یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
نیکوپولیس کی فتح کے بعد سلطان بایزید یلدرم اپنی طاقت کے عروج پر تھے اور قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، کہ مشرق سے ایک نیا اور خطرناک حریف امیر تیمور اُبھر آیا۔ 1402 عیسوی میں انقرہ کے میدان میں ان دونوں عظیم فاتحین کا ٹکراؤ ہوا، جس نے نہ صرف بایزید کی زندگی بلکہ سلطنتِ عثمانیہ کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
اناطولیہ میں بایزید کی فتوحات
نیکو پولیس کی جنگ میں فتح کے بعد سلطان بایزید یلدرم نے قسطنطنیہ کا محاصرہ شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ سلطان کو اب یقین تھا کہ یورپ میں سے کوئی بھی سلطنت قسطنطنیہ کو بچانے کے لیے اب نہیں آئے گی۔ سلطان با یزید کا یہ محاصرہ اپنے آخری مراحل میں تھا، کہ انہیں اناطولیہ میں اپنے ایک باج گزار ترک قبیلے "کارامان" کی بغاوت کی خبر ملی جہاں کارامان قبیلے کے سردار علاءالدین نے بغاوت اختیار کرتے ہوئے انکرہ تک کے علاقے کو فتح کر لیا تھا۔ جس پر سلطان بایزید کو مجبوراً قسطنطنیہ کا محاصرہ اٹھانا پڑا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ واپس چلے آئے۔جہاں 1397 عیسوی سے لے کر 1399 عیسوی کے درمیان انہوں نے کارامان، قاضی برہان الدین اوردیگر مختلف ترک قبائل پر حملہ کرتے ہوئے انہیں عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔
اس کے بعد بایزید نے مملوک سلطان برکوک کی موت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے"بنو زو القدر" قبیلے جو کہ مملوک سلطنت کا حمایتی تھا اس پر حملہ کر کے اسے بھی عثمانی سلطنت میں شامل کرلیا۔ اناطولیہ میں ان ترک قبائل کی فتح نے جہاں عثمانی سلطان با یزید کو ایک عظیم فاتح بنا دیا تھا وہیں اس فتح نے عثمانی سلطنت کی سرحدیں ایک طاقتور اور خطرناک ترین دشمن کی سرحدوں کے ساتھ ملا دی تھیں اور اب مشرق کی جانب سے ایک بہت بڑا خطرہ عثمانیوں کی دہلیز پر کھڑا تھا جو کہ "امیر تیمور" تھا۔
امیر تیمور کا عروج
9 اپریل 1336 عیسوی کو تیمور شہر سبز میں برلاس قبیلے کے سردار کے ہاں پیدا ہوا۔ اس دوران ماوراءالنهر اور آس پاس کے علاقوں پر منگول چغتائی خانیت کی حکمرانی تھی۔ جو کہ اپنے زوال کے آخری مراحل میں تھی۔ اس دوران "کازگان" نامی شخص جو کہ برلاس قبیلے سے ہی تھا، ایک طویل جدوجہد کے بعد سمرقند کا گورنر بنا۔ "کازگان" نے تیمور کی جنگی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے اپنی فوج کا سالار بنا دیا اور تیمور نے اس کی فوج میں کامیابی کے ساتھ خدمات سرانجام دی۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد "کازگان" ایک حملے میں مار دیا گیا۔ جس کی وجہ سے سمرقند کے ارد گرد بد امنی پھیل گئی۔ سمرقند کے آس پاس فسادات کو ختم کرنے کے لیے چغتائی حکمران تغلق تیمور خان اپنی فوج کے ساتھ سمرقند آیا اور یہاں فتنے اور فساد کو ختم کرنے کے بعد اس کی یہاں تیمور کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ جہاں تیمور نے چغتائی خان کے ساتھ اپنا تعارف کروایا اور جلد اس نے چغتائی خان کا اعتماد جیت لیا اور تغلق تیمور نے اسے سمر قند کا گورنر بنا دیا۔
تیمور نے سمرقند میں اپنے پاؤں جمانے کے بعداس نےچغتائی خانیت کو ختم کرتے ہوئے ان تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا اور تیمور ایک نئے فاتح کی حیثیت سے اُبھرا اور چغتائیوں کا خاتمہ ہوگیا۔ یہیں سے امیر تیمور نے اپنی تیموری سلطنت کی بنیاد رکھی اور بہت جلد دیکھتے ہی دیکھتے تیمور نے چغتائی سلطنت کے باقی ماندہ حصوں پر قبضہ کرتے ہوئے اس نے کاشغر، خوارزم، خراسان، ہرات، نیشاپور، ایران اور آذربھائی جان تک کے علاقوں کو فتح کر کے انہیں اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس دوران جبکہ تیمور ان فتوحات میں مصروف تھا تو ادھر مغرب میں عثمانی "کو سوو" اور "نیکوپولیس" کی جنگوں میں عیسائیوں کے ساتھ یورپ میں نبرد آزما تھے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو تیمور بالکل اپنے جد امجد چنگیز خان کے نقش قدم پر قتل و غارت گری کرتا ہوا اس نے ایک عظیم تیموری سلطنت قائم کر لی تھی۔
دونوں سلطنتوں کے درمیان کشیدگی
اور اب تیموری سلطنت کی سرحدیں سلطنت عثمانیہ کے ساتھ متصل تھیں۔ اس دوران عثمانی سلطان کے ظلم سے تنگ تُرک سردار تیمور کے پاس چلے گئے تھے۔ کیونکہ گزشتہ پانچ دس سالوں میں عثمانی سلطان بایزید نے اناطولیہ میں بہت سے ترک قبائل کی آزادی کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا تھا اور ان سرداران کو یا تو قید کر دیا گیا تھا یا پھر زبردستی عثمانی فوج میں معاون کے طور پر انہیں شامل کیا گیا تھا اور جب سمرقند سے ایک ترک فاتح تیمور اٹھا اور وہ علاقوں کو فتح کرتا ہوا عثمانی سلطنت کے بالکل پاس آگیا تو اناطولیہ کے بہت سے ایسے ترکمان سردار جو کہ بے گھر ہو گئےتھے وہ یہاں سے ہجرت کر کے سمرقند کے ترک فاتح تیمور کے پاس اس امید سے چلے گئے تھے کہ وہ عثمانی سلطان بایزید سے ان کا حق انہیں واپس لے کر دے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب عراق اور آذربائجان کے بہت سے قابل ذکر حکمران جو تیمور کے بے رحم حملوں سے بھی گھر ہو گئے تھے انہوں نے عثمانی سلطان کے دربار میں پناہ لی ان میں سے کچھ قابل ذکر خاندانوں میں جلائر خاندان کے سلطان احمد جلیر اور کاراقیونوں کے سلطان کارا یوسف شامل ہیں۔ یوں دونوں فاتحین کے سیاسی حریفوں کی میزبانی کی اس پالیسی کے نتیجے میں ادرنے اور سمرقند کے درمیان تعلقات تلخ ہونا شروع ہو گئے اور 1400 عیسوی کے موسم میں بہار کے دوران عثمانیوں اور تیموریوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز شروع ہوا۔
جب تیمور آذربائجان اور جارجیا میں ایک خون ریز فوجی مہم میں مصروف تھا تو سلطان با یزید نے سمرقند کے فاتح کے خلاف جنگ کا آغاز کرتے ہوئے اس نے ازنیک اور قیمہ کے قصبوں پر قبضہ کر لیا یہ جگہ متھارن بے جو کہ ایک ترکمان سردار تھے ، انہوں نے بایزید کے خلاف تیمور کی حمایت کرتے ہوئے امیر تیمور کا ساتھ دیا تھا اس حملے کے بعد متہارن بے تبریز میں امیر تیمور کے پاس چلے گئے اب تیمور نے عثمانیوں کے اس حملے کا سخت ترین جواب دینے کا ارادہ کر لیا تھا سو اسی سال یعنی کہ 1400 عیسوی کے موسمِ خزاں کے دوران منگول فاتح تیمور نے مشرقی اناطولیہ میں اپنے طوفانی حملوں کا آغاز کیا اور اس نے ازنیک اور کیمیا پر دوبارہ قبضہ کرتے ہوئے یہ علاقے متھارن بے کے حوالے کر دیے اور اس کے علاوہ اس نے اناطولیہ میں عثمانیوں کے ایک علاقائی دارالحکومت سیواس کا محاصرہ کر لیا اس وقت عثمانی سلطان بایزید یلدرم قسطنطنیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے ۔
سیواس کا محاصرہ
803 ہجری بمطابق 1400 عیسوی میں امیر تیمور نے سیواس کا محاصرہ شروع کیا جو کہ چند ہی سال پہلے عثمانیوں کے قبضے میں آیا تھا۔اس شہر کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں اور ترک دستے نے بایزید کے سب سے بڑے بیٹے ارتغرل کی سرگردگی میں اس کی حفاظت کے لیے ایسی جان کی بازی لگائی کہ شروع میں تیمور کی اتنی بڑی فوج کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن آخر میں تیمور نے ایک ایسی تدبیر اختیار کی جس کا جواب محصورین کے پاس نہ تھا ۔اس نے چھ ہزار مزدور لگا کر دیواروں کی بنیادیں کھدوانا شروع کر دیں اور اس درمیان میں شہتیروں کی تھنی لگا کر دیواروں کو گرنے سے روکے رکھا ۔جب کھدائی کا کام پورا ہو گیا اور بنیادوں کے اندر بڑی بڑی سرنگیں تیار ہو گئیں تو شہتیروں میں آگ لگا دی گئی اور تمام دیواریں دیکھتے ہی دیکھتے انہی سرنگوں میں بیٹھ گئیں۔ حملہ آوروں کے لیے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور شہر پر فوراً قبضہ ہو گیا تیمور نے سیواس کے اس محافظ دستے سے دل کھول کر انتقام لیا اور ان میں سے چار ہزار آرمینیوں کو تو اس نے زندہ دفن کرا دیا ارطغرل اور بقیہ ترک سپاہیوں کو بھی تیمور نے نہ بخشا اور ان کے بھی قتل کا حکم جاری کیا۔
سیواس کی فتح کے بعد تیمور شام اور مصر کی طرف روانہ ہوا اور اس نے کچھ ہی مہینوں کے اندر اندر حلب، حما، بعلبک، حمص اور دمشق کو فتح کرتے ہوئے یہاں کے شہریوں کو بڑی ہی بے دردی کے ساتھ شہید کیا ۔تاہم اس دوران جب کے تیمور مملوک سرزمین کو فتح کرنے کے لیے دمشق میں موجود تھا تو اسے اناطولیہ سے عثمانیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات ملی۔
خط و کتابت اور اعلانِ جنگ
1401 عیسوی کے موسمِ گرما تک عثمانی افواج نے مشرقی اناطولیہ کی طرف پیش قدمی جاری رکھی اور تیموریوں سے سیواس، اور کیما کے قصبوں پر دوبارہ سلطان بایزید نے حملہ کر کے ان علاقوں کو واپس حاصل کر لیا۔ یوں یہاں سے دونوں فاتحین کے درمیان خط و کتابت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس نے ان دونوں فاتحین کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
