یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد ثالث سلطنتِ عثمانیہ کا تیرہواں سلطان تھا، جس نے 1595ء سے 1603ء تک حکومت کی۔ اس کے عہد میں آسٹریا اور ہنگری کے ساتھ طویل جنگ، فتحِ ایگر اور حاچووا کے فیصلہ کن معرکے جیسے اہم واقعات پیش آئے۔ اس تحریر میں سلطان محمد ثالث کی تخت نشینی، اُس کی فوجی مہمات اور اُس کے دور کی بغاوتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
شہزادوں کی نظربندی کا نظام
سلطان مراد کی وفات کے وقت اُن کا سب سے بڑا بیٹا محمد اشیائے کوچک میں صوبہ منیسا کا حاکم تھا۔ اُس کی ماں سلطانہ صفیہ نے سلطان مراد کی وفات کو چھپائے رکھا، یہاں تک کہ محمد ثالث استمبول پہنچ گیا۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری خیال کیا گیا کہ مراد کے دوسرے لڑکے تختِ سلطنت کے دعوے دار نہ بن سکیں۔ لیکن اس تحفظ کی پھر آئندہ کبھی ضرورت پیش نہ آئی، کیونکہ سلاطینِ آلِ عثمان میں محمد ثالث آخری سلطان تھا جسے شہزادگی کے زمانے میں کسی صوبے کی حکومت سپرد کی گئی تھی۔ اس کے بعد تمام شہزادے محل کے ایک خاص حصے میں نظربند رکھے جانے لگے اور سلطنت کا کوئی عہدہ اُنہیں سپرد نہ کیا جاتا، اُنہیں صرف اسی وقت آزادی نصیب ہوتی جب تخت نشینی کے لیے اعیانِ سلطنت اُن کو محل سے باہر لاتے۔
اس جدید نظام کا سبب یہ خطرہ تھا کہ کہیں شہزادے سلطانِ وقت کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہ کر دیں، لیکن آنے والے وقت میں اس کا جو اثر شہزادوں پر پڑا وہ انتہائی خطرناک نکلا۔ محل میں نظربند شہزادے نہ حکمرانی سیکھتے، نہ جنگی حکمتِ عملی، اور جب وہ سلطان بنتے تو اکثر نااہل، ذہنی طور پر کمزور یا حد سے زیادہ محتاط نکلتے۔ تنہائی، قید اور مستقل خوف نے کئی شہزادوں کو ذہنی مریض بنا دیا، جیسے سلطان مصطفیٰ اوّل۔ چونکہ بادشاہ کمزور ہوتے، اس لیے صدرِاعظم، والدہ سلطان اور حرم کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا، شاہی اختیار کمزور پڑا اور درباری سازشیں بڑھ گئیں۔ غیر تجربہ کار سلاطین اکثر اصلاحات لانے سے قاصر رہے، جس سے سلطنت کا زوال تیز ہوا۔
تخت نشینی اور فرہاد پاشا کی بغاوت
یوں اپنے والد سلطان مراد کی وفات کے بعد محمد ثالث 27 سال کی عمر میں 1595ء میں تخت نشین ہوا۔ سلطان محمد ثالث نے 11 سال منیسا اور ساروهان کے صوبے میں گورنری کی خدمات سرانجام دیں، اور سلطان سلیمانِ اعظم کے بعد وہ دوبارہ جنگی مہم پر جانے والا پہلا سلطان بنا۔ جب سلطان محمد ثالث تخت نشین ہوئے تو اُس وقت اُن کے 19 اور بھائی زندہ تھے، اور انہوں نے تخت نشین ہونے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بھائیوں کو فوراً قتل کرا دیا۔
اس طرف سے مطمئن ہو کر تخت نشینی کے آٹھویں روز سلطان محمد ثالث جامع مسجد صوفیہ میں جلوس کے ساتھ نماز ادا کرنے گئے اور فوج کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اتنی کثیر مقدار میں انعامات اور بخششیں تقسیم کیں کہ اس سے پہلے کسی سلطان نے نہ کی تھیں۔ پھر وہ ہنگری میں کمک بھیجنے کی تیاری کرنے لگے، لیکن اس تیاری کے دوران ہی فوج کے دو دستوں نے، جو سلطانی بخشش سے مطمئن نہ تھے اور مزید انعامات کے خواہش مند تھے، صدرِاعظم فرہاد پاشا کو گھیر کر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سخت لہجے میں اصرار شروع کیا۔ فرہاد پاشا نے انہیں سرحد پر جانے کا حکم دیا اور وعدہ کیا کہ اُن کے مطالبات وہیں پورے کیے جائیں گے، مگر انہوں نے اور زیادہ برہمی ظاہر کی اور فرہاد پاشا کو دھمکانے لگے۔ فرہاد پاشا نے اُن کی یہ خودسری دیکھ کر کہا کہ جو لوگ اپنے سرداروں کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں وہ کافر ہیں اور اُن کی بیویاں عقیمہ ہیں۔
اس طنز پر وہ نہایت غصے میں آئے اور مفتیِ اعظم کے پاس پہنچ کر انہوں نے فرہاد پاشا کے خلاف ایک فتویٰ چاہا۔ مفتیِ اعظم نے انہیں یہ سمجھا کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی کہ فرہاد پاشا کے کہنے سے نہ تو وہ کافر ہو سکتے ہیں اور نہ اُن کی بیویاں عقیمہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن اُن کو مفتیِ اعظم کے جواب سے تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے اعلانیہ بغاوت کر دی۔ قسطنطنیہ کے سوار دستوں نے بھی اُن کی حمایت کی اور سب نے مل کر فرہاد پاشا کے قتل کے لیے شور مچانا شروع کیا۔ اس بغاوت میں حکومت کے بہت سے اعلیٰ عہدے دار، جنہوں نے بغاوت کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی، زخمی ہوئے۔ بالآخر سلطان کے حکم پر ینی چری دستوں کو باغیوں کی سرکوبی کے لیے آمادہ کیا گیا اور یہ بغاوت کسی طرح ختم ہوئی۔
آسٹریا اور ہنگری کے ساتھ جنگ
سنہ 1592ء میں، جبکہ ابھی سلطان محمد ثالث تخت نشین نہیں ہوئے تھے، عثمانیوں اور آسٹریا کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ جنگ کے ابتدائی سالوں میں آسٹریا نے بلغراد کو محاصرے میں لے لیا تھا، جس پر اُس وقت کے مشہور عثمانی کمانڈر حسن پاشا نے بلغراد کو آسٹریا کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچا لیا۔ حسن پاشا ایک معروف عثمانی فوجی کمانڈر تھے جو 1530ء میں پیدا ہوئے اور 1611ء میں وفات پائی، انہوں نے طویل ترکش جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد کوچا سینان پاشا نے ویانا سے تقریباً 100 کلومیٹر دور یانک قلعے کو فتح کیا اور پھر بلغراد واپس چلے گئے۔ سلطان مراد سوم کے انتقال سے عین پہلے ٹرانسلوانیا اور مالدیویا کے شہزادوں اردل اور بغدادن بے نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کر دی، اور اس بغاوت کے کچھ ہی عرصے بعد سلطان مراد سوم کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد یہ جنگ سلطان محمد ثالث کے دورِ حکومت میں آ گئی۔
اس دوران عثمانیوں کی یورپی سرحد پر جنگ برابر جاری تھی اور ہنگری اور ولاچیا میں عثمانی فوجوں کو متعدد شکستیں بھی ہوئیں۔ یہ حالت دیکھ کر مدبرینِ سلطنت نے سلطان محمد ثالث کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ وہ خود دشمنوں کے مقابلے کے لیے روانہ ہو، کیونکہ عیسائی جس تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے اسے روکنے کی اس سے زیادہ امید افزا کوئی دوسری صورت نہ تھی۔ سلطان محمد ثالث کو قسطنطنیہ چھوڑنا منظور نہ تھا، اور سلطانہ صفیہ نے بھی، جو اب سلطانہ والدہ تھی، اُس کو میدانِ جنگ سے باز رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سلطان محمد ثالث ایک کمزور دل و دماغ کا آدمی تھا اور سلطنت کے تمام امور میں سلطانہ صفیہ کو زیادہ دخل تھا، وہ خوب سمجھتی تھی کہ قسطنطنیہ سے باہر ہونے کے بعد محمد ثالث اُس کے قابو سے نکل جائے گا، اس لیے اُس نے ہر ممکن کوشش سے اُسے روکنا چاہا۔ لیکن جنگ کی حالت روز بروز زیادہ انتشار انگیز ہوتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ 1593ء میں ولاچیہ اور ٹرانسلوانیا کی حمایت میں آسٹریا اور ہنگری نے بھی سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اُن کی فوجیں شہنشاہ میکسی میلن اور ہنگری کے مشہور جنرل کاؤنٹ فلفی کے زیرِ کمان تیزی سے عثمانی سرحد کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے دریائے ڈینیوب تک پہنچنے سے پہلے گران، پست، بخارسٹ اور دوسرے متعدد قلعوں کو، جن پر ترکوں کا قبضہ تھا، فتح کر لیا۔
سنان پاشا کی ناکام مہم
اس صورتحال کے پیشِ نظر فرہاد پاشا کو لشکر کا سردارِ اعظم مقرر کیا گیا، لیکن سنان پاشا کی سازش کی وجہ سے فرہاد پاشا کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا اور سنان پاشا نے دوبارہ لشکر کی کمان سنبھالی۔ آسٹریا کے محاذ پر شہزادے ماس فیلڈ نے ایسٹرہازی قلعے کو 50 ہزار پیدل فوج اور 20 ہزار سواروں کے ساتھ محاصرے میں لے لیا۔ سنان پاشا کے بیٹے محمد پاشا نے اپنے والد کے آنے تک آسٹریا کی فوجوں کا سامنا کیا، لیکن چونکہ وہ جنگی تجربے سے محروم اور نااہل کمانڈر تھا، اس لیے 7 اگست 1595ء کو ہونے والے میدانی معرکے میں وہ ہار گیا۔
اُدھر سنان پاشا سپاہیوں کے ساتھ پیش قدمی کرتا ہوا 28 اگست کو تارگویزسٹے جا پہنچا، لیکن وہاں کا وائی ووڈ موجود نہ تھا۔ 2 ستمبر 1595ء کو روزانہ سینکڑوں توپوں کی گولہ باری سے ایسٹرہازی قلعہ مزید مزاحمت نہ کر سکا اور آسٹریا کے قبضے میں چلا گیا۔ 52 سال سے عثمانیوں کے قبضے میں موجود اس قلعے کا یوں ہاتھوں سے نکل جانا عثمانیوں کے لیے تشویش ناک تھا۔ جب عثمانی ایسٹرہازی قلعے میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے تو انہوں نے کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچایا تھا، لیکن آسٹریا نے ہر جگہ لوٹ مار اور تباہی مچائی۔ اس کے بعد سنان پاشا تارگوستے پہنچے تو انہوں نے وہاں ایک قلعہ تعمیر کروایا اور اسے طرابزون کے سنجک بے علی پاشا کے سپرد کیا۔ اس دوران ولاچیا کے شہزادے مِہنیا سیل راؤ نے جرمنوں سے فوجی مدد حاصل کر لی تھی۔ سنان پاشا کے وہاں سے رخصت ہونے کے بعد مِہنیا سیل راؤ نے ثابت کیا کہ وہ واقعی ولاد ڈریکولا کا پوتا ہے۔ وہ تارگویستے میں داخل ہوا اور اس نے 3500 ترکوں کو خاردار ستونوں پر چڑھا دیا، جبکہ علی پاشا کو زندہ آگ میں جلا دیا گیا۔
اس کے بعد سنان پاشا نے دریائے ڈینیوب پر ایک پل تعمیر کروایا تاکہ فوج کو دریا کے اُس پار لے جانے میں آسانی ہو۔ جلد عثمانی فوج کا ابتدائی حصہ اس پل کے ذریعے دریا کے اُس پار پہنچا اور ترکوں نے حملہ شروع کر دیا، لیکن جب اکنجی گھڑسوار دستوں کے دریا پار کرنے کی باری آئی، تو تب مِہنیا سیل راؤ نے 70 ہزار کی فوج جمع کر لی تھی۔ اُس نے توپوں سے پل پر حملہ کر کے پل کو تباہ کر دیا، یوں باقی تمام اکنجی گھڑسوار شہید ہو گئے۔ سلطنتِ عثمانیہ کی رومیلیا کی سب سے بہترین اکنجی گھڑسوار فوج سنان پاشا کی غلط حکمتِ عملی کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ ولاد ڈریکولا کے پوتے مِہنیا سیل راؤ نے ترکوں کے بے شمار قلعوں پر حملہ کر کے اُن میں موجود ترکوں کا قتلِ عام کیا، شہروں کو لوٹا اور شدید نقصان پہنچایا۔ سنان پاشا اور اُس کے بیٹے کی ناکام عسکری مہم نے عثمانی سلطنت کی رومیلیا اور یورپ میں ساکھ کو بہت متاثر کیا۔ یوں عثمانی تاریخ میں 1595ء کا سال بدشگونی کے ساتھ ختم ہوا، جبکہ سنان پاشا کو اپنی اِن بڑی غلطیوں کی وجہ سے سلطان نے برطرف کر دیا۔
سلطان کی بذاتِ خود مہم اور فتحِ ایگر
جب عثمانی فوج کی اِن مسلسل شکستوں کی خبریں قسطنطنیہ پہنچیں تو تمام شہر میں تہلکہ مچ گیا اور ہر شخص نے اس بات پر اصرار کرنا شروع کیا کہ سلطان کو فوج لے کر خود سرحد کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔ مشہور عثمانی مورخ خواجہ سعد الدین، جو سلطان محمد ثالث کا استاد بھی تھا اور جس کا سلطان نہایت احترام کرتے تھے، اس نے بھی بے حد اصرار کے ساتھ اس بات پر زور دیا۔ آخر میں ینی چری نے بھی یہ دھمکی دی کہ جب تک سلطان خود اُن کی قیادت نہیں کریں گے وہ دشمن کے مقابلے کے لیے آگے نہ بڑھیں گے۔
سلطان محمد ثالث نے مفتیِ اعظم کو بلا کر مشورہ طلب کیا۔ مفتیِ اعظم نے اس کے جواب میں اس عہد کے مشہور شاعر علی چیلیبی کی ایک نظم اُس کے ہاتھ میں رکھ دی، جس میں سلطنتِ عثمانیہ کی زبوں حالی اور موجودہ جنگ کی تباہ کاری نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں بیان کی گئی تھی۔ اِن تمام باتوں کا اثر بالآخر سلطان محمد ثالث پر بھی پڑا اور اُس نے سلطانہ صفیہ کی شدید مخالفت کے باوجود سرحد پر جانے کا عزم کر لیا۔
جون 1596ء میں سلطان محمد ثالث نہایت تزک و احتشام کے ساتھ سرحد کی طرف روانہ ہوئے۔ اس مہم میں علمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بار نکالا گیا، جس کی وجہ سے فوج میں بے انتہا جوش تھا۔ مؤرخ سعد الدین سلطان کے ہمرکاب تھا اور فوج کی کمان صدرِاعظم ابراہیم پاشا، حسن سوکولو پاشا اور سیکالا پاشا کے ہاتھ میں تھی۔ یوں تقریباً 30 سال بعد پہلی بار کوئی عثمانی سلطان اپنی فوج کے ساتھ سرحد پر جنگ لڑنے نکلا۔ جوں ہی ترک فوج سرحد پر پہنچی تو آسٹریا اور ہنگری کی فوجیں بلا مقابلہ پسپا ہو گئیں اور بلغاریہ کے تمام مفتوحہ علاقوں کو خالی کر دیا۔ 20 اگست 1596ء کو سلطان محمد ثالث بلغراد پہنچے، جسے طویل عرصے بعد کسی عثمانی سلطان نے رونق بخشی تھی۔ شہر کے باشندوں نے سلطان کا پرجوش استقبال کیا، سلطان نے وہاں ایک فوجی پریڈ کروائی اور 11 دن قیام کے بعد بلغراد سے روانہ ہو گئے۔
24 ستمبر 1596 عیسوی کو ایگر قلعے کا محاصرہ شروع ہوا۔ یہ قلعہ انتہائی اہم تھا۔ سلطان سلیمانِ اعظم کے دور میں اس قلعے کو 39 دنوں کے سخت ترین محاصرے کے باوجود فتح نہ کیا جا سکا تھا، مگر اب کی بار محاصرہ صرف 18 دن جاری رہا اور عثمانی فوجیں ایگر قلعے میں داخل ہو گئیں۔ قلعے کی حفاظت پر مامور ہزاروں آسٹریائی فوجی ترکوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یوں 18 اکتوبر 1596ء کو ایگر قلعے کی فتح کی خوشی میں سلطان نے جمعہ کی نماز ادا کی۔
حاچووا (سیرسٹیز) کا معرکہ
ایگر قلعے کے ہاتھ سے نکلنے پر آسٹریا کے آرچ ڈیوک میکسی میلن نے ایک بہت بڑی صلیبی فوج تیار کی، جس میں جرمنوں کے علاوہ اردل کی بغاوت کرنے والی افواج، ہنگری، بیلجیم، ہالینڈ، پاپائی، کروشیائی، چیک اور سلاواک فوج شامل تھی۔ آسٹریا اور ہنگری کی فوجیں آگے بڑھیں، لیکن تب تک ایگر فتح ہو چکا تھا۔ 24 اکتوبر 1596ء کو فریقین کی فوجیں سیرسٹیز (Cerestes) کے میدان میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں اور پھر تین دن تک اس خونریز جنگ کا سلسلہ قائم رہا، جس میں ابتداً ترکوں کو شکست ہوئی، لیکن آخر میں انہوں نے عیسائیوں کی طاقت کو پاش پاش کر دیا۔
پہلے روز ترکی کی فوج کا ایک دستہ، جو جعفر پاشا کی کمان میں تھا، نہایت جاں بازی کے ساتھ مقابلہ کرتا رہا، لیکن دشمن کی کثرتِ تعداد سے مغلوب ہو کر ایک ہزار ینی چری، ایک سو سپاہی اور تینتالیس توپوں کے نقصان کے ساتھ عثمانیوں کو پسپا ہونا پڑا۔ اس ابتدائی شکست کے بعد سلطان نے فوجی افسروں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور یہ خیال ظاہر کیا کہ جنگ فی الحال ختم کر دی جائے اور فوج کو واپسی کا حکم دے دیا جائے۔ مؤرخ سعد الدین نے اس رائے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ یہ بات نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی گئی کہ عثمانیوں کے کسی بادشاہ نے انتہائی ناگزیر مجبوری کے بغیر دشمن کو پیٹھ دکھائی ہو۔ بعض سرداروں نے یہ مشورہ دیا کہ سلطان کی حفاظت کے خیال سے فوج کی کمان حسن صوقللی پاشا کے ہاتھ میں دے دی جائے، مگر سعد الدین نے اس کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یہ معاملہ پاشاؤں کا نہیں ہے، یہاں خود سلطان کی ذاتی موجودگی قطعی طور پر ضروری ہے۔ چنانچہ محض سعد الدین کے عزم و استقلال کی وجہ سے آخر میں یہ طے پایا کہ جنگ جاری رکھی جائے اور سلطان ہی اس کی قیادت کا فرض انجام دے۔
فتحِ مبین
دوسرے روز بھی ترکوں کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی، لیکن تیسرے روز 26 اکتوبر 1526ء کو دونوں فریق نے پوری تیاری کے ساتھ حملہ کیا اور یہی حملہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ شروع میں عیسائیوں نے مکمل طور پر غلبہ پایا، انہوں نے ترکوں اور تاتاریوں کو میدان سے بھگا کر اُن کی تمام توپوں پر قبضہ کر لیا۔ سلطان نے یہ دیکھ کر کہ اب کوئی امید باقی نہیں رہی، بھاگنے کا قصد کیا، لیکن سعد الدین نے اس موقع پر بھی ثابت قدمی دکھائی اور قرآن پاک کی ایک آیت تلاوت کر کے سلطان کو سمجھایا کہ صبر ہی سے فتح حاصل ہوتی ہے اور رنج کے بعد خوشی کا آنا ضروری ہے۔ عین اُس وقت جب عیسائی دستے فاتحانہ جوش و خروش میں لوٹ مار میں مصروف تھے، سیکالا پاشا، جو اب تک بالکل خاموش کھڑا تھا، دفعتاً اپنے سواروں کے ساتھ بجلی کی طرح عیسائیوں پر ٹوٹ پڑا اور اِس بے جگری سے انہیں قتل کرنا شروع کیا کہ وہ تھوڑی دیر کے لیے بھی میدان میں ٹھہر نہ سکے اور انتہائی خوف کی حالت میں جان بچانے کے لیے بھاگے۔ لیکن باوجود اس کوشش کے اُن کے پچاس ہزار سپاہی دلدل میں پھنس کر اور ترکوں کی تلواروں سے ہلاک ہو گئے۔ اُن کی 95 توپیں اور آرچ ڈیوک میکسی میلین کا، جو عیسائی فوجوں کا سپہ سالارِ اعظم تھا، تمام زر و جواہر اور فوجی سامان ترکوں کے قبضے میں آ گیا۔ ترکوں کی یہ فتح اپنی عظمت اور اہمیت کے اعتبار سے تاریخِ آلِ عثمان کی نمایاں ترین فتوحات میں سے ایک تھی۔ اس غیر متوقع فتح کے بعد، جس کا سہرا حقیقتاً سعد الدین پاشا اور سیکالا پاشا کے سر تھا، سلطان محمد ثالث بڑے فخر و مسرت کے ساتھ قسطنطنیہ واپس ہوا اور پھر اپنی عیش و عشرت کی زندگی میں مصروف ہو گیا۔ ہنگری کے ساتھ جنگ کا سلسلہ کم و بیش برابر جاری رہا، یہاں تک کہ اس کے جانشین سلطان احمد اول کے عہد میں صلح نامہ ستوا توروک (Sitvatoroh) کے ذریعے اس کا خاتمہ ہوا۔
بعد کے واقعات اور بغاوتیں
فراری
قسطنطنیہ پہنچ کر سلطان محمد ثالث نے فوراً ہی سیکالا پاشا کو اُس کی شجاعت اور کامیابی کے صلے میں صدرِاعظم مقرر کیا، لیکن یہ انتخاب نتائج کے اعتبار سے نہایت افسوس ناک ثابت ہوا اور چند ہی دنوں بعد سیکالا پاشا اس عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ایک فوجی افسر کی حیثیت سے اُس کی بے مثل شجاعت اور جاں بازی مسلم تھی، تاہم انتظامِ سلطنت کے لیے جس تدبیر اور مصلحت بینی کی ضرورت تھی اس سے وہ بڑی حد تک محروم تھا۔ جنگِ سیرسٹیز کے موقع پر جب عیسائیوں نے غلبہ پایا تو عثمانی فوج کے بیشتر دستوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ سیکالا پاشا کو تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اِن بھاگنے والوں کی تعداد ہزار میں تھی، جن میں زیادہ تر ایشیا کے جاگیری دستے تھے۔ اُس نے اُن سب کو “فراری” کے لقب سے موسوم کر کے اُن کی تنخواہیں روک دیں اور اُن کی جاگیریں ضبط کر لیں، بہتیروں کو اُس نے علانیہ قتل کرا دیا۔ ایک بڑی تعداد ایشیائے کوچک کو واپس چلی گئی اور سیکالا پاشا اور سلطنت کے خلاف بغاوت پھیلانے کی کوشش کرنے لگی۔ چنانچہ ایشیائے کوچک میں تھوڑے ہی دنوں بعد جو بغاوت برپا ہوئی اور جس کا سلسلہ کئی سال تک قائم رہا، اس میں نمایاں حصہ اِنہی “فراریوں” کا تھا۔
قرہ بازیچی کی بغاوت
سلطان محمد ثالث کے بقیہ عہدِ حکومت میں فوج کی خودسری اور صوبہ داروں کی سخت گیری روز بروز زیادہ ہوتی گئی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلطنت کے خلاف ایک عام بے زاری پھیل گئی اور ہر طرف بغاوت کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ چنانچہ 1999ء میں ایشیائے کوچک کے فوجی جاگیرداروں کا ایک سردار عبدالحمید، جو “قرہ بازیچی” کے لقب سے مشہور تھا، اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سلطان کے خلاف بغاوت برپا کر کے خود ایک خود مختار فرماں روا بن جانا چاہا۔ اُس نے کردوں، ترکمانوں اور جنگِ سیرسٹیز کے فراریوں کی ایک فوج تیار کی اور اپنے بھائی ولی حسن بغدادی کی مدد سے عثمانی لشکر کو متعدد شکستیں دیں۔ اس کے بعد حسن صوقوللی پاشا باغیوں کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوا، اُس نے عبدالحمید کو شکست دے کر بھگا دیا۔ عبدالحمید کو لڑائی میں ایک کاری زخم لگا تھا، جس سے وہ جاں بر نہ ہو سکا، لیکن مرنے سے پہلے اُس نے اپنے بھائی ولی حسن کو اپنی موت کا بدلہ لینے پر مامور کر دیا۔ چنانچہ ولی حسن نے جنگ جاری رکھی اور بالآخر حسن پاشا کو قتل کر دیا۔ اُس کی طاقت روز بروز بڑھتی گئی، یہاں تک کہ سلطان کو 1603ء میں مجبوراً اُس سے صلح کرنی پڑی اور سلطان نے اسے بوسنیا کا حاکم مقرر کر دیا، جس کے معاوضے میں ولی حسن نے آئندہ مطیع اور وفادار رہنے کا عہد کیا۔
ایران سے جنگ
اس بغاوت کے دوران ہی شاہ عباس نے اپنے قدیم دشمن کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر 1601ء میں سلطنتِ عثمانیہ پر حملہ کیا اور گزشتہ عہد میں جو صوبے سلطنتِ ایران سے نکل کر سلطنتِ عثمانیہ میں شامل ہو گئے تھے، انہیں واپس لے لیا۔
وفات
جون 1603ء میں سلطان محمد ثالث نے اپنے سب سے بڑے لڑکے محمود کو، جس کی شجاعت اور لیاقت کے جوہر ابتدا ہی سے نمایاں تھے اور جس نے باغیوں کو کچلنے کے لیے ایشیائے کوچک کی سپہ سالاری کی درخواست سلطان سے کی تھی، محض اس شک کی بنا پر قتل کر دیا کہ وہ اس بہانے سے خود تختِ سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس شبہ کو کسی درویش کی اس پیشین گوئی سے بھی تقویت پہنچی کہ جلد ایک نیا سلطان تخت پر بیٹھے گا۔ سلطان نے اس پیشین گوئی کے خوف سے محمود کو تو قتل کرا دیا، لیکن تھوڑے ہی دنوں بعد 27 اکتوبر 1603ء کو وہ خود بھی ختم ہو گیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک درویش نے اُس سے کہا تھا کہ پچپن روز کے اندر اُس پر کوئی سخت مصیبت آنے والی ہے۔ اس پیشین گوئی کا اثر یہ ہوا کہ وہ روز بروز مغموم اور ضعیف ہوتا گیا، اور پیشین گوئی کے ٹھیک پچپن دن بعد اُس کا انتقال ہو گیا۔
History In Urdu