یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد اول کے دور میں سلطنتِ عثمانیہ نے پہلی بار ایک عظیم بحری طاقت وینس کا سامنا کیا۔ یہ تحریر عثمانی بحریہ کے احیا، وینس کے ساتھ پہلی بحری جنگ، اور اس کے بعد یورپ میں عثمانی پیش قدمی اور ولاچیا کی مہم کا احاطہ کرتی ہے۔
عثمانی بحریہ کا احیا
سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی دنوں میں عثمانی سرحدیں کسی بھی سمندری ساحل تک نہیں پہنچی تھیں اور نہ ہی عثمانیوں کے پاس کوئی بحری فوج تھی۔ 1345ء میں اور خان غازی کے دور میں پہلی بار سلطنت عثمانیہ کی سرحدیں بحیرہ ایجین تک جا پہنچی تھیں۔ جب اورحان غازی نےاپنے ہمسائے قیراسی قبیلے پر حملہ کرتے ہوئے اسے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا تھا اور اس فتح کے بعد عثمانیوں نے اپنی بحری سرگرمیاں شروع کر لی تھیں۔ لیکن پھر بھی زمینی فوج کے مقابلے میں سلطنت عثمانیہ کی سمندری صلاحیتیں اب بھی نہ تجربہ کار تھی۔ اورحان غازی اور سلطان مراد ا اول "جینوا" اور "وینس" جیسی ریاستوں سے جن کی بحری طاقت بہت زیادہ تھی، ان کے ساتھ انہوں نے ہمیشہ جنگ لڑنے سے گریز کیا۔ سلطان مراد اول کے بیٹے بایزید یلدرم جو کہ "نائیکوپولس" کی جنگ کے عظیم فاتح رہے وہ بھی وینس اور جینوا جیسی عظیم بحری طاقتوں کا مقابلہ کرنے سے گریز کرتے رہے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے "ازمیر" قلعے کو ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ اس کے بعد انہیں جینوا کے جزیروں کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن اس سب کے باوجود سلطان بایزید یلدرم ہمیشہ اپنی بحری طاقت کو مضبوط کرنے کے حق میں تھے اسی غرض سے سلطان بایزید نے گیلی پولی میں جہاز بنانے کے لیے ایک کارخانہ قائم کرنے کا حکم دیا۔ گیلی پولی میں قائم اس کارخانے نے بہت جلد تھوڑے ہی عرصے میں سلطنت عثمانیہ کے بحری جہازوں کی تیاری مکمل کر لی تھی اور یوں سلطان با یزید یلدرم کی موت تک تقریباً 30 بحری جنگی جہاز عثمانیوں نے تیار کر لیے تھے ۔لیکن امیر تیمور کے سلطنت عثمانیہ پر حملے کے بعد عثمانی بحری کارخانے بند کر دیے گئے اور جب سلطنت عثمانیہ میں شہزادوں کی آپس میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو مزید 13 سال یہ کارخانے بند رہے اور جب سلطان محمد اول یعنی کہ محمد اول تخت نشین ہوئے تو انہوں نے ان کارخانوں کو کھولنے اور انہیں مزید تیزی کے ساتھ کام کرنے کا حکم دیا۔ سلطان محمد اول نے "علی بے" کو عثمانی بحریہ کا امیر البحر مقرر کیا۔
وینس کے ساتھ پہلی بحری جنگ
اس دوران سائیکلیڈرز جزایر پر "وینس" کی حکمرانی تھی۔ان جزائرز پر ایک رئیس "پیٹرو زینو" کی حکومت تھی۔
جب سلطان محمد اول کے دور میں عثمانی بحریہ اپنے پائیہ تکمیل کو پہنچی تو "پیٹرو زینو"نے عثمانی تجارتی جہازوں پر اس نے حملے کرنا شروع کر دیے۔ جس سے بے شمار عثمانی تاجروں کا قتلِ عام ہوا۔
جب سلطان محمد اول کو یہ خبر ملی کہ عیسائیوں نے عثمانی بحریہ پر حملہ کر دیا ہے۔ تو اس وقت سلطان محمد اول کارمان قبیلے کی بغاوت کو ختم کرنے کے بعد "انقرہ" شہر میں موجود تھے۔ سلطنت عثمانیہ کی معیشت جو پہلے تو تیمور کے حملوں کی وجہ سے اور پھر شہزادوں کی آپس میں 10 سالہ خانہ جنگی کی وجہ سے انتہائی کمزور ہو چکی تھی، اب وینس کی جانب سے ترکوں کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی وجہ سے عثمانیوں کو بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ وینس کے اس حملے سےسلطان بہت زیادہ پریشان ہو گئے اب سلطان کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ جلد جلد جزائر کے سمندر کو ترکوں کے تجارتی بحری جہازوں کے لیے کھول دیں۔ اس لیے سلطان نے انتہائی غصے میں سمندر پر عثمانی طاقت دکھانے کے لیے انہوں نے اپنے والد بایزید یلدرم کے بنائے ہوئے 30 جنگی جہازوں کو فوری طور پر اپنے امیر البحر علی بے کی سربراہی میں گیلی پولیس سے روانہ کیا۔ علی بے اپنے 30 عثمانی جنگی جہازوں کے ساتھ جلد ونیشینز بیڑے کے خلاف حرکت میں آئے اور انہوں نے وینس کے تجارتی بحری جہازوں پر حملے شروع کر دیے اور "علی بے" نے "بحیرہ ایجیئن" کے کنارے پر موجود دو جزیروں "ایو بویا" اور "سیکلا دیز" پر حملہ کرتے ہوئے بہت سا مالِ غنیمت اور قیدی حاصل کیے۔
ان ابتدائی حملوں کے ذریعے سلطان محمد اول ونیشینز کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگر "بحیرہ ایجیئن" کے سمندر میں عثمانی تجارت نہیں کر سکتے تو ہم بھی ونیشینز کو اس سمندر میں آرام سے نہیں رہنے دیں گے۔ اگرچہ اس دوران عثمانیوں کے پاس جو 30 بحری جنگی جہاز تھے وہ وینس کی عظیم بحری طاقت کے سامنے کچھ بھی نہیں تھے۔ تاہم اس کے باوجود عثمانی وینس کے سامنے جھکنے کی بجائے وہ وینس کے خلاف اپنی پوری قوت سے لڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عثمانیوں کے ان اقدامات نے وینس کی سمندری تجارت کو اچھا خاصا متاثر کیا اور عثمانیوں کے حملے سے اہلِ وینس کافی بے چین ہو گئے تھے۔
گیلی پولی کا معرکہ
اس دوران وینس کا ایک اور نامور بحری کمانڈر "بیترو لوریدانو" اپنے بحری جنگی جہازوں کے ساتھ "بحیرہ ایجیئن" میں داخل ہوا۔ وینس کے بادشاہ نے ایڈمیرل کو ترکوں پر پہلے حملہ نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جلد ونیشنز کا یہ بحری بیڑا اپنے باقی جنگی جہازوں کے ساتھ گیلی پولی میں عثمانی بحریہ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔کہ اس دوران جزیرے لیسبون سے تعلق رکھنے والا جینویز کا ایک جہاز استمبول سے آرہا تھا۔ یہاں صورتحال کافی گھمبیر تھی۔ یہاں ونیشینز کو یہ لگا کہ یہ جہاز ترکوں نے بھیجا ہے اور یہ ایک چال ہے۔ یوں اس طرح انہوں نے آنے والے اِس جہاز کو پکڑنے کے لیے چند ایک جہازوں کوروانہ کیا۔اس دوران لیسبون کے جہاز کو جب معلوم ہوا کہ ونیشینز جنگی جہاز اس کی طرف آرہے ہیں تو وہ واپس بندرگاہ کی طرف بھاگنے کی بجائے عثمانی جہازوں کی جانب اس نے بھاگنا شروع کر دیا۔
اور ونبیشین جنگی جہازجینوا کے اس جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے ترکوں کے بالکل پاس آگئے۔ تو ترکوں کو لگا کہ یہ ان پر حملہ ہے اس لیے ترک بحریہ نے حملہ کر دیا۔ یوں ترکوں اور ونیشینز کے درمیان پہلی سمندری جنگ شروع ہو گئی۔
اس شدید جنگ کے دوران و نیشین ایڈمرل "لوری دانوں" کو دو تیر لگے ایک تیر اس کی انکھ میں لگا جبکہ دوسرا تیر اس کے ہاتھ میں لگا۔ جس سے اسے بہت گہرے زخم آئے لیکن اس گھمسان کی جنگ میں عثمانی کمانڈر "علی بے" بھی شہید ہو گئے اور عثمانی بحریہ کو "ونیشین" سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اورعیسائیوں نے ترک بحریہ کے تمام عثمانی سپاہیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔
ایک عیسائی مورخ "دوکاس" لکھتا ہے، کہ عثمانی امیر البحر "علی پاشاہ" کا کٹا ہوا سر نیزے پر رکھ کر اس کی تشہیر کی گئی اور اس دوران ترک بحری جہازوں پر کام کرنے والے عیسائیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس دوران وینس نے 27 عثمانی بحری جہازوں پر قبضہ بھی کر لیا۔ یوں اس طرح سلطان با یزید کے بنائے ہوئے تمام ترک بحری جہاز دشمن کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گئے اور وینس کے ساتھ ہونے والی اس پہلی جنگ میں عثمانی اہل وینس کے خلاف مزاحمت بھی نہ کر سکے۔
شکست کے بعد صلح اور البانیہ کی مہم
گیلی پولی میں عثمانی بحریہ کو شکست دینے کے بعد جلد وینس کا ایڈمرل "پیترو لوریدان" اپنی بحریہ کے ساتھ وینس واپس گیا۔ جہاں پر اس کا بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ جہاں اہل وینس نے اس فتح کا جشن مذہبی تقریب اور تشکر کی رسومات کے ذریعے کئی دنوں تک جاری رکھا کیونکہ جب سے نائیکوپولس کی جنگ میں سلطان بایزید یلدرم نے اہل یورپ کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا تھا تب سے پورے یورپ میں ترکوں کا خوف پھیلا ہوا تھا۔ لیکن پھر بھی یہ فتح ترکوں کے خوف کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ کیونکہ وونیشنز سینٹرز کا خیال تھا کہ ترک اب بھی ایک عظیم بحری طاقت بن سکتے ہیں اور وہ ہمیں اس کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔ انہیں اس چیز کا بھی ڈر تھا کہ اس دوران ان کی تجارت میں بہت زیادہ خلل پڑ جائے گا کیونکہ اہل وینس تجارت کے لیے جو راستہ اختیار کرتے تھے وہ عثمانیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اس لیے ونیشین عہدے داروں نے اس جنگ کا الزام ایڈمرل "پیٹرو لوریدان" پر لگاتے ہوے اسے اس کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
اور اس کے بعد وینس نے اپنا ایک سفیر عثمانی دارالحکومت ادرنے میں سلطان محمد اول کے دربار میں بھیجا اور انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ عثمانیوں اور وینس کے درمیان دوبارہ ایسی جنگ کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس کے لیے وہ عثمانیوں کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ عثمانی اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتے تھے تا ہم ایک نئی جنگ کے لیے عثمانیوں کے پاس اب کوئی بحری جنگی جہاز نہیں بچا تھا۔ اس لیے سلطان محمد اول نے گیلی پولی میں موجود بحری کارخانے کو حکم بھیجا کہ جلد از جلد وہ نئے بحری جنگی جہاز بنائیں اس کے علاوہ سلطان محمد اول نے وینس کی جانب سے اس امن کی پیشکش کو قبول کر لیا تھا کیونکہ بنیادی طور پر سلطان کے پاس اسے قبول کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اگرچہ سمندر میں عثمانیوں کی طاقت بالکل نہ ہونے کے برابر تھی لیکن زمین پر عثمانی اب بھی اپنے پاؤں جمائے ہوئے تھے سو سلطان محمد اول نے البانیا کی جانب سے وینس کے شہروں پر حملے کا ارادہ کیا اور اس سے سلطان اہل وینس کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگرچہ ہم سمندر میں کمزور ہیں لیکن زمین پر ہمارا مقابلہ تم میں سے کوئی بھی عیسائی حکومت نہیں کر سکتی۔
عثمانی فوجوں نے جلد البانیہ کے راستے "بلورا نامی" وینس کے ایک شہر پر حملہ کردیا۔ جہاں پر بادشاہ خاندان کی ایک عورت "ریجینہ بالسہ" حکمران تھی. جس نے اپنے اس شہر کو اہل وینس کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا. اس لیے اہل وینس ترکوں کے خلاف اس شہر کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا چاہتے تھے. تاہم عثمانی فوج جلد اس شہر کے قریب پہنچ گئی اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ شہر عثمانیوں کے ہاتھوں فتح ہو گیا. یوں عثمانیوں کی اس فتح سے اہل ونس کو نقصان ہوا اور انہیں معاشی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مزید کئی زمینوں پر بھی جو کہ اہل وینس کے قبضے میں تھیں ان پر حملہ کر کے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا, یہ زمینیں تب تک عثمانیوں کے قبضے میں رہیں جب تک یہاں کا مشہور البانوی حکمران "سکندر بیگ" عثمانیوں کے خلاف کھڑا نہیں ہوا تھا. یوں اہل وینس کو عثمانیوں کو سمندر میں شکست دینے اور عثمانی جہازوں کو قبضے میں لینے کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ البانیہ پر قبضے کے بعد جلالی سلطان محمد اول نے اہل وینس کے سفیروں کی امن کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے وینس کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لیا ۔جس کے تحت اب اہل وینس بغیر کسی عثمانی مزاحمت کے وہ بحراسود، ڈاڈینل اور بحر ایجین میں آزادانہ طور پر تجارت کے لیے آ جا سکتے تھے۔ اہلِ وینس سلطان سے ایک اور معاہدہ کرنا چاہتے تھے ،جس کے تحت وہ ولورا نامی شہر کو واپس چاہتے تھے ۔لیکن سلطان محمد اول نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا تھا اور یوں ولوری نامی یہ شہر 1912 تک سلطنت عثمانیہ کے ماتحت رہا۔
اس پہلی بحری جنگ میں عیسائی دنیا میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ وہ کم سے کم بحری طاقت میں عثمانیوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔
ولاچیا کی مہم
جنگ انقرہ میں شکست کے بعد جب سے سلطان محمد اول تخت نشین ہوئے تھے انہوں نے سلطنت میں اصلاحات کی بھرپور کوشش کی اور انہوں نے اس بات کو ضروری سمجھا کہ امن اور صلح کی ذریعے اپنی ہمسائی ریاستوں کے ساتھ تعلقات اچھے رکھے۔
اس دوران جب سلطان ادھر نے شہر میں موجود تھے ۔انہیں خبر ملی کہ ولاچیا میں کافی بد امنی پھیلی ہوئی ہے کیونکہ ولاچیہ کے بادشاہ "میرچااول" کے خلاف اس کے خاندان کا "ڈین" نامی ایک اور حریف میرچا اول کے سامنے تخت کے دعوےدار کے طور پڑ کھڑا ہو گیا۔ ڈین کا ارادہ تھا کہ میرچا اول تخت سے اتر جائے اور وہ خود ولاچیا کا بادشاہ بن جائے۔ لیکن اس کے لیے اسے ایک طاقتور فوج کی ضرورت تھی جو کہ اس کے پاس نہیں تھی۔ اس کے لیے اس نے عثمانی سلطان محمد اول کو خط لکھا اور اس سے ایک تو فوجی مدد طلب کی اور دوسرا اسے اپنی حمایت کے لیے درخواست کی۔ میرچااول سلطان بایزید یلدرم کے دور سے ہی ولاچیا کا بادشاہ تھا اور اس نے جنگِ انقرہ میں عثمانیوں کی شکست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عثمانیوں کو خراج دینے سے انکار کر دیا تھا اور ایک طویل عرصے سے اس نے عثمانیوں کو سالانہ ٹیکس بھی نہیں دیا تھا اس دوران جبکہ عثمانی سلطنت اپنی معاشی کمزوری میں پھنسی ہوئی تھی اس صورتحال میں ولاچیا کی جانب سے وصول کیے جانے والا سالانہ ٹیکس انتہائی اہم تھا۔ اس کے علاوہ ولاچیہ کے موجودہ بادشاہ میرچا اول نے "نیکو پولس" کی جنگ کے بعد اپنی موت تک سلطنت عثمانیہ کے ساتھ وفادار رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ جو کہ اس نے جنگ انکرہ میں سلطان بایزید یلدم سے اپنا وعدہ توڑ دیا تھا۔ لہذا اب عثمانی سلطان محمد اول نے میرچا اول کو سبق سکھانے اور وعدہ خلافی کرنے کا فیصلہ کیا۔سلطان نے میرچااول کے حریف "ڈین" کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے سلطان نے اپنے دارالحکومت ادرنے سے نکلےلیکن اس سے پہلےسلطان نے کارامان قبیلے سے فوجی مدد طلب کی اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک خط بنو جاندار قبیلے کے سردار "اسفند یار" بے کو بھی لکھا جس میں انہوں نے ترک فوجوں کی کمک کا مطالبہ کیا۔ سلطان کے حکم کے بعد "بنو جاندار" اور"کارامان" قبیلے نے اپنے فوجی سپاہی جلد اناطولیہ سے یورپ میں ادرنے کے لیے روانہ کیے۔
ادھر ولاچیہ کے بادشاہ میرچا اول نے اپنے تخت کی حفاظت کے لیے اس نے ہینگری کے بادشاہ "سیگمنٹ" سے مدد کی درخواست کی، جس پر ہنگری کے بادشاہ نے اپنے ایک کمانڈر کی کمان میں ایک فوج میرچہ اول کی مدد کے لیے روانہ کی
ادھر "ادرنے" شہر میں فوجوں کی جمع ہو جانے کے بعد سلطان محمد اول اپنی فوج کے ساتھ ذاتی طور پر دارالحکومت سے نکلے اور وہ جلد ولاچیہ کی مہم پر روانہ ہوئے جہاں ولاچیا میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔
یوں 1417ء میں ہونے والی اس جنگ میں عثمانی سلطان محمد اول کو شاندار فتح حاصل ہوئی اور اس جنگ میں ہینگری کا کمانڈر عثمانیوں کے ہاتھوں مارا گیا اور ہینگری کی فوجیں منتشر ہو گئیں۔ یوں اپنے اتحادی ہینگری کی شکست کے بعد میرچا اول کے اوساں خطا ہو گئے اور اسے احساس ہوا کہ عثمانی سلطنت اب بھی اتنی طاقتور ہے کہ اسے آسانی کے ساتھ شکست نہیں دی جا سکتی اس پر اس نے فورا عقلمندی کا ثبوت دیتے ہوئے سلطان محمد اول کے پاس اپنا ایک سفیر بھیجا اور اس نے ٹیکس کی ایک بہت بڑی رقم ایڈوانس میں ہی سلطان کو پیش کی جو کہ اس نے اب تک ادا نہیں کی تھی۔ اس نے سلطان محمد اول سے وعدہ کیا کہ وہ ہر سال عثمانی سلطنت کو خراج ادا کرتا رہے گا اور ضمانت کے طور پر اس نے اپنے ایک بیٹے کوسلطان کے پاس بھیج دیا۔ سلطان محمد اول نے "میرچا اول" کی جانب سے ملنے والے ٹیکس کو قبول کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا اور اسے ولاچیہ کے تخت پر برقرار رہنے دیا۔
بنو جاندار سے معاملات اور بورصہ کی تعمیرِ نو
اس فتح کے بعد جب سلطان محمد اول اپنی فوجوں کے ساتھ واپس ادرنے شہر پہنچے تو اس دوران "قاسم بے" جو کہ بنو جاندار قبیلے کے سردار "اسفند یار بے" کے بیٹے تھے۔ انہوں نے سلطان کے ساتھ اپنے والد اسفند یار بے کی شکایت کی۔ اسفند یار بے کے دو بیٹے تھے ایک کا نام "خضر" جبکہ دوسرے کا نام "قاسم" تھا۔ اسفند یار بے اپنے بیٹے خضر سے بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن وہ اپنے دوسرے بیٹے قاسم کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لیے اسفندیار بے نے اپنے شہر کسٹمونی، چانکری، توسیہ جیسے شہروں کی حکمرانی اپنے بیٹے خضر کو دی۔ اس لیے قاسم بے اپنے والد سے ناراض تھے۔ شہزادے قاسم نے سلطان سے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی کچھ شہروں کی حکمرانی دی جائے۔ سلطان محمد اول نے شہزادے کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور سلطان ادرنےسے شہزادے قاسم کے ساتھ اناطولیہ میں انقرہ جا پہنچے۔ یہاں انقرہ پہنچنے کے بعد سلطان نے سب سے پہلے بنو جاندار قبیلے کے سردار اسفند یار بے کو خط لکھا جس میں سلطان نے اسفند یار بے کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے قاسم کو بھی کچھ شہروں کی گورنری دے۔
اسفند یار بے اپنے بیٹے کی حرکت پر بہت ناراض ہوئے۔ لیکن اسے عثمانیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی طاقت نظر نہ آئی سو اس نے سلطان محمد اول کے لیے کچھ تحائف پیش کیے اور اس نے سفیر بھیج کر حالات کو خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھالنے کی کوشش کی۔پھر سلطان محمد اول نے یہاں امن و امان قائم کرنے کے بعد انہوں نے یورپ میں اپنے دارالحکومت کی جانب پیش قدمی جاری شروع کی۔
کہ اس دوران سلطان کو بورصہ شہر کی تعمیر نو کا خیال آیا اور سلطان ادر نے شہر جانے کی بجائے اپنے پرانے دارالحکومت بورصہ شہر چلے گئے اور وہاں سلطان نے شہر کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو دوبارہ تعمیر کا حکم دیا اور یہاں مسجد کے ساتھ ایک بڑے مدرسے کی بنیاد رکھی۔ یوں اس تعمیر نو کے بعد سلطان محمد اول اپنی فوج کے ساتھ واپس ادرنے شہر چلے گئے اور اب سلطان اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ دن گزارنے لگے۔
نئی بغاوت کے آثار
کہ اچانک سلطان کو بغاوت کی کچھ ایسی خبریں ملیں جس نے پایہ تخت "ادر نے" کو مکمل طور پر ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہوا دراصل کچھ یوں تھا کہ ازمیر شہر سے "مصطفٰی" جبکہ ازنیک شہر سے "شیخ بدردین" جو کہ شہزادے موسٰی چیلیبی کے شیخ تھے انہوں نے بنو جاندار قبیلے کی حمائت سے سمندر کا سفر کرتے ہوئے پہلے وہ ولاچیا میں میرچہ اول سے ملے اور اس کی حمایت سے انہوں نے یورپ میں سلطان محمد اول کے خلاف بہت زیادہ لوگوں کو جمع کر لیا جو کہ ایک بغاوت کی شکل اختیار کر گئی اس دوران سلطان محمد اول کا بھائی اور سلطان بایزید یلدرم کا بیٹا مصطفیٰ چیلیبی جو کہ جنگ انقرہ کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ اچانک کارامان قبیلے میں داخل ہوا اور یہاں احمد بے کے ساتھ اس نے کچھ معاملات طے کیے اور وہ اناطولیہ میں ترک سرداران کی حمایت اور رومی سلطنت کے بادشاہ مینویل کی مدد سے رومیلیا میں داخل ہوا۔
نتیجہ
سلطان محمد اول نے جنگِ انقرہ کے بعد بکھری ہوئی سلطنت کو دوبارہ سنبھالا، بحریہ کی تعمیرِ نو کی اور اگرچہ وینس کے ہاتھوں سمندر میں شکست ہوئی، مگر زمین پر عثمانی برتری برقرار رہی۔ ولاچیا کو دوبارہ مطیع کرنے اور ہمسایہ ریاستوں سے معاملات طے کرنے کے باوجود سلطنت کو اندرونی بغاوتوں کے نئے چیلنج کا سامنا تھا، جس کی چنگاریاں سلطان کے آخری دنوں میں بھڑکنے لگیں۔
History In Urdu