Sultan Suleiman the Magnificent (Part 1): The Conquest of Rhodes (1522)

Sultan Suleiman the Magnificent (Part 1): The Conquest of Rhodes (1522)

یہ مکمل کہانی ویڈیو میں دیکھیں

سلطان سلیمان اعظم کے دورِ حکومت کا آغاز شاندار فتوحات سے ہوا۔ اپنے والد سلطان سلیم اول کی وفات کے بعد تخت نشین ہوتے ہی انہوں نے ہنگری کے مضبوط قلعے بلغراد اور بحیرۂ روم کے جزیرے روڈس کو فتح کیا۔ یہ تحریر سلطان سلیمان کے ابتدائی برسوں، ان کے عدل و انصاف اور روڈس کے نائٹس ہاسپٹلرز کی شکست کی داستان بیان کرتی ہے۔

سلطان سلیم اول سے سلیمان تک

عثمانی سلطان "سلیم اول" نے اپنے دورِ حکومت کے آخری برسوں میں مصر کی مملوک سلطنت کو شکست دیتے ہوئے عثمانی سلطنت کی سرحدیں حجازِ مقدس تک وسیع کر دی تھیں، اوراب عثمانی نہ صرف حجازِ مقدس کے خادم تھے۔ بلکہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار خلافت عربوں سے ترکوں میں منتقل ہوئی۔

سنہ 1517ء میں سلطان سلیم نے جنگ ردانیہ میں آخری مملوک سلطان "طومان بے" کو شکست دیتے ہوئے مملوک سلطنت کا خاتمہ کر دیا تھا اور اس فتح کے بعد آخری عباسی خلیفہ "متوکل سوم" نے خلافت کی نشانیاں یعنی کہ تلوار، چادر اور علم مبارک عثمانی سلطان سلیم اول کو سونپتے ہوئے خلافت کی تمام ذمہ داریاں سلطان سلیم کے حوالے کر دی تھیں۔ یوں 508 سال کے طویل عرصے کے بعد اسلامی تاریخ میں پہلی بار خلافت عربوں سے ترکوں میں منتقل ہوئی اور یوں اگلے 400 برس تک عثمانی ترک خلافت کی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔ مصر کی فتح کے بعد سلطان سلیم واپس دارالحکومت "استنبول" کی جانب روانہ ہوئے۔ اس دوران صفوی سلطان اسماعیل نے اپنے اتحادی کے ختم ہونے کے بعد صلح ہی میں عافیت جانی اور اس نے سلطان سلیم کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی تصدیق عثمانی مورخ تو کرتے ہیں جبکہ ایرانی تاریخ دانوں نے کہیں بھی اس امن معاہدے کا ذکر نہیں کیا۔ سلطان سلیم نے فوج کا ایک حصہ اپنی مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اناطولیہ ہی میں چھوڑا جبکہ وہ باقی لشکر کے ساتھ واپس قسطنطنیہ چلے گئے۔ قسطنطنیہ پہنچنے کہ چند ہی سال بعد1521ء میں سلطان سلیم اول کا انتقال ہو گیا۔

سلطان سلیمان کی تخت نشینی اور عدل

ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا سلیمان جو کہ آج تاریخ میں سلیمان دا میگنیفیسنٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں تخت نشین ہوئے۔ سلطان سلیمان کا عہدِ حکومت نہ صرف تاریخ عثمانیہ بلکہ تاریخِ عالم کا بھی ایک نہایت اہم دور تھا۔ مغربی یورپ کی سلطنتیں قرونِ وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ سلطنت عثمانیہ اور ان کے درمیان تقریباً 40 سال سے کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی۔ یورپ میں سلطان سلیمان کے دادا "بایزید ثانی" کی چند چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوئی تھیں۔ جبکہ ان کے والد یعنی کہ "سلطان سلیم" کی توجہ زیادہ تر اسلامی سلطنتوں کی جانب مبذول رہی اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی حاصل کر لی تھی۔ باقاعدہ تنخواہ دار پیدل فوجیں بڑی تعداد میں اہل یورپ نے رکھ لی تھیں۔ آتشیں اسلحوں کا استعمال کثرت سے کیا جا رہا تھا۔ عیسائی سلطنتوں میں اپنی قوت کی ترقی کا احساس اور مسلمانوں سے تازہ مقابلے کا حوصلہ شدت سے پیدا تھا۔ یورپ مذہبی جوش سے لبریز اور باہمی عداوتوں کے باوجود تمام مسیحی سلطنتیں سلطنت عثمانیہ کے مقابلے کے لیے آمادہ تھیں۔ تا ہم عثمانی نہ صرف ان بیرونی اور اندرونی خطرات سے محفوظ رہے۔ بلکہ سولویں صدی کی پوری مدت میں ان کی قوت اور طاقت میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور عیسائی سلطنتوں کے بے شمار صوبے ان کے قبضے میں چلے گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سولہویں صدی میں ترکوں کی عظیم الشان کامیابی کا سبب ان کی زبردست فوجی قوت اور اپنی قومی عظمت کا احساس تھا۔ لیکن اس کامیابی کا اصل سبب یہ تھا کہ سلطنت ایک ایسے حکمران کے ہاتھ میں تھی جو سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اور اس وقت پوری دنیا کا سب سے بڑا شہنشاہ تھا۔

سلطان سلیمان جب تخت نشین ہوئے تو اس وقت ان کی عمر 26 سال تھی بیزید ثانی کے زمانہ حکومت میں جبکہ اس وقت ان کی عمر بہت کم تھی وہ مختلف صوبوں کے حاکم رہ چکے تھے۔ پھر جب "سلطان سلیم" نے ایران پر حملہ کیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سلیمان کو نائب سلطنت کی حیثیت سے انہیں قسطنطنیہ میں چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد مملوکوں کے ساتھ جنگ کے دوران وہ ادرنے کے حاکم تھے اور پھر سلطان سلیم کے عہد کے آخری دو سالوں میں ولایت صادر خان کا انتظام انہی کے سپرد تھا۔ چنانچہ جب سلطان سلیم کی وفات کے بعد وہ تخت نشین ہوئے تو ایک کامیاب مدبر اور لائق فرما روا کی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ ذاتی عظمت میں وہ اپنے تمام پیش روؤں سے آگے تھے اور فتوحات اور وسعتِ سلطنت کے لحاظ سے ان سب پر فوقیت لے گئے تھے۔ ان کے عہد میں سلطنتِ عثمانیہ اپنے انتہائی عروج تک پہنچ گئی تھی۔ وہ اپنے رحم و کرم کے لیے خاص طور پر مشہور تھا۔ انصاف سلطان سلیمان کا مخصوص شیوہ تھا۔ اپنی حکومت کہ پہلے ہی سال میں اس نے انصاف اور رحم دلی کی ایسی مثالیں پیش کیں، جس سے اس کے آئندہ طرزِ عمل سے متعلق نہایت خوش آئن توقعات قائم کی جانے لگیں۔ سلطان سلیم نے 600 مصریوں کو جبراً مصر سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا تھا۔ سلطان سلیمان نے ان سب کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔ سلطان سلیم نے بعض تاجروں کا سامانِ تجارت ایران سے تجارت کرنے کی پاداش میں ضبط کر لیا تھا۔ سلطان سلیمان نے تخت نشین ہونے کے بعد نقد روپیہ دے کر ان کے نقصان کی تلافی کر دی۔

سلطان کے حکم سے سلطنت کے بعض اعلیٰ حکام بد یانتی اور ظلم کے جرم میں گرفتار کیے گئے اور ان کو سخت سزائیں دی گئیں ان واقعات کی خبریں تمام سلطنت میں پہنچی اور عوام کو اپنی جان و مال کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔ سلطان سلیمان نے تخت نشین ہوتے ساتھ ہی اپنے تمام صوبے داروں کے پاس احکامات بھیجے کہ عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے اور امیر و غریب مسلم غیر مسلم سب کے ساتھ برابر انصاف کیا جائے۔

فتحِ بلغراد

سلطان سلیم کے آخری دورِ حکومت میں سلطنت عثمانیہ اور ہینگری کے درمیان آویزش پیدا ہو گئی تھی اور سرحدی علاقے میں برابر چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ اس خلعش کو ختم کرنے کے لیے سلطان سلیمان کو بلغراد کے قلعے کو فتح کرنا ضروری سمجھا۔ اس قلعے کی فتح سرحد کے استحکام کے لیے بھی ضروری تھی اور یورپ میں مزید فتوحات حاصل کرنے کے لیے بھی، چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کے بادشاہ "لوئی ثانی" کے پاس اپنے سفیر بھیجے اور اس سے خراج کا مطالبہ کیا لوئی نے اس مطالبے کے جواب میں عثمانی سفیر سمیت تمام وفد کو قتل کرا دیا۔ جب سلطان سلیمان کو یہ خبر ملی تو سلطان اس پر سخت برہم ہوئے۔ انہوں نے ہینگری سے اس گستاخی کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ جلد رومیلیا کا بیلر بے احمد پاشاہ اپنی رومیلین فوج کے ساتھ وہ یورپ کے لیے روانہ ہوا۔ 50 بحری جنگی جہازوں کا لشکر عثمانی امیر البحر دانشمنٹ رئیس کی کمان میں دریائے ڈینیوب کی طرف روانہ ہوا۔

سلطان سلیمان نے روانہ ہونے سے پہلے اپنے والد سلطان سلیم اور اپنے آبا و اجداد کی قبروں پر حاضری دی۔ اس کے بعد سلطان سلیمان خود بلغراد کی طرف روانہ ہوئے اور یوں اس شہر کے گرد جس نے سلطان محمد فاتح جیسے عظیم سلطان کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا،عثمانی فوج نے اس شہر کا محاصرہ شروع کر دیا۔ سات روز کی گولہ باری کے بعد بالاخر 25 رمضان المبارک 927 ہجری بمطابق 29 اگست 1521ء کو بلغراد کا مشہور قلعہ فتح ہو گیا۔ فتح کے بعد قلعے کے فوجی دستے کا قتل عام ہوا اور نہ ہی شہر کے باشندے قتل کیے گئے۔ سلطان سلیمان نے وہاں کے سب سے بڑے گرجا میں نماز ادا کی اور یوں اس عظیم الشان معبد کو خدائے واحد کی پرستش کے لیے مخصوص کر دیا۔ اس کے بعد سلطان نے بلغراد میں ایک ترک دستہ متعین کیااور وہ واپس قسطنطنیہ چلے گئے۔ بلغراد کے علاوہ سرحد کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کر لیا اور ہینگری میں داخل ہونے کے تمام دروازے اب ان کے لیے کھل گئے تھے۔ سلطان سلیمان اب ہینگری کے دارالسلطنت "بوڈا" کی طرف بڑھ سکتے تھے۔ لیکن روڈس کی فتح سلطان کے نزدیک زیادہ ضروری تھی اور بلغراد کے بعد سلطان نے اسی جانب توجہ دی۔

روڈس کی مہم کیوں ضروری تھی؟

روڈس کی فتح کیوں ضروری تھی؟یہاں پر رہنے والے عیسائی کیوں عثمانی سلطنت کے لئے دردِ سر بنے ہوئے تھے؟ اورآخر ان عیسائی ہاسپٹلرز کی تاریخ کیا تھے؟ آئیے اس پر تھوڑی نظر ڈالتے ہیں۔ روڈس جزیرے میں موجود سینٹ جان کے سرما، جنہیں نائٹس ہاسپٹلرز یا آرڈر آف سینٹ جان بھی کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ ایک مشہور عسکری اور مذہبی تنظیم تھی۔ جو صلیبی جنگوں کے دوران قائم ہوئی تھی۔ ان کا بنیادی مقصد عیسائی زائرین کی حفاظت اور بیماروں کی دیکھ بھال تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک طاقتور عسکری قوت بن گئی۔ 1291ء میں جب "عکہ" یعنی کہ ایکڑ کی شکست کے بعد نائٹ ہاسپٹلز نے پہلے قبرص میں پناہ لی اور پھر 1309ء میں روڈس کے جزیرے پر قبضہ کر لیا، اور یہ جزیرہ مشرقی بحرہ روم میں ان کی طاقت کا مرکز بن گیا۔ رفتہ رفتہ یہ نائٹ ہاسپٹلرز یعنی کہ سینٹ جان کے سورما عثمانیوں کے لیے کئی وجوہات کی بنا پر خطرہ بن گئے۔ دراصل روڈس جزیرہ مشرقی بحیر روم میں ایک اہم اسٹریٹیجک مقام پر واقع تھا۔ نائٹس ہاسپٹلرز یہاں سے بحری راستوں کو کنٹرول کرتے اور عیسائی بحری قوتوں کے لیے مضبوط گڑھ تھے۔ یہ عثمانی بحری جہازوں اور ساحلی علاقوں پر حملے کرتے تھے اور اکثر تجارتی بیڑوں کو لوٹ لیتے تھے یہی وجہ تھی کہ سلطان سلیمان نے اس جزیرے کو فتح کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

روڈس کا محاصرہ

چنانچہ 300 جنگی جہازوں کا عثمانی بیڑا مصطفیٰ پاشا کی کمان میں قسطنطنیه سے روڈس کی جانب روانہ ہوا۔ ساتھ ہی سلطان سلیمان خود ایک لاکھ فوج کے ساتھ وہ اناطولیہ کے مغربی ساحل کی طرف بڑھے۔

سنہ 28 جولائی 1522ء کو سلطان روڈس کے ساحل پر اترے اور یکم اگست 1522ء کو محاصرہ شروع ہوا۔

روڈس جزیرے میں موجود عیسائیوں کا یہ قلعہ ایک انتہائی مضبوط اور دفاعی نقطہ نظر سے ناقابل تسخیر نظر آتا تھا۔ یہاں پر فرانسیسی، انگریزی، اورجرمن کے فوجی دستے موجود تھے۔ محاصرے سے پہلے عیسائیوں کے نائٹ ٹیمپلر کے گرینڈ ماسٹر "وائر ادم" نے یورپ میں اپنے سفیر مدد کے لیے روانہ کیے، لیکن یورپ سے تو اسے کوئی فوجی مدد نہ مل سکی۔ البتہ قبرص یعنی کہ سائپرس سے ونیشینز کا ایک دستہ البتہ اس کی مدد کے لیے پہنچ گیا۔

سلطان سلیمان نے جزیرہ روڈس کے تمام راستوں کی اپنے جہازوں کے ذریعے ناکہ بندی کر دی تھی تاکہ محاصرے کے دوران یہاں کسی بھی طرح کی کوئی بھی فوجی کمک یا رسد نہ پہنچ سکے۔

اس محاصرے میں سلطان سلیمان کے پاس تقریباً ایک لاکھ کی فوج موجود تھی۔ جس میں انجینیئرز پیدل فوج اور سلطان کے ایلیٹ ینی چری یعنی کہ جان نثاری اور مزدور موجود تھے۔ جبکہ اس کے برعکس نائٹس ٹیمپلرز کے پاس صرف 6703 سپاہی موجود تھے۔ عیسائیوں نے عثمانیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی جزیرے میں موجود تمام کھیتوں میں اُگی ہوئی گندم کاٹ کر قلعے میں ذخیرہ کر لی۔ تاکہ ترکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑے۔

قلعے پر پے در پے حملے

جلد سلطان سلیمان کے حکم پر عثمانی توپوں نے شہر پر آگ برسانا شروع کر دی جبکہ عثمانی مزدوروں نے سرنگیں کھود کر قلعے کی دیوار کو بارود سے اڑانے کا کام شروع کر دیا۔ عثمانی مزدوروں کی سر توڑ کوششوں کے بعد بلاآخر 4 ستمبر کو دو سرنگیں قلعے کی دیوار کے نیچے جا پہنچیں اور انہیں دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

جس کے بعد عثمانی جانساری شہر میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ انہوں نے شہر میں داخل ہوتے ہی عثمانی جھنڈوں کو وہاں نصب کیا۔ شروع میں تو عثمانیوں کو کامیابی حاصل ہوئی، لیکن انگلش نائٹس اور خود گرینڈ ماسٹر کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ جاننثاریوں کے ہر اول دوستوں کے سینکڑوں سپاہی مارے گئے اور باقیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ 19 تاریخ کو عثمانی جاسوسوں نے سلطان کو یہ اطلاع دی کہ شہر کے بائیں جانب موجود ہسپانوی نائٹس کی تعداد کم ہے یہاں سے حملہ زیادہ بہتر اور مناسب ہوگا۔ جس پر عثمانی جانثاری حملے کے لیے آگے بڑھے ان حملوں کی قیادت گرینڈ عثمانی وزیر مصطفی پاشاہ نے کی جبکہ حملے سے پہلے عثمانی توپوں نے خوب گولے پر سائے جلد عثمانی جانثاری دیوار پر چڑھ گئے یہاں ہاسپٹلوروں اور عثمانیوں کے درمیان خون ریز جنگ ہوئی تو انہوں نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے لیکن عیسائیوں کی مزاحمت کے سامنے بالاخر عثمانیوں کی ہار ہوئی اور انہیں ایک بار پھر پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس ناکامی پر سلطان سلیمان سخت غصے میں آگئے۔ انہوں نے اپنے وزیر مصطفیٰ پاشا کو پھانسی دینے کا حکم دیا۔ لیکن بعض اعلیٰ عہدے داروں کی التجا پر سلطان نے مصطفیٰ کی جان بخشی کرتے ہوئے اسے مصر روانہ ہونے کا حکم دیا۔

اکتوبر کے مہینے میں سلطان کے حکم پر عثمانیوں نے ایک بار پھر اپنی پوری طاقت کے ساتھ شہر کے مرکز پر دھاوا بولا لیکن طویل معرکے کے بعد بالاخر عثمانیوں کو پھر پسپائی پر مجبور ہونا پڑھا۔ لیکن آخر کب تک نائٹ ہاسپٹلرز عثمانیوں کے خلاف اس مزاحمت کو جاری رکھ سکتے تھے۔ جبکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی مدد کے لیے کوئی بھی نہیں آئے گا۔ سو اس لیے انہوں نے 11 دسمبر کو سلطان سلیمان سے امن مذاکرات کی پیشکش کی۔ یہ مذاکرات دو طرفہ شروع ہوئے اور بالاخر پانچ ماہ کے محاصرے کے بعد 6 سفر 929 ہجری بمطابق 25 دسمبر 1522ء عیسوی کو محصورین نے عثمانیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ روڈس کے نائیٹس نے نہایت شجاعت کے ساتھ مدافت کی تھی۔

روڈس کی فتح اور مبارزین کے ساتھ سلوک

سلطان سلیمان نے ان کوجو مراعات دیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کی شجاعت کا کس قدر قدردان تھا۔ اس نے مبارزینی کو اجازت دے دی کہ 12 روز کے اندر اپنے تمام اسلحوں اور سامانوں کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر روڈس سے چلے جائیں اور اگر ضرورت پڑے تو عثمانی جہازوں کو بھی کام میں لا سکتے ہیں۔ روڈس کے باشندوں کو سلطان کی عوام بننے کے بعد پوری مذہبی آزادی دی گئی۔ سلطان نے صراحت کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے کلیساؤں سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے گی۔ ان کے بچے والدین سے نہیں چھینے جائیں گے اور پانچ سال تک ان سے کسی قسم کا ٹیکس یا محصول کا مطالبہ نہ ہوگا۔ سلطان سلیمان نے اپنی فوجیں قلعے سے چند میل کے فاصلے پر ہٹا لیں تاکہ مبارزین امن و سکون کے ساتھ قلعے سے نکل جائیں۔

لیکن ینی چری یعنی کہ جانثاری باوجود سخت روک تھام کے بے قابو ہو گئے اور شہر میں داخل ہو کر تھوڑی دیر تک لوٹ مار کرتے رہے۔ تاہم وہ تمام شرائط جو سلطان سلیمان کی طرف سے تھی نہایت دیانت داری کے ساتھ پوری کی گئیں مبارزینِ روڈس نے وہاں سے نکلنے کے بعد 8 سال تک جزیرے کریٹ میں قیام کیا اور پھر مستقل طور پر جزیر مالٹا میں جا کر آباد ہو گئے۔اس محاصرے میں عثمانیوں کے تقریباً ایک ہزار سے لے کر 20 ہزار تک سپاہی شہید ہوئے تھے۔

نتیجہ

روڈس کی فتح سلطان سلیمان کی ابتدائی کامیابیوں میں سے ایک تھی، جس نے بحیرۂ روم میں عثمانی بحری برتری کو مستحکم کیا۔ نائٹس ہاسپٹلرز کی بہادرانہ مدافعت کے باوجود پانچ ماہ کے محاصرے کے بعد جزیرہ عثمانیوں کے قبضے میں آگیا، اور مبارزین کے ساتھ سلطان کے فراخدلانہ سلوک نے ان کی عظمت کو مزید نمایاں کیا۔ یہ فتوحات آنے والے عظیم تر معرکوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔

Check Also

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

Sultan Mehmed the Conqueror (Part 4): The Battle of Târgoviște (1462)

قسطنطنیہ کی فتح کے بعد سلطان فاتح کو جس بے رحم اور خونخار دشمن کا سامنا کرنا پرا، وہ کوئی اور نہیں بلکہ انکے بچپن کا دوست "والاد" تھا۔ جس نے سلطان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms