یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سن 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے اسلامی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا تھا۔ لیکن اس فتح کے ٹھیک تین سال بعد فاتح سلطان کو ایک نازک ترین لمحے کا سامنا کرنا پڑا، جب 1456ء میں بلغراد کے قلعے پر حملے کے دوران عثمانی سلطنت کے عظیم سلطان کو ہینگری کے جنگجو سپہ سالار "جان بنیادی" کے ہاتھوں ایک شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سلطان محمد فاتح کی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا۔ یہ تحریر اسی معرکۂ بلغراد کی داستان بیان کرتی ہے۔
قسطنطنیہ کی فتح اور نیا دارالحکومت
29 مئی 1453 عیسوی کو 55 دن کے سخت ترین محاصرے کے بعد بالاخر سلطان محمد فاتح نے "قسطنطنیہ" کو فتح کرتے ہوئے بازنطینیوں کے ہزار سالہ دور کا خاتمہ کر دیا تھا۔ یہ شہر اب سلطنت عثمانیہ کا نیا دارالحکومت بننے جا رہا تھا۔ قسطنطنیہ یعنی کہ "استمبول" سے پہلے عثمانیوں کا دارالحکومت "ایڈریا نوپل" جو کہ "ادرنہ" بھی کہلاتا تھا وہ تھا۔ اس شہر کو سلطان مراد اول نے 769 ہجری بمطابق 1368ء میں فتح کر کے سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت بنایا تھا اور 857 ہجری بمطابق 1453 عیسوی سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے بعد سلطنت کا دارالحکومت ادرنے سے قسطنطنیہ جس کا سلطان محمد فاتح نے نیا نام استمبول رکھا تھا وہاں منتقل کر دیا۔
سربیہ کے خلاف پہلی مہم
قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان محمد فاتح نے سب سے پہلے اپنی ایک باج گزار ریاست سربیہ پر حملے کا فیصلہ کیا. کیونکہ 1453 عیسوی میں جب عثمانی سلطان "قسطنطنیہ" کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو اہلِ سربیا نے معاہدے کے مطابق نہ تو سلطان کو خراج دیا اور نہ ہی اس نے کوئی فوجی کمک بھیجی۔ جس کی وجہ سے سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کی فتح کے ٹھیک ایک سال بعد یعنی کہ 1454 عیسوی میں سلطان نے سربیا کے خلاف اپنی پہلی مہم کا آغاز کیا۔ 858ھ بمطابق 1454ء میں سلطان محمد فاتح نے 30 ہزار کی مضبوط فوج کے ساتھ وہ سروبیا کی جانب روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے سلطان فاتح نے سمندریہ پر حملہ کیا۔ جو کہ سرویہ کے شہنشاہ "جارج برینکو ویچ" کی قیام گاہ تھا۔ یہاں محاصرے کے چند ہی دنوں میں عثمانی توپوں کی مسلسل گولہ باری نے اس شہر کو کھنڈر بنا دیا اور سربیہ کا شہنشاہ جارج برینکو ویچ جان بچا کر ہینگری بھاگ کھڑا ہوا۔ تاہم عثمانیوں کے پرانے دشمن اور ہینگری کے جنگجو سپہ سالار "جان ہونیاڈی" کو جب سلطان محمد فاتح کے حملے کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی فوج کے ساتھ اہلِ سرویہ کی مدد کے لیے روانہ ہوا اور اس نے ترکوں کے مقدمت الجیش کو شکست دی۔ جس کے بعد سلطان فاتح کو مجبوراً محاصرہ اٹھا لینا پڑا اور سلطان نے اپنی فوج کا کچھ حصہ "فیروز بے" کی قیادت میں چھوڑ کر وہ واپس دارالحکومت اسطنطنیہ چلے گئے۔
سلطان کی جانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد "جان ہوناڈی"نے سربین فوج کے ساتھ مل کر اکتوبر میں عثمانی فوج پر اچانک حملہ کر دیا جس میں عثمانی فوج کو شکست ہوئی اور عثمانی کمانڈر فیروز پہ اس جنگ میں شہید ہو گئے۔ اب چونکہ کوئی بھی عثمانی فوج ہونیاڈی کے مقابلے کے لیے وہاں موجود نہیں تھی اس لیے اس نے ہینگری کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن واپس جاتے ہوئے اس نے عثمانی شہر "وڈین" پر حملہ کرتے ہوئے شہر کو آگ لگا دی اور بے شمار عام شہریوں کو اس نے ختم کر دیا۔
بلغراد کی طرف پیش قدمی
سلطان محمد فاتح جانتے تھے کہ اگر انہیں ہینگری کو فتح کرنا ہے، تو انہیں ڈینیوب کے جنوبی حصے پر موجود ایک مضبوط قلعے "بلغراد" جو کہ ہینگری کا دروازہ بھی سمجھا جاتا ہےاسے فتح کرنا ہو گا۔ اس لیے سلطان نے اپنی پہلی شکست کہ کچھ ہی سالوں بعد یعنی کہ 1456 عیسوی کے موسمِ گرما میں سلطان نے نئی مہم کے لیے فوجوں کو جمع کرنا شروع کیا۔اور جون میں عثمانی فوجیں سلطان محمد فاتح کی سربراہی میں بلغراد کے قریب پہنچیں اور بغیر کسی مزاحمت کے سلطان بلغراد تک جا پہنچے۔
یہ قلعہ یورپ کے بہترین دفاعی قلعوں میں سے ایک تھا۔ اس جنگ میں سلطان محمد فاتح کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ کا لشکر اور 300 توپیں موجود تھیں۔ یہ مہم دراصل بلغراد کی فتح کے لیے تھی۔ جو اگرچہ سرویہ کی شمالی سرحد پر واقع تھا لیکن اس وقت ہینگری کے قبضے میں تھا اور گویہ ہینگری کا دروازہ تھا۔ اس کی فتح سے ہنگری کی فتح کا راستہ کھل جاتا اور پھر آسٹریا تک عثمانیوں کو روکنا مشکل ہو جاتا۔ قسطنطنیہ کی فتح نے سارے یورپ کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ جب سلطان محمد فاتح نے بلغراد کا محاصرہ کیا، تو یورپ کے تمام ملکوں میں ایک ہلچل مچ گئی اور پوپ نے صلیبی جنگ کا اعلان کر کے اپنے نمائندہ جان کاپسٹران کو 60 ہزار پر جوش عیسائی سپاہیوں کے ساتھ ہنگری کی مدد کے لیے روانہ کیا۔
بلغراد قلعے کی حفاظت کے لیے 7 ہزار کا مضبوط عیسائی دستہ موجود تھا۔ جو کہ ہینگری اور سربیہ کی ایک متحدہ فوج تھی۔ اس کا کمانڈر مشہور ہنگیرین سپاہ سالار جان ہونیاڈی کا بیٹا تھا۔
محاصرے اور بحری معرکے کا آغاز
دریں اثناء عثمانیوں کے پاس ایک زبردست اور بڑی فوج تھی۔ سلطان محمد فاتح نے اپنے اناطولیائی فوجوں کو بائیں طرف اور اپنی یورپی افواج کو دائیں جانب رکھا، اور 300 توپوں کی اکثریت کو سلطان نے دائیں جانب قلعے کے سامنے متعین کیا۔ جبکہ 200 کے قریب عثمانی بحری جہاز ڈینیوب کی ناکہ بندی کے لیے شہر کے شمال میں چلے گئے۔
29 جون 1456 عیسوی کو سلطان محمد فاتح کے حکم پر شہر پر بمباری شروع کر دی گئی۔ ادھر جان ہونیاڈی نئے سپاہیوں کو فوج میں بھرتی کرنے میں مصروف تھا،کہ جب اسے یہ خبر ملی کہ سلطان محمد فاتح نے بلغراد کا محاصرہ کر لیا ہے، تو وہ تقریباً 50 ہزار فوج لے کر سلطان محمد فاتح کے مقابلے کے لیے نکلا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس 50 ہزار میں سے صرف 10 سے 15 ہزار سپاہی پیشہ ورانہ مہارت رکھتے تھے اور باقی کے 30سے 35 ہزار وہ لوگ تھے جو کہ کسان تھے اور جنہیں جان ہونیاڈی نے چند ماہ پہلے اپنی فوج میں شامل کیا تھا۔ اس کے علاوہ اہل ہینگری کے پاس 200 بحری جنگی جہاز موجود تھے اور عیسائیوں کا یہ بحری بیڑا 14 جولائی کو اچانک عثمانی جہازوں کے سامنے نمودار ہوا۔
اب یا تو عثمانی بحریہ اس حملے سے بالکل بے خبر تھی یا پھر وہ سمندر کے ایک بڑے حصے کی ناکہ بندی کیے ہوئے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ دشمن کے مقابلے کے لیے تیار ہوتے کہ عیسائی بحریہ نے ان پر حملہ کر دیا اس بحری جنگ کی ابتدائی مرحلے میں عیسائیوں کی بحریہ نے بے شمار عثمانی جہازوں کو ڈبو دیا اور 30 جہازوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس دوران جان ہونیاڈی جو کہ رسد اور کمک لے کر بلغراد پہنچ چکا تھا۔ اس نے جلد اہل شہر کو کھانے پینے کا سامان دیا اور وہ شہر میں داخل ہو گیا۔
قلعے پر عام حملہ
یوں اٹھ روز کی مسلسل گولہ باری کے بعد 21 جولائی 1456 عیسوی کو سلطان محمد فاتح نے ایک عام حملے کا حکم دیا اور ترک شہر کے ایک حصے میں داخل ہو گئے پانچ ہزار ینی چری سپاہی اپنی پوری قوت کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے اور وہ صلیبیوں سے معرکہ آرائی کرتے ہوئے شہر کے دوسرے کنارے تک پہنچ گئے۔ لیکن یہاں سربیا کے ایک دستے نے اچانک گھات لگا کر حملہ کیا جس کی وجہ سے بے شمار ینی چری سپاہی اس حملے میں مارے گئے اور ترک فوج کو واپس پسپا ہونا پڑا۔ اس ابتدائی شکست کے باوجود سلطان محمد فاتح بالکل مطمئن شہر کے باہر اپنی فوج کے ساتھ کھڑے تھے اور وہ اپنی اگلی چال چلنے والے تھےکہ،
اچانک حملے سے ٹھیک کچھ دیر پہلے اس جنگ نے ایک نیا موڑ لیا۔ ہوا دراصل کچھ یوں کہ دو بحری جہاز عیسائیوں کی مدد کے لیے جلد سلطان محمد فاتح کے لشکر کے بائیں جانب نمودار ہوئے اور انہوں نے سلطان کے بائیں جانب موجود کیمپ پر حملہ کر دیا۔ جب ہونیاڈی نے مدد کے لیے آئے ہوئے ان سپاہیوں کو دیکھا تو اُس میں ہمت پیدا ہو گئی اور وہ اپنے بچے کچے تمام لشکریوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا اور اس نے عثمانی فوج پر حملہ کر دیا۔ اس دوران آنے والے ان دونوں جنگی جہازوں نے "دریائے ساوا" کے اُس پارموجود عیسائی جنگجوؤں کو منتقل کیا جس کے بعد ان سپاہیوں نے عثمانیوں کے بائیں جانب حملہ کر دیا۔ اب چونکہ یہ گھڑ سوار دستے تھے اس لیے وہ کھل کر پیدل دسوں کے خلاف لڑ نہ سکے اور یہ حملہ اچانک بھی تھا۔ جس کی وجہ سے سلطان کے دستوں کے یا تو حوصلے پست ہو گئے تھے، یا پھر وہ اس اچانک حملے کے لیے بالکل تیار نہ تھے اور اس حملے سے بے شمار گھڑسوار دستے مارے گئے۔ جبکہ کچھ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے۔
یہ حال دیکھ کر سلطان محمد فاتح خود دشمنوں کی صفوں میں جا گھسے۔ لیکن سلطان کی حیرت انگیز شجاعت اس روز ترکوں کے قدموں کو نہ روک سکی اور سلطان شدید زخمی ہو گئے۔ جس کی وجہ سے انہیں میدانِ جنگ چھوڑنا پڑا اس معرکے میں 25 ہزار ترک مارے گئے اور عثمانیوں کے پورے توپ خانے پر عیسائیوں نے قبضہ کر لیا۔
شکست کے بعد کے اثرات
اس فتح کے بعد جان ہو نیا ڈی عثمانی فوج کا پیچھا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جلد اس کے لشکر میں ایک وبا پھیل گئی جس کی وجہ سے اس کے بے شمار سپاہی اس وبا کی نظر ہو گے۔ جبکہ جان ہونیا ڈی خود اس جنگ میں اس قدر زخمی ہو گیا تھا کہ اس جنگ کے صرف 20 دن کے بعد اس کی بھی موت ہو گئی۔ جب سلطان محمد فاتح کو اس کی وفات کی اطلاع ملی تو سلطان نے افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ یورپ کا سب سے بڑا سپہ سالار جاتا رہا۔ بلغراد کی شکست نے عثمانیوں کی یورپ میں پیش قدمی کو سست کر دیا تھا۔
یہ محاصرہ اٹھا لینے کے بعد سلطان محمد فاتح واپس قسطنطنیہ یعنی کہ استمبول شہر پہنچے اور ادھر سربیہ میں جارج برینکو ویچ پھر سرویہ پر قابض ہو گیا۔ لیکن اس کی عمر 90 سال سے زیادہ ہو چکی تھی اور تھوڑے ہی دنوں بعد 861 ہجری بمطابق1457ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔
سربیہ کا سلطنت عثمانیہ میں انضمام
سرویا کی آزادی بھی اس کے بعد تقریباً ڈیڑھ یا دو سال تک قائم رہی۔ 863 ہجری بمطابق 1459 عیسوی میں سرویہ کو باقاعدہ طور پر سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ ہونیاڈی کی موت کے بعد صدر اعظم محمود پاشاہ نے سرویہ میں داخل ہو کر دو سال کے اندر پورے ملک کو فتح کر لیا تاہم یہ ممکن تھا کہ سلطان پھر خراج قبول کر کے سرویہ کی خود مختاری بدستور قائم رہنے دیتے۔ لیکن جارج کے مرنے کے بعد جو خانہ جنگیں شروع ہوئی تھی، ان سے ملک کی آزادی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔
جارج نے حکومت کے انتظام مشترکہ طور پر اپنی بیوی اور تین بیٹوں کے سپرد کیے تھے۔ ان میں بہت جلد جھگڑے شروع ہو گئے سب سے چھوٹے لڑکے لازار نے اپنی ماں کو زہر دے دیا اور بھائیوں کو حکومت سے نکال دیا اب وہ سرویہ کا تنہا فرما رہا تھا۔ اس نے 20 ہزار سلائی سکے سالانہ خراج کا وعدہ کر کے سلطان کی سرپرستی بھی حاصل کر لی تھی۔ لیکن دوسرے ہی سال اس کی موت ہو گئی۔ اب سلطان محمد فاتح نے یہ طے کر لیا کہ سربیہ کو سلطنت عثمانیہ کا ایک صوبہ بنا لیا جائے۔
ہونیاڈی مر چکا تھا ،اہل سرویہ میں مزاحمت کی ہمت باقی نہ تھی۔ پچھلے 70 سال کی لڑائیوں کے بعد وہ ہر دام پر امن و صلح کے لیے تیار تھے۔ لازار کی بیوہ ہیلینا نے اپنے ملک کی سیاسی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے اسے کلیسائے روما سے وابستہ کر دینا چاہا، لیکن سرویہ والوں نے سخت مخالفت کی اور اعلانیہ کہہ دیا کہ وہ ترکوں کو رومن کیتھولک عیسائیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ اُمرائے سرویہ نے صدر اعظم محمود پاشاہ کے بھائی کو بلا کر اپنا سردار مقرر کیا اور جب ہیلینا نے اسے قید میں ڈال دیا تو انہوں نے سلطان سے مدد کی درخواست کی۔جس پر سلطان لشکر لے کر روانہ ہوائے، سمندریہ نے اپنے پھاٹک عثمانی فوجوں کے لیے کھول دیے نتیجہ یہ ہوا کہ 863 ہجری بمطابق 1459 عیسوی میں سربیہ کا وجود بحیثیت ایک مستقل سلطنت کے ختم ہو چکا تھا۔
نتیجہ
معرکۂ بلغراد (1456ء) سلطان محمد فاتح کی چند نادر شکستوں میں سے ایک تھا، جس میں وہ خود شدید زخمی ہوئے اور ان کا توپ خانہ دشمن کے قبضے میں چلا گیا۔ اس شکست نے عثمانیوں کی یورپ میں پیش قدمی کو وقتی طور پر سست کر دیا۔ تاہم جان ہونیاڈی کی موت اور سربیہ کی داخلی خانہ جنگیوں نے بالآخر عثمانیوں کے لیے راستہ کھول دیا، اور 863ھ بمطابق 1459ء میں سربیہ ایک مستقل سلطنت کی حیثیت سے ختم ہو کر سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔
History In Urdu