Khalid bin Waleed – The Battle of the River

ہرمز کو شکست دینے کے بعد خالد بن ولید نے 2 چھوٹے دستوں کو "ہوفیر" اور "کاظمہ"کی جانب روانہ کیا۔اس دوران ساسانی سلطنت کے شہنشاہ یزدگر سوم نے ایک اور ساسانی کمانڈر" کرن" کے زیر اہتمام ایک لشکر روانہ کیا ۔

ساسانی لشکر کے آنے سے پہلےحضرت مثنیٰ بن حارثہ نے"حفیر"پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا اور اس فتح کے بعد انہوں نے ایک خط حضرت خالد بن ولید کے پاس بھیجا کہ ایک نئی ساسانی فوج جنوب کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ خط ملتے ہی خالد بن ولید اپنی فوج کے ساتھ "اُبالا" شہر کی جانب چل پڑے اور یہاں سےسا سانیوں اور عربوں کے درمیان ایک دوسری جنگ ہوئی جسے "جنگ مذار"اور"بیٹل آف دی ڑیور کے نام سے مشہور ہے ،اپریل کے تیسرے ہفتے میں ہوئی تھی۔

اس جنگ میں ساسانیوں کے پاس 25 سے 50 ہزار کی تازہ دم فوج تھی۔ جبکہ حضرت خالد بن ولید کے پاس صرف 18 ہزار کے قریب عرب فوج تھی اور ان میں سے بھی کچھ ایسے نئے فوجی تھے جنہیں خالد بن ولید نے مقامی عرب قبائل سے انہیں بھرتی کیا تھا۔

جنگ سے پہلے حضرت خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ بالکل تیار کھڑے تھے ۔خالد بن ولید نے ذاتی طور پر اپنے لشکر سے نکل کر ساسانی لشکر کا جائزہ لیا اور انہوں نے اندازہ لگایا کہ مسلمان یہ جنگ کیسے جیت سکتے ہیں۔ جلد خالد بن ولید اپنے لشکر میں واپس آئے اور انہوں نے جنگ کے لیے تیاری کا حکم دیا اس جنگ میں ساسانی اور عربوں کے لشکر کی ترتیب تقریباً ایک جیسی ہی تھی۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے ساسانی کمانڈر تنہا میدان جنگ میں اترا اور اس نے عرب لشکر کو للکارتے ہوئے مقابلے کی دعوت دی ۔خالد بن ولید مقابلے کے لیے میدان میں اترنے ہی والےتھے۔ کہ ایک اور مسلمان جنگجو گھڑ سوار خالد بن ولید سے پہلے ہی ساسانی سپاہ سالار کے مقابلے کے لیے سر پٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے میدان میں اترا، اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب جنگجو نے سسانی کمانڈر کا کام تمام کر دیا۔

ساسانی سپہ سالار کی موت سے ساسانی لشکر کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس پر ساسانی لشکر کے باقی دو کمانڈروں قبا اور انو شجان کو مجبوراً میدان جنگ میں اترنا پڑا ۔ان دونوں کمانڈروں کے مقابلے کے لیے مسلمان لشکر میں سے حضرت "عاصم"اور"عدی" سر پٹ گھوڑے دوڑاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے جلد ساسانی کمانڈر عرب جنگجوؤں کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے ۔

حضرت خالد بن ولید نے اس ابتدائی فتح کے بعد اپنی پوری فوج کو حملے کا حکم دے دیا ۔ساسانیوں نے اگرچہ اپنے تمام اعلیٰ کمانڈروں کو جنگ سے پہلے ہی کھو دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ میدان ِجنگ میں جم کر عربوں سے لڑے اور شروع میں تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید کے لشکر کو پیچھے بھی دکھیل دیا تھا۔ لیکن یہاں ساسانی لشکر سے غلطی ہوئی ،وہ غلطی یہ تھی کہ ،ساسانی لشکر میں کوئی اعلیٰ کمانڈر یا پھر سپہ سالار نہیں تھا ۔اس لیے جب عرب لشکر پسپائی کر رہا تھا۔ تو ساسانی لشکر کی صفیں غیر منظم اور بے ترتیب ہو گئیں، حضرت خالد بن ولید نے ساسانی لشکر کی اس کمزوری سے خوب فائدہ اٹھایا، انہوں نے اپنے پاس موجود دو گھڑسواردستوں کو پیدل جنگجوؤں کی کمک کے لیےانہیں روانہ کیا۔

ان دونوں گھڑسوار دستوں نے دائیں اور بائیں جانب سے حملہ کر کے ساسانی لشکر کہ پیدل دستوں کو تہ تیغ کر دیا۔ جس پر سسانی لشکر کے پیدل دستے میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ اس دوران خالد بن ولید کے گڑسوار دستوں نے دائیں اور بائیں جانب گھڑ سواروں کا بھی خاتمہ کر دیا۔ یوں میدان جنگ میں موجود تمام ساسانی لشکر سوائے ان کے جو بھاگ چکے تھے، خالد بن ولید کے ہاتھوں مارے گئے۔

حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ بھاگنے والے سپاہیوں کا تعاقب کیا اور اس پسپائی کے دوران جب سسانی لشکر دریا کے بالکل پاس پہنچا تو یہاں عربوں اور سسانیوں کے درمیان ایک بار پھر جنگ شروع ہو گئی اس معرکے میں بھی سینکڑوں ساسانی سپاہی عربوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔جبکہ ان میں سے کچھ ایسے تھے جو دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوئےاور کچھ ایسے تھے جو دریا میں سے تیر کر زندہ دوسرے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

جنگ کے اختتام پر شہنشاہ کی فوج میں 15 سے 30 ہزار کی ہلاکتیں ہو چکی تھی ۔جبکہ حضرت خالد بن ولید کے لشکر کی ہلاکتیں صرف سینکڑوں میں تھیں۔ اس جنگ میں فتح کے بعد حضرت خالد بن ولید نے وسط عراق میں مذید فتوحات روک دیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سب سے پہلے اس خطے میں ایک نئی انتظامیہ بنانا چاہتے تھے۔ اور یہاں ٹیکس کا ایک مضبوط نظام بھی قائم کرنا چاہتے تھے ۔دوسری وجہ یہ تھی کہ ساسانی سلطنت میں داخل ہونے سے ان کی سپلائی لائن کٹ سکتی تھی اور وہ ایسے علاقے میں پہنچ جاتے جہاں نہ تو عرب قبائل ہوتے اور نہ ہی صحرا ہوتے ،کیونکہ حضرت خالد بن ولید صحراؤں کے کناروں پر لڑنا بے حد پسند کرتے تھے۔ جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ صحرا میں رہ کر اپنی مرضی کی جنگی چالیں چل کر دشمن پر فتح حاصل کر سکتے تھے ۔

یہاں ابتدائی انتظام مکمل کرنے کے بعد خالد بن ولید نے اپنے چند دستے شمال کی طرف روانہ کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ساسانیوں کا کوئی مزید لشکر ان کی طرف پیش قدمی تو نہیں کر رہا۔ساسانی سلطنت میں ڈاک کا نظام بہترین تھا ،اس لیے جلد ساسانی لشکر کے شکست کی خبر یزدگر سوم کے پاس پہنچی۔ جس پر شہنشاہ نے اپنی سلطنت کے شمالی اور مشرقی حصوں کی فوجوں کو حکم دیا کہ وہ دارالحکومت کٹیسپین میں جلد از جلد جمع ہوں۔ اب ساسانیوں کے لیے میدان جنگ تھوڑا ہٹ کے تھا ۔چونکہ ساسانی فوج حضرت خالد بن ولید کے زیر کنٹرول علاقوں پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ عرب اب اس روڈ کو کنٹرول کر چکے تھے ۔

چنانچہ جب دارالسلطنت میں "اندرز غز" کی کمانڈ میں پہلی فوج پہنچی تو اسے ولاجا شہر کی طرف بھیجا گیا اور انہیں امید ہی کہ عرب الہیرہ کی جانب سے ان پر حملہ کریں گے۔ چنانچہ ساسانی فوج جو گزشتہ جنگ میں بھاگ کر دارالسلطنت کی طرف جا رہی تھی وہ اندرز غز کی فوج میں شامل ہو گئیں اور اس کی تعداد 25 سے 30 ہزار کے درمیان ہو گئی اس فوج نے مئی میں ولاجا کے باہر اپنی پوزیشنیں سنبھال

لیں۔

دوسری فوج کی قیادت ساسانی فوج کے ایک اعلی کمانڈر بہمن کا رہا تھا۔ اس دوران خالد بن ولید کے جاسوس لمحہ بہ لمحہ کی خبر حضرت خالد بن ولید کو دے رہے تھے اور یوں خالد بن ولید دشمن کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔چنانچہ خالد بن ولید کے پاس جیسے ہی ابتدائی معلومات پہنچی تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان دونوں لشکروں میں سے کسی ایک کو جلد شکست دینا بے حد ضروری ہے ۔کیونکہ اگر یہ دونوں لشکر آپس میں مل گئے اور متحد ہو گئے تو پھر مسلمانوں کے لیے فتح مشکل ہو جائے گی۔ چنانچہ سیدنا خالد بن ولید نے ابالہ میں اپنی ایک چھوٹی سی فوجی چھاونی قائم کی اور وہ باقی فوج کے ساتھ اندرز غز کو شکست دینے کے لیے مغرب کی طرف پیش قدمی کرنے لگے ۔اس دوران سیدنا خالد بن ولید نے راستے میں عرب قبائل سے مزید فوجی بھرتی کیے اور اسلامی لشکر کی تعداد 20 ہزار کے قریب پہنچ گئی ۔یوں سیدنا خالد بن ولید مئی کے دوسرے عشرے میں بہمن کی فوج کے آنے سے پہلے ہی اندر زغز کے لشکر کے قریب جا پہنچے۔

Check Also

Khalid bin Waleed – Part 3

ساسانی سلطنت کے دو لشکروں کو شکست دینے کے بعد اب سیدنا خالد ابن ولید …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms