Top 5 Strong Pathan Khan

دوستو ہم نے اکثر پٹھانوں کو لطیفوں کی حد تک جانا ہے لیکن یقین کیجیے کہ یہ بڑی جفا کش،بہادُر اور غیور قوم ہے۔آج کی اس ویڈیو ہم پٹھان قوم کے 5 طاقتور ترین بادشاہوں کا آپ سے زکر کریں گے۔

5-)بہلول لودھی۔

بہلول لودھی برصغیر میں لودھی سلطنت کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے اس سلطنت کی بنیاد رکھی تھی۔بہلول لودھی کی پیدائیش 1400ءمیں ہوئی۔

لودھی در اصل افغانستان کے غلزئی قبیلے کی ایک شاخ کا نام ہے۔سلطان محمود غزنوی کے ہندستان پر حملوں سے قبل اس قبیلے کا ایک خاندان ملتان آکر آباد ہو چکا تھا۔

بہلول لودھی نے جب جوانی میں قدم رکھا تو اس وقت دہلی پر تغلق خاندان کے آخری حکمران فیروز شاہ تغلق کی حکومت تھی ،جن کی موت کے بعد امیرِ تیمورنے دہلی پر حملہ کر دیا تھا ،اور جاتے وقت انہوں نے خضر خان حاکمِ ملتان کو ہندستان میں اپنا نائب بنا دیا۔

1412ءمیں خضر خان نے دہلی پر چڑھائی کر کے وہاں اپنی سلطنت کا آغاز کیا جو سید خاندان کی حکومت کہلاتی تھی۔

لیکن خضر خان کی موت کے بعد سلطان بہلول لودھی نے آخری سانسیں لیتی ہوئی دہلی سلطنت پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا ،اور 855ھ/بمطابق1526ءمیں بہلول لودھی دہلی سلطنت کے فرمانروا بنے،اور 1451ءسے 1526ءتک لودھی سلطنت کے حکمران رہے۔

حکمران بننے کے بعد ان کی زندگی کا بڑا حصہ جونپور کے مسلمان حکمران "محمودشرقی"سے جنگوں میں گزرا۔محمود شرقی نے کبھی بھی سلطان بہلول لودھی کو سُکھ کا سانس نہ لینے دیا۔

اپنی زندگی کے آخری سال 1489ء میں انہوں نے ایک گوالیار کے ہندو راجا کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی جس کے بعد سلطان بہلول لودھی وفات پا گئے۔

4-)علاؤالدین خلجی۔

علاؤالدین خلجی خلجی سلطنت کے دوسرے پٹھان حکمران تھے۔علاؤالدین خلجی کا شمار بہترین انتظامی صلاحیت رکھنےوالے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔آپ نے نہ صرف یہ کہ مملکت کی سرحدیں وسیع کر دیں بلکہ ہندستان کو منگولوں کے حملوں سے بھی بچایا۔

علاؤالدین خلجی689ھ/بمطابق1290ءکو خلجی سلطنت کے دوسرے حکمران بنے۔

حکومت حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے ان کا مقابلہ ایک ہندو راجا رام دیو سے ہوا۔خون ریز معرکہ ہوا جس کے بعد فتح علاؤالدین خلجی کو نصیب ہوئی ،اور ہندو راجا نے بھاری تاوان ادا کیا۔

پھر منگولوں کا ایک بڑا لشکر 698ھ/بمطابق1298ء کو برصغیر پر حملہ آور ہوا۔یہاں علاؤالدین خلجی کے بھائی الغ خان اور ظفر خان نے گھات لگا کر حملہ کیا اور منگولوں کو شکست ہوئی۔اس کے بعد علاؤالدین خلجی نے چند اور سرکش ہندو راجاؤں کو مطیع کیا،لیکن اسی سال کے آخر میں منگولوں نے برصغیر پر دوسرا حملہ کردیا،اور انہوں نے دہلی شہر کا محاصرہ شروع کر دیا۔سلطان اس وقت گجرات میں جنگ میں مصروف تھے ،علاؤالدین خلجی برق رفتاری کے ساتھ دہلی پہنچے اور دہلی شہر سے تھوڑی دور کیلی کے مقام پر جنگ ہوئی جس میں منگولوں کو عبرت ناک شکست ہوئی اور انکا خان مارا گیا۔لیکن اس کےبعد بھی منگولوں نے حملے جار ی رکھے لیکن ان حملوں میں منگولوں ہی کو شکست ہوئی۔

سلطان علاؤالدین خلجی کے دورِ حکومت میں نظام عدل اپنے عروج پہ تھا،اور اشیاء خود و نوش کی قیمتیں کنٹرول میں تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ جب سلطان علاؤالدین خلجی نے دیو گڑھ کو فتح کیا،تو انہوں نے واپس دہلی جانے کے لیے جب وہ 17رمضان المبارک698ھ/بمطابق19جولائی1296ءمیں دریائے جمناپہنچے تو ابھی انکی گفتگو جاری ہی تھی کہ چند سر کشوں نے ان پر حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا ۔

3-)شیر شاہ سوری۔

شیر شاہ سوری جن کا اصل نام فرید خان تھا۔لیکن دنیا انہیں شیر شاہ سوری کے نام سے جانتی ہے۔شیر شاہ سوری 1472ءمیں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق افغان قبیلے "سور"سے ہے۔یہ قبیلہ روہ کے علاقے میں آباد تھا۔روہ سے مراد کابل سے قندھار تک کا علاقہ ہے۔

سلطان بہلول لودھی کی حکومت کے دوران ہی شیر شاہ سوری کے دادا نے روہ سے ہجرت کی اور برصغیر چلے آئے۔

شیر شاہ سوری نے جب جوانی میں قدم رکھا تو انہوں نے اپنے والد کی جاگیروں کا انتظام سنبھالا۔

رجب 932ھ/بمطابق اپریل 1526ءمیں جب پانی پت کی جنگ شروع ہوئی تو، فرید خان بہار کے حاکم،بہادر خان کے ملازم ہو گئے تھے،بہادر خان نے اپنے لیے سلطان محمد کا لقب پسند کیا۔

ایک دن سلطان محمد شکار کے لیے جنگل کی طرف نکل پڑے۔تو فرید خان بھی ان کے ساتھ تھے۔کہ اچانک ایک طرف سے قوی الجثہ شیر نکل کر سلطان پر حملہ آور ہو۔سلطان محمد اس حملے سے گھبرا گئے،لیکن فرید خان بلکل نہ گھبرائے اور انہوں نے آگے بڑھ کر ایک ہی وار سے اُس شیر کا کام تمام کر دیا۔سلطان محمد فرید خان کی اس بہادری سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوں نے فرید خان کو "شیر خان "کا خطاب دیا۔

اور دیکھتے ہی دیکھتے سلطان محمد نے ان کو بہت سے علاقے دے دیے۔جب سلطان محمد کی وفات ہو گئی تو ان کی ساری حکومت شیر شاہ سوری کے ہاتھ میں آگئی۔

اُدھر مغلیہ سلطنت کےبانی "ظہیر الدین بار"1530ءمیں وفات پا گئے۔تو انکی جگہ انکے بیٹے ہمائیوں نے تخت سنبھالا۔اس وقت تک شیر شاہ سوری کی حکومت کافی وسیع ہو چکی تھی۔ انہوں نے ہمائیوں کے خلاف جنگ لڑی اور فتح کے بعد انہوں نے برصغیر پر اپنی حکمرانی قائم کی۔انہوں نے اپنی حکومت قائم کی اور اس میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔

شیر شاہ سوری اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے برصغیر کے "نپولین"کہلائے۔شیر شاہ سوری نے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔

شیر شاہ سوری نے آخری جنگ کالنجر کے راجہ کیرت سنگھ کے خلاف لڑی اور اس جنگ میں جب ایک بارو دکا گولہ قلعہ کی دیوار سے ٹکرا کر واپس اس جگہ گرا جہاں بارود کا زخیرہ تھا تو اس دھماکے کی وجہ سے شیر شاہ سوری شدید زخمی ہو گئے۔اور اگلے دن عصر کی نماز کے وقت جب فتح کی خوشخبری انکو سنائی گئی تو شیر شاہ سوری کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور انکی زبان پر کلمہ شہادت جاری ہو گیا،اور یوں 952ھ/بمطابق1548ءمیں اس عظیم حکمران نے دنیا کو خیر آباد کہ دیا۔

2-)احمد شاہ ابدالی۔

احمد شاہ درانی جنہیں احمد شاہ ابدالی بھی کہا جاتا ہے ،آپ افغانستان میں درانی سلطنت کے بانی اور جدید افغانستان کے بانی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

احمد شاہ ابدالی 1722ءمیں ہرات کے ایک قبیلے ابدالی کے سردار کے ہاں پیدا ہوئے۔جب احمد شاہ ابدالی نے جوانی میں قدم رکھا تو اُس وقت ایران میں "نادر شاہ افشانی"کی حکومت قائم تھی جو روز بروز طاقت پکڑتی جا رہی تھی۔

نادر شاہ نے ابدالیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنا شروع کیا تو احمد شاہ ابدالی بھی انکی فوج میں شامل ہو گئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی وفاداری اور بہادری کی وجہ سے وہ نادر شاہ کی آنکھ کا تارا بن گئے۔

1730ءمیں مغلوں کے ہاتھ سے بنگال نکل گیا اور اس دوران مرہٹہ طاقت پکڑنے لگے۔

1739ءمیں نادر شاہ نے برصغیر میں مغل سلطنت پر حملہ کیا۔جس میں مغل بادشاہ کو شکست ہوئی ،اور نادر شاہ نے دہلی کی گلیوں کو خون سے رنگ دیا۔اس جنگ میں نادر شاہ کے ساتھ احمد شاہ ابدالی بھی ایک کمانڈر کی حیثیت سے شامل تھے۔

اس کامیاب حملے کے بعد نادر شاہ واپس ایران چلا گیا،اور 1748ء میں نادر شاہ قتل ہو گیا ،جس کے بعد احمد شاہ ابدالی جو کہ نادر شاہ کی فوج کے ایک کمانڈر تھے انہوں نے اپنی فوج کو ساتھ لیا اور موجودہ افغانستان میں درانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

پھر احمد شاہ ابدالی نے پنجاب میں موجود سکھوں پر حملہ کر کے ان سے سندھ کا علاقہ چھین لیا۔اس دوران ہندستان میں مغلیہ سلطنت سمٹ کر صرف دہلی تک محدود ہو چکی تھی اورمرہٹے آئے دن مسلمانوں پر ظالمانہ حملے کیے جا رہے تھے۔

تو مغل شہنشاہ عالمگیر نے احمد شاہ ابدالی کو مدد کے لیے خط لکھا۔پھر کیا تھا افغان پٹھان اپنی لاتعداد فوجوں کے ساتھ مرہٹوں کی طاقت کو کچلنے کے لیے ہندستان نکل پڑے۔ہندستان میں انہوں نے اودھ اور حیدر آباد کی مسلمان ریاستوں سے اتحاد کیا اور اپنی فوجوں کے ساتھ 1761ءمیں پانی پت کے مقام پرپرہٹوں سے جنگ لڑی۔اس جنگ میں افغان پٹھانوں نے بڑی بہادر سے مرہٹوں پر پے درپے حملے کیے اور ہزاروں کی تعداد میں مرہٹے یا تو مارے گئے یا قید کر لیے گئے ۔اور احمد شاہ ابدالی کو اس جنگ میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔جس کے بعد مرہٹوں نے مغلوں کی سلطنت انہیں واپس کر دی۔

اس کامیاب فتح کے بعد احمد شاہ ابدالی واپس افغانستان چلے گئے۔انہوں نے پھر پنجاب کے سیکھوں کے خلاف ایک فوج روانہ کی لیکن اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد ،16اکتوبر1772ءمیں احمد شاہ ابدالی کا انتقال ہو گیا۔اور یوں افغان پٹھان ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گئے۔

1-)ملا محمد عمر۔

اور آخر میں طاقتور ترین پٹھان حکمران ملا محمد عمر تھے،یہ وہ ملا محمد عمر ہیں جنہوں نے عظیم(یو ایس ایس ر)یعنی کہ سو ویت یونین اور امریکہ بہادر سمیت دنیا کی 48 فوجوں کو زلت آمیز شکست سے دوچا کیاتھا۔

ملا محمد عمر1960ء میں افغانستان کے صوبہ قندھار کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔

جب انہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو انہوں نے اپنی سر زمین پر روس کی فوجوں کو پایا ،تو انہوں نے روسی جارحیت کے خلاف جہاد کا اعلان کیا،اور مزید افغان مجاہدوں کے ساتھ انہوں نے آزادی کی جنگ جاری رکھی ،یہاں تک کہ 1989ءمیں روسی فوجیں شکست کھا کر واپس چلی گئیں۔

روس کے جانے کے بعد ملا محمد عمر نے افغانستان میں پھیلی بد امنی پر قابو پایا ،اور تمام شر پسن عناصر کو ختم کر دیا۔1994میں ملا محمد عمر نے طالبان کی ایک جماعت بنائی۔جس کا کام اسلامی امارت کا قیام او ر شریعت کا نفاز تھا۔

ملا محمد عمر کی حکومت آنے کی دیر تھی کہ وہ افغانستان جو دنیا کی 90٪منشیات پیدا کرتا تھا،وہ اب 0٪پر آگیا ۔امن و امان کا ایک نیا دور شروع ہوا۔لیکن دشمنوں کو اسلامی حکومت کب پسند تھی،

کہ 2001ءمیں امیرکہ نے خود "نائین الیون"کا حملہ کروا کر افغانستان پر حملہ کر دیا ۔اور اس حملے کے بعد افغانستان میں ملا محمد عمر کی حکومت ختم ہو گئی ۔لیکن افغان طالبان دشمنوں کے خلاف لڑتے رہے۔اس دواران ملا محمد عمر روپوش ہو گئے،اور اسی روپوشی کی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن انکی بنائی ہوئی تحریک نے 20 سال کی طویل جنگ کے بعد دنیا کی طاقت ور ترین فوج کو زلیل و رسوا کر کے 30آگست 2021 کو افغان سر زمین سے نکال دیا۔

Check Also

Top5 Facts G

چنگیز خان جو تاریخ میں عظیم فاتح کے ساتھ ساتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms