Sultan Mehmed I (Part 1): Civil War in the Ottoman Empire

Sultan Mehmed I (Part 1): Civil War in the Ottoman Empire

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

1402ء کی جنگِ انقرہ میں امیر تیمور کے ہاتھوں شکست اور سلطان بایزید یلدرم کی اسیری کے بعد سلطنتِ عثمانیہ شدید انتشار کا شکار ہو گئی۔ بایزید کے بیٹوں کے درمیان تخت کے لیے گیارہ سالہ خانہ جنگی چھڑ گئی، جس کے اختتام پر سلطان محمد اول نے سلطنت کو دوبارہ متحد و مستحکم کیا۔

1402ء: جنگِ انقرہ اور عثمانی زوال

1402 عیسوی کا سال عثمانی تاریخ کا سیاہ ترین سال تھا۔ جہاں مشرق سے اٹھنے والے ایک ترک منگول فاتح تیمور نے سلطنت عثمانیہ پر حملہ کرتے ہوئے اس وقت کے عظیم عثمانی سلطان بایزید یلدرم جو اپنے برک رفتار حملوں کی وجہ سے یورپ اور ایشیاء میں مشہور تھا،اسے "انقرہ" کے مقام پر شکست دیتے ہوئے تیمور نے جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ تیموری حملوں نے اناطولیہ کو جو کبھی امن کا گہوارہ تھا یہاں ہر طرف تباہی اور بربادی پھیلا دی تھی۔ اناطولیہ کے دیہی علاقوں اور شہروں کو اس قدر تباہ و برباد کیا گیا کہ آگ کی وجہ سےرات کو بھی دن کا سماں نظر آتا تھا۔ بہت سے ترکوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں غلام بنا کر مشرق کی طرف لے جایا گیا یوں لگتا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کا اب اختتام ہے۔

عثمانیوں نے تیموری حملوں اور تخت کی خانہ جنگیوں سے نکل کر کس طرح دوبارہ سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد مضبوط کی، اس کا احوال درج ذیل ہے۔

شہزادہ سلیمان کی تخت نشینی

1402 عیسوی میں ہونے والی جنگ "انقرہ" میں شکست کے بعد عثمانی سلطان بایزید امیر تیمور کا جنگی قیدی بنا۔ یوں اٹھ ماں میں سمرقند کے امیر تیمور نے تقریبا 13 سال سے زیادہ عرصے کی سلطان با یزید کی فوجی مہم اور اس کی سیاسی چالوں کو ختم کر دیا تھا۔ جنگ انقرہ میں سلطان بایزید کے تین بیٹے جو کہ جنگ سے فرار ہو گئے تھے ،ان میں سے امیر سلیمان جو کہ بایزید کا سب سے بڑا بیٹا تھا وہ فرار ہونے کے بعد سب سے پہلے بورصہ شہر پہنچا اور یہاں سے جو کچھ وہ لے سکتا تھا اس نے اپنے ساتھ لیا اور سیدھا رومیلیا بھاگ کھڑا ہوا اس دوران شہزادے سلیمان کے ساتھ سلطان بایزید کا عظیم الشان وزیر جاندارلی زادہ علی پاشاہ اور عثمانی اشرافیہ کا ایک بڑا حصہ بھی شہزاد سلیمان کے ساتھ تھا۔ عثمانی دارالحکومت ادانےمیں داخل ہونے کے بعد شہزادے سلیمان کو شہر کے مذہبی علماء اور ان کی اپنی فوج نے انہیں سلطان قرار دے دیا۔ کیونکہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران اناطولیہ اور بلکان میں شہزاد سلیمان نے اپنے والد کی فوجی مہموں میں ذاتی طور پر خدمات انجام دی تھیں اسی لیے اس زمانے اشرافیہ اور مذہبی علماء نے بایزید یلدرم کے سب سے بڑے بیٹے ہونے کے ناطے شہزادے سلیمان کو ان کے والد کی جگہ عثمانی تخت کے لیے سب سے جائز اور تجربہ کار رکن کے طور پر اسےعثمانی سلطنت کا سلطان بنا دیا گیا۔

تخت سنبھالنے کے بعد شہزادے سلیمان نے بلقان میں اپنی غیر محفوظ پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے خطے کی مقامی عیسائی طاقتوں کے ساتھ اس نے سفارتی تعلقات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ کیونکہ شہزادے سلیمان کو اچھی طرح سے معلوم تھا کہ اگر اس نے اناطولیہ میں موجود باقی عثمانی سلطنت کو فتح کرنے کے لیے اس نے اناطولیہ میں پیش قدمی کی تو اسے اپنی پشت کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس کے لیے اس نے عیسائی حکومتوں کے ساتھ بات چیت شروع کی اور 1403 عیسوی کے پہلے مہینوں میں معاہدہ گیلی پولی پر دستخط کیے گئے جس کے نتیجے میں عیسائی حکومتوں کو بڑی رعایتیں حاصل ہوئیں اس معاہدے کے تحت بازنطینیوں کو تھیسالونیکا، نیکو میڈیا اور بحیرہ اسود کے ساحل کے ساتھ ساتھ متعدد بستیاںبازنطینی شہنشاہ کو دے دی گئیں۔

بازنطینی ونیشین اور جینیویز کے تاجروں کے لیے آزاد تجارتی معاہدوں کا ایک سلسلہ قائم کیا گیا تھا اور ان ریاستوں کی جانب سے سلطان بایزید اول کے زمانے سے دیے جانے والے تمام خراج معاف کر دیے گئے۔

امیر تیمور کی واپسی اور بایزید کی وفات

ادھر امیر تیمور نے اناطولیہ میں موجود ان تمام ترک سرداران کو جن کی ریاستیں سلطان بایزید نے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی تھیں امیر تیمور نے ان ترک سردران کو یہ ساری ریاستیں انہیں واپس کر دیں۔ جس کے بعد اناطولیہ میں عثمانیوں کے پاس میسیا، بیتھینیا اور انکرہ کے قریب بنو آرتین کی زمینیں ہی اب عثمانیوں کے پاس تھی اور انہی سرزمینوں سے بایزید کے بقیہ بیٹوں نے اپنی نئی سلطنت کا آغاز کیا۔

اس دوران امیر تیمور نے بایزید کے تینوں بیٹوں عیسٰی، سلیمان اور محمد اول کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور ان کی اپنی اپنی خود مختار ریاستوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اطاعت کا حکم دیا۔ یہ دراصل اس لیے تھا تاکہ عثمانی شہزادے آپس کی خانہ جنگی میں مصروف رہیں اور سلطنت عثمانیہ پھرپہلے جیسی طاقتور نہ ہو سکے۔

اس دوران امیر تیمور جب "ایجین سی" میں کچھ مہمات میں مصروف تھا ،تو اسے خبر ملی کہ بایزید یلدرم بیمار پڑ گئے ہیں، تو تیمور نے اپنے خاص طبیب عزالدین مسعود کو بایزید یلدرم کے علاج کے لیے بھیجا۔ لیکن بایزید کو کوئی افاقہ نہ ہو سکا اور 8 مارچ 1403 ء کو "اک شہر" میں عثمانی سلطان بایزید یلدرم کا انتقال ہو گیا۔ سلطان بایزید کی موت کے بارے میں مختلف مورخین کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ عثمانی اور مملوک مورخین کا کہنا ہے کہ بایزید کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی جبکہ مغربی مورخین کا کہنا ہے کہ تیمور نے اپنی انگوٹھی میں جو زہر رکھا ہوا تھا وہ زہر پینے کی وجہ سے تیمور کی موت واقع ہوئی ۔لیکن یہ سراسر جھوٹ پر مبنی تاریخ ہے کیونکہ اس دور کے تیموری مورخین بھی اس چیز کا دعویٰ کرتے ہیں کہ بایزید کو کالی کھانسی اور حناک کی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ۔

تیمور کو بایزید کی موت کا بہت دکھ ہوا اس نے بایزید کی موت کے بعد اس کی لاش کو اس کے بیٹے موسٰی جیلیبی کے حوالے کیا جہاں بورصہ میں سابق تاجدارانِ عثمانی کے پہلو میں اس عظیم فاتح کو دفنایا گیا۔ تیمور نے عثمانی شہزادے موسٰی کو روانگی سے پہلے کچھ رقم اور ایک مہر عطا کی اور اسے عثمانی سلطان تسلیم کرتے ہوئے عثمانی تخت کے لیے ایک اور فرد کا اضافہ کر دیا اور اب عثمانی تخت کے چار دعویدار تھے۔ اس کے بعد منگول ترک فاتح تیمور واپس اپنی فوج کے ساتھ سمرقند چلا گیا۔ لیکن اس نے اناطولیہ میں وہ آگ چھوڑی جو اگلے 11 سال تک چاروں عثمانی شہزادوں کے درمیان لگے رہی۔ جس کی وجہ سے ہزاروں ترک تخت کی خاطر ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے.

شہزادوں کی خانہ جنگی

اس انتہائی کسم پرسی کی حالت میں بھی بایزید کے بیٹے محمد نے اماسیہ میں اپنی طاقت بڑھانا شروع کی۔ شہزادے محمد نے 1402 ء کے آخر اور 1403 ء کے آغاز میں اس نے اماسیہ کی آس پاس کی زمینوں میں تیموریوں کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا۔ جہاں 17 سالہ عثمانی شہزادے نے اسفند یار بے کے بھتیجے کارا یحیٰی کو شکست دی ان ابتدائی فتوحات کی وجہ سے بہت سے تُرک شہزادے محمد کی جانب راغب ہو گئے۔

1303ءمیں جب بایزید کا انتقال ہوا تو شہزادہ مصطفیٰ اپنے باپ کی میت کو بورصہ شہر لے آیا بورصہ شہر پہنچنے کے بعد شہزادے مصطفیٰ نے بورصہ اور اس کے آس پاس کے دیہاتوں پر اپنی حکمرانی کا آغاز کیا اور بورصہ شہر میں پہلے سے موجود عثمانی شہزادہ عیسیٰ وہاں سے بھاگ کر "بالکسیر" کے قصبے کی طرف بھاگ گیا ،تا ہم عثمانی شہزادے موسیٰ کے لیے یہ کوئی زیادہ خوش آئین بات نہیں تھی۔ کیونکہ اول نہ تو اس کا یہاں پر کوئی اتنا بڑا حامی تھا اور دوسرا یہ کہ وہ تیمور کا قیدی رہ چکا تھا اسی لیے اس کے بھائی عیسیٰ نے ایک فوج جمع کی اور اس نے شہزادے موسیٰ پر ایک جوابی حملہ کیا اور ایک مختصر سی جھڑپ کے بعد شہزادے عیسیٰ نے بورصہ پر دوبارہ قبضہ کرتے ہوئے موسیٰ کو بے دخل کر دیا جس کے بعد شہزادہ موسیٰ پہلے گرمیان اور پھر کرمانیوں کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔

یہاں موسیٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد بورصہ میں شہزادے عیسیٰ کو اپنے چھوٹے بھائی شہزادے محمد کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں عثمانی شہزادے محمد نے اپنے بڑے بھائی عیسیٰ کواناطولیہ پر مشترکہ حکومت کرنے کی پیشکش کی تھی یہ شاید اس لیے بھی تھا تاکہ دونوں بھائی بلقان میں اپنے بڑے بھائی سلیمان کے خلاف مزاحمت کر سکیں لیکن شہزادے عیسیٰ نے اپنے چھوٹے بھائی محمد کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ اس کا خیال تھا کہ محمد کا بڑا بھائی ہونے کی وجہ سے اسے اناطولیہ کی حکومت ملنی چاہیے اور شہزاد محمد کو عیسیٰ کی اطاعت کرنی چاہیے یوں گرما گرم خطوں کے تبادلے کے بعد دونوں بھائیوں نے اناطولیہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں

اور بالاخر 1403ء کے موسمِ بہار کے آخر میں عیسیٰ اور محمد کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور گھمسان کی جنگ کے بعد شہزادے محمد نے فتح حاصل کر لی۔اس شکست کے بعد شہزادہ عیسیٰ پہلے شہنشاہ قسطنطنیہ کے پاس جان بچاتا ہوا بھاگا اور پھر رومیلیا میں اپنے بڑے بھائی سلیمان کے پاس جا پہنچا جبکہ محمد اول فاتحانہ طور پر بورصہ شہر میں داخل ہوا۔ جہاں اس نے علماء اور فوجی افسران کی حمایت حاصل کرتے ہوئے عثمانی سلطان ہونے کا اعلان کیا۔ شہزادے محمد اول کا سلطان بننا رومیلیا میں موجود سلیمان کو پسند نہ آیا اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی عیسیٰ کو ایک فوج دے کر اناطولیہ میں دوبارہ اپنے علاقوں کو حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا۔ تاکہ یہاں انا طولیہ کے علاقوں کو مزید غیر مستحکم کیا جائے شہزادے عیسیٰ نے بالیکسیر شہر میں پہنچ کر 1404 ء میں مقامی فوج کے ساتھ جنگ لڑی اور اس نے آس پاس کی زمینوں پر قبضہ کر لیا جبکہ اس دوران محمداول مشرقی اناطولیہ میں ایک فوجی مہم میں مصروف تھا اور بورصہ شہر عیسیٰ کی فوجوں کے محاصرے میں تھا۔ یہاں شہزادے عیسیٰ کی قسمت اتنی چمکدار نہیں تھی۔ کیونکہ جب عیسیٰ اس محاصرے میں مصروف تھا تو مشرق کی جانب سے شہزادے محمد اول نے3 ہزار کی مضبوط عثمانی فوج کو اس محاصرے کو ختم کرنے کے لیے روانہ کیا جس نے عیسیٰ کی فوجوں کو پسپا کرتے ہوئے انہیں شکست سے دوچار کیا۔ اس شکست کے بعد عثمانی شہزادہ عیسیٰ اپنی مختصر سپاہ کے ساتھ بنو جاندار قبیلے کے سردار "اسفند یار" بے کے پاس چلا گیا جہاں اس نے اپنے بھائی محمت کے خلاف جنگی تیاریوں کو مسلسل جاری رکھا اور اس نے ایک فوج بھرتی کی جس کے بعد 1404 ء میں اس نے اپنے بھائی محمد کے خلاف انقرہ کے مقام پر ایک جنگ لڑی لیکن اس میں بھی اسے شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اب کی بار عیسیٰ بھاگ کر ساروہان قبیلے کے پاس چلا گیا۔ یہاں اناطولیہ میں موجود باقی ترک قبیلوں نے شہزاد محمد کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہو کر انہوں نے اس شکست خوردہ شہزادے عیسیٰ کی مدد کرنا زیادہ ضروری سمجھا یوں تمام تُرک قبیلوں کی مدد سے عیسیٰ نے ایک بڑی فوج تیار کر لی تھی۔ لیکن یہاں 1404ء سے لے کر 1405ء کے درمیان شہزادے عیسیٰ نے اپنے چھوٹے بھائی محمد اول کے خلاف تین مختلف جنگیں لڑیں لیکن اسے ان تینوں جنگوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں اس شکست کے بعد سے عیسیٰ کارامان قبیلے کے دارالحکومت قونیہ میں چلا آیا اور یہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد اس نے اپنا بیس بدل کر وہ شہزاد محمد کہ شہر اک شہر میں چلا گیا جہاں اس دوران شہزادے محمد کے کچھ جاسوسوں نے اسے پہچان لیا اور اسے اک شہر کے ایک حمام میں اس کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا۔

سلیمان اور موسیٰ سے فیصلہ کن معرکے

اس پر رومیلیا میں شہزادے سلیمان نے اپنے بھائی محمد کے خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اگر طاقت کی بات کی جائے تو شہزادے سلیمان کے پاس اس وقت اس کے باپ بایزید کا بہترین وزیر جاندارلی زادہ علی پاشاہ تھا اور اس کے پاس کیپیکولو فوج کا ایک بڑا حصہ تھا جب کہ اس کے مقابلے میں شہزاد محمد کے پاس ایک کمزور فوج تھی۔ اس لیے اس نے اپنے بھائی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1406ء کے موسم بہار میں اس نے اپنی فوجی مہم کا آغاز کیا اور اس نے اناطولیہ میں بورصہ اور انقرہ کے آس پاس کے بڑے شہروں پر حملہ کرتے ہوئے ان پر قبضہ کر لیا ان فتوحات کے علاوہ بایزید کے بڑے بیٹے سلیمان نے ینی شہر قصبے کے قریب محمداول کی فوج کو ایک زبردست شکست دے کر اس کے لشکر کو منتشر کر دیا۔ جس کے نتیجے میں محمد اول بھاگ کر اماسیہ چلا گیا یوں لگتا تھا کہ صرف چند مہینوں کے اندر اندر سلطنت عثمانیہ ایک بار پھر شہزادے سلیمان کے تحت متحد ہو جائے گی اور قریب تھا کہ شہزادہ سلیمان محمد اول کے باقی علاقوں پر بھی حملہ کرتے ہوئے سلطنت عثمانیہ کا واحد وارث بن جاتا۔ کہ انقرہ میں اس کا انتہائی قابل وزیر جاندار لے زادہ علی پاشاہ قدرتی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گیا۔ شہزادے سلیمان کی یہ تمام فتوحات اس کے وزیر جانداری زاداری پاشاہ کے مرہون منت تھی یوں عثمانی وزیراعظم کی موت کی وجہ سے شہزادے محمد اول کو تھوڑا وقت مل گیا اور اس دوران اس نے کارامان قبیلے کے ساتھ اتحاد کیا۔ جس کے بعد کارامان قبیلے کے سردار محمد دوم نے شہزادے محمد اول کے چھوٹے بھائی موسیٰ چلیبی کو شہزاد محمداول کے ساتھ ملایا جو 1403ء کے بعد سے محمد دوم بے کے دربار میں مقیم تھا۔ ان نئی سیاسی پیشرفتوں نے عثمانی تخت کے لیے محمد اول کی جدوجہد میں ایک نئی جان ڈال دی اور اس طرح خانہ جنگی آگے بڑھ گئی۔

اناطولیہ میں شہزادے سلیمان نے اپنی فتوحات کو 1409ء تک روکے رکھا تھا اس دوران شہزادہ محمداول نے چال چلی جو شہزاد سلیمان نے برسوں پہلے اس پر چلی تھی۔ وہ چال یہ تھی کہ شہزادہ محمد نےاپنے چھوٹے بھائی موسیٰ کو یورپ یعنی کہ رومیلیا بھیج کر سلیمان کی توجہ اناطولیہ سے ہٹانا چاہتا تھا۔ جیسا کہ سلیمان نے محمد اول کے ساتھ عیسیٰ کو کھڑا کر کے کیا تھا۔محمد اول نے بنو جاندار قبیلے کے سردارسے بات چیت کر کے اس سے ایک بحری جہاز لے کر اس پر شہزادے موسیٰ کو بحیرہ اسود کے ساحل پر اتارا جہاں اس نے فوری طور پر عثمانی اشرافیہ اور مقامی علاقے کے عیسائی رہنماؤں سے رابطہ کرنا شروع کیا۔

یوں بلکان کے ساحل پر اترنے کے بعد ولاچیہ کے حکمران میرچہ اول کے لیے ایک نیا موقع ہاتھ آیا۔ میرچا نے موسیٰ کو اپنے دربار میں دعوت دی اور اس نے عثمانی شہزادے موسیٰ کے ساتھ اپنی بیٹی آرینہ آف ولاچیا کی شادی کر دی اور اس نے یہاں ایک بڑی فوج کو بھرتی کرنا شروع کیا اور ایک بڑی فوج کی تیاری کے بعد شہزادے موسیٰ نے 1309 ءکے آخر میں اس نے عثمانی سلطنت پر حملہ کیااور اس سال کے آخر تک اس نے یورپ میں عثمانی دارالحکومت ادرنے پر بھی قبضہ کر لیا۔

یہاں اناطولیہ میں جب عثمانی شہزادے سلیمان کو یورپ کے علاقوں کے ہاتھ سے نکل جانے کی خبر ملی تو وہ گھبرایا ہوا اپنی فوج کے ساتھ واپس یورپ جانے کے لیے تیار ہوا اور اس نے یورپ جانے کے لیے قسطنطنیہ کا راستہ اختیار کیا۔ جہاں اس نے شہنشاہ مینویل کے ساتھ ملاقات کی اور اس سے مدد کی درخواست کی۔ شہنشاہ مینویل نے سیاسی قیدی کے طور پر شہزادے سلیمان کے بیٹے کو اپنے پاس رکھنے کی شرط رکھی جس کے بعد سلیمان نے اپنے بیٹے قاسم چلیبی کو بازنطینی دارالحکومت بھیجا اور شہنشاہ نے مزید اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی بھتیجی کی شادی شہزادے سلیمان کے ساتھ کر دی۔ 1410 ءکے موسمِ گرما تک سلیمان نے بازنطینی کمک کے ساتھ قسطنطنیہ کو عبور کیا جس کے بعد بایزید کے دونوں بیٹوں میں تخت کی جنگ ہوئی جو دونوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال تھی۔ سلیمان کا حملہ اچانک تھا جس کی وجہ سے موسیٰ کو شکست ہوئی اور وہ پسپائی اختیار کرتا ہوا جب ادر نے کے پاس پہنچا تو یہاں تقریباً ایک ماہ کے بعد دونوں بھائیوں میں پھر جنگ ہوئی جس کا اختتام شہزادے موسیٰ کی فیصلہ کن شکست پر ہوا۔ شہزادے سلیمان نے بجائے اس کے کہ وہ اپنے بھائی کا تعاقب کرتا اس نے اپنا زیادہ تر وقت ادرنے کے شاہی محل میں گزارنا شروع کر دیا جہاں وہ شراب کے نشے میں دھت دن رات گزارنے لگا اور اس نے خود کو حرم کی آسائشوں میں پھنسا لیا۔

اس دوران محمد اول نے اناطولیہ میں اپنے بھائی سلیمان سے کھوئی ہوئی تمام زمینیں دوبارہ واپس حاصل کر لیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے ساروہانیوں کے سردار کو شکست دیتے ہوئے اس کے علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس دوران اناطولیہ میں عثمانی وزراء اور مشیر سلیمان سے سخت ناخوش تھے کیونکہ اناطولیہ میں پسپائی اور پھر معاہدہ گیلی پولی نے سلیمان کو مزید کمزور کر دیا تھا اور اب سلیمان کے آئے روز شراب میں مدہوش ہونے کے بعد یورپ میں موجود عثمانی وزراء اور کمانڈر اناطولیہ میں شہزاد محمد کی جانب دیکھنے لگے اور جب سلیمان کو خبر ہوئی کہ اس کے وزیر اور ینی چری فوج کا آغا مکمل طور پر محمد اول کو سلطان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ ایک دن رات کے وقت ادرنے سے قسطنطنیہ کے لئےفرار ہو تاہم اس فراری کے دوران ہی جب سلیمان رومی دارالحکومت قسطنطنیہ جا رہا تھا۔ کہ راستے میں ایک دیہات کے پاس سے جب گزرا تو چند مسلح گھڑ سواروں نے اسے روکا اور انہوں نے اسے پہچان لیا اور اس کا سر قلم کر دیا یہ وہ لوگ تھے جو کہ سلیمان کے ظلم کی وجہ سے اس سے ناراض تھے۔

اس دوران 1411ء کے آغاز تک شہزادہ موسیٰ ادرنے شہر میں داخل ہوا اور اس نے عثمانی فوج اور وزراء کو خوب انعام و اکرام سے نوازتے ہوئے خود کے سلطان ہونے کا اعلان کیا۔ اب یورپ اور اناطولیہ میں عثمانی تخت کے صرف دو دعویدار زندہ بچے تھے ۔موسیٰ نے سلطان بننے کے بعد قسطنطنیہ کی ناکہ بندی شروع کر دی اور اس نے یورپ میں بلغاریہ اور سربیہ کے خلاف فوجی مہمات شروع کرتے ہوئے انہیں پھر سے اپنا متیع اور فرمانبردار بنا لیا اس پر شہنشاہ قسطنطنیہ مینویل نے موسیٰ کے خلاف محمد اول کے ساتھ اتحاد کے لیے بات چیت شروع کی اور چند معاہدوں کے بعد اس نے شہنشاہ قسطنطنیہ کی بحری جہازوں کی مدد سے اس نے باسفورس کو عبور کیا اور 1412ء کے موسمِ بہار میں دونوں بھائی ایک دوسرے پر حملہ اور ہوئے لیکن اس بار پھر سے شہزادے محمد کی کمزور اناطولیائی ترک فوجیں موسیٰ کی طاقتور ترین کیپیکولو اور جنی چری فوجوں کا مقابلہ نہ کر سکیں اور یوں محمد اول کو پھر دوبارہ اناطولیہ کی طرف پیچھے ہٹنا پڑا۔ تاہم شہزادے محمد نے ہار نہ مانی اور اس نے 1413 ء کے موسمِ گرما میں پہلے سے زیادہ فوج کے ساتھ وہ بلقان میں داخل ہوا۔لیکن اس عرصے کے دوران یورپ میں شہزادے موسیٰ کی سخت مزاجی کی وجہ سے ادرنے کے بہت سے با اثر وزیر اور فوجی افسر موسیٰ سے سخت ناخوش تھے۔ کیونکہ ایک تو بلقان میں مسلسل جنگوں کی وجہ سے عثمانی ریاست کمزور ہو رہی تھی اور دوسرا تخت کی خانہ جنگیوں نے بھی عثمان فوج کو کافی پریشان کیا ہوا تھا اور یہ بھی کہ موسیٰ کا مزاج شہزاد محمد اول کی نسبت زیادہ تیز تھا۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اس سے ناراض تھے یوں پہلے سے زیادہ اناطولیائی فوج اور موسیٰ کی پیکولو فوج کی حمایت کے ساتھ اس نے یورپ میں موسیٰ پر حملہ کیا اور بلغاریائی قصبے سموکوف کے قریب دونوں بھائیوں میں ایک آخری خون ریز جنگ ہوئی جس میں موسیٰ کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد شہزادے موسیٰ کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا گیا اور اب عثمانی تخت کے لیے سوائے شہزادے محمد کے کوئی بھی دعویدار زندہ نہ بچا اس فتح کے بعد شہزادہ محمد واپس ادرن شہر پہنچا اور اس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا واحد سلطان قرار دیتے ہوئے خود کے سلطان ہونے کا اعلان کیا اور یوں 10 سالہ عثمانی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

سلطان محمد اول کا دورِ حکومت اور ورثہ

سلطان محمد اول نے بحیثیت سلطان صرف آٹھ سال حکومت کی، لیکن اس مختصر مدت میں بھی انہوں نے غیر معمولی اہلیت کا ثبوت دیا۔سلطان نے نہ صرف اپنی سلطنت کے انتشار کا خاتمہ کیا بلکہ اپنی خداداد اور فوجی قابلیت سے دولت عثمانیہ کو ویسا ہی طاقتور اور مستحکم بنا دیا، جیسا کہ امیر تیمور کے حملے سے پہلے تھی۔ سلطنت کے استحکام کے لیے سلطان نےامن و صلح کو ضروری سمجھا اور اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے ہمسائی ریاستوں سے صلح کے معاہدے کیے سلطان نے بازنطینی سلطنت کے چند مقبوضات شہنشاہ کو واپس کر دیے اور اس سے آخر وقت تک صلح قائم رکھی۔ لیکن کبھی کبھی سلطان کو میدانِ جنگ میں آنے کے لیے بھی مجبور ہونا پڑا اور اس وقت سلطان نے ثابت کر دیا کہ تدبر اور نظم و نسق کی اہلیت کے علاوہ فوجی قابلیت میں بھی وہ اپنے کسی پیش رو سے کم نہیں ہے۔

نتیجہ

سلطان محمد اول نے بحیثیت سلطان صرف آٹھ سال حکومت کی، لیکن اس مختصر مدت میں انہوں نے دولتِ عثمانیہ کو دوبارہ ویسا ہی طاقتور اور مستحکم بنا دیا جیسا وہ امیر تیمور کے حملے سے پہلے تھی۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms