Sultan Suleiman the Magnificent – Part 8

پندرھویں صدی عیسوی سلطنت عثمانیہ کے عروج کی صدی تھی، ان دو صدیوں میں عثمانی تُرکوں نےبازنطینی سلطنت کی باقیات کو ختم کرتے ہوئے قسطنطنیہ کو فتح کر لیا تھا۔عثمانی ترکوں نے اناطولیہ میں موجود اپنے حریف قبائل کو زیر کرتے ہوئے انہیں اپنے ماتحت کر لیا تھا۔ مشرقی یورپ میں وہ فتوحات حاصل کرتے ہوئے ہینگری تک جا پہنچے۔ مصر جو چھ صدیوں تک طاقتور ترین سلطنتوں کا مرکز رہا۔ اب ایک عثمانی صوبہ بن چکا تھا۔ "مہاچ" کی جنگ میں شکست کےبعد ہینگری کی 150سالہ بادشاہت کا سلطان سلیمان نے خاتمہ کر دیا تھا۔ آج کی اس ویڈیو میں ہم مالٹا کی عظیم مہم اور سلطان سلیمان کی زندگی کی آخری چند جنگی کاروائیوں کا ذکر کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ہم سلطان سلیمان کی موت اور سلطان سلیمان سے ہونے والی چند غلطیاں جو کہ آنے والے دور میں سلطنت عثمانیہ کو مزید زوال کی پستی میں لے جائیں گی ان پر بھی تفصیل سےذکر کریں گے۔

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ پر ہماری گزشتہ ویڈیو میں ہم نے جس آخری بحری جنگ کاذکر کیا تھا وہ "پرویزا" کی جنگ تھی۔ اس جنگ میں فتح کے بعد خیر الدین بار بروسہ نے مونٹی نیگرو کے چند اور شہروں پر قبضہ کرتے ہوئےوہ واپس دار الحکومت "استمبول" میں سلطان سلیمان کے پاس چلے گئے، اس دوران انہوں نے سمندروں پر اپنی ہیجمنی قائم رکھنے کے لیے اپنے ایک چیف لیفٹیننٹ اور پرویزا کی جنگ کے ایک انتہائی تجربے کار سالار ترگت رئیس کو مغربی بحیر روم میں عیسائیوں کے جہازوں اور بندر گاہوں پر حملے کے لیے روانہ کیا۔ ترگت رئیس نے شروع میں تو سپین کے ساحلی علاقوں پر کامیاب چھاپے مارے اور اس نے 1540 عیسوی میں سسلی، سپین اور کارسیکا کے ساحلی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ لیکن جون میں گیرو لاٹا کے جزیرے میں عیسائی اتحادیوں جن میں وینس اور ہسپانیہ کی بحریہ شامل تھی نے گھات لگا کر ترغت پر حملہ کیا اور اس کے پورے بیڑے کو پکڑ لیا گیا جبکہ طورغوت کو یرغمال بنا کر جینوا بھیج دیا گیا۔ اس دوران وینس نے اپنے نقصانات سے دل برداشتہ ہو کر عثمانی سلطان سلیمان کے ساتھ ایک علیحدہ امن معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کی وجہ سے شہنشاہ چارلس پنجم کی طاقت کسی حد تک کمزور ہو گئی۔ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ ستمبر 1540ء میں اس نے باربروسہ کو ایک خفیہ خط بھیجا تھا۔ جس میں اسے فریق بدلنے کا موقع فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن خیر الدین بار بھروسہ نے اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے ترک امیر البحر کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا اس نے حکم دیا کہ شہنشاہ چارلس کی سلطنت کے جنوبی بندرگاہوں پر جنگی کاروائیوں کو تیز کر دیا جائے۔

جس پر شہنشاہ چارلس نے ترکوں کے آئے روز حملوں سے تنگ آ کر شمالی افریقہ میں عثمانی مقبوضات پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا اور 1541 عیسوی میں اس نے الجزائر کے لیے جنگی مہم شروع کی۔ جبکہ وہ خود اس مہم کی قیادت کر رہا تھا۔

اس وقت الجزائر کی حکومت خیرالدین بار بروسہ کے ایک اور جان نثار حسن آغا کے پاس تھی۔ جس کے پاس اس وقت صرف ایک ہزار سپاہی موجود تھے۔ بدقسمتی سے عیسائیوں کے لیے یہ موسم انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ کیونکہ اس سال بارشیں کچھ زیادہ ہوئیں اور سردی میں شدت شروع ہو گئی بارشوں اور طوفانوں نے ان کے بحری بیڑوں کو کافی نقصان پہنچایا۔ پھر بھی چارلس کی فوج الجزائرمیں اترنے اور محاصرہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ اس محاصرے کے دوران بربر فوج نے عثمانی ترکوں کی مدد کرتے ہوئے عیسائی لشکر پر دن رات چھاپے مار کر انہیں نفسیاتی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی بالاخر بربر قوم کے حملے، موسم کی شدت کی وجہ سے نومبر میں چارلس نے اپنے لشکر کو محاصرہ ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے وہ واپس اسپین کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ الجزائر کو فتح کرنے کے خواب میں اس نے اپنی آدھی فوج سمندر، ترکوں اور بربروں کے ہاتھوں ضائع کر دی تھی۔

اس دوران خیر الدین بار بروسہ کو جب اپنے عظیم کمانڈر کی جینوا میں قید ہونے کی خبر ملی تو وہ سلطان سلیمان کے حکم پر اپنے بحری بیڑوں کے ساتھ بحیرہ روم میں داخل ہوا اور اس نے اسپین کہ مغربی ساحل کے ساتھ ساحلی علاقوں پر چھاپے مارے۔ جون کے آخر تک وہ روم کے پاس پہنچ چکا تھا۔ جبکہ اگست 1543ء میں بار بروسہ عثمانیوں کے یورپ میں سب سے بڑے حلیف فرانس کے بادشاہ فرانسیس اول کی فوج کی مدد سے انہوں نے نائس شہر کا محاصرہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا اور آخر کار مہینوں کے بعد خیر الدین باربروسہ کی دھمکی سے خوفزدہ ہو کر جینوا میں اینڈریا ڈوریا نے عثمانی کمانڈر ترغوت کو رہا کر دیا۔ خیر الدین بار بروسہ نے اسے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر طورغوت کو جلد از جلد رہا نہ کیا گیا تو جینوا جو کہ ڈوریا کا وطن ہے برباد کر دیا جائے گا ۔جس پر ڈوریا نے طورغوت کو آزاد کر دیا۔ طورغوت اپنی مہارت فن اور شجاعت میں خیر الدین سے بہت کچھ ملتا جلتا تھا۔ اٹلی اور اسپین کے ساحلی علاقے اس کے نام سے کانپتے تھے۔ جس کے بعد عثمانیوں اور اہل جینوا کے درمیان دشمنی کسی حد تک ختم ہو گئی اور پھر سلطان سلیمان نے باربروسہ کو واپس دارالحکومت "استمبول" بلایا لیکن اس واپسی کے سفر کے دوران ان بے خوف جنگجوؤں نے اطالوی شہروں میں لوٹ مار مچاتے ہوئے بہت سے شہروں کو راکھ میں بدل دیا۔ اس کے بعد خیر الدین بار بروسہ کی وفات ہو گئی اور طورغوت کو سلطان سلیمان نے عثمانی بحریہ کا نیا امیر البحر مقرر کر دیا۔

اس دوران چارلس پنجم جو کہ مالٹا جزیرے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتا تھا اور جس نے یہ جزیرہ عیسائی نائٹس ہاسپٹلز کو دیا تھا، اب وہ اس جزیرے کو عثمانیوں کے قبضے میں جانے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھا۔ کیونکہ اب سلطان سلیمان کا اگلا نشانہ مالٹا کا اہم ترین جزیرہ تھا۔ مالٹا دراصل مبارزین سینٹ جان کے قبضے میں تھا۔ جہاں روڈس سے نکلنے کے بعد انہوں نے یہاںمستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ مبارزین کے جہاز اسپین اور دوسرے مخالف طاقتوں کے بیڑوں کے ساتھ مل کر عثمانی بیڑوں پر حملہ آور ہوتے تھے اور ترکوں سے ان کی جنگ برابر جاری رہتی تھی۔ یہ لوگ سلطنت عثمانیہ کے تجارتی جہازوں پر بھی حملہ آور ہوتے رہتے تھے اور بحیر روم میں لوٹ مار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے مجبوراً سلطان سلیمان کو مالٹا پر حملہ کرنے کا ارادہ کرنا پڑا۔ یہاں پر حملے کا سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ مالٹا میں کثیر تعداد مسلمان غلاموں کی موجود تھی جو کہ وہاں کے عیسائیوں کے مظالم سے تنگ آگئے تھے۔ علاوہ ازیں بحیرروم میں یہ جزیرہ اپنے موقع کے لحاظ سے نہایت اہم تھا۔ جلد سلطان سلیمان نے "طورغوت" کو مالٹا کے نائٹس ہاسپٹلرز کو ختم کرنے کا کام سونپا۔ جس کے بعد 1551ء میں طورغوت رئیس اپنے بحری بیڑوں کے ساتھ مالٹا کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرے "گوزو" کو تو تقریباً تباہ کر دیا اور اس کی پوری آبادی کو غلام بنا لیا۔ تاہم مالٹا کا مرکزی جزیرہ ایک قلعہ بند شہر تھا جس کی وجہ سے نائٹس ہاسپٹلر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے اور ترگت رئیس نے اپنے بحری بیڑے کو طرابلس کی بندرگاہ کی طرف روانہ کرتے ہوئے اس بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ تاکہ وہ یہاں سے مالٹا کے عیسائیوں پر حملے کر سکے۔ اگلے چند سالوں میں طورغوت رئیس نے یہاں پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی جس کی وجہ سے عیسائیوں میں بے چینی پھیلنے لگی اور 1560ء میں عیسائیوں نے ہسپانوی ولی عہد، وینس، جینوا اور دیگر عیسائیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے طرابلس کو عثمانیوں سے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے یہاں پر حملہ کیا۔ تا ہم جربہ کی اس لڑائی میں ترگت نے عیسائیوں کو ایک فیصلہ کن شکست دی۔ اس جنگ میں تقریباً عیسائیوں کے 15 ہزار سپاہی مارے گئے اور بے شمار بحری جہاز پانی میں غرق ہو گئے۔ اب یہ واضح تھا کہ طورغوت جلد ہی مالٹا پر حملہ کرے گا۔

چنانچہ یکم اپریل 1565ء کو سلطان سلیمان نے 181 جہازوں کا ایک زبردست بیڑا 30 ہزار فوج کے ساتھ مصطفیٰ پاشا کی سرکردگی میں قسطنطنیہ سے روانہ کیا 19 مئی کو یہ بیڑا مالٹا پہنچا اور دوسرے ہی روز حملہ شروع ہو گیا۔ جب مصطفیٰ پاشا اپنی فوج کے ساتھ یہاں مالٹا کے محاصرے کے لیے پہنچا۔ تو اس دوران ترگت بھی اپنے بیڑے کے ساتھ مالٹا کی فتح میں شامل ہو چکا تھا 23 جون 1565ء کو قلعہ سینٹ المو فتح ہو گیا۔ لیکن ترکوں کی انتہائی کوشش اور شدید نقصان کے باوجود سینٹ انجلیو اور سینٹ مائیکل کے قلعوں پر قبضہ نہ ہو سکا۔ اس دوران ترکوں کو سب سے بڑا اور شدید صدمہ تب پہنچا، جب اس لڑائی کے دوران سلطنت عثمانیہ کا عظیم الشان امیر البحر ترگت رئیس شہید ہو گیا۔ ترگت رئیس کے شہید ہو جانے کے بعد مصطفیٰ پاشا کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ کیونکہ خیر الدین بار بروسہ کے بعد ترگت رئیس ہی سب سے تجربے کار کمانڈر تھا۔ بالاخر چار ماہ کے مسلسل محاصرے کے بعد ترکوں نے 11 ستمبر 1565ء کو مصطفیٰ پاشا کی سرکردگی میں محاصرہ اٹھا لیا۔ اس محاصرے میں تقریباً 25 ہزار ترک شہید ہوئے اور ان کے مقابلے میں عیسائیوں کے پانچ ہزار سپاہی مارے گئے

تھے۔

جس وقت مالٹا کے محاصرے کو ختم کرنے کی خبر قسطنطنیہ پہنچی، تو سلطان سلیمان آسٹریا سے ایک نئی جنگ کی تیاری کر رہے تھے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہنگری کی حلیف جماعتوں میں پھر نزاع شروع ہو گیا تھا۔ چنانچہ سلطان سلیمان نے بذات خود میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور باوجود اس کے کہ اس وقت سلطان کی عمر 76 سال ہو چکی تھی، زعفِ عمر اور علالت کے باعث وہ گھوڑے پر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ اس لیے سلطان نے پالکی میں سوار ہو کر یکم مئی 1566ء کو فوج کے ساتھ وہ دارالحکومت سے ہینگری کی طرف روانہ ہوئے۔ فوج کی قیادت سوقلولی محمد پاشا کے ہاتھ میں تھی۔ جبکہ بلقان کی مقامی فوج کی قیادت اس کا بھتیجا مصطفیٰ کر رہا تھا۔ جو کہ بوسنیا کا بیلر بے تھا۔ قسطنطنیہ سے روانہ ہونےوالی عثمانی فوج کے لیے نقل و حرکت کافی مشکل تھی۔ یوں یکم مئی کو روانہ ہونے کے بعد سلطان سلیمان اور سوقوللی محمد پاشا کو بلغراد پہنچنے میں پورے 49 دن لگے۔ یہاں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریا کی جنگ نے اس سال مبارزین مالٹا کو ترکوں کے دوسرے بڑے حملے سے محفوظ کر لیا تھا۔ جو یقیناً ان کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوتا۔ 27 جون 1566ء کو سلطان سلیمان یورپ داخل ہوئے جہاں نوجوان سجمنٹ زاپولیا نے جو سلطنت عثمانیہ کے زیر سرپرستی ہینگری اور ٹرانسلینیا کا بادشاہ تھا وہ سلطان کے سامنے حاضر ہوا اور اس نے اطاعت پیش کی۔ سلطان سلیمان ایگر شہر میں ہونے والی اپنی گزشتہ شکست پر بہت برہم تھے، اس لئے اب کی بار انہوں نے بزاتِ خود ایگر کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا، جیسے ہی سلطان سلیمان اور ان کا وزیر ایگر شہر کی طرف مرکزی فوج کے ساتھ روانہ ہوئے، تو اُدھر محمد تراکلی کی کمان میں ایک عثمانی فوج کروشیائی عظیم کمانڈر نکولا "زرینسکی" کے ساتھ نبرد آزما ہوئی۔ یہاں پر اس نے عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عثمانی یہ جنگ ہار گئے۔ فتح کے بعد اس نے عثمانی سنجک بے محمد کو پھانسی دے دی۔ جب یہ خبر سلطان سلیمان کو پہنچی تو سلطان سلیمان سخت برہم ہوئے۔ کیونکہ یہ عثمانی کمانڈر سلطان سلیمان کا انتہائی پسندیدہ کمانڈر تھا اور اس کی پھانسی سلطان نے اپنی توہین سمجھی اب سلطان نے ایگر شہر کو فتح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہ اپنے مرکزی لشکر کے ساتھ اپنے پاشا کا بدلہ لینے کے لیے "زرینسکی" کی طرف روانہ ہوئے۔ چنانچہ پانچ اگست 1566ء کو عثمانی فوجوں نے سیگٹوار شہر کے گرد اپنے خیمے نصب کیے، پانچ روز میں یہ شہر فتح ہو گیا۔ لیکن وہاں کے حاکم زرینی اور اس کے باقی ماندہ 3200 سپاہیوں نے قلعے میں پناہ لی اور وہاں سیاہ علم نصب کر کے اس بات کی قسم کھائی کی جب تک ایک سپاہی بھی زندہ رہے گا ہتھیار نہیں ڈالیں گے،چناچہ ترکوں نے اس قلعے پر تین بڑےحملے کیے، لیکن ہر بار انہیں پسپا ہونا پڑا، بالاخر انہوں نے قلعے کے سب سے بڑے برج کے نیچے سرنگ کھود کر بارود بچھا دیا اور پانچ ستمبر 1566ء کو صبح بارود میں آگ لگا دی، یوں چار روز کی مسلسل گولہ باری کے بعد 8 ستمبر کو یہ قلعہ فتح ہو گیا۔ لیکن پانچ ستمبر کی رات کوہی سلطان سلیمان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ صدر اعظم سو قولولی نے سلطان کی وفات کی خبر بالکل چھپائے رکھی اور اسی کے نام سے وہ تمام احکامات جاری کرتا رہا اس نے پوشیدہ طور پر شہزادہ سلیم کے پاس اس حادثے کی اطلاع بھیج دی تھی اس درمیان میں عثمانی فوجیں جن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔ متعدد مقامات فتح کرتی رہیں وزیراعظم نے سلطان کی لاش پر مصالحہ لگا کر اسے خراب ہونے سے محفوظ کر دیا تھا اور کوچ کے وقت لاش کو پالکی میں رکھ کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جایا جاتا تھا۔ اس نے لشکر میں یہ خبر مشہور کرا دی تھی کہ سلطان علالت کی وجہ سے باہر نکلنے سے معذور ہے۔ اس تدبیر سے اس نے سات ہفتے تک اس کی وفات کو پوشیدہ رکھا اور بالاخر یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ قسطنطنیہ میں شہزاد سلیم تخت پر بیٹھ چکا ہے۔ اس نے 24 اکتوبر 1566ء کو تمام فوج کو جمع کر کے سلطنت عثمانیہ کے آخری طاقتور ترین سلطان سلیمان کی وفات کا اعلان کر کیا۔

سلطان سلیمان کے عہد میں سلطنت عثمانیہ اپنی وسعت، قوت اور خوشحالی کے لحاظ سے حدِ کمال تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد الجزائر، سائپرس اور کریٹ کے علاوہ اس میں بہت کم اہم اور مستقل اضافے ہوئے اس وسیع و عریض سلطنت کا رقبہ 20 لاکھ مربع میل سے زیادہ تھا۔ یہ بودا سے بصرہ تک اور بحیرہ کسپین سے مغربی حصے تک پھیلی ہوئی تھی اور یورپ ایشیاء اور افریقہ کے بہت سے ممالک اس میں شامل تھے۔ سلطان سلیمان کا یہ فخر کوئی بے جا فخر نہ تھا کہ وہ بہت سی مملکتوں کا فرمان روا تین براعظموں کا شہنشاہ اور دو بحروں کا مالک ہے۔

سلطان سلیمان کی عدالت میں ہر طبقہ اور ہر جماعت کے لوگ برابر تھے اور سب کے ساتھ یکساں انصاف کیا جاتا تھا، صوبوں کے گورنر یا دوسرے اعلیٰ حکام جو بے انصافی یا ظلم کا ارتکاب کرتے، فوراً برطرف کر دیے جاتے اور اکثر انہیں اپنے جرائم کی پاداش میں قتل کی سزا ملتی، سلطان سلیمان کو عدل و انصاف کا اس قدر خیال تھا کہ تخت سلطنت پر آتے ہی اس نے پہلا کام یہ کیا کہ بعض حکام کو جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں بدعنوانیاں کرتے تھے، برخاست کر دیا ، اس امر میں وہ کسی شخص کی رعایت نہ کرتا، خواہ وہ شخص سلطان سے کتنا ہی قریبی تعلق رکھتا ہو، چنانچہ فرہاد پاشا کو جو اس کا داماد تھا، سلیمان نے ظلم اور رشوت ستانی کے جرم میں ایک صوبے کی حکومت سے اسےمعزول کر دیا۔ فرہاد پاشا کی بیوی اور سلطان سلیمان کی ماں نے بڑی التجاؤں کے بعد اس کو دوبارہ اسکے عہدے پر مقرر کرایا، لیکن جب اس نے اپنی سابق بدعنوانیہ پھر شروع کر دیں تو سلطان سلیمان نے اسے دوبارہ معزول کیا اور اب کی بار اس کو قتل کرا دیا۔

سلطان سلیمان کی خانگی زندگی بالکل بے داغ تھی ، وہ اپنی طبعی شرافت اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ لیکن خون کے چند بد نما دھبوں نے اس کے دامن کو بھی داغ دار بنا دیا ، اس کا سب سے بڑا لڑ کا مصطفیٰ ایک نہایت لائق اور ہونہار شہزادہ تھا، سلطان سلیمان نے اس کو مانیسہ ، صوبہ کا حاکم بنا دیا تھا، جہاں اس کی غیر معمولی قابلیت کے جوہر نمایاں ہونے لگے، اس میں سلطان سلیمان کے تمام اعلیٰ اوصاف پائے جاتے تھے، وہ فوج کا محبوب اور اپنے ملک کی عوام کا ہر دل عزیز تھا، لیکن یہی ہر دل عزیزی اس کی ہلاکت کا باعث ثابت ہوئی ، سلطانہ خرم جو سلطان سلیمان کی سب سے زیادہ محبوب بیوی تھی اور سلطان کے مزاج میں حد درجہ حاوی ہو گئی تھی ، وہ اپنے بیٹے سلیم کے لیے تخت کو محفوظ کر لینا چاہتی تھی۔ لیکن سلیم علاوہ اس کے کہ شہزادہ مصطفیٰ سے عمر میں چھوٹا تھا، نہایت نالائق اور عیش پسند بھی تھا اور مصطفیٰ کے مقابلہ میں اسے تخت پر بٹھانے کا خیال بھی کسی کو نہیں آسکتا تھا، حورم اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھی ، اس لیے اس نے سلیم کے لیے راستہ صاف کرنے کی کوشش کی اور مصطفیٰ کے خلاف سلیمان کے کان بھرنا شروع کیے، اس نے سلیمان کو یقین دلایا کہ مصطفیٰ اس کی حیات میں تخت پر قبضہ کرنے کی در پردہ کوشش کر رہا ہے اور چونکہ تمام فوج اس پر جان دیتی ہے اس لیے بہت ممکن ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے ، جس طرح سلطان سلیم اول نے سلطان بایزید ثانی کو معزول کر کے خود تخت پر قبضہ کر لیا تھا، سلطان سلیمان حورم کے بیانات سے کچھ اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے مصطفیٰ کو اپنی صفائی میں ایک حرف بھی کہنے کا موقع نہ دیا اور 1553ء میں جب ایران کی دوسری لڑائی کے لیے وہ لشکر کے ساتھ کوچ میں تھا مصطفیٰ کو اپنے خیمہ میں طلب کر کے فورا گلا گھونٹ کر مروا ڈالا ، دوسرا لڑکا بایزید بھی حورم کے محبوب فرزند سلیم ہی کی خاطر قتل کیا گیا۔ لیکن اس کے قتل کا سبب ایک حد تک معقول تھا، مصطفیٰ کے قتل کے بعد اس کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ اس کی جان بھی زیادہ دنوں تک سلامت نہ رہ سکے گی ، اس کے بعض مشیروں نے سازش کر کے اسے قسمت آزمائی کے لیے آمادہ کیا اور 1561ء میں اس نے سلیم کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ لیکن سلیم کے ساتھ سلیمان کی قوت بھی شامل تھی اور بایزید کو شکست کھا کر ایران میں پناہ لینی پڑی، شاہ طہماسپ نے نہایت احترام کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا اور بالتصریح وعده کیا کہ اسے اس کے دشمنوں کے ہاتھ میں نہ دے گا۔ لیکن سلطان سلیمان نے جنگ کی دھمکی دے کر اور چار لاکھ اشرفیوں کا وعدہ کر کے طہماسپ کو مجبور کیا کہ وہ بایزید اور اس کے چاروں بیٹوں کو سلیم کے سفیروں کے حوالے کر دے، اس سفیر نے بایزید اور اس کے سب بیٹوں کو فوراً قتل کرا دیا، بایزید کے قتل کے بعد اب تنہا سلیم ہی تخت کا وارث رہ گیا ۔

ابراہیم پاشا

خون کے جن چھینٹوں سے سلطان سلیمان کا دامن داغ دار نظر آتا ہے، ان میں سے ایک اس کے وزیر ابراہیم کا خون بھی ہے، ابراہیم نسلاً یونانی تھا، لڑکپن میں گرفتار ہو کر وہ فروخت ہو گیا تھا، مغنیسیا کی ایک مسلمان دولت مند بیوہ نے اسے خریدا اور اس کی ذہانت کا اندازہ کر کے اعلیٰ تعلیم دلوائی، ایک بار سلیمان اس صوبہ میں گیا اور وہاں اس کی نظر ابراہیم پر پڑی ، ابراہیم فن موسیقی کا ماہرتھا، اس کے اس کمال کا اثر سلیمان پر خاص طور سے پڑا اور وہ اسے اپنے ساتھ قسطنطنیہ لیتا آیا، وہاں پہنچ کر وہ اپنی قابلیت اور ذہانت کی وجہ سے روز بہ روز سلیمان کی نظر میں زیادہ محبوب ہوتا گیا، یہاں تک سلیمان نے اپنی بہن کا عقد اس سے کر دیا اور 1523ء میں اسے سلطنت عثمانیہ کا وزیر اعظم مقرر کیا، سلیمان ابراہیم پر حد درجہ اعتماد رکھتا اور اس سے بے حد محبت کرتا، دونوں ساتھ ہی کھانا کھاتے، تمام امور سلطنت دونوں کے باہمی مشورہ سے طے پاتے ، جن معرکوں میں سلیمان کسی معذوری کی وجہ سے خود شرکت نہ کر سکتا، ان میں ابراہیم کو سر عسکر بنا کر بھیجتا، تیرہ سال تک سلیمان کے اعتماد کی یہی کیفیت رہی لیکن پھر اس کے دل میں ابراہیم کی طرف سے شکوک پیدا ہونے لگے جو ابراہیم کی بے احتیاطی سے بڑھتے گئے، چونکہ سلیمان نے اس کو سلطنت کے تمام اختیارات دے رکھے تھے، اس لیے ابراہیم خود کو سلطان کا ہم پلہ خیال کرنے لگا اور یہی خیال اس کے لیے مہلک ثابت ہوا، اس کی خود اعتمادی یہاں تک بڑھ گئی کہ آخر میں اس نے اپنے نام کے ساتھ سلطان کا لقب بھی شامل کر لیا، یہ دیکھ کر سلطان سلیمان کے وہ شکوک جو حورم نے ابراہیم کے خلاف اس کے دل میں پیدا کر دیے تھے، یقین کی حد تک پہنچ گئے، خرم وزیر اعظم کے عہدہ پر اپنے داماد رستم پاشا کو مقرر کرانا چاہتی تھی ، خرم کی تدبیر کارگر ہوگئی اور 1535ء میں ایک روز جب ابراہیم حسب دستور کھانا کھانے کے لیے محل شاہی میں داخل ہوا تو پھر اس میں سے زندہ نہیں نکلا اور دوسرے روز محل میں اس کی لاش پائی گئی، ابراہیم کی تمام جائیداد اور دولت بھی ضبط کر لی گئی۔

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms