یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
چیلیبی موسٰی کی موت کے بعد سلطان محمد اول سلطنتِ عثمانیہ کے تنہا وارث اور پانچویں عثمانی سلطان بنے، اور یوں تیرہ سالہ عثمانی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ تیمور کے حملے سے بکھری ہوئی سلطنت کو دوبارہ مستحکم کرنے کی بنا پر مورخین انہیں سلطنتِ عثمانیہ کا دوسرا بانی بھی کہتے ہیں۔ یہ تحریر سلطان محمد اول کی اناطولیہ کی مہمات اور بغاوتوں کے خاتمے کی داستان بیان کرتی ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ کا دوبارہ احیاء
چیلیبی موسٰی کی موت کے بعد اب محمد اول جو کہ محمد اول کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں،اب سلطنت عثمانیہ کے تنہا وارث تھےاور اب ان کے خلاف کوئی بھی تخت کا وارث زندہ نہیں بچا تھا اور یوں سلطنت عثمانیہ میں ہونے والی تیرا سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا۔ سلطان محمد اول اپنے والد بایزید یلدرم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے پانچویں عثمانی سلطان کے طور پر دارالحکومت ادرنے میں تخت نشین ہوئے۔
سلطان محمد اول "جنگِ انکرہ" میں شکست کے بعد اپنے مختصر سے دستے کے ساتھ اماسیہ چلے گئے تھے۔ وہ نہ تو سلطان بایزید کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور نہ ہی اتنے زیادہ طاقت وار تھے۔ یہاں تک کہ ان کے ساتھ کوئی طاقتورعثمانی وزیر بھی نہیں تھا۔لیکن اس سب کے باوجود سلطان محمد اول نے اپنے بھائیوں کو شکست دیتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کو تباہ و بربادی سے بچا لیا اور انہوں نے اناطولیہ اور یورپ میں تیموری حملوں کی باقیات سے نئ سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی۔ کیونکہ انقرہ کی جنگ کے بعد سلطنت جس تباہی اور خانہ جنگی کا شکار ہو چکی تھی۔
ایسی صورتحال میں سلطنت عثمانیہ پر کسی بھی سلطنت کا حاملہ کرنا اور اس پر قبضہ کرنا بالکل آسان تھا۔ تاہم سلطان محمد اول نے خانہ جنگی کے 10 سالوں کے باوجود ان تمام مسائل سے نکلتے ہوئے انہوں نے سلطنت عثمانیہ کے حقیقی سلطان ہونے کا ثبوت دیا۔ اسی وجہ سے اسلامی مورخین انہیں سلطنت عثمانیہ کے دوسرے بانی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ کہ جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے مردہ جسم میں ایک نئی روح پھونکتے ہوئے اسے پھر سے پہلے جیسا طاقتور اور مضبوط بنالیا تھا۔
سلطان محمد اول اپنی چھوٹی سی عمر میں بہت سے امتحانات میں سے گزرے، لیکن ان کی ذہانت ان کی سفارتی صلاحیت اور لڑنے کے عزم کی بدولت انہوں نے ان سب پر قابو پا لیا تھا۔ لیکن سلطان بننے کے بعد بھی ان کی زندگی کا امتحان یہیں ختم نہیں ہوا تھا کیونکہ تیمور کے حملے کے بعد انہیں سلطنت عثمانیہ کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے سخت ترین جدوجہد کرنا پڑی تھی۔
اناطولیہ میں بغاوتیں اور کارامان کی یلغار
جب "سلطان محمد اول" رومیلیا یعنی کہ یورپ میں اپنے بھائی موسٰی کے خلاف جنگ میں مصروف تھے تو اناطولیہ میں ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے ترک قبائل نے عثمانی سلطنت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے بہت سے علاقوں کو فتح کر لیا۔ سب سے پہلے کارامان قبیلے کے سردار محمد نے"سلطان محمد اول"کے ساتھ اپنے معاہدے کو توڑتے ہوئے اس نے بورصہ کا محاصرہ کر لیا۔ بنوایدین قبیلے کے سردار "جنید بے" نے ازمیر کی طرف سے آگے بڑھتے ہوئے عثمانی سرزمین پر حملہ کیا۔
سلطان محمد اول کے دور کے ایک مسلمان مورخ "شکر اللہ آفندی" اناطولیہ میں ترک قبیلوں کی جانب سے اس بغاوت کی وضاحت اپنے ایک فارسی شعر میں اس طرح کرتے ہیں۔
"کہ جنگل سے شیر کے غائب ہونے کی دیر تھی کہ اناطولیہ میں گیدڑ جنگل کے بادشاہ بن گئے"
اگر معاملہ اناطولیہ میں ترک قبائل کی بغاوت تک ہوتا تو پھر بھی بات تھی۔ سلطان محمد اول کے لیے ایک نئی مصیبت ونیشین بحری جہازوں کی جانب سے تھی۔ جہاں ونیشین کے بحری جنگی جہاز گیلی پولی پر موجود عثمانی بحریہ پر حملہ آور ہوئے۔
1413ء میں جب شہزاد محمد اول نے یورپ میں اپنے بھائی موسٰی چیلیبی کے ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ اناطولیہ سے یورپ کی جانب روانہ ہوے تو کارامان قبیلے کے سردار محمد بے موسٰی چیلیبی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ کیونکہ شہزادہ موسٰی کئی سالوں سے کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ میں سردار محمد بے کے دربار میں اپنی خدمات سر انجام دے چکا تھا۔
تو کارامان قبیلے کے سردار محمد بے نے اپنے لشکر کے ساتھ اناطولیہ میں عثمانی سلطنت کا ایک شہر جو کہ انقرہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تھا سیوری شہر پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا۔ کرمانی سردار محمد بے اپنے والد علاؤ الدین بے کے نقش قدم پر چل رہا تھا جب 1396 عیسوی میں محمد بے کے مرحوم والد علاؤالدین بے نے انقرہ تک کے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے عثمانی کمانڈر تیمور تاش پاشا کو گرفتار کر لیا تھا۔ جبکہ اس وقت سلطان بایزید یلدرم عیسائیوں کے خلاف جنگ میں مصروف تھے ۔علاؤالدین کے اس اقدام پر سلطان بایزید یلدرم نے انہیں پھانسی دے دی تھی سو اب محمد بے اپنے مرحوم والد کی موت کا عثمانیوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے اور یہ اسی غرض سے حملہ کیا گیا تھا۔
اس کے بعد محمد بے نے ایک اور ترک قبیلے "گرمیان" کی زمینوں پر حملہ کیا جو کہ عثمانیوں کا رشتہ دار اور ان کا حلیف تھا۔ علاؤ الدین بے نے خاص طور پر "کوتاہیہ" کو تباہ و برباد کر دیا، جہاں کبھی بایزید یلدرم یہاں کا گورنر ہوا کرتا تھا۔ یہاں گرمیان قبیلے پر حملے کے بعد محمد بے اپنی فوج کے ساتھ پرانے عثمانی دارالحکومت "بورصہ" کی جانب چل پڑے۔ اس وقت بورصہ شہر کا دفاع "ایواز پاشا" کر رہے تھے۔ ایواز پاشا وہ عثمانی کمانڈر تھے،جو شہزادے محمد اول کے ساتھ اس وقت سے تھے جب کم عمری میں محمد اول کو اماسیہ کا گورنر بنا کر بھیجا گیا تھا۔
بورصہ کا محاصرہ اور محمد بے کی ناکامی
محمد بے نے بورصہ شہر کا چاروں اطراف سے محاصرہ شروع کر دیا اور اس نے بورصہ شہر کے قریب سے بہنے والے دریا "پینار باشی" کا رخ موڑنے کی پوری کوشش کی۔ تاکہ اہل شہر کو اس پانی سے محروم رکھا جا سکے۔ لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہا۔ دریں اثناء عثمانی کمانڈر "ایواز پاشا" شہر سے نکلے اور انہوں نے کرمانی سپاہیوں پر اچانک حملہ کر دیا۔ یوں اس اچانک حملے سے کارامان قبیلے کے سپاہیوں کا بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا اور ایواز پاشا چند کرمانی سپاہیوں کو زندہ گرفتار کر کے بورصہ شہر میں لے آئے۔ یہاں شہر میں آنے کے بعد انہوں نے اپنے دشمن کے مورال کو کم کرنے کے لیے کارامان قبیلے کے سپاہیوں کو قلعے کی فصیل پر انہیں پھانسی دے دی۔
جس سے کارامان سردار "محمد" بے حد سیخ پا ہوا اور رات کے اندھیرے میں اس نے شہر پر حملے کی کوشش کی، لیکن عثمانی سپاہی اس وقت بھی جاگ رہے تھے۔ انہوں نے کارامان سپاہیوں پرآگ کے تیروں کی برسات کی جس کی وجہ سے کارامان سپاہیوں کو مجبوراً واپس ہٹنا پڑا۔ عثمانی مورخ "شکر اللہ آفندی" کے مطابق بورصہ شہر کا محاصرہ 31 دن تک جاری رہا اور عثمانیوں نے اس محاصرے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ایواز پاشا اس محاصرے کے دوران تیر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی بھی ہوئے، لیکن وہ زخمی حالت میں بھی اپنے شہر کا دفاع کرتے رہے اور اور سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔جس سے کارمان سردار محمد بے اب مکمل طور پردل برداشتہ ہو چکا تھا۔
اس دوران جبکہ کرمانیوں کا محاصرہ جاری تھا۔ کہ رومیلیا سے عثمانی شہزادے اور سلطان محمد اول کے بڑے بھائی موسٰی چیلیبی کی لاش عثمانی سپاہی بورصہ شہر تدفین کے لیے لائے۔ جب کارامان سردار محمد کو خبر ملی تو انہوں نے یہ سوچا کہ شاید یہ ایک افواہ ہو اور موسیٰ چیلیبی ابھی زندہ ہوں۔ سوانہوں نے تصدیق کے لیے تابوت کو خود دیکھنے کا ارادہ کیا۔ جب محمد بے نے تابوت کو کھولا تو اس نے دیکھا کہ واقعی موسٰی چیلیبی وفات پا چکا ہے۔ موسٰی کو دیکھنے کے بعد محمد بے مزید پریشان ہو گئے کیونکہ وہ سمجھ چکے تھے، کہ یورپ میں محمد اول نے اپنے بھائی کو شکست دے کر یہ جنگ جیت لی ہے اور اب وہ سلطنت عثمانیہ کے حقیقی سلطان ہیں کیونکہ محمد بے کا ارادہ یہ تھا کہ اگر موسٰی تخت کی یہ جنگ جیت جاتا ہے تو وہ یورپ میں حکمرانی کرے گا جبکہ اناطولیہ میں وہ خود ان تمام زمینوں کا مالک بن جائے گا۔ لیکن موسٰی چیلیبی کی موت کے ساتھ ہی اس کا خواب بھی دفن ہو گیا۔
اب محمدبے کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے کیونکہ اسے خوب معلوم تھا کہ سلطان محمد اول یورپ کے بعد اناطولیہ میں اس کی خود سری کا بدلا ضرور لیں گے۔ اس لیے اس نے بورصہ شہر کا محاصرہ چھوڑ دیا۔ لیکن بورصہ شہر کے محاصرے میں ناکامی کی وجہ سے اس نے شہر کے باہر موجود تمام بستیوں اور شہروں کو آگ لگا دی اورپھر محمد بے اپنے پایہ تخت قونیہ میں واپس چلا گیا۔ جہاں اس نے اپنی حفاظت کے لیے دفاعی تیاریاں شروع کی دیں۔
دریں اثناء محمد بے نے بنو ایدین قبیلے کے سردار جنید بے کے ساتھ اتحاد کر لیا تاکہ اگر سلطان محمد اول اناطولیہ میں کرمانیوں پر حملہ اور ہوا تو اس کی مدد کے لیے کوئی دوسرا ترک قبیلہ ہونا چاہیے۔ تاکہ وہ دونوں مل کر عثمانیوں کے خلاف لڑتے ہوئے انہیں شکست دے سکیں۔
یورپ میں امن اور سفارتی تعلقات
جب اناطولیہ میں یہ ترک قبائل عثمانیوں کے خلاف بغاوتوں میں مصروف تھے تو سلطان محمد اول اس وقت ادرنے شہر میں سلطنت میں مزید بہتری کے لیے اپنے درباری وفد کے ساتھ مصروف تھے۔ کہ اس دوران رومی شہنشاہ مینویل نے اپنے حلیف سلطان محمد اول کو جس نے موسٰی چلیبی کے خلاف "سلطان محمد اول" کی فوجی مدد کی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ تخت کی جنگ میں محمد اول یعنی کہ اس کا حلیف فتح یاب ہو گیا ہے۔ تو اس نے مبارکباد دینے کے لیے اپنا ایک سفیر ادرنہ شہر میں سلطان محمد اول کے دربار میں بھیجا۔
رومی مورخین کے مطابق یہ سفیر رومی شہنشاہ کی جانب سے سلطان محمد اول کو فتح کی مبارک دینے کے لیے گیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے بے شمار تحائف بھی سلطان محمد اول کو بادشاہ کی جانب سے پیش کیے۔ رومی سفیر نے شہنشاہ کی جانب سے کیے گئے ایک وعدے کو یاد دلایا کہ محمد اول نے شہنشاہ کے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا ،کہ اگر وہ تخت کی جنگ میں جیت گیا تو موسٰی چلیبی نے بازنطینیوں سے جتنی زمینیں لی تھیں وہ انہیں واپس کر دی جائیں گی۔ سلطان محمد اول نے اسبات میں سر ہلایا اور سفیر کو جواب دیا کہ مجھے اپنا وعدہ یاد ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ میری بہن فاطمہ جو کہ "استمبول" میں اسیر ہے اسے سب سے پہلے میرے پاس بھیج دیا جائے۔
جس پر عمل کرتے ہوئے رومیوں نے سلطان کی بہن کو ادرنے شہر میں واپس پہنچا دیا وہ سلطان نے اپنے وعدے کے مطابق ان تمام زمینوں کو شہنشاہ کے حوالے کر دیا جن کا سلطان نے رومیوں کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ اس دوران سلطان نے سربوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر کرنے کے لیے "نوا بھرتے" شہر کو انکے حوالے کر دیا جس میں بے شمار چاندی کی کانیں موجود تھیں۔ یوں سربوں کی وفاداری عثمانیوں کے ساتھ اب مزید مضبوط ہو گئی۔ یورپ میں سلطان محمد اول نے اپنی اس پالیسی کے ذریعے سربوں اور بازنطینیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے۔
یہ امن سلطنت عثمانیہ کے لیے بے حد ضروری تھا کیونکہ پچھلے دس سال سے سلطنت عثمانیہ میں تخت کے لیے جو خانہ جنگی جاری تھی اس نے تقریبا سلطنت عثمانیہ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس لیےسلطنت کی بقا کے لیے عیسائیوں کے ساتھ اتحاد اور امن بے حد ضروری تھا۔ کیونکہ تخت کی دس سالہ جنگ نے عوام میں بدامنی پیدا کر دی تھی اور سلطنت انتہائی کمزور ہو چکی تھی۔ اس سول وار کے علاوہ تیمور نے سلطنت عثمانیہ پر جو حملہ کیا تھا۔ اس سے بھی سلطنت عثمانیہ کو انتہا درجے کا نقصان پہنچا تیمور نے اناطولیہ سے جس قدر سونا چاندی اور مال وہ اکٹھا کر سکتا تھا اس نے کیا اور ہزاروں اونٹ سونے اور چاندی سے لدے سمرقند میں بھیجے گئے۔
اس لیے سلطان محمد اول کے کئے گئے یہ معاہدے سلطنت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئے اور آخر میں یورپ میں امن کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سلطان محمد اول اناطولیہ میں جانے سے پہلے یورپ میں امن و امان قائم کرنا چاہتے تھے۔
یوں ان تمام معاہدوں کے بعد سلطان محمد اول نے اب اناطولیہ میں اپنے ترک بھائیوں کو سبق سکھانے کے لیے ادرنے شہر میں فوجوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ جس کے بعد 1413ء میں سلطان محمد اول اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ کے لیے روانہ ہوئے، یہاں اناطولیہ پہنچنے کے بعد سلطان محمد اول نے کارامان سردار محمد بے کو سبق سکھانے سے پہلے انہوں نے بنو ایدین کے سردار جنید بے کو سبق سکھانا زیادہ ضروری سمجھا۔ اس دوران جنید بے نے سلطان محمد اول کی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے قلعے "ازمیر" کا بھرپور دفاع کیا۔ لیکن سلطان محمد اول اپنی پوری جنگی تیاری کے ساتھ اناطولیہ آئے تھے اور انہوں نے 10 دن کے محاصرے کے اندر اندر ازمیر شہر پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا۔ لیکن سلطان محمد اول نے فتح کے بعد بنو ایدین سردار جنید بے کو کچھ بھی نہ کہا۔
اناطولیہ میں فیصلہ کن مہم اور کارامان کی شکست
سلطان محمد اول باقی عثمانی سلاطین کے مقابلے میں انتہائی رحم دل اور باکمال سلطان تھے۔ انہوں نے اناطولیہ کے ترک مسلمانوں کو قتل کرنے کی بجائے انہیں معاف کرنا زیادہ ضروری سمجھا اور ہمیشہ جب کبھی بھی کسی ترک قبیلے نے عثمانیوں کے خلاف بغاوت کی تو انہوں نے پہلے تو اس بغاوت کو ختم کیا اور پھر بجائے اس کے کہ وہ ان ترک ریاستوں پر حملہ کر کے انہیں اپنی سلطنت میں شامل کر لیتے وہ ہمیشہ ان باغی ترک سرداران کو معاف ہی کرتے رہے یوں بنو عیدین کو بھی معاف کرتے ہوئے انہوں نے صرف خراج پر ہی اکتفا کیا۔
بنوایدین قبیلے کی بغاوت کو ختم کرنے کے بعد سلطان محمد اول واپس پرانے عثمانی دارالحکومت بورصہ شہر پہنچے جہاں انہوں نے کارامان سردار محمد بے کے ہاتھوں تباہ ہونے والی عمارتوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد سلطان نے اپنا ایک سفیر بنو جاندار قبیلے کے سردار "اسفند یار بے" کے پاس کارامان قبیلے کے خلاف فوجی مدد کے لیے روانہ کیا۔
اسفند یار بے نےعثمانی فوج کی مدد کے لیے اپنے بیٹے قاسم بے کی سربراہی میں فوج کا ایک دستہ سلطان محمد اول کے پاس بھیجا ادھر گرمیان قبیلے کے سردار "یعقوب بے دوم" نے بھی اپنے سپاہیوں کو سلطان محمد اول کی مدد کے لیے روانہ کیا اور جلد محمد اول اپنی فوج کے ساتھ کارامان قبیلے کے خلاف پیش قدمی کرنے لگے اور انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے اق شہر، سیڈی شہر اور بے شہر کو فتح کر لیا۔ ان زمینوں پر فتح کے بعد عثمانی فوجیں کرمانیوں کے دارالحکومت قونیہ جا پہنچی۔ جہاں انہوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا اگرچہ اس دوران بہت سی زمینیں کارامان سردار محمد بے گنوا چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے سلطان محمد اول کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اس نے شہر کے دروازے کھولنے سے انکار کر دیا اس محاصرے کے دوران موسلا دھار بارشیں شروع ہو گئیں اور بالاخر کارامان سردار محمد بے نے صلح کی درخواست کی جسے سلطان محمد اول نے منظور کرتے ہوئے کرمانیوں کے ساتھ صلح کر لی اور وہ اپنی فوجوں کے ساتھ کارمان قبیلے سے واپس چلے گئے۔
لیکن جب سلطان محمد اول واپس جا رہے تھے تو کرمانی سردار محمد بے نے اپنے وعدے کو توڑتے ہوئے بے شہر پر حملہ کر کے اسے دوبارہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا جب یہ خبر سلطان محمد اول کو پہنچی تو وہ بہت غصے میں آئے اور انہیں محمد بے کی عہد شکنی کا بے حد دکھ ہوا۔ اور جب سلطان انقرہ کے قریب پہنچے تو وہ اچانک بیمار پڑ گئے۔
دریں اثناء سلطان محمد اول کا خاص آدمی اور عظیم الشان وزیر بایزید پاشا عثمانی فوج کا سربراہ بن گیا۔ سربراہ بننے کے ساتھ ہی اس نے کارامان قبیلے کے سردار کے پاس ایک خط بھیجا۔ کیونکہ اس کی اور کرمانی سردار محمد بے کی آپس میں اچھی دوستی تھی، اس نے فوری طور پر محمد بے کو سلطان کی بیماری کی خبر دی اور اسے بتایا کہ عثمانی سلطان بستر مرگ پر ہے اور جلد اس کی موت ہو جائے گی۔ اب میں عثمانی فوج کا سربراہ بن چکا ہوں۔ تم جلد اپنی فوجوں کے ساتھ عثمانی سلطنت پر حملہ کر دو میں تمہارا ساتھ دوں گا۔ یہ خبر سننے کے بعد کرمانی سردار بے حد خوش ہوا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ انقرہ کی جانب کوچ کرنے لگا۔ لیکن انقرہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں عثمانی آغا بایزید پاشا نے گھات لگا کر محمدبے پر حملہ کر دیا اور اسے اس کے بیٹے سمیت زندہ گرفتار کر لیا، جلد یہ خبر انقرہ میں سلطان محمد اول کو دی گئی۔ جس سے سلطان محمد اول بے حد خوش ہوئے،اور یوں سلطان محمد اول اپنی اس بیماری سے صحت یاب ہو گئے
کرمانی سردار کو سلطان محمد اول کے سامنے حاضر کیا گیا۔ سلطان نے کھڑے ہو کر کہا۔:
" کہ میں تمہارےساتھ کیا سلوک کروں جس پر کارامان سردار نے کہا کہ میں اپنے سلطان کا پابند گنہگار بندہ ہوں، فرمان میرے سلطان کا ہے، اس کے بعد سلطان نے کہا کہ قسم کھاؤ کہ تم دوبارہ بغاوت نہیں کرو گے اور مسلمانوں کا ناحق خون نہیں بہاؤ گے۔ اس پر کرمانی سردار محمد بے نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک میرے جسم میں جان رہے گی میں ہمیشہ عثمانیوں کی اطاعت کرتا رہوں گا اس پر سلطان محمد اول بے حد خوش ہوئے اور اسے دوبارہ اس کی سلطنت عطا کر دی
نتیجہ
یوں سلطان محمد اول نے اناطولیہ کی بغاوتوں کو کچل کر اور باغی سرداروں کو معاف کر کے سلطنتِ عثمانیہ کو دوبارہ ایک مستحکم اور متحد قوت بنا دیا۔ اپنے حلم اور بردباری کے باعث وہ عثمانی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
History In Urdu