یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا تخت ان کے دو بیٹوں شہزادہ بایزید اور شہزادہ جم (جمشید) کے درمیان جنگ کا سبب بنا۔ یہ کشمکش صرف اناطولیہ تک محدود نہ رہی بلکہ روڈس، فرانس اور روم تک پھیل گئی، جہاں شہزادہ جم برسوں یورپی طاقتوں کے ہاتھوں قید رہا۔ یہ تحریر اسی جانشینی کی جنگ اور سلطان بایزید ثانی کے عہدِ حکومت کا احوال بیان کرتی ہے۔
دو شہزادے اور جانشینی کا مسئلہ
سلطان محمد فاتح کی وفات کے بعد اب تخت کے لیے ان کے دونوں بیٹوں شہزادے بایزید اور شہزادے جم جو کہ جمشید کے نام سے بھی تاریخ میں مشہور ہے کہ درمیان جنگ ہونے تھی۔ جب سلطان محمد فاتح کی وفات ہوئی، تو اس وقت شہزادہ بایزید "اماسیہ" کا گورنر تھا، اور ان کا چھوٹا بیٹا شہزادہ جیم یعنی کہ جمشید "کرمانیہ" کا۔
شہزادے بایزید کا مِیلانِ طبعہ زیادہ تر مذہب اور فلسفے کی جانب تھا۔ جس کی وجہ سے لوگ انہیں اکثر صوفی کہتے تھے۔ وہ نہایت سادہ مزاج حلیم نرم خو اور پابند شرح تھے۔ شاعری سے بھی انہیں خاص ذوق حاصل تھا۔ لیکن ان خصوصیات کے باوجود سپیانہ شجاعت میں وہ کسی سے کم تر نہ تھے اور میدانِ جنگ میں پہنچ کر یہ صوفی مجاہد بن جایا کرتے تھے۔
شہزادہ جم میں زیادہ تر ان کے مرحوم والد سلطان محمد فاتح کی اوصاف پائے جاتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اگر بایزید کی جگہ جمشید تخت نشین ہوتے تو "اوٹرانٹو" عثمانیوں کے ہاتھ سے کبھی نہ نکلتا۔ وہ فنون حرب کے ماہر اور شجاعت میں اپنے باپ کے مماثل تھے۔ حکمرانی کا ملکہ اور ملک گیری کی اہلیت میں انہیں کمال مہارت حاصل تھی۔ جب سلطان محمد فاتح کی وفات کی خبر قسطنطنیہ میں پھیلی، تو "ینی چری" نے تمام شہر میں لوٹ مار مچانا شروع کر دی اور انہوں نے وزیراعظم کو جس نے سلطان کی وفات کی خبر کو چھپانے کی کوشش کی تھی، انکو ینی چری نے قتل کر دیا۔ کیونکہ وزیراعظم کے متعلق انہیں معلوم تھا کہ وہ شہزادے جم کا طرفدار ہے۔ اس لیے شہزاد بایزید کے حامیوں نے آسانی کے ساتھ ینی چری کی حمایت حاصل کر لی تھی۔ اس کے بعد باقی افواج نے بھی ینی چری کی اتباع کرتے ہوئے بایزید کے سلطان ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ شہزادے جم کو جب اپنے والد سلطان محمد فاتح کی وفات کی خبرزرا دیر سے ملی تھی۔
بایزید کی تخت نشینی اور ینی چری کے مطالبات
اس دوران میں شہزادہ بایزید نے قسطنطنیہ پہنچ کر تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ ینی چری نے ان کی مکمل حمایت کی۔ لیکن تخت نشینی کے موقع پر اپنی تنخواہوں میں اضافہ اور اور شہر میں ہونے والے قتل و غارت گری کی بخشش کا مطالبہ بھی انہوں نے نئے سلطان کے سامنے پیش کیا۔ اس رسم کی بنیاد سلطان محمد فاتح کی تقریبِ تاج پوشی میں پڑھ چکی تھی نئے عثمانی سلطان بایزید کو مجبوراً یہ مطالبہ پورا کرنا پڑا اور اس کے بعد 300 برس تک یہ دستور قائم رہا، کہ ہر نئے سلطان کی تخت نشینی کے وقت ینی چری کو بڑی بڑی رقمیں بطور انعام کے دی جاتی تھیں۔ ایک عیسائی مورخ کریسی لکھتا ہے کہ:۔
" یہ رسم جس قدر خزانہ شاہی کے لیے بار تھی اسی قدر سلاطینِ عثمانی کے لیے باعث شرم بھی تھی"
عثمانی خاندان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی، کہ اس کا کوئی بھی شہزادہ تاج و تخت سے کم پر کسی طرح راضی نہ ہوتا تھا۔ اس لیے جب کوئی سلطان وفات پا جاتا تو اس کے بیٹوں میں تخت نشینی کے لیے جنگ کا شروع ہو جانا ایک عام بات تھی۔
شہزادہ جم کی بغاوت اور جلاوطنی
چنانچہ سلطان محمد فاتح کی وفات پر بھی ایسا ہی ہوا۔ اگرچہ بایزید تخت پر قابض ہو چکا تھا اور تمام فوج اور امرائے سلطنت نے اس کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا، لیکن شہزادہ جمشید نے اناطولیہ میں اپنے بھائی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا اور اس نے جنگ چھیڑ دی۔ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ اس کے والد نے جو خونی قانون دستورِ سلطنت میں شامل کر دیا ہے، اس کی وجہ سے اس کی جان ہر وقت خطرے میں ہے۔ لہذا اطاعت قبول کرنے کے بعد بھی اسے سلطان بایزید کی طرف سے اطمینان نہیں ہو سکتا تھا۔ اعلان جنگ سے قبل اس نے اپنے بھائی کو یہ تجویز پیش کی تھی، کہ سلطنت دو حصوں میں تقسیم کر دی جائے یورپ کے صوبے بایزید کی حکومت میں رہیں اور اناطولیہ کے صوبوں پر جمشید کی حکومت تسلیم کر لی جائے۔ لیکن با یزید نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور اب جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
چنانچہ 20 جون 1481 عیسوی کو احمد کدک پاشا کو سلطان با یزید نے اوٹرانٹو کی مہم سے واپس بلا کر اپنے بھائی کی بغاوت کو کچلنے کے لیے روانہ کیا۔ احمد کدک پاشا نے اناطولیہ میں باغی شہزادے جمشید کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے اسے شکست دی۔ جس کے بعد وہ بھاگ کر مصر میں مملوک سلطنت کے دربار میں چلا گیا۔ مملوک سلطان نے عثمانی شہزادے کی بڑی آؤ بھگت کی دوسرے سال شہزادہ جمشید نے مصر کی فوجی مدد کے ساتھ اس نے اناطولیہ کے بعض ترک سردار کو اپنے ساتھ ملاتے ہوئے بغاوت کھڑی کر دی لیکن اس بار بھی اسے شکست ہوئی اور اب کی بار اس نے بجائے مصر جانے کی روڈس کی جزیرے جانا زیادہ بہتر سمجھا۔ تاکہ وہاں سے مدد لے کر سلطنت عثمانیہ کے یورپین مقبوضات میں داخل ہو اور نئے سرے سے قسمت آزمائی کرے روڈس اس وقت مبارزینِ یروشلم کی قبضے میں تھا اور یہاں اس کا سردار "ڈی ابو سن" تھا۔ جو کہ ایک نہایت چالاک اور غدار شخص تھا۔ اس نے ایک طرف تو شہزادے جمشید کو مدد دینے کا وعدہ کیا اور اس سے یہ معاہدہ کیا کہ بصورت کامیابی وہ مبارزین روڈس کو بعض مخصوص اور اہم مراعات عطا کرے گا اور دوسری طرف سلطان بایزید سے یہ طے کیا کہ 45 ہزار دوکات سالانہ کے عوض وہ شہزادے جمشید کو نظر بند رکھے گا۔ چنانچہ سات برس تک یہ بدنصیب شہزادہ روڈس اور پھر فرانس کے مختلف مقامات میں جو کہ مبارزین روڈس کے قبضے میں تھے۔ ظاہری احترام کے باوجود دراصل قیدی کی طرح زندگی بسر کرتا رہا۔ تا ہم یورپ کو شہزادے جمشید میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور متعدد بادشاہوں نے شہزادے کو حاصل کرنے کے لیے "ڈی آبوسن" سے مراسلت شروع کر دی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ اسے بایزید کے مقابلے میں کھڑا کر کے سلطنت عثمانیہ کو نقصان پہنچائیں۔ لیکن ڈی ابوسن 45 ہزار دوکاس سالانہ کی رقم سے دستبردار ہونے کے لیے بالکل تیار نہ تھا اور وہ معاملے کو طول دیتا رہا۔
اس درمیان میں اس نے شہزادے جمشید کی ماں اور بیوی سے بھی جو اس وقت قاہرہ میں مقیم تھیں اس نے خط و کتابت شروع کر دی تھی اور انہیں یقین دلایا تھا کہ اگر وہ بیس ہزار دوکات ادا کر دیں توشہزادے کو قاہرہ پہنچا دیا جائے گا۔ "ڈی ابو سن" کے وعدے پر اعتبار کر کے ان خواتین نے یہ رقم جیسے کیسے کر کے اس کے پاس بھیج دی تھی۔ مگر مبارزینِ یروشلم کا یہ مقدس پیشوا ایفائے عہد کی پابندی سے بالاتر تھا۔
عیسائی مؤرخین بھی اس شرمناک فریب پر اظہارِ نفرت کرتے تھے۔ بلآخر شاہ فرانس چارلس ہشتم نے جمشید کو "ڈی ابوسن" کے پنجے سے رہا کر کے پوپ اینوسنٹ ہشتم کے پاس رومہ بھیج دیا۔ یہاں بھی اس کی حیثیت ایک قیدی ہی کی سی تھی۔ اگرچہ اینوسنٹ نے اس کے ساتھ بڑی ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کو اپنے محل میں عزت و احترام کے ساتھ رکھا۔ اب پوپ نے 40 ہزار دکات سالانہ کی رقم شہزادے کی نگرانی کی صلہ میں بایزید سے وصول کرنا شروع کر دی چنانچہ چند سال بعد انوسنٹ مر گیا اور اس کا جانشین پوپ "اسکندر بورجیا" بنا جو اپنی ہلاکت پاش جرائم کی وجہ سے عالمگیر شہرت کا مالک تھا۔ "اسکندر بورجیا" نے اپنا ایک سفیر سلطان بایزید کی خدمت میں بھیج کر شہزادہ جم کی نظر بندی سے متعلق سابق معاہدے کی تجدید کی اور اس میں ایک اہم دفعہ کا اضافہ یہ کیا کہ اگر وہ سلطان کو شہزادے کی طرف سے ہمیشہ کے لیے مطمئن کر دے تو بجائے 40 ہزار دوکان سالانہ وصول کرنے کے تین لاکھ دوکات ایک بار ہی ادا کر دیے جائیں۔ لیکن ابھی سلطان اور سفیر پوپ کے درمیان اس معاملے پر گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ "چارلس ہشتم" نے اٹلی پر حملہ کر دیا اور 31 دسمبر 1495 عیسوی کو روما میں وہ فاتحانہ داخل ہوا۔
چند روز کے بعد شاہ چارلس اور پوپ اسکندر کے درمیان صلحی کی گفتگو ہو ہی رہی تھی جس کی ایک اہم شرط تھی کہ شہزادے جمشید چارلس کے ساتھ فرانس جائے گا اسکندر کو صلح کی خاطر یہ شرط منظور کرنی پڑی اور شہزادہ فرانسیسی فوج کے سپہ سالار کے ساتھ روما سے روانہ ہو گیا۔ "اسکندر بورجیا" کو اگرچہ 20 ہزاردوکات سالانہ سےمحروم ہو جانا پڑا، تا ہم وہ شہزادے کے قتل سے تین لاکھ دوکات لینے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
یورپ میں قید اور شہادت
شہزادے کے قتل کے طریقے میں ترک اور اطالوی مؤرخین کے بیانات باہم مختلف ہیں۔ اطالوی مؤرخینکہتے ہیں کہ:۔ "اسکندر بورجیا" نے شہزادے کی خدمت گار سے سازش کر کے ایک خاص قسم کا سفید زہر شکر میں ملا کر کھلایا تھا، جبکہ ترک مؤرخین کا بیان ہے کہ مصطفٰی نامی ایک نائی نے "اسکندر بورجیا" کے حکم سے شہزادے کا خط بناتے ہوئے اسنے زہر کے بجھے ہوئے استرہ سے ایک خفیف سا زخم لگا دیا تھا جس سے کہ شہزادے کی موت واقع ہوئی تھی۔
بہرحال تمام مؤرخین کا اس امر پر اتفاق ہے،کہ شہزادے جمشید کا قتل پوپ اسکندر بورجیا ہی کی تحریک سے عمل میں آیا تھا۔ زہر کا اثر فوراً ہی ظاہر نہ ہوا بلکہ رفتہ رفتہ نمایاں ہوا، یہاں تک کہ چند دنوں کے بعد فاتحِ قسطنطنیہ کا وہ جواں سالہ اور جواں ہمت بیٹا جس نے اپنی عمر کے 36 سال بھی ابھی پورے نہیں کیے تھے اور جو 13 سال تک اسیری کی صعبتیں برداشت کر چکا تھا، بیک وقت قیدِ فرنگ اور قید حیات دونوں سے آزاد ہو گیا۔ آخر وقت تک اسے بیوی اور بچوں کو دیکھنے کی بڑی حسرت تھی۔ اس کے آخری الفاظ یہ تھے:۔
"کہ اے میرے رب اگر دین حق کے دشمن یہ چاہتے ہیں کہ میری ذات کو آلہ کار بنا کر ان تجویزوں کو تقویت پہنچائیں جوانہوں نے مسلمانوں کی بربادی کے لیے سوچ رکھی ہیں تو آج کے بعد مجھے زندہ نہ رکھ، بلکہ فوراً میری روح کو اپنی طرف اٹھا لے"
اس لاچار شہزادے کی وفات کے بعد اس کے بھائی سلطان بایزید نے اس کی نعیش کو یورپ سے منگوایا اور اسے شاہی تزک و احتشام کے ساتھ بورصہ میں سابق عثمانی سلاطین کے پہلو میں اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔
عیسائی مورخین کی رائے
شہزادے جمشید کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک عیسائی مؤرخ لین پول لکھتا ہے کہ:۔
" ان تمام غمناک سرگزشت سے یہ حیرت انگیز نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیائے مسیحیت میں ایک بھی ایماندار بادشاہ ایسانہ تھا۔ جو قیدی پر ترس کھاتا اور نہ کوئی ایسا تھا جو گرینڈ ماسٹر یعنی کہ "ڈی ابوسن" پوپ اور چارلس ہشتم کی غیر شریفانہ اور ضمیر فرشانہ سازشوں کے خلاف کھڑا ہوتا۔ ان میں سے ہر ایک غداری کے انعام کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے بھائی کو محفوظ نگرانی میں رکھنے کی خواہش کرنا سلطان بایزید کے لیے قابل معافی ہو سکتا ہے۔ لیکن عیسائی کلیسا کے پیشوائے اعظم اور رهبانی نائٹوں کی جماعت کے سردار کی مدافت میں کیا کہا جا سکتا ہے جنہوں نے کافر کی اشرفیوں کے لیے ایک بے کس و مجبور پناہ لینے والے کے ساتھ دھوکہ کیا"۔
سلطان بایزید ثانی کا عہدِ حکومت اور اوٹرانٹو کا زوال
سلطان محمد فاتح کے بیٹے شہزادہ جمشید کی وفات کے بعد "اوٹرانٹو" جو کہ سلطان محمد فاتح کی عظیم فتح تھی۔ ترکوں کے ہاتھ سے نکل گیا دراصل سلطان بایزید ثانی کا عہد حکومت فتوحات اور توسیح سلطنت کے لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ تخت نشینی کے بعد انہوں نے احمد کدک پاشا کو اپنے بھائی شہزادے جمشید کی بغاوت کو ختم کرنے کے لیے اوٹرانٹو سے واپس بلا لیا تھا اور اس کی جگہ انہوں نے خیر الدین پاشا کو مقرر کیا۔ لیکن خیر الدین پاشا کو حسب ضرورت مدد نہ پہنچ سکی اور وہ بہت دنوں تک نہایت بہادری کے ساتھ دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ مگر بالاخر فوجی کمک نہ پہنچنے کی وجہ سے انہوں نے شہر ڈیوک آف کلبریا کو سپرد کر دیا۔ اوٹرانٹو کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر کبھی ترکوں کا قدم اٹلی کے کسی حصے میں نہ جم سکا۔
بحری فتوحات اور کمال رئیس
اوٹرانٹو کی شکست کے بعد سلطان نے بحری فتوحات کی جانب توجہ مرکوز کی جمہوریہ وینس سے جو جنگ 904 ہجری مطابق 1497 عیسوی میں چھڑی تھی وہ اپنے نتیجے کے لحاظ سے انتہائی اہم جنگ تھی۔ ترکوں نے موریہ میں وینس کے تین باقی ماندہ قلعوں یعنی کہ "مورانس" "موڈن" اور "کورن" کو بھی فتح کر لیا اور اس طرح یونان میں وینس کے اثر کا خاتمہ ہو گیا۔ ترک بیڑا سلطان محمد فاتح کے عہد میں ہی بحرہ روم کی تمام بحری طاقتوں پر فوقیت حاصل کر چکا تھا۔ سلطان بایزید ثانی نے اس کو اور زیادہ فروغ دیا۔ چنانچہ 905 ھ مطابق 1499ء عیسوی میں مشہور ترک امیر البحر "کمال رئیس" نے وینس کے بیڑے کو زبردست شکست دے کر لیپانٹو کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ دوسرے سال وینس، آسٹریا، اسپین اور پوپ کے بحری بیڑوں نے متحدہ طور پر ترک بیڑے پر حملہ کیا۔ باوجود اس کے کہ عثمانی جہازوں کی مجموعی تعداد اتحادی بیڑوں سے بہت کم تھی۔ کمال رئیس نے کامیابی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور پھر آگے بڑھ کر مسلمانانِ غرناطہ کی درخواست پر جو عیسائیوں کے ظلم و ستم سے عاجز آ چکے تھے۔ اس نے اسپین کے ساحل پر حملے کئے۔
اندلس کے مظلوم مسلمانوں کی مدد
جب اندلس کے مظلوم مسلمانوں کی خبریں مشرق میں پہنچی تو اس وقت مملوک سلطان اشرف نے پوپ اور نصرانی بادشاہوں کی طرف سفیر بھیج کر مطالبہ کیا کہ وہ اسپین کے مسلمانوں پر ظلم کرنا بند کریں۔ لیکن اس دھمکی کا پوپ اور کیتھولک بادشاہوں نےکوئی جواب نہ دیا اور وہ اندلس سے اسلامی وجود کو ختم کرنے کی اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ مسلمانانِ ُندلس نے اس وقت کے عثمانی سلطان بایزید کی خدمت میں بے شمار خطوط ارسال کیے اور مدد کی درخواست کی۔ جس کے بعد سلطان جو کہ بذات خود کئی ایک مشکلات میں گھرے ہوئے تھے، انہوں نے اندلس کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے مملوک سلطان اشرف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تاکہ دونوں ممالک مل کر غرناطہ کے مسلمانوں کی مدد کریں اس معاہدے پر دونوں اسلامی سلطنتوں کے دستخط ہوئے اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ سلطان بایزید ثقلیہ کے ساحلوں پر بحری بیڑے سے حملہ کریں گے،اور مملوک سلطان افریقہ کی طرف سے دوسرے حملے کا اہتمام کرے گا۔ سلطان بایزید نے اس معاہدے پرمل کرتے ہوئے عثمانی بحریہ کو روانہ کیا جس نے ہسپانوئی ساحلوں پر حملے کیے اس بحری بیڑے کی قیادت کمال رئیس کو دی گئی تھی، جس نےپندرویں صدی عیسوی کے آواخر میں عیسائیوں کے بحری بیڑوں کو خوف و ہرا س سے دوچار کر رکھا تھا اور مغرب اس کے نام سے تھر تھر کانپتا تھا۔ یوں مملوک اور عثمانی افواج نے بے شمار مسلمانوں اور یہودیوں کو سپین کے عیسائیوں کے مظالم سے آزاد کرواتے ہوئے انہیں مملوک اور عثمانی سلطنت میں آباد کیا۔
مملوکوں سے کشمکش
ایشیا میں اب تک سلاطینِ عثمانی کو جن مخالفین کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ صرف ایشیائے کوچک کے ترک سردار تھے۔ جنہوں نے سلجوقی سلطنت کی تباہی کے بعد خود مختار ریاستیں قائم کر لی تھیں۔ یہ تمام ریاستیں سلطان محمد فاتح کے عہد تک مستقل طور پر سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لی گئی تھی اور سلطان کو اپنے ایشیائی مقبوضات کی طرف سے گونا اطمینان حاصل ہو چکا تھا۔ لیکن بایزید ثانی کے تخت پر آتے ہی، عثمانیوں کو ایک نئے دشمن کا سامنا کرنا پڑا،جو کہ مملوک تھے۔
مملوک سلطنت اب تک سلطنت عثمانیہ کے معاملات سے بالکل بے تعلق تھی۔ شہزادہ جمشید نے پہلی بار اس کو عثمانی مقبوضات میں قدم رکھنے کی دعوت دی تھی اگرچہ اس مہم میں مصری فوج کو شکست کھا کر پسپا ہونا پڑا تا ہم سلطنت عثمانیہ سے قوت آزمائی کی جرات اس میں پیدا ہو چکی تھی اور مصریوں نے ایشیاء کوچک کے جنوبی مشرقی علاقوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔ سلطنت عثمانیہ اور مصر کے مملوک سلطانوں کے درمیان پہلی جنگ 890 ہجری بمطابق 1485ء میں شروع ہوئی جس میں ترکوں کو سخت شکست ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ، امیرِ کرمانیہ نے بغاوت کر دی، عثمانی فوجیں اس بغاوت کو ختم کرنے میں تو کامیاب ہوئی، لیکن مصریوں کے مقابلے میں انہیں پیچھے ہٹنا پڑا بالاخر پانچ سال بعد اس جنگ کا خاتمہ ہوا اور سلطان بایزید نے 1491ء میں مملوک سلطان کی خدمت میں اپنا قاصد بھیجا اور ان تمام قلعوں کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں۔ جن پر مصریوں نے کچھ عرصہ پہلے قبضہ کر لیا تھا۔ مملوک سلطان نے صلح کے اس پیغام کو خوش آمدید کہا۔ یہ صلح سلطان بایزید کے عہد حکومت کے آخر یعنی کہ 1512 عیسوی تک قائم رہی اور اس نے ثابت کر دیا کہ سلطان بایزید مسلمانوں کے ساتھ بھائی چارے کی پالیسی پر گامزن تھے۔
خانہ جنگی، دستبرداری اور وفات
سلطان با یزید کا عہد حکومت جس طرح خانہ جنگی سے شروع ہوا تھا، اسی طرح خانہ جنگی پر ختم بھی ہوا۔ سلطان بایزید کے تین بیٹے تھے۔ کرکوت، احمد اور سلیم اور یہ تینوں اناطولیہ کے مختلف صوبوں کے حکمران تھے۔ کرکوت سلطان بایزید کا بڑا بیٹا تھا، لیکن اس کا زوق زیادہ تر علمی تھا۔ اس لیے بایزید احمد کو جسے وہ سب سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ اسے اپنا جانشین بنانا چاہتے تھے۔ لیکن سلیم باوجود سب سے چھوٹا ہونے کے اپنی شجاعت اور فوجی قابلیت کی وجہ سے تمام فوج اور خصوصاً عثمانی سلطنت کی اسٹیبلشمنٹ ینی چری میں نہایت محبوب تھا۔ اس دوران سلطان بایزید اپنی عمر اور خرابی صحت کے باعث امورِ سلطنت پر توجہ دینے سے قاصر تھے۔ سلیم کو خطرہ لاحق ہوا کہ ممکن ہے احمد بایزید کی حیات ہی میں تخت پر قابض ہو جائے، لہذا اس نے سلطان کی اجازت کے بغیر طرابزون سے قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوا اور ایک منتخب فوج کے ساتھ وہ ادر نے پہنچا۔ سلطان نے اس کو واپس جانے کا حکم دیا۔ لیکن سلیم جنگ پر آمادہ ہو گیا اور مجبوراً بایزید کو اس کا مقابلہ کرنا پڑا۔ لیکن اس جنگ میں سلیم کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ کریمیا جا پہنچا۔ کریمیا کا فرمانروا سلیم کا سسر تھا، اس نے سلیم کی مدد کی اور کچھ دنوں کے بعد وہ پھر قسطنطنیہ واپس لوٹا اور اب کی بار تمام فوج نے اس کا ساتھ دیا۔ بایزید نے فوج کے ایک وفد کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا بادشاہ ضعیف العمر اور کمزور ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ سلیم تخت نشین ہو۔ یہ دیکھ کر کے فوج قابو سے باہر ہو چکی ہے بایزید نے اعلان کیا کہ میں اپنے بیٹے سلیم کے حق میں تخت سلطنت سے دستبردار ہوتا ہوں۔ خدا اس کو ایک خوشحال عہدِ حکومت عطا فرمائے۔ اس کے بعد وہ تخت سے اتر آیا سلطان چاہتے تھےکہ اپنی زندگی کے بقیہ ایام ایشیائے کوچک کے شہر "ڈیمو ٹیکا" میں گزار دے، جو کہ اس کی جائے پیدائش کی جگہ تھی ۔ لیکن موت نے اس کی یہ خواہش پوری نہ کی اور قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے صرف تین روز بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا۔
روس سے سفارتی تعلقات
سلطنت عثمانیہ اور روس کے درمیان اب تک سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے 900 ھ/ 1495ء میں پہلا روسی سفیر "مائیکل پلے شیف" قسطنیہ آیا اور روسی تاجروں کے لیے تجارتی مراعات کی اس نے درخواست کی۔ زار ایوان سوم نے اسے سختی کے ساتھ ہدایت کر دی تھی کہ وہ نہ تو سلطان کے سامنے گھٹنے کے بل کھڑا ہو نہ سلطان کے علاوہ کسی وزیر سے سفارتی معاملات پر کوئی گفتگو کرے اور نہ یورپ یا ایشیا کی کسی مملکت کے سفیر کو اپنے آگے جانے دے۔
ایک انگریز مورخ "اے ڈی لامارٹین" تاریخِ ترک میں لکھتا ہے کہ:۔
" پلے شیف کی گستاخی اور بدتمیزی اس کے دربار تکبر سے بھی بڑھ گئی تھی، جو قوم اس کی مہمان نوازی اور تواضع کر رہی تھی اسی کے رسم و رواج کی اس نے تحقیر کی وزیراعظم نے اسے کے استقبال کے لیے دعوت دی ، جس میں شریک ہونے سے اس نے انکار کر دیا اور دیوان کی طرف سے جو خلعت اور دوسرے تحائیف اسے پیش کیے گئے تھے اس نے واپس کر دیے۔
عثمانی رسم و رواج کی توہین پر مغربی حکومتوں کے سفیروں کو بھی غصہ آیا۔
اگر یہ روسی سفیر سلطان محمد فاتح یا سلطان سلیم اول کے عہد میں آیا ہوتا تو اسے اپنی گستاخیوں کا نتیجہ معلوم ہو جاتا۔ لیکن سلطان با یزید نے اپنے غیر معمولی تحمل اور بردباری کی وجہ سے صرف اسی پر اکتفا کیا کہ پلے شیف کو رخصت کر دیا اور انہوں نے اپنا کوئی سفیر دربارِ روس میں نہ بھیجا۔
نتیجہ
سلطان بایزید ثانی کا عہد جہاں اپنے بھائی شہزادہ جم کے ساتھ خانہ جنگی سے شروع ہوا، وہیں اپنے بیٹوں کی کشمکش پر ختم ہوا۔ اگرچہ ان کا دور بڑی فتوحات کے بجائے بحری کامیابیوں، اندلس کے مسلمانوں کی مدد اور مسلمان ریاستوں سے بھائی چارے کی پالیسی کے لیے یاد رکھا جاتا ہے، تاہم شہزادہ جم کی المناک جلاوطنی اور موت اس عہد کا سب سے دردناک باب ہے۔
History In Urdu