یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
سلطان بایزید یلدرم عثمانی تاریخ کے اُن حکمرانوں میں سے تھے جنہوں نے تخت نشینی کے صرف پانچ برس میں وہ فتوحات حاصل کیں جو ان سے پہلے کسی عثمانی سلطان کو نصیب نہ ہوئی تھیں۔ یہ مضمون سلطان بایزید کی ولاچیا کے ساتھ ہونے والی جنگوں، ہنگری کے بادشاہ "سجمنڈ" کی جانب سے قائم کیے گئے صلیبی اتحاد، اور بلقان میں عثمانی پیش قدمی کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
پس منظر: قسطنطنیہ کا محاصرہ اور صلیبی اتحاد
بنو جاندار قبیلے کی فتح کے بعد اب اناطولیہ میں امن و امان قائم ہو چکا تھا، جبکہ 1394 عیسوی کے آخر میں سلطان بایزید یلدرم نے قسطنطنیہ کی ناکہ بندی بھی کر دی تھی۔ اس دوران سلطان بایزید نے کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جن کی وجہ سے ان کے خلاف صلیبی اتحاد قائم ہوا۔ ہنگری کے بادشاہ سجمنڈ نے سلطان بایزید یلدرم کو ٹف ٹائم دیتے ہوئے عثمانیوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے یورپ کی تمام سلطنتوں کو خطوط لکھے اور انہیں صلیبی جنگ کے لیے آمادہ کیا۔
جب سلطان بایزید یلدرم نے 1394 عیسوی میں "قسطنطنیہ" کا محاصرہ کیا ہوا تھا، تو اس دوران ہنگری کے بادشاہ "سجمنڈ" نے "قسطنطنیہ" کو بچانے کے لیے ایک صلیبی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی، جس کے لیے اس نے یورپ کے مختلف بادشاہوں کو خطوط لکھے اور پوپ کو بھی اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ عثمانیوں کے خلاف ایک صلیبی جنگ کا آغاز کرے۔ جلد اس صلیبی اتحاد کی خبر عثمانی دارالحکومت "ادرنے" تک پہنچ گئی۔ سلطان بایزید نے اس محاصرے کے دوران بلقان میں عثمانی قلعوں کی تعمیر جاری رکھی، جبکہ اس دوران اناطولیہ سے بھی نئے ترک فوجیوں کی بھرتی تیزی کے ساتھ جاری تھی۔ ان تیاریوں کے باوجود بھی سلطان بایزید یلدرم غفلت میں بیٹھے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی وہ اس انتظار میں تھے کہ صلیبی لشکر ان کے دروازے پر دستک دے؛ وہ دشمن کی تلوار نکالنے سے پہلے ہی اپنی تلوار سے اس کا سر قلم کر دینا چاہتے تھے۔
جب سلطان بایزید تخت نشین ہوئے تو تخت نشین ہونے کے صرف پانچ سال کے اندر اندر سلطان بایزید یلدرم نے وہ فتوحات حاصل کر لی تھیں، جو ان سے پہلے کسی بھی عثمانی سلطان کو نصیب نہیں ہوئی تھیں۔ تقریباً تمام اناطولیہ فتح ہو چکا تھا، بلقان میں تمام دشمنوں کو زیر کر دیا گیا تھا اور اب قسطنطنیہ کا محاصرہ برابر جاری تھا۔ اس حوالے سے سلطان بایزید یلدرم پہلے عثمانی سلطان تھے جنہوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا تھا۔
ولاچیا کی پہلی مہم اور پہلی شکست
سو اس لیے سلطان بایزید یلدرم نے یوں بیکار رہنے کے بجائے آنے والے صلیبی لشکر کے مقابلے کے لیے اپنی جنگی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے انہوں نے اپنی شمالی سرحدوں کو صلیبی حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے 1394 عیسوی کے موسمِ خزاں میں ولاچیا کے خلاف ایک فوجی مہم شروع کی۔ سلطان کا مقصد دریائے ڈینیوب پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
سو 1394 عیسوی کے برساتی موسم میں سلطان بایزید نے نیکوپولیس کے قریب سے دریائے ڈینیوب کو عبور کیا اور عثمانی فوج نے ولاچیا کے دارالخلافہ ارگس پر قبضہ کرنے کے لیے شمال کا راستہ اختیار کیا۔ عثمانی سلطان بایزید کا خیال تھا کہ اس برساتی موسم میں ولاچیا کے بادشاہ مرچہ اول کے پاس عثمانی سلطان کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ لیکن سلطان کے ابتدائی حملوں کے جواب میں ولاچیہ کے بادشاہ کی طرف سے کوئی بھی جواب نہ آیا۔
لیکن جب سلطان بایزید نے جنگلی علاقوں کے اندرونی حصوں میں مارچ شروع کیا تو اس وقت انہیں مقامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سلطان بایزید یہ تو جانتے تھے کہ عثمانی فوج کے خلاف مقابلے کے لیے نہ تو ولاچیا کے پاس وسائل ہیں اور نہ ہی اتنی زیادہ فوجی طاقت ہے۔ یہ بات تو درست تھی، لیکن ولاچیہ کے بادشاہ نے یہاں میدان میں عثمانیوں کے خلاف لڑنے کے بجائے سلطان بایزید کے خلاف گوریلا کارروائیوں کا آغاز کیا اور یوں جنگل میں پورے ایک ہفتے تک اس نے ہٹ اینڈ رن ٹیکنیک کے مطابق عثمانی فوج کو ہراساں کیا۔ یوں ابتدائی بھاری نقصان اٹھانے کے بعد سلطان بایزید نے عثمانی فوج کو دریائے ارگیز کے قریب اپنا فوجی کیمپ بنانے کا حکم دیا۔
ولاجیا کے بادشاہ نے صرف گوریلا وار پر اکتفا نہ کیا، بلکہ اس نے 10 اکتوبر 1394 عیسوی کی رات کو جب عثمانی سپاہی گہری نیند سوئے ہوئے تھے تو اچانک گھات لگا کر حملہ کر دیا۔ دشمن کا یہ حملہ بالکل غیر متوقع اور ناقابلِ یقین تھا۔ سلطان بایزید خود بھی مرچہ کے اس حملے سے بے حد حیران ہوئے۔ ولاچین فوج کے اس اچانک حملے سے عثمانی بوکھلا اٹھے اور کئی بار خود عثمانی سلطان بایزید کی جان کو سخت ترین خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ کیونکہ ساری رات عثمانیوں اور ولاجیوں کے درمیان جنگ ہوتی رہی اور اگلے دن کی صبح کو جب سلطان نے دیکھا کہ عثمانی فوج ایک نازک ترین صورتحال میں ہے اور ہزاروں عثمانی سپاہی اس حملے میں مارے جا چکے ہیں تو سلطان بایزید نے اپنی فوج کو جمع ہونے کا حکم دیا اور شکست کے بعد انہوں نے دریائے ڈینیوب کو عبور کیا اور واپس عثمانی علاقوں میں چلے آئے۔ یہاں پہلی بار سلطان بایزید یلدرم، جنہیں دا تھنڈر بولٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو جنگ میں شکست ہوئی تھی۔
ولاچیا پر دوبارہ حملہ اور روائن کی جنگ
اس ابتدائی شکست کے باوجود سلطان بایزید نے 1395 عیسوی کے موسمِ بہار کے دوران ولاچیا پر دوبارہ حملے کی تیاری شروع کر دی۔ اس دوران ولاچیا کے بادشاہ میر چا نے آنے والی صلیبی جنگ کے لیے ہنگری کے بادشاہ سجمنڈ کے ساتھ باضابطہ طور پر اتحاد کرنے کے لیے ٹرانسلوینیا کا سفر کیا تھا۔ اس بار سلطان بایزید نے ولاچیہ پر حملے کے لیے بلقان میں موجود عیسائی باج گزاروں کو اپنی فوجوں کے ساتھ "تارنوا" میں جمع ہونے کا حکم دیا، اور سوائے سربیہ کے رئیس "وک برینکوویچ" کے تمام نے عثمانی سلطان کے حکم پر اپنے فوجی دستوں کے ساتھ سلطان بایزید کے پاس جمع ہو گئے۔ وک برینکوویچ نے کھلم کھلا سلطان بایزید کے حکم کی نافرمانی کی تھی اور اس نے بایزید کو فوج بھیجنے سے صاف انکار کر دیا تھا، تاہم عثمانی سلطان نے اس وقت اس کے خلاف کوئی اقدام نہ اٹھایا اور وہ اپنی جنگی مصروفیات میں مصروف رہے۔
اس بار عثمانی سلطان بایزید نے ولاچیا پر حملے کے لیے مغرب سے اپنے ایک باج گزار ملک وڈن کے ذریعے حملہ کیا۔ اس پیش قدمی کے دوران ایک بار پھر ولاچیا کی فوج نے گوریلا وار شروع کی، جب عثمانی فوج ولاچیہ کے دارالحکومت "آرگیز" کی جانب مارچ کر رہی تھی۔ لیکن شاید اس بار گوریلا مہم کے اثرات پہلے کی طرح نہ تھے، کیونکہ اب کی بار عثمانی اور ولاجین فوجوں نے آمنے سامنے ہونا تھا اور اس کے لیے ولاچیہ کے بادشاہ میرچا نے ایک زبردست فوج تیار کی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے ولاجیا کے تمام علاقوں کے افراد کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار جمع کریں اور مسلمان حملہ آوروں سے اپنے وطن کا دفاع کرنے کے لیے اس عظیم مقصد میں شامل ہو جائیں۔ دشمن نے بہت سی بستیوں کو خود تباہ کر دیا اور انہوں نے اپنی فصلیں جو کہ عثمانی فوج کے لیے استعمال ہو سکتی تھیں، انہیں جلا دیا۔ جب عثمانی فوج نے شمال کی جانب اپنا راستہ اختیار کیا تو سلطان نے راستے میں بہت سے قلعوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ولاچیا کے دارالحکومت کے قریب ایک میدان میں میرچا اول کے سامنے نمودار ہوئے۔ لیکن اب کی بار بھی ولاچین بادشاہ میرچاہ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ عثمانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اپنے دارالحکومت کے جنوب میں دلدلی علاقوں میں اپنی فوج کو تعینات کر دیا تھا۔
جیسے ہی سلطان بایزید نے اپنی فوج کو میدانِ جنگ میں تعینات کیا تو سلطان کو اندازہ ہوا کہ یہ میدان عثمانیوں کے لیے کس قدر خطرناک ہے، کیونکہ دلدلی علاقہ ہونے کی وجہ سے سلطان کے گھڑسوار دستے یہاں بالکل بیکار تھے۔ لیکن اب عثمانی فوجیں میدانِ جنگ میں ایک آخری معرکے کے لیے موجود تھیں۔ سلطان بایزید نے اپنے مرکزی پیدل دستے کو حملے کا حکم دیا اور ایک گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی جو تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہی۔ عثمانیوں کی سر توڑ کوشش کے باوجود وہ ولاچیا کے چند پیدل دستوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہ کر سکے، بلکہ اس دوران بے شمار عثمانی سپاہی ولاچیہ کے تیروں کا نشانہ بنتے ہوئے میدانِ جنگ میں شہید ہو گئے۔ جبکہ ایک موقع پر مزاحمت کرتے ہوئے دو پیادہ دستے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے سلطان نے اپنے اتحادیوں کو بھی جنگ میں اترنے کا حکم دیا اور عیسائی اتحادیوں نے سلطان کی طرف سے دشمن پر حملہ کر دیا۔ لیکن میدان پورے کا پورا ولاچین فوج کے حق میں تھا، کیونکہ ولاچین فوجوں نے اپنے بادشاہ کے حکم پر عثمانیوں کے لشکر کے مقابلے کے لیے اپنے علاقوں میں خندقیں کھودنا شروع کر دی تھیں۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عثمانیوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی تھیں اور یوں عثمانی فوج کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی، کیونکہ عثمانی لاشیں روائن کے دلدلی علاقوں میں چاروں اطراف بکھری ہوئی تھیں۔ جبکہ اس سے بھی عجیب بات یہ ہوئی کہ اس دوران سلطان بایزید کے یورپین جاگیردار، جو کہ سلطان کے حکم پر اس جنگ میں آئے تھے، ان میں سے دو ولاچین فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ یوں اب سلطان بایزید نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس دلدلی علاقے میں دشمن کے ساتھ لڑنا بے وقوفی اور بے سود ہے۔ اس لیے مزید نقصانات سے بچنے کے لیے سلطان نے میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور یوں ایک بار پھر ولاچیہ کے خلاف سلطان بایزید کی مہم ترک کر دی گئی۔ روائن کی جنگ میں عثمانیوں کو بری طرح شکست ہوئی، جبکہ ولاچین بادشاہ مرچا اول کو ایک شاندار فتح حاصل ہوئی تھی۔
تاہم روائن کی جنگ میں شکست کے بعد عثمانیوں کے لیے سب کچھ ختم نہیں ہو گیا تھا۔ جنگ کے بعد کے مہینوں میں ولاچین بادشاہ میرچا اول کی مقبولیت تیزی کے ساتھ کم ہوتی چلی گئی، کیونکہ عثمانیوں کے خلاف اس کی طویل جدوجہد نے ملکی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور عوام اس کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اس دوران اس کے ایک درباری حریف ولیڈ اول نے اسے معزول کر دیا، جبکہ میرچا اول ہنگری میں سجمنڈ کے پاس چلا گیا۔
ادھر ولاچیا کے نئے حکمران ولیڈ اول نے سلطان بایزید کی اطاعت کو قبول کرتے ہوئے ولاچیا کو صلیبی اتحاد سے الگ کر کے سالانہ خراج سلطان بایزید کو دینا شروع کر دیا۔ اگرچہ میدانِ جنگ میں سلطان بایزید ناکام رہے، لیکن سفارت کاری کے ذریعے انہوں نے ولاچیا کو سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا تھا۔ اس بہترین حکمتِ عملی سے سلطان نے نہ صرف ولاچیہ کو اپنی سلطنت میں شامل کیا بلکہ اپنی شمالی سرحد کو بھی محفوظ کر لیا تھا۔ اب عثمانی سلطان نے اپنی نظریں بلقان کی جانب پھیر لیں، کیونکہ سلطان صلیبی جنگ سے پہلے اس خطے میں موجود اپنے تمام دشمنوں کو کچلنا چاہتے تھے۔
نیکوپولس اور بلقان میں عثمانی پیش قدمی
یوں دریائے ڈینیوب کو عبور کرنے کے بعد عثمانی فوجوں نے سلطان بایزید کے حکم پر "نیکوپولس" کے قلعے کا محاصرہ کر لیا، جو کہ ابھی تک زار ایوان شیشمان کے پاس تھا۔ سلطان مراد اول کے دور میں کئی عثمانی فوجوں نے اس قلعے کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ تاہم اب کی بار عثمانیوں کے پاس محاصرے کے لیے زیادہ وسائل تھے اور یوں کچھ ہی مزاحمت کے بعد نیکوپولس نے سلطان بایزید کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور یوں بلغاریہ کا یہ اہم ترین قلعہ عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ محاصرے کے فوراً بعد بلغاریہ کے زار ایوان شیشمان کو سلطان نے قید کر لیا اور پھر بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔
ایوان شیشمان کی سلطنت کو ختم کرنے کے بعد عثمانی سلطان نے اپنے سربیہ کے علاقوں کی جنوب کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ کیونکہ روائن کی جنگ میں مارے جانے والے دو سربیائی حکمرانوں کی کوئی اولاد نہیں تھی، اس لیے سلطان نے پہلے ان دونوں کی ریاستوں کو اپنی سلطنت میں شامل کیا اور اس کے بعد اب وہ وک برینکوویچ کی باری تھی، جس نے روائن کی جنگ میں عثمانی سلطان کو فوج دینے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ وہ خود بھی سلطان کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ جلد برینکوویچ کو شکست ہوئی اور اسے سلطان بایزید کے حکم پر پکڑ کر قید میں ڈال دیا گیا، جبکہ اس کے علاقے کو بھی عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ یوں عثمانی قید خانے میں دو سال گزارنے کے بعد وک برینکوویچ قدرتی وجوہات کی بنا پر انتقال کر گیا۔
یوں 1395 عیسوی کا سال سلطان بایزید یلدرم کے لیے کافی مہربان سال رہا، اور صلیبی جنگ کے شروع ہونے سے تقریباً 12 ماہ پہلے عیسائیوں نے دیکھا کہ عثمانی سلطان بایزید نے کس طرح بلقان میں اپنی طاقت کو مضبوط کیا۔ یوں اب عثمانی سلطان ڈینیوب عبور کرنے والے بڑے شہروں ورڈن، نیکوپولیس اور سلسٹریا کو کنٹرول کر رہے تھے۔ ولاچیا نے صلیبی اتحاد سے خود کو الگ کرتے ہوئے عثمانی اتحادی بن چکا تھا۔
تاہم ان تمام فتوحات کے بعد اگلے سال یعنی کہ 1396 عیسوی کو سلطان بایزید کو اپنے سب سے بڑے دشمن کا سامنا کرنا تھا، کیونکہ عثمانیوں کے یورپ میں بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے پورا یورپ عثمانیوں کے خلاف متحد ہو کر نکل پڑا تھا۔ یہاں تک کہ ان عیسائیوں نے آپسی اختلافات کو بھلا کر عثمانیوں کو یورپ سے نکالنے کے لیے قسم کھائی ہوئی تھی، اور یوں عثمانیوں اور صلیبیوں کے درمیان نائیکوپولس کا معرکہ پیش آیا، جس نے یورپ کی رہی سہی امید کو بھی پانی میں ملا دیا اور عثمانیوں کے لیے یورپ کے مزید دروازے کھول دیے۔
نتیجہ
ولاچیا کے خلاف سلطان بایزید یلدرم کو میدانِ جنگ میں دو بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے سفارت کاری کے ذریعے ولاچیا کو سلطنتِ عثمانیہ کا اتحادی بنا کر اپنی شمالی سرحد محفوظ کر لی۔ نیکوپولس، ورڈن اور سلسٹریا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عثمانی طاقت بلقان میں مزید مضبوط ہو گئی، اور اگلے ہی برس عثمانیوں کو نائیکوپولس کے تاریخی معرکے میں پورے یورپ کے متحدہ صلیبی لشکر کا سامنا کرنا تھا۔
History In Urdu