Sultan Suleiman the Magnificent (Part 4): The Ottoman–Safavid Conflict (1534)

Sultan Suleiman the Magnificent (Part 4): The Ottoman–Safavid Conflict (1534)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سولہویں صدی میں اناطولیہ کو صفوی سلطنت کے زیرِ اثر قزلباش بغاوتوں کا سامنا رہا، جو عثمانی حکومت کے لیے مسلسل خطرہ بنی رہیں۔ انہی حالات نے سلطان سلیمان اعظم کو 1534ء میں صفوی سلطنت کے خلاف مہم پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں تبریز اور بغداد سمیت عراق کا بیشتر علاقہ عثمانی سلطنت میں شامل ہوا۔

اناطولیہ میں قزلباش بغاوتیں

1511 عیسوی میں اناطولیہ میں ہونے والی شاکولو نامی بغاوت اپنے طرز کی ایک بہت بڑی بغاوت تھی۔ جو کہ صفوی سلطنت کے اثرواسوخ کے تحت اناطولیہ میں موجود شیعہ گروہوں کی جانب سے برپا کی گئی تھی۔ اس بغاوت کا بانی "شاہ کولونامی" ایک شیعہ رہنما تھا۔ جس کے نام سے اس بغاوت کا نام شاہ کولو بغاوت پڑ گیا۔ یہ بغاوت عثمانی سلطنت کے لیے ایک سنگین خطرہ تھی۔ کیونکہ اس نے اناطولیہ میں سلطنتِ عثمانیہ کے نظام کو تقریباً مفلوج کر دیا تھا۔ سلطان سلیم نے اس بغاوت کو کچلنے کے لیے سخت ترین اقدامات کیے اور آخر کار شاکولو مارا گیا جس کے بعد اس بغاوت پر قابو پا لیا گیا۔ اس بغاوت میں بے شمار اہل تشیع عثمانیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ جبکہ بہت سے قزلباش باغیوں کو سلطان سلیم نے جلا وطن کرنے کا حکم دیا، تا ہم اس سب کے باوجود اناطولیہ میں اب بھی بہت سے شیعہ موجود تھے۔ جن علاقوں میں شیعہ کثیر تعداد میں پائے جاتے تھے۔ وہاں کبھی کبھار شیعہ سنی فسادات ہو جاتے تھے۔ جس کے باعث دونوں جانب سے بے شمار لوگ مارے جاتے۔

جب سلطان سلیمان تخت نشین ہوئے تو انہیں بھی فرقہ وارانہ فسادات کا سامنا کرنا پڑا۔

اناطولیہ میں ہونے والی ان بغاوتوں سے سلطان بے حد پریشان تھے۔ جلد اناطولیہ میں قزلباش ترکوں کی یہ بغاوتیں پہلے سے زیادہ ہونے لگیں۔ ان بغاوتوں میں اناطولیہ میں موجود عام سنی عوام بھی تھی جو کہ سلطان کے خلاف ہو گئی تھی۔ سلطان سلیمان کی تخت نشینی کے بعد 1526 عیسوی میں اناطولیہ میں ہونے والی قزلباش ترکوں کی یہ پہلی بڑی بغاوت تھی۔ جب "بابا زونون" نامی ایک ترکمان نے جو کہ علوی بزرگوں میں سے ایک تھا، نے بغاوت کے لیے چند لوگوں کو اپنے پاس جمع کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے عائد ٹیکس حد سے زیادہ ہے جو کہ ہم عام لوگوں نہیں دے سکتے۔ یہ بغاوت ٹھیک عین اس وقت کی گئی جب عثمانی سلطان سلیمان یورپ میں ہینگری کے بادشاہ لوئس کے ساتھ "مہاچ" کی جنگ میں مصروف تھے۔ اناطولیہ میں باغیوں نے ان دیہاتوں اور قصبوں پر حملے کیے جہاں سنی لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور انہوں نے اس بغاوت میں بے شمار سنیوں کا قتل عام کیا۔ جب ان باغیوں کو کچلنے کے لیے اناطولیہ میں کارامان کے گورنر "حوریم پاشا" اور کیسری کے جج "بہرام بے" نے ان کے خلاف تلوار اٹھائی، تو ان قز لباشوں نے انہیں بھی شکست دی۔ اب صورتحال روز بروز خطرناک ہوتی جا رہی تھی۔ ان ابتدائی فتوحات سے حوصلہ پا کر بے شمار اہل تشیع اور باغی بابا زنون کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر اڈانا کے گورنر "پیری بے" نے جلد ترکمانوں کی فوج کو جمع کیا اور ان باغیوں کے خلاف نکل کھڑے ہوئے، جبکہ دیارِ بکر میں عثمانی گورنر "خسرو پاشاہ" نے کردوں کی ایک فوج جمع کی اور وہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ ملاٹیا میں باغیوں کو کچلنے کے لیے روانہ ہوئے، ان دونوں عثمانی گورنروں نے باغیوں پر حملہ کرتے ہوئے ان کی طاقت کو کچل ڈالا۔ لیکن اس حملے میں بھی کچھ قزلباش باغی زندہ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے، اور وہ اڈانا جا پہنچے۔ جب "پیری بے" کو ان باغیوں کے بارے میں خبر ملی تو وہ جلد واپس اڈانا آئے اور ان باغیوں کو چن چن کے ختم کر دیا۔ لیکن یہ تو بغاوت کی ابھی ابتدائی لہر تھی، ابھی مزید بغاوتوں کا عثمانیوں کو سامنا کرنا تھا۔

قلندر چیلیبی کی بغاوت

اس بغاوت کے کچلے جانے کے بعد اناطولیہ میں سلطان سلیمان کو ایک اور بہت بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بغاوت "قلندرچیلیبی" کے نام سے جانی جاتی ہے۔ جس نے کارامان سے سیواس تک کے علاقوں پر بغاوت کرتے ہوئے تمام علوی شیعوں کو اپنے پاس جمع کر لیا۔ قز لباشوں کی اس بغاوت میں پہلے سے زیادہ لوگ ان کے پاس جمع ہوے۔ کیوں کہ چند ہی دنوں میں قلندر چیلیبی کے پاس 30 ہزار کے قریب باغی جمع ہو گئے تھے۔

"قلندر چیلیبی" کی بغاوت کیسے شروع ہوئی اس کی وضاحت کرتے ہوئے اُس دور کے ایک عثمانی کلرک سیلال زادے مصطفیٰ لکھتے ہیں کہ:۔

" قلندر چیلیبی دراصل ایک صوفی رہنما شخصیت تھے جنہوں نے قزلباش پیروکاروں کو عثمانی سلطنت کے خلاف بغاوت کے لیے اکسایا۔ ان کی بغاوت کے پیچھے بنیادی وجوہات سماجی اور مذہبی نا انصافی تھی۔ قز لباش گروہوں کو عثمانی حکومت کی جانب سے مذہبی دباؤ اور پالیسیوں کا سامنا تھا۔ جس کی وجہ سے ان میں بے چینی پیدا ہوئی اور انہوں نے بغاوت کا آغاز کیا۔ جب اناطولیہ میں اس دوسری بڑی بغاوت کی خبر یورپ میں سلطان سلیمان کو ملی، تو وہ اس وقت "مہاچ" کی جنگ میں فتح کے بعد واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ جیسے ہی سلطان کو یہ خبر ملی تو انہوں نے اناطولیہ کے گورنر "بہرام پاشا" کو بغاوت کو ختم کرنے کا کام سونپا اور انہیں دارالحکومت "استمبول" سے روانہ کیا۔ ان کے ساتھ عثمانی وزیر پارگلی ابراہیم پاشا بی ساتھ تھے۔ سلطان نے سختی سے انہیں ہدایت کی کہ اناطولیہ میں ہر صورت امن و امان قائم کیا جائے۔ ابراہیم پاشا کے پاس 3 ہزار ینی چری اور 5 ہزار کیپیکولو گھڑسوار فوج موجود تھی۔ دریں اثنا اناطولیہ کے بیلربے "بہرام پاشا" نے سیواس کے قریب ایک مقام پر قلندر چیلیبی کی فوج کا سامنا کیا۔ لیکن اس بغاوت کو کچلنے کے دوران اناطولیہ کی بیلر بے کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور بے شمار عثمانی سپاہی اس لڑائی میں مارے گئے۔ باغی علویوں نے بہت سا اسلحہ اور ساز و سامان عثمانیوں سے چھین لیا۔ جس کی وجہ سے اب ان کی طاقت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ سیواس کے مقام پر جو کہ بنو زوالقدر ترکمانوں کا گڑھ تھا، وہ بھی اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی وجہ سے اس بغاوت میں شامل ہو گئے تھے۔ جب ابراہیم پاشا کو بیلربے کی شکست کی خبر ملی تو انہوں نے اپنی فوج کو برق رفتاری کے ساتھ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وہ البستان کی طرف پیش قدمی کرنے لگے۔ جب یہاں پارگلی ابراہیم پاشا نے باغیوں کی تعداد اور ان کی طاقت کا اندازہ لگایا تو انہوں نے جنگ کرنے سے پہلے مصلحت سے کام لینا زیادہ ضروری سمجھا۔ انہوں نے بنو زوالقدر جو کہ بغاوت پراترآیا تھا، انہیں خفیہ پیغامات بھیجے کہ ان کے تمام مطالبات مان لیے جائیں گے، میں سلطان کو خود ان مطالبات پر راضی کروں گا کہ وہ اپ کے ساتھ نرمی اور رعایت بڑھتے ہیں۔ لیکن بدلے میں اپ کو اس باغی گروہ سے الگ ہونا پڑے گا۔ پارگلی ابراہیم پاشاہ کے جاسوسوں نے بنو زوالقدر کے سردار کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ بغاوت سے پیچھے ہٹ جائیں جس کے بعد بنو زو القدر نے بغاوت ختم کرتے ہوئے "قلندر چیلیبی" سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جس کے بعد اب باغیوں کا تعداد 30 ہزار سے کم ہو کر 10 ہزار تک آ پہنچی۔ جب پارگلی ابراہیم پاشا نے میدان صاف دیکھا تو اس نے جلد عثمانی فوجوں کو حملے کا حکم دیا۔ باغی کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہوئی اور اس جنگ میں ہی قلندر جیلیبی عثمانی سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا اور یہ بغاوت کچل دی گئی۔

صفوی سلطنت پر حملے کا فیصلہ

جب اس بغاوت کی خبر ابراہیم پاشا نے سلطان سلیمان کو دی تو وہ اس سے بے حد خوش ہوئے۔ سلطان نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو جمع کرتے ہوئے اس صورت حال پر رائے مانگی سب نے یہی جواب دیا کہ ان بغاوتوں کا اصل سرغنہ صفوی سلطان ہے جو کہ شیعہ فرقے سے تعلق رکھتا ہے۔ جو اناطولیہ میں موجود اپنے جاسوسوں کے ذریعے اہل تشیعوں کو ابھارتا ہے۔ جس کی وجہ سے آئے روز بغاوتیں برپا ہو رہی ہیں۔ آپ کے والد "سلطان سلیم" نے بھی شاہ اسماعیل صفوی کو سبق سکھانے کے لیے صفوی سلطنت پر حملہ کیا تھا اور اب سلطنت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ آپ بھی اس فساد کی اصل جھڑ یعنی کہ شاہ اسماعیل کے بیٹے شاہ طہماسپ کو سبق سکھانے کے لیے دارالحکومت "تبریز" پر حملہ کریں۔ سلطان سلیمان اس سے قبل آسٹریا کے دارالحکومت "ویانہ" کا محاصرہ کر چکے تھے۔ سلطان سلیمان اس دوران اہل یورپ کے ساتھ بھی حالت جنگ میں تھے۔ سو اب ان کے لیے تھوڑا مشکل ہو گیا کہ ایک طرف مشرق میں ان کی ہمسائی ریاست صفوی تھی جو کہ آئے روز بغاوت کی جا رہی تھی۔ جبکہ یورپ میں وہ اپنی فتوحات کو مزید وسیع کرنا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے اب انہیں یورپ سے رخ موڑ کر اپنی فوج کو مشرق میں صفوی سلطنت کی طرف لے کر جانا تھا۔ لیکن اس دوران سلطان کو یورپ کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔ کیونکہ فرڈیننڈ اور دیگر یورپ کے بادشاہوں نے سلطان سلیمان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کر لیا تھا اور اب سلطان بغیر کسی فکر اور پریشانی کے صفویوں کے ساتھ جنگ کر سکتے تھے۔

تبریز پر قبضہ

جلد سلطان نے اپنے وزیر پارگلی ابراہیم پاشا کو فوج کا ایک حصہ دے کر اسے صفوی سلطنت پر حملے کے لیے دارالحکومت سے روانہ کیا۔ ابراہیم پاشا نے حلب میں سردیاں گزارتے ہوئے جنگی تیاریاں مکمل کیں اور 941ھ بمطابق مئی 1534ء میں وہ "دیار بکر" آئے۔ طویل مشاورت کے بعد آخر یہ طے پایا کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ سب سے پہلے صفوی سلطنت کے دارالحکومت تبریز پر حملہ کریں گے۔ اس دوران ابراہیم پاشا صفویوں کے بیشتر قلعہ داروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جو کہ درپردہ عثمانیوں کے حمایتی تھے اور جب پارگلی ابراہیم پاشا صفوی سرحد میں داخل ہوئے تو بغیر کسی مزاحمت کے تین قلعوں پر عثمانی فوج کا قبضہ ہو گیا اور قلعہ داروں نے بخوشی قلعے کی چابیاں پارگلی ابراہیم پاشا کو پیش کیں۔ ان ابتدائی فتوحات کے بعد پارگلی ابراہیم پاشا اپنی بقیہ فوج کے ساتھ تبریز کی جانب پیش قدمی کرنے لگے۔ صفوی شہنشاہ شاہ طہماسپ کو جب خبر ملی کہ عثمانی وزیراعظم پارگلی ابراہیم پاشا ایک بڑی فوج کے ساتھ اس کے دارالحکومت پر حملے کے لیے آ رہا ہے۔ تو وہ جلد اپنے گھڑسواروں کے ساتھ دارالحکومت سے بھاگ کھڑا ہوا۔ یوں ابراہیم پاشا جو کہ 20 دن کے لگاتار سفر کے بعد تبریز پہنچے، تو انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے تبریز شہر پر قبضہ کر لیا۔ جب سلطان سلیمان فاتح کے طور پر دارالحکومت تبریز میں داخل ہوئے تو عثمانی تاریخ دان سیلال زادے مصطفیٰ چیلیبی اس فتح کی وضاحت مندرجہ زیل الفاظ میں کرتے ہیں۔ کہ تبریز کا میدان سپاہیوں اور خیموں سے بھر گیا تھا۔ ہر طرف عثمانی سپاہی ہی نظر آرہے تھے۔ عثمانیوں نے یہ فتح بغیر کسی مزاحمت اور جنگ کے حاصل کی تھی۔

یہاں سلطان سلیمان نے اپنے جاسوسوں کو صفوی فوج کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا۔ اس دوران ایک صفوی گورنر "حلیل سلطان" بھی اپنے سپاہیوں کے ساتھ سلطان سلیمان کے پاس حاضر ہوا اور اس نے سلطان کی اطاعت کا اظہار کیا۔ سلطان سلیمان کا صفوی سلطنت پر حملے کا جو سب سے بڑا مقصد تھا وہ یہ تھا کہ ایک سخت ترین جنگ لڑ کے صفوی فوج کی طاقت کو کم کیا جائے۔ کیونکہ جب تک صفویوں کی طاقت کو توڑا نہیں جاتا، تبریز شہر کا عثمانی ہاتھوں میں رہنا اور قزلباشوں کی بغاوتوں کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔ اس وجہ سے سلطان سلیمان نے اپنی فوج کے ساتھ قزوین شہر کی طرف پیش قدمی کی، جہاں پہ شاہ طہمسپ چھپا ہوا تھا، جب عثمانی فوج سلطانیہ پہنچی تو معلوم ہوا کہ شاہ طہماسپ شہر چھوڑ کر اندرون ایران کی طرف بھاگ گیا ہے۔ اس خبر کی وجہ سے سلطان سلیمان نے جنگ کا ارادہ ترک کر کے بغداد کی جانب رخ کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ کیونکہ اصل مقصد شاہ طہماسپ سے جنگ کرنا تھا اور وہ جنگ کے لیے تیار نہیں تھا، وہ آئیں بائیں شائیں کر کے اپنی فوج کے ساتھ ادھر ادھر چھپتا پھر رہا تھا اور اس کا تعاقب بھی کوئی آسان نہیں تھا۔ تبریز سے سلطانیہ کا سفر پہلے ہی عثمانی فوج کے لئے کافی کٹھن اور خطرناک تھا۔ لیکن اصل مصیبتیں عثمانی فوج پر بعد میں شروع ہوئیں۔ سلطانیہ پہنچنے سے پہلے ہی برف باری شروع ہو گئی جسکی وجہ سے سردی اپنے عروج پہ تھی۔ عثمانی فوج کو اس خراب موسم میں جانوروں اور سامان کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور کرتے ہوئے تقریباً 600 عثمانی توپیں جن کی نقل و حمل ناممکن تھی، انہیں سلطان کے حکم پر توڑ کر زمین میں دفن کر دیا گیا، تاکہ یہ صفویوں کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔

بغداد کی فتح

یہاں سے سلطان نے اپنی فوج کا رخ جنوب مغرب کی طرف موڑ کر بغداد کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ عثمانی فوج کی بغداد روانگی کے بعد کرد اور ترکمان سردار عثمانی کیمپ میں آنے لگے اور انہوں نے سلطان سے اپنی اطاعت کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے کہ ترک فوج بغداد پہنچتی، بغداد کے صفوی گورنر"تکلی محمد خان" نے بغداد کی چابیاں سلطان سلیمان کے حوالے کر دیں وہ جانتا تھا کہ وہ سلطان سلیمان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے اس نے عافیت اسی میں جانی کہ وہ بغیر مقابلہ کیے شہر کی کنجیاں سلطان کے حوالے کردے۔ یوں 24 جمادی الاخر 941 ہجری بمطابق 31 دسمبر 1534ء کو جب سلطان سلیمان اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ بغداد شہر میں داخل ہوئے۔ یوں اسلامی دنیا کے مشہور ترین شہروں میں سے ایک یعنی کہ بغداد جو صدیوں تک عباسی خلفاء کا دارالحکومت رہا۔ اب عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا تھا بغداد میں تقریباً چار ماہ قیام کرنے کے بعد سلطان نے امام اعظم ابو حنیفہ اور سید عبدالقادر گیلانی کی قبروں پر حاضری دیتے ہوئے یہاں پر مقبرہ تعمیر کروایا اور اس کے بعد وہ موسم بہار کی آمد پر کربلا اور نجف بھی گئے اور وہاں پر زیارتیں کیں اور یہ علاقہ بھی عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ سلطان سلیمان کے اس اقدام سے اہل تشیعوں کا عثمانی سلطنت کو لے کر تھوڑا رویہ نرم ہوا اور انہوں نے سلطان کی خوب تعریف کی۔ سلطان اس دوران نجف میں تھے کہ بصرہ کا حاکم سلطان کے خیمے میں داخل ہوا اور اس نے بصرہ شہر کی کنجیاں سلطان کو پیش کرتے ہوئے اپنی اطاعت کا اظہار کیا۔ یوں اس طرح عثمانی تسلط مشرق میں خلیج فارس تک پہنچ گیا۔

اس دوران جبکہ سلطان بغداد میں موجود تھے تو انہیں تبریز سے خبریں موصول ہونے لگیں۔ کیونکہ علامہ پاشا جسے سلطان نے تبریز کی حفاظت کے لیے چھوڑا ہوا تھا وہ سلطان کو مدد کے لیے بلا رہا تھا۔ ہوا دراصل کچھ یوں تھا کہ جب سلطان بغداد کی فتح کے لیے اپنی فوج کے ساتھ وہاں گئے تو شاہ طہماسپ نے اپنی فوج کے ساتھ دارالحکومت واپس لینے کی کوشش کی، جب علماء پاشا کو معلوم ہوا کہ وہ شہر کی حفاظت نہیں کر سکتے تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور تبریز پھر واپس صفویوں کے پاس چلا گیا۔ ادھر بغداد میں سلطان نے اپنی فوج کو تیار ہونے کا حکم دیا اور وہ پھر سے تبریز کی جانب پیش قدمی کرنے لگے۔ جب شاہ طہماسپ کو عثمانی سلطان کی آمد کی خبر ملی تو اس نے اپنے سفیروں کو امن کی درخواست کے ساتھ سلطان کے پاس بھیجا۔ لیکن سلطان نے ان سفرا کو واپس بھیج دیا اور وہ تیزی کے ساتھ تبریز کی طرف بڑھے اور انہوں نے تبریز پر حملہ کرتے ہوئے اسے فتح کر لیا۔ یوں تبریز تیسری بار عثمانیوں کے ماتحت آگیا تھا۔ اب یوں کہنے کو تو ایرانیوں نے متفقہ طور پر ترک فوج کا مقابلہ کیا اور لوگوں کو موسم کی سختی اور سامانِ رسد کی عدم فراہمی کے باعث کافی نقصان پہنچا۔ لیکن خود شاہ ایران کی طرف سے کوئی مدافعت نہیں ہوئی اور ترک اپنی مفتوحات پر بدستور قائم رہے۔

نتیجہ

27 اگست 1535 عیسوی کو ایران کی مہم ختم ہوئی اور سلطان استنبول کی طرف کوچ کرنے لگے۔ سلطان سلیمان کی اس عظیم فتوحات کا یہ نتیجہ نکلا کہ بغداد اور اس کے گرد و نواح پر مشتمل عراقی سرزمین عثمانی سلطنت کے ماتحت آگئی۔

Check Also

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms