Imad ad-Din Zangi – Part 1

بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کرنے کے لیے عیسائیوں نے جو جنگیں لڑیں وہ صلیبی جنگیں کہلاتی ہیں۔ کیونکہ کلیئر ماؤنٹ کے اجتماع میں "پوپ اربن ثانی" نے لوگوں کو ایک صلیپ دکھا کر کہا تھا، کہ:۔

"خداوند یسوع مسیح خود اپنی قبر سے یہ صلیب تمہارے سینوں پر آویزاں کرنے کے لیے نکلا ہے

یہی تمہاری نجات کا نشان ہے اور یہی تمہاری فتح کی ضامن ہے"

صلیبی جنگوں کی کل تعداد اٹھ ہے اور یہ 75 سال یعنی کہ 489 ہجری سے 675 ہجری بمطابق 1096ء سے 1271ء تک جاری رہیں۔

ان میں سے پہلی تین صلیبی جنگیں مشہور ہیں۔ شعبان 492 ہجری بمطابق اگست 1096ء میں صلیبیوں کا پہلا لشکر بیت المقدس کی سمت روانہ ہوا۔ شعبان 492 ہجری بمطابق جون 1099 عیسوی میں صلیبی مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر قابض ہو چکے تھے اور کچھ ہی عرصے بعد ان کی حکومت بلائی الجزیرہ میں ماردین سے مصر کی سرحد العریش تک پھیل چکی تھی ارض مقدس میں عیسائیوں کی چار ریاستیں وجود میں آچکی تھی۔ جن کے صدر مقامات بیت المقدس الراہا، انطاکیہ اور طرابلس تھے۔

یہ دور مسلمانوں کے لیے بڑا کٹھن اور کربناک تھا ۔ مسلمان اپنی نظروں کے سامنے صلیبیوں کو "بیت المقدس" پر قابض ہوتے اور مسجد اقصٰی میں خون کی ندیاں بہاتے دیکھ چکے تھے۔ فی الحقیقت مسلمان بڑی بے بسی سے دوچار تھے اللہ کی بارگاہ میں مسلمانوں کی دعائیں قبول ہوئیں اور ظلم و ستم کی اس سیاہ رات میں بالاخر امید کی ایک نئی کرن چمک اٹھی اور پھر اس کرن سے پھوٹنے والی کئی کرنوں نے دور دور تک اجالا کر دیا۔ اس ظلم و ستم کی سیاہ اندھیری رات میں امید کی یہ پہلی کرن تھی "عماد الدین زنگی" جنہوں نے اپنی عظیم قوت ایمانی بے مثال جرات اور قیادت کی بے پناہ صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے پے در پہ حملے کر کے صلیبیوں کے دانت کھٹے کر دیے اور ان کے مضبوط اقتدار کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔

صلیبیوں کے خلاف جس مقدس جہاد کا آغاز انہوں نے 507ھ بمطابق 1113ء میں کیا تھا۔ اسے ان کے بیٹے نور الدین زنگی اور پھر صلاح الدین ایوبی نے دوسری اور تیسری صلیبی جنگ میں پائے تکمیل کو پہنچایا فی الحقیقت صلیبی سیلاب کے آگے بند باندھنے کی جرات مندانہ اقدام میں پہل عماد الدین زنگی ہی نے کی تھی۔

سن 487 ھ بمطابق 1094ء میں سلجوقی سلطنت کی باگ ڈور سلطان "رکن الدین ابو المظفر برکیارق" کے ہاتھوں میں آ چکی تھی۔ انہوں نے امیر "کر بوکا" کو موصل کا امیر مقرر کر دیا تھا امیر "کربوکا" عماد الدین کے والد آق سنقر کے دوست تھے۔ انہوں نے عماد الدین کو اپنے پاس بلایا ان کی تعلیم و تربیت کے لیے اساتذہ مقرر کیے۔ ان کی رہائش، خوراک، لباس اور دیگر ضرورتوں کا اعلٰی انتظام کیا۔

495 ہجری بمطابق 1101ء میں جرقمیش کے امیر کے لڑکے ناصر الدین کی بیٹی سے عماد الدین کی شادی ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد امیر مودود موصل کی حکمرانی پر فائز ہوئے وہ بڑے غیرت مند اور باہمت انسان تھے انہوں نے ہی صلیبیوں کے خلاف باقاعدہ جدوجہد کی داغ بیل ڈالی۔ عماد الدین تو خود دل سے جہاد کے خواہاں تھے ابھی صرف چند سال پہلے صلیبی لشکر بیت المقدس پر قابض ہو چکا تھا اور اس المناک واقع سے عماد الدین زنگی کا دل بے حد افسردہ تھا ۔وہ چاہتے تھے کہ انہیں صلیبیوں کو ارضِ مقدس مار بھگانے کا موقع مل جائے۔ امیر مودود کی فوج میں شامل ہو کر انہوں نے صلیبیوں کے خلاف زبردست لڑائیاں لڑیں، ان لڑائیوں میں بلاد شچیستان، ایڈیسہ اور طبریہ کے معر کے مشہور ہیں۔

507ھ بمطابق 1113ء میں طبریہ کا معرکہ پیش آیا عماد الدین زنگی اس جنگ میں نہایت بہادری سے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے شہر کے دروازے تک پہنچ گئے اور اس میں اپنا نیزہ گاڑ دیا ان معرکوں کے نتیجے میں عماد الدین کی دھاک ہر طرف بیٹھ گئی اور صلیبی ان کے نام سے خوف کھانے لگے۔

Check Also

The Zangi Dynasty – Part 2

سلطان عمادالدین زنگی نے "بعرین"کی جنگ میں یروشلم کے بادشاہ "فالک" کوشکت دیتے ہوئے، ایک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms