Top 5 Most Strong Sultans

ستاریخِ اسلام کے 5طاقتور ترین سلطان جن کے نام ہی سے دشمنوں کانپ جاتے تھے۔

5)سلطان ملک شاہ سلجوقی۔

سلطان ملک شاہ سلجوقی سلجوقی سلطنت کے تیسرے سلطان تھے۔ ان کے والد سلطان الپ ارسلان تھے۔ جنہوں نے ملازگرد کی جنگ میں قیصرِ روم کو شکست فاش دی تھی۔

سلطان ملک شاہ کو بجا طور پر سلجوقی عہد کا سب سے درخشاں ستارہ کہا جاتا تھا،کیونکہ ان کے دور میں سلجوقی سلطنت عالمِ اسلام کی طاقت ور ترین سلطنت بن گئی تھی۔

سلطان ملک شاہ نے 1072ء سے لے کر 1092ءتک تیسرے سلجوقی سلطان کی حیثیت سے سلجوقی سلطنت کے سلطان رہے۔ سلطان ملک شاہ کی حکومت کی تصدیق عباسی خلیفہ قائم بااللہ نے خود کی ،جس کے بعد سلطان کے نام کا سکہ اور خطبہ ساری سلجوقی سلطنت میں جاری کیا گیا۔سلطان ملک شاہ کا دورِ حکومت علمی ترقی،سیاسی عروج اور دینی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

سلطان ملک شاہ کے عہد میں نہ صرف پورے دمشق کو سلجوقی سلطنت میں شامل کر لیا گیا بلکہ،ترکستان کو بھی فتح کر کے اسلامی جھنڈا ساحلِ شام تک لہرا دیا۔

سلطان ملک شاہ کا عہد امن و امان کا عہد تھا۔سلطان ملک شاہ سلجوقی بلا کے بہادر اور ذہین سلطان تھے۔

لیکن 1092ءمیں انکی وفات کے بعد سلطنت ذوال کا شکار ہو کر مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئی۔

4)سلطان نور الدین زنگی۔

سلطان نور الدین زنگی جن کا اصل نام "ابو القا سم محمود"ہے۔ زنگی سلطنت کے دوسرے سلطان تھے۔

نور الدین زنگی کی سلطنت موجودہ لیبیا سے لے کر مصر

کے ساحل تک پھیلی ہوئی تھی۔

سلطان بننے کے بعد نور الدین زنگی کا اصل مقصد بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کروانا تھا۔اس کے لیے انہوں نے اپنی سلطنت کو مظبوط کیا اور دار الحکومت کو حلب سے دمشق منتقل کیا۔

پھر سلطان نور الدین زنگی نے فوجی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملہ کر کے اس کے کئی قلعوں پر قبضہ کر لیا۔عیسائیوں نے جوابی حملے میں سلطان سے دمشق چھیننا چاہا لیکن سلطان نے انہیں شکست دی۔

564ءمیں سلطان نور الدین زنگی نے ایک فوج بھیج کر مصر پر قبضہ کر ل لیا،اور فاطمی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔اس فتح کے بعد سلطان نور الدین زنگی بیت المقدس کو فتح کرنے کی تیاریاں کرنے لگے ،لیکن انہکی انہی تیاریوں کے دوران ایک دن حشاشین نے عیسائیوں کے کہنے پر سلطان کے کھانے میں زہر ملا دیا۔جس سے کہ سلطان کی موت واقع ہو گئی اور مسلمان ایک عظیم سلطان سے محروم ہو گئے۔

3)سلطان محمود غزنوی۔

سلطان محمور غزنوی جو کہ غزنوی سلطنت کے پہلے آزاد حکمران تھے،اور جو بت شکن کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔سلطان محمور غزنوی کی سطنت اس وقت کے وسیع ترین سلطنت تھی،انکی سلطنت کی سر حدیں شمال مغربی ایران سے لے کر برصغیر میں پنجاب تک،ماوراء النہر میں خوارزمسے مکران تک پھیلی ہوئی تھی۔

سلطان محمور غزنوی کو اسلامی تاریخ کے چند عظیم ترین جرنیلوں میں شامل کی جاتا ہے۔آپکی فوج کی تعداد کم و پیش ایک لاکھ تھی۔

سلطان محمور غزنوی کی سب سے بڑی شہرت ہندستان پر 17 حملے تھے۔ان 17 حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ انکا آخری حملہ تھا۔

اکتوبر 1025ءمیں سلطان محمور غزنوی 20 ہزار کی فوج کے ساتھ غزنی سے روانہ ہوئے۔3ماہ کے طویل سفر کے بعد جنوری 1026ء میں انہوں نے سومنات کے مندر کے قریب پڑاؤ ڈالا۔

ہندستان کے طول و عرض سے ہندو راجے اور راجوڑے اپنی اپنی فوج کے ساتھ میدانِ جنگ میں موجود تھے۔جنگ کا آغاز ہوا اور خون ریز معرکے کے بعد سلطان محمور غزنوی فتح یاب ہوئے۔اس جنگ کے بعد سلطان نے سومنات کا مندر بھی توڑ ڈالا۔

اس فتح کے بعد سلطان سلطان محمور غزنوی بیمار پڑ گئے اور انہوں نے 1029ء میں اپنی زندگی کی آخری جنگ ایرانی شہر رے میں لڑی۔جہاں انہوں نے آلِ بویہ کو شکست دی تھی۔

30 اپریل 1030ء میں آپ نے وفات پائی۔

2)سلطان صلاح الدین ایوبیؒ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی ایوبی سلطنت کے بانی تھے ۔آپ نی صرف تاریخِ اسلام بلکہ تاریخِ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی 1138ءمیں عراق کے ایک شہر تکریت میں پیدا ہوئے تھے۔آپکی سلطنت میں مصر،شام،عراق،یمن، حجاز اور دیارِ بکر شامل تھے۔

حکومت میں آنے کے بعد آپ نے سب سے پہلے عیسائیوں کے ظلم کے خلاف جہاز کا اعلان کیا،اور اس اعلان کے بعد عیسائیوں اور مسلمانوں میں حطین کی جنگ ہوئی ،جو کہ تاریخ کی مشہور ترین جنگوں میں سے ایک جنگ ہے۔

اس جنگ میں فتح سلطان صلاح الدین ایوبی کو حاصل ہوئی۔جبکہ اس جنگ میں 30 ہزار عیسائی ہلاک اور تقریباً اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔جبکہ اس کے علاوہ کئی ایک قائیدین بھی جنگی قیدی بنے ان میں سے ایک قلعہ دار رینالڈ تھا جسے سلطان نے خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا۔

اس جنگ کے ایک ہفتے کے بعد سلطان نے بیت المقدس کو عیسائیوں سے آزاد کروا لیا۔یوں 88 سال کے طویل عرصے کے بعد بیت المقدس پر اسلامی پرچم لہرایا گیا۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی فتح کے بعد کسی ایک عیسائی کو بھی قتل نہ کیا بلکہ انہیں امن و امان کے ساتھ جانے دیا۔

اس عظیم فتح کے بعد تیسری صلیبی جنگ کا آغاز ہو گیا۔اس جنگ میں عیسائی فوج کی تعداد 6 لاکھ تھی۔ لیکن اس لاتعداد فوج کے سامنے بھی سلطان ثابت قدمی کے استھ کھڑے رہے اور انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔عیسائی عکہ شہر کے علاوہ کسی اور جگہ پر قبضہ نہ کر سکے ۔اور آکر کار عیسائیوں کو ناکام واپس جانا پڑا۔

اس عظیم فتح کے چند ماہ بعد ہر دل عزیز سلطان صلاح الدین ایوبی کی وفات ہو گئی۔

1)سلطان سلیمان القانونی۔

سلطان سلیمان جنہیں تاریخ سلیمانِ اعظم اور سلیمان القانونی کے نام سے یا د کرتی ہے ،سلطنتِ عثمانیہ کے دسویں طاقتور ترین سلطان تھے۔سلطان سلیمان کا دورِ حکومت 1520ءسے1566تک محیت ہے۔آپ بلاشبہ سلطنتِ عثمانیہ کے طاقتور ترین حکمران تھے،آپ کےعدل و انصاف اور بے مثال انتظامی صلاحیت ہی کی بدولت سلطنتِ عثمانیہ دنیا کی طاقتور ترین سلطنت بن گئی تھی۔

سلطان سلیمان نے قانون سازی کا جو کام کی اس وجہ سے تُرک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں،جبکہ مغربی مورخین انکی شخصیت کا اس قدر احترام کرتے ہیں کہ وہ انہیں"سلیمان ذیشان، سلیمان عالیشان اور سلیمانِ اعظم کہ کر پکارتے ہیں۔

آپ کا دور سلطنت عثمانیہ کے عروج کا دور تھا جو آپکے ساتھ ہی ختم ہو گیا،اور پھر کبھی بھی سلطنت کی سرحدوں میں اضافہ نہ ہو سکا بلکہ بعد کے عثمانی سلاطین عثمانی سلطنت کے کئی ایک حصے دشمنوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھے۔

آپ کی فتوحات میں بلغراد کی فتح،فتحِ رہوڈس،ہینگری کی فتح،جیسی فتوحات شامل ہیں۔

آپ نے عیسائیوں کو پے درپے شکستیں دے کر انہیں فتح کر لیا تھا۔

1565ءمیں آسٹریا کے ساتھ جنگ چھڑ گئی اور دوران سلطان بیمار تھے،لیکن پھر بھی وہ جنگ میں شامل ہوئے۔اور جب عثمانی فوجوں نے آسٹیا کے ایک قلعے سگتوار کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اُس وقت 6 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب کو سلطان سلیمان کا انتقال ہو گیا۔

Check Also

Top5 Facts G

چنگیز خان جو تاریخ میں عظیم فاتح کے ساتھ ساتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms