیا۔
آلِ کرمانیہ
موریا کی فتح کے بعد اناطولیہ میں موجود تُرک قبیلے "کارامان نے سلطان فاتح کے خلاف بغاوت کر دی۔ دراصل کر مانیہ اور سلطنتِ عثمانیہ کی دشمنی بہت پُرانی چلی آرہی تھی۔ سلطان محمد فاتح کی تخت نشینی کے چند دنوں بعد کرمانیہ کے امیر ابراہیم نے خراج ادا کرنے کا معاہدہ کر کے سلطان سے صلح کر لی تھی ، اور وہ آخر دم تک اس معاہدہ پر قائم رہا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے لڑکوں میں ریاست کے لیے جنگ چھڑ گئی۔ جس پر سلطان محمد فاتح نے ان سب کو برطرف کر کے خود کرمانیہ پر قبضہ کر لیا ۔ اب اگرچہ کرمانیہ پر سلطان فاتح کا قبضہ ہو چکا تھا لیکن کرمانیہ کی سلطنتِ عثمانیہ میں مکمل شمولیت 1187ء سلطان فاتح کے بیٹے "بایزید دوم" کے دورِ حکومت میں ہوئی تھی۔
کریمیا کی فتح
قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح کا سب سے اہم کارنامہ کریمیا کی فتح تھی۔ جس کا سہرا سلطنتِ عثمانیہ کے مشہور سپہ سالار صدراعظم "احمد کدک پاشا" کے سر جاتا ہے۔ کریمیا پر حملہ کے دو خاص اسباب تھے، ایک سبب تو یہ تھا کہ اس زمانہ میں جنوا سے سلطنتِ عثمانیہ کے تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے اور کریمیا میں "کافہ" کا مضبوط شہر جنوا کے قبضہ میں تھا ، دوسرا سبب یہ ہوا کہ خود خانِ کریمیا نے ، جسے اس کے باغی بھائیوں نے تخت سے اتار دیا تھا محمد فاتح سے مدد کی درخواست کی۔
ہوا دراصل کچھ یوں کہ "منگلی گراے" کریمیا کے گرائے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو 15ویں صدی میں کریمیا کے حکمران تھے۔ جب وہ خان بنے، تو اندرونی سازشوں اور طاقت کے تنازعات کی وجہ سے ان کے بھائیوں نے انہیں تخت سے ہٹا دیا۔ اس بغاوت کے بعد، منگلی گیرے نے سلطان محمد فاتح (Mehmed II) سے مدد کی درخواست کی، جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کے طاقتور حکمران تھے۔
ان اسباب کے علاوہ کریمیا کا محل وقوع بھی قسطنطنیہ کے تخت نشینوں کے لیے انتہائی اہم تھا اور سلطان محمد فاتح جیسے بیدار مغز سلطان کی نظر سے یہ امر پوشیدہ نہ تھا کہ عثمانی مقبوضات کے تحفظ کے لیےکریمیا کو اپنی سلطنت میں شامل کر لینا کس قدر ضروری ہے۔
چنانچہ 880ھ (1475ء) میں "احمد کدک"پاشا نے جنگی بیڑے اور چالیس ہزار فوج کے ساتھ پہلے "کافہ" پر حملہ کیا، اس شہر نے جو اپنی دولت اور مضبوطی کے لحاظ سے "قسطنطنیہ کو چک"کہلاتا تھا،اس نے 4 روز میں ہتھیار ڈال دیے، اس فتح میں بہت زیادہ مال غنیمت ہاتھ آیا ، چالیس ہزار باشندے قسطنطنیہ کو منتقل کر دیے گئے اور ڈیڑھ ہزار نو جوان ینی چری فوج میں بھرتی کیے گئے ، پھر برق رفتاری کے ساتھ پورے ملک پر ترکوں کا قبضہ ہو گیا اور کریمیا کی آزادی ختم ہو گئی ، اس کے بعد تین سو برس تک کریمیا کے خان دولت عثمانیہ کے محکوم رہے۔
مالدیویہ اور اسٹیفن سوم سے جنگیں
کریمیا کی فتح کے بعد اب یورپ میں سلطان محمد فاتح کا ایک اور نئے دشمن سے سامنا ہوا، جو کہ مالدیویا کا حکمران اسٹیفن سوم تھا۔ مالدیویہ کی تاریخ جاننے کے لیے ہمیں تقریباً 20 سال پیچھے جانا ہوگا۔
سنہ1451 عیسوی میں مالدیویہ کے شہزادے "بوگڈان دوم" کو اس کے بڑے بھائی"پیٹر" نے قتل کر دیا تھا۔ جس کے بعد اس نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ تخت سنبھالنے کے بعد اس نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے پولینڈ کے بادشاہ کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم کئے۔ اس کے بعد1456 عیسوی میں اس نے عثمانی سلطنت کو خراج کی رقم دینا شروع کر دی۔ تا ہم"بوگڈان" کا بیٹا اسٹیفن جو کہ موجودہ بادشاہ پیٹر کا بھتیجا تھا، اس نے جان ہونیاڈی اور ولاچیا کے شہزادے ولاد ڈریکولا سے فوجی مدد لینے کے بعد 1457 عیسوی میں اس نے اپنے چچا "پیٹر" کو "اربک" کی جنگ میں شکست دیتے ہوئے تخت پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اسٹیفن نے اپنی ریاست میں اصلاحات شروع کر دیں، جس میں اس نے جاگیرداروں کی طاقت کو کم کرتے ہوئے فوج کو بہتر بنایا اور جب 1462 عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے ولاچیہ کے شہزادے "ولاد ڈریکولا" کو شکست دیتے ہوئے اس کے چھوٹے بھائی "راڈو" کو ولاچیہ کے تخت پر بٹھایا تو اس موقع کوغنیمت سمجھتے ہوئے مالڈیویا کے بادشاہ اسٹیفن نے "کِلیا" شہر پر جو کہ اس وقت عثمانیوں کے قبضے میں تھا اس پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا، یہ شہر تجارتی نقطہ نظر سے انتہائی اہم تھا۔ کیونکہ یہ دریائے ڈینیوب کے ڈیلٹا پر واقع تھا۔ جس کی وجہ سے اسے تجارتی اور فوجی لحاظ سے بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اس کے بعد ہینگری کے صوبے "ٹرانسلوینیا" میں ایک بغاوت ہوئی اور اسٹیفن نے ہینگری کے خلاف ہونے والی اس بغاوت کی بھرپور حمایت کی جس کی وجہ سے 1467 عیسوی میں ہنگری کے بادشاہ "متھیازاول" نے مالدیویہ پر حملہ کر دیا۔اس کے پاس 20 سے 40 ہزار کی فوج اور چند سو توپیں تھیں۔ لیکن "بایا" کی جنگ میں اسٹیفن نے ہینگری کی فوج کو زبردست شکست دی۔
سنہ1471 عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے اسٹیفن سے "کِلیہ" شہر کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس کے جواب میں اسٹیفن نے شہر واپس کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور 1472 عیسوی میں اس نے سلطان محمد فاتح کے خلاف ایک دوسرے ترک قبیلے "آق قیونلو" کے سلطان "اوزون حسن" کے ساتھ اس نے سازشیں شروع کر دیں۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد 1473 عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے "آق قینلو" کے سلطان "اوزون حسن" کو "آؤٹ لک بیلی" کی جنگ میں شکست دے کر اپنی مشرقی سرحدیں محفوظ کر لی تھیں، جس کے بعد سلطان محمد فاتح یورپ کی جانب متوجہ ہوئے۔
اب سلطان محمد فاتح اور اسٹیفن کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پہنچنے کے بعد ایک بار پھر اسٹیفن کو خط لکھا، کہ خراج کی رقم ادا کی جائے، کِلیہ کا شہر سلطان کے حوالے کیا جائے ۔ اورسلطان کی باج گزار ریاست "ولاچیہ" پر حملے بند کیے جائیں۔ لیکن اس بار بھی شہزادے اسٹیفن نے سلطان کے مطالبات ماننے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ اس پر سلطان فاتح نے یورپ میں موجود عثمانی گورنر "سلیمان پاشا"" کو جو کہ اس وقت "البانیہ" میں سکندر بیگ کے خلاف جنگ میں مصروف تھا، اسے سلطان نے جلد البانیہ کی مہم کو ختم کرنے اور اپنی فوج کو مالدیویہ کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے روانگی کا حکم دیا۔ سلیمان پاشا نے سلطان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ستمبر 1474 عیسوی میں 50 ہزار کی فوج کو صوفیہ میں جمع کیا۔ اُدھر شہزادہ اسٹیفن جانتا تھا کہ سلطان محمد فاتح کے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں اسے عثمانی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس نے وقتی طور پر 10 ہزار کی فوج کو جمع کیا اور اس نے ہنگری اور پولش بادشاہ سے بھی فوجی مدد مانگی، جس کے بعد 20 ہزارہنگری اور 5 ہزار کی فوج ٹرانسلوینیا سے اسٹیفن کی مدد کے لیے روانہ ہوئی اور یوں اب مجموعی طور پر اسٹیفن کے پاس تقریباً 40 ہزار کی فوج موجود تھی۔ جس سے وہ عثمانیوں کے خلاف جنگ لڑ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اسٹیفن کے پاس 20 توپیں اور ایک چھوٹی یونٹ تھی جن کے پاس چھوٹی بندوقیں موجود تھیں۔
واسلوئی کی جنگ اور عثمانی شکست
عثمان کمانڈر سلیمان پاشا نے نومبر 1474 عیسوی میں دریائے ڈینیوب کو عبور کیا اور اس نے اپنی فوج کو دو ہفتوں تک آرام کرنے دیا۔ پھر اس نے عثمانی فوج کو مالدیویا کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا۔
دسمبر میں عثمانی فوج مالدیویا میں داخل ہوئی۔ لیکن اسٹیفن نے پہلے سے ہی جنگ کی تیاری کر رکھی تھی۔ اس نے عثمانیوں کے خلاف بہترین جنگی حکمتِ عملی اپنائی۔ اس نے دیہات جلا دیے پانی کے کنوؤں میں زہر ملا دیا اور آبادی کو بہت دور منتقل کر دیا۔ تاکہ عثمانی فوج کو راستے میں رسد کی شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑے۔ اب یہ ایک تھکا دینے والی جنگ تھی اور اسٹیفن بہترین جنگی چالیں چلنے کا ماہرتھا۔ یوں بھوک اور تھکاوٹ سے چور عثمانی فوج نے ایک ماہ تک شمال کی طرف پیش قدمی کی اور10 جنوری 1475 عیسوی کو عثمانی جاسوسوں نے "واسالوئی" کی وادی کے جنوب میں آبادی دیکھی، جہاں سے "برلاد" ندی گزرتی تھی۔ شدید دھند، بارش اور سردی کی وجہ سے سلیمان پاشا نے فیصلہ کیا کہ وہ "واسلوئی" کے جنوب میں اپنی فوج کو تب تک آرام کرنے دے گا۔ جب تک کہ پوری مالدیویائی فوج نہ آ جائے۔ تاہم جب عثمانی فوج دریا کے دوسرے کنارے پر موجود واحد پل کے ذریعے دریا کو عبور کرنے لگی تو شمال میں مالڈیویائی جنگی ڈھولوں کی آواز سنائی دی، جس پر سلیمان پاشا کو لگا کہ "مالڈیویائی" فوج دریا کے اُس پار مقابلے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ سلیمان پاشا نے فوری طور پر اپنے ہر اول دستے کوآگے بڑھنے اور مغرب کی جانب فوج کو صف بندی کا حکم دیا اس دوران جبکہ جنگی ڈھولوں کی آواز جاری تھی، مزید عثمانی فوج دریا پار کر کے کیچڑ سے گزرتے ہوئے اس نے صف بندی کی۔ دریا پار کرنے کے بعد عثمانی فوج جہاں پر صف آرا تھی ، یہ ایک تنگ وادی تھی۔ جو کہ گھڑ سوار فوج کے حملے کے لیے مناسب نہیں تھی۔
بالاخر کافی تگ و دو کے بعد عثمانی فوج کاہراول دستہ مالڈیویائی گھڑ سواروں کے ساتھ ٹکرا گیا۔ یہاں اسٹیفن کی ہلکی گھڑ سوار فوج نے عثمانی دستوں کے دونوں جانب سے حملہ کیا اور انہیں وادی کی طرف دھکیل دیا۔ یہ اسٹیفن کے بہترین فوجی گھڑسوار دستے تھے۔ جو کہ ایک جنگی جال کے طور پر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے رہے۔ لیکن عثمانی فوج کو اس وقت حیرانی ہوئی جب مالڈیویائی گھڑ سوار اچانک رک گئے اور اسی لمحے اسٹیفن نے چھپے ہوئے توپ خانوں، تیر اندازوں اور بندوق برداروں کو عثمانی ہراول دستے پر حملے کا حکم دیا۔ سلیمان پاشا جو کہ دریا کے اس پار اپنی فوج کو دریا عبور کرانے میں مصروف تھا۔ جب اسے اس حملے کی خبر ملی تو انہوں نے جلد بقیہ عثمانی فوج کو دریا پار کرنے کا حکم دیا
یوں 10 جنوری 1475 عیسوی کو عثمانی اور مالڈیویائی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ اس دوران جبکہ سلیمان پاشا اپنی بقیہ فوج کے ساتھ مرکزی لشکر کی جانب بڑھ رہے تھے کہ اچانک انہیں عثمانی فوج کے بائیں جانب جنگل میں مالدیویا کے جنگی ڈھولوں کی آواز سنائی دینے لگی، جس پر عثمانی کمانڈر بالکل گھبراہٹ کا شکار ہو گئے اور سلیمان پاشا کو یہ لگا کہ بائیں جانب سے بھی مالدیویا کی فوج حملے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔ جس پر انہوں نے بقیہ فوج کو دفاع کے لیے صف بندی کا حکم دیا۔ تا ہم یہ اسٹیفن کی ایک جنگی چال تھی اور اسی دوران مالڈویا کے جنگل میں چھپے گھڑ سوار دستے اچانک نمودار ہوئے اور انہوں نے عثمانی فوج پر حملہ کر دیا یہ اچانک حملہ اس قدر شدید تھا، کہ عثمانی فوج کو لگا کہ وہ تینوں اطراف سے گھیرے میں آ چکی ہے اور عثمانی فوج شدید گھبراہٹ کا شکار ہو گئی۔ عثمانی پیدل دستوں نے پسپائی اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ مالڈیویا کی گھڑسوار فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ سلیمان پاشا بڑی مشکل سے جان بچا کر میدانِ جنگ سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ عثمانی فوج کی یہ پسپائی تین دن تک جاری رہی۔
اس جنگ میں اسٹیفن کے 4500 سپاہی مارے گئے، جبکہ عثمانی فوج کے تقریباً 45 ہزار سپاہی شہید ہوئے، بہت سے عثمانی اعلیٰ عہدے دار جنگی قیدی بنائے گئے اور بعد میں انہیں شہزادے اسٹیفن کے حکم پر پھانسی دے دی گئی۔ مالدیویا کی شکست عثمانیوں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی شکست تھی۔ اس فتح کے بعد اسٹیفن کو یورپ میں خوب پذیرائی ملی اور اسے "عیسائیت کے چیمپین کا خطاب ملا"
ویلیا البا کی جنگ اور سلطان فاتح کی ذاتی مہم
جب سلطان محمد فاتح کو سلیمان پاشا کی اس عبرت ناک شکست کا علم ہوا۔ تو سلطان سخت برہم ہوئے۔ اب سلطان نے محسوس کر لیا تھا، کہ انہیں مالدیویا کے خلاف خود لشکر لے کر جانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے1476ء کے موسم گرما میں سلطان نے تقریباً ایک لاکھ کی فوج کے ساتھ مالدیویا کے حکمران اسٹیفن کو سبق سکھانے کے لیے وہ دارالحکومت سے روانہ ہوئے۔ سلطان نے مالڈیویا میں داخل ہونے کے بعد "اکرمان" نامی ایک قلعے کو جو کہ "کیلیا" ہی کی طرح ایک انتہائی اہم تجارتی مرکز تھا اس کا محاصرہ شروع کر دیا اور چند دنوں کے محاصرے کے بعد اہل شہر نے عثمانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اسٹیفن نے سمجھا کہ عثمانی فوج کا کھلے میدان میں مقابلہ کرنا خود کو موت کے گلے لگانے کے برابر ہے۔ اس لیے اس نے اپنی گزشتہ جنگی چالیں چلنے کا فیصلہ کیا، لیکن اب کی باراس کے سامنے کوئی عام عثمانی پاشا یا سپہ سالار نہیں بلکہ خود سلطان محمد فاتح تھے۔ سو سلطان محمد فاتح نے سلیمان پاشا کی غلطیوں کو بالکل بھی نہ دہرایا اور وہ آہستہ آہستہ پیش قدمی کرتے گئے، تاکہ ان کی سپلائی لائن محفوظ رہ سکے آخر کار 26 جولائی 1476 عیسوی کو "ویلیاالبا" میں سلطان محمد فاتح کا اسٹیفن کی 30 ہزار کی فوج کے ساتھ سامنا ہوا۔
جلد سلطان محمد فاتح کے حکم پر عثمانی فوج کا پیدل دستہ دشمن پر حملے کے لیے روانہ ہوا۔اسٹیفن نے جنگل کو آگ لگا دی، جس کی وجہ سے بے شمار عثمانی سپاہی دم گھٹنے کی وجہ سے مارے گئے، اس کے علاوہ مالڈیویہ کی توپوں اور بندوق بردار دستوں نے بھی عثمانی فوج کو شدید نقصان پہنچایا، تاہم عثمانی فوج تعداد میں زیادہ تھی۔ جس کی وجہ سے مالدیویا کی جانب سے بنائی گئی عارضی رکاوٹیں عثمانی فوج کے قدموں کو نہ روک سکیں اور دونوں فوجوں کے ہراول دستے آپس میں نبردآزما ہوئے۔ جب اسٹیفن نے دیکھا کہ یہ ایک فیصلہ کن حملے کا وقت ہے، تو اس نے اپنے 4 ہزار مضبوط گھڑ سواردستوں کو سلطان کی فوج پر حملے کے لیے روانہ کیا، جس پر سلطان نے اپنے پیدل دوستوں کو بچانے کے لیے اپنے دائیں اور بائیں جانب موجود گھڑ سواروں کو روانہ کیا۔ جس کی وجہ سے جنگ کا پلڑا عثمانیوں کی جانب جھکنے لگا لیکن یہ کامیابی زیادہ دیر پا نہیں تھی کیونکہ اسٹیفن کے ایک ہزار گھڑ سوار جنگل میں چھپے ہوئے تھے اور انہوں نے اچانک اسٹیفن کے حکم پر عثمانی گھڑ سواروں پر حملہ کر دیا جس سے عثمانی فوج پر دباؤ بڑھتا گیا اور عثمانی سپاہی آہستہ آہستہ مالدیویا کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جا رہے تھے۔ سلطان محمد فاتح نے دیکھا کہ جنگ جیتنے کا واحد راستہ اس کی ذاتی شمولیت ہے ۔جس پر سلطان بقیہ ینی چری سپاہیوں کے ساتھ میدان میں اترے۔ ینی چری سپاہیوں نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ مالدیویا کی فوج پر اس قدر شدت سے حملہ کیا کہ چند ہی لمحوں میں مالدیویا کی فوج اپنی توپیں اور اسلحہ چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ نکلی۔ سلطان کے حکم پر مالدیویا کی فوج کا تعاقب کیا گیا۔ جبکہ پیدل دستہ عثمانی سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ جنگ کے اختتام پر جنگل لاشوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ شکست مالدیویا کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب تھا۔ اس جنگ میں دونوں جانب سے تقریباً 30 ہزار سپاہی میدانِ جنگ میں کام آئے۔ شکست کے بعد اسٹیفن پولینڈ کی سرحد کی طرف پیچھے ہٹ گیا اور وہ ایک نئی فوج بھرتی کرنے میں مصروف ہو گیا۔ جبکہ عثمانی فوج کو بھوک ،طاعون کی وبا اور مقامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کی وجہ سے سلطان محمد فاتح نے واپس قسطنطنیہ جانے کے لیے فوج کو تیاری کا حکم دیا۔ اگرچہ اسٹیفن اور سلطان محمد فاتح نے کچھ عرصے تک ولاچیہ میں مداخلت پر جنگ کی، لیکن آخر کار مالڈیویا کے شہزادے نے امن کا معاہدہ کرتے ہوئے، اس نے سلطان کو خراج ادا کرنا شروع کر دیا۔
اسکندر بیگ اور البانیہ کی مزاحمت
اسٹیفن کے بعد سلطان فاتح کو البانیا کے جنگجو رہنما "جان کسٹریوٹی"کا سامنا کرنا پڑا، جس نے بیسیوں بار عثمانی فوج کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنے وطن کی حفاظت کی تھی۔ جان کسٹریوٹی کی تاریخ جاننے کے لئے ہمیں تقریباً30سال پیچھے جانا پڑے گا۔
سلطان مراد کے دور میں اسکندر بیگ کی بغاوت
سلطان مراد کے ابتدائی عہد حکومت میں البانیا کی ایک ریاست کا امیر جان کستریو ( John Castriot) سلطنتِ عثمانیہ کا مطیع ہوگیا تھا، اس نے بطور ضمانت اپنے چاربیٹوں کوسلطان مراد کی خدمت میں بھیج دیا تھا، ان میں سے تین تو بچپن ہی میں انتقال کر گئے، چوتھا لڑ کا جارج کستر یوزندہ رہا اور اس کی ہونہاری اور فراست نے بہت جلد سلطان کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، سلطان مراد نے اپنی ذاتی نگرانی میں جارج کو اسلامی اور فوجی تعلیم دلوائی اور اس کی لیاقت اور شجاعت سے خوش ہو کر محض اٹھارہ سال کی عمر میں اسے ایک سنجق کا حاکم بنا دیا اوراسے اسکندر بک کے لقب سے سرفراز کیا، جان کستر یو کا جب انتقال ہوا تو سلطان مراد نے اس کی ریاست سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی، یہ بات اسکندر بک کو بہت ناگوار گزری لیکن اس نے ایک عرصہ تک اپنے اندرونی جذبات کو ظاہر نہیں ہونے دیا، جب 848ھ (1443ء) میں ہو نیاڈے کے مقابلہ میں عثمانی فوج کو شکست ہوئی تو اسکندر بک نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئےاپنے باپ کی ریاست پر قبضہ کرنے کے لیے تیار ہو گیا، چنانچہ ایک روز وہ رئیس آفندی یعنی سلطان کے چیف سیکریٹری کے خیمہ میں دفعتاً داخل ہوا اور اس کے گلے پر خنجر رکھ کر البانیا کے مضبوط شہر آق حصار ( جس کا قدیم نام کروئیا (Crola)) تھا، کے ترک افسر کے نام ایک حکم نامہ لکھوالیا، کہ شہر اور اس کے ملحق علاقے بہ حیثیت گورنر کے اسکندر بک کو دے دیے جائیں، یہ تحریر حاصل کر لینے کے بعد اس نے رئیس آفندی کو فوراً قتل کر دیا اور اسی وقت البانیا کی طرف روانہ ہو گیا ، آق حصار پہنچ کر اس فرمان کے ذریعہ سے وہ شہر پر قابض ہو گیا، اس کے بعد اس نے اپنی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے دوبارہ عیسائیت اختیار کر لی۔
سکندر بیگ نے بغاوت کی علامت کے طور پر ایک سرخ جھنڈا منتخب کیا جس پر دو سر والا عقاب تھا جو کہ آج بھی البانیہ کے جھنڈے پر موجود ہے۔ سلطان مراد کو جب اسکندر بے کی بغاوت کا علم ہوا تو انہوں نے اس بغاوت کو کچلنے کے لیے علی پاشا کی قیادت میں 40 ہزار کی مضبوط عثمانی فوج روانہ کی، دونوں فوجوں کا سامنا "تورویول" کے میدان میں ہوا "اسکندر بیگ" کے پاس صرف 15 ہزار کی مختصر فوج تھی۔ جب عثمانی کمانڈر علی پاشا وہاں پہنچا تو اسے صرف پانچ ہزار باغیوں کی ایک مختصر سی فوج نظر آئی علی پاشا نے میدان میں پہنچ کر پہاڑی کے نیچے موجود پانچ ہزار باغیوں کو دیکھا اور اس نے انہیں کم خیال کرتے ہوئے اپنی فوج کو حملے کا حکم دیا۔ ایک مختصر سی لڑائی کے بعد یہ پانچ ہزار باغی فوج پہاڑی کی جانب پسپا ہونے لگی۔ عثمانیوں نے ان کا پیچھا شروع کر دیا اور پہاڑ کے قریب پھر جنگ شروع ہو گئی اس دوران جبکہ عثمانی فوج فتح کے بالکل قریب تھی کہ سکندر بیگ نے اپنی چھپی ہوئی البانوی فوج کو حملے کا حکم دیا اور 10 ہزار البانوی سپاہی جو کہ جنگل میں چھپے ہوئے تھے برق رفتاری کے ساتھ حملہ آور ہوئے اور انہوں نے عثمانی فوج کو پہاڑ کی چوٹی پر گھیر لیا۔ علی پاشا کو اب اپنے غلطی کا احساس ہوا لیکن تب تک عثمانی فوج دشمن کے نرغے میں آ چکی تھی۔ اس ابتدائی حملے میں سلطان مراد کی فوج کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس شکست کے بعد سلطان مراد نے ایک اور لشکر ، 1445 عیسوی میں روانہ کیا اور اسکندر بیگ کے ساتھ دوسری جنگ ہوئی جو کہ "موگرا" کی جنگ کے نام سے مشہور ہے، اس بار بھی عثمانی فوج کو شکست ہوئی اور فتح اسکندر بیگ کو حاصل ہوئی۔ اس کے اگلے سال یعنی کہ1447 عیسوی میں ایک اور عثمانی فوج سکندر بیگ کی بغاوت کو کچلنے کے لیے البانیا روانہ ہوئی، لیکن اس جنگ میں بھی عثمانی فوج کو شکست ہوئی اور سکندر بیگ نے یہ جنگ جیت لی۔ اس کے بعد سلطان مراد نے سکندر بیگ کے خلاف اپنی فوج روانہ کرنے کی بجائے اس نے ممکنہ طور پر سکندر بے کے حملوں سے بچنے کے لیے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا فوج کو حکم دیا.
جس پر سکندر بیگ نے اب "ونیشینز کی جانب اپنے حملے شروع کیے دراصل وہ البانوی ساحل کے ساتھ ونیشین علاقوں پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ "ڈگنم" کے قلعے پر قبضہ کر سکے۔ اس پر جمہوریہ وینس نے "ڈگنم" کے قلعے کی حفاظت کے لیے فوج روانہ کی اور سکندر بیگ کے خلاف انہوں نے سلطنت عثمانیہ سے فوجی مدد طلب کی، جس پر سلطان مراد نے ونیشینز کی مدد کے لیے ایک فوج روانہ کی۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ فوج اہلِ وینس کی فوج کے ساتھ مل کر سکندر بے کا خاتمہ کرتی۔ "شکودرا" میں اسکندربیگ نے ونیشین فوج پر حملہ کرتے ہوئے انہیںپسپا کر دیا،اور تین ہفتے بعد عثمانی فوج یہاں پہنچی جس کے بعد 1448 عیسوی میں "اورانگ" کی جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں اسکندر بیگ نے اپنی زبردست فوجی حکمتِ عملی اور گوریلا جنگی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے عثمانی فوج کو زبردست شکست دی۔ یہ فتح اسکندر بیگ کی مسلسل کامیابیوں میں ایک اور اضافہ تھا۔
اسی سال سلطان مراد دوم نے ایک لاکھ سپاہیوں پرمشتمل ایک اور بڑی فوج جمع کی اور اپنے بیٹے محمد دوم" کے ساتھ انہوں نے "کوچاک" قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ اگرچہ سکندر بیگ نے سلطان کے خلاف مزاحمت کی۔ لیکن وہ اس قلعے کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد آخر کار یہ قلعہ عثمانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے بعد سلطان مراد دوم نے سکندر بیگ کے دارالحکومت "کرویا" کا محاصرہ کر لیا۔ اس محاصرے کے دوران اسکندر بیگ نے سب سے پہلے توونیشینز پر حملہ کیا، جو کہ عثمانی فوج کو رسد فراہم کر رہے تھے، پھر اس نے عثمانی فوج کے خوراک فراہم کرنے والے دستوں پر حملہ کیا، یوں اسکندر بیگ کے کامیاب دفاع کی وجہ سے عثمانی فوج کو اس محاصرے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے چند ماہ بعد سلطان مراد دوم بیمار ہو گئے اور تین فروری 1451 عیسوی کو ان کا انتقال ہو گیا جس کے بعد ان کا بیٹا محمد دوم جو کہ بعد میں "سلطان فاتح" کے نام سے مشہور ہوا تخت نشین ہوا۔
سلطان فاتح کے دور میں البانیہ کے معرکے
سلطان محمد فاتح کے تخت نشین ہونے کے بعد اسکندر بیگ کو قدرِ اطمینان حاصل ہوا۔ کیونکہ نئے عثمانی سلطان محمد فاتح "قسطنطنیہ" کو فتح کرنے میں مصروف تھے۔ لیکن جب 1453 عیسوی میں قسطنطنیہ فتح ہو گیا تو اس کے بعد اب البانیہ کی بھی باری ا سکتی تھی۔ قسطنطنیہ کے فتح کے تقریباً دو سال بعد اسکندر بیگ نے یورپ سے ملنے والی امداد سے اپنی فوج کو مضبوط کیا اور قلعہ "بیرات" جو کہ سلطنتِ عثمانیہ کی سرحد پر ایک انتہائی اہم قلعہ تھا۔اس نے اس کا محاصرہ کر لیا تاہم اسحاق پاشا کی قیادت میں عثمانی فوج نے اس محاصرے کو توڑتے ہوئے اسکندر بیگ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد جب جولائی 1456 عیسوی میں سلطان محمد فاتح نے ایک بڑی فوج کے ساتھ ہینگری کے قلعے"بلغراد" کا محاصرہ کیا۔ تو جان ہونیاڈی نے سلطان کی فوج پر حملہ کرتے ہوئے سلطان کو شکست دی اور سلطان نے یہ محاصرہ ختم کر دیا۔ اس دوران اسکندر بیگ کا بھتیجا اور اس کی فوج کا ایک اہم افسر "حمزہ کاستریوتی" نے سلطان محمد فاتح کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے چچا اسکندر کی جنگی چالوں کو بڑی اچھی طرح سے جانتا تھا اس نے سلطان فاتح کو یہ مشورہ دیا کہ، وہ ایک بڑے حملے کے ذریعے پورے البانیا کو فتح کر لے چنانچہ مئی 1457 عیسوی میں ایک بڑی عثمانی فوج البانیہ کی طرف روانہ ہوئی اسکندر بیگ نے عثمانی فوج کے ساتھ براہ راست جنگ لڑنے سے گریز کیا۔ سلطان محمد فاتح نے اپنے دائیں دستے کی کمان اسحاق پاشا اور بائیں کی کمان حمزہ کاستریوتی کو دے دی۔ اسحاق پاشا ایک تجربے کار کمانڈر تھے۔ انہوں نے 1430 عیسوی میں اسکندر بیگ کے چچا کی بغاوت کو کچلا ہوا تھا اور وہ البانیا کے علاقوں اور ان کی جنگی حکمت عملیوں کو بڑی اچھی طرح سے جانتے تھے۔ اسکندر بیگ اکثر جنگ جیتنے کے لیے دشمن کو دھوکہ دے کر اپنے جال میں پھنسا لیتا تھا اور گھات لگا کر حملہ کرتا تھا۔ لیکن اب کی بار اس نے عثمانی فوج سے لڑنے کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ اسکندر بیگ نے اپنی فوج کو کئی گروپوں میں تقسیم کیا۔ اس نے اپنے کمانڈر کو حکم دیا کہ وہ سپاہیوں کو جنگلوں اور پہاڑوں کے راستے لے کر جائے اور عثمانی فوج کے ساتھ براہ راست لڑنے سے گریز کریں اور بغیر میرے حکم کے حملہ نہ کریں۔ اسحاق پاشاہ نے فیصلہ کیا کہ وہ البانیا کے اہم قلعے کرویا کا محاصرہ اس وقت تک نہیں کرے گا، جب تک وہ مکمل طور پر سکندر بیگ کی فوج کو شکست نہیں دے دیتا۔ عثمانی فوج نے "تومور" پہاڑ کے شمال میں کیمپ لگایا اور اسکندر بیگ کی فوج کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ عثمانی جاسوس اسکندر بیگ اور اس کی فوج کو پورے البانیہ میں تلاش کر رہے تھے۔ اسکندر بیگ جولائی اور اگست کے مہینوں میں پہاڑوں میں ہی مقیم رہا اور صحیح وقت آنے پر اس نے اپنی فوج کو حملے کا حکم دیا۔ البانوی فوج جو کہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم جنگل میں چھپ کر حملے کے انتظار میں تھی۔ وہ عثمانیوں کی نظروں سے بچ کر متحد ہوئی اور انہوں نے عثمانی قیام گاہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اسکندر بیگ اپنے سب سے بہترین گھرسواروں کے ساتھ ایک اونچی پہاڑی پر گیا اور اس نے دیکھا کہ عثمانی سپاہی آرام کر رہے ہیں۔ اس نے اپنی فوج کو ایک ایک کر کے حملہ کرنے کا حکم دیا۔ عثمانی فوج اس وقت جنگ کے لیے بالکل تیار نہ تھی حمزہ کسر یوتی نے سپاہیوں کو ترتیب دینے کی کوشش کی لیکن اس وقت البانوی فوج کے ایک دستے نے کیمپ پر حملہ کر دیا اور حمزہ کی شدید کوششوں کے باوجود بھی عثمانی فوج سنبھل نہ سکی۔ کیونکہ یکے بعد دیگرے ہر جانب سے ایک نیا گروہ جنگل سے نکلتا اور عثمانی فوج پر ٹوٹ پڑتا۔ انہیں اس وقت حیرانگی ہوی جب انہوں نے پیچھے سے ایک اور البانوی فوج کو آتے دیکھا اور وہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ تاکہ عثمانیوں کے ساتھ لڑ سکیں پھر ایک اور البانوی فوج جو کہ چھپی ہوئی تھی سامنے آگئی۔ جس کے بعد عثمانی فوج میں خوف و ہراس پھیل گیا اور قتل عام شروع ہوا۔ اس روز عثمانی فوج کے تقریباً 30 ہزار سپاہی شہید یا زخمی ہوئے ان میں سے 15 ہزار سے زیادہ سپاہی شہید ہو گئے تھے کئی عثمانی سپاہیوں کو البانویوں نے قید کر دیا ان قیدیوں میں اسکندر بیگ کا بھتیجا حمزہ کسرتر یوتی بھی شامل تھا۔ یہ فتح اسکندر بیگ کی اب تک کی سب سے بڑی فتح تھی۔ 1462 عیسوی تک اسکندربیگ عثمانی فوج کو ہر سال شکست دیتا رہا لیکن اگلےسال پھر عثمانی فوج دوبارہ طاقتور ہوکر حملہ آور ہوتی۔ اتحادی ممالک اسکندر بیگ کی مدد ہر ممکن طریقے سے کر رہے تھے۔ کیونکہ البانیا کا دفاع عثمانی سلطنت کو اٹلی اور مغربی یورپ کی طرف پیش قدمی سے روک رہا تھا۔
سنہ 1463ء میں سلطان محمد فاتح نے تین الگ الگ فوجیں تیار کیں اور انہیں البانیہ کی طرف روانہ کیا۔ جب اسکندر بیگ کو پتہ چلا کہ تین عثمانی فوجیں اس کے خلاف آ رہی ہیں، تو اس نے اپنی فوج کو جمع کیا اور روانہ ہوا۔ اس نے سب سے پہلے آنے والی عثمانی فوج کے کمانڈر"سنان پاشا" کو "موکرا"کے مقام پر شکست دی۔ حسین بے کی کمان میں آنے والی دوسری فوج کو "اوہرڈ" کے مقام پرشکست دی۔ تیسری فوج کو اسکندر بیگ نے "اسکوپچے" کے قریب شکست دی۔ اسکندر بیگ کا وطن تنگ دروں اور پہاڑوں کے مشکل جغرافیہ کی وجہ سے عثمانی فوج سے محفوظ تھا اور اسی لیے وہ کم تعداد کے ساتھ گوریلا جنگ لڑتے ہوئے اپنے ملک کا دفاع کر رہا تھا۔ لیکن سلطان محمد فاتح بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے وہ ہر سال ایک نئی اور مضبوط فوج البانیہ میں روانہ کرتے، تاکہ اسکندربیگ کو دباؤ میں رکھا جا سکے۔ عثمانی حملوں کی وجہ سے جو کہ ہر سال نئے سرے سے ہوتے تھے، اسن حملوں کی البانیا کو بھاری قیمت چکانا پڑتی۔ البانیا کی معیشت تباہ ہو چکی تھی۔
سلطان فاتح نے اسکندر بیگ کے خلاف ایک اور طاقتور فوج بھیجی جس کی کمان "بلبان پاشا" کے پاس تھی۔ س جنگ میں اگرچہ عثمانیوں کو شکست ہوئی لیکن، واپس جانے والے عثمانی دستوں نے اسکندر بیگ کے 19 افسروں کوگرفتار کر لیا۔ یہ قیدی اسکندر بیگ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھے۔ جب اس نے سلطان محمد فاتح کوقیدیوں کی رہائی کے بدلے تاوان کی درخواست کی تو سلطان نے صاف صاف انکار کر دیا اور تمام قیدیوں کو سلطان نے پھانسی دے دی۔ اسی سال سلطان محمد فاتح نے اسکندر بیگ کے خلاف مزید دو عثمانی فوجیں روانہ کیں۔ اسکندر بیگ نے دونوں فوجوں کو شکست دی اور بدلے میں تمام عثمانی سپاہیوں کو شہید کر دیا جنہیں اس نے سلطان کے خلاف انتقام کے طور پر گرفتار کیا تھا۔ سلطان محمد فاتح نے 1466 عیسوی میں 30 ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک اور فوج تیار کی اور اس بار وہ خود فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ سلطان محمد فاتح نے 1456 عیسوی میں "اکہیسر" شہر کا محاصرہ کیا۔ جسے وہ 16 سال پہلے اپنے والد کے ساتھ فتح کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ کئی ماہ کے مشکل ترین محاصرے کے بعد سلطان محمد فاتح نے محاصرے کی کمان اپنے کمانڈر بلبان پاشا کے سپرد کی اور وہ خود پیچھے ہٹ گئے۔ اسکندر بیگ نے واپس آ کر بلبان پاشا کو شکست دی اور انہیں شہید کر دیا اور وہ محاصرے کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگلے سال سلطان محمد فاتح ایک اور بڑی فوج کے ساتھ حملہ آور ہوئے انہوں نے "اکہیسر" کے ارد گرد کے لیے فتح کیے اور البانیا بھر میں فوجی چھاؤنیاں قائم کر دیں گئیں، سلطان محمد فاتح نے قلعوں میں فوجی تعینات کر کے اسکندر بیگ کو سخت دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ اب اسکندر بیگ کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔ 1468ء میں اسکندر بیگ اچانک ملیریا میں مبتلا ہو گیا اور جنوری میں اس کی موت ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب سلطان محمد فاتح کو اسکندر بیگ کی موت کی خبرملی تو سلطان نے کہا کہ:۔
"عیسائیت پر افسوس انہوں نے اپنی تلوار اور ڈھال کھو دی ہے"
اسکندر بیگ کے بعد اس کے بیٹے جان کستریو دوم نے البانیہ کے دفاع کی کوشش کی، لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا اور بالاخر البانیا کی فوج کچھ سالوں تک مزاحمت کرتی رہی اور آخری محاصرے میں پورا البانیا سلطنتِ عثمانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔
وینس سے جنگ
البانیا کی فتح کے اٹلی ترکوں کی زد میں آگیا، جس طرح ہو نیاڈے نے شمال میں عثمانی فوجوں کے بڑھتے ہوئے قدم کو چند دنوں تک روک رکھا تھا، اس طرح اسکندر بیگ بھی مغرب میں ان کی راہ روکے ہوئے کھڑا تھا، اس کے مرنے کے بعد اٹلی کا راستہ تُرکوں کے لئے کھل گیا اور وینس پر حملہ کا مسئلہ زیر غور آ گیا، جمہوریہ وینس نے فتح قسطنطنیہ کے دوسرے ہی سال سلطان سے منت و سماجت کر کے صلح کی درخواست کی تھی اور اس صلح نامہ کے ذریعہ محمد فاتح نے تقریباً وہ تمام تجارتی مراعات جو و ینس کو بازنطینی شہنشاہوں کے عہد میں حاصل تھیں ، اسے عطا کر دی گئیں۔ لیکن اسکندر بیگ کی کامیابیوں نے وینس کے اندر بھی سلطنتِ عثمانیہ کے مقابلہ کا حوصلہ پیدا کیا۔ وینس کو اپنی بحری طاقت کا غرور تھا، دوسری طرف سلطنت عثمانیہ کو بھی بلقانی ریاستوں پر کامل اقتدار رکھنے کے لیے بحر ایڈر یا ٹک اور بحر ایجین میں اپنے جنگی جہازوں کی تعداد بڑھانی ضروری تھی۔
البانیا کی تسخیر کے بعد بحر ایڈریا ٹک کے تمام ساحلی علاقے اس کے قبضہ میں آگئے تھے اور اب وینس اور سلطنت عثمانیہ کی جنگ ناگزیر ہوچکی تھی ۔ 868 ھ بمطابق(1463ء) عثمانیوں اور اہلِ وینس کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور سولہ سال تک جاری رہی، یکے بعد دیگرے وینس کے ساحلی مقبوضات ترکوں کے قبضہ میں آتے گئے، یہاں تک کہ جزیرہ یو بیا ( نگر و پونٹ) بھی جمہوریہ کے ہاتھ سے نکل گیا، 882 ھ (1477ء) میں ایک زبردست ترک فوج فریولی (Friull) کے علاقہ میں داخل ہوئی جو بحرایڈریا ٹک کی شمالی سرحد پر واقع تھا اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد عثمانی وینس کی طرف بڑھے، وینس نے مزاحمت کے لیے فوج روانہ کی لیکن عمر پاشا اسے شکست دیتا ہوا آگے بڑھتا گیا اور دریائے پیاوے (Plave) کے ساحل تک کے تمام زرخیز علاقوں پر قابض ہو گیا۔ جمہوریہ کے لیے اب صلح کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا، اگر اب بھی اسے کچھ تامل ہوتا تو اس کے بقیہ مقبوضات بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتے،چناچہ884ھ (1479ء) میں صلح نامہ پر دستخط ہو گئے، وینس نے سالانہ خراج ادا کرنے کا معاہدہ کیا اور سلطان نے اسے دوبارہ مشرق میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
روڈس کی ناکام فوجی مہم
وینس کی بحری قوت ٹوٹ چکی تھی۔ لیکن بحر ایجین میں روڈس کا جزیرہ عثمانی جہازوں کی راہ کا کانٹا تھا، اس جزیرہ پر ڈیڑھ سو برس سے یروشلم کے مبارزین سنیٹ جان کی حکومت تھی۔ جو آسانی کے ساتھ عثمانی جہازوں پر چھاپے مارا کرتے تھے، سلطان محمد فاتح نےروڈس کی فتح کو ضروری خیال کرتےہوئے 885ھ (1480ء) میں مسیح پاشا کو اس مہم پر روانہ کیا ، مسیح پاشا نے جزیرہ پر اتر کر متعدد مقامات فتح کیے اور پھر روڈس کا محاصرہ کر لیا، عیسائی مدافعت کے لیے پوری طرح تیار تھے اور محاصرہ طول کھینچ گیا، بالآخر 18 ربع الاول ،885ھ بمطابق (28 جولائی 1480ء) کوترکوں نے ایک عام حملہ کیا، یہ حملہ اس قدر شدید تھا، کہ عیسائی اپنی انتہائی شجاعت کے باوجود اسے روک نہ سکے اور بعض ترکوں نے دیواروں پر چڑھ کر ہلالی جھنڈا گاڑ دیا لیکن عین اس وقت جب کہ شہر فتح کے بلکل قریب تھا،کہ مسیح پاشا کی طرف سے یہ اعلان ہوا، کہ تمام مال غنیمت سلطان کے حق میں محفوظ سمجھا جائے گا، اس اعلان سے سپاہیوں میں سخت برہمی اور بے زاری پیدا ہوگئی اور جو ابھی تک باہر تھے، انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے، جو پہلے پہنچ چکے تھے، اندر جانے سے انکار کر دیا، عیسائیوں نے عثمانی فوج کی یہ حالت دیکھ کر اپنی پوری قوت کے ساتھ جان تورحملہ کیا اور ان ترکوں کو جو شہر میں داخل ہو گئے تھے، شکست دے کر باہر نکال دیا، مسیح پاشا کو اپنی غلطی کا احساس اس وقت ہوا جب کہ اس کی تلافی ممکن نہ رہی ، اسے محاصرہ اٹھالینا پڑا اور روڈس کی تسخیر نصف صدی کے لیے ملتوی ہوگئی۔
اوٹرانٹو کی فتح
لیکن جس روز مسیح پاشا کو روڈس میں ہزیمت اٹھانی پڑی اسی روز احمد کرک پاشا فاتح کریمیا نے سرزمین اٹلی میں قدم رکھا۔ جہاں اس وقت تک کوئی عثمانی سپاہی داخل نہ ہوا تھا۔ اٹلی کی فتح کے لیے اوٹرانٹو پر قبضہ کرنا ضروری تھا۔ کیونکہ یہ شہر اپنے موقع کے لحاظ سے گو یا اٹلی کا دروازہ تھا۔ احمد پاشا نے فوراً خشکی اور سمندر دونوں جانب سے اس پر حملہ کیا ، اہل شہر نے مدافعت میں بڑی سرگرمی دکھائی، لیکن وہ صرف چند روز مقابلہ کر سکے اور 4 جمادی الثانی 885ھ 11 اگست 1480ء) کو عثمانی فوج فاتحانہ اوٹرانٹو میں داخل ہو گئی ۔
فاتح کی وفات
اوٹر انٹو جیسے مضبوط شہر اور بندرگاہ پر قابض ہونے کے بعد محمد فاتح کے لیے اٹلی کی فتح کا راستہ کھل گیا، اوٹر انٹو کے مسلمانوں کے قبضے میں چلے جانے سے پورے اٹلی میں کھلبلی مچ گئی اور زبر دست دفاعی تیاریاں ہونے لگیں۔سلطان کوجب فتح کی خوشخبری ملی تو انہوں نے فوجی تیاریاں شروع کر دیں۔ آبنائے باسفورس کے کنارے فوجی علم نصب کروادیے گئے، جو اس بات کی علامت تھے کہ سلطان فوج کے ساتھ کسی مہم پر روانہ ہونے والے ہیں۔ لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سلطان کی منزل کون سی ہے – کیونکہ سلطان اپنے جنگی منصوبے ہمیشہ راز میں رکھتے تھے۔ بہر حال گمان غالب یہی ہے کہ وہ اٹلی پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ قسطنطنیہ سے روانہ ہوتے ہی سلطان بیمارپڑ گئے اور یہی بیماری ان کے لیے پیام اجل لے کر آئی۔ 3 ربیع الاول 886ھ / 2 مئی1481ء کو اس اولو العزم فاتح نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہیں قسطنطنیہ واپس لایا ۔ گیا اور جامع فاتح کے قریب قسطنطنیہ کی خاک نے فاتح کے جسم کو اپنی آغوش میں چھپالیا۔یوں سلطان فاتح پہلے عثمانی سلطان تھے جنہیں قسطنطنیہ میں دفن کیا گیا تھا۔
سلطان فاتح کی شخصیت
سلطان محمد فاتح کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو ان کی ذات بڑی ہمہ گیر نظر آتی ہے ۔ وہ نہ صرف ایک اولو العزم، دانشمند اور دلیر قائد تھے، بلکہ اعلیٰ پائے کے منتظم بھی تھے۔ انہیں کتاب اللہ سے بے حد محبت تھی۔ انہوں نے بہترین اساتذہ کی زیر نگرانی متعدد علوم و فنون حاصل کیے تھے۔ علم سے ان کے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد بھی حصولِ علم کا سلسلہ جاری رکھا۔
فوجی قابلیت
سلطان محمد فاتح کا عہد حکومت شروع سے آخر تک میدان جنگ میں گزرا، کریمیا ، روڈس اور اوٹرانٹو کی مہموں کے علاوہ ہر جنگ میں فوج کی کمان سلطان کے ہاتھ میں تھی اور بلغراد کے علاوہ کسی معرکہ میں سلطان کو شکست نہیں ہوئی ، فاتح کا لقب سلطان کو قسطنطنیہ کی فتح پر حاصل ہو گیا تھا۔ لیکن سلطان کی ہر جنگ اس لقب کی تصدیق کرتی ہے، ایک سپہ سالار کی حیثیت سے وہ مراد ثانی پر بھی فوقیت لے گئے تھے۔ فوجی قابلیت میں کوئی افسر اس کا ہم پلہ نہ تھا ، حالانکہ کہ احمد کدک پاشا ،محمود پاشا اور بعض دوسرے عثمانی سپہ سالاروں کا شمار اس وقت دنیا کے بہترین جرنیلوں میں ہوتا تھا ۔ وہ اپنے ارادوں کو بالکل راز میں رکھتے تھے اور اس کے کسی کمانڈر کو بھی پہلے سے معلوم نہ ہوتا کہ حملہ کس سمت میں ہونے والا ہے، ایک بار جب کسی مہم کے لیے فوجیں جمع ہونے لگیں اور سلطان کے خاص افسروں میں سے ایک نے سلطان محمد فاتح سے پوچھا کہ آپ کون سے شہر پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں، توسلطان نے سختی سے جواب دیا کہ:۔
"اگر میری ڈاڑھی کے ایک بال کو بھی اس کی خبر ہو جائے تو میں اسے توڑ کر آگ میں ڈال دوں"
سلطان جنگ کی کامیابی کے لیے راز داری اور سرعت عمل کو ضروری شرطیں خیال کیا کرتے تھے اور سلطان نے ہمیشہ اسی اصول کی پابندی کی ،جب وہ کسی حملہ کا عزم کر لیتے تو اسے پوری تیاری اور انتہائی شدت کے ساتھ انجام تک پہنچاتے، اسی وجہ سے عموماً سلطان کی مہمیں تھوڑے عرصہ میں سر ہو جاتی تھیں، البتہ وینس کے ساتھ لڑائیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ سولہ برس تک قائم رہا، اسی طرح البانیا کی فتح میں بھی کئی برس لگ گئے لیکن یہ استثنائی مثالیں ہیں۔
نتیجہ
سلطان محمد فاتح کا پورا عہدِ حکومت میدانِ جنگ میں گزرا۔ بوسنیا، موریا، کریمیا اور اوٹرانٹو کی فتوحات سے لے کر اسکندر بیگ اور اسٹیفن جیسے سخت حریفوں سے معرکوں تک، انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی سرحدیں دور تک پھیلا دیں۔ راز داری، سرعتِ عمل اور علم دوستی ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ 886ھ بمطابق 1481 عیسوی میں ایک نئی مہم پر روانگی کے وقت ان کا انتقال ہوا، اور وہ پہلے عثمانی سلطان تھے جنہیں قسطنطنیہ میں دفن کیا گیا۔
History In Urdu