Sultan Ahmed I: 14th Ottoman Sultan (1603–1617)

Sultan Ahmed I: 14th Ottoman Sultan (1603–1617)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سولہویں صدی عثمانیوں کے عروج کی آخری صدی تھی۔ اسی دوران عثمانی تخت پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہوا جو تاریخِ آلِ عثمان کا سب سے کم عمر سلطان تھا۔ اسی سلطان کے دورِ حکومت میں یورپ سے ایک ایسا معاہدہ ہوا جس سے عثمانیوں کا رعب اور دبدبہ جاتا رہا اور سلطنت عروج سے زوال کی طرف چلنا شروع ہو گئی۔ مشرق میں ایران کی شیعہ صفوی سلطنت کے حملے، اناطولیہ میں جلالی بغاوتیں اور یورپ کے ساتھ طویل ترین جنگ — اس تحریر میں دیکھا جائے گا کہ سلطان احمد اول نے کم عمری میں ان تمام چیلنجوں کا کس طرح مقابلہ کیا۔

تخت نشینی اور ابتدائی حالات

سلطان محمد ثالث کی وفات کے بعد ان کا بیٹا احمد اول 14 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ سلطان احمد اول 18 اپریل 1590ء کو “ساروہان” صوبے میں پیدا ہوئے۔ اس وقت “ساروہان” صوبے کی گورنری ان کے والد محمد ثالث کے پاس تھی۔ جب احمد اول کے دادا سلطان مراد سوم کا انتقال ہوا تو وہ اپنے والد “محمد ثالث” کے ساتھ استنبول چلے آئے۔ احمد اول اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان سے بڑے تین بھائی تھے، جن میں سلیم، جہانگیر اور محمود تھے۔ یوں ان کا تخت پر بیٹھنے کا امکان بہت کم تھا۔ لیکن شہزادہ سلیم اور شہزادہ جہانگیر کی کم عمری میں موت کے بعد شہزادہ محمود اپنے والد کی زندگی میں تخت پر بیٹھنے کی سازش کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ یوں ان کی تخت نشینی کی راہ ہموار ہو گئی۔ 6 ماہ بعد سلطان محمد ثالث کا انتقال ہو گیا اور 21 دسمبر 1603ء کو عثمانی سلطنت پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہوا جو تاریخِ آلِ عثمان کا پہلا کم عمر ترین سلطان تھا۔ جب سلطان احمد تخت نشین ہوئے تو ان کی عمر محض 13 سال تھی۔

شروع میں سلطان احمد اول نے انتظامِ سلطنت میں جس قوت اور استقلال کا ثبوت دیا اس سے توقع کی جاتی تھی کہ ان کا عہدِ حکومت پچھلے عہد کے مقابلے میں زیادہ کامیاب اور شاندار ثابت ہو گا۔ مثال کے طور پر جب صدرِ اعظم، جو کہ ہنگری کی جدید مہم پر مامور کیا گیا تھا، نے ایک کثیر رقم کا مطالبہ کیا اور اس کے پورا نہ ہونے تک آگے قدم بڑھانے سے انکار کر دیا، تو احمد نے اس کے مطالبے کے جواب میں صرف یہ پیغام بھیجا کہ “اگر تم کو اپنا سر عزیز ہے تو فوراً روانہ ہو جاؤ۔” صدرِ اعظم کو اس حکم کی تعمیل بے چوں و چرا کرنی پڑی۔

حرم اور انتظامی معاملات

سلطان سلیم ثانی کے زمانے سے حرم کو امورِ سلطنت میں بہت کچھ دخل حاصل ہو چکا تھا اور مراد ثالث اور محمد ثالث کے عہد میں عنانِ حکومت زیادہ تر خواتینِ حرم ہی کے ہاتھ میں تھی۔ ان میں سب سے زیادہ اثر سلطانہ صفیہ کا تھا، جو مراد ثالث کی محبوبہ سلطانہ اور محمد ثالث کی والدہ تھی۔ سلطان احمد نے باوجود نو عمری کے، سلطانہ صفیہ اور اس کے حواریوں کو سلطنت کے معاملات میں دخل دینے سے روک دیا۔ محمد ثالث کے دورِ حکومت کے آخری وزیرِ اعظم “حسن پاشا” کی جگہ مصر کے گورنر ملکوچ اوغلو “علی پاشا” کو وزیرِ اعظم بنایا گیا۔

صفویوں سے جنگ کا آغاز

سلطان مراد سوم کے دور میں “عثمان پاشا” اور قبرص کے فاتح لالہ مصطفیٰ پاشا کی قیادت میں آذربائجان اور قفقاز کی فتوحات کے بعد صفویوں سے صلح ہو گئی تھی اور گزشتہ 13 سالوں سے ان علاقوں میں امن تھا، لیکن یہ امن اب زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ کیونکہ صفوی بادشاہ “شاہ عباس” پوپ، مقدس رومی سلطنت، جرمنی کے شہنشاہ اور اسپین کے بادشاہ کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد عثمانیوں کے خلاف ایک اتحاد بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اناطولیہ میں بھی جلالی بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ جلالی نام اصل میں ایک باغی سردار “شیخ جلال” سے منسوب ہے جو سولہویں صدی کے اوائل میں ایک مقامی بغاوت کی قیادت کر رہا تھا۔ بعد میں ہر قسم کے دیہی اور فوجی باغیوں کو جلالی کہنا رائج ہو گیا۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر عثمانی فوج کو صفوی سرحد کے کچھ شہروں اور قلعوں میں موجود افواج کو اناطولیہ میں ان بغاوتوں کو کچلنے کے لیے منتقل کرنا پڑا۔ شاہ عباس اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ بالآخر صفوی شہنشاہ عباس نے عیسائی ریاستوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے، جبکہ سلطان محمد ثالث ابھی زندہ تھے، حملہ کر کے عثمانیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے 22 دن کے طویل محاصرے کے بعد تبریز، جو کہ صفویوں کا دارالحکومت تھا، عثمانیوں سے واپس لے لیا۔ یوں عثمانیوں کا تبریز پر 18 سالہ طویل قبضہ ختم ہو گیا۔ شاہ عباس عثمانی افواج کے آنے سے پہلے عثمانیوں کو آذربائجان اور قفقاز سے نکالنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی فوج کو “آراس” کے شمال میں لے جا کر 26 اکتوبر 1603ء کو “نخچیوان” صوبے پر قبضہ کر لیا۔ “آراس” دراصل دریائے “آراس” کو کہا جاتا ہے، جو کہ جنوبی قفقاز کا ایک اہم دریا ہے۔ یہ دریا موجودہ ترکی، آذربائجان، آرمینیا اور ایران کے درمیان سرحدی حدود کا کام بھی دیتا ہے۔ عثمانی اور صفوی جنگوں میں یہ دریا اکثر جغرافیائی اور اسٹریٹجیک حد کے طور پر آتا ہے۔

“نخچیوان” کے بعد اب اس کا اگلا ہدف “ایریوان” تھا۔ یہاں چھ ماہ 23 دن کے سخت ترین محاصرے کے بعد ایریوان پر بھی 8 جون 1604ء کو صفویوں کا قبضہ ہو گیا۔ شاہ عباس نے ایریوان کی فتح کے بعد “کارص” کی طرف پیش قدمی کی۔ “کارص” ایک تاریخی شہر ہے جو موجودہ مشرقی ترکی میں واقع ہے۔ یہ شہر صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کا مرکز رہا ہے اور عثمانی صفوی جنگوں اور قفقاز کے تنازعات میں اس کا ایک خاص اسٹریٹیجک مقام رہا ہے۔ شاہ عباس نے اس شہر کو فتح کرنے کی کوشش کی، لیکن یہاں عثمانی افواج کی سخت ترین مزاحمت کے بعد وہ واپس تبریز چلا گیا۔

صفویوں کے ابتدائی حملوں کی روک تھام کے لیے سلطان احمد اول نے 15 جون 1604ء کو سنان پاشا کو صفویوں کے خلاف ایک فوج دے کر استنبول سے روانہ کیا۔ 8 نومبر 1604ء کو “سنان پاشا” “کارص” پہنچے، لیکن موسمِ سرما کی شدت کی وجہ سے وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ یہاں سردیاں گزارنے کے بعد انہوں نے بہار کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔ سنان پاشا آذربائجان پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور وہ شاہ عباس کے زیرِ کمان 50 ہزار سپاہیوں پر مشتمل صفوی فوج کے مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ 19 ستمبر 1605ء کو صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان “اُرمیہ” کی ایک تاریخی جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں عثمانی فوج، جس کی قیادت اس وقت سنان پاشا کے ہاتھ میں تھی، مشرقی آذربائجان کے اندر پیش قدمی کر رہی تھی۔ شاہ عباس اول نے اپنی تربیت یافتہ فوج کے ساتھ عثمانیوں پر اچانک حملہ کر دیا۔ صفویوں کی حکمتِ عملی بہت مؤثر رہی، خاص طور پر ان کی تیز نقل و حرکت اور مقامی جغرافیہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایک خونریز جنگ کے بعد عثمانی افواج کو بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد صفویوں نے آذربائجان کے بڑے حصے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ یوں یہ جنگ شاہ عباس کی مسلسل فتوحات کا تسلسل تھی، جس نے عثمانی اثر و رسوخ کو مشرقی قفقاز اور شمالی ایران میں کمزور کر دیا تھا۔ اس شکست کے بعد سنان پاشا دیار بکر واپس چلے گئے اور کچھ وقت بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اُرمیہ کی جنگ عثمانیوں کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ثابت ہوئی۔

شاہ عباس عثمانی سرحد پر برابر حملے کیے جا رہا تھا۔ سب سے پہلے وہ گنجہ کی طرف بڑھا اور 6 جولائی 1606ء کو اس نے گنجہ پر قبضہ کر لیا۔ 27 مئی 1607ء کو “شماہی” بھی صفویوں کے ہاتھ چلا گیا۔ شماہی دراصل قفقاز کے علاقے میں واقع ایک اسٹریٹیجک شہر ہے، جو آج کے آذربائجان میں شامل ہے، کیونکہ یہ قفقاز کے راستے ایران اور اناطولیہ کے درمیان رابطے کا ایک اہم قلعہ تھا۔ یوں اس شہر کے ہاتھ سے نکلنے کا مطلب تھا کہ عثمانی سلطنت قفقاز میں دفاعی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ یہ فتح صفوی سلطنت کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔ شماہی کا سقوط 1612ء میں ہونے والے معاہدہ نصوح پاشا (ٹریٹی آف نصوح پاشا) کی راہ ہموار کرنے والے اہم واقعات میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد شاہ عباس نے مزید پیش قدمی نہ کی اور جنگ کسی حد تک رک گئی۔

آسٹریا سے جنگ اور معاہدۂ سیتواتوروک

ادھر یورپ میں سلطنتِ عثمانیہ کی مغربی سرحد پر ترکوں کی آسٹریا کے ساتھ جنگ کئی سالوں سے جاری تھی۔ آسٹریا کے ساتھ جنگ دراصل سلطان احمد کے دادا سلطان مراد ثالث کے دور میں شروع ہوئی تھی اور یہ جنگ سلطان محمد کے دور تک جاری رہی۔ ایک مدت تک جنگ میں وقفہ آیا اور صلح کی بات چیت شروع ہوئی، لیکن وہ مذاکرات ناکام رہے اور جنگ جوں کی توں جاری رہی۔ اسی دوران آسٹریا نے عثمانیوں سے استرگان قلعہ چھین لیا تھا، تاہم عثمانیوں نے آسٹریا سے “نیرا” اور “یوار” قلعے فتح کر لیے۔

اس دوران ملکوچ اوغلو علی پاشا نے آسٹریا کے محاذ کی سرداری اپنے ذمے لے لی۔ 3 جون 1604ء کو وہ لشکر لے کر استنبول سے روانہ ہوئے۔ علی پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ جلد بلغراد پہنچے، لیکن 26 جولائی 1604ء کو علی پاشا بلغراد میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد لالہ محمد پاشا وزیر مقرر ہوا اور اس نے آسٹریا کے محاذ کی سرداری سنبھال لی۔ لالہ محمد پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ “بدین” پہنچا، وہاں جنگی کونسل منعقد کر کے محمد پاشا نے استرگون کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں 31 دن تک استرگون کا محاصرہ کیا گیا، مگر قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ لہٰذا محمد پاشا نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور کچھ وقت بلغراد میں قیام کے بعد وہ 9 فروری 1605ء کو استنبول واپس چلے گئے۔ سلطان احمد نے استرگون قلعے کو ہر صورت میں یورپیوں سے واپس لینے کا حکم دیا، کیونکہ یہ قلعہ سلطان سلیمان القانونی کی یادگار تھا۔ اس پر 16 مئی 1605ء کو محمد پاشا استنبول سے روانہ ہوا اور 29 اگست کو استرگون کا دوبارہ محاصرہ کر لیا گیا۔ یہ محاصرہ 35 دن تک جاری رہا اور آخر کار اس بار استرگون قلعہ فتح ہو گیا۔ 13 اکتوبر 1605ء کو لالہ محمد پاشا استرگون میں داخل ہوا۔ اس کے جواب میں آسٹریا نے “یوار” قلعہ عثمانیوں سے چھین لیا، تاہم ابراہیم پاشا نے یوار قلعہ دوبارہ فتح کر لیا اور وہاں کا بیلر بے بن گیا۔ یہی ابراہیم پاشا 20 ہزار اکنجی گھڑ سواروں کے ساتھ آسٹریا کے سرحدی علاقوں میں گھستا چلا گیا اور اس نے “جم بیتلی” کو فتح کیا۔ اس فتح کے دوران کئی شہروں میں اکنجی گھڑ سوار دستوں نے خوب لوٹ مار مچائی۔ محمد پاشا عثمانی لشکر کے ساتھ مجارستان کے شمال کی طرف بڑھا اور یہاں سے فوجی کارروائی مکمل کرنے کے بعد 20 نومبر 1606ء کو وہ اپنے اکنجی گھڑ سوار دستوں کے ساتھ استنبول واپس لوٹا۔

اگلے سال دوبارہ مہم پر نکلنے کے لیے لالہ شاہین پاشا استنبول سے روانہ ہونے ہی والے تھے کہ وہ اچانک وفات پا گئے۔ جب آسٹریا کو خبر ملی کہ ایک نئی فوج ان سے جنگ کرنے کے لیے دارالحکومت سے روانہ ہونے والی ہے تو انہوں نے باقاعدہ صلح کی سلطان سے درخواست کی اور اپنے سفیر استنبول بھیجے۔ یہاں عثمانیوں اور آسٹریائیوں کے درمیان 13 سال 4 ماہ طویل جنگ کے بعد 11 نومبر 1606ء کو صلح نامہ “سیتواتوروک” پر دستخط ہوئے۔ اس کی رو سے فریقین کے مقبوضات میں کوئی اہم تبدیلی واقع نہ ہوئی؛ گران، ایرلا اور گراڈسکا کے قلعے عثمانیوں کے قبضے میں رہے اور آب اور کومورن پر آسٹریا کا قبضہ قائم رہا۔ ٹرانسلوانیا بھی صلح نامے میں بطور ایک فریق شریک کیا گیا اور یہ صوبہ ایک حد تک سلطنتِ عثمانیہ کی محکومی سے آزاد ہو گیا۔ 30 ہزار دوکان سالانہ کی رقم جو آسٹریا بطور خراج دولتِ عثمانیہ کو ادا کرتا تھا ختم کر دی گئی اور اس کے معاوضے میں سلطنتِ عثمانیہ نے 2 لاکھ دوکان یک مشت قبول کر لیے۔ لیکن اس صلح نامے کی اصل اہمیت وہ تبدیلی ہے جو اس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کی عیسائی حکومتوں کے سفارتی تعلقات میں واقع ہوئی۔ اب تک عیسائی حکومتوں سے جو صلح نامے ہوتے تھے ان کی عبارت سے ظاہر ہوتا تھا کہ صلح سلطان کی طرف سے عطا کی جا رہی ہے، لیکن “سیتواتوروک” کے صلح نامے میں سلطنتِ عثمانیہ نے بین الاقوامی قانون کے اصول و آداب کا لحاظ رکھا؛ نیز شاہِ آسٹریا کو حکمرانِ ویانا کے بجائے شہنشاہ لکھنا منظور کیا۔ اب تک سلطان کی طرف سے جو سفراء ویانا بھیجے جاتے تھے وہ سلطنتِ عثمانیہ کے ادنیٰ ملازمین میں سے منتخب کیے جاتے تھے؛ اس صلح نامے کے بعد یہ طے پایا کہ سفراء کم از کم سنجک بے کے مرتبے کے ہوں گے۔

معاہدے کے اثرات اور زوال کی ابتدا

“سیتواتوروک” نے واضح کر دیا کہ سلطنتِ عثمانیہ کے عروج کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب وہ زوال و انحطاط کی جانب مائل ہو گئی ہے۔ سترہویں صدی کا ابتدائی زمانہ اس کے لیے نہایت خطرناک تھا۔ سلاطین عموماً کمزور تھے اور سلطنتِ آسٹریا روز بروز زیادہ طاقت حاصل کرتی جا رہی تھی۔ لیکن 1618ء میں جرمنی میں وہ عظیم الشان مذہبی جنگ چھڑ گئی جس کا سلسلہ تین سال تک قائم رہا اور جس نے سلطنتِ آسٹریا کو ترکوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے آپس میں مصروف رکھا۔

غرض سترہویں صدی کے ابتدائی 30 سالوں میں، جو سلطنتِ عثمانیہ کے لیے نہایت نازک اور تشویش ناک تھے، یورپ کی کوئی بڑی حکومت اس قابل نہ تھی کہ ترکوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس زمانے میں ترکوں کے خاص دشمن پولینڈ اور وینس تھے؛ پولینڈ اپنے خانگی انتشار کے باعث کوئی نمایاں فتح حاصل نہ کر سکا اور وینس کبھی اس قابل نہ تھا کہ تنہا سلطنتِ عثمانیہ کا مقابلہ کر سکے۔ سلطنتِ عثمانیہ اپنے عروج کے دور میں تجارتی راستوں پر قبضہ کر کے اپنی ایک بڑی آمدنی حاصل کر چکی تھی، مگر صفویوں کے ابھرنے سے اور پرتگالیوں کے افریقہ کے گرد گھوم کر نئے تجارتی راستے دریافت کرنے سے عثمانی سلطنت کی آمدنی کے ذرائع کو شدید نقصان پہنچا۔

معاشی بحران اور تیمار نظام

ان تمام وجوہات کی بنا پر جب ریاست کی آمدنی کم ہونے لگی تو ٹیکس میں اضافہ کرنا سلطان کے لیے ناگزیر ہو گیا۔ دوسری جانب یورپی ریاستوں کے طاقتور ہونے سے فتوحات اب پہلے جیسی کامیاب نہیں رہی تھیں اور سلطنت کو ان فتوحات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی محروم ہونا پڑا۔ عثمانی سلطنت “تیمار نظام” کے ذریعے انتظامی، عسکری، معاشی اور سماجی نظم و ضبط کو قائم رکھتی تھی۔ تیمار ایک قسم کی زمین یا آمدنی کا ٹکڑا تھا، جو عثمانی ریاست اپنے وفادار فوجی افسران اور سوار سپاہیوں کو دیا کرتی تھی۔ یہ نظام خاص طور پر سلجوقی اور اسلامی ریاستوں کے پرانے نظاموں سے متاثر تھا اور چودھویں صدی میں سلطنت کے ابتدائی ادوار سے شروع ہوا تھا۔ پیداوار، قیمتوں کا تعین، ٹیکس اور اخراجات جیسے معاملات دیہی نمائندوں کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے۔ جب سلطنت کی آمدن کم ہونے لگی اور عوام پر مزید ٹیکس لگائے گئے، تو انہوں نے دارالحکومت میں بھی بغاوتیں کھڑی کر دیں۔ وہ سپاہی اور فوجی افسر جنہیں یہ زمینیں دی گئی تھیں انہوں نے پرانے عثمانی سپاہیوں کو حکومت کے خلاف کھڑا کر دیا۔ انہی وجوہات کی بنا پر جلالی، جو سلطان سلیم اول کے دور سے اناطولیہ کے لیے مصیبت بنے ہوئے تھے، انہوں نے ان معاشی بحرانوں کو موقعِ غنیمت جان کر عوام کو بغاوت پر اکسایا۔

جلالی بغاوتیں

جلالی بغاوتیں دراصل ایک سلسلہ وار عوامی اور فوجی بغاوتیں تھیں جو سلطنتِ عثمانیہ میں خاص طور پر اناطولیہ کے علاقے میں ہوئیں۔ یہ بغاوتیں سلطان سلیم کے دور سے شروع ہوئیں اور سولہویں صدی تک وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ جلالی دراصل کسی خاص قبیلے یا قوم کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ان باغیوں، سابق فوجیوں، مقامی سرداروں اور دیہاتیوں کو کہا جاتا تھا جنہوں نے عثمانی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ ان کا نام پہلے ایک بغاوت کرنے والے شیخ جلال سے منسوب ہوا اور بعد میں یہ نام ہر قسم کی دیہی بغاوت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ان بغاوتوں کو سب سے زیادہ مدد کئی سالوں تک صفویوں سے ملی۔

1600ء کی دہائی کے آغاز میں عثمانی سلطنت کو اناطولیہ کے اہم علاقوں میں شدید داخلی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں “مَراش اور سیواس” جیسے علاقے سرِ فہرست تھے۔ ان علاقوں میں ہونے والی بغاوتیں جلالی فتنوں کا ہی تسلسل تھیں، جو عثمانی ریاست کی اندرونی کمزوریوں، بد انتظامی اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ہیں۔ 1601ء میں اس بغاوت کو کچل دیا گیا۔ عثمانی سلطان نے جلالی بغاوتوں کو ختم کرنے کے لیے بغاوت کے سربراہوں سے معاہدے کیے اور ان میں سے اکثر کو رومیلیا اور یورپی علاقوں میں صوبے دار جیسے عہدے دیے، مگر اس سے بغاوت کرنے والے اور زیادہ حوصلہ پکڑنے لگے۔ پھر 1590ء سے 1607ء کے درمیان اناطولیہ میں کئی بڑی بغاوتیں پھوٹ پڑیں، جنہوں نے عثمانی سلطنت کو سخت چیلنج دیا۔ ان بغاوتوں میں “قلندر اوغلو” اور “تحویل احمد” جیسے بااثر رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے عوام میں سلطنت کے خلاف غصے کو مزید بھڑکایا اور بغاوت کو وسعت دی۔

اناطولیہ کے دیہاتیوں نے اپنے گھر بار چھوڑنے شروع کر دیے۔ یورپ میں آسٹریا کے ساتھ صلح کے بعد اب سلطان اپنی مغربی سرحدوں سے مطمئن ہو گئے تھے، یوں انہوں نے اپنی تمام تر توجہ جلالی بغاوتوں اور صفویوں کے ساتھ جاری جنگ پر مرکوز کر دی۔ 11 دسمبر 1606ء کو مراد پاشا کو وزیرِ اعظم کی مہر سونپی گئی۔ نئے عثمانی وزیرِ اعظم مراد پاشا کو “کویوجو” کہنے کی دراصل وجہ یہ تھی کہ 1558ء میں صفویوں کے خلاف تبریز میں مہم کے دوران وہ اندھیرے میں ایک کنویں میں گر کر قید ہو گئے تھے اور 1590ء کے ایک معاہدے کے بعد انہیں رہائی ملی تھی۔

اس دوران جلالی بغاوتیں بہت شدت اختیار کر چکی تھیں۔ مراد پاشا نے سب سے پہلے باغی سردار “علی” کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا؛ ان کے ساتھ 80 سالہ تجربہ کار حسن پاشا بھی موجود تھے۔ حسن پاشا نے راستے میں آنے والی بغاوتوں کو ایک ایک کر کے کامیابی کے ساتھ کچل دیا۔ انہوں نے قلندر اوغلو سے جنگ کیے بغیر صلح کر لی اور اسے انقرہ کی صوبے داری دے دی، پھر انہوں نے “علی” سردار پر چڑھائی کی۔ 23 اکتوبر 1607ء کو ہونے والی جنگ میں باغی فوج شکست کھا گئی، جبکہ جمبولا تو اوغلو حلب فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ مراد پاشا نے بھاگنے والوں کا پیچھا کیا۔ اگرچہ “علیمدار اوغلو” کو انقرہ کی صوبے داری دے دی گئی تھی، پھر بھی وہ بغاوت کرتا رہا۔ 1608ء میں قلندر اوغلو کی فوجیں شکست کھا گئیں۔

صفویوں سے صلح

اس کے بعد سلطان نے مراد پاشا کو واپس استنبول بلایا، جہاں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس کے بعد سلطان احمد صفویوں پر لشکر کشی کرنا چاہتے تھے۔ مراد پاشا صفویوں کے خلاف لشکر کشی کے لیے استنبول سے روانہ ہوئے۔ جب وہ ارزروم پہنچے تو شاہ عباس نے قیمتی تحائف کے ساتھ اپنے سفیر بھیجے۔ اس نے قانونی سلطان سلیمان کے دور میں طے شدہ “اماسیہ” معاہدے کی تجدید کا مطالبہ کیا۔ مراد پاشا نے انکار کر دیا۔ شاہ عباس کے پیغام پر مراد پاشا نے فوجی پیش قدمی شروع کر دی۔ 15 دن اور 5 راتوں تک دونوں لشکروں میں زبردست جنگ ہوئی؛ عثمانی فوج ایسے لڑی جیسے خود سلطان ان میں موجود ہو، لیکن دونوں فریق فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے۔ مراد پاشا نے تبریز میں سردی گزارنا مناسب نہ سمجھا اور وہ واپس دیار بکر چلے گئے، جہاں 5 اگست 1611ء کو سردار مراد پاشا وفات پا گئے۔ پہلے ان کی تدفین دیار بکر میں ہوئی لیکن بعد میں ان کے جسدِ خاکی کو استنبول منتقل کیا گیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر تقریباً 90 سال ہو چکی تھی۔ عثمانی تاریخ میں ان کی بہت سی خدمات کے طور پر آج بھی انہیں ایک عظیم جرنیل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، تاہم جلالی بغاوتوں کو کچلتے وقت قتلِ عام کے الزامات بھی ان پر لگائے گئے تھے۔ مراد پاشا کی جگہ دیار بکر کے بیلر بے ناصر پاشا وزیر بنے۔ 20 نومبر 1612ء کو صفویوں سے صلح کر لی گئی۔ یہ معاہدہ سلطان سلیمان القانونی کے دور کے اماسیہ معاہدے کے قریب تر تھا۔

سینوپ پر حملہ اور سلطان کی وفات

صلح نامہ “سیتواتوروک” کے بعد سلطان احمد اول نے 11 سال حکومت کی۔ سلطان احمد اول کی وفات سے پہلے سینوپ پر عیسائی قزاقوں کا حملہ ہوا۔ سینوپ دراصل سلطنتِ عثمانیہ کے اناطولیہ کی شمالی ساحل پر بحیرۂ اسود کے کنارے واقع ایک اہم ترین بندرگاہ تھی۔ عثمانی سلطنت کے اس بندرگاہ شہر کی اہمیت تجارت اور فوجی رسد کے اعتبار سے بہت زیادہ تھی۔ یہ قزاق دنیپر ندی کے اطراف آباد یوکرینی مسیحی جنگجو تھے جو عثمانی سلطنت کے ساحلی شہروں پر وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے تھے۔ کوساک قزاق بحری جہازوں میں سوار ہو کر بحیرۂ اسود عبور کرتے اور عثمانی ساحلی شہروں پر اچانک حملے کرتے تھے۔ 1613ء میں انہوں نے سینوپ پر حملہ کیا، جو کہ عثمانی دفاع کے لحاظ سے اس وقت کچھ کمزور ہو چکا تھا۔ اس حملے میں شہر کو خوب لوٹا گیا اور اسے تباہی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں سینوپ کو شدید نقصان پہنچا، متعدد عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئیں اور شہری آبادی کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ عثمانی حکومت اس حملے سے بہت سیخ پا ہوئی اور بعد ازاں کوساک قزاقوں کے خلاف متعدد بحری کارروائیاں بھی کی گئیں۔ یہ حملہ عثمانی سلطنت کے شمالی ساحل کی کمزور بحری نگرانی کو ظاہر کرتا ہے، جسے بعد میں بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔

پھر 23 ذی قعدہ 1026 ہجری بمطابق 22 نومبر 1617ء کو سلطان احمد اول نے وفات پائی۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 سال اور 7 ماہ تھی اور وہ ابھی بہت جوان تھے۔ ان کی کم عمری میں وفات کے باعث اس کے بعد نابالغ سلاطین تخت پر بیٹھے۔

سلطان احمد اول کا کردار اور ورثہ

سلطان احمد دراصل سلطان سلیمان القانونی کے بعد تخت نشین ہونے والے پہلے ایسے سلطان تھے جو سنجیدگی سے سلطنت کے امور میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ وہ تفریح اور عیش و عشرت میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے، بلکہ اپنا زیادہ تر وقت ریاستی اور فلاحی امور پر صرف کرتے تھے۔ اگرچہ وہ کسی فوجی مہم پر نہیں گئے، لیکن ادرنے اور بورصہ جیسے مقامات پر جا کر باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کیا کرتے تھے۔ وہ محل میں خواتین کی ریاستی امور میں مداخلت کو بالکل بھی پسند نہیں کرتے تھے۔

نتیجہ

سلطان احمد اول کا دور عثمانی سلطنت کے لیے ایک نازک موڑ تھا۔ ان کے عہد میں صفویوں سے طویل جنگ، آسٹریا کے ساتھ معاہدۂ سیتواتوروک اور اناطولیہ میں جلالی بغاوتوں نے سلطنت کی بنیادوں کو ہلا دیا۔ معاہدۂ سیتواتوروک نے یہ واضح کر دیا کہ عثمانی عروج کا دور اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اس کے باوجود سلطان احمد اول نے کم عمری میں سنجیدگی، انتظامی دلچسپی اور فلاحی کاموں سے اپنے دور کو یادگار بنایا۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms