Sultan Suleiman the Magnificent (Part 3): The Siege of Vienna (1529)

Sultan Suleiman the Magnificent (Part 3): The Siege of Vienna (1529)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

جنگِ مہاچ میں ہنگری کو شکست دینے کے بعد سلطان سلیمان اعظم کا سامنا اب یورپ کی سب سے بڑی طاقت، آسٹریا کے ہیبزبرگ خاندان سے تھا۔ 1529ء میں عثمانی فوج نے پہلی بار آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کا محاصرہ کیا۔ یہ تحریر اسی تاریخی محاصرے، اس کی ناکامی کے اسباب اور اس کے بعد کے واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔

پس منظر: جنگِ مہاچ کے بعد ہنگری

اس سے قبل سلطنتِ عثمانیہ اور ہینگری کے درمیان ایک تاریخی جنگ "مہاچ" ہوئی تھی، جس میں عثمانی سلطان سلیمان نے شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے ہنگری کی 500سالہ سلطنت کا خاتمہ کر دیا تھا۔

یہ یورپ میں عثمانیوں کی بہت بڑی فتح تھی۔ اس جنگ میں ہینگری کا بادشاہ لوئس دوم جان بچاتے ہوئے دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ عثمانیوں نے یورپ میں اپنے پرانے اور طاقتور دشمن ہینگری کو تقریباً نقشے سے مٹا دیا تھا، لیکن اب یورپ میں سلطان سلیمان کو ایک نئی اور سخت آزمائش کا سامنا کرنا تھا، کیونکہ اب ان کا مقابلہ آسٹریا کے ہیبزبرگ خاندان سے تھا۔

1526 عیسوی میں ہونے والی مہاچ کی جنگ میں سلطان سلیمان نے ہینگری کے بادشاہ کو شکست دیتے ہوئے ہینگری کی فوجی طاقت کو تقریبا ختم کر دیا تھا اور اب سلطان اپنے لشکر کے ساتھ ہینگری کے دارالحکومت "بوڈا" جا پہنچے۔ سلطان نے ہینگری کے بعض اُمراء کی مشاورت سے کاؤنٹ زاپولیا کو ہنگری کا نیا بادشاہ مقرر کیا۔ جبکہ سلطان سلیمان نے فیصلہ کیا کہ ہنگری کی سرزمین کو سلطنت عثمانیہ کے تحت ایک خود مختار ریاست ہی رہنا چاہیے۔ جس کے بعد اب ہینگری کے لوگ اپنی خارجہ امور کے لیے عثمانیوں پر منحصر ہو گئے۔ جبکہ اندرونی معاملات میں وہ تقریباً آزاد تھے۔ بدلے میں وہ سلطان سلیمان کو سالانہ ٹیکس ادا کرتے اور جب کبھی سلطان کو فوجی کُمک کی ضرورت ہوتی تو اہلِ ہینگری سلطان کے لیے اپنے سپاہی روانہ کرتے۔

ہینگری کا نیا بادشاہ زاپولیا دراصل ٹرانسلوینیا کا سابق وائی وڈ تھا۔ سلطان سلیمان نے ہینگری میں انتظامی امور کو درست کرنے کے بعد وہ اپنے لشکر اور مال غنیمت کے ساتھ واپس استمبول کے لیے روانہ ہو گئے۔ سلطان کو ہنگری چھوڑے ہوئے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے۔ کہ ان کے منتخب کردہ بادشاہ زاپولیا کے خلاف آرچ ڈیوک فرڈیننڈ تخت کے دعوے دار کے طور پر کھڑا ہو گیا۔ یہ شخص ہینگری کے سابق بادشاہ لوئس دوم کا بہنوئی اور شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا۔ جسے چارلس نے آسٹریا کی آرچ ڈچی منتقل کر دی تھی۔ ایک معاہدے کی رو سے جو چارلس اور سابق شاہ ہینگری کے درمیان ہو چکا تھا۔ اس نے ہینگری کے تخت کا دعویٰ کیا، اس کے خلاف زپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہینگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہینگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن باوجود اس قانون کے مغربی ہینگری کے امراء نے فرڈیننڈ کو ہینگری کا بادشاہ منتخب کر لیا اور اب ان دونوں کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔ جس کے بعد فرڈیننڈ نے دارالحکومت بوڈا پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ حملہ اس نے اس لئے جلدی میں کیا تاکہ عثمانی فوج زاپولیہ کی مدد کے لیے یہاں پہنچ نا جائے اور 20 اگست 1527 عیسوی کو فرڈینڈ کی افواج نے ہینگری کے دارالحکومت بوڈا پر قبضہ کر لیا۔ اس جنگ میں شکست کے بعد جب زاپولیا اس نے دیکھا کہ ہینگری کے بہت سے رئیس فرڈینڈ کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور وہ ہینگری پر مزید اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا، تو اس نے پولینڈ جو کہ ایک تو اسکی ہمسایہ ریاست تھی،اور دوسرا یہاں کا بادشاہ زاپولیا کا سسر تھا۔ یہیں سےزاپولیا نے پولینڈ سے سلطان کی خدمت میں مدد کے لیے اپنے سفیر کو بھیجا۔ یہ سن کر فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے دربار میں بھیجا اور نہ صرف ہنگری کے تخت کے لیے حمایت کی سلطان سے درخواست کی بلکہ بلغراد اور ہینگری کے دوسرے شہروں کی واپسی کا بھی جو کہ اب سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو چکے تھے اس نے سلطان سے مطالبہ کیا۔ سلطان سلیمان نے فرڈیننڈ کے سفیر کو واپس بھیج دیا، جبکہ انہوں نے زاپولیا کے سفیر کو مکمل اطمینان دلایا کہ وہ جلدعثمانی فوجیں ہینگری کے لئے روانہ ہوں گیں۔

ویانا کی طرف پیش قدمی

جس کے بعد سلطان نے 10 مئی 1529 عیسوی کو دارالحکومت استنبول سے اڑھائی لاکھ فوج اور 300 توپوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ یہ سلطان سلیمان کی بلغراد، روڈس اور جنگ مہاچ کے بعد تیسری بڑی فوجی مہم تھی۔ جلد عثمانی لشکر ہنگری میں داخل ہوا جب سلطان سلیمان بوڈا شہر کے قریب پہنچے اورفرڈیننڈ کو عثمانی فوج کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ کافی خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے اپنی آدھی فوج بوڈا شہر کے حفاظت کے لیے چھوڑی اور بقیہ فوج کے ساتھ وہ واپس آسٹریا بھاگ کھڑا ہوا۔ ترک فوج تین ستمبر 1529 عیسوی کو بوڈا شہر کے سامنے جا پہنچی اور سلطان کے حکم پر فوج نے محاصرے کی تیاریاں شروع کر دیں 6 روز تک عثمانیوں نے بوڈا شہر کا سخت ترین محاصرہ جاری رکھا۔ اس سخت ترین محاصرے کے بعد بلاخر دوپہر کے وقت بوڈا شہر دوسری بار فتح ہوا اور سلطان سلیمان نے پھر سے زاپولیا کو ہینگری کے تخت پر بٹھا دیا۔

اب چونکہ ترک فوج نے فرڈیننڈ کی فوج کے ساتھ کوئی جنگ نہیں لڑی تھی اس لیے سلطان سلیمان کو خطرہ تھا کہ کہیں اس کے واپس جانے کے بعد فرڈیننڈ پھر سے ہینگری کے دارالحکومت پر حملہ کر کے قبضہ نہ کر لے۔ سلطان سلیمان نے سوچا کہ کیوں نہ آسٹریا کےدارالحکومت ویانا کا محاصرہ کر کے فرڈیننڈ کو سبق سکھایا جائے۔ کیونکہ ویانا ہنگری کے دارالحکومت بوڈا سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا۔ کیونکہ اگر ویانہ فتح ہو جاتا تو یورپ میں مزید آگے جانے کا عثمانیوں کو موقع ملتا۔ اس وقت اسٹریا کا شہنشاہ چارلس پنجم یورپ کا سب سے بڑا بادشاہ تھا۔ وہ سپین، نیدرلینڈ، سسلی اور جرمنی کی مملکتوں کا واحد اور تنہا مالک تھا۔ ویانا کے محاصرے کے وقت وہ اٹلی میں فرانس اول یعنی کہ فرانس کی بادشاہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔ اس لیے ترکوں کے مقابلے کے لیے کوئی فوج نہ بھیج سکا اور آسٹریا کو صرف اپنی ذاتی قوت پر بھروسہ کرنا پڑا۔ چنانچہ محاصرہ سے قبل ہر 10 آدمیوں میں سے ایک کو فوج میں بھڑتی کیا گیا۔ ہمسایہ ریاستوں نے فوجی دستوں سے مدد کی، لیکن پھر بھی یہ فوج تُرکوں کے مقابلے کے لیے بالکل ناکافی تھی۔ فرڈیننڈ نے مجلس سلطنت سے مدد کی درخواست کی جس نے صرف 12 ہزار پیدل اور چار ہزار سوار فوج بھیجنا منظور کیا۔ مجلس کو بمشکل یقین دلایا جا سکا کہ سلطان سلیمان ویانا کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ بہرحال جلد ہی یہ معلوم ہو گیا کہ آسٹریا اتنی فوجیں جمع کرنے سے قاصر ہے جو ترکوں کو آگے بڑھنے سے روک سکیں۔ اس لیے عیسائیوں نے اب صرف دارالحکومت کی حفاظت کی تیاریاں شروع کیں فرڈیننڈ خود تو سلطان سلیمان کے خوف سے ویانا سے بھاگ گیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے بعض افسر، سپین اور جرمنی کے آزمودہ کار دستے محاصرے کے مکمل ہونے سے قبل شہر میں پہنچ گئے تھے اور ان کی مدد حد درجے اہم ثابت ہوئی۔ ویانا کے فوجی دستوں کا سپہ سالار کانٹ ڈی سام تھا اور مدافعت کی اصلی نگرانی اسی کے ہاتھ میں تھی۔

ویانا کا محاصرہ

شہر کی مدافعتی تیاریاں

ترکوں کے ویانا پہنچنے سے پہلے ہی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ شہر کے چند مقامات زیادہ تر بوسیدہ حالت میں تھے۔ فصیل بھی ایک تھی، جو بمشکل چھ فٹ موٹی تھی۔ چنانچہ وہ تمام مکانات جو فصیل سے بہت قریب واقع تھے گرا کر زمین کے برابر کر دیے گئے شہر کے اندر مٹی کی ایک نئی دھس تیار کی گئی۔ دریا کے ساحل پر خندق کھود کر لکڑی کے بڑے بڑے مضبوط لٹوں سے باڑ لگا دی گئی۔ سڑک کی سنگی پٹریاں بھی اکھاڑ لی گئیں تاکہ دشمن کے گولوں کا اثر زائل ہو جائے سامانِ رسد اور گھوڑوں کے لیے چارہ فراہم کرنے کے غرض سے متعدد ٹولیاں گرد و نواح میں بھیج دی گئیں۔ پھر اس خطرے سے کہ محاصرہ زیادہ دنوں تک طویل نہ ہو جائے۔ ایسے تمام لوگوں کو جو مدافعت کے کام کے نہ تھے، بلکہ جن کی ذات پر فوجی نقطہ نظر سے انہیں بیکار خیال کیا جاتا تھا، یعنی کہ عورتیں بچے بوڑھے اور پادری ان سب لوگوں کو شہر چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور کیا گیا اور جب ترک ویانا کے قریب پہنچ گئے، تو آس پاس کے شہروں کو بھی مسمار کرا دیا گیا۔ تاکہ محاصرین اس سے روک اور پناہ کا کام نہ لے سکیں۔ وہاں کے باشندوں کو ایسے وقت میں بے یارومددگار ہونا پڑا۔ جب تُرک عیں ویانا کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان میں سے اکثر ترکوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔

27 ستمبر کو سلطان سلیمان ویانا پہنچے اور ترکوں نے محاصرہ شروع کر دیا اس سال کچھ ایسی موسمیاتی تبدیلیاں ہوئیں جو کہ جنگی نقطے نظر سے سلطان سلیمان کے حق میں بالکل بھی نہیں تھیں۔ وہ تبدیلیاں یہ تھیں کہ اس سال کثرت کے ساتھ بارشیں ہوئیں۔ جس کی وجہ سے سڑکیں اس قدر خراب ہو گئی تھیں۔ کہ ترکوں کو اپنی بڑی بڑی توپیں ہینگری میں ہی چھوڑ دینی پڑیں اور اب انہیں زیادہ تر سرنگیں کھود کر دیواروں کو گرانے کی کوشش کرنی پڑی۔ لیکن محصورین بھی ہر مقام پر نظر رکھے ہوئے تھے اور 9 اکتوبر تک ترکوں کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ بالاخر 10 اکتوبر کو سرنگ کے ذریعے سے شہر پناہ میں ایک چوڑا رخنا پیدا ہو گیا۔ جس کے بعد ترکوں نے فوراً پے درپے حملے شروع کیے۔ مگر ہر بار انہیں پسپا ہونا پڑا اور وہ رخنہ پُر کر دیا گیا۔ اس طرح 11 اور 12 اکتوبر کو بھی ترکوں نے ان مقامات پر جہاں سرنگوں نے بڑے بڑے رخنے کر دیے تھے۔ سخت حملے کیے۔ لیکن عیسائی ایسی جانبازی سے لڑے کہ ترک شہر کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ سلطان سلیمان نے یہ حالت دیکھ کر بہت افسوس کا اظہار کیا۔ اس دوران ترک بھی موسم کی شدت، سامان رسد کی قلت اور سب سے بڑھ کر ان کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے روز بروز زیادہ دل برداشتہ ہو رہے تھے۔ آخر کار یہ طے پایا کہ 20 سفر 937 ہجری بمطابق 14 اکتوبر 1529 عیسوی کو ایک آخری حملہ کیا جائے گا۔ سلطان سلیمان نے سپاہیوں کا دل بڑھانے کے لیے بہت فیازی سے روپیہ ان میں تقسیم کیا اور وعدہ کیا کہ جو شخص سب سے پہلے دیوار پر چڑھے گا۔ اسے دولت سے مالا مال کر دیا جائے گا اوراسے ایک بہت بڑا منصب عطا کیا جائے گا۔ چنانچہ 9 بجے صبح کو جانثاری اور عثمانی فوج کے بہترین دستے حملے کے لیے آگے بڑھے صدر اعظم ابراہیم پاشا اور فوج کے تمام بڑے بڑے افسر بھی ساتھ تھے۔ لیکن عیسائیوں کی سر فروشی نے ترکوں کے قدم شہر کے اندر نہ آنے دیے۔ حالانکہ عثمانی انجینرزینے سرنگوں کے ذریعے سے شہر پناہ کا ایک بہت بڑا حصہ گرا دیا تھا۔ مغربی مورخین کا بیان ہے کہ ترکوں کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں، یہاں تک کہ ینی چری یعنی کہ(جان نثاری) نے بھی دل برداشتہ ہو کر حملہ کرنے سے انکار کر دیا۔ برخلاف اس کے عیسائیوں کے حوصلے بُلند تھے۔ آخر کار مایوس ہو کر سلطان سلیمان کو محاصرہ اٹھا لینا پڑا اور سلطان نے فوج کو واپسی کا حکم دیا۔ ویانا کو اس کے مدافعین کی سرفروشی نے بچا لیا۔ لیکن ایک عیسائی مؤرخ جس نے اس محاصرے کا بالکل انصاف کے ساتھ تجزیہ کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ:۔

" سلطان سلیمان کی ویانا کے محاصرے کی سب سے بڑی ناکامی موسم کی شدت تھی۔ جس کے زیادہ تر ایشیائی تُرک عادی نہ تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس ناکامی کو ینی چری کی سرکشی کو بھی سمجھتا ہے، جس کا اس ناکامی میں بہت بڑا دخل تھا"

یوں یورپ میں عثمانی فتوحات کی موج ویانا کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آگئی۔

محاصرے کے یورپ پر اثرات

اب اگرچہ ترکوں نے ویانا کو فتح نہیں کیا تھا۔ لیکن ترکوں کا خوف اہل یورپ کے دلوں میں بیٹھ چکا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ عیسائیوں نے ترکوں کے خلاف آپسی تفرقات کو ختم کرتے ہوئے متحد ہونے کی ضرورت محسوس کی۔ یہاں تک کہ فرانس کے بادشاہ فرانسز اول جسے سلطان سلیمان کی مدد سے اسے اس کا کھویا ہوا تخت ملا اور وہ آسٹریا کے بادشاہ کی قید سے آزاد ہو کر تخت نشین ہوا تھا۔ وہ بھی اب عثمانیوں کے خلاف اس اتحاد میں شامل ہونے کی ضرورت محسوس کرنے لگا۔ یورپ میں ترکوں کے خلاف دشمنی یہیں تک نہ رکی۔ بلکہ یہاں تک کہ پروٹیسٹ ازم کے بانی مارٹن لوتھر نے ایک کتاب لکھی جس میں اس نے کہا، کہ ویانا کے محاصرے کے بعد ترکوں سے لڑنا اب ہر عیسائی کا فرض ہے۔ پھر چاہے وہ کسی بھی فرقے سے ہو۔

بعد کے معرکے اور صلح

ادھر تین سال کے بعد سلطان سلیمان پھر ایک زبردست فوج کے ساتھ ہینگری میں داخل ہوئے اور وہاں سے سلطان نے ویانا کا رخ کیا۔ اب کی بار شہنشاہ چارلس نے آسٹریا کی فوج کی کمان خود اپنے ہاتھ میں لی۔ لیکن قلعہ گنیس کی فتح میں جو راستے میں واقع تھا تین ہفتے کی مدت صرف ہو گئی اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد سلطان نے ویانا کی طرف بڑھنے کا ارادہ چھوڑ دیا۔ بجائے اس کے کہ وہ آسٹریا کی طرف متوجہ ہوتے اور اسے فتح کرتے سلطان واپس استنبول چلے گئے۔ چارلس نے بھی سلطان سلیمان سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کی اور ویانا کے قریب اپنی فوج کے ساتھ تُرکوں کا انتظار کرتا رہا۔

سلطان سلیمان کے استمبول لوٹ جانے کے بعد بھی چند سالوں تک زاپولیا اور فرڈیننڈ میں لڑائی کا سلسلہ کم و پیش جاری رہا۔ بالاخر 945 ہجری بمطابق 1538 عیسوی میں ان دونوں کے درمیان ایک صلع نامہ ہو گیا۔ جس کی رو سے ہینگری کے دو حصے کر دیے گئے۔ مشرقی حصے کا بادشاہ زاپولیا کوتسلیم کر لیا گیا اور مغربی حصے پر فرڈیننڈ کی فرمانروائی تسلیم کر لی گئی۔ مگر دوسرے ہی سال زاپولیا کا انتقال ہو گیا اور اس کی بیوہ اور فرڈیننڈ کے درمیان جنگ پھر چھڑ گئی۔ زاپولیا کی بیوہ نے سلطان سلیمان سے مدد کی درخواست کی چنانچہ 948 ہجری بمطابق 1541 عیسوی میں سلطان سلیمان ہنگری میں داخل ہوے اورفرڈیننڈ کو شکست دے کر بوڈا اور دوسرے بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان میں ترک دستے متعین کر دیے۔ اگرچہ ساتھ ہی سلطان نے اس امر کا بھی اعلان کر دیا کہ زاپولیا کے بیٹے کے بالغ ہونے کے بعد وہ اسے ٹرانسلوانیا اور ہینگری کے تخت پر بٹھا دے گا لیکن موجودہ صورتحال کے پیشِ نطر سلطان سلیمان نے ہینگری کو سنجقوں میں تقسیم کر دیا اور ان میں گورنر مقرر کر دیے۔ اس جنگ میں گوعثمانیوں کو کہیں نہ کہیں شکستیں بھی ہوئیں، لیکن مجموعی طور پرسلطان سلیمان کی طاقت اتنی زیادہ تھی، کہ 951 ہجری بمطابق 1544 عیسوی میں شہنشاہ چارلس اورفرڈیننڈ نے صلح کی گفتگو شروع کر دی اور 954 ہجری میں مطابق 1547 عیسوی میں پانچ سال کے لیے صلح کر لی گئی اور صلح نامی کی رو سے تقریباً تمام ہینگری اور ٹرانسلوانیا پر سلطان سلیمان کا قبضہ بدستور قائم رہا اورفرڈیننڈ نے سلطنتِ عثمانیہ کو 30 ہزار دوکات سالانہ خراج دینا منظور کر لیا۔

یہ صلح نامہ جس میں شہنشاہ چارلس پنجم، پوپ، جمہوریہ وینس اور شہنشاہ فرانس شریک تھے، اس بات کا ثبوت ہے کہ مسیحی یورپ نے سلطان سلیمان کا "صاحب قراں" ہونا تسلیم کر لیا تھا۔ آسٹریا کو سلطنت عثمانیہ کے سامنے اس حد تک جھکنا پڑا کہ اس سے قبل صلح کے متعلق جو مراسلت ہوتی تھی، اس میں فرڈیننڈ نے اپنے آپ کو صدر اعظم ابراہیم پاشا کا بھائی لکھنا منظور کیا اور اس طرح اپنا مرتبہ ایک ترک وزیر کے مرتبے کے برابر رکھا۔ فرانس اول نے بھی کئی بار نہایت ادب وعاجزی کے ساتھ سلطان سلیمان سے مدد کی درخواست کی تھی۔ نیز فرانس کے دشمنوں پر حملہ کرنے کے لیے سلطان نے ایک جنگی بیڑا بحر روم میں روانہ کیا تھا۔ یہ یورپ کی خوش قسمتی تھی کہ اسی دوران میں سلطان سلیمان کو ایران کی جانب بھی متوجہ ہونا پڑا اور سلطنت عثمانی کی عسکری قوت دو محازوں میں تقسیم ہو گئی۔ فرڈیننڈ کا سفیر "بوس بکیس" جو کہ سلطان سلیمان کے دربار میں مامور تھا۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے کہ ہمارے اور تباہی و بربادی کے درمیان اہل ایران ہی صرف ایک روک ہیں۔ ترک ہمیں ضرور آ دبوچتے مگر، ایرانی انہیں روکے ہوئے ہیں ایرانیوں کے ساتھ ترکوں کی جنگ سے ہمیں صرف مہلت ملی ہے، مکمل نجات نہیں۔

نتیجہ

ویانا کا پہلا محاصرہ عثمانی پیش قدمی کی انتہا ثابت ہوا، جہاں موسم کی شدت، بڑی توپوں کی عدم موجودگی اور مدافعین کی سرفروشی نے سلطان سلیمان کو محاصرہ اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اس کے باوجود ترکوں کا خوف پورے یورپ کے دلوں میں بیٹھ گیا، اور بعد کے برسوں میں ہنگری کا بڑا حصہ اور ٹرانسلوانیا سلطان سلیمان کے قبضے میں رہا، جبکہ فرڈیننڈ کو سالانہ خراج دینا پڑا۔

Check Also

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms