چنگیز خان تاریخ کا وہ عظیم فاتح ہے جسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قاتل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہی وہ خانہ بدوش منگول تھا جو صحرا سے اُٹھا اور اپنی فوجوں کے ساتھ ایشیا کو روندتا ہوا یورپ تک جا پہنچا۔ اس مضمون میں چنگیز خان کی زندگی سے متعلق پانچ ایسے حقائق پیش کیے جا رہے ہیں جو کم ہی لوگوں کے علم میں ہیں۔
5۔ چنگیز خان بچپن ہی سے قاتل تھا
جب چنگیز خان ایک چھوٹا بچہ تھا، تو اس کا قبیلہ سخت مالی مشکلات سے گزر رہا تھا، جس کی وجہ سے تیموجن کو اپنے کھانے کا بندوبست خود کرنا پڑتا تھا۔ تیموجن کی ماں کے 4 بیٹے تھے جن میں سے 2 اس کے سوتیلے بھائی تھے۔ ایک دن جب چاروں بھائی مچھلی کے شکار پر تھے تو تیموجن کے چھوٹے بھائی نے تیموجن کی مچھلی چُرا لی۔ جب تیموجن کو اس چوری کا علم ہوا تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے تیر مار کر اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ یوں چنگیز خان نے قتل و غارت کی ابتدا اپنے بچپن ہی سے کر دی تھی۔
4۔ چنگیز خان کا وہ دشمن جسے اس نے اپنی فوج کا جنرل بنایا
چنگیز خان کا فوجی نظام انتہائی مضبوط تھا، جہاں منگول سپاہی اپنی قابلیت پر ہی ترقی کیا کرتے تھے۔ لیکن چنگیز خان کی فوج کا ایک جنرل ایسا بھی تھا جس نے چنگیز خان پر تیروں سے حملہ کیا تھا، لیکن چنگیز خان نے اسے اپنی فوج کا جنرل بنا دیا۔
1201ء میں جب چنگیز خان اپنے ہمسائے قبیلے تائیجوت سے جنگ لڑ رہا تھا تو وہاں اس کے گھوڑے کو دشمن کے ایک سپاہی نے تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ بعض مؤرخین کے مطابق تیر چنگیز خان کی ٹانگ میں لگا تھا۔ جس کے بعد چنگیز خان نے دشمن سپاہیوں کو جمع کر کے ان سے پوچھا کہ اس پر تیر کس نے چلایا تھا۔ تو ایک سپاہی کھڑا ہوا اور اس نے بنا ڈرے چنگیز خان سے کہا کہ تیر اس نے خود چلایا تھا۔ چنگیز خان اس کی بہادری سے بے حد متاثر ہوا اور اسے اپنی فوج کا جنرل بنا دیا، اور اسے جیبی کا نام دیا۔ یہی وہ جیبی نویان تھا جو چنگیز خان کے دوسرے جنرل صوبوتائے کے ساتھ 20 ہزار کی فوج کے ساتھ یورپ پر حملہ آور ہوا اور کئی ایک شہروں کو فتح کرتا ہوا ایک بہت بڑے خزانے کے ساتھ واپس چنگیز خان کے پاس پہنچا۔
3۔ چنگیز خان کی قبر کہاں موجود ہے؟
چنگیز خان کی زندگی کا سب سے بڑا راز اس کی قبر ہے۔ چنگیز خان کی موت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ مؤرخین کے مطابق چنگیز خان کی موت 1227ء میں گھوڑے سے گرنے والی چوٹوں سے ہوئی تھی، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ایک جنگ میں تیر اس کے گھٹنے میں لگا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی تھی۔ لیکن چنگیز خان کی موت جیسے بھی ہوئی، اس نے اپنی قبر کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کے جنازے کے جلوس میں شامل ہر شخص کو قتل کر دیا گیا تاکہ کوئی بھی اس کی قبر کے بارے میں نہ جان سکے، پھر اس کی قبر پر گھوڑے دوڑائے گئے جس سے اس کی قبر زمین کے برابر ہو گئی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر منگولین پہاڑ "برخان خلدون" میں ہے، لیکن آج تک اس کی قبر کا نشان نہ تو اس پہاڑ اور نہ ہی منگولیا کے کسی اور علاقے سے ملا۔
2۔ جب منگولیا سے چنگیز خان کا نام و نشان مٹانے کی مہم چلی
منگولیا میں چنگیز خان ایک قومی ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن 20ویں صدی میں سوویت حکومت نے منگولیا میں چنگیز خان کے نام پر پابندی لگا دی۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں چنگیز خان کی تاریخ کو بند کر دیا گیا اور اس کی جائے پیدائش پر جانے کی بھی پابندی لگا دی گئی۔ لیکن 1990ء کے اوائل میں جب منگولیا نے سوویت روس سے آزادی حاصل کی تو انہوں نے چنگیز خان کی تصاویر کو ملکی کرنسی میں شامل کیا، اور منگولیا کے ایک ائیرپورٹ "الان باتور" کا نام "چنگیز خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ" رکھا۔
1۔ چنگیز خان اپنے بدترین دشمنوں کی آنکھوں اور کانوں میں چاندی پگھلا کر کیوں ڈالا کرتا تھا؟
چنگیز خان اپنے دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتا تھا، اس حوالے سے بہت سی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چنگیز خان حملے سے پہلے دشمن کو ہتھیار ڈالنے کی مہلت دیا کرتا تھا۔ اگر دشمن ایسا کرتا تو وہ چنگیز خان کے قہر سے بچ جایا کرتا۔
اس سے چنگیز خان کو یہ فائدہ پہنچتا کہ وہ ایک سپاہی قتل کروائے بغیر دشمن کو اپنی فوج کے ساتھ ملا لیا کرتا۔ لیکن اگر کوئی دشمن چنگیز خان سے ذاتی دشمنی کرتا تو اس کے لیے چنگیز خان بہت ظالمانہ طریقے سے پیش آتا۔
ایسا ہی ایک واقعہ تب پیش آیا جب چنگیز خان کا ایک قافلہ جو 500 افراد پر مشتمل تھا، خوارزمی سلطنت کے ایک شہر میں تجارت کر رہا تھا۔ اس شہر کے گورنر "انالجق" نے ان 500 سوداگروں کو جو چنگیز خان کی طرف سے خوارزم میں تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے، انہیں جاسوس سمجھ کر قتل کر دیا۔ تو پھر چنگیز خان آندھی اور طوفان کی طرح خوارزمی سلطنت پر حملہ آور ہوا، اور شہروں کو تباہ کرتا ہوا جب وہ اترار شہر پہنچا جہاں کا گورنر "انالجق" تھا، تو یہاں چنگیز خان نے ذاتی طور پر شہر کا محاصرہ کروایا اور گورنر کو زندہ پکڑنے کا حکم دیا۔ فتح کے بعد گورنر کو چنگیز خان کے پاس لایا گیا، تو چنگیز خان نے چاندی پگھلا کر انالجق کی آنکھوں اور کانوں میں ڈلوا دی جس سے انالجق کی موت ہو گئی۔
نتیجہ
چنگیز خان کی زندگی اپنی فتوحات، سفاکی اور پُراسرار پہلوؤں کی وجہ سے آج بھی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے۔ اپنے بچپن کے واقعات سے لے کر خوارزمی سلطنت کی تباہی تک، اس کے بے شمار قصے اسے ایک ایسی شخصیت بناتے ہیں جس کا نام آج بھی عظمت اور دہشت دونوں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
History In Urdu