یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں
اورحان غازی سلطنتِ عثمانیہ کے دوسرے حکمران تھے، جنہوں نے اپنے والد عثمان غازی سے ملنے والی نوزائیدہ ریاست کو ایک منظم سلطنت میں تبدیل کیا۔ ان کے دور میں عثمانیوں نے ازنیک اور ازمیت جیسے اہم شہر فتح کیے اور 1329ء میں رومی شہنشاہ اینڈرونیکوس سوم کو ایک فیصلہ کن جنگ میں شکست دی۔ یہ تحریر اورحان غازی کی اصلاحات، فتوحات اور اس تاریخی جنگ کا احاطہ کرتی ہے۔
عثمان غازی کی وراثت
1281ء میں جب ارتغل غازی کی وفات ہوئی تو اس وقت “کائی قبیلے” کے پاس صرف “سوغوت” شہر اور اس کے علاوہ چند قبائل کی قیادت موجود تھی، جو کہ وراثت میں عثمان غازی کے حصے میں آئی تھی۔ عثمان غازی نے اس قبائلی سرداری کو ایک سرحدی ریاست تک پہنچانے اور پھر سرحدی ریاست سے ایک سلطنت کی بنیاد رکھنے تک بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ جب عثمان غازی کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے اورحان کے لیے جو وراثت چھوڑی وہ اس سے کہیں زیادہ تھی جو انہیں اپنے والد ارتغل غازی سے ملی تھی۔ اگرچہ عثمان غازی نے سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد ڈال دی تھی، لیکن ابھی تک کوئی باقاعدہ انتظامی طریقہ کار یا منظم فوج نہیں تھی۔ ریاست کے پاس نہ تو پیسہ تھا اور نہ ہی بحریہ تھی، یہاں تک کہ ابھی تک عثمانیوں کے پاس بندرگاہ بھی نہیں تھی۔ اس لیے اورحان غازی کو اپنے والد کی جانب سے ملی ہوئی اس سلطنت کو ایک منظم ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے کافی کوششیں کرنی پڑیں۔
جب عثمان غازی کا انتقال ہوا تو اس وقت اورحان بے کی عمر تقریباً 40 سال تھی۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں اپنے والد عثمان غازی کی بیماری کی وجہ سے انہوں نے سلطنت کا انتظام سنبھالا اور بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔
ابتدائی فتوحات
جب برسا کا محاصرہ جاری تھا تو انہوں نے 1321ء عیسوی میں “مودانیا” پر قبضہ کر لیا اور وادیِ اسکاریہ سے بحیرۂ اسود کے ساحل تک کے علاقوں کی فتوحات کے لیے انہوں نے “کونور الب” کو روانہ کیا، جبکہ “اکچہ کوچہ” کو انہوں نے “ازمیت” کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیا۔ عثمان غازی کے یہ دونوں کمانڈر کامیاب رہے اور انہوں نے “دوزجہ” اور اس کے گرد و نواح اور “ساپانجا” جھیل کے گرد و نواح کے علاقوں کو تھوڑے ہی عرصے میں فتح کر لیا۔ اسی دوران عبدالرحمٰن غازی نے “یالووا” کو بھی فتح کر لیا۔
علاؤالدین کی انتظامی و فوجی اصلاحات
جب عثمان غازی کا انتقال ہوا تو ان کے دو بیٹے تھے جو کہ ان کے بعد تخت کے امیدوار تھے۔ عثمان غازی کا بڑا بیٹا علاؤالدین اور دوسرا چھوٹا بیٹا اورحان تھا۔ اورحان غازی نے سب سے پہلے اپنے بڑے بھائی علاؤالدین کو سلطنت کی تقسیم کی تجویز پیش کی، لیکن علاؤالدین نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔ علاؤالدین نے باپ کی وصیت نیز اپنی سکون پسند طبیعت کی بنا پر اس کو نامنظور کیا اور “اورحان” کے اصرار پر صرف انتظامی مملکت کی ذمہ داری قبول کی، یعنی تختِ سلطنت سے کنارہ کش ہونے کے باوجود سلطنت کا بار اُٹھانا قبول کیا اور سلطنتِ عثمانیہ کے پہلے وزیر کی حیثیت سے سامنے آئے۔
علاؤالدین نے تین چیزوں پر خاص طور پر توجہ دی: سکہ، لباس اور فوج۔ اگرچہ سلطان علاؤالدین سلجوقی نے عثمان غازی کو خطبے کے علاوہ اپنے نام کے سکے جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی، تاہم عثمان نے صرف خطبے پر ہی قناعت کی اور اپنا سکہ جاری نہیں کیا تھا۔ اورحان کی تخت نشینی کے وقت تمام ایشیائے کوچک میں صرف سلجوقی سکے رائج تھے؛ اب علاؤالدین نے بادشاہت کے اس امتیاز کو بھی اختیار کیا اور اسلامی مملکت میں اورحان کے نام کے سکے جاری کیے۔ علاؤالدین نے عوام کے مختلف طبقوں کے لیے مختلف قسم کے لباس تجویز کر کے ان کے متعلق قوانین نافذ کیے؛ شہری اور دیہاتی، مسلم اور غیر مسلم، ہر طبقے کا لباس الگ الگ مقرر کیا۔
لیکن علاؤالدین کا سب سے بڑا کارنامہ وہ فوجی اصلاحات ہیں، جن سے سلطنتِ عثمانیہ کی طاقت اچانک بڑھ گئی اور جو 300 برس تک اس کی حیرت انگیز فتوحات کی ضامن رہیں۔ وہ عظیم کارنامہ سلطنتِ عثمانیہ کے لیے باقاعدہ فوج کا قیام تھا، جو ینی چری فوج کے نام سے مشہور ہوئی، اور جس کی دہشت اور بہادری کے بل بوتے پر عثمانیوں نے 300 برس تک یورپ میں قدم جمائے رکھے۔
ازنیک اور ازمیت کی طرف پیش قدمی
فوجی طاقت حاصل کرنے کے بعد اب اورحان غازی نے فتوحات کی جانب توجہ دی۔ انہوں نے 6 اپریل 1326ء عیسوی کو بورصہ شہر کی فتح کے بعد دو اہم مقامات ازنیک اور ازمیت کی طرف توجہ دی۔ اس وقت ازنیک ایک صنعتی شہر تھا جو کہ بورصہ سے بھی بڑا تھا، جبکہ ازمیت ایک تجارتی بندرگاہ تھی۔ اگر اورحان غازی ان دو شہروں کو فتح کر لیتے تو عثمانیوں کے پاس اہم ترین شہر ہوتے اور رومی بحرِ مارمرا میں اپنے مضبوط قدموں سے محروم ہو جاتے۔
ازنیک شہر پر قبضہ کرنے سے پہلے خلیجِ ازمیت کے جنوبی ساحلوں کو کارا مرسل بے نے فتح کر لیا تھا، جبکہ کنڈیرا کے آس پاس کے علاقے کو “اکچاکوچا” نے، اور کارتل کے قریب “اسکودار” اور اس کے شمال میں “سماندرا” قلعے کو “کونور الپ” اور عبدالرحمٰن غازی نے فتح کر لیا تھا۔ ازنیک شہر کی ناکہ بندی اور محاصرہ عثمان غازی کے آخری ایام میں شروع ہوا تھا۔ اورحان غازی جب حکمران بنے تو انہوں نے اس شہر کی ناکہ بندی سخت کر دی اور محاصرے کا دائرہ وسیع کر دیا۔ اس دوران مفتوحہ علاقوں میں یونانیوں کے ساتھ ترکوں کے اچھے سلوک کی وجہ سے “ازنیک” کے آس پاس کے یونانیوں نے شہر کے لوگوں کو ترکوں کا ساتھ دینے کا مشورہ دیا اور کچھ لوگ ترکوں کی طرف سے جنگ میں شامل ہو گئے۔
اب چونکہ ازنیک شہر چاروں طرف سے دیواروں میں گھرا ہوا تھا، اس لیے یہ زیادہ محفوظ تھا اور تعمیر کے لحاظ سے یہ اناطولیہ میں مشرقی رومی سلطنت کا سب سے مشہور شہر تھا۔ اس کے علاوہ یہ شہر “آرتھوڈوکس” کے مقدس مقامات میں سے ایک تھا، جس نے اس مشرقی رومی سلطنت کے شہر کو بہت زیادہ اہمیت دے دی تھی۔
جنگِ پیلیکانون (1329ء)
اناطولیہ میں حالات کی سنگینی کو دیکھ کر رومی شہنشاہ “اینڈرونیکوس سوم” نے اندرونی لڑائیوں کو ختم کرتے ہوئے فوج کی سربراہی کی اور 1329ء عیسوی میں وہ اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ کی طرف روانہ ہوا۔ اینڈرونیکوس اس امید پر قسطنطنیہ سے روانہ ہوا کہ وہ اورحان غازی کی فتوحات کو روک کر ازنیک شہر کو بچا لے گا۔ اس کے علاوہ اس کی خواہش تھی کہ وہ اورحان غازی کو شکست دے کر ترکوں سے اناطولیہ میں اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو واپس حاصل کر لے گا۔
اورحان غازی کو جب یہ خبر ملی کہ رومی شہنشاہ خود اپنی فوج کے ساتھ اناطولیہ میں اورحان سے جنگ کے لیے پیش قدمی کر رہا ہے، تو انہوں نے ازنیک شہر کا محاصرہ اپنے بیٹے شہزادے سلیمان کے حوالے کر کے خود رومی فوج سے جنگ کرنے کے لیے “ازمیت” چلے گئے۔ دریں اثنا رومی شہنشاہ نے “گیبزے” اور “ایسکیہسر” شہر کے درمیان اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ ڈالا اور وہاں ترک فوج سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مقام جہاں میدانِ جنگ کا انتخاب کیا گیا تھا، رومی فوج کے لیے بہترین میدان تھا۔
10 جون کی صبح کو جب آگ برساتا سورج طلوع ہوا، تو دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ اینڈرونیکوس نے اپنی فوج کی کمان خود کی۔ اس نے اپنے دائیں اور بائیں جانب پہاڑیوں کے اوپر اپنے بہترین تیر اندازوں کو بٹھایا، جبکہ اس کے عقب میں “بحیرۂ مرمرہ” کا سمندر تھا۔ اینڈرونیکوس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ عثمانیوں کو میدانِ جنگ کی طرف کھینچ کر وہاں ان کا مقابلہ کرے گا۔
دوسری جانب اورحان غازی پہاڑی سے میدانِ جنگ کا نظارہ کر رہے تھے اور رومی فوج کو اس ناہموار علاقے کی طرف متوجہ کرنے اور اپنے گھڑ سوار دستوں کے ساتھ گھات لگانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ اس منصوبے کے مطابق اورحان غازی نے ابتدا میں اپنے 300 افراد پر مشتمل گھڑ سواروں کو میدانِ جنگ میں اتارا۔ اس دستے نے رومی فوج پر تیر برسائے اور وہ واپس پیچھے ہٹنے لگے؛ یہ دراصل ایک جنگی چال تھی کہ دشمن اس دستے کا پیچھا کرتے ہوئے اورحان غازی کے پسند کے میدان میں آئے جہاں گھات لگا کر اس پر حملہ کیا جائے۔ لیکن رومی شہنشاہ اینڈرونیکوس نے جلد یہ محسوس کر لیا کہ یہ ایک جال ہے، لہٰذا اس نے اپنے سپاہیوں کو اپنی جگہ پر قائم رہنے کا حکم دیا اور جوابی تیر عثمانی گھڑ سوار دستوں پر برسائے۔
اورحان غازی کے گھڑ سوار دستے نے ایک بار پھر رومی فوج پر تیر برسائے اور یہ حملہ کئی بار دہرایا، جس سے شہنشاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے تیر اندازوں کے دستے کو ختم کرنے کے لیے اپنے گھڑ سواروں کو حملے کا حکم دیا۔ جب رومی فوج اپنے شہنشاہ کے زیرِ کمان میدانِ جنگ میں اتری تو اورحان غازی کا یہ ہراول دستہ واپس اپنے لشکر کی جانب پسپا ہوا۔ اورحان غازی نے تازہ دم گھڑ سوار دستے میدانِ جنگ میں اتارے اور یوں جنگ شروع ہو گئی۔
اورحان غازی کی فوج تیر اندازی کی وجہ سے جلد رومی فوج پر غالب آ گئی۔ شہنشاہ نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ پیچھے ہٹنا شروع کر دیا، لیکن عثمانی گھڑ سواروں کا حملہ اس قدر تیز اور شدید تھا کہ اس افرا تفری کے دوران شہنشاہ کی ٹانگ ایک تیر لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہو گئی۔ جلد رومی ہیڈ کوارٹر میں یہ خبر پھیل گئی کہ شہنشاہ کی موت ہو گئی ہے۔ اس خبر نے رومی فوج میں شدید انتشار پیدا کر دیا، جس پر اورحان غازی اپنی پوری فوج کے ساتھ میدانِ جنگ میں اترے۔
رومی شہنشاہ اپنی فوج میں پھیلی ہوئی اس افرا تفری کو روک نہ سکا اور وہ اپنے چند خاص آدمیوں کے ساتھ میدانِ جنگ سے بھاگ کر کشتی میں سوار ہو گیا، جبکہ فوج کا کچھ ہی حصہ جہازوں میں سوار ہو کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن باقی رومی فوج اتنی خوش قسمت نہیں تھی کہ جان بچا کر کشتیوں میں سوار ہو کر زندہ واپس قسطنطنیہ پہنچ سکے۔ رومی فوج کا کچھ حصہ اورحان غازی کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا، باقی سپاہی اورحان کی فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بنے، جبکہ فوج کا ایک حصہ دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ یوں اورحان غازی کی رومی سلطنت کے ساتھ ہونے والی اس پہلی جنگ میں اورحان غازی کو شاندار فتح حاصل ہوئی، جبکہ رومی شہنشاہ اینڈرونیکوس سوم بڑی مشکل سے زندہ جان بچا کر قسطنطنیہ واپس پہنچ سکا۔
ازنیک کی فتح
اس فتح کے بعد اورحان غازی اپنی فوج کے ساتھ ازنیک شہر کے محاصرے پر واپس پہنچ گئے۔ رومی شہنشاہ کی فوج، جو کہ ازنیک شہر کی واحد امید تھی، اورحان غازی کے ہاتھوں شکست کھا کر واپس قسطنطنیہ پہنچ گئی۔ اس شکست کے بعد ازنیک شہر کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں اور اہلِ شہر کے لیے اب ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ یوں اناطولیہ میں مشرقی رومی سلطنت کا یہ سب سے اہم ترین شہر ازنیک عثمانی سلطنت کے قبضے میں آ گیا۔
1331ء میں ازنیک شہر کی فتح کے بعد اورحان غازی فاتحانہ اس شہر میں داخل ہوئے۔ اورحان غازی نے لوگوں کو اجازت دی کہ وہ اپنا سامان لے کر شہر سے جا سکتے ہیں۔ اس فتح کی شام تک ازنیک شہر کی گلیوں میں اورحان غازی کے حکم پر ترک سپاہیوں نے اعلان جاری کیے کہ تمہارا مال اور جان ہمارے سپرد ہے؛ جو بھی جہاں بھی رہتا اور کام کرتا رہا، اسے جاری رکھنا چاہیے، اور آپ لوگ اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ازنیک شہر کا کمانڈر جہاز کے ذریعے اپنے سپاہیوں کے ساتھ استنبول واپس چلا گیا، لیکن اورحان غازی کے اچھے رویے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے ازنیک شہر میں ہی رہنے کو ترجیح دی اور بہت کم لوگوں نے شہر کو خالی کیا۔
نتیجہ
اورحان غازی نے اپنے والد عثمان غازی سے ملنے والی چھوٹی سی سرحدی ریاست کو ایک منظم سلطنت میں بدل دیا۔ اپنے بھائی علاؤالدین کی انتظامی و فوجی اصلاحات، ینی چری فوج کے قیام، اور بورصہ، ازنیک و ازمیت جیسے شہروں کی فتح نے عثمانی سلطنت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔ 1329ء کی فتح اور ازنیک کی تسخیر نے عثمانیوں کو مشرقی رومی سلطنت کے مقابلے میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر قائم کر دیا۔
History In Urdu