اس خط و کتابت میں دونوں بادشاہوں نے ایک دوسرے پر اسلام کی بنیادی اصولوں سے انحراف کفر اور بے وفائی کے الزام لگائے۔تیمور نے سب سے پہلے بایزید کو خطوط بھیجا جس میں اس نے اس پر زور دیا کہ وہ جلائیر اور کاراقیونلو کے حکمرانوں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں ورنہ تیمور اس پر اپنا غضب نازل کرے گا۔ بایزید نے جواب میں لکھا کہ یہاں منگول فاتح کے سامنے عراق خراسان اور مملوکوں کی بے بس فوجیں نہیں ہیں بلکہ یہاں عثمانیوں کی طاقتور ترین فوجیں ہیں جو کہ تیمور کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہیں۔
عثمانی سلطان بایزید نے تیمور کو یہ بھی کہا کہ تیمور کی خونی فوجی مہمات سے لاکھوں مسلمان شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔بایزید نے تیمور کو اس بات پر بھی زور دیا کہ اسے مشرقی اناطولیہ میں اپنی حالیہ فتوحات کو فوری طور پر ترک کر دینا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ دیگر اشتیال انگیز خطوط جن میں تیمور کا بایزید کو چیونٹی سے تشبیہ دینا اور بایزید کا تیمور کو لکھے گئے اپنے خط میں اپنا نام سنہری حروف کے ساتھ بڑا کر کے لکھنا اور تیمور کا نام سیاہ رنگ میں چھوٹے لفظوں میں لکھنا ی تیمور کو غضبناک کرتا گیا اس کے علاوہ دونوں بادشاہوں نے ایک دوسرے پر خود کو عظیم اسلامی حکمران ہونے کا دعویٰ کیا۔ یوں اس خط و کتابت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا اور بایزید نے امیر تیمور کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔
1401 عیسوی میں جلائرڈ خاندان کے سلطان احمد جلائر نے عثمان سلطان بایزید کی مدد سے بغداد میں اپنی حکومت کو بحال کیا جس پر تیمور غضب ناک ہوا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ بغداد جا پہنچا اور اس نے جلائڈ سلطان کی بغاوت کو دباتے ہوئے اس نے بغداد کے تمام انسانوں کو تہ تیغ کرنے کا حکم دے دیا ۔ یہیں سے تیمور نے بایزید کے خلاف جنگی تیاریوں کا آغاز کیا۔
جنگِ انقرہ
1402 عیسوی کے موسم بہار کے دوران آذربھائی جان میں اپنی افواج کو تعینات کرنے کے بعد تیمور نے باضابطہ طور پر عثمانیوں کے خلاف ایک بڑی جنگ کا اعلان کیا اور مشرقی اناطولیہ کی طرف وہ اپنی فوجوں کے ساتھ مارچ کرنے لگا اور اس ابتدائی حملے میں بغیر کسی مزاحمت کے کیمہ ،ارزنیک اور سیوس دوبارہ تیموری حکمران کے ہاتھ میں آگئے۔ جیسے ہی تیمور عثمانی علاقوں میں داخل ہوا تو بایزید اپنے قسطنطنیہ کے محاصرے کو چھوڑ کر واپس اپنی فوج کے ساتھ امیر تیمور کا مقابلہ کرنے کے لیے بورصہ شہر جا پہنچا۔ جہاں اس نے بلکان اور اناطولیہ سے فوجوں کو جمع کیا جب بایزید اپنی فوج کے ساتھ انکرہ پہنچا تو بایزید کے فوجی افسروں نے اسے مشورہ دیا کہ یہاں رک کر دفاعی پوزیشن کے طور پر تیمور کا انتظار کیا جائے اور یہیں اس کے ساتھ جنگ لڑی جائے لیکن بایزید نے حقارت کے ساتھ اپنے فوجی افسروں کے اس مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر حملہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔
بایزید نے انکرہ میں اپنی معمولی فوجی چھاونی قائم کی اور وہ تیمور کے مقابلے کے لیے سیواس کی طرف مشرق کی جانب بڑھنے لگا جہاں چند دنوں کی پیش قدمی کے بعد اماسیہ کے قریب بایزید کا تیموری فوج کے ساتھ سامنا ہوا یہ تیموری فوج کا ہراول دستہ تھا،جسے بایزید نے کچل ڈالا۔ بایزید اسی خوش فہمی میں تھا کہ اس نے تیمور کو شکست دے دی ہے لیکن جب حقیقت اس پر کھلی تو وہ بے حد پریشان ہوا کیونکہ یہ تو تیمور کی ایک ابتدائی چال تھی۔ تیمور نے اپنے چند ایک دستوں کو بایزید کے مقابلے میں بھیج کر اس نے مغرب کی جانب ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے وہ انقرہ جا پہنچا اور اس نے انقرہ کا محاصرہ کر لیا ۔جب بایزید کو انکرہ کے محاصرے کی خبر ملی تو اس نے برق رفتاری کے ساتھ اناطولیہ کی شدید گرمی میں اپنی فوج کو واپس انقرہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا اس خوفناک گرمی میں واپسی کے دوران ہزاروں عثمانی سپاہی گرمی کی شدت کی وجہ سے مارے گئے اور بالاخر تھکی ہاری عثمانی فوج انقرہ کے مضافات میں پہنچی جہاں جولائی کے درمیان انہوں نے انقرہ کے قریب مضافات میں اپنا پڑاؤڈالا۔
دونوں فوجوں کی ترتیب
جنگِ انقرہ میں سلطان بایزید کے پاس 60 ہزار کی مضبوط فوج تھی جبکہ اس کے مقابلے میں امیر تیمور کے پاس 90 ہزار کی ایک بڑی فوج تھی۔ تیمور کے زیادہ تر سپاہی چغتائی منگولوں پر مشتمل تھے جبکہ اس کے علاوہ اس کی فوج میں ایرانی پیادہ اور ارمینیائی بھی شامل تھے ۔تیمور لشکر کے مرکز کی کمان کر رہا تھا جبکہ تیموری فوج کے دائیں جانب اس کا سب سے بڑا بیٹا میران شاہ کمانڈ کر رہا تھا، جبکہ تیموری لشکر کے بائیں جانب تیمور کا سب سے چھوٹا بیٹا شاہ رخ موجود تھا۔ تیموری فوج کے آگے 32 جنگی ہاتھیوں کی ایک لمبی قطار تھی جو کہ تیمور ہندوستان کی مہم میں انہیں پکڑ کر اپنے ساتھ لایا تھا۔ یہ خوفناک ترین ہاتھی درحقیقت دشمن کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایک زندہ قلعے کی مانند تھے۔
ادھر دوسری جانب عثمانی سلطان بایزید کی فوج بھی مختلف سپاہیوں پر مشتمل تھی عثمانی سلطان بایزید لشکر کے مرکز میں تھا اور اس کے ساتھ اس کا وزیر جاندار لی زادہ علی پاشا اور سلطان کے تین بیٹے شہزادہ عیسیٰ ،شہزادہ موسٰی اور شہزادہ مصطفیٰ کے ساتھ مرکز کی کمان کر رہے تھے ان کی حفاظت سلطان کہ کیپو کولو گارڈ اور کئی ہزار ینی چری اور کیپی کولو گھرسوار سپاہیوں پر مشتمل فوجی دستے موجود تھے۔اس کے علاوہ تیر اندازوں اور ہلکے ازب پیادہ دستے بھی شامل تھے۔
عثمانی لشکر کے بائیں جانب با یزید کا سب سے بڑا بیٹا سلیمان جو کہ عثمانی سلطنت کا وارث بھی تھا وہ کمانڈ کر رہا تھا ۔اس کے پاس بلقان اور اناطولیہ سے بھرتی کیے گئے سپاہی تھے اور اس کے علاوہ حال ہی میں کرائے پر بھرتی کیے گئے تاتاریوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس شہزادے کے پاس موجود تھی۔
دریں اثنا لشکر کے سب سے آخر میں یعنی کہ سلطان بایزید کی پشت پر سلطان بایزید کا بیٹا محمد کھڑا تھا جس کے پاس کارا قیون لو ریاست کے گھر سوار فوجی دستے موجود تھے۔
جبکہ آخر میں عثمانی فوج کے دائیں جانب کے دستوں کی کمانڈ "کوسوو" اور "نائیکوپولس" کی جنگوں میں اپنی بہادری سے فتوحات حاصل کرنے والے بہادر "کارا تیمور تاش پاشا" کر رہے تھے ۔عثمانی پاشا کے ساتھ سلطان کے وفادار بهنوئی سرویہ کے اسٹیفن لازار اپنے سروی نائٹس کے ساتھ موجود تھا۔
معرکہ اور بایزید کی گرفتاری
28 جولائی کی صبح کو اسلامی دنیا کے دو طاقتور ترین بادشاہوں کی فوجیں "انقرہ" میں ایک دوسرے کے سامنے جنگ کی حالت میں کھڑی تھیں۔ یہاں جنگ کے حوالے سے تاریخی روایات مختلف ہیں، کہ کس نے سب سے پہلے کس پر حملہ کیا۔ لیکن زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے، کہ لڑائی کی ابتدا عثمانی فوج کے بائیں پہلو نے کی جس کے مقابلے کے لیے تیمور کا بیٹا "میران شاہ" اپنے گھڑ سوار اور ہاتھیوں کے دستے کے ساتھ آگے بڑھا ۔یوں اس ابتدائی حملے میں عثمانی شہزادے سلیمان کے دستے سخت ترین دباؤ کا شکار ہو گئے۔ لیکن عثمانیوں نے یہاں پر جم کر تیموریوں کا مقابلہ کیا۔
اس دوران تیمور نے اپنے مرکزی لشکر کو حملے کا حکم دیتے ہوئے اس نے اپنے اپنے بیٹے"شاہ رخ"کو سربوں پر حملے کا حکم دیا۔ تاہم عثمانی اتحادی سٹیفن کے بھاری برکم نائٹس نے نہ صرف عثمانیوں کا دفاع کیا، بلکہ اس نے تیموریوں کے حملے کی سخت ترین مزاحمت کی اوریہ مزاحمت اس قدر شدید تھی کہ"شاہ رخ"کے چند ایک گھرسوار مارے گئے ۔اس دوران بایزید نے سٹیفن کو حکم دیا کہ وہ واپس دوبارہ عثمانی لشکر کے ساتھ آ کر متحد ہو جائے جس پر اسٹیفن اپنے سربیائی نائٹس کے ساتھ واپس "کارا تیمور تاش پاشا" کے گھڑسوار دستوں کے پاس آ پہنچا۔ لیکن اس حکمت عملی کے دوران تیمور نے تازہ دم گھڑ سوار دستے اسٹیفن کے مقابلے کے لیے بھیجے اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اسی دوران جبکہ دونوں طرف سے سپاہی اپنی بہادری کی جوہر دکھا رہے تھے ۔ کہ تیمور نے اپنی ایک آخری چال چلی۔ تیمور نے کیا کچھ یوں کہ اس نے جنگ سے پہلے ہی ان تاتاریوں کے جو کہ کچھ ہی عرصہ پہلے عثمانی لشکر میں شامل ہوئے تھے انکے ساتھ تیمور اپنے جاسوسوں کے زریعے رابطے میں تھا۔لہٰذا جب جنگ اپنے عروج پر تھی تو عثمانیوں کے بائیں جانب موجود تاتاریوں نے اچانک بغاوت کرتے ہوئے اس نےشہازدے" سلیمان" کے عقب پر حملہ کر دیا ۔اس پر سلطان بایزید کا بیٹا محمد جو کہ ریزرو دستوں کی کمانڈ کر رہا تھا اس نے کاراقیون لو سپاہیوں کے ساتھ ان تاتاریوں پر حملہ کیا اور چند گھنٹوں کے اندر اندر ان تمام باغی تاتاریوں کا خاتمہ کر دیا گیا۔ لیکن اس دوران عثمانی شہزادے سلیمان نے کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے دستوں کے ساتھ میدانِ جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔
یوں عثمانی فوج کے بائیں بازو کے بھاگنے کی خبر جب عثمانی فوج میں پھیلی تو اس کے نتیجے میں ایک عام خوف و ہراس پھیل گیا اور اس دوران تیموری گھڑسواروں کے تابڑ توڑ حملوں سے عظیم عثمانی کمانڈر "کارا تیمور تاش پاشا" شہید ہو گئے اور تیمور نے عام حملے کا حکم دےدیا۔ لیکن اس دوران بھی سربیائی شہزادہ سٹیفن وفاداری کے ساتھ بایزید کے ساتھ کھڑارہا اور اس نے سلطان بایزید کو میدان جنگ سے فرار ہو جانے کا مشورہ دیا تاہم بایزید نے اس مشورے کو ٹھکراتے ہوئے اپنے پیچھے موجود پہاڑی کی جانب پسپائی اختیار کی جہاں وہ اپنے ینی چری سپاہیوں اور ذاتی محافظوں کے ساتھ آخری لمحے تک لڑنے کی تیاری کرنے لگا ۔جب کہ باقی عثمانی فوج میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئی اس دوران سلیمان شہزادہ محمد اور عیسٰی دونوں اپنے سپاہیوں کے ساتھ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اب سلطان بایزید کے پاس صرف شہزادہ موسٰی اور مصطفیٰ تھے،اور سلطان بایزید کے پاس 10 ہزار "ینی چری" میدان میں باقی رہ گئے تھے۔ اس مختصر فوج نےتاتاریوں کے لشکر کے ساتھ جس حیرت انگیز شجاعت سے مقابلہ کیا اس کی مثال خود ینی چری کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ لیکن آخر کار گرمی اور پیاس کی شدت نے ان کے بازو کمزور کر دیے اور تاتاریوں کی کثرت غالب ہو کر رہی۔ بایزید کے بعض افسروں نے لڑائی کی حالت دیکھ کر چند گھنٹے پہلے ہی اسے میدان جنگ چھوڑنے کی رائے دی تھی لیکن اس نے اس مشورے کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا تھا۔ اب جب کہ وقت نکل چکا تھا بایزید نے بھاگنے کی کوشش کی مگر "محمود خان چغتائی" نے تعاقب کر کے بایزید کو گرفتار کرلیا۔
بایزید کی اسیری اور وفات
آلِ تیمور کا مورخ "شرف الدین علی" بیان کرتا ہے کہ، جب بایزید قیدی کی حیثیت سے دست بدستہ تیمور کے سامنے لایا گیا تو تیمور نے آگے بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کے ہاتھ کھلوا کر عزت و احترام کے ساتھ اپنے قریب بٹھایا پھر اس کی حالت پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگا:،
"کہ اگرچہ احوال عالم تمام تر اللہ تعالیٰ کے اراد و قدرت کے مطابق پیش آتے ہیں اور کسی دوسرے کو حقیقتاً کوئی اختیار و اقتدار حاصل نہیں ہے۔ تا ہم انصاف اور حق یہ ہے کہ تم پر جو مصیبت آئی ہے وہ خود تمہاری لائی ہوئی ہے تم نے بارہا اپنی حد سے باہر قدم رکھا اور بالاخر مجھے انتقام پر مجبور کر دیا ۔پھر بھی چونکہ تم اس دیار میں کفار سے جہاد کر رہے تھے، میں نے بہت صبر کیا ۔ان حالات میں جو فرض ایک خیر اندیش مسلمان کا تھا اسے بجا لایا میری خواہش تھی کہ اگر تم فرمانبرداری کی راہ اختیار کرو تو مال و لشکر کی جس قدر ضرورت تمہیں ہو اس سے تمہاری مدد کروں۔ تاکہ تم اطمینان اور قوت کے ساتھ جہاد میں مشغول رہ سکو اور دیارِ اسلام کے اطراف و اکناف سے ان کفار کا خاتمہ کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تم نے سرکشی اور بغاوت اختیار کی حتیٰ کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا۔ سب جانتے ہیں کہ اگر صورتحال اس کے الٹ ہوتی اور جو قوت اور طاقت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاء کی ہے تمہیں حاصل ہوتی تو اس وقت مجھ پر اور میرے لشکر پر کیا گزرتی لیکن اس فتح کے شکرانے میں جو اللہ تعالیٰ کے فضل و عنایت سے مجھے حاصل ہوئی ہے میں تمہیں اور تمہارے آدمیوں کے ساتھ بھلائی کے سوا کچھ نہ کروں گا اپنے دل کو مطمئن رکھو"۔
سلطان بایزید نے انفعال کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور آیندہ کے لیے اطاعت کا وعدہ کیا تیمور نے اسے خلعت شاہانہ پہنا کر مزید لطف و عنایت کی توقع دلائی اس کی خواہش پر شہزادہ موسیٰ بھی جو قید میں تھا آزاد کر کے اس کے پاس بھیج دیا گیا اور تیمور نے ان کے رہنے کے لیے اپنے خیمے کے قریب عالی شان خیمہ نصب کرایا اور بعض عالی مرتب امراء کو ان کی خدمت میں مامور کیا بورصہ سے جب حرم سلطانی لایا گیا تو تیمور نے شہزادی "ڈسپنا" اور اس کی لڑکی کو بھی بایزید کے پاس بھجوا دیا۔
لیکن یہ تمام مراہم سلطان "بایزید" کے زخمی دل کے لیے نمک کا کام دے رہے تھے اور شاہی خیمہ بھی اس کے لیے قید خانے سے کم نہ تھا اپنی سابق عظمت کی یاد اسے کسی لمحے چین نہیں لینے دے رہی تھی ۔اضطراب یہاں تک بڑھا کے اس نے آخر کار بھاگنے کا عزم کر لیا، لیکن اس کی اس کوشش کی اطلاع تیمور کو مل گئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ اب اس کی نگرانی سختی کے ساتھ کی جانے لگے تاتاری لشکر جب ایک مقام سے دوسرے مقام کو کوچ کرتا تو "تیمور بایزید" کو بھی ساتھ لیتا جاتا۔ لیکن تشہیر سے بچنے کے لیے بایزید ایک پالکی میں سفر کرتا تھا جس پر پردہ پڑا رہتا تھا اس پالکی میں لوہے کی جالی کا کام تھا جس کی بنا پر مشہور ہو گیا کہ تیمور قیدی سلطان کو لوہے کے پنجرے میں بند رکھتا ہے اور جہاں جاتا ہے اپنے ساتھ اس پنجرے کو بھی لے جاتا ہے۔ بہرحال "بایزید" کے قلب و دماغ پر اپنی قید و رسوائی کا اثر اس قدر پڑ چکا تھا، کہ وہ زیادہ دنوں تک اسے برداشت نہ کر سکا اور صرف آٹھ مہینے بعد اس کی روح قفس عنصری اور قفسِ فولادی دونوں سے بیک وقت آزاد ہو گئی تیمور کو جب اس کی اطلاع ملی تو اس کی آنکھوں سے انسو نکل آئے۔ اس فاتح کشور کشا کے لیے بھی جس نے لاکھوں انسانوں کو قتل کرا دیا اور دل میں ذرا سا بھی خوف نہ آیا۔ آلِ عثمان کے اتنے جلیل القدر سلطان کی یہ عبرت انگیز موت ایک دردناک واقعہ تھا۔ تیمور نے موسیٰ کو آزاد کر کے بایزید کی لاش کو شاہانہ احترام کے ساتھ بورصہ روانہ کیا جہاں وہ سابق تاجدارِ عثمانی کے پہلو میں سپرت خاک کر دیا گیا خود تیمور بھی اس کے بعد دو ہی سال زندہ رہا۔
نتیجہ
جنگِ انقرہ نے صرف "بایزید" کی زندگی کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ "سلطنت عثمانیہ" بھی نیست و نابود ہو گئی ہے۔ تیمور نے ان تمام ترک امیروں کو جن کی ریاستیں "سلطنت عثمانیہ" میں شامل کر لی گئی تھیں پھر ان تُرک سرداروں کو واپس کر دیں اور ایشیائے کوچک کا کوئی علاقہ آلِ عثمان کے ہاتھ میں باقی نہ رہا۔
یوں جنگِ انقرہ ایک ایسا فیصلہ کن معرکہ ثابت ہوئی جس نے سلطان بایزید کی زندگی کا خاتمہ کیا اور سلطنتِ عثمانیہ کو زوال کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ تیمور نے ضم شدہ ترک ریاستیں واپس لوٹا دیں اور ایشیائے کوچک میں عثمانی اقتدار عارضی طور پر ختم ہو گیا۔
History In Urdu