یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
بلغراد کے محاصرے میں شکست کے بعد سلطان محمد فاتح نے اپنی فتوحات کا رخ یورپ سے ہٹا کر اناطولیہ کی جانب کیا اور بحیرۂ اسود کے ساحلی علاقوں کو عثمانی سلطنت میں شامل کرنے کی مہم شروع کی۔ یہ تحریر اماسرا، بنو جاندار اور طرابزون کی فتوحات اور آق قیونلو کے سلطان اوزون حسن کے خلاف اوٹلک بیلی کے فیصلہ کن معرکے کا احاطہ کرتی ہے۔
اناطولیہ کی جانب رخ
بلغراد کے محاصرے میں زبردست شکست کے بعد سلطان محمد فاتح اپنی فوج کے ساتھ واپس دارالحکومت قسطنطنیہ چلے گئے۔ اس کے بعد سلطان نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنی فتوحات کا رخ یورپ کی بجائے اناطولیہ کی جانب کریں گے اور اناطولیہ میں موجود عیسائیوں کی بچی کھچی چند چھوٹی ریاستوں کو ختم کر کے اناطولیہ کو عیسائیوں سے پاک کر دیں گے۔
سلطان اس بات پر بھی برہم تھے کہ بحیرۂ اسود کے بہت سے ساحلی علاقے اب تک عیسائیوں کے قبضے میں تھے۔ ان میں سب سے اہم “اماسرا” کا علاقہ تھا، جو ایک اہم جینوی کالونی اور بحیرۂ اسود میں اہلِ جینوا کی آخری کالونی تھی۔ اماسرا کے علاوہ بحیرۂ اسود کے مشرقی حصے میں “طرابزون” کی ریاست بھی تھی جو کبھی بازنطینی سلطنت کا حصہ ہوا کرتی تھی، جبکہ سینوپ اور اس کے آس پاس کے علاقے “بنو جاندار” قبیلے کے زیرِ تسلط تھے جو سلطنتِ عثمانیہ کا باج گزار قبیلہ تھا۔ سلطان محمد فاتح نے اپنی اس مہم کا آغاز اماسرا سے کرنے کا فیصلہ کیا۔
اماسرا کی فتح
جب قسطنطنیہ فتح ہوا تو اماسرا کا اہلِ جینوا کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہو گیا اور اب اہلِ جینوا اماسرا والوں کی کوئی سمندری مدد نہیں کر سکتے تھے۔ بحیرۂ اسود کے ساحل پر موجود یہ علاقہ بحری قزاقوں کی آماج گاہ بنا ہوا تھا، جو بہت سے عثمانی جہازوں کو لوٹ کر یہاں پناہ گزیں ہو جایا کرتے تھے۔ سلطان فاتح نے انہیں بارہا خبردار کیا تھا، لیکن وہ اس کام سے باز نہ آئے اور قسطنطنیہ کی فتح کے بعد بھی سمندری قزاقوں کو پناہ دیتے رہے۔
اناطولیہ کی اس مہم کے لیے سلطان محمد فاتح نے 1461ء میں اپنی جنگی تیاریاں مکمل کیں اور صدرِ اعظم محمود پاشا کی کمان میں 150 جہازوں کا بحری بیڑا بحیرۂ اسود کی طرف روانہ ہوا۔ سلطان نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ یہ تمام کارروائی خفیہ رکھی جائے۔
سب سے پہلے سلطان محمد فاتح اپنی فوج کے ساتھ “بولو” شہر کے قریب پہنچے۔ بنو جاندار قبیلے کے سردار “اسماعیل بے” نے سوچا کہ عثمانیوں کی یہ فوج بنو جاندار قبیلے کے خلاف آئی ہے، لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ یہ فوج اماسرا کی فتح کے لیے آئی ہے تو اسے اطمینان ہوا۔ ادھر جب اہلِ شہر نے محمود پاشا کو بحری بیڑے کے ساتھ دیکھا اور سلطان نے زمین پر شہر کا محاصرہ کیا تو انہیں جلد احساس ہو گیا کہ وہ سلطان محمد فاتح کی عظیم الشان فوج کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی جان و مال کی حفاظت کے بدلے شہر کی چابیاں سلطان کے حوالے کر دیں اور سلطان نے جان کی امان دیتے ہوئے اس شہر کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔
بنو جاندار قبیلے کا الحاق
اماسرا کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے بنو جاندار قبیلے کے بارے میں سوچا۔ اگرچہ بنو جاندار سلطنتِ عثمانیہ کے ماتحت تھا اور سالانہ خراج بھی ادا کرتا تھا، لیکن سلطان فاتح کو ڈر تھا کہ یہ کبھی نہ کبھی کارمان قبیلے کی طرح عثمانیوں کے خلاف بغاوت ضرور کریں گے۔ اس لیے سلطان نے بنو جاندار قبیلے کو مکمل طور پر عثمانی سلطنت میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
سلطان کو معلوم تھا کہ سینوپ کے قلعے میں، جہاں اسماعیل بے نے پناہ لے رکھی تھی، 400 توپیں اور 12 ہزار فوجی موجود تھے۔ اس کے علاوہ یہاں بنو جاندار کی بحریہ بھی موجود تھی جس کے جہاز اس دور کے دیگر جنگی جہازوں کے مقابلے میں بڑے اور مضبوط تھے، اس لیے سلطان کو یہاں ایک بڑی فوج کی ضرورت تھی۔ چونکہ بنو جاندار کو فتح کرنے کے بعد وہ طرابزون کی سلطنت کو بھی ختم کرنے جا رہے تھے، اس لیے سلطان نے اماسرا کی فتح کے بعد پرانے عثمانی دارالحکومت بورصہ میں جا کر اناطولیہ اور رومیلیہ کی فوجیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
محمود پاشا کو بحری بیڑے کے ساتھ بحیرۂ اسود روانہ کیا گیا، جبکہ سلطان اپنی 60 ہزار سے 80 ہزار کی فوج کے ساتھ بورصہ سے انکرہ کی جانب روانہ ہوئے اور انکرہ پہنچ کر اعلان کیا کہ یہ مہم بنو جاندار قبیلے کے خلاف ہے۔ عثمانی بحری بیڑے نے سینوپ کی بندرگاہ کو گھیرے میں لے لیا تاکہ جاندار قبیلے کے جہاز باہر نہ نکل سکیں، اور زمین پر عثمانی فوج سینوپ قلعے تک پہنچ گئی۔ جب بنو جاندار کے سردار نے عثمانی فوج کو شہر کے باہر دیکھا تو اس نے بغیر مزاحمت کے اپنا قبیلہ عثمانی سلطان کے حوالے کر دیا۔ سلطان نے خوش ہو کر اسماعیل بے کو “ینی شہر، انا گول اور یار حصار” کے صوبے دے دیے اور اس کے بیٹے حسن کو “بولو” شہر کا گورنر بنا دیا۔ یوں سلطان محمد فاتح نے بغیر کسی سپاہی کو شہید کروائے بنو جاندار قبیلے کو مکمل طور پر عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اب سلطان کا اگلا ہدف طرابزون کی عیسائی سلطنت تھی۔
طرابزون کی فتح
تاریخی طور پر بحیرۂ اسود کے اس حصے میں طرابزون کی یہ سلطنت وسطی ایشیا اور قفقاز سے آئے ہوئے مختلف ترک قبائل اور خاندانوں کا مرکز تھی۔ 1206ء میں سلجوقی سلطان غیاث الدین کے خسرو نے طرابزون پر حملہ کیا، لیکن اسے فتح نہ کر سکے، جس کے بعد سلجوقیوں نے اس ریاست کو خراج دینے پر مجبور کیا۔
طرابزون کے بادشاہ نے آنے والے عثمانی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے بچاؤ کی تدابیر سوچنا شروع کیں اور روایتی طور پر قریبی ریاستوں سے تعلقات و رشتہ داری قائم کر کے اتحاد بنایا۔ سب سے پہلے انہوں نے عثمانی سلطنت کی مشرقی سرحد کی جانب تیزی سے طاقت پکڑتے ترک خاندان “آق قیونلو” قبیلے کے ساتھ اتحاد کیا اور شہنشاہ ڈیوڈ میگاس نے اپنی بیٹی تھیوڈورا کی شادی اسی ترک قبیلے کے سلطان “اوزون حسن” کے ساتھ کر دی۔ اس سیاسی شادی کے بعد اوزون حسن نے اناطولیہ میں موجود تین ترک قبیلوں “کارامان، بنو زوالقدر اور بنو رمضان” کو عثمانیوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ اوزون حسن کی مسلسل دخل اندازیوں کی وجہ سے سلطان نے ساحلی علاقوں سے آگے پیش قدمی روک دی اور سینوپ سے “سیواس” کی طرف روانہ ہوئے۔
جلد سلطان محمد فاتح کی فوج طرابزون کی جانب روانہ ہوئی۔ عثمانی بحری بیڑا پہلے ہی طرابزون کے سامنے پہنچ چکا تھا اور بحریہ کے کمانڈر یعقوب بے سلطان کے حکم پر محاصرے سے تقریباً ایک ماہ پہلے طرابزون کی بندرگاہ پر پہنچ چکے تھے۔ طرابزون کا قلعہ نہایت مضبوط تھا اور رومی جان کی بازی لگا کر مزاحمت کر رہے تھے۔ شہنشاہ ڈیوڈ میگاس سوچ رہا تھا کہ عثمانی بحری بیڑا بحیرۂ اسود میں مسلسل سمندری طوفانوں کی وجہ سے زیادہ دیر نہیں ٹک پائے گا۔ لیکن جب عثمانی فوج کا بقیہ حصہ محمود پاشا کی قیادت میں پہنچا اور شہر کو خشکی کے راستے سے گھیر لیا، تو عیسائیوں کو اصل صورتحال کا اندازہ ہوا۔ جلد ہی سلطان محمد فاتح اور ان کی فوج کا باقی حصہ طرابزون قلعے کے باہر نمودار ہوا، جس پر شہنشاہ نے دفاع کی امیدیں ترک کر دیں۔
شہنشاہ نے کچھ شرائط کے بدلے مذاکرات کے ذریعے شہر سلطان کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے “جارج امیرو ٹرس” کو، جو طرابزون کا فلسفی شاعر اور عظیم ریاضی دان تھا، عثمانیوں سے مذاکرات کے لیے نامزد کیا۔ مذاکرات کے بعد بالآخر 26 اکتوبر 1461ء کو سلطان محمد فاتح کو شہر کی کنجیاں دی گئیں اور سلطان اپنی سپاہ کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔ فتح کے بعد سلطان کچھ عرصہ طرابزون میں رہے اور انہوں نے شہر کے سب سے بڑے گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کر دیا جو فاتح مسجد کہلانے لگی۔
اوزون حسن سے کشیدگی
جب عثمانیوں نے طرابزون فتح کیا تو آق قیونلو کے سلطان اوزون حسن نے طرابزون کے بادشاہ کی، جو اس کا سسر اور حلیف بھی تھا، کوئی جنگی مدد نہ کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1461ء میں جب سلطان محمد فاتح نے طرابزون پر حملہ کیا، اس وقت اوزون حسن وسطی ایشیا میں تیموریوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھا، جس کی وجہ سے وہ کوئی مدد نہ کر سکا۔
اوزون حسن کو ایک ایسی بندرگاہ کی ضرورت تھی جو اسے یورپ کے ساتھ تجارت کا موقع فراہم کر سکے۔ اس مقصد کے لیے اس کے نزدیک بہترین انتخاب “کارامان” قبیلہ تھا تاکہ وہ اس کی مدد سے بحرِ روم میں داخل ہو کر یورپ کے ساتھ تجارت کر سکے۔ اس کے لیے اس نے اہلِ وینس کے ساتھ اتحاد کر لیا، جس کے بدلے وینس نے اوزون حسن کو عثمانیوں کے خلاف بارود پر مبنی کچھ ہتھیار دینے کا وعدہ کیا۔
سنہ 1472ء میں وینس کی بحریہ نے اناطولیہ میں موجود ازمیر شہر پر حملہ کیا، جبکہ مشرق سے 12 ہزار آق قیونلو سپاہیوں نے کرمانیوں کے علاقے پر حملہ کر کے اسے لوٹ لیا۔ اس لوٹ مار کے بعد اوزون حسن کے سپہ سالار نے قسطنطنیہ میں سلطان محمد فاتح کے پاس ایک خط بھیجا جس میں طرابزون اور کارامانی زمینوں کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی دوران وینس کا جہاز جو اوزون حسن کے لیے بارود اور ہتھیار لے کر آ رہا تھا، عثمانی بحریہ نے پکڑ لیا اور یہ ہتھیار کبھی اوزون حسن تک نہ پہنچ سکے۔ اب عثمانیوں اور آق قیونلو کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔
اوٹلک بیلی کا معرکہ
سلطان محمد فاتح اپنی فوج کے ساتھ قسطنطنیہ سے اناطولیہ میں اپنے ہمسایہ ترک قبیلے کو سبق سکھانے کے لیے پہنچ گئے۔ یہاں عثمانیوں اور آق قیونلو کے پاس تقریباً ایک ایک لاکھ سے زیادہ کی فوج موجود تھی، لیکن عثمانیوں کے پاس توپ خانہ اور بارودی ہتھیار ہونے کی وجہ سے وہ برتری رکھتے تھے۔ اس کے مقابلے میں آق قیونلو کے پاس ایک روایتی ترکمانی فوج تھی جو چار صدی قبل اس علاقے میں لڑی جانے والی سلجوقی فوج سے زیادہ مختلف نہ تھی۔
یکم اگست 1473ء کو سلطان محمد فاتح کی فوج کا ہر اول دستہ، جو 20 ہزار ترکمانی سپاہیوں پر مشتمل تھا، آق قیونلو فوج کے سامنے نمودار ہوا۔ عثمانی ہر اول دستے نے دریائے فرات عبور کر کے آق قیونلو لشکر پر حملہ کیا۔ یہ ایک مختصر جھڑپ تھی۔ اس ابتدائی لڑائی میں اوزون حسن نے اپنے ہر اول گھڑ سواروں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور جب یہ گھڑ سوار پیچھے ہٹتے ہوئے میدان میں پہنچے تو اوزون حسن نے دریائے فرات پر موجود پل کو توڑنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو واپس پلٹ کر عثمانی سپاہیوں پر حملے کا حکم دیا۔ اس کی وجہ سے عثمانی دستہ شدید دباؤ میں آ گیا، پانچ ہزار گھڑ سوار مارے گئے اور صرف 15 ہزار سپاہی زندہ بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ اوزون حسن عثمانی فوج کا پیچھا کر کے انہیں ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اس کوشش میں ناکام رہا۔
دس دن بعد سلطان محمد فاتح اپنی بقیہ فوج کے ساتھ یہاں پہنچے اور اب دونوں فریقوں کے پاس تقریباً ایک ایک لاکھ کی فوج موجود تھی۔ “اوٹ لک” نامی جگہ پر عثمانی اور آق قیونلو فوجوں کے درمیان ایک تاریخی جنگ ہوئی۔ عثمانی فوج کے مرکز میں ینی چری سپاہی موجود تھے، لشکر کے دائیں اور بائیں گھڑ سوار دستے تھے اور عقب میں عثمانی توپیں دشمن پر آگ برسانے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ اس کے مقابلے میں اوزون حسن کے پاس ہلکے گھڑ سوار دستے تھے جنہیں اس نے چار بڑی یونٹوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اوزون حسن نے اپنا ایک چھوٹا گھڑ سوار دستہ عثمانی لشکر کے عقب میں بھیجا تاکہ جنگ کے دوران عثمانی فوج پسپائی اختیار نہ کر سکے۔
سلطان محمد فاتح کے حکم پر عثمانی فوج کا دایاں بازو حرکت میں آیا اور اس نے آگے بڑھ کر دشمن پر حملہ کر دیا، دونوں جانب سے گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس حملے کے بعد اوزون حسن نے دائیں بازو کے گھڑ سوار دستوں کو عثمانی گھڑ سوار دستوں کی جانب روانہ کیا۔ لڑائی برابر جاری تھی کہ اوزون حسن نے دو مزید گھڑ سوار دستے عثمانی فوج کے بائیں دستوں پر حملے کے لیے روانہ کیے، جس سے لڑائی کا توازن بگڑ گیا۔ لیکن سلطان محمد فاتح نے جلد ینی چری سپاہیوں کو بھیج کر اپنے بائیں بازو کو مضبوط کر لیا۔ اوزون حسن نے سمجھا کہ عثمانیوں کا دایاں اور بایاں بازو جنگ میں مصروف ہے اور سلطان کا مرکز کمزور ہو چکا ہے، سو اس نے بقیہ فوج کے ساتھ سلطان محمد فاتح پر حملے کا حکم دیا اور برق رفتاری سے عثمانی مرکز کی جانب بڑھا۔
لیکن یہاں حیرت انگیز طور پر سلطان محمد فاتح کی توپوں نے اوزون حسن پر آگ کے گولے برسائے، جس سے اس کے گھڑ سوار دستوں کی رفتار کم ہو گئی اور بے شمار آق قیونلو سپاہی مارے گئے۔ بقیہ لشکر جب عثمانی ینی چری دستوں کے پاس پہنچا تو ینی چری سپاہیوں نے رائفلوں سے گولیاں برسانا شروع کر دیں، جس سے سپاہیوں میں بھگدڑ مچ گئی اور اسی دوران اوزون حسن کا علم میدانِ جنگ میں گر گیا۔ اس سے اس کے سپاہیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس ابتدائی فتح کے بعد سلطان نے اپنے ینی چری دستوں کو اپنی بائیں گھڑ سوار فوج کی مدد کے لیے روانہ کیا۔
نتیجہ
آق قیونلو کے خلاف اس جنگ میں عثمانیوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ سلطان محمد فاتح کے صرف چند ہزار آدمی مارے گئے، جبکہ اوزون حسن کے تقریباً 25 ہزار سپاہی اس میدانِ جنگ میں کام آئے۔ اوٹلک بیلی کی جنگ میں فتح کے بعد اناطولیہ میں عثمانی سلطنت کے قدم مزید مضبوط ہو گئے اور اگلے چالیس سال تک اناطولیہ میں عثمانی سلطنت کے سامنے کوئی طاقتور دشمن نہ آ سکا۔
History In Urdu