Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire (Part 3)

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire (Part 3)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلجوقی طاقت کے زوال اور اناطولیہ میں چھوٹی خود مختار ریاستوں کے قیام کے دور میں عثمان غازی تیزی سے ابھر رہے تھے۔ اسی موقع پر رومی ٹیکفروں نے انہیں ایک شادی کے بہانے قتل کرنے کی سازش کی، جسے عثمان غازی نے اپنی حکمتِ عملی سے ناکام بنا کر بیلجک، یار حصار اور انا گول کے قلعے فتح کیے۔ یہ تحریر انہی واقعات اور سلطنتِ عثمانیہ کی باقاعدہ بنیاد کا احاطہ کرتی ہے۔

سلجوقی زوال اور عثمان غازی کی بڑھتی طاقت

کہا جاتا ہے کہ اس بغاوت کے دوران سلجوقی سلطان علاؤالدین کیکوباد سوم تخت چھوڑ کر فرار ہو گئے اور یوں سلجوقی تخت خالی ہو گیا۔ جبکہ منگولوں کی دونوں فوجیں “ارض روم” شہر کے قریب ایک میدان میں آمنے سامنے ہوئیں، اور ایک طویل خونریز جنگ کے بعد باغی کمانڈر “سلیمیس” کو شکست ہوئی اور اس کی فوج منتشر ہو گئی۔

جب اناطولیہ میں ایلخانیوں کی آپس میں جنگ ہوئی اور سلطان علاؤالدین کیکوباد سوم نے تخت چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کی تو سلجوقیوں کی رہی سہی طاقت بھی جاتی رہی، اور مختلف امرا اور گورنروں نے اپنی خود مختار چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کر لیں۔ دوسری جانب ایلخانی کمانڈر کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد باغی منگول کمانڈر سلیمیس کے سپاہی مغرب کی جانب فرار ہو گئے، جہاں انہوں نے عثمان غازی کی سرزمینوں میں قدم رکھا، ان کی اطاعت قبول کی اور عثمانی فوج میں شامل ہو گئے۔ اس طرح عثمان غازی نے اپنے سپاہیوں کی تعداد بڑھا دی اور ان کی فوجی طاقت کا خوف بازنطینی ٹیکفروں کے دلوں میں بڑھتا گیا۔

شادی کے بہانے سازش

اسی سال یار حصار قلعے کے ٹیکفور نے بیلجک قلعے کے ٹیکفور کے ساتھ اتحاد کے ارادے سے اپنی بیٹی ہولو فیرا کی شادی طے کر دی۔ کہنے کو تو یہ صرف ایک شادی تھی، لیکن اس میں اصل منصوبہ عثمان بے کو دعوت دے کر انہیں شہید کرنا تھا۔ اینا گول، یار حصار اور بیلجک قلعے کے ٹیکفروں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ عثمان غازی، جو دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے، کو اس شادی میں دعوت دے کر زہر دے کر مار دیا جائے۔

تاہم “ہارمن کایا” شہر کے ٹیکفور میخائیل کوسس کی عثمان غازی کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات تھے۔ میخائیل کوسس کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا تھا، لیکن اس نے دوست ہونے کے ناطے دوستی کا حق ادا کیا اور عثمان غازی کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا کہ کیسے رومی ٹیکفور شادی کے بہانے انہیں زہر دے کر مارنا چاہتے ہیں۔

عثمان غازی کا جوابی منصوبہ

جب عثمان غازی کو یہ خبر ملی تو انہوں نے اپنے کمانڈروں اور سرداروں کی مشاورت سے ایک شاندار منصوبہ تیار کیا۔ اس کے تحت بیلجک قلعے میں جو خواتین تحائف لے کر جائیں گی، وہ دراصل خواتین کے لباس میں ملبوس مجاہدین ہوں گے، جو مناسب وقت آنے پر اپنے ہتھیار نکال کر سپاہیوں پر حملہ کر دیں گے، بیلجک قلعے کا دروازہ کھول دیں گے اور باہر چھپے مجاہدین قلعے میں داخل ہو کر اسے فتح کر لیں گے۔

منصوبے کا دوسرا حصہ شادی کی دعوت تھی۔ طے پایا کہ عثمان غازی اس شادی میں جائیں گے اور تحفے کے طور پر اپنے ساتھ تیل اور شہد کے بھرے ہوئے بیرل لے کر جائیں گے، لیکن ان ڈرموں میں دراصل عثمان غازی کے سپاہی ہوں گے، اور جب رات کے پہر تمام سردار، ٹیکفور اور رومی سپاہی نشے میں دھت ہوں گے تو انہیں مار دیا جائے گا۔ منصوبے کا تیسرا حصہ انا گول شہر تھا، جہاں ترگت الپ اپنے سپاہیوں کے ساتھ شہر کا محاصرہ کریں گے۔ بیلجک قلعے کے ٹیکفور نے شادی کا یہ پروگرام بیلجک قلعے کے ساتھ موجود ایک گاؤں میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔

بیلجک قلعے کی فتح

ادھر عثمان غازی بھی شادی کے لیے مکمل تیار تھے۔ انہوں نے اپنے جنگجوؤں کو شہد اور تیل کے بیرل میں چھپا دیا اور اپنے 30 سپاہیوں کے ساتھ اس شادی میں شرکت کے لیے اپنے شہر سوغوت سے روانہ ہوئے۔ منصوبے کے مطابق سب سے پہلے خواتین کے بھیس میں سپاہی، جو تحفے اور تحائف لے کر جا رہے تھے، اپنے چھپائے ہوئے ہتھیاروں کے ساتھ بیلجک قلعے میں داخل ہوئے۔ چونکہ ٹیکفور کی شادی تھی، اس لیے زیادہ تر لوگ اور سپاہی شادی میں گئے ہوئے تھے اور قلعے میں سپاہیوں کی تعداد بہت کم تھی، یوں بیلجک قلعے کو فتح کرنا مجاہدین کے لیے آسان ہو گیا تھا۔

شہر میں داخل ہونے کے بعد خواتین کے بھیس میں چھپے عثمان غازی کے سپاہیوں نے شہر کے محافظوں پر حملہ کر دیا اور شہر کے دروازے کھول دیے، جس پر باہر چھپے عثمان غازی کے مزید سو مجاہدین شہر میں داخل ہو گئے۔ یوں بیلجک قلعہ بہت جلد فتح کر لیا گیا، کیونکہ قائی سپاہیوں کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

دوسری جانب رومی ٹیکفور بیلجک قلعے کی فتح کی خبر سے بے خبر اپنی شادی میں عثمان غازی کو قتل کرنے کے موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ تاہم وہ نہیں جانتا تھا کہ یہاں جال کے اندر ایک اور جال ہے۔ شادی کے دوران جب لوگ شراب کے نشے میں مدہوش ہونے لگے تو عثمان غازی نے اپنے سپاہیوں کو شہد اور تیل کے ڈرموں سے نکالا اور اچانک شادی پر آئے ہوئے لوگوں پر حملہ کر دیا۔ مجاہدین نے بیلجک قلعے کے ٹیکفور کو پکڑ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ یوں عثمان غازی کے منصوبے کے مطابق پہلے بیلجک قلعے پر قبضہ ہوا اور اس کا ٹیکفور بھی مارا گیا۔

یار حصار اور انا گول کی فتح

اس دوران انا گول شہر میں ترگت الپ نے سلجوقی سلطان کی طرف سے بھیجے گئے ہتھیاروں کے ساتھ شہر کا محاصرہ کر لیا تھا۔ ادھر عثمان غازی نے بھی وقت ضائع کیے بغیر یار حصار شہر کا محاصرہ کر لیا۔ انا گول میں جب ترگت الپ نے محاصرے میں شدت اختیار کی تو یہاں کے شہری، جو اپنے ٹیکفور آیا نکولا کے ظلم سے پریشان تھے اور جانتے تھے کہ عثمان غازی کارچاہیسار کے عیسائیوں کے ساتھ کس قدر ہمدردی رکھتے ہیں اور وہ کس قدر خوشحال ہیں، چاہتے تھے کہ انا گول پر بھی عثمان غازی کا قبضہ ہو جائے تاکہ وہ آیا نکولا کے ظلم سے بچ کر پرسکون زندگی گزار سکیں۔

عثمان غازی یار حصار قلعے کو فتح کرنے کے بعد اپنی فوجوں کے ساتھ انا گول کی جانب بڑھے تاکہ ترگت الپ کی مدد کر سکیں۔ ان کے آنے پر اہلِ شہر نے ہتھیار ڈال دیے اور انا گول شہر عثمان غازی کی سلطنت میں شامل ہو گیا، جبکہ اس محاصرے کے دوران انا گول کا ٹیکفور مارا گیا۔ اس طرح عثمان غازی نے تین شہر فتح کر لیے اور انا گول، بیلجک اور یار حصار کے قلعوں پر اسلامی پرچم لہرانے لگا، یوں عثمان غازی کی سلطنت کی سرحدیں تیزی سے پھیلنے لگیں۔

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد

ادھر ایلخانی سلطنت میں کہا جاتا ہے کہ اسی سال جب عثمان غازی نے یہ فتوحات حاصل کیں تو سلجوقی سلطان علاؤالدین کیکوباد سوم کو منگولوں نے اپنے پایۂ تخت تبریز میں پھانسی دے دی۔ سلجوقی سلطان کی موت کے بعد سلجوقیوں میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور اناطولیہ میں موجود سلجوقیوں کی یہ آخری سلطنت، یعنی سلاجقۂ روم، کا خاتمہ ہو گیا، جس کے بعد امرا اور گورنروں نے اپنی خود مختار ریاستیں قائم کر لیں۔

اسی طوائف الملوکی کے دور میں عثمان غازی نے اپنی ایک آزاد ریاست یعنی “سلطنتِ عثمانیہ” کی بنیاد رکھی اور اپنے نام کے سکے جاری کیے۔ یوں 1299ء میں سلطنتِ عثمانیہ کا باضابطہ طور پر قیام عمل میں آیا۔

نتیجہ

عثمان غازی نے دشمن کی سازش کو اپنی دور اندیشی اور حکمتِ عملی سے فتح میں بدل دیا۔ بیلجک، یار حصار اور انا گول کی فتوحات نے ان کی نوزائیدہ ریاست کو مضبوط بنیاد فراہم کی، اور سلجوقی طاقت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کے قائم کردہ اس ادارے نے آگے چل کر ایک عظیم الشان سلطنت کی صورت اختیار کر لی۔

Check Also

Osman Ghazi, Founder of the Ottoman Empire

سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان غازی کے آباؤ اجداد کا تعلق ترکانِ غز …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms