Khalid bin Waleed – Part 3

ساسانی سلطنت کے دو لشکروں کو شکست دینے کے بعد اب سیدنا خالد ابن ولید کا مقابلہ ساسانی سلطنت کے ایک تیسرے لشکر سے ہونا تھا۔ اس سے پہلے سیدنا "خالد ابن ولید" "بیٹل آف دی چین" یعنی کہ جنگ ذات السلاسل کی جنگ میں خالد بن ولید نے ساسانی فوجوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے بیشتر علاقے اسلامی خلافت میں شامل کر لیے تھے ۔ان شکستوں کی خبر جب سسانی سلطنت کے دارالحکومت میں پہنچی تو شہنشاہ یزدگر سوم نے سیدنا خالد بن ولید کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اپنے دو کمانڈروں اندرز اور بہمن کی کمان میں ایک فوج روانہ کی بہن کی فوج مغرب کی جانب سے ابالا شہر کی جانب روانہ ہوئی جبکہ اندر غز اپنی فوج کے ساتھ مشرقی راستے سے ہوتے ہوئے ولاجا شہر کے قریب جا پہنچا ۔جہاں پر سیدنا خالد ابن ولید اور ساسانی کمانڈر کے درمیان ایک تیسری جنگ ہوئی ۔آج کی اس ویڈیو میں ہم سیدنا خالد بن ولید کی مزید فتوحات کے بارے میں جانیں گے۔

633ءمیں سسانی فوج کو شکست دینے کے بعد حضرت خالد بن ولید اپنی فوج کے ساتھ ولاجا شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ سیدنا خالد ابن ولید کی کوشش تھی، کہ بہمن کی فوج کے آنے سے پہلے پہلے "اندرز غز" کی فوج کو شکست دے کر فتح حاصل کی جائے ،کیونکہ خالد بن ولید اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر بہن کی فوج "اندرز غز" کی فوج کے ساتھ آملی، تو اس متحدہ لشکر کو شکست دینا مسلمانوں کے لیے مشکل ہوگا۔

اس لیے 633ءمیں سیدنا خالد ابن ولید اپنی فوج کے ساتھ ساسانی کمانڈر کے لشکر کے سامنے جا پہنچے۔ ساسانی سپہ سالار کے پاس سیدنا خالد بن ولید کے مقابلے کے لیے ایک اچھی خاصی فوج موجود تھی ۔اگر وہ چاہتا تو خالد بن ولید کے لشکر پر حملہ کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے انتظار کرنا زیادہ بہترسمجھا، شاید اس لیے بھی کہ اس دوران بہمن کی کمان میں باقی فوج اس کے لشکر میں شامل ہو جائے۔ یوں تقریباً ایک آدھ دن تک دونوں فوجیں جنگ کی حالت میں ایک دوسرے کے سامنے اپنے کیمپ میں انتظار کرتی رہیں۔

عرب لشکر ایک طویل سفر طے کر کے یہاں تک پہنچا تھا اس لیے مسلمانوں کی فوج آرام کر رہی تھی۔ تا ہم یہ طویل انتظار ختم نہ ہو سکا۔ لیکن سیدنا خالد بن ولید جانتے تھے کہ دوسری سسانی فوج کے آنے سے پہلے انہیں ایک فیصلہ کن فتح حاصل کرنی ہوگی ۔اس لیے اگلے دن دونوں فوجیں "ولاجا" کے قریب کے ایک میدان میں آمنے سامنے ہوئیں اس دوران سیدنا خالد ابن ولید نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ انہوں نے اپنے گھڑسوار دستے کو صحرا میں چھپا دیا اور خود پیدل فوج کے ساتھ ساسانیوں کے مقابلے کے لیے میدان میں اترے ۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو ساسانی کمانڈر یہ دیکھ کر حیران اور پریشان تھا کہ جس مسلمان فوج کی اطلاع اسے جاسوسوں نے دی تھی یہ اس سے بہت کم تھی اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کے اس فوج میں صرف پیادہ دستے شامل تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ پرامن تھا ۔اور اسے یقین تھا کہ وہ خالد بن ولید کے اس مختصر سے لشکر کو شکست دے کر فتح حاصل کر سکتا ہے۔

بہمن کے لشکر کے آنے سے پہلے خالد بن ولید نے اپنی پوری فوج کو ساسانیوں کے مقابلے کے لیے نکلنے کا حکم دیا اور پوری فوج کے ساتھ مسلمانوں نے ساسانیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ تقریبا ًایک گھنٹہ یا پھر اس سے زیادہ دیر تک چلتی رہی شروعات میں دونوں جانب سے سپاہیوں کی تھوڑی تھوڑی تعداد ماری گئی ۔لیکن ساسانیوں کے پاس چونکہ لشکر زیادہ تھا اس لیے انہوں نے تازہ دم دستے آگے بھیج کر تھکے ہارے دستوں کو واپس پیچھے بلا لیا۔ جس کی وجہ سے ساسانیوں

کا پلڑا میدان جنگ میں بھاری رہا۔جس کی وجہ سے خالد بن ولید کی فوج پیچھے ہٹنے لگی ۔اس جنگ میں سیدنا خالد ابن ولید کی ذاتی جنگی مہارت کے باوجود مسلمان فوج تھک چکی تھی اس لیے اندر غز کے جوابی حملے نے مسلمان فوجیوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا تھا اور عرب فوج پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس اپنے کیمپس کے پاس پہنچ چکی تھی۔

کے اس دوران سیدنا خالد ابن ولید نے اپنی آخری چال چلی۔ جنگ سے تقریباً دو دن پہلے وہ گھڑ سوار دستہ جو سیدنا خالد ابن ولید نے صحرا میں چھپا دیا تھا ۔اس پسپائی کے دوران انہوں نے اس دستے کو حکم دیا کہ وہ ساسانی لشکر کے عقب سے ہوتا ہوا اس پر اچانک حملہ کر دے ۔سیدنا خالد ابن ولید کا حکم ملتے ہی یہ گھڑ سوار دستہ برق رفتاری کے ساتھ ساسانی فوج کے عقب سے نمودار ہوا ۔یہ سیدنا خالد ابن ولید کی بہترین جنگی چال تھی۔ کیونکہ ان کی یہ گھڑ سوار فوج آسانی کے ساتھ صحراؤں میں چھپنے کے قابل تھی۔ اس دوران ساسانی فوج اپنے مرکز سے بہت دور آگے نکل چکی تھی اور اپنے مرکز سے بہت دور نکلنے کا مطلب تھا کہ اب ساسانی فوج کا عقب بالکل غیر محفوظ ہے ۔اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیدنا خالد بن ولید کے گھڑسواردستوں نے آندھی اور بجلی کی طرح ساسانی فوج کے عقب پر حملہ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سسانی فوج اپنے سپہ سالار سمیت واصل جہنم ہوئے۔ تاریخی روایات کے مطابق ساسانیوں کے ساتھ ہونے والی جنگ میں مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی کیونکہ ان کا مد مقابل سسانی لشکر اپنے سپاہ سالار سمیت میدان جنگ میں مارا گیا تھا پانچ ہزار سا سانی زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ مسلمانوں کی طرف سے صرف تین ہزار کے قریب مسلمان اس جنگ میں شہید ہوئے تھے۔

حضرت خالد بن ولید کی فوج ایک طویل سفر کے بعد یہاں پہنچی تھی اور جنگ کے بعد اسلامی فوج تھک ہار چکی تھی اسی لیے ولاجا کی جنگ میں فتح کے بعد بھاگنے والے ساسانی سپاہیوں کا مسلمانوں نے پیچھا نہیں کیا تھا ۔ان بھاگنے والے سپاہیوں نے پاس کے عیسائی قبیلوں میں پناہ لی اور آس پاس کے عیسائی عرب قبائل سے مدد مانگی ۔ دارالحکومت کٹیسپین سےاگرچہ شاہ نے کوئی فوجی مددروانہ نہ کی،اس نے صرف اپنا ایک سفیر بہمن کے پاس روانہ کیا جبکہ باقی کے عرب قبائل کی جانب سے اس شکست خوردہ فوج کے پاس تازہ دم دستے روانہ ہوئے۔

اس دوران بہمن جو کہ سفر کرتا ہوا مغرب کی جانب آرہا تھا اس نے یہاں حضرت خالد بن ولید کا سامنا کرنے کے بجائے ایک اورسا سانی کمانڈر جبان کو کمان دے کر خود واپس دارالحکومت کٹیسپین چلا گیا۔ جبکہ ساسانی فوج جلد عیسائی عرب سپاہیوں کے پاس جا پہنچی۔ اس دوران حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوجوں کو ولاجہ شہر میں منتقل کیا اور مئی کے آخر میں مسلمانوں اور ساسانی فوج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ عربوں کی جنگ ہوئی اس جنگ میں بھی مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی ۔

لیکن اس جنگ کی تفصیل تاریخی اوراق میں زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کی گئی۔ اس جنگ میں ہلاکتوں کے بارے میں عرب مورخین کا کہنا ہے کہ سیدنا خالد بن ولید کی فوج نے 70 ہزار دشمنوں کو ہلاک کیا جبکہ ان میں سے زیادہ جنگ کے بعد پھانسی کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارے گئے۔

مئی کے آخری دنوں میں سیدنا خالد ابن ولید نے الحیرہ شہر کا محاصرہ کر لیا اس دوران شہر کی ساسانی فوج اور ان کے عرب اتحادیوں نے کچھ دنوں تک تو مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی۔ لیکن آخر کار فریقین نے مسلمانوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا مسلمانوں نے جزیہ ٹیکس کی ادائیگی کے بدلے آبادی کی جان کی امان دی جس پر مقامی لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

حضرت خالد بن ولید نے اگلے چند مہینوں میں یہاں کی نئی انتظامیہ بنائی اور ٹیکس کا ایک مضبوط نظام قائم کیا۔ اسی دوران سیدنا خالد بن ولید نے اپنے چند ایک چھاپہ مار دستے وسطیٰ عراق اور مشرقی رومی سلطنت کی سرحد کی طرف بھیجے اور ان چھاپہ مار دستوں نے ایک دو دشمن کے علاقوں سے مالِ غنیمت حاصل کر کےسپہ سالار کی جانب روانہ کیا اور دوسرا انہوں نے دشمن کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلامی خلافت نے وسطیٰ عراق پر ایک حد تک کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ لیکن یہاں بظاہر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا خالد بن ولید کے پاس اس وسیع تر علاقے کو کنٹرول کرنے کے لیے اتنی بڑی فوج نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی شمال مشرقی علاقوں میں اسلامی فوج کو جنگ یا پھر محاصرے کے دوران کوئی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

ادھر شمال مغرب میں اب بھی ساسانی فوجیں موجود تھیں۔ جبکہ ان میں سے عین التمر اور انبار میں سب سے زیادہ ساسانی فوجیں جمع تھیں۔

اس لیے جون 633 ء کے اواخر میں سیدنا خالد بن ابن ولید نے اپنی ادھی فوج کو الحیرا میں چھوڑا اور 10 ہزار کی مضبوط فوج کے ساتھ انہوں نے مغرب کی جانب انبار کا رخ کیا اور مسلمانوں کا یہ حملہ دریائے فرات کے اس پار پہلا بڑا حملہ تھا۔ یہاں حضرت خالد بن ولید نے انبار کے قلعے کا سخت ترین محاصرہ شروع کیا جس کے بعد انبار قلعے کے گورنر شیر زاد نے اسلامی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اس فتح کے بعد اسلامی فوج الحیرا کی سمت روانہ ہوئی اور عین التمر کے قصبوں کے قریب جا پہنچی، جہاں سیدنا خالد ابن ولید نے جولائی میں ساسانی فوج کے ساتھ جو زیادہ تر عیسائی عربوں پر مشتمل تھے سے جنگ کی اور یہاں پر بھی سیدنا خالد ابن ولید نے فتح حاصل کی۔عین التمر کے حاکم کو گرفتار کر لیا گیا اور بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی اور شہر مسلمانوں کے حوالے ہو گیا۔

اس کے بعد جولائی اور ستمبر کے درمیان کے اگلے چند مہینوں کے درمیان میں بھی چھوٹے موٹے معرکے سر ہوتے رہے، یہاں خالد بن ولید نے انتظامات مکمل کیے اور ٹیکس کا نظام قائم کیا کہ اسی دوران خالد بن ولید کی عرب میں ضرورت پڑ گئی۔

کیونکہ عرب میں اب بھی خلافت کے جھوٹے دعوی دار موجود تھے سو ان کی سرکوبی کے لیے خلیفہ اول نے انہیں عرب میں بلایا اور خالد بن ولید اپنی فوج کے ساتھ جزیرہ نما عرب چلے گئے ۔

یہاں خالد بن ولید کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ساسانیوں نے آس پاس کے علاقوں سے اپنی فوجوں کو جمع کیا۔ خالد بن ولید نے فوجی چھاونی میں جو فوج چھوڑی تھی اس فوج کے حاکم نے چند چھاپہ مار دستے ساسانی فوجوں کے جنوب میں روانہ کیے تاکہ وہ وہاں اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ ستمبر کے آخر میں خالد بن ولید اپنے لشکر کے ساتھ الحیرہ واپس آگئے اور اس لشکر میں کچھ نئے جنگجوبھی شامل تھے جنہیں خالد بن ولید نے دومتہ الجندل کے ارد گرد کے علاقوں سے بھرتی کیے تھے۔

یہاں پہنچنے کے بعد خالد بن ولید نے کچھ دستوں کو مزید عین التمر کی جانب روانہ کیا اور ان فوجی دستوں نے اکتوبر کے شروع میں ساسانیوں کے ساتھ چند چھوٹی موٹی لڑائیاں لڑیں اور سسانیوں کو معمولی شکست کا سامنا اٹھانا پڑا ۔جس کی وجہ سے وہ "المزایا" کی جانب پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ خالد بن ولید کے پاس اب ساسانی دارالحکومت کٹیسپین کو فتح کرنے کا سنہری موقع تھا۔ لیکن انہیں یہاں ساسانی سلطنت کے مغرب میں موجود عیسائی عربوں کی جانب سے خطرہ تھا کہ وہ اس دوران مزاحمت کر سکتے ہیں اس لیے اسلامی فوج کے سپہ سالار نے کٹیسپین پر حملہ کرنے کا فیصلہ ترک کر دیا

یہاں زومیل اور سینائی کے علاقوں میں عیسائی عربوں کی تعداد زیادہ تھی،خالد بن ولین نہیں چاہتے تھے کہ وہ یہاں ان سے جنگ کر کے فوجی طاقت کم کریں۔اس لئے سیدنا خالد ابن ولید نے ساسانیوں کے خلاف فتح حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ۔انہوں نے اپنی فوج کو تین دستوں میں تقسیم کیا اور انہوں نے صحرا کا استعمال کیا ۔ایک لمبا چکر کاٹتے ہوئے وہ ساسانیوں کے سامنے جا پہنچے یہ پیش قدمی کوئی آسان نہیں تھی۔ کیونکہ ایک تو انہیں گرم صحرا سے گزرنا تھا اور دوسرا انہیں دشمن کی فوجوں کو پتہ چلائے بغیر طے شدہ جگہ پر بیک وقت پہنچنا تھا۔

یہ پیش قدمی تھی تو خطرناک لیکن یہ پیش قدمی کرنے والے سیدنا خالد ابن ولید تھے اور انہوں نے عین منصوبے کے مطابق برق رفتاری کے ساتھ اپنی فوج سمیت وہ سانیوں کے سامنے نمودار ہوئے۔ جس وقت اسلامی فوج ساسانیوں کے پاس پہنچی تو اس وقت شام کا وقت

تھا۔

سو نومبر کے پہلے ہفتے کی ایک رات میں 20 ہزار اسلامی فوج نے سوئی ہوئی ساسانی فوج پر حملہ کر دیا۔ سوساسانی فوج اس حملے کی بالکل بھی توقع نہیں کر سکتی تھی۔ رات کے اس شب خون نے ساسانی لشکر کا کام تمام کر دیا۔ تقریبا 10 ہزار سے زیادہ ساسانی جنگجو خیمے میں سوئے ہوئے اسلامی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔

اس فتح کے بعد ایک چھوٹی عیسائی عرب فوج کو شکست دینا آسان دکھائی دے رہا تھا لیکن ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے سیدنا خالد ابن ولید نے نقصانات سے بچنے کے لیےاپنی وہی پرانی جنگی چال چلی۔رات کے اندھیرے میں مسلمانوں نے یہاں حملہ کر دیا۔ مسلمانوں کا اس حملے میں کم سے کم نقصان ہوا جبکہ عیسائی عربوں نے اپنی نصب سے زیادہ فوج کھو دی ۔

اس فتح کے بعد خالد بن ولید کی خواہش تھی کہ ساسانیوں کادارالحکومت کٹیسپین فتح ہو کر اسلامی سلطنت میں شامل ہو جائے۔ لیکن یہ اب بھی خطرناک تھا کیونکہ اس سے سپلائی لائنیں بہت زیادہ پھیل جاتی اسی لیے خالد بن ولید نے کٹیسپین کی فتح کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی کرتے ہوئے انہوں نے ساسانیوں کے ایک اور شہر فیراز کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا جہاں سیدنا خالد بن ولید اپنی20 ہزار کی فوج کے ساتھ دسمبر کے قریب اس علاقے میں پہنچے۔

Check Also

Khalid bin Waleed – The Battle of the River

ہرمز کو شکست دینے کے بعد خالد بن ولید نے 2 چھوٹے دستوں کو "ہوفیر" …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms