Sultan Mehmed I (Part 4): Sheikh Bedreddin, the Man Who Almost Destroyed the Empire

Sultan Mehmed I (Part 4): Sheikh Bedreddin, the Man Who Almost Destroyed the Empire

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان محمد اول نے گیارہ سالہ خانہ جنگی کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو دوبارہ متحد کیا تھا، مگر ان کے دورِ حکومت کا سب سے بڑا چیلنج شیخ بدرالدین کی بغاوت تھی۔ شیخ بدرالدین ایک بلند پایہ عالم تھے جنہوں نے باطنی نظریات کی بنیاد پر عثمانی سلطنت کو ختم کر کے ایک نئی سلطنت قائم کرنے کی سازش کی۔ یہ تحریر شیخ بدرالدین کی زندگی، ان کی بغاوت اور سلطان محمد اول کے دور کے اہم واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔

پس منظر

گیلی پولی میں وینس کی بحریہ کے ہاتھوں ہونے والی شکست سلطنتِ عثمانیہ کی اب تک کی سمندر میں سب سے بڑی شکست تھی۔ لیکن اس شکست کے باوجود سلطان محمد اول نے البانیہ میں وینس کے علاقوں پر حملہ کر کے اس شکست کا بدلہ لے لیا تھا اور بلغاریہ میں “میرچا اول” کو بھی سلطان نے اپنا مطیع اور فرمانبردار بناتے ہوئے اس سے سالانہ خراج دینے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب سلطان اپنی زندگی کے بقیہ دن دارالحکومت ادرنے شہر میں سکون کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے، کیونکہ امیر تیمور کے حملوں، جنگِ انقرہ میں شکست اور پھر شہزادوں کی آپس میں خانہ جنگی — ان سب نے سلطان محمد اول کو تھکا دیا تھا۔ لیکن اس دوران سلطان کو دو بڑی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بغاوت ان کے بھائی مصطفیٰ کی جانب سے تھی، جسے جنگِ انقرہ میں شکست کے بعد تیمور اپنے ساتھ سمرقند لے گیا تھا؛ جبکہ دوسری بڑی بغاوت شیخ بدرالدین کی جانب سے تھی۔

شیخ بدرالدین کی ابتدائی زندگی و تعلیم

شیخ بدرالدین 1359ء میں عثمانی دارالحکومت “ادرنے” کے قریب ایک گاؤں “سماونا” میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد اسرائیل ایک تجربہ کار عثمانی سپاہی تھے، جنہوں نے مشہور عثمانی کمانڈر “حاجی البے” کے ساتھ کئی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ ان کے دادا عبدالعزیز اورحان غازی کے زمانے میں رومیلیہ میں تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے یورپ میں اورحان غازی کے بیٹے سلیمان پاشا کے ساتھ مل کر فتوحات حاصل کی تھیں۔ ان کے والد اسرائیل نے “ادرنے” شہر میں ایک یونانی عہدے دار کی بیٹی سے شادی کی تھی، جس سے شیخ بدرالدین پیدا ہوئے۔ شیخ بدرالدین نے اپنی ابتدائی تعلیم سماونا میں حاصل کی۔ جب وہ ادرنے آئے تو انہوں نے مولانا یوسف سے گرامر اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ “بورصہ” شہر چلے گئے، جہاں انہوں نے اس وقت کے جج “محمود آفندی” سے باقی علوم حاصل کیے۔ بورصہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے استاد کے مشورے پر وہ کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ چلے گئے، جہاں انہوں نے چار ماہ تک ایک عالم “فیض اللہ” سے منطق اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد بدرالدین قونیہ سے یروشلم “بیت المقدس” چلے گئے، جہاں انہوں نے “ابن العصقلانی” سے حدیث کا علم حاصل کیا، اور یروشلم سے وہ مملوک سلطنت کے دارالحکومت “قاہرہ” چلے گئے۔ اس دوران مملوک سلطان “برکوک” کو جب بدرالدین کی آمد کا علم ہوا اور انہیں پتہ چلا کہ بدرالدین سائنسی علم میں کمال مہارت رکھتے ہیں، تو انہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے بدرالدین کو اپنے محل میں دعوت دی۔ وہاں انہوں نے سلطان “برکوک” کے بیٹے “ناصر الدین فراج” کو تین سال تک تعلیم دی اور ان تین سالوں میں فقہ کی کئی تصانیف لکھیں۔ بدرالدین، جو کہ ابتدا میں تصوف کے خلاف تھے، جب وہ قاہرہ میں حسین نامی شیخ سے ملے تو تصوف سے متاثر ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ حسین نامی شیخ باطنی تھے، جو کہ شیخ بدرالدین کو بہت متاثر کرتے تھے۔

قاہرہ سے شیخ بدرالدین تیموری سلطنت میں تبریز کے لیے روانہ ہوئے۔ اس دوران 1403ء میں تیموری سلطنت کا حکمران امیر تیمور اناطولیہ سے لوٹ مار کر کے واپس لوٹ آیا تھا۔ تبریز میں بدرالدین کئی علماء سے ملے اور ان کی امیر تیمور سے ملاقات بھی ہوئی۔ امیر تیمور ان کی ذہانت اور علم سے بہت متاثر ہوا اور اس نے انہیں بہت سا انعام و اکرام بھی دیا۔ اس دوران بدرالدین کی زندگی میں سب سے اہم موڑ تب آیا جب انہوں نے قزوین کا دورہ کیا، جہاں پر باطنی فدائیوں کا مشہور قلعہ “الموت” تھا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ الموت میں شیخ بدرالدین کس سے ملے، لیکن جب وہ قزوین سے واپس قاہرہ پہنچے تو ان کی زندگی تقریباً بدل چکی تھی۔

نئے فرقے کی بنیاد اور اناطولیہ میں سرگرمیاں

قاہرہ میں ان کے شیخ حسین کی وفات کے بعد انہوں نے ایک نئے فرقے کی بنیاد رکھی اور یوں بدرالدین شیخ بن گئے، لیکن تھوڑے ہی دنوں میں قاہرہ میں وہ اپنے باطنی نظریات کی وجہ سے غیر مقبول ہو گئے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنے آبائی شہر ادرنے واپس جانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ انہیں قاہرہ سے نکال دیا گیا تھا۔ قاہرہ سے شیخ بدرالدین کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ جا پہنچے، جہاں کے لوگوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ قونیہ کے بعد “شیخ بدرالدین” بنو ایدین قبیلے گئے۔ یہاں شیخ بدرالدین نے اپنے نظریات کی تشہیر کے بعد بے شمار شاگردوں کو جمع کر لیا۔ یہیں پر ان کی ملاقات بروکلس مصطفیٰ سے ہوئی، جو کہ قابلِ ذکر لوگوں میں سے ایک تھا اور جسے شیخ بدرالدین نے اپنے مقربین میں شامل کر لیا۔ یہاں سے بدرالدین کوتاہیہ چلے گئے، جہاں ان کی ملاقات ایک اور علوی “تورلک کمال” سے ہوئی۔ شیخ بدرالدین “اناطولیہ” میں خاص طور پر علوی ترکمانوں میں بہت زیادہ مقبول تھے، اس لیے انہوں نے اپنے لیے بہت سے شاگرد جمع کر لیے۔ یوں اناطولیہ میں مشہور ہونے کے بعد وہ یورپ میں “ادرنے” شہر چلے گئے۔ ادرنے شہر میں شیخ بدرالدین سے بہت سے لوگ ملنے آیا کرتے تھے؛ یہاں کوئی ایسا نہ تھا جو شیخ بدرالدین کو نہ جانتا ہو۔

موسیٰ چلیبی کے دور میں عروج اور برطرفی

شیخ بدرالدین اپنے دور میں علم و حکمت کے اعتبار سے سب سے برتر تھے۔ اس وقت جب کہ شیخ بدرالدین “ادرنے” شہر میں موجود تھے، عثمانی شہزادے موسیٰ چلیبی نے اپنے بڑے بھائی “سلیمان” کا تختہ الٹ دیا تھا اور وہ “ادرنے” شہر میں تخت نشین ہو گیا تھا۔ موسیٰ چلیبی کو اپنے بڑے بھائی امیر سلیمان کے آدمیوں پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس نے شیخ بدرالدین کا کافی نام سنا تھا، جو کہ ادرنے کے سب سے معزز عالم مانے جاتے تھے۔ موسیٰ چلیبی اپنے وفد کے ساتھ شیخ بدرالدین کے پاس گئے اور انہیں حکومتی عہدوں کے لیے دعوت دی، جس کے بعد “سلیمان” کے آدمیوں کو برطرف کر کے “شیخ بدرالدین” اور ان کے خاص مصاحبین کو رومیلیا میں اعلیٰ عہدوں پر مامور کیا گیا۔

لیکن جلد 1413ء میں موسیٰ چلیبی کو ان کے چھوٹے بھائی محمد اول نے شکست دیتے ہوئے 11 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ کیا اور وہ پانچویں عثمانی سلطان کے طور پر ادرنے شہر میں تخت نشین ہوئے۔ تخت نشین ہونے کے بعد سلطان محمد اول کے جاسوسوں نے سلطان کو خبردار کیا کہ شیخ بدرالدین اور ان کے بے شمار شاگرد اس وقت رومیلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہیں اور ان کے نظریات باطنی ہیں۔ جس کے بعد سب سے پہلے سلطان محمد اول نے شیخ بدرالدین کو ان کے عہدے سے برطرف کیا اور اس کے بعد انہیں تفتیش کے لیے ازنیک شہر روانہ کیا۔ شیخ بدرالدین نے اپنے ان شاگردوں کی نشاندہی کی جنہیں عثمانی اعلیٰ عہدوں پر مامور کیا گیا تھا، جس کے بعد سلطان کے حکم پر ان سب کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یوں اپنے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد شیخ بدرالدین نے ازنیک شہر میں اپنی سرگرمیاں خفیہ جاری رکھیں، لیکن اس دوران سلطان محمد اول کے جاسوس شاگردوں کی صورت میں شیخ بدرالدین کے قریب رہے اور وہ مسلسل سلطان کو شیخ کے بارے میں رپورٹیں بھیجتے رہے۔

معاشی بحران اور باغیانہ نظریات

جب سے امیر تیمور نے سلطنتِ عثمانیہ پر حملہ کرتے ہوئے سلطان بایزید کو شکست دی تھی اور وہ اناطولیہ سے بے شمار خزانہ لوٹ کر سمرقند لے گیا تھا، تب سے سلطنتِ عثمانیہ کو شدید اقتصادی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ امیر تیمور کے ظلم و ستم سے بچ جانے والے لوگوں نے مغرب کی جانب کا رخ کیا؛ یوں اس اچانک تبدیلی نے شہروں کی ترتیب کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ پیداوار تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی اور عوام کی حالت آئے روز بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ 11 سال تک عثمانی شہزادوں کی آپس میں تخت کے لیے خانہ جنگی نے عوام کو مزید مشکل معاشی صورتحال میں ڈال دیا تھا، جس کی وجہ سے لوگوں میں حکمرانوں اور انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ بروکلس مصطفیٰ، جو کہ ایک چالاک آدمی تھا، اس نے اس موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اور اس بپھرے ہوئے مجمع کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرنے کا سنہری موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور اس نے شیخ بدرالدین کے نظریات کو پھیلانا شروع کر دیا۔ اس کے مطابق جنت اور جہنم جیسی کوئی جگہ نہیں تھی اور وہ شیطان اور فرشتوں کے وجود سے بھی انکار کرتا تھا؛ شیطان کو انسانوں کے اندر ایک ہوس پرست قوت کے طور پر بیان کرتا تھا اور فرشتے کو انسان کے اندر نیکی کی طرف رجحان سے تعبیر کرتا تھا۔ مزید اس نے اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے بھی کام کیا۔

اس نے مساوات اور مشترکہ ملکیت کے تصورات کے ساتھ غریبوں اور بے روزگاروں کو امیروں کی جائیدادوں سے حصہ دیا۔ اس نے امیروں کی تمام جائیدادیں ضبط کر کے غریبوں میں بانٹ دیں۔ یوں اس کے اس طرزِ عمل سے بہت سے ایسے لوگ اور نوجوان جو تیموری حملوں سے زندہ بچ نکلے تھے، اس کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے شاگردوں کو شراب پینے کی بھی ترغیب دی۔ اس نے کہا کہ اس کے پاس کمال کی سیاسی ذہانت ہے، جس کے تحت وہ عثمانیوں کے خلاف ایک نیا نظام لا سکتا ہے۔ یوں کچھ لوگ اسے تاریخ کی پہلی کمیونسٹ تحریک کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں، یہاں تک کہ شیخ بدرالدین کی تحریک کو آج بھی ترکی کے گلوکار اپنے گانوں میں یاد کرتے ہیں۔

شہزادہ مصطفیٰ کی بغاوت

اس دوران جبکہ “شیخ بدرالدین” کے شاگرد “بروکلس مصطفیٰ” اور “تورلک کمال” اس علاقے میں اپنے حامیوں کو جمع کرنے میں مصروف تھے، عثمانی سلطنت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی۔ وہ اہم پیش رفت سلطان بایزید یلدرم کا گم شدہ بیٹا شہزادہ مصطفیٰ تھا، جو کہ جنگِ انقرہ کے بعد سے غائب تھا۔ دراصل شہزادہ مصطفیٰ کو امیر تیمور اپنے ساتھ سمرقند لے گیا تھا، جہاں امیر تیمور کی موت کے بعد مصطفیٰ چلیبی اپنی جان بچا کر سمرقند سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ اناطولیہ میں کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ میں آنے کے بعد جب اسے معلوم ہوا کہ اس کے سارے بھائی تخت کی جنگ میں مارے گئے ہیں اور اس کا زندہ بچ جانے والا بھائی “سلطان محمد اول” اس وقت عثمانی سلطنت کا واحد سلطان ہے، تو اس نے ایک تو کارامان قبیلے میں پناہ لی اور دوسرا اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اس کے بعد وہ “قونیہ” سے بنو “جاندار” قبیلے کے سردار “اسفند یار بے” کے پاس چلا گیا۔ اسفند یار بے نے عثمانی شہزادے کا “ولاچیہ” کے بادشاہ “میرچہ اول” کے ساتھ ایک معاہدہ کروایا، جس کے تحت اس نے ولاچیا سے سلطان محمد اول کے خلاف فوجی مدد مانگی۔ پھر اس نے ایک جہاز عثمانی شہزادے کو دیا، جس کے بعد مصطفیٰ اس جہاز سے بحیرۂ اسود کو عبور کرتے ہوئے رومیلیہ جا پہنچا۔ رومیلیہ میں شہزادہ مصطفیٰ چلیبی کا میرچہ اول نے سپاہیوں کے ساتھ شاندار استقبال کیا۔ باغی عثمانی شہزادے مصطفیٰ کو اس دوران رومی شہنشاہ مینویل کی فوجی مدد بھی حاصل تھی۔ یوں ولاچیا اور رومی سلطنت کی مدد سے مصطفیٰ نے ایک مضبوط فوج جمع کر لی۔ اس کے بعد مصطفیٰ چلیبی نے، بجائے اس کے کہ وہ براہِ راست عثمانی دارالحکومت ادرنے پر حملہ کرتا، اپنی فوج کو “دریائے ڈینیوب” میں موجود بحری جہازوں پر سوار کیا اور وہ بحیرۂ اسود کے راستے پہلے قسطنطنیہ پہنچا، پھر بحرِ مارمرہ سے ہوتا ہوا بحرِ ایجین میں آیا اور یہاں سے وہ تھیسالونیکا، جو کہ رومی سلطنت کا علاقہ تھا، وہاں داخل ہوا اور یہیں سے اس نے عثمانی سلطنت کے یونانی علاقوں پر حملے کے لیے بغاوت شروع کی۔

عثمانی شہزادے مصطفیٰ کی یہ بغاوت شیخ بدرالدین کے پیروکاروں کے لیے ایک بہترین موقع تھی، کیونکہ عثمانی سلطان محمد اول اور شہزادہ مصطفیٰ رومیلیہ میں دوبارہ تخت کے لیے لڑنے جا رہے تھے۔

بروکلس مصطفیٰ کی بغاوت اور عثمانی مہمات

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اناطولیہ میں بنو ایدین قبیلے میں موجود بروکلس مصطفیٰ نے بغاوت کی آگ شروع کر دی۔ اگرچہ بروکلس مصطفیٰ شیخ بدرالدین کا ایک خلیفہ تھا، اس علاقے میں شیخ بدرالدین سے زیادہ اس کی عزت تھی؛ اس کے پیروکار اس پر جان نچھاور کرتے تھے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر بروکلس مصطفیٰ اپنے شاگردوں میں سے کسی ایک کو آگ میں چھلانگ لگانے کا حکم دیتا تو وہ بغیر سوچے سمجھے آگ میں کود جاتے۔ کچھ روایات کہتی ہیں کہ شیخ بدرالدین کو اس بغاوت کا علم نہیں تھا، جبکہ بعض روایات کے مطابق اس بغاوت کی منصوبہ بندی خود شیخ بدرالدین نے کی تھی۔

اسی بغاوت کے دوران شیخ بدرالدین ازنیک سے فرار ہو کر بنو جاندار قبیلے میں اسفند یار بے کے پاس چلا گیا، جہاں سے وہ جہاز پر سوار ہو کر رومیلیا میں ولاچیا کے بادشاہ میرچہ اول کے پاس جا پہنچا۔ ولاچیا کے قریب موجود عثمانی علاقوں میں علوی ترکمان زیادہ آباد تھے، اس لیے شیخ بدرالدین نے یہاں اپنے نظریات کی خوب تشہیر کی اور ایک بغاوت کھڑی کر دی اور بے شمار علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

یوں ان پے در پے بغاوتوں نے سلطان محمد اول کو ایک مشکل ترین موڑ پر لا کھڑا کیا۔ گویا یہ سب کچھ ایک شاندار منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ جب سلطان محمد اول اپنی فوج کے ساتھ باغی شہزادے مصطفیٰ چلیبی کی فوج کے خلاف ادرنے شہر سے روانہ ہوئے، تو اناطولیہ میں موجود عثمانی کمانڈر اسکندر بے کو سلطان نے حکم دیا کہ وہ بنو جاندار قبیلے میں موجود بروکلس مصطفیٰ کی بغاوت کو کچل دے۔ سکندر بیگ بلغاریہ کے مشہور بادشاہ شیمان کا بیٹا تھا اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اسکندر بے نے فوراً سپاہیوں کو اپنی کمان میں اکٹھا کیا اور بروکلس مصطفیٰ کی طرف پیش قدمی شروع کی، لیکن جب وہ کارا بورن پہنچا تو اسے اپنے خلاف کوئی باقاعدہ فوج کھڑی نظر نہ آئی، کیونکہ بروکلس مصطفیٰ کے پیروکار ہر گلی اور ہر گھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ بجائے سامنے آ کر تلوار نکال کر حملہ کرنے کے، ان باغیوں نے عثمانی فوج کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑ دی اور عثمانی فوج اس گوریلا جنگ کی عادی نہیں تھی۔ یوں سکندر بیگ اور اس کی فوج کو بری طرح شکست ہوئی، یہاں تک کہ “اسکندر بے” بھی اس جنگ میں شہید ہو گئے۔

اس ابتدائی شکست کے بعد ایک اور عثمانی کمانڈر “تیمور تاش زادہ علی بے” کو ایک فوج دے کر ان باغیوں کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا گیا، لیکن علی بے کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ واپس ناکام لوٹ آئے۔ یوں بروکلس مصطفیٰ کی یہ دو پے در پے فتوحات اس کے شاگردوں کی نظروں میں اس کی ساکھ بہت مضبوط کر گئیں؛ انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا شیخ ناقابلِ تسخیر ہے۔ یوں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب سلطان محمد اول نے اناطولیہ میں موجود اپنے ایک اور عظیم کمانڈر “بایزید پاشا” کو ان باغیوں کو کچلنے کا حکم دیا اور اس مہم کے لیے سلطان نے “اماسیہ” میں موجود اپنے بیٹے شہزادے مراد کو بایزید پاشا کے ساتھ جانے کا حکم دیا۔

مصطفیٰ چلیبی کی شکست

دریں اثنا رومیلیہ میں سلطان محمد اول نے “تھیسالونیکا” کے قریب اپنے بھائی مصطفیٰ چلیبی کی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور تھوڑے ہی عرصے میں سلطان نے اپنے بھائی مصطفیٰ کی فوج کو شکست دے دی۔ جب مصطفیٰ چلیبی کو اپنی شکست کا احساس ہوا تو اس نے فوری طور پر بھاگ کر تھیسالونیکا کے قلعے میں پناہ لے لی۔ اس کے بعد سلطان محمد اول نے “تھیسالونیکا” میں موجود رومی کمانڈر “لاسکریس” کو حکم دیا کہ وہ اس کے باغی بھائی کو اس کے حوالے کرے۔ لیکن تھیسالونیکا کے گورنر نے کہا کہ میں شہنشاہ کی اجازت کے بغیر شہزادے کو آپ کے حوالے نہیں کر سکتا۔ دراصل وہ اس دوران سلطان محمد اول کو مصروف رکھے ہوئے تھا اور خود چپکے سے شہزادہ مصطفیٰ کے ساتھ ایک جہاز پر سوار ہوا اور استنبول فرار ہو گیا۔ جب سلطان کو خبر ملی تو سلطان نے جلد اپنا ایک قاصد رومی شہنشاہ مینویل کے دربار میں بھیجا اور شہنشاہ کو کہا کہ اس کے بھائی کو جلد اس کے حوالے کر دیا جائے، لیکن شہنشاہ مینویل نے کہا کہ اگر کوئی شخص میرے پاس آ کر پناہ لیتا ہے تو اس کی حفاظت کرنا میرا ذاتی فرض ہے، اور اس نے بڑی شائستگی کے ساتھ سلطان محمد اول کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ تاہم اس نے سلطان کو بائبل پر ہاتھ رکھ کر یہ قسم دی کہ جب تک وہ زندہ رہے گا، شہزادے کو کبھی بھی سلطان کے خلاف آزاد نہیں کرے گا اور نہ ہی شہزادے کی حمایت کرے گا۔ اور اس نے شہزادے کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے سلطان سے سالانہ 3 ہزار سکے مانگ لیے۔ سلطان نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے رومیوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا، کیونکہ سلطان اس دوران رومیلیہ اور اناطولیہ میں پھیلی دونوں بغاوتوں کو ختم کرنا زیادہ ضروری سمجھتے تھے۔

اناطولیہ میں بغاوتوں کا خاتمہ

ادھر اناطولیہ میں شہزادے مراد کی فوج جب بایزید کی فوج کے ساتھ ملی تو اس فوج کی مجموعی تعداد 70 ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ یوں اس فوج نے براہِ راست بروکلس مصطفیٰ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ اس وقت بروکلس مصطفیٰ ازمیر قلعے کا محاصرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا اور بایزید پاشا نے اسے بغیر کوئی موقع دیے اس پر اچانک حملہ کر دیا۔ یوں باغیوں اور عثمانیوں کے درمیان کئی دنوں تک گوریلا جنگ ہوتی رہی اور اس جنگ سے عثمانی فوج کو بہت نقصان بھی پہنچا۔ لیکن آخر کار بروکلس مصطفیٰ کے پیروکاروں کو عثمانی ینی چری فوجوں کی تلوار کا سامنا کرنا پڑا اور اس بغاوت کو بڑے زبردست طریقے سے کچل دیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے تمام پیروکاروں کو ان کے شیخ بروکلس مصطفیٰ کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ کر اس کے سامنے ایک ایک کر کے پھانسی دے دی گئی، جبکہ بروکلس مصطفیٰ کو شہر کا چکر لگوانے کے بعد اسے بھی پھانسی دے دی گئی۔

یوں شیخ بدرالدین کے ایک خلیفہ کی موت اور اس کے پیروکاروں کے خاتمے کے بعد شیخ بدرالدین کا ایک اور خلیفہ “تورلک کمال” منیسہ میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ جمع ہوا اور اس نے ایک قلعے پر حملہ کرنے کی ہمت دکھائی۔ لیکن جب سے بروکلس مصطفیٰ کے قتل کی خبر “تورلک کمال” کے پیروکاروں نے سنی، اس کے پیروکاروں میں کمی واقع ہو گئی اور اسی وجہ سے اس کے پاس اب صرف تین سے پانچ ہزار کے قریب پیروکار تھے۔ دریں اثنا بایزید پاشا اور شہزادہ مراد بغاوت کو کچلنے کے بعد منیسہ میں “تورلک کمال” کی بغاوت کو کچلنے کے لیے آ پہنچے اور انہوں نے باغیوں کو چاروں اطراف سے گھیر لیا۔ یوں اس بار عثمانی فوج نے بغیر کسی جانی نقصان کے “تورلک کمال” کو شکست دی اور زندہ بچ جانے والے پیروکاروں کو “تورلک کمال” کے ساتھ پھانسی دے دی گئی۔ یوں اناطولیہ میں باطنی بغاوتوں کو زبردست طریقے سے کچل دیا گیا۔

شیخ بدرالدین کا انجام

تاہم ان بغاوتوں کا حقیقی بانی شیخ بدرالدین اس وقت رومیلیہ میں اپنی باغی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ شیخ بدرالدین نے اپنے مصاحبین کو بتایا کہ اب اسے سلطنت واپس دے دی گئی ہے اور وہ اس وقت زمین پر اسلام کا خلیفہ ہے؛ جو حکومت چاہتے ہیں اور جو جاگیر چاہتے ہیں، وہ اس کے پاس آئیں۔ اس نے کہا کہ میرے خلیفہ بروکلس مصطفیٰ اور “تورلک کمال” نے اناطولیہ میں ہماری نئی سلطنت کی راہ ہموار کرنے کے لیے بغاوت کر دی ہے اور ہم جلد دارالحکومت ادرنے پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیں گے۔ لیکن شیخ بدرالدین کو کیا معلوم کہ اناطولیہ میں اس کے پیروکار یکے بعد دیگرے عثمانی فوج کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔ جب یہ خبر شیخ تک پہنچی تو نہ صرف شیخ بدرالدین بلکہ ان کے شاگرد بھی خاصے کمزور پڑ گئے۔ اس دوران سب سے پہلے پیچھے ہٹنے والوں میں ولاچیا کا بادشاہ میرچہ اول تھا۔ اس نے جب سنا کہ اناطولیہ میں عثمانی فوج نے باغیوں کو شکست دے دی ہے تو اس نے وہ فوجی دستے جو اس نے شیخ بدرالدین کے پاس بھیجے ہوئے تھے، انہیں واپس بلا لیا، کیونکہ میرچہ اول نہیں چاہتا تھا کہ شیخ بدرالدین کی شکست کے بعد عثمانیوں کا غصہ اس پر نکلے۔

سلطان محمد اول نے اناطولیہ میں باغیوں کو کچلنے والے عظیم عثمانی کمانڈر “بایزید پاشا” کو شیخ بدرالدین کے خلاف روانہ کیا اور حکم دیا کہ تم شیخ بدرالدین کو بغیر نقصان پہنچائے اور زخمی کیے میرے پاس لے کر آنا۔ یوں عثمانی فوج کی آمد پر شیخ کے بے شمار ساتھی منتشر ہو گئے اور شیخ بدرالدین کو ادب و احترام کے ساتھ گرفتار کر کے سلطان محمد اول کے سامنے پیش کیا گیا۔ سلطان محمد اول شیخ بدرالدین کے والد اور دادا کی عثمانی فوج میں کی جانے والی خدمات کی وجہ سے شیخ کا احترام کرتے تھے، اس لیے سلطان نے، بجائے اس کے کہ وہ خود شیخ بدرالدین کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے، علماء پر شیخ بدرالدین کا فیصلہ چھوڑ دیا۔ یوں علماء کی ایک کونسل بلائی گئی، جس نے شیخ بدرالدین پر مقدمہ چلاتے ہوئے انہیں باغی قرار دیا اور ان کے قتل کا حکم جاری کیا، اور اب انتظار سلطان محمد اول کی جانب سے تھا۔ چنانچہ 1420ء کو شیخ بدرالدین کو عام عوام کے سامنے پھانسی دے دی گئی۔

سلطان محمد اول کا کردار اور وفات

شیخ بدرالدین کی بغاوت عثمانی سلطان محمد اول کے دور کا آخری بڑا واقعہ تھا۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد یعنی کہ 1421ء میں سلطان محمد اول پر فالج کا حملہ ہوا، جس کی وجہ سے سلطان بسترِ مرگ پر چلے گئے۔ سلطان کو جب احساس ہوا کہ اب وہ دوبارہ صحت یاب نہیں ہو سکیں گے تو انہوں نے فوری طور پر اپنے بڑے بیٹے مراد کو اطلاع دی کہ جلد از جلد وہ ادرنے میں ان کے پاس پہنچے۔ اس دوران سلطان نے حکم دیا کہ اگر میرے بیٹے کے آنے سے پہلے میری موت ہو جائے تو میری موت کو مخفی رکھا جائے، یہاں تک کہ مراد ادرنے میں تخت نشین نہ ہو جائے، کیونکہ سلطان نہیں چاہتے تھے کہ ایک بار پھر سلطنتِ عثمانیہ تخت کی خاطر اس کے بیٹے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں۔ سلطان کے حکم کے مطابق ان کا بڑا بیٹا شہزادہ مراد جلد دارالحکومت ادرنے پہنچا۔

سلطان محمد اول کے بلند اخلاق اور اعلیٰ اوصاف کی شہادت دینے میں تمام مورخین متفق ہیں۔ وہ بے حد کشادہ دل اور منصف مزاج سلطان تھے۔ سلطان اپنے وعدوں کو سختی کے ساتھ پورا کرتے، اور ان کی عدالت میں ہر مذہب، ہر قوم اور ہر فرقہ برابر تھا۔ سلطان کی عوام ہر جگہ خوشحال تھی۔ عیسائی رعایا کی بہبود کا سلطان کو اس قدر خیال رہتا تھا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کو برداشت نہیں کرتے تھے۔

سلطان محمد اول نے 41 سال کی عمر میں 824 ہجری بمطابق 1421ء میں وفات پائی اور آپ کو بورصہ میں مسجدِ خضر سے متصل، جسے سلطان نے خود تعمیر کرایا تھا، دفن کیا گیا۔ یہ مسجد اسلامی طرزِ تعمیر اور سنگ تراشی کا بہترین نمونہ خیال کی جاتی ہے۔ سلطان محمد اول نے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر بھی مکمل کروائی جسے محمد اول نے بنوانا شروع کیا تھا، لیکن سلطان بایزید کی بے توجہی کی وجہ سے نامکمل ہو کر رہ گئی تھی۔ سلطان نے اپنی مسجد کے قریب ہی دو عمارتیں اور بنوائیں؛ ایک میں مدرسہ قائم کیا اور دوسری میں غریبوں کے لیے مفت کھانے پینے کا بندوبست کیا۔

نتیجہ

اگرچہ دولتِ عثمانیہ کے شروع کے 10 فرماں رواؤں میں سلطان محمد اول ہی ایسے حکمران تھے جن کے عہد میں سلطنت کی توسیع نہیں ہوئی، تاہم جنگِ انقرہ کے بعد سلطنتِ عثمانیہ تباہی کی جس منزل پر پہنچ چکی تھی اور پھر 11 سال کی مسلسل خانہ جنگیوں سے جو مزید خطرات پیدا ہو گئے تھے، ان پر نظر ڈالی جائے تو سلطان محمد اول کا یہ کارنامہ کچھ کم حیرت انگیز نہیں کہ انہوں نے سلطنت کے کسی صوبے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ گو ان کے مختصر عہدِ حکومت میں ایشیائے کوچک کی ترک ریاستوں پر پوری طرح قبضہ نہ ہو سکا، لیکن پھر بھی سلطان نے ان سب کو زیر کر کے سلطنتِ عثمانیہ کے دامن سے وابستہ رکھا۔ عظیم سلطان محمد اول کو بجا طور پر سلطنتِ عثمانیہ کو مضبوط کرنے والے سلاطین میں شمار کیا جاتا ہے۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms