Sultan Suleiman the Magnificent (Part 2): The Battle of Mohács (1526)

Sultan Suleiman the Magnificent (Part 2): The Battle of Mohács (1526)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان سلیمان کے ابتدائی دورِ حکومت میں بلغراد کی عظیم فتح اور روڈس جزیرے کی تسخیر نے سلطنتِ عثمانیہ کی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔ اس کے بعد سلطان سلیمان نے یورپ کی تاریخ کی ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن جنگ، جنگِ موہیچ، میں شاندار فتح حاصل کرتے ہوئے ہنگری کی پانچ سو سالہ سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ تحریر اسی مہم اور اس سے پہلے مصر میں ہونے والی مملوک بغاوتوں کا احوال بیان کرتی ہے۔

روڈس کی فتح کے بعد کے حالات

روڈس جزیرے کی فتح سلطان سلیمان کے دورِ حکومت کی دوسری سب سے بڑی فتح تھی۔ اس فتح نے عثمانیوں کی سمندری قوت میں مزید اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ صفوی حکمران شاہ اسماعیل نے بھی اس فتح کی مبارکباد کے لیے اپنے سفیر استمبول روانہ کیے تھے۔ اب چونکہ بلغراد اور روڈس کی فتح ہو چکی تھی۔ اس لیے سسلی اور اٹلی کے راستے، سلطان سلیمان کے لیے کھل چکے تھے۔ لیکن مصر کی اچانک بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش کے باعث سلطان کو پہلے مشرق کی جانب متوجہ ہونا پڑا اور یورپین سلطنتوں کو مزید دو سال کی مہلت مل گئی۔

مصر میں مملوک بغاوتیں

چھ سال پہلے جب سلطان سلیم نے مصر کو فتح کیا تھا تو یہاں کی حکومت کو چلانے کے لیے اور مصر کے لوگوں کو اعتماد میں لینے کے لیے، انہوں نے "خیر بے" کو جو کہ مملوک سلطان کا ایک اہم اور بڑا وزیر تھا اسے مصر کی حکومت عطا کر دی تھی۔ "خیر بے" کو مصر کی حکومت اس لیے بھی دی گئی تھی، کہ مملوک حکام اس پر بھروسہ کرتے تھے۔ خیر بے نے یہاں 6 سال تک گورنری کی خدمات سر انجام دیں اور جب سلطان روڈس جزیرے کے محاصرے میں مصروف تھے تو اس دوران خیر بے کا انتقال ہو گیا۔ جب یہ خبر سلطان سلیمان تک پہنچی تو انہوں نے اپنے بہنوئی اور دوسرے وزیر مصطفیٰ پاشا کو مصر کی گورنری کے لیے روانہ کیا۔ مصطفیٰ پاشا مصر کے نئے گورنر کے طور پر قاہرہ آئے اور انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالا۔ لیکن عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد انہیں سرکاسی مملوکوں کی بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سرکاسی مملوک دراصل سلطنت مملوک (Mamluk Sultanate) کے ایک خاص طبقے یا گروہ کو کہا جاتا ہے جو مملوک دور کے آخری ایام میں زیادہ نمایاں ہوا۔ یہ ترک-منگول نسل کے باشندے تھے، جو زیادہ تر قفقاز (Caucasus) کے علاقے یعنی سرکاسیا (Circassia) سے تعلق رکھتے تھے۔ اس علاقے کو آج کل شمالی قفقاز یا روس کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ سرکاسی ملوک وہ تھے۔ جن کا مقصد دوبارہ سے مملوک سلطنت کو قائم کرنا تھا۔ انہوں نے مصطفیٰ پاشا کو قتل کر کے مصر میں دوبارہ سے مملوک ریاست کو قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ان مملوک سنجک سرداران نے اپنے پاس تقریباً 20 ہزار کی فوج جمع کر لی تھی۔ جبکہ انہوں نے مصر میں اپنے حامیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے پورے مصر میں خطوط لکھے۔ جس میں انہیں کہا گیا کہ مصر پر عائد ٹیکس غیر منصفانہ ہیں اور اگر وہ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو ایک سال تک کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا اور بعد میں ٹیکس نصف کر دیا جائے گا۔ اب چونکہ یہ عوامی مفاد میں تھا اس لیے باغیوں کے جھنڈے تلے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ان باغیوں نے بغاوت کرتے ہوئے عثمانی گورنر اور سلطان کے بھنوئی کو مار ڈالا۔

احمد پاشا کی بغاوت

مصطفیٰ پاشا کی شہادت کے بعد "احمد پاشا" کو 928ھ / بمطابق 1522ء عیسوی کو مصر کا گورنر مقرر کیا گیا۔ احمد پاشا دراصل جارجیائی غلام تھا۔ جس کی تربیت ادرنےشہر میں ہوئی تھی۔ اس نے تخت کی جنگ میں شہزادے سلیم کا ساتھ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے سلطان سلیم کی خصوصی توجہ اس پر ہوئی اور جلد اسے بیلر بے کے عہدے تک پہنچا دیا گیا۔ اپنی بے پناہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس نے سلطان سلیمان کی حمایت بھی حاصل کر لی تھی۔ جس کے بعد وہ دوسرے سب سے طاقت ترین عثمانی وزیر کے عہدے پر پہنچ گیا۔ لیکن جیسے جیسے اس کا مرتبہ بڑھتا گیا اس کے عزائم اور اس کی ہوس بھی بڑھتی گئی۔ مصر کا گورنر منتخب ہو جانے کے بعد جب یہ قاہرہ پہنچا تو اس نے یہاں پر اپنی ایک الگ سلطنت بنانے کا ارادہ کیا، تا ہم اسے یہ سب کرنے کے لیے مصر میں موجود عثمانی جانثاریوں کو اعتماد میں لینا تھا اور ان پر فتح حاصل کرنے تھی۔ اس کام کی غرض سے اس نے ان مملوک اعلیٰ عہدے داروں کی تلاش شروع کی جو کہ در پردہ عثمانیوں کا خلاف تھے اور مملکوں کے حامی تھے۔ اس نے جلد ان مملوکوں کو تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز کر دیا اسے اچھی طرح سے معلوم تھا کہ ینی چری اپنے سلطان کے وفادار ہیں اور وہ سلطان کے علاوہ کسی دوسرے کا حکم تسلیم نہیں کریں گے۔ اس لئے احمد پاشا نے مصر میں مملوک حمایتیوں کی ایک مختصر سی فوج جمع کر لی تھی اور ایک منصوبے کے مطابق اس نے "قاہرہ" میں موجود ینی چری یعنی کہ جانساریوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور جلد اس نے جانثاریوں کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ جس کے بعد اس نے مصر میں دوبارہ سے مملوک سلطنت قائم کرتے ہوئے "الملک المنصور" کا لقب اپنے لیے منتخب کرتے ہوئے اس نے سلطان سلیمان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس نے نہ صرف مصر میں اپنے پنجے مظبوط کئے بلکہ اس نے اناطولیہ تک کے علاقے کو سلطنت عثمانیہ سے چھینے کی کوشش کی۔

اس نے سلطان بننے کے بعد یورپ میں پوپ کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور اس سے عثمانیوں کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ ادھر سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت استمبول میں جب سلطان سلیمان کو احمد پاشا کی بغاوت کی خبر ملی تو سلطان سلیمان کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے جلد اپنے ایک تیسرے وزیر "ایاز پاشا" کی کمان میں جانثاریوں کی ایک فوج بغاوت کو کچلنے کے لیے روانہ کی۔ اب قاہرہ میں احمد پاشا نے تو بغاوت کرتے ہوئے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ لیکن ینی چری فوج جو کہ قاہرہ کے قلعے میں محصور تھی۔ احمد پاشا اسے اب تک شکست نہ دے سکا تھا۔ اس نے ینی چری سپاہیوں کو دولت اور عہدوں کی پیشکش کی، لیکن ان جانثاریوں نے سلطان سلیمان کے ساتھ کیے گئے اپنے حلف کو توڑنے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ اس دوران ان جانساریوں نے قلعے پر حملہ کرنے والے چار ہزار عربوں اور مملکوں کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کرتے ہوئے بہت سوں کو موت کی نیند سلا دیا اور انہوں نے سلطان سلیمان کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کی۔ اب جب کہ استمبول سے احمد پاشا کی بغاوت کو کچلنے کے لیے ینی چری سپاہیوں کی ایک اور فوج روانہ ہو چکی تھی اور احمد پاشا کے پاس وقت کم تھا۔ اس دوران جاسوسوں نے خبر دی کہ قلعے میں داخل ہونے کے لیے ایک پرانا راستہ موجود ہے۔ جو کہ کئی سو سالوں سے استعمال نہیں ہوا تھا۔ جب اس راستے کی خبر احمد پاشا کو ہوئی تو وہ چپکے سے ایک رات اپنے سپاہیوں کے ساتھ قاہرہ کے محل میں داخل ہوا۔ اس وقت ینی چری سپاہی سو رہے تھے اور اس اچانک حملے سے وہ بکھلا اٹھے بہت سے ینی چری سپاہی اس حملے میں مارے گئے۔ جبکہ ان میں سے چند ایک بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے اپنی جان بچا لی۔ یوں اب مصر پر مکمل طور پر احمد پاشا کا قبضہ ہو چکا تھا۔

بغاوت کا خاتمہ

احمد پاشا کے وزیروں میں سے ایک وزیر قدزادے محمد نام کا ایک وزیر تھا۔ اب اگرچہ کہنے کو تو یہ احمد پاشا کا ایک قریبی وزیر تھا۔ لیکن اس کی تمام تر وفاداریاں سلطان سلیمان کے ساتھ تھیں۔ اس نے اس تمام عرصے میں احمد پاشا کی بھرپور مدد کی۔ لیکن وہ خفیہ طور پر سلطان سلیمان کو ہر خبر کی اطلاع دیتا رہا۔ قد زاد محمد بے نے خفیہ طور پرقاہرہ میں چھپے ہوئے جانساریوں کو تلاش کیا اور انہیں قاہرہ کے محل کے قریبی مکانوں میں چھپا دیا۔ پھر ایک روز جب "احمد پاشا" اپنے قلعے سے نکل کر حمام میں گیا تو محمد بے کے حکم پر چھپے ہوئے جانثاریوں نے حمام پر چھاپہ مارتے ہوئے حملہ کر دیا اور جلد حمام میں تعینات تمام سپاہ مارے گئے۔اور عثمانی سپاہی احمد بادشاہ تک جا پہنچے۔ جب احمد پاشاہ کو معلوم ہوا کہ اس پر حملہ ہوا ہے تو اس نے اپنی داڑھی کو ادھورا چھوڑا اور وہ قاہرہ کے قلعے میں داخل ہونے کے لیے حمام کی چھت سے چھلانگ لگا دی اور حمام سے بھاگتے ہوئے وہ قاہرہ کے قلعے میں داخل ہو گیا۔ اس نے قلعے کے دروازے بند کرا دیے اور سپاہیوں کو چوکنہ رہنے کا حکم دیا۔ چند دن کے محاصرے کے بعد قدزاد محمد بے فکرمند ہوئے کہ جلد یا بدیر مملوک احمد پاشاہ کی مدد کے لیے ضرور آئیں گے۔ اس لیے انہوں نے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے انہوں نے سب سے پہلے قاہرہ کے لوگوں کو بغاوت کرنے پر اُکسایا۔ اس نے اہل قاہرہ کو یقین دلایا کہ اگر وہ باغی احمد پاشا کو پکڑنے میں ہماری مدد کریں تو قلعے میں موجود سارا سونا ان میں تقسیم کر دیا جائے گا، یوں سونے اور چاندی کی لالچ نے عربوں کو بغاوت پر آمادہ کر لیا اور جلد محمد بے اور عرب قلعے کی دیواروں پر چڑھتے ہوئے انہوں نے باغیوں کو ختم کرنا شروع کیا غدار احمد پاشاہ کا سر قلم کر کے قلعے کے سب سے بڑے دروازے پر لٹکا دیا گیا، تاکہ آئندہ آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو سکے اور وہ کبھی بھی عثمانی سلطان کے خلاف بغاوت نہ کریں۔ یوں اس بغاوت کے کچلے جانے کے بعد تین ہزار پر مشتمل عثمانی فوج جو کہ ایاز پاشا کی سربراہی میں حمس پہنچی تھی، وہ اب واپس چلی گئی۔ سلطان سلیمان نے قد زاد محمد بے اور اس کے ساتھ اس کے جانساروں کو جنہوں نے غدار احمد پاشا کی بغاوت کو کچلنے میں مدد دی تھی۔ سلطان سلیمان نے انہیں انعام و اکرام سے نوازا۔ انہوں نے قد زاد محمد بے کو مصر کی حکومت کے خزانچی کا عہدہ دیتے ہوئے اس کی جاگیر میں اضافہ کر دیا اور مصر کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کے لیے سلطان سلیمان نے اپنے وزیر اور اپنے قریبی دوست "پارگلی ابراہیم پاشا" کو "قاہرہ" روانہ کیا جنہوں نے ایک تو مصر میں انے کے بعد عوام کی شکایات سنی اور اس کے بعد انہوں نے عوام پر موجود بھاری ٹیکس کم کر دیے۔ عثمانی قوانین کو کم کرتے ہوئے مملوک دور کی قوانین سے ملتے جلتے قوانین نافذ کیے جس کے بعد مصری لوگ سلطنت عثمانیہ کے ہمیشہ کے لیے وفادار ہو گئے۔

قسطنطنیہ میں ینی چری کی بغاوت

اس دوران یعنی کہ 931 ہجری بمطابق 1525 عیسوی کے موسم سرما کے اوائل میں سلطان شکار کی غرض سے قسطنیہ سے پرانے دارالحکومت ادر نہ چلے گئے۔ روڈس کی فتح کو اب تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس درمیان میں کوئی دوسری بڑی جنگ پیش نہیں آئی تھی۔ جس کی وجہ سے ینی چری کو یہ امن کا زمانہ نہایت گراں گزرا۔ چنانچہ سلطان سلیمان کی عدم موجودگی میں انہوں نے قسطنطنیہ میں بغاوت برپا کر دی اور وزراء اور دوسرے بڑے بڑے اعلیٰ عہدے داروں کے مکانات لوٹ لیے۔ جب یہ خبر سلطان سلیمان کو پہنچی تو وہ فوراً ادرنے سے استمبول واپس لوٹے۔ سلطان نے باغیوں کے بعض سرداروں کو ختم کرا دیا دو کو تو سلطان نے خود اپنے ہاتھ سے ختم کیا اور پھر عام سپاہیوں کو انعام و اکرام دے کر انہوں نے بغاوت کا خاتمہ کر دیا۔

ہنگری پر حملے کا فیصلہ

اس وقت وزیراعظم ابراہیم پاشا مصر میں تھے۔ سلطان سلیمان نے انہیں جلد واپس آنے کا حکم دیا اور ہینگری کی فتح کی تیاری شروع کر دیں۔ سلطان نے ینی چری کی بغاوت سے اندازہ لگا لیا تھا، کہ سلطنت کے امن کے لیے اس فوج کو جنگ میں مصروف رکھنا ضروری ہے اور روڈس کی فتح کے بعد سے اگرچہ کوئی بڑی جنگ ہنگری کے ساتھ پیش نہیں آئی تھی۔ تا ہم اس دوران چھوٹی موٹی لڑائیاں پیش آتی رہیں اس کے علاوہ فرانس کے بادشاہ فرانسز اول نے جسے شہنشاہ چارلس پنجم نے1525ء کی بیویا کی جنگ میں شکست دے کر اسے قید کر لیا تھا۔ اس نے عثمانی سلطان سلیمان سے ہنگری پر حملہ کرنے کی منت و سماجت کی۔ تاکہ چارلس کو اپنی توجہ فرانس سے ہٹا کرہینگری کی جانب مبذول کرنی پڑے جس کی سرحد سلطنت اسٹریا سے ملی ہوئی تھی۔ اسی زمانے میں شاہ ایران نے شہنشاہ چارلس اور شاہ ہینگری کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کے خلاف ایک جارحانہ اور مدافیانہ اتحاد قائم کر لیا تھا یہ بھی ایک وجہ تھی کہ سلطان سلیمان نے ہینگری پر حملے کا فیصلہ کیا۔

مصر میں احمد پاشا کی بغاوت کو کچلنے کے چند ماہ بعد صفوی سلطان شاہ اسماعیل کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کی جگہ اس کا بیٹا شاہ طہماسپ تخت نشین ہوا۔ تاہم اس نے تخت نشینی کی تقریب کی اطلاع سفارت خانے کے ذریعے عثمانی سلطان کو نہیں دی تھی۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عثمانیوں کے خلاف مخالفانہ رویہ اپنائے ہوئے تھا۔ سلطان سلیمان بھی سمجھ گئے کہ نیا صفوی سلطان شاہ طہماسپ سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن سلطان نے صفویوں کے خلاف جنگ لڑنے کی بجائے یورپ میں اپنی فتوحات کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ جس کی غرض سے سلطان نے دارالحکومت استنبول میں جنگی تیاریوں کا حکم دیتے ہوئے فوجوں کو جمع ہونے کے احکامات جاری کیے۔ سلطان سلیمان اس جنگ کے لیے اس لیے بھی پر جوش تھے کہ فرانس نے انہیں اپنی مدد کے لیے یورپ میں بلایا تھا اور یہ ایک طرح سے یورپ میں عثمانی سلطان کی قانونی حیثیت میں اضافے کا بہت بڑا سبب تھا۔

ہنگری کی صورتحال اور جنگی تیاریاں

اس دوران ہینگری کے تخت پر ایک نوجوان بادشاہ لوئیس دوم تخت نشین تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے عثمانیوں کے ہینگری پر حملے کے خطرات محسوس ہونے لگے۔ اس غرض سے اس نے اپنے سلطنت کے چاروں اطراف قاصد دوڑائے اور اس نے کسانوں اور لارڈز اور دوسرے اہم رہنماؤں کو آپس میں جنگیں ختم کر کے عثمانیوں کے خلاف متحد ہونے کی دعوت دی۔ لیکن ہینگری اس وقت تک آپسی جنگوں کا شکار ہو چکا تھا اور شہنشاہ کی اس دعوت پر کسی نے کوئی خاص توجہ نہ دی۔

اِدھر استمبول عثمانی سلطان کے حکم پر جنگی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، 23 اپریل 1526 عیسوی کو ایک لاکھ فوج اور 300 توپوں کے ساتھ سلطان سلیمان اپنے دارالحکومت استنبول سے روانہ ہوئے۔ سلطان سلیمان کے ساتھ ان کا قابلِ اعتماد وزیر پارگلی ابراہیم پاشا بی ساتھ تھا۔ عثمانی لشکر 80 دن کے لگاتار سفر کے بعد بلقان پہنچا اور اس دوران موسلا دھار بارشوں نے دریائے ڈینیوب میں سیلاب لا کھڑا کیا تھا۔ جس سے سلطان کو اپنی فوج کے لیے سپلائی لائنوں کو برقرار رکھنا تھوڑا مشکل ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود عثمانی وزیر پارگلی ابراہیم پاشا کے سخت ترین نظم و ضبط کے ذریعے عثمانی بلغراد تک پہنچ گئے۔ بیلغراد سے سلطان نے اپنے وزیر ابراہیم پاشا کو پیٹر واردین کے قلعے پر قبضہ کرنے کے لیے آگے روانہ کیا پیٹرواڈین کے قلعے کی دیواروں کے نیچے عثمانی سپاہیوں نے بارود کی سرنگیں بچھا کر انہیں دھماکوں سے اڑا دیا اور جلد عثمانی فوج قلعے میں داخل ہوئی اور یہ شہر فتح ہو گیا۔ اس کے بعد سلطان سلیمان نے اپنے لشکر کو "اوسیئک" نامی شہر کی طرف روانہ ہونے کا حکم دیا جو کہ دریائے دراوہ کے بالکل درمیان میں موجود ہنگری کا شہر تھا۔ اس شہر میں پہنچنے سے پہلے راستے میں موجود ایلک نامی قصبہ 8 اگست کو انتہائی کم مزاحمت کے ساتھ فتح کر لیا گیا۔ پھر جب سلطان سلیمان اپنی فوج کے ساتھ "اوسیجیک" نامی شہر کے قریب پہنچے تو سلطان کو امید تھی کہ اس کے مقابلے کے لیے ایک بہت بڑا لشکر یہاں موجود ہوگا۔ لیکن سلطان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں کوئی بھی ہینگری کا لشکر موجود نہیں تھا۔ جبکہ سلطان کی سوچ کے برعکس ہینگری کے بادشاہ لوئس دوم نے ٹولنا کے قصبے میں تقریباً 25 ہزار سپاہیوں کی ایک فوج جمع کر رکھی تھی۔ اس کی فوج میں ہینگری، کروشیائی،اور بوہیمیا کے سپاہی شامل تھے۔

معرکۂ موہیچ

سلطان سلیمان کی طرح ہنگری کا شہنشاہ لوئس دوم بھی دریائے دراوہ کی اہمیت کو جانتا تھا اس لیے اس نے دریائے ڈینیوب کے کنارے "موہیچ" نامی قصبے کے قریب ایک میدان میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں پر ہینگری کے بادشاہ نے عثمانیوں کی فوج کا انتظار کیا جس کے بعد بالاخر 26 اگست کو عثمانی فوج "موہیچ" کے میدان میں نمودار ہوئی۔ ہینگری کی فوج "موہیچ" کے میدان کے ایک طرف خیمہ زن تھی۔ جبکہ اس کی فوج دو لائنوں میں تقسیم تھی۔ جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ شہنشاہ لوئس نے دوسری صف کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھی۔

اس دوران عثمانی سلطان سلیمان نے اپنی فوج کو ایک ایسی جگہ پر تعینات کیا ہوا تھا۔ جو کہ دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی محفوظ خیال کی جاتی تھی۔ عثمانی لشکر کے دائیں بائیں اور عقب میں جنگل اور پہاڑ تھا۔ جو کہ ایک محفوظ مقام تھا۔ سلطان نے یہاں اپنی فوج کو کیمپ لگانے کا حکم دیا۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے پہلی دو لائنوں میں 30 ہزار رومیلین اور اناتولیایی گھڑ سوار مقرر کیے۔ جن میں 4 ہزار ینی چری ینی کہ جانثاری اور 150 جنگی توپیں شامل تھیں ان دستوں کی قیادت پارگلی ابراہیم پاشا کر رہے تھے۔ تیسری صف کی قیادت خود سلطان سلیمان القانونی کر رہے تھے اور یہ 15 ہزار جانثاریوں یعنی کہ ینی چری سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ ان ینی چری سپاہیوں کے پاس بارودی رائفلس تھیں۔ جن کی حفاظت جنگی ویگنوں کی ایک لمبی قطار کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ چند دستے سلطان نے کمک کے طور پر اپنے پیچھے جنگل میں چھپا رکھے تھے۔

جنگ کے واقعات

29 اگست کو "موہیچ" کے میدان میں ایک تاریخی جنگ کا آغاز ہوا اس جنگ میں پہل ہنگری کی جانب سے کی گئی جنہوں نے دوپہر کے وقت تین بجے حملہ شروع کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جبکہ عثمانی فوج عصر کی نماز ادا کر رہی تھی۔ ہینگری کے توپ خانے نے شہنشاہ کے حکم پر گولے برسانا شروع کیے۔ جس سے کہ عثمانی پیدل دستے کے بے شمار سپاہی شہید ہو گئے اس کے ساتھ ہی ہینگری کے پیدل اور گھڑ سوار نائٹس آگے بڑھے اور انہوں نے عثمانی فوج کے بائیں جانب موجود گھڑ سواروں پر اس شدت سے حملہ کیا کہ شروع میں تو عثمانی فوج اس حملے کا مقابلہ نہ کر سکی اور وہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگی۔

اس ابتدائی حملے میں کامیابی کے بعد ہینگری کے مرکزی لشکر نے عثمانیوں کے مرکز پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جلد وہ میدان جنگ میں داخل ہوئے اور انہوں نے ترکوں کے پیدل دستوں کو قتل کرتے ہوئے وہ آگے بڑھے۔ لیکن ان کی یہ کامیابی عارضی کامیابی تھی جیسے ہی ہنگری کی فوج عثمانی ویگن نما رائیفلز اور توپوں کی زد میں آئی تو گولیوں نے انہیں بھون کر رکھ دیا۔ اس حملے کے بعد فوراً جانثاری سلطان کے حکم پر آگے بڑھے اور انہوں نے ہینگری کے بقیہ لشکر کے دائیں اور مرکز پر حملہ کرتے ہوئے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا اور اس دوران عثمانی بایاں دستہ جو کہ پسپائی اختیار کرتا ہوا اپنے کیمپ کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ یہاں پر موجود تازہ دم گھڑ سواروں نے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ جلد اس نے تھکے ہارے دستے کی مدد کے لیے اپنے گھڑسوار میدان میں اتارے جس کے بعد اہل ہینگری کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہینگری کے سپاہی عثمانیوں کے ہاتھوں مارے جانے لگےاور بقیہ فوج بھاگ کھڑی ہوئی۔

یوں 20 ذیقعد 932 ہجری بمطابق 28 اگست 1526ء کو "موہیچ" کے میدان میں ہنگری کی فوج کو شکست دیتے ہوئے عثمانیوں نے یہ فتح اپنے نام کر لی۔ اس جنگ میں عثمانی لشکر کو اپنی کثرتِ تعداد اور توپوں کی بنا پر بہت کچھ فوقیت حاصل تھی 2 گھنٹے سے بھی کم جنگ ہوئی اور ساتھ ہی ہینگری کی قسمت کا بھی فیصلہ ہو گیا۔ اس جنگ میں 8 اسکف، اعیانِ ہینگری کی ایک بڑی تعداد اور 24 ہزار سپاہی مارے گئے۔ جبکہ خود بادشاہ لوئی بھاگتا ہوا دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گای تھا۔

فتح کے بعد: بوڈا کی تسخیر

اس فتح کے چند دن بعد تک سلطان "موہیچ" کے میدان میں مزید ہینگری کی فوجوں کا انتظار کرتے رہے لیکن جب سلطان کو پتہ چلا کہ ہنگری کی اصل فوج صرف اس میدان جنگ میں ھی تھی، تو اس کے بعد سلطان نے ہنگری کے دارالحکومت بوڈا کی جانب پیش شروع کی۔ جب سلطان دارالحکومت بوڈا پہنچے تو اہل شہر نے ہتھیار ڈال کر شہر کے دروازے کھول دیے۔ ہینگری کے جو امراء "موہیچ" کی تباہی سے بچ گئے تھے، انہوں نے سلطان سلیمان کی خدمت میں حاضر ہو کر اطاعت کا حلف دیا۔

اب چونکہ ہینگری کا بادشاہ لاولد مر گیا تھا۔ اس لیے سلطان سلیمان نے ان اُمرا کے مشورے پر ہنگری کے تخت کے لیے کاؤنٹ زاپولیا کا انتخاب کیا جو کہ ٹرانسلوینیا کا امیر اور ہینگری کے اکابرین میں سے ایک تھا۔ اس کے چند دنوں کے بعد سلطان سلیمان کو اطلاع ملی کہ اشیائے کوچک میں کچھ بغاوتوں کی صورتیں رونما ہو رہی ہیں۔تو سلطان نے فوراً مالِ غنیمت کے ساتھ ہینگری کے دارالحکومت "بوڈا" سے واپس استمبول کی طرف روانہ ہو گئے۔ سلطان نے ہینگری کی مہم سے واپسی پر سرحدی قلعوں میں ترک دستے تعینات کر دیے۔ ہینگری کی فتح نے ترکوں کے لیے یورپ کے دروازے کھول دیے تھے اور اب اہل یورپ کے ہر سپاہی کے زبان پر صرف ایک ہی جملہ تھا:۔

" کہ ترک آرہے ہیں۔"

نتیجہ

جنگِ موہیچ میں سلطان سلیمان نے صرف دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہنگری کی فوج کو تباہ کر دیا، جہاں بادشاہ لوئس دوم بھی دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوا اور ہنگری کی صدیوں پرانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس فتح نے ترکوں کے لیے یورپ کے دروازے کھول دیے، اور اہلِ یورپ پر عثمانیوں کی دہشت اس قدر چھا گئی کہ ہر زبان پر بس یہی جملہ تھا کہ ترک آ رہے ہیں۔

Check Also

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms