Sultan Suleiman the Magnificent – Part 7

سلطان سلیمان کے "ویانا" کے محاصرے میں ناکامی کے بعد کے بعد ہنگری میں مسلسل جنگیں شروع ہو گئیں۔ یوں 1530ء عیسوی کی دہائی ہنگری میں مسلسل جنگیں لے کرآئ۔ ہینگری کے بادشاہ "جان زاپولیا" جو کہ عثمانی سلطان سلیمان کی مکمل حمایت کے ساتھ ہینگیرین تخت سنبھالے ہوئے تھا، اسے مقدس رومی سلطنت کے شہنشاہ چارلس کے بھائی "فرڈیننڈ" کے خلاف کئی ایک جنگیں لڑنی پڑی۔ اگرچہ سلطان سلیمان کی فوجی مدد نے جان زاپولیا کو ہینگری کے بیشتر حصوں پر اپنی حکومت قائم رکھنے میں مدد دی، لیکن بعد میں ہمسائی عیسائی ریاستوں نے جان زاپولیا پر فرڈیننڈ کے ساتھ صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

پولینڈ کا بادشاہ سگسمنڈ اول ہنگری کو مضبوط کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ وہ مظبوط ہینگری کے ذریعے سے عثمانیوں کے خلاف اپنی جنوبی سرحدوں کو محفوظ بناسکے۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر عثمانیوں نے ہنگری پر قبضہ کر لیا، تو ہو سکتا ہے سلطان سلیمان کا اگلا نشانہ پولینڈ ہو؟ اسی لیے وہ جان زاپولیا کو "فرڈیننڈ" کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس کی بیوی "بونا" جو کہ "ڈیوک آف میلان" کی بیٹی تھی وہ ہیبزبرگ کو پسند نہیں کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہیبزبرگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی بیٹی "ازا بیلا" کی شادی جان اول سے کرنا چاہی۔ تاکہ وہ پولش ہنگیرین اتحاد قائم کر سکے۔ اس کے بعد مقدس رومی سلطنت کے سفیروں اور مقامی پادریوں کی موجودگی میں جان زاپولیا اور "فرڈیننڈ" کے درمیان اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یوں عثمانیوں کے یورپ میں حلیف اور باج گزار جان زاپولیا کو فروری 1538ء عیسوی میں خفیہ طور پر "ناگیواراد" کے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا. اس معاہدے کے مطابق "فرڈیننڈ" نے جان اول کو ہنگری کا بادشاہ تسلیم کیا۔ جبکہ جان اول نے اسے مغربی ہنگری کے بادشاہ کے طور پر تسلیم کیا اور اس نے وعدہ کیا کہ میرے مرنے کے بعد ہینگری کا تخت اس کے لیے خالی ہوگا۔

جان زاپولیا جس کی عمرتقریباً 50 سال سے زیادہ ہو چکی تھی، اس کے بارے میں یہ رائے قائم ہو گئی تھی کہ یہ بغیر شادی کے ہی مرے گا۔ لیکن فروری 1539 عیسوی میں اس نے ایزا بیلا سے شادی کر لی اور یہ ہیبزبرگ کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔ جس کے بعد "فرڈیننڈ"نے سلطان سلیمان کو جان زاپولیا کے ساتھ ہونے والے "ناگیواراد"کے معاہدے کے بارے میں بتا دیا۔ اس نے ایسا اس لیے بھی کیا، تاکہ سلطان سلیمان جان زاپولیہ کی مدد روک دے اور اگر سلطان سلیمان ایسا کرتے تو جان زا پولیا کوہنگری کے تخت سے ہٹانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ جب سلطان سلیمان کو اس معاہدے کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے کوئی واضح رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ سلطان سلیمان زاپولیا کو اسکی غداری کی سزا دینےکی بجائے ہواؤں کے چلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ سلطان ایک سہی موقع کے انتظار میں تھے۔ تاکہ وہ غداروں اور کافروں کو اُنکی اوقات دیکھا سکیں۔اس کے بعد ہینگری میں صورتحال مزید تب خراب ہوئی جب فرڈیننڈ کے حامی سمجھے جانے والے اسٹیفن نے 1540 عیسوی کے موسم میں بہار میں ٹرانسلینیا میں جان زا پولیا کے خلاف بغاوت شروع کی۔ جان نے باغیوں کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے انکی بغاوت کو آسانی کے ساتھ کچل دیا۔ اس سے پہلے کہ جان زاپولیا اپنے گھر کی طرف روانہ ہوتا کہ اسی سال جولائی میں اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام "جان سگسمنڈ" رکھا۔ یوں بیٹے کی پیدائش کے بعد جان زپولیا نے معاہدے کے بارے میں غور و فکر شروع کردی اور اس نے ایک وصیت لکھی، جو کہ "بشپ جارج مارٹنوزی" کو دی گئی۔ اس وصیت کے مطابق اس کے بیٹے جان سگسمنڈ کو ہینگری کے تخت کا وارث بنایا گیا۔ اس وصیت کے ٹھیک دو ہفتے بعد جان زاپولیا بوڈا واپسی کے سفر کے دوران انتقال کر گیا۔

یوں زاپولیا کی موت کے بعد مارٹنوزی کی قیادت میں ہنگری کے بہت سے شرافا ہیبزبرگ کے زیر اقتدار رہنے کے خلاف تھے، اور جلد انہوں نے "فرڈیننڈ" کو تخت دینے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جان زاپولیا کے ایک ماہ سے بھی کم عمر شہزادے کو بادشاہ قرار دیتے ہوئے ایزابیلا کو اسکا سرپرست مقرر کر دیا۔ اس کے بعد ازابیلا نے اپنے بیٹے کی تخت نشینی کے خطوط عثمانی اور پولینڈ کے دارالحکومت میں روانہ کیے۔ تا ہم ملکہ کی جماعت یہاں بوڈا میں اتنی مضبوط نہیں تھی اور اسی وجہ سے بہت سے ہینگیرین جاگیردار ہیبزبرگ کے کیمپ میں چلے گئے۔ اس سے"فرڈیننڈ" نے اکتوبر کے اوائل میں ہینگری کے پایہ تخت بوڈا پر قبضہ کرنے کی مہم شروع کی،اور انہوں نے ہینگری کے سرحدی قلعوں کو فتح کر

لیا۔

پھر21 اکتوبر1540ء عیسوی کو"فرڈیننڈ" کے سپہ سالار "وان" نے ہینگری کے دارالحکومت بوڈا کا محاصرہ شروع کیا، اب جب کہ شہر کا محاصرہ شروع تھا ملکہ اور دیگر وزراء آپس میں ہی لڑ رہے تھے۔ جس کے بعد ملکہ نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے یہ افواہ پھیلا دی کہ عثمانی فوج جلد ان کی مدد کے لیے قسطنطنیہ سے روانہ ہوچکی ہے۔ جس کے بعد ہیبزبرگ بوڈا پر محاصرہ ختم کرنے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ تا ہم ہیبزگ آسانی کے ساتھ ہینگری کو چھوڑنے والے نہیں تھے۔

فروری اور مارچ کے درمیان "فرڈیننڈ" نے اپنی فوج کی تیاریاں مکمل کیں اور تقریباً 40 ہزار کی فوج پر مشتمل تھا اور اس نے اپنی فوج کی کمان ویانہ کے پہلے، محاصرے کے ایک نہایت تجربے کار کمانڈر "وان" کو دی۔

ادھر سلطان سلیمان کو جب بوڈا پر حملے کی خبر ملی تو انہوں نے جلد 20 سے 50 ہزار کے درمیان عثمانی فوج کو جمع کیا اور وہ دارالحکومت استمبول سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب "فرڈیننڈ" کا کمانڈر "وان"3 مئی کو بوڈا پہنچا تو یہاں اس کے مقابلے میں دفاع کے طور پر تین ہزار سے بھی کم ہینگری اور سربوں کی ایک مختصر فوج تھی۔ اہل ہنگری نے پچھلے چند مہینوں سے شہر کو مضبوط کرنے اور قلعے کی دیواروں کی تعمیر میں خوب جان توڑ محنت کی۔ ہیبزبرگ کمانڈر وان "بوڈآ" شہر پر حملہ کرنے کی جلدی میں نہیں تھا۔ بلکہ وہ پہلے سفارت کاری کے ذریعے ازابیلا کے ساتھ بات چیت کر کے معاملات کو سلجھانے کی کوشش میں تھا۔ اس لیے اس نے اپنا ایلجی بوڈا میں ایزابیلا کے پاس بھیجا اور اس نے ایزابیلا اور اس کے بیٹے کو محفوظ راستے کے ذریعے پولینڈ جانے کا وعدہ کیا۔ وان کے اس پیشکش پر ایزا بیلا مان تو گئی، لیکن ہینگری کے دیگر امراء سخت سیخ پا ہوے اور انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے ملکہ کو قید کر دیا۔ جس کے بعد وان نے ہینگری پر حملے کا حکم دیا، اور بوڈا پر آگ برسنا شروع ہوئی۔ یوں 6 مئی کے درمیان ہیبزبرگ کی بمباری کی وجہ سے قلعے کی دیواروں کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم ہنگیرین محافظ دن رات ایک کر کے قلعے کی دیواروں کی مرمت کرتے رہے، اس کے بعد چند دنوں تک پھر شہر پر بمباری کی گئی جس سے دو جگہ پر شگاف پڑ گیا اور جنرل وان نے اپنے سپاہیوں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے آگے بھیجا جس پر اہل ہینگری نے کمال بہادری کا ثبوت دیتی ہوئے انہوں نے نہ صرف ہیبزبرگ کی فوج کے پیدل دستے کو روکا بلکہ انہیں پسپا کرتے ہوئے وہ شہر سے باہر نکلے اور ادھے سے زیادہ دوستوں کو انہوں نے ختم کر دیا۔ یوں جون کے آخر تک ہیبزبرگ کی فوج کی تعداد کافی کم ہو گئی اور ان کے پاس سپلائی بھی ختم ہو رہی تھی اسی دوران اہل ہنگری کے لیے ایک امید کی کرن اٹھی۔ جب ایک قاصد خط لے کر ہنگری شہر میں داخل ہوا جس میں لکھا تھا کہ کچھ ہی دنوں میں عثمانی فوج کا ہر اول دستہ یہاں اہل ہینگری کی مدد کے لیے پہنچ جائے گا۔ اس کے کچھ دن کے بعد ہینگری کا ایک رئیس "بالنٹ ٹورک" کچھ سامان اور رسد کے ساتھ شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس دوران ملکہ کے کچھ حامیوں نے جنرل وان کی حمایت میں شہر کے دروازے کھولنے کی کوشش کی۔ لیکن ہنگری کے محافظوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

اس کے بعد 10 جولائی کو عثمانی فوج کے گھڑسوار دستوں نے جنوب کی طرف سے ہیبزبرگ کے دستوں پر حملہ کیا یہ حملہ مخص ایک چال تھی۔ کیونکہ اس حملے کے فوراً بعد عثمانی گھڑ سوار واپس پسپا ہونا شروع ہو گئے۔ اس گھڑ سوار دستے کا کمانڈر حسروف پاشا تھا۔ جو کہ انتہائی چالاک اور بہادر کمانڈر تھا۔ اس نے برق رفتاری کے ساتھ عثمانی دستوں کو پیچھے ہٹا لیا اس کے ساتھ ہی مزید عثمانی دستے بوڈا کی مدد کو آ پہنچے جس کی وجہ سے کمانڈر وان نے مجبوراً محاصرے میں موجود دستوں کو کم کرتے ہوئے عثمانیوں کے لیے جنوبی کنارے پر اپنی فوجوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ لیکن جنرل وان کو اس سے کچھ بھی فائدہ حاصل نہ ہو سکا کیونکہ ینی چری سپاہیوں کے خون ریز حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جنوب میں موجود ہیبزبرگ کے تمام دستے عثمانیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ سلطان سلیمان کے بوڈا شہر میں پہنچنے کی وجہ سے ہینگری میں ایک نئی روح پیدا ہو گئی اور انہوں نے شہر سے نکل کر عثمانی فوج کے ساتھ مل کر ہیبزبرگ کا مقابلہ کیا۔ سلطان سلیمان نے بوڈا شہر کے باہر اپنا فوجی کیمپ نصب کیا۔ جبکہ ہیبزبرگ فوج عثمانی فوج کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوئی ۔ سلطان سلیمان نے اپنے گھڑسوار دستوں کو ان کے تعاقب کے لیے روانہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار ہیبزبرگ سپاہی اپنے کمانڈر سمیت مارے گئے۔ ہیبزبرگ کا کمانڈر "وان" بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا۔ لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس کی موت ہو گئی۔ اگلے چند دنوں میں سلطان سلیمان نے اپنے ہینگری کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جیت کا جشن منایا۔ تا ہم یہ جشن ایک فریب ثابت ہوا کیونکہ سلطان سلیمان جان زاپولیہ کی غداری کی وجہ سے سمجھ گئے تھے کہ اب ہینگری پر ترکوں کا قبضہ ہو جانا چاہیے اور اسے سلطنت عثمانیہ میں شامل کرنے کے لیے سلطان نے ایک چال چلی، وہ چال یہ تھی کہ ہنگری کے امراء اور ملکہ عثمانی کیمپ میں جیت کا جشن منانے میں مصروف تھے، جبکہ شہر میں موجود محافظ مطمئن تھے کہ اسی دوران عثمانی فوجیں شہر میں داخل ہوئیں ،سلطان سلیمان خاموشی کے ساتھ بوڈا شہر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور جلد عثمانی فوج نے سلطان کے منصوبے کے مطابق بوڈا شہر پر قبضہ کر لیا۔ 29 تاریخ کو سلطان سلیمان نے ایزابیلا کہ بیٹے جان کو بادشاہ تسلیم کر لیا، لیکن اس کی بادشاہت بہت محدود تھی سلطان نے اسے ٹرانسوینیا کا علاقہ دیا جبکہ بوڈا اور اور اسکے کے تمام علاقوں کو سلطان نے سنجکوں میں تقسیم کر دیا۔ اور یہاں کا انتظام رومیلیا کے بیلربے کے زیر انتظام ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطان سلیمان اپنے دارالخلافہ واپس چلے گئے۔

سلطان سلیمان کے اس اقدام سے ایزابیلا سخت سیخ پا ہوئی۔ اس نے دسمبر 1541ء میں انہوں نے "فرڈیننڈ" کے ساتھ ایک اور خفیہ معاہدے پر دستخط کیے جس میں وعدہ کیا کہ اگر وہ بوڈا پر دوبارہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے توازابیلا تخت سے دستبردار ہو جائے گی، جس کے بعد "فرڈیننڈ" نے 1542ء عیسوی کے آگست میں بوڈا پر حملے کے لیے ایک فوج روانہ کی تا ہم اس کی سست پیش قدمی کی وجہ سے عثمانی پاشا کو اپنے حفاظتی اقدامات کرنے کی مہلت مل گئی۔ جس وقت یہ لشکر بوڈا کے قریب پہنچا تو اس نے محاصرہ شروع کرنے کا حکم دیا۔ لیکن یہاں عثمانیوں نے اپنا مکمل دفاع کیا ہوا تھا اور ہیبزبرگ کو نا ناکامی کے ساتھ یہ محاصرہ ختم کرنا پڑا۔ اسی سال دسمبر میں سلطان سلیمان نے اپنی تیاریاں مکمل کیں اور انہوں نے پیش قدمی شروع کر دی

سال1543ء کے اپریل میں شروع ہونے والی اس جنگی مہم کا مقصد ہیبزبرگ کے زیر کنٹرول "ایسٹرگوم" نامی قلعے کو فتح کرنا تھا۔ جو کہ ایک انتہائی اہم قلعہ تھا۔ جون اور اگست کے درمیان سلطان سلیمان بوڈا کے شمال میں بہت سے اہم قلعوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہیبزبرگ نے عثمانی سلطان کے خلاف کوئی خاص مزاحمت نہ دکھائی، کیونکہ وہ عثمانیوں کے ساتھ مسلسل جنگوں کی وجہ سے تھک چکے تھے۔ اس دوران سلطان سلیمان کو واپس لوٹنا پڑا کیونکہ ان کے مشرق میں صفوی سرحد پر حالات خراب ہو رہے تھے۔ سلطان سلیمان بھی امن چاہتے تھے اس لیے انہوں نے فرانسیسی بادشاہ فرانسس اول کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی کہ طور پر 1547ء میں سلطان سلیمان نے "ادرنے" کے معاہدے پر دستخط کیے۔ جس کے تحت سلطان نے 30 ہزار سالانہ سونے کے سکوں کے عوض ہنگری کے کچھ حصوں پر ہیبزبرگ کی حکمرانی کو قبول کر لیا۔ اس دوران جبکہ سلطان سلیمان اپنی مشرقی سرحدوں میں صفویوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے، تو یورپ میں ایزابیلا اور ماٹنوزی کو امید نظر آنے لگی اور انہوں نے پھر سے"فرڈیننڈ" کے ساتھ ساز باز کرنے کا فیصلہ کیا۔ سال1549ء عیسوی میں مارٹینوزی نے ہنگری کو ایک بار پھر متحد کرنے کے لیے"فرڈیننڈ" کے ساتھ خفیہ بات چیت شروع کی۔ معاہدے کے مطابق ایزا بیلا اور جان سگسمنڈ سلیشیا کی زمینوں کے بدلے ہینگری سے دستبردار ہو جائیں گے۔اس معاہدے کی وجہ سے ایزابیلا اور بشپ کے درمیان اتحاد ٹوٹ گیا۔ ایزابیلا نے سلطان کو ایک خط لکھا جس میں مارٹینوزی کے اقدامات کی شکایت کی گئی۔ لیکن سلطان سلیمان نے فوری طور پر کچھ نہ کیا۔ یوں ایک مختصر فوجی مہم کے بعد ایزا بیلا کو شکست ہوئی اور سلیشیا کی زمین حاصل کرنے کے لیے وہ وہاں چلی گئی۔ لیکن پھر بھی ماٹینوزی نے دونوں طرف سے کھیلنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے 1551ء میں "فرڈیننڈ" نے بشپ کو پھانسی کا حکم دیا جس کے بعد اسے ختم کر دیا گیا۔

اگلے سال کے موسم میں بہار میں عثمانی فوج ایک بار پھر ہینگری کے علاقے میں ایک نئی مہم کے لیے روانہ ہوئی یہ مہم سلطان سلیمان کے لیے انتہائی ضروری تھی۔ کیونکہ ہیبزبرگ عثمانی سرحدوں پر اپنے قدم مضبوط کر چکا تھا۔ اور سلطان سلیمان کو ہنگری کو دوبارہ متحد ہونے سے روکنا تھا۔ مارچ 1552ء میں دو عثمانی فوجیں جنگ کے لیے تیار کھڑی تھی پہلی بودا سے باہر "علی پاشا" کی کمان میں، جبکہ دوسری کو سلطان نے قسطنطنیہ سے روانہ کیا تھا۔ جس کی قیادت "قارا احمد پاشا" کر رہے تھے۔ تاریخ دانوں کے نزدیک عثمانیوں کی مشترکہ تعداد تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تھی۔ لیکن جدید مؤرخین کے مطابق یہ 40 یا پھر 50 ہزار کے قریب تھی۔ ان عثمانی فوجوں نے سرحدی چوکیوں پر حملہ کرتے ہوئے بے شمار قلعوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جبکہ قارہ احمد نے ہیبزبرگ کے طاقتور قلعے"تیمسواڑ" کو فتح کیا۔ دونوں فوجیں 4 ستمبر کو "سزالنوک " کے باہر آمنے سامنے ہوئیں اور مل کر چھوٹی سی کوشش کے ساتھ بستی پر قبضہ کر لیا۔ اب عثمانی فوج کا اگلا ہدف "ایگر" کا مشہور قلعہ تھا۔اگر یہ قلع فتح ہو جاتا تو "فرڈیننڈ" کے باقی ماندہ مغربی اور شمالی علاقوں کو فتح کرنا آسان ہو جاتا۔

ایگر قلعے میں تقریباً2000 ہزار کے قریب مضبوط فوج موجود تھی۔ جس کی قیادت 50 سالہ کمانڈر "استوان ڈوبو" کر رہا تھا۔ قلعے میں موجود مرد اور عورتیں ہینگری کے مقامی باشندے تھے۔11 ستمبر کو عثمانی فوج قلعے کے باہر پہنچی اور محاصرے کی تیاریاں کرتے ہوئے انہوں نے یہاں پر اپنے کیمپ نصب کیے۔ 5 دن عثمانی توپوں نے بمباری شروع کی۔ علی پاشا نے توپ خاتے کی قیادت خود کی۔ جس نے ایگر کی دیواروں کو بڑا نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجود اس کے پاس صرف 4 بڑی محاصرہ کرنے والی توپیں تھیں۔ ہینگری کی اپنی توپیں چھوٹی تھی اور ان کے پاس موثر مزاحمت کرنے کی حد اور نہ ہی فائر پاور تھی۔ اس کے باوجود "ایگر"محافظوں کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔ جب عثمانی توپیں مسلسل شہر پر بمباری کیے جا رہی تھیں تو، تنگ آکر ڈوبو نے منظم طریقے سے ہلکے گھڑسوار دستوں کو شہر سے باہر عثمانی توپوں کو ہراساں کرنے کے لیے انہیں روانہ کیا۔ تاکہ قلعے کی دیواریں محفوظ رہ سکیں۔ لیکن ان کے اس حملے سے صرف ینی چری کے دو دستے شہید ہوئے اور وہ عثمانی توپوں تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ اس دوران عثمانی توپیں مسلسل گولہ باری کرتے ہوئے ایگر کی دیواروں کو زمین بوس کرنے کے لیے بیتاب تھی۔ اور بلاآخر مسلسل گولا باری سے قلعے کی ایک بہت بڑی دیوار میں شگاف پیدا ہو گیا۔ قارااحمد کی قیادت میں عثمانی پیدل فوج نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور دیواروں پر مکمل حملہ کیا۔ لیکن یہاں پر دفاع کرنے والوں نے تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے جان توڑ کوشش کرتے ہوئے عثمانیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکے رکھا اور ابتدائی ینی چری سپاہیوں کی بہت بڑی تعداد اس حملے میں ماری گئی۔ اس دوران محصورین نے ترکوں کو پیچھے ہٹانے کی ایک انوکھی ترکیب سوچی۔ وہ ترکیب یہ تھی کہ جب عثمانی فوج کے دستے شہر میں داخل ہونے کے قریب پہنچے تو، ایگر کی فوج عثمانی پیدل دستے کو روکنے میں ناکام رہی، اس کا حل انہوں نے یہ تلاش کیا کہ پہلے تو انہوں نے ہینڈ گرنیڈ بنا کر عثمانی سپاہیوں میں پھینکنا شروع کر دیے جس کی وجہ سے ترکوں کے ہراول دستے میں کھلبلی مچ گئی۔ لیکن اس کے باوجود ترک ڈٹے رہے اور وہ شہر میں داخل ہونے کی سر توڑ کوشش کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے ایک اور کوشش کرتے ہوئے ایک آتش گیر مادہ تیار کیا جو کہ ایک دیسی ساختہ گاڑی تھی۔ جس پر دو چکیوں کے پہیوں کا ایک سیٹ موجود تھا۔ جبکہ مرکز میں دھماکہ خیز مواد سے بھرا ہوا ڈرم تھا۔ جس کے اوپرآگ جل رہی تھی، جب یہ عثمانی صفوں کے قریب پہنچتا تو ایک بہت بڑا دھماکہ ہوتا جس سے دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں عثمانی سپاہی مارے جاتے۔ ان ابتدائی حملوں میں عثمانیوں کا بے شمار اور لا تعداد جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس کی وجہ سے انہیں مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔ پھرترکوںنے زیر زمین اپنی کوششیں جاری رکھنے پر توجہ دی جیسا کہ انہوں نے اس سے پہلے بھی لا تعداد محاصروں میں سرنگیں کھود کرقلعوں کی دیواروں کو گرایا تھا۔ یہ سرنگیں دراصل زیر زمین کھودی جاتی تھی اور جب یہ قلعے کی دیواروں کے قریب پہنچتے تو دھماکہ خیز مواد سے وہ قلعے کی دیواروں کو اڑا دیتے۔ چنانچہ سرنگیں کھودنے کا عمل شروع ہوا۔ لیکن اس میں بھی عثمانیوں کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی، کیونکہ جب سپاہی سرنگیں کھوتے ہوئے قلعے کی دیوار کے قریب پہنچتے تو محصورین یہاں پر خود ہی دھماکہ خیز حملے سے ان سرنگوں کو زمین بوس کر دیتے۔ ان سب پریشانیوں کے علاوہ عثمانیوں کوخوراک کی قلت کا سامنا تھا، جب کے اس کے علاوہ موسم خزاں کی شدید بارشیں ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ جس سے ان کے حالات زندگی کو بہت زیادہ نقصان ہوا اور یہ علاقہ کیچڑ میں بدل گیا۔ یوں اب عثمانی فوج کے دو بڑے کمانڈروں یعنی کہ خادم علی اور کارا احمد کہ آپس میں شدید جھگڑے اور اختلافات ہونے لگے اور ترک کمانڈروں میں بدعنوانی کی افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں۔ ۔11 اکتوبر کو عثمانیوں نے "ایگر" کی ٹوٹی پھوٹی دیواروں پر ایک آخری اور فیصلہ کن حملہ کرنے کا آغاز کیا۔ اس بار پھر محصورین نے ترکوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ قلعے کی عورتیں اپنے بیٹوں اور شوہروں کے ساتھ میدان جنگ میں اتریں، ابلتے تیل کی بالٹیاں ترکوں پر پھینکی گئیں اور دو دن کے بعد عثمانیوں نے ایگر کا محاصرہ ختم کر دیا۔

ا 17 اکتوبر کو عثمانی وزیر نے یہاں سے مکمل انخلاء کا حکم دیا، جدید تحقیقات کے مطابق اس محاصرے میں 300 عیسائی مارے گئے، جبکہ عثمانیوں کے تقریباً 8 ہزار سے زیادہ سپاہی اس محاصرے میں شہید ہوئے۔ ایگر کے بوڑھے کمانڈر کی بہادری اور اس کی غیر متوقع دفاعی حکمت عملی کی بدولت ہیبزبرگ نے شمالی ہینگری میں اپنے قدم جمائے رکھے۔ لیکن اس شکست کے باوجود سنہ1552ء کی عثمانی مہم کامیاب ثابت ہوئی،کیونکہ انہوں نے ہیبزبرگ کے 24 دیگر قلعوں کو فتح کر لیا تھا۔

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms