پندرھویں صدی عیسویٰ کے آغاز میں جبکہ اس وقت عثمانی تخت پر سلطان سلیمان براجمان تھے، عثمانی سلطنت اپنےعروج پر تھی اور ان کے مقابلے میں اس وقت پوری دنیا کی کوئی بھی سلطنت طاقتورنہیں تھی۔ جبکہ اگر بحری طاقت کی بات کی جائے تو یہاں پر بھی عثمانی سکہ سمندروں میں قائم تھا۔ لیکن اس بحری طاقت کو عروج کس نے بخشا؟ وہ سرخ داڑھی والا سمندری لُٹیرا کون تھا؟جوبحری قزاق سے سلطنتِ عثمانیہ کی بحریہ کا امیر ابحر بنا؟ کیسے اس نے عثمانی بحریہ کو عروج بخشا،اور پرویزا کی جنگ میں کیسے اس امیر البحر نے اپنے سے 3گناہ بڑے صلیبی بحری بیڑے کو شکست دی؟
بحری قوت کے لحاظ سے ایشیا یا پھر یورپ کی کوئی سلطنت اس وقت سلطنت عثمانیہ کے ہم سر نہ تھی۔ اس وقت اسپین اور وینس کے بحری بیڑے پورے یورپ پرحاوی تھے۔ لیکن ترک بیڑے نے متعدد معرکوں میں ان کو شکست دی۔ بحری قوت کے اعتبار سے اسپین اور سلطنت عثمانیہ میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا۔ لیکن اسپین کے ساتھ فرانس اور اتحادیوں کے جہازوں کی کثرتِ تعداد کی وجہ سے ترک بیڑے سے تعداد میں زیادہ ہو جاتے تھے۔ سلطان سلیمان کےابتدائی عہد میں شمالی افریقہ کے مسلمان فرماںروا اس قدر کمزور تھے کہ وہ ساحلی علاقوں کے علاوہ اپنی مملکت کے جنوبی حصوں پر اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکتے تھے اور خود ساحل کے شہر بھی بحری قزاقوں کی عام گزرگاہ بن چکے تھے۔ جن میں سے بعض ان فرماں رواؤں کی اطاعت برائے نام تسلیم کرتے تھے۔ لیکن اکثر بطورِ خود بحر روم میں لوٹ مار مچاتے رہتے تھے۔ یہ بحری قزاق دس،دس اور بیس،بیس جہازوں کے بیڑے بنا کر اپنے جری اور نہایت تجربہ کار سرداروں کی قیادت میں مال غنیمت کے لیے بحر روم میں پھرا کرتے تھے اور اسپین اٹلی اور فرانس اور کبھی کبھی انگلینڈ اور آئرلینڈ کے ساحلوں پر بھی حملے کر دیا کرتے تھے۔
سلطان سلیمان نے بحری قوت پر خاص توجہ دی اور جہازوں کی تعداد اور سائز میں بہت اضافہ کیا سلطان نےان خصوصیات کے ساتھ خیال رکھا اور بحری قوت کو پہلے سے زیادہ ترقی دی۔ لیکن عثمانیوں کے بحری سردار بے خوفی اور مہارتِ فن میں بحری قزاقوں کے ہم پلہ نہ تھے۔ یہ دیکھ کر سلطان نے ان لُٹیروں کو جو اپنی قابلیت اور تجربے میں دوسروں سے ممتاز تھے۔ سلطنت عثمانیہ کی خدمت کے لیے انہیں مدعو کیا اور انہیں ان کے جہازوں اور آدمیوں کے ساتھ بُلا کر ترک بیڑے کے اعلیٰ منصب پر فائض کیا۔ ناظرین ان میں سے سب سے پہلا اور اپنی غیر معمولی قابلیت کی وجہ سے سب سے زیادہ مشہور ہونے والا بحری سردار "خیر الدین بار بروسہ" تھا، جو کہ اپنی سرخ داڑھی کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں میں مشہور تھا۔ جبکہ اس کے علاوہ دو اور نام جن کا آج ہم اس ویڈیو میں ذکر کریں گے وہ ترغوت اور پیالے ہیں۔
خیر الدین 1478 عیسوی میں یونانی جزیرے "لیسبوس" میں "خضر رئیس" کے نام سے پیدا ہوئے۔ خضر کے تین اور بھائی تھے اسحاق، عروج اور الیاس ان کے والد البانوی نزار سپاہی تھے جنہوں نے 1462 عیسوی میں عثمانی ترکوں کو لیسبوس فتح کرنے میں مدد کی تھی۔ جس کے بعد ان کا اس جزیرے میں اچھا خاصا اثر و اسوخ قائم ہوا۔اس کے بعد خیر الدین کے ایک بھائی عروج نے کمہار کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے اس نے ایک جہاز خریدا جس کے ذریعے سے وہ اپنا سامان بیرون ملک فروخت کیا کرتا ۔خضر کی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے خاندانی کاروبار میں مدد کرنے میں گزرا۔ اس دوران جب کہ خضر کا بھائی عروج اپنے چھوٹے بھائی الیاس کے ساتھ تجارت کی غرض سے نکلا تو وہ بدقسمتی سے نائٹ ٹیمپلرز کے ہتھے چڑھ گئے جنہوں نے عروج کو اس کے چھوٹے بھائی سمیت پکڑا اور روڈس جزیرے میں لے گئے۔ یہاں پر انہوں نے عروج کے چھوٹے بھائی الیاس کو قتل کر دیا اور عروج کو گرفتار کر کے زندان میں ڈال دیا۔ جب خیر الدین کو اپنے بھائی کی گرفتاری کا علم ہوا تو اس نے مبارزین کے اس جزیرے پر حملہ کرتے ہوئے اپنے بھائی عروج کو آزاد کروا لیا۔ اس واقعے کے بعد خیر الدین کہ بڑے بھائی عروج کی زندگی تقریباً بدل گئی۔ اس نے اپنے خاندانی پیشے کو ترک کرتے ہوئے وہ بحری قزاق بن گیا اوربعد میں اس نے مملوک اور عثمانی سلطنت کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔1504 عیسوی میں خیر الدین بھی اپنے اس بھائی کے ساتھ بحری قذاق کے پیشے میں شامل ہوا۔ جس کے بعد یہ دونوں بھائی تیونس کے حفصی سلطان کے دربار میں حاضر ہوئے۔ جہاں پر تیونس کے سلطان نے انہیں اپنی ایک بندرگاہ کہ اختیارات دے دیے۔ اس کے کچھ ہی سال کے بعد یعنی کہ 1509 عیسوی میں ان کے ساتھ ان کا تیسرا بھائی اسحاق بھی شامل ہو گیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اندلس کے مسلمانوں پر اسپین کی عیسائی حکومت انتہائی مظالم ڈھا رہی تھی۔ خیر الدین نے ان مظلوموں میں سے 70 ہزار کو اپنے جہازوں کے ذریعے اندلس سے الجزائر پہنچا دیا تھا اس کے بعد وہ اسپین اور اٹلی کے لیے ایک ڈراونا خواب بن گئے۔ کیونکہ انہوں نے عیسائی بیڑوں اور بندرگاہوں پر بے شمار حملے کرتے ہوئے عیسائیوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ پھر جب 1512 عیسوی میں اسپین کا ایک بحری بیڑا الجزائر پر حملہ آور ہوا تو دونوں بھائیوں یعنی کہ خیر الدین اور عروج نے اس بیڑے پر حملہ کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ ان کی ہر نئی فتح ان کی کامیابی کو چار چاند لگا دیتی اور اسلامی دنیا میں عروج اور باربروسہ کا نام فخر کے ساتھ مسلمان لینے لگے۔ انہوں نے یورپ میں اہل جینوا اور اسپین کی ولنسیا بندرگاہ پر حملے کرتے ہوئے عیسائیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد 1516 عیسوی میں ان بھائیوں نے الجزائر میں سلطان کی حیثیت سے تقریباً ایک سال تک حکومت کی اور وہ ہسپانیوں کے خلاف برابر مقابلہ کرتے رہے۔ پھر انہوں نے سلطان سلیم کی اطاعت کو قبول کر لیا جس کے بعد الجزائر سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا گیا۔ سلطان سلیم نے عروج کو بےلربے کا خطاب دیتے ہوئے اسے شمالی افریقہ کا چیف گورنر بنا دیا۔ اس کے بعد بھی انہوں نے شمالی افریقہ میں اپنی جنگی کاروائیاں جاری رکھیں اور پھر عروج اور اسحاق نے موروکو کے ایک شہر پر قبضہ کر لیا جس پر ہسپانویوں کا پہلے سے قبضہ تھا یہاں پر ایک خون ریز جنگ ہوئی جس میں دونوں بھائی مارے گئے اور اب ان چاروں میں سے آخری بھائی خیر الدین زندہ بچا تھا۔ خیر الدین نے جب دیکھا کہ وہ تنہا یہاں پر اپنی خود مختار حکومت قائم نہیں رکھ سکتا تو اس نے الجزائر کو چھوڑ دیا یہاں سے اس نے 1522 عیسوی میں روڈس پر عثمانی حملے کے دوران حصہ لیا اور اس نے اپنے پرانے دشمن کو یہاں سے نکالنے میں مدد کی۔ اس کے علاوہ خیر الدین نے سسلی کے علاقوں پر حملہ کرتے ہوئے بے شمار دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور عیسائیوں میں عجیب طرح کا خوف و حراس پھیل گیا۔ جس کے بعد اب عیسائی بحری بیڑے سمندر میں آزادانہ طور پر گھومنے سے گریز کرنے لگے۔ پھر جب خیر الدین نے تیونس کی حفصی سلطنت پر حملہ کرتے ہوئے اسے سلطنت عثمانیہ میں شامل کرنا چاہا تو تیونس کے حفصی سلطان حسن نے شہنشاہ چارلس سے فریاد کی کہ مجھے عثمانیوں سے بچایا جائے۔ چارلس خود 500 جہازوں کا بیڑا اور 30 ہزار فوج لے کر خیر الدین بار بروسہ کے مقابلے کے لئے نکلا۔ جس کے بعد خیر الدین کو شکست ہوئی اور اسے تیونس چھوڑنا پڑا۔ چارلس فاتحانہ طور پر شہر میں داخل ہوا اور گو وہاں کے باشندوں نے اسپینی حملے کے خلاف خیر الدین کو کسی طرح کی مدد نہی دی تھی۔ تاہم چارلس نے اپنے سپاہیوں کو شہر لوٹ لینے کی اجازت دے دی اس واقعے پر ایک انگریز مورخ اویرسلے کا بیان ہے کہ:۔
"مظالم اور غارت گری کا جو منظر پیش آیا وہ ناقابل یقین ہے شہر کے 30 ہزار بے قصور باشندے قتل کر دیے گئے اور 10 ہزار غلاموں کے طور پر فروخت کیے گئے مسجدیں اور تمام خاص خاص عمارتیں جلا کر برباد کر دی گئیں۔ مسجدیں گرجوں کی شکل میں تبدیل کر دی گئی۔ کتب خانے برباد کر دیے گئے۔ اتنی کتابیں راستے میں پڑی ہوئی تھیں کہ ان کے ڈھیروں کو روندے بغیر کوئی جامعہ مسجد تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔ لوگوں کو جبراً عیسائی بنایا گیا۔ مسلمانوں کی جائیدادیں اور مکانات چھین لیے گئے اور انہیں عیسائیوں کو دیا جانے لگا۔ بہرحال اس تمام قتل و غارت گری کا نتیجہ یہ ہوا کہ تیونس سلطنت عثمانیہ کے قبضے سے نکل کر پھر سلطان حسن کے زیر حکومت آگیا لیکن سلطان حسن کو سلطنت اسپین کی اطاعت قبول کرنی پڑی اور اس کی خود مختاری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا،اور تیونس پر ترکوں کا مستقل قبضہ 982 ہجری بمطابق 1574 عیسوی تک نہ ہو سکا۔
1532 عیسوی میں خیر الدین باربروسہ کو قسطنطنیہ میں بلایا گیا جہاں پر اسے سلطان سلیمان نے ایک خاص مشن سونپا۔ سلطان سلیمان نے خیر الدین کو عیسائیوں کے مشہور ایڈمرل جنرل اینڈریا ڈوریا کو شکست دینے کا حکم دیا۔ جو کہ سلطنت عثمانیہ کے یونانی علاقوں پر اس وقت حملہ آور تھا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ خیر الدین کا اینڈریا ڈوریا کے ساتھ سامنا ہوا ہو۔ اس کے بیڑے پہلے بھی کئی بار بے رحم ایڈمرل کے ساتھ جھڑپ کر چکے تھے۔ جلد سلطان کے حکم پر خیر الدین دارالحکومت استنبول سے نکلا اور اس نے جینیویز کے بحری بیڑے کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں پر ویزا کے مقام پر جا لیا۔ جہاں اس نے سات گیلیو پر قبضہ کرتے ہوئے اینڈریا کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس ابتدائی فتح کے بعد سلطان سلیمان بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے بار بروسہ کو عثمانی بحریہ کا گرینڈ ایڈمرل مقرر کیا اور اسے خیر الدین یعنی کہ ایمان کا بہترین خطاب دیا۔ پھر اس کے بعد خیر الدین نے بحرایجین کے نو بڑے جزائر پر قبضہ کرنے کے لیے حملے شروع کیے۔ جس کے بعد اس نے کارفو کے جزیرے کو تو تقریباً تباہ کر دیا تھا اور یہاں کی پوری آبادی کو غلام بنا لیا۔ یوں اپنے نقصانات سے بچنے کے لیے اہلِ وینس نے پوپ سے مدد کی درخواست کی۔ کیونکہ خیر الدین بار بروسہ بحیرہ روم اور یورپ کے ساحلی علاقوں پر ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا تھا۔ جس کے خوف سے اب پوپ پال صوم نے ایک وسیع اتحاد جمع کیا۔ اس نے جینویز اور نائٹس ہاسپٹلرز جو کہ اب مالٹا میں مقیم تھے انہیں اپنے پاس بلایا، جس کے بعد 1538 عیسوی کے موسم گرما میں عیسائیوں کا یہ عظیم الشان اتحاد "کارفو" کے ساحل پر جمع ہونا شروع ہوا۔ یہاں پرویزا کے کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے پوپ نے اپنے کمانڈر کے ماتحت دو جنگی جہاز بھیجے تاکہ وہ عثمانیوں کے زیر قبضہ قلعے پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیں۔ لیکن اس ابتدائی حملے میں انہیں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اپنے باقی اتحادیوں کا انتظار کرنے لگے۔ جلد عیسائیوں کا بقیہ بحری لشکر یہاں آ پہنچا۔ اس وقت ہولی لیگ کے پاس تقریباً 300 بحری جہاز تھے۔ جو کہ جزیرہ کارفو کے ارد گرد جمع ہوئے تھے۔ یوں تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا بحری بیڑا جمع ہوا۔ ان جہازوں میں سے تقریباً 160 جنگی جہاز "گیلیٹس" تھے اور باقی کے 140 "گیلینز" تھے۔ اس میں تقریباً 60 ہزار سپاہی شامل تھے جو پورے یورپ سے بحریہ میں شامل ہوئے۔
اس کے برعکس خیر الدین باربروسہ کی کمان میں صرف 122 جہاز تھے۔اور عثمانی سپاہیوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار تھی۔ اس کے علاوہ ہولی لیگ کے پاس تقریباً 2500 توپیں، جبکہ عثمانی بیڑے کے پاس صرف 366 توپیں موجود تھیں۔ عیسائیوں کی اس ہولی لیگ کی تعداد عثمانی بحری بیڑے سے تقریباً تین گنا ہ زیادہ تھی۔ توپوں کے لحاظ سے سات گناہ اور سپاہیوں کی تعداد کے لحاظ سے تقریباً 8 گناہ بڑا لشکر تھا۔
سنہ 24ستمبر 1538 عیسوی میں باربروسہ نے اپنا بیڑا خلیج اٹا میں لنگر انداز کیا اور وہ اپنے کمانڈروں سے مشورہ کرنے لگا کہ ہمیں یہیں رہ کر جنگ لڑنی چاہیے یا پھر ہمیں کھلے سمندر میں قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ ادھر اتحادیوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا اور خیر الدین باربروسہ کو خلیج سے باہر نکلنے پر مجبور کرنے کے لیے انہوں نے لیپانٹو پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس غرض سے انہوں نے اگلی صبح جزیرہ کارفو سے جنوب کی طرف اپنے جہازوں کے بادبان کھول دیے۔ جیسے ہی یہ لیپانٹو کے قریب پہنچے تو اس دوران باربروسہ بھی اپنے جہازوں کے ساتھ خلیج سے باہر نکلا۔ خیر الدین فجر کی نماز کے بعد اپنے سپاہیوں کے ساتھ ایک آخری اور فیصلہ کن حملے کے لیے کھلے میدان میں نکلے عیسائیوں کا امیر البحر اینڈریا ڈوریا بار بروسہ کی اس دلیری پر حیران رہ گیا۔ ترک بیڑے نے ہلال کی شکل میں صفیں ترتیب دیں، اس کے مرکز میں خود خیر الدین باربروسہ کا جہاز تھا۔ عثمانی بحریہ کے دائیں جانب "صالح رئیس" جبکہ بائیں جانب "سیدی علی رئیس" کمانڈ کر رہے تھے۔ جبکہ ایک اور مشہور عثمانی امیر "ترگت رئیس" کمک کے طور پر اپنی جہازوں کے ساتھ پیچھے موجود
تھے۔
دوسری طرف ہولی لیگ کے تمام بڑے جہاز سامنے فرنٹ لائین پہ تھے۔ ان کے پیچھے چھوٹے جہاز تھے۔جنگ شروع ہونے سے پہلےہولی لیگ کے حق میں ہوا چل پڑی اور یہ ہولی لیگ کے لیے ایک بہترین موقع تھا یوں ہوا کے ساتھ تیزی سے چلنے والے بھاری گلیٹس عثمانی جہازوں کو کچل سکتے تھے۔ خیر الدین بار بروسہ نے خطرہ محسوس کیا تو اس نے اپنے سپاہیوں کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ عیسائی اتحادیوں کے جہاز بڑی تیزی کے ساتھ عثمانیوں کی جانب آگے بڑھ رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی یہ جہاز عثمانیوں سے کچھ فاصلے تک پہنچے تو یہاں پر ایک عجیب واقعہ پیش آیا، ہوا دراصل کچھ یوں کہ وہ ہوا جس کے بل بوتے پر عیسائیوں نے برق رفتاری سے آگے بڑھ کر حملہ کیا تھا، یہاں اچانک ہوا رک گئی اور ان کی مخالف سمت چلنے لگی۔ جس کی وجہ سے ان کے تمام جہاز ایک جگہ پر ساکت ہو گئے یہ ایک طرح کی اللہ تعالی کی طرف سے عثمانیوں کے لیے بہت بڑی مدد تھی اینڈریا نے اپنے بڑے جہازوں سے عثمانیوں کی جانب توپ سے گولے پھینکنے کی کوشش کی لیکن دوری اتنی زیادہ تھی کہ یہ گولے عثمانی جہازوں سے تھوڑی دور پانی میں جا گرے۔ چنانچہ اب بار بروسہ کی باری تھی اس نے عیسائیوں پر حملے کا حکم دیا عثمانی توپوں کی رینج چھوٹی ہونے کی وجہ سے زیادہ تھی جس کی وجہ سے جب عثمانی توپیں گولے برسانے لگیں تو اس سے عیسائیوں کے جہازوں کا شدید نقصان ہوا اور ان میں سے بیشتر جہاز پانی میں غرق بھی ہو گئے۔ اینڈریا ڈوریا نے اپنے چھوٹے جہازوں کو آگے بھیجنے کی کوشش کی، تاکہ وہ عثمانیوں کے دائیں اور بائیں جانب موجود جہازوں کا محاصرہ کر لیں۔ لیکن باربروسہ کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا اور اس کے جہاز واپس آگئے۔ ادھر عثمانی جہاز لگاتار گولہ باری کر رہے تھے جس سے عیسائیوں کے فرنٹ لائن پر موجود بڑے جہاز تقریباً سارے کے سارے غرق ہو گئے، اور ان میں چند ایک ہی تھے جو ابھی تک عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے ۔خیر الدین بار بروسہ نے جب دیکھا کہ عیسائیوں کے بڑے جہاز تقریباً غرق ہو گئے ہیں تو اس نے ایک فیصلہ کن حملے کا حکم دیا اور عثمانی جہاز عیسائیوں کی جانب بڑھنے لگے اور جلد دونوں جانب سے تابڑ توڑ حملے شروع ہوئے اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس معرکے میں دونوں جانب سے شدید جانی اور مالی نقصان ہوا۔ عثمانیوں کے بھی بیشتر جہاز عیسائی توپوں کی ضد میں آئے اور وہ غرق ہو گئے۔ لیکن ترک اپنے امیر البحر باربروسہ کی حیرت انگیز شجاعت کی وجہ سے اب بھی پرعزم تھے اور وہ ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے۔ اس دوران ریزرو میں موجود ترگت رئیس کی کمان میں جہاز دائیں اور بائیں جانب سے عیسائیوں کے قریب آئے اور انہوں نے ان پر گولے برسانا شروع کر دیے۔ جس کی وجہ سے عیسائی ملاح گھبرا اٹھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اینڈریا ڈوریا نے اپنے جہازوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا ۔یوں اب شام بھی ہو چکی تھی اس لیے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اینڈریا ڈوریا اپنے بچے کچے جہازوں کے ساتھ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس سے اگلے دن فجر کے بعد ڈوریا نے ایک حیران کن فیصلہ کیا اور اس نے میدان جنگ سے پیچھے ہٹتے ہوئے وہ اپنے بحری جہازوں کو شمال کی طرف واپس کارفو کی طرف لے گیا۔ یہاں پر ونیشنز، پوپ اور مالٹا کے بحری بیڑوں کے کمانڈروں نے اینڈریاڈوریا سے درخواست کی کہ وہ جنگ جاری رکھے، لیکن اس نے انہیں نظر انداز کر دیا، یوں یہ جنگ عثمانیوں کی فتح پر ختم ہوئی۔اس فتح کے تقریباً 8 سال بعد یعنی کہ 953ھ بمطابق 1546 عیسوی میں عثمانی بحری طاقت کو عروج پر پہنچانے والے عظیم الشان امیر البحر خیر الدین باربروسہ کا انتقال ہو گیا. انہوں نے اپنی حیرت انگیز شجاعت اور قابلیت سے نہ صرف سلطنتِ عثمانیہ کی بحری قوت کو عروج بخشا، بلکہ یہاں تک کہ یورپ کا سب سے بڑا اور سب سے طاقتور شہنشاہ چارلس پنجم بھی تنہا اس کے مقابلے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ گو وہ مخص ایک سپاہی تھا، تاہم علوم و فنون کی سرپرستی کا شوق اسے حد سے زیادہ تھا۔ اس نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ ایک کالج قائم کرنے میں صرف کر دیا۔
خیر الدین پاشا کے علاوہ سلطان سلیمان کو اس قسم کے دو اور بحری کپتانوں کی خدمات بھی حاصل ہو گئی تھی۔ جن کی غیر معمولی شجاعت اور قابلیت کا سلسلہ بحر روم اور اس کے ساحلی علاقوں پر بیٹھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک طورغوت اور دوسرا پیالے تھا۔
طورغوت بھی ابتدا میں ایک بحری قذاق رہ چکا تھا۔ چنانچہ ایک بار اس نے 30 جہازوں کا بیڑا تیار کر کے جزیرہ "کارسیکا" پرحملہ کر دیا۔ لیکن ڈوریا نے اسے شکست دے کر گرفتار کر لیا اور زنجیروں میں جھگڑ دیا۔ آخر کار مہینوں کے بعد خیر الدین بار بروسہ کی دھمکی سے کہ اگر "طورغوت" رہا نہ کیا گیا تو جینوا یعنی کہ وہ علاقہ جو کہ ڈوریا کا وطن ہے برباد کر دیا جائے گا۔ ڈوریا نے اسے آزاد کر دیا۔ طورغوت اپنی مہارت فن اور شجاعت میں خیر الدین سے بہت کچھ ملتا جلتا تھا۔ اٹلی اور اسپین کے ساحلی علاقے اس کے نام سے کانپتے تھے۔ عثمانی رعایا ہونے کے باوجود اس کو سلطان کےحلیفوں کے جہاز گرفتار کر لینے میں بھی کوئی تامل نہ ہوتا۔ چنانچہ ایک بار اس نے وینس کے چند تجارتی جہاز پکڑ لیے اور جب سلطان سلیمان نے بازپرس کرنے کے لیے اس کو قسطنطنیہ میں طلب کیا تو اس نے وہاں جانے سے انکار کر دیا اور اپنے بیڑے کو لے کر مراکش چلا گیا اور وہاں کے سلطان کی ملازمت اختیار کر لی پھر خیر الدین پاشا کی وفات کے بعد سلطان سلیمان نے معافی اور اعلیٰ منصب کا وعدہ کر کے اسے بلا لیا اور چند دنوں کے بعد طرابلس کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ طرابلس اس وقت مبارزینِ مالٹا کا مقبوضہ تھا۔ طورغوت نے حملہ کر کے اسے فتح کرتے ہوئے اسے سلطنت عثمانیہ میں شامل کر دیا۔ اس کے بعد وہ طرابلس کا حاکم مقرر ہوا 973 ہجری بمطابق 1565ء میں جب ترکوں نے مالٹا پر حملہ کیا تو وہ بھی اپنا بیڑا لے کر سلطنتِ عثمانیہ کی مدد کو آیا۔ لیکن اس معرکے میں وہ مارا گیا۔
طورغوت کے بعد تیسرا نام "پیالے" کا آتا ہے۔"پیالے"بھی ایک مدت تک بحری قذاق رہ چکا تھا۔ پھر اس نے سلطان سلیمان کی ملازمت اختیار کر لی اور رفتہ رفتہ عثمانی بیڑے کا امیر البحر مقرر ہو گیا۔ 967ھ / بمطابق 1560ء عیسوی میں200 جہازوں کا ایک عظیم الشانہ عیسائی بیڑا طرابلس کو ترکوں سے واپس لینے کے لیے ڈوریا کی سرکردگی میں روانہ کیا گیاتھا۔"پیالے" بھی جلد اس کے مقابلے کے لئے درہ دانیال سے نکلا، اور عثمانی جزیرہ جربہ کے قریب جس پر عیسائیوں نے اپنی فوجیں اُتار دیں تھیں اور ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا۔ 14 مئی 1560ء عیسوی کو ڈوریا کے بیڑے پر حملہ آور ہو کر اسے نہایت سخت شکست دی۔ عیسائیوں کہ تقریباً 50 جہاز برباد ہو گئے اور 7 گرفتار کر لیے گئے۔ جزیرہ پر جو عیسائی فوجیں پہنچ چکی تھیں، انہیں بھی قلعہ کا محاصرہ کر کے پیالے نے گرفتار کر لیا اور جربہ پر عثمانی علم پھر لہرانے لگا۔ اس کے بعد اس نے اردن کے صوبہ پر جو الجزائر کے مغرب میں واقع ہے حملہ کرکےا سے سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کر لیا۔ 973ھ / بمطابق 1565ء میں جب مالٹا پر حملہ ہوا تو وہی عثمانی بیڑے کا امیر البحر تھا۔
سال 1529ء عیسوی میں جب سلطان سلیمان ہیبسبرگ کے دار الحکومت "ویانا" کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تو وہ مایوس ہو کر اپنے لشکر کے ساتھ واپس دار حکومت قسطنطنیہ چلے گئے۔ اس دوران "جان زاپولیا" جسے سلطان سلیمان کی سرپرستی اور پوری مدد حاصل تھی وہ ہینگری میں اپنا اقتدار بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن یہ کامیابی زاپولیہ کے لیے عارضی کامیابی ثابت ہوئی کیونکہ اسے ہیبزبرگ کے وارث "فرڈیننڈ" کے حملوں کا سامنا کرنا تھا۔
ویانا کی شکست سے ٹھیک ایک سال بعد 1530ء عیسوی میں فرڈیننڈ نےاپنا ایک سفیر "قسطنطنیہ" میں سلطان سلیمان کے پاس بھیجا اور اس نے سلطان سے مطالبہ کیا کہ وہ "جان زپولیہ" کی مدد اور حمایت کرنا بند کر دے۔ جسے سلطان سلیمان نے مسترد کرتے ہوئے سفیر کو دربار سے نکل جانے کا حکم دیا۔ سلطان سلیمان کے اس جواب پر "فرڈیننڈ" نے اپنی فوجوں کو تیار کیا اور اس نے عثمانی سرحدی علاقوں پر حملہ کردیا۔ جس سے اس کے ارادوں کا اندازہ ہونے لگا کہ وہ ہینگری پر سلطان کے کھٹ پتلی حکمران "جان زاپولیا" کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ اس پیش قدمی میں کامیاب نہ ہو سکا اور دارالحکومت "بوڈا" پر جان زا پولیا کا قبضہ برقرار رہا۔
اسی سال یعنی کہ 1530ء کے آخر میں "فرڈیننڈ" نے اپنا ایک اور سفیر سلطان سلیمان کے پاس روانہ کیا اور اس نے پھر سلطان سلیمان سے مطالبہ کیا کہ ہینگری کی فوجی مدد بند کی جائے۔ لیکن اب کی بار سلطان سلیمان سخت سختی کے ساتھ پیش آئے، بلکہ سلطان سلیمان نے "فرڈیننڈ" کو سبق سکھانے کے لیے ہیبزبرگ خاندان کے خلاف ایک نئی فوجی مہم کی تیاری شروع کرنے کا حکم دیا۔ تاریخی روایات کے مطابق سلطان سلیمان نے اس حملے کے لیے تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کی فوج کو دارالحکومت "قسطنطنیہ" میں جمع کر لیا تھا اور پھر اپریل میں عثمانی فوج سلطان سلیمان کی سرکردگی میں دارالحکومت سے روانہ ہوئی اور جولائی تک ہینگری کی سرحد کے ساتھ واقع "ہیبزبرگ" کے بہت سے قلعے عثمانی فوج کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے فتح ہو گئے۔ سلطان سلیمان کے پاس عثمانی فوج "فرڈیننڈ" کی فوج سے کہیں زیادہ تھی۔ اس لیے اس نے اب کی بار بھی کھلے میدان میں سلطان سلیمان سے مقابلہ کرنے سے گریز کیا اور وہ واپس "ویانا" کی جانب پسپائی اختیار کرنے لگا۔ جبکہ اس نے اپنی جگہ کروشیا کے نامور سالار "نیکولا جوریسیچ" کے ماتحت 8ہزار کا مضبوط دستہ "کوسگ قلعہ" میں چھوڑ دیا۔ جس کے بعد سلطان سلیمان نے اس قلعے کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ کیا، سلطان سلیمان کے پاس بہت بڑی فوج تھی جو کہ اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے کافی تھی، اس کے ساتھ ساتھ عثمانیوں کے پاس گولے بارود کا بھی ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ اب چونکہ یہ قلعہ ویانا جانے والی ایک انتہائی اہم گزرگاہ پر واقع تھا اور گویا یہ ویانہ کا دفاعی قلع تھا۔ اس لیے سب سے پہلے تو عثمانی وزیراعظم ابراہیم پاشا اور اس کے بعد سلطان سلیمان نے اس قلعے کا سخت ترین محاصرہ شروع کیا اور یہاں پر عثمانیوں نے اپنے تمام وسائل جھونک دیے۔ لیکن توپ خانے اور محاصرے کی حکمت عملی جہاں بالکل بھی کام نہ آئی ۔ یہاں تُرکوں نے تقریباً 20 بڑے حملے کیے، لیکن عیسائیوں نے نکولا کی سرکردگی میں دفاع کی انوکھی تاریخ رقم کی اور انہوں نے عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اس دوران جبکہ سلطان سلیمان اس قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے کہ اس سال اچانک وقت سے پہلے بارشیں شروع ہو گئیں اور حالات تُرکوں کے لئے مزید خراب ہونے لگے۔ جس کی وجہ سے سلطان سلیمان نے محاصرہ اٹھانے کا حکم دیا اور وہ اپنی فوج کے ساتھ واپس قسطنطنیہ چلے گئے۔
شہنشاہ چارلس پنجم اور اس کابھائی فرڈینینڈ دونوں خوب جانتے تھے، کہ یہ سلطان سلیمان کا کوئی آخری حملہ نہیں، جلد یا بدیر سلطان سلیمان پھر نئی فوج، اور نئے جوش و جذبے کے ساتھ حملہ کرے گا۔ اس لئے انہوں نے سلطان سلیمان کو اُلجھانے کے لئے ایک چال چلی، انہوں نے کیا کچھ یوں کہ1529سے1533ء کے درمیان صفی سلطنت کے بادشاہ "شاہ طہماسپ اول" کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور انہیں اس بات پر راضی کیا کہ وہ عثمانی سلطنت پر حملہ کریں۔ تاکہ سلطان سلیمان کو یہاں مشرق میں جنگ میں مصروف رکھاجاسکے۔ جس کے بعد 1533ء میں صفوی شاہ نے سرحدی علاقوں میں سلطان سلیمان کے خلاف بغاوتوں کو بھڑکانا شروع کر دیا۔ جب سلطان سلیمان کو ان بغاوتوں کی خبر ملی تو انہوں نے فرڈیننڈ کے ساتھ معاہدہ کر لیا، جس میں "فریڈیننڈ" نے زاپولیا کو ہینگری کا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ جبکہ سلطان نے "فریڈیننڈ" کووہ تمام قلعے واپس کر دیے جو کہ انہوں نے اپنے گزشتہ حملوں میں فتح کیےتھے۔ "فریڈیننڈ" نے 30ہزار سونے کے سکے خراج کے تور پر سلطان سلیمان کو سالانہ دینے کا وعدہ کیا۔ اس معاہدے کے بعد سلطان سلیمان صفوی بادشاہ طہماسب کو سبق سکھانے کے لیے دارالحکومت "قسطنطنیہ" سے روانہ ہوئے۔ روانگی سے پہلے انہوں نے صفوی سلطنت کے مشرق میں موجود شعبانیوں کو صفوی سلطنت پر حملے کے لیے معاہدہ کیا اور جب شعبانیوں نے حملہ کیا، تو شاہ اپنی مشرقی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے دارالحکومت تبریز سے نکلا۔ جس کے بعد سلطان سلیمان برق رفتاری کے ساتھ صفویوں کے دارالحکومت تبریز جا پہنچے اور انہوں نے تبریز کے علاوہ بغداد اور بصرہ پر حملہ کرتے ہوئے انہیں سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد سلطان سلیمان نے اس مہم کو ختم کرتے ہوئے وہ واپس دارالحکومت چلےگئے۔
اس دوران یورپ میں حالات تقریباً بدل گئے تھے۔ اگرچہ "فریڈیننڈ" نے سلطان سلیمان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا ہوا تھا، لیکن جب سلطان اپنی فوج کے ساتھ مشرق میں صفویوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھے تو اس نے خشکی کے راستے سے جبکہ چارلس نے سمندر سے سلطنت عثمانیہ پر حملہ کر دیا اور اس نے "جان کاتزیانر" کی کمان میں 24 ہزار کے مضبوط فوج کو عثمانی علاقوں پر براہ راست حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ یورپ میں خشکی کے راستے عیسائی فوج "اوشییک" نامی قلعے پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھی، یہ وہ علاقہ ہے جہاں آج "کروشیا" موجود ہے۔ یہ قلعہ تُرکوں کے لئے انتہائی اہم تھا، کیونکہ جب تُرک یورپ میں حملہ آور ہوتے تو اس قلعے کو وہ رسد کی فراہمی اور فوجی کُمک کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ یہاں اس قلعے کی حفاظت کے لئے تقریباً 3 ہزارکی عثمانی فوج موجود تھی، یہ قلعہ دفاعی نقطہ نظر سے بہترین تعمیر کیا گیا تھا۔ یہاں پرعیسائیوں نے پہلے تو حملہ کر کے اسے فتح کرنا چاہا، لیکن عثمانی سپاہیوں کی سرفروشی نے شہر میں داخل نہ ہونے دیا اور ابتدائی حملے میں بے شمارعیسائی مارے گئے۔ جلد "اوشییک" کے تُرک سالار نے مدد کے لیے یورپ میں بلغراد کے عثمانی گورنر "محمود پاشا" کو فوری مدد کے لیے بلایا۔ "محمود پاشا" نے 8 ہزار گڑ سوار فوج کو جمع کیا اور وہ "اوشییک" کی مدد کے لیے روانہ ہوئے اور کچھ ہی دنوں میں 8 ہزار کی مضبوط عثمانی فوج عیسائیوں کے عقب میں نمودار ہوئی اس ابتدائی حملے میں عیسائیوں کے ہر اول دستے پسپا ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عثمانی فوج کا رعب عیسائیوں کے دلوں میں اس قدر طاری تھا کہ انہوں نے محاصرہ اٹھا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔ ایسا دراصل اس لیے ہوا کہ انہیں لگا کہ یہ تُرکوں کا ہراول گھڑسوار دستہ ہے۔ جبکہ اس کے پیچھے سلطان سلیمان اپنی بقیہ فوج کے ساتھ انہیں نشان عبرت بنانے کے لیے آ رہا ہے، جس کی وجہ سے عیسائی لشکر بھاگ کھڑا ہوا، اس پسپائی کے دوران محمود پاشا کے گھڑ سوار دستے اور"اوشییک" قلعے میں موجود ینی چری سپاہی عیسائیوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے کچھ گھنٹوں کے مسلسل تعاقب کے بعد عثمانی گھڑسوار فوج نے اس بھاگتے ہوئے لشکر کو جا لیا۔ جبکہ پیدل ینی چری فوج نے پہاڑ کے دونوں جانب درختوں میں چھپ کر گھات لگانے کا منصوبہ بنایا۔
ادھر جب عثمانی گھڑ سوار فوج عیسائیوں کے لشکر کے قریب پہنچی تو عیسائیوں نے دیکھا کہ یہ تو مخص چند ایک ہزار گھڑ سوار فوج ہے تو انہوں نے یک دم پلٹ کر تعاقب کرتی عثمانی فوج پر حملہ کردیا۔ عثمانی گھڑسوار برق رفتاری کے ساتھ پیچھے ہٹتے گئے اور جب عیسائی لشکر پہاڑ کے قریب اس مقام پر پہنچا جہاں پر عثمانی پیدل دستوں نے گھات لگائی ہوئی تھی، تو یہاں اچانک عثمانی گھڑسواروں نے مڑ کر تعاقب کرتے ہوئے عیسائی دستوں پر حملہ کر دیا۔ جبکہ پیدل دستوں نے دائیں اور بائیں جانب سے حملہ کرتے ہوئے، ان تمام گھڑ سوار دستوں کو ختم کر دیا۔ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے عیسائی نیزہ بردار اور وہ دستے جن کے پاس رائفلز تھیں، وہ بھگ اُٹھے۔ لیکن اب کافی دیر ہو چکی تھی، یہاں عثمانیوں نے انتہائی پھرتی کے ساتھ اس بچے کُچے لشکر پر حملہ کرتے ہوئے اس کا بھی کام تمام کر دیا، جبکہ عیسائی سپہ سالار بڑی مشکل کے ساتھ جان بچا کر یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ اس جنگ میں عثمانیوں کے تقریباً چند سو سپاہی شہید ہوئے، جبکہ ہیبزبرگ فوج کے تقریباً 20 ہزار سپاہی اس جنگ میں کام آئے۔
ادھر جب کہ عثمانی فوج نے ہیبزبرگ کو زمین پر ایک بہت بڑی شکست دے دی تھی، تو ادھر بحیر ایڈریاٹک میں عیسائیوں کا متحد بحری بیڑے نے "کاسٹلنوو" پر قبضہ کر لیا جو کہ جدید دور کے "مونٹی نیگرو" کے ساحل پر واقع ایک ساحلی قصبہ تھا۔ یہ "کاسٹلنوو" صرف ایک ساحلی چوکی نہیں تھی، بلکہ یہ بحیر ایڈریاٹک میں عثمانیوں کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتی تھی۔ عیسائیوں نے یہاں پر قدم جمانے کے بعد سلطنت عثمانیہ کے یورپی علاقوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چناچہ 1539ء ے موسِ بہارمیں سلطان سلیمان نے پرویزا کی جنگ کے فاتح اور عظیم الشان عثمانی امیر بہار "خیر الدین باربروسا" کو حکم دیا کہ وہ اپنے بحری بیڑے کو دوبارہ تیار کرے اور 1539 کے آخر میں خون جما دینے والی سردیوں میں سرخ داڑھی والے عثمانی امیر البحر کو "کاسٹلنوو" کو عیسائیوں سے واپس لینے کے لیے سلطان نے اسے روانہ کیا۔ خیر الدین باربروسہ کو دراصل یہاں پر "کاسٹلنوو" کی ناکہ بندی کے لیے روانہ کیا تھا۔ بحیرہ ایڈریاٹک کے اس ساحلی پٹی پر خیر الدین کواپنے بحری لشکر کے ساتھ یہاں کی ناکام بندی کرنی تھی۔ جبکہ ادھر بوسنیا سے عثمانی گورنر امین اپنی فوج کے ساتھ "کاسٹلنوو" پر حملے کے لیے روانہ ہوے۔
باربروسہ نے اپنے 200 بحری بیڑوں اور چار ہزار ینی چری اور تقریباً ایک لاکھ فوج جس میں پیدل اور گھڑسوار دستے شامل تھے، جلد خلیج "کوٹور" میں داخل ہوا۔ دریں اثناء ادھر "کاسٹلنوو" کے اندردفاعی فوجی دستہ جس میں ہسپانوی پائک مین،یونانی اور دیگر عیسائی سپاہی "فرانسسکو ڈی سار منٹو" نامی سالار کی قیادت میں عثمانی حملہ آوروں کے خلاف "کاسٹلنوو" کے دفاع کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔ یہاں پر ان کے پاس چند ہلکے گھڑسوار دستے اور یونانی سپاہی شامل تھے۔ جن کی تقریباً مجموعی تعداد 3500 کے قریب تھی۔ انہوں نے عثمانیوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔ عثمانی لشکر کی آمد سے کئی ماہ پہلے ہی "فرانسسکو" نے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ اس نے قلعے کے کمزور حصوں کی مرمت، دیواروں کو مضبوط کرنا اور خندقوں کو کھودنے کا کام مکمل کیا۔ اس کے بعد اس نے یورپ میں مدد کے لیے خطوط لکھے لیکن اسے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی درخواست پر "اینڈریا ڈوریا" نے بھی بار بروسہ سے کھلے سمندر میں لڑنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ اسے تقریباً ایک سال پہلے1538ء میں پرویزہ کی جنگ میں اینڈریا ڈوریا کو خیر الدین بار بروسہ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور جب تک کہ"کاسٹلنوو" کے محصورین کا خط اسپین پہنچتا، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی،کیونکہ عثمانی فوج باربروسہ کی قیادت میں یہاں پہنچنے والی تھی۔
12 جون کو 30 عثمانی جہاز باربروسہ کے حکم پر خلیج کوٹور میں داخل ہوئے اور انہوں نے "کاسٹلنوو" کی ناکہ بندی شروع کر دی۔ جس کے بعد ایک ہزار عثمانی سپاہیوں کا دستہ "کاسٹلنوو" کے باہر کے علاقوں کو قبضے میں لینے اور مقامی لوگوں کو پکڑنے کے لیے اتارا۔ جلد ہسپانویوں کو عثمانی فوج کی آمد کی خبر ملی۔ تو ان کے سالار "سارمینٹو" نے ابتدائی عثمانی سپاہیوں کے مقابلے کے لیے اپنے سپاہی روانہ کیے، جس میں تقریباً کوئی 9 سو کے قریب پیدل سپاہی تھے، جو کہ بہترین تجربے کار ہسپانوی پائیک مین تھے۔ انہوں نے حملہ کرتے ہوئے تقریباً ایک سو کے قریب عثمانی سپاہیوں کو شہید کر دیا اور باقی عثمانی سپاہی مجبوراً پسپائی اختیار کرتے ہوئے واپس جہازوں کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد دوپہر کے وقت عثمانی فوج پھر زمین پر اتری اور اس نے یہاں پر قدم جمانے کی کوشش کی، جب کہ اب کی بار خود سارمینٹو کی قیادت میں 600 هسپانوی سپاہیوں نے حملہ کیا اور عثمانیوں کو شکست کھانی پڑی جس میں ان کا تقریباً بھاری جانی نقصان ہوا۔
خیر الدین بار بروسہ 18 جون کو عثمانی بحری بیڑے کے مرکزی حصے کے ساتھ یہاں پہنچ چکے تھے اور انہوں نے فوری طور پر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ نیچے اتر کر ایک ساحلی پٹی قائم کریں۔ جبکہ ادھر بوسنیا میں عثمانی گورنر بھی چند دنوں تک اپنی زمینی فوج کے ساتھ یہاں پر پہنچنے والے تھے اور پھر دونوں بحری اور بری فوجوں نے مل کر "کاسٹلنوو" کا قلعہ عیسائیوں سے واپس لینا تھا۔ عثمانی فوج نے قلعے کے ارد گرد خندقیں کھودنا شروع کر دیں اور وہ بحری جہازوں سے 44 بڑی توپوں کو اتارنا شروع ہو گئے۔ توپوں کو اتار کر "کاسٹلنوو" کے سامنے لے کر جانا ایک سست اور محنتی عمل تھا۔ جس کا ہسپانوی سپہ سالار سارمینٹوں نے پوری طرح سے فائدہ اٹھایا۔ ہسپانوی فوجوں نے اپنے قلعے سے باہر نکل کر عثمانی سپاہیوں پر جو کہ خندقیں کھودنے میں مصروف تھے ان پر اچانک چھاپے مارے جس کی وجہ سے بے شمار عثمانی سپاہی شہید ہوئے۔ یہ دراصل عثمانی سپاہیوں کو غصہ دلانا تھا تاکہ وہ حملہ کرتے ہوئے عیسائیوں کے جال میں جا پھنسیں۔ عیسائیوں کے اس حملے سے ینی چری سپاہیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے قلعے پر حملہ کرنے کے لیے باربروسہ کے حکم کے بغیر وہ آگے بڑھے اور جب ینی چری دستہ شہر کی دیوار کے قریب پہنچا تو 800 ہسپانوی سپاہیوں نے ینی چری دستے کو بے خبری میں جا لیا اور آن کی آن میں دیکھتے ہی دیکھتے ینی چری سپاہیوں کا یہ سارا دستہ شہید ہو گیا، جب یہ خبر خیرالدین بار بروسہ تک پہنچی تو وہ غصے سے کانپنے لگے۔ کیونکہ ینی چری دستہ ان کا سب سے ایلیٹ اور طاقتور ترین دستہ تھا۔ جو جنگ کے بالکل آخر میں کام آتا تھا، اور یہ ہاری ہوئی جنگ کو جیت میں چدل دیا کرتے تھے۔ باربروسہ نے اپنی فوج کو خندقوں کے گرد دفاعی طور پر پابند رہنے کا حکم دیا۔ جبکہ اس دوران بوسنیا کا گورنر عثمانی فوج کے ساتھ "کاسٹلنوو" کے شمال میں شہر کے باہر آپہنچا، اس دوران عثمانی توپیں بھی قلعے کے بالکل سامنے آگ برسانے کے لیے پہنچ چکی تھں۔ عثمانی فوج نے تقریباً 24 جولائی تک اپنی دفاعی تیاریاں مکمل کیں اور اسلامی روایات کے مطابق بار بروسہ نے حملے سے پہلے ایک صلح کا پیغام سرمینٹو کے پاس بھیجا، عثمانی سفیر نے باربروسہ کی جانب سے زیتون کی ایک شاخ سرمینٹو کو دی اور اس نے خیر الدین بار بروسہ کی طرف سے پیغام دیا کہ امن کے طور پر شہر خالی کر دیا جائے۔ بدلے میں بار بروسہ نے یہ پیشکش کی کہ اس سے اور اس کے سپاہیوں کو محفوظ راستے کے ذریعے سے اٹلی جانے دیا جائے گا۔
ہسپانویوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر تے ہوئے انہوں نے شہنشاہ چارلس پنجم کے نام پر مرنے کو ترجیح دی جس کے بعد عثمانی فوج حرکت میں آئی اور توپوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔ یوں پہلے دن شہر پرعثمانی توپیں لگاتار بمباری کرتی رہیں اور جب عثمانی فوجیں دیوار پر چڑیں تو انہیں شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ دشمن کے قریب ہو جانے کی وجہ سے وہ خود اپنی ہی توپوں کا نشانہ بنے اور بے شمار سپاہی شہید ہوئے، رات کو عثمانی فوج پیچھے ہٹی تو عیسائی اپنے کمزور دفاع کو مضبوط کرنے میں مصروف ہو گئے۔
اس پہلے ابتدائی حملے کے بعد جب عثمانی فوج واپس اپنی قیام گاہ میں آئی۔ تواگلے دن تقریباً 600 کے قریب عیسائیوں کے پیادہ سپاہیوں نے فجر کے وقت شہر سے نکلے انہیں خوب معلوم تھا کہ اس وقت ترک نماز ادا کر رہے ہوں گے اور انہوں نے عثمانی کیمپ پر حملہ کر دیا اور بے شمار عثمانی سپاہی عیسائیوں کے اس اچانک حملے سے شہید ہوئے، یہاں تک کہ ہسپانوی حملہ کرتے ہوئے خیر الدین بار بروسہ کے بلکل قریب پہنچ چکے تھےاور باربروسہ کو تھوڑی دیر کے لیے پیچھے ہٹنا پڑا لیکن اس ابتدائی فتح کے باوجود عیسائی دستے کو پیچھے ہٹنا پڑا کیونکہ ان کے پاس اتنی فوج نہیں تھی کہ وہ اتنے بڑے عثمانی لشکر کا دیر تک مقابلہ کر سکیں۔ 4 اگست تک عثمانی توپوں کی شدید بمباری کی وجہ سے قلعے کی بیرونی دیوار گر گئی۔ اسی دن ترکوں نے اس کمزور جگہ سے شہر میں داخل ہونے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس بار بھی ہسپانوی سپاہی بڑی دلیری کے ساتھ لڑے اور انہوں نے ینی چری سپاہیوں کو شدید جانی نقصان پہنچایا۔ یہاں عثمانی بھی اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے سخت غصے میں تھے انہوں نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اس قلعے کو فتح کر کے رہیں گے سو مجبوراً محصورین کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
اس سے اگلے دن بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری رہی محصورین شکست خوردہ تھے اور تھکے ہوئے بھی تھے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے عثمانیوں کو زمین کے ایک ایک انچ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا اور انہوں نے شہر کا بہادری کے ساتھ دفاع کیا۔
چھ اگست تک عثمانی توپ خانے نے قصبے کی دیواروں کو تباہ کر دیا تھا اور سر مینٹو کو قصبے کے جنوبی ضلعے میں ایک مضبوط قلعے کی طرف پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔ "کاسٹلنوو" کے زیادہ تر شہریوں کو وہیں روک دیا گیا اور ان کی اس قلعے کی جانب داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ عثمانی فوج جس نے اپنے بے شمار سپاہی اس محاصرے میں ضائع کیے تھے برق رفتاری کے ساتھ حملہ کرتے ہوئے ہسپانیوں پر زمین تنگ کیے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آخر میں صرف 600 ہسپانوی فوجی رہ گئے اور وہ ترکوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑتے ہوئے مارے گئے۔ یوں اس دن کے اختتام تک تقریباً2سو زندہ ہسپانوی سپاہی پکڑے گئے، ان میں سے تقریباً سو کے قریب سپاہیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ جبکہ باقی 100 کو قسطنطنیہ میں غلامی میں فروخت کے لیے روانہ کیا گیا۔ اس معرکے میں عثمانی فوج کے تقریباً 10 ہزار سپاہی شہید ہوئے، جبکہ بعض روایات کے مطابق اس حملے میں تقریباً 37 ہزار عثمانی سپاہیوں نے جام شہادتنوش کیا۔ یہ فتح سلطان سلیمان کو بڑی بھاری قیمت پر حاصل ہوئی تھی اور ہسپانویوں نے اپنے ہیبزبرگ بادشاہ کے نام پر ایک تاریخی اور بہادرانہ جنگ لڑی تھی اور اب "کاسٹلنوو" عثمانیوں کے قبضے میں تھا۔
History In Urdu