Sultan Selim II

سلطان سلیمان اعظم کے بعد عنان حکومت ایک ایسے فرماں روا کے ہاتھ میں آئی جو کسی طرح اس کا اہل نہ تھا، سلطان سلیمان نے سلطنت عثمانیہ کو ہر حیثیت سے پایہ کمال تک پہنچا دیا تھا، جس سلطنت کی بنیاد تیرہویں صدی عیسوی میں عثمان خان نے رکھی تھی ، اس کا تکمیلی پتھر سولہویں صدی میں سلیمان کے ہاتھ سے رکھا گیا، تین سو برس کی مدت میں یہ سلطنت جو ابتدا اناطولیہ کی چند جا گیروں پرمشتمل تھی ، مکہ معظمہ سے بودا تک اور بغداد سے الجزائر تک پھیل گئی۔ لیکن سلیمان کی وفات کے بعد زوال شروع ہو گیا اور یہ عظیم الشان سلطنت اپنی قوت میں روز بہ روز گھٹتی گئی ، اس زوال کے اسباب خارجی اور داخلی دونوں تھے۔ پندرہویں صدی سے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں نمایاں ترقی ظاہر ہونے لگی تھی ، روس کی سلطنت جو پہلے اپنے دور وحشت کی منزلیں طے کر رہی تھی ، سولہویں صدی سے مہذب اور طاقتور سلطنتوں میں شمار کی جانے لگی ، سلطنتِ عثمانیہ کی ہمسایہ سلطنت ہونے کی وجہ سے ان دونوں کا تصادم ناگزیر تھا اور سولہویں صدی کے بعد یورپ کی جن حکومتوں نے سلطنت عثمانیہ پر حملے شروع کر دیے ان میں روس سب سے آگے تھا۔ لیکن مسیحی سلطنوں کا کوئی اتحاد سلطنت عثمانیہ کو زیادہ نقصان نہ پہنچا سکتا ، اگر خود نظام سلطنت میں اندرونی طور پر فساد پیدا نہ ہو گیا ہوتا اور زوال کے اسباب خود سلطان اور امرائے دولت کے ہاتھوں فراہم نہ ہو گئے ہوتے۔ انحطاط کی بنیاد سلیمان ہی کے عہد میں پڑ چکی تھی لیکن اس کی غیر معمولی اور عظیم الشان شخصیت نے ان خرابیوں کو ظاہر نہ ہونے دیا، جو اس کے جانشینوں کے عہد میں سرعت کے ساتھ بڑھتی گئیں ، سلطان سلیمان کے بعد جتنے سلطان تخت نشین ہوئے ان میں سے بہ استثنائے چند، کوئی بھی اتنی وسیع سلطنت کی جو تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی اور جس میں تقریباً دو درجن مختلف نسلیں اور قومیں آباد تھیں، فرماں روائی کا اہل نہ تھا ، ناہلوں کی اس طویل فہرست میں سب سے پہلا نام سلیم ثانی کا نظر آتا ہے، جس نے اپنے مختصر دور سےحکومت کو بادہ پرستی اور عیش پرستی کی نظر کر دیا اور امور سلطنت سے منہ موڑ کر اپنا تمام وقت عیش و عشرت میں ضائع کر دیا، یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جو میدان جنگ میں جانے سے گریز کرتا تھا اور جس میں انتظام سلطنت کی مطلق اہلیت نہ تھی ۔

سیگتوار میں اپنے والد سلطان سلیمان کی وفات کے بعد شہزادہ سلیم اپنے والد کی جگہ تخت نشین ہوا۔ اپنے والد سلطان سلیمان کی وفات کے بعد سلیم نے انہیں سلیمانیہ مسجد میں دفن کیا۔ اس کے بعد وہ ادرنے چلے گئے۔جہاں آسٹریا اور صفوی سفیروں نے سلطان سلیم کو تخت نشینی پر مبارک باد دیتے ہوئے ان سے نئے معاہدوں کی تجدید کی۔اسی دوران، 1567 کے آخر میں، ان کے حکم پر معمار سنان نے عظیم سلیمیہ مسجد کی بنیاد رکھی۔

سلطان سلیم ثانی کا دور حکومت جیسے ہی شروع ہوا، سلطنت عثمانیہ کو ایک سنگین اندرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ چیلنج کسی بیرونی طاقت کی طرف سے نہیں، بلکہ سلطنت کے اندر موجود اہم صوبے یمن سے اُٹھا۔

یمن کا خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت، دینی اثرات اور قبائلی مزاحمت کے باعث ہمیشہ عثمانیوں کے لیے ایک حساس مقام رہا تھا۔ اس دور میں سلطنت عثمانیہ نے یمن کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے اسے دو انتظامی حصوں میں تقسیم کیا — لیکن یہی تقسیم آگے چل کر ایک بڑی کمزوری بن گئی۔

سنہ1566ء میں جیسے ہی سلطان سلیم نے تخت سنبھالا، زیدی شیعہ امام "المُطَہَّر بن شرف الدین" نے عثمانی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ اُنہوں نے یمن کے مقامی قبائل کو ساتھ ملا کر ایک مضبوط مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھی۔

زیدی امام نے عثمانی حکام کی کمزوریوں اور یمن میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تیزی سے عثمانی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ کچھ ہی مہینوں میں عثمانی اقتدار صرف بحر احمر کے ساحلی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

سلطنت عثمانیہ نے اس خطرناک بغاوت کا فوری نوٹس لیا۔ مصر کے بیلربی سنان پاشا کو اس مہم کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔

ساتھ ہی ساتھ:

کرت اوغلو حِزِر حیردین رئیس کو بحری بیڑے کا انچارج بنایا گیا تاکہ بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

عثمان پاشا کو بری فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جسے براہ راست الحدیدہ کی بندرگاہ سے حملہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔

عثمان پاشا نے الحدیدہ پر کامیاب حملہ کر کے ساحلی علاقوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا۔ اس دوران سنان پاشا بھی یمن کی جانب روانہ ہوا۔

تاہم، دونوں اعلیٰ افسران کے درمیان اختیارات اور عزتِ نفس کا ٹکراؤ شدت اختیار کر گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:

عثمان پاشا کو معزول کر دیا گیا

تمام کمان سنان پاشا کو سونپ دی گئی۔

سنان پاشا نے اپنی عسکری حکمت عملی کے تحت کئی مہینوں پر مشتمل سخت لڑائیوں میں زیدی باغیوں کو پے در پے شکست دی اور آخر کار یمن میں عثمانی اقتدار کو مکمل طور پر بحال کر دیا۔

یہ محض جنگی فتح نہیں تھی بلکہ اس کے بعد عثمانی حکومت نے بہت ہی نرمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔

امام المطحّر کو سزا دینے کے بجائے سیاسی طور پر معاف کر دیا گیا۔ اس حکمت عملی کا مقصد:

یمن کے زیدی (شیعہ) اور سنی آبادی کے درمیان مزید خانہ جنگی کو روکنا تھا

محمد صوقولی کی دوا ہم تجویزیں

محمد صوقولی کے پیش نظر دو اہم تجویزیں تھیں، وہ خاکنائے سوئز میں ایک نہر کھود کر بحیرہ احمر اور بحر ہند کو ملا دینا چاہتا تھا، تا کہ ترک بیڑا ان دونوں سمندروں میں آسانی کے ساتھ داخل ہو سکے ، دوسری تجویز دریائے ڈان اور دریائے والگا کو ایک نہر کے ذریعے سے ملا دینے کی تھی ، یہ دونوں دریا روس سے نکل کر دور تک متوازی خطوط میں بہتے آتے ہیں اور ایک مقام پر ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہو جاتے ہیں کہ درمیانی فاصلہ صرف تیس میل رہ جاتا ہے، وہاں پہنچ کر پھر وہ علیحدہ ہو جاتے ہیں اور ایک بحرازف میں جا کر شامل ہو جاتا ہے اور دوسرا بحر کاسپین میں ، ان دریاؤں کو ایک نہر کے ذریعہ سے اس مقام پر ملا دینے سے جہاں درمیانی فاصلہ صرف 30 میل رہ جاتا ہے، ترکی جہازوں کے لیے دریائے ڈان اور دریائے والگا سے گزر کر بحر کاسپین میں پہنچ جانا اور وہاں سے صوبہ تبریز پر حملہ آور ہونا جو سلطنت ایران کا مقبوضہ تھا، بہت آسان ہو جاتا، علاوہ بریں اس تجویز کی کامیابی سے تجارتی فائدے بھی بہت کچھ حاصل ہو سکتے تھے۔ لیکن اس مقصد کا پورا ہونا اسی وقت ممکن تھا جب استراخان پر قبضہ کر لیا جاتا، یہ شہرمملکت روس کے قبضہ میں تھا جس کی وسعت و قوت چند سالوں سے برابر ترقی کر رہی تھی۔

976ھ (1568ء) میں صوقولی نے پچیس ہزار ینی چری اور سپاہیوں کو ازف روانہ کیا، وہاں کریمیا کے 30 ہزار تا تاری بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور یہ متحدہ فوج استراخان پر قبضہ کرنے کے لیے آگے بڑھی ، جو دریائے والگا کے دہانہ پر واقع تھا، یہاں پہلی بار روسیوں اور ترکوں کا مقابلہ ہوا، ترکی فوج استراخان پر قبضہ نہ کر سکی اور تاتاریوں کو ہزیمت اٹھانی پڑی ، عثمانی فوجیں مجبوراً ازف کی طرف واپس ہو ئیں لیکن قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے ان کا بیش تر حصہ بحر اسود میں ایک طوفان سے ضائع ہو گیا اور صرف سات ہزار سپاہی بخیریت واپس پہنچ سکے، اس ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈان اور والگا کو ملا دینے کی تجویز منسوخ کر دی گئی ، روس میں ابھی اتنی قوت نہ تھی کہ وہ خود سلطنت عثمانیہ پر حملہ آور ہوتا ، زار آئیوان نے 978ھ بمطابق1570ء میں اپنا ایک سفیر باب عالی میں بھیجا اور استراخان کے حملہ کی شکایت کی، نیز دونوں سلطنتوں کے درمیان امن و اتحاد قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی، چنانچہ ایک صلح نامہ مرتب کیا گیا اور تقریباً ایک صدی تک روس اور سلطنت عثمانیہ میں پھر کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

تیونس

یمن کی دوبارہ فتح کے بعد صوقو للی نے تیونس کو اسپینیوں کے پنجہ سے چھڑانے کے لیے 977ھ (1569ء) میں اولوچ پاشا کو الجزائر کا حاکم بناکر اسکی سرکردگی میں ترک بیڑا روانہ کیا، اولوج پاشا پاشا نے اسپینوں کو شکست دے کر شہر پر قبضہ کر لیا لیکن اسپینی فوج قلعہ میں محصور ہو گئی اور 982ھ بمطابق 1574ءتک اس پر قابض رہی۔

قبرص کی فتح:۔

978ھ (1570ء) میں سلیم نے قبرص پر حملہ کرنے کا قصد کیا، یہ جزیرہ جمہور یہ وینس کا مقبوضہ تھا، جو سلطنت عثمانیہ کی حلیف تھی ، صوقوللی نے اس تجویز کی مخالفت کی لیکن قرہ مصطفیٰ پاشا کے اصرار اور خود سلیم کی خواہش نے اس کی مخالفت کو بے اثر رکھا اور ایک حلیف کے مقبوضہ پر حملہ کرنے کے لیے مفتی اعظم نے علت جواز پیش کی کہ قبرص اس سے قبل ایک اسلامی حکومت (مصر) کے زیر نگیں رہ چکا تھا،یہ جزیرہ عثمانی بحری راستوں کے بیچ واقع تھا اور اس کی موجودگی سے اناطولیہ کی سلامتی خطرے میں پڑتی تھی۔ چنانچہ 1570ء میں مصطفیٰ پاشا نے ایک لاکھ فوج اور 400 جنگی جہازوں کے ساتھ قبرص پر چڑھائی کی ، سات ہفتے کے محاصرے کے بعد اس کا پایہ تخت "نائیکوسیا" ( Nicosia ) فتح ہو گیا، پھر مصطفیٰ پاشا نے اس جزیرہ کے سب سے مضبوط قلعہ فاماگوستا (Famagosta) کا بھی محاصرہ کیا اور ایک طویل مدت کے بعد اگست 1571ء میں محصورین نے ہتھیار ڈال دیے، قلعہ کی سپردگی کے وقت مصطفیٰ پاشانے قبرص کے سپہ سالار براگا ڈنیو (Bragadino) کے سامنے نہایت نرم شرائط پیش کیے، اس نے عیسائی فوج اور وہاں کے عیسائی باشندوں کی جان و مال اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا اور وعدہ کیا کہ یہ فوج ترکی کے بحری جہازوں پر جزیرہ کریٹ پہنچادی جائے گی اور وہاں آزاد کر دی جائے گی۔ لیکن عین اس وقت کہ یہ جہاز تیاری کر رہے تھے، مصطفیٰ پاشا اور برا گاڈ نیو میں بعض گزشتہ واقعات کے متعلق تکرار ہوگئی اور یہ بات یہاں تک بڑھی کہ مصطفیٰ پاشا نے غصہ میں آکر تمام عیسائی فوج کے قتل کا حکم دے دیا اور اس کے ایک ہفتہ کے بعد براگا ڈنیو کی زندہ کھال نکلوالی گئی، فارما گوستا پر قبضہ پا جانے کے بعد ترکوں نے پورے جزیرہ کو فتح کر لیا۔ لیکن اس فتح میں ان کے تقریباً پچاس ہزار آدمی کام آئے ، تین سو برس تک قبرص سلطنت عثمانیہ کے زیر تسلط رہا،یہاں تک کہ 1878ء میں سلطنت عثمانیہ نے اسے گورنمنٹ برطانیہ کے حوالہ کر دیا۔

قبرس کے حملہ سے یورپ کی عیسائی سلطنتوں میں نہایت تشویش پیدا ہوئی اور یورپ نے ترکوں کی بحری طاقت کا سد باب کرنے کے لیے بحرروم کی عیسائی حکومتوں کا ایک اتحاد قائم کیا، جس کے خاص ارکان اسپین، وینس اور مبارزین مالٹا تھے اور اس اتحادی بحری بیڑے کا سالار اعظم ڈان جان (Con John) کو مقر رکیا گیا، جو شہنشاہ چارلس پنجم کانا جائزلڑکا اور باوجود اپنی نوعمری کے نہایت ممتاز کمانڈرتھا ، اتحادی بیڑا ستمبر 1571ء کو مسینا (Messina) میں جمع ہوا۔ لیکن قبرص اس وقت تک فتح ہو چکا تھا ، تر کی بیڑا جو اپنے جہازوں کی کثرت تعداد میں عیسائی بیڑے سے بڑھا ہوا تھا، خلیج لیپانو (Lepanto) میں لنگر انداز ہوا، امیر البحر علی پاشا ایک نوعمر سردارتھا، اس کو بحری جنگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ او لوج پاشا جس کی عمر کے 43 سال بحری جنگوں میں صرف ہو چکے تھے، اس بیڑے کا نائب امیر تھا، اس نے اتحادیوں پر فوراً حملہ کرنے سے اس بنا پر اختلاف کیا کہ تیاری جیسی چاہیے ابھی مکمل نہی ہوی۔ لیکن علی پاشا کو بلا توقف حملہ کر دینے پر اصرار تھا ، جس پراولوج پاشا کو خاموش ہو جانا پڑا۔

جنگ لیپانٹو

سنہ7 اکتوبر 1571ء کو خلیج لیپانٹو کے دہانہ کے قریب دونوں بیڑوں کا مقابلہ ہوا، جنگ صرف چند گھنٹوں تک قائم رہی، مگر فریقین کو شدید نقصانات برداشت کرنے پڑے، دونوں بیڑے ایک دوسرے سے اس قدر قریب آگئے تھے کہ تلوار کی لڑائی ہونے لگی جس میں امیر البحر علی پاشا مارا گیا، عیسائیوں نے اس کا سرکاٹ کر جہاز کے مستول پر لٹکا دیا، یہ دیکھ کر ترکوں کے قدم اکھڑ گئے اور اولوج پاشا کی کوشش کے باوجود انہیں بری طرح شکست ہوئی، اولوج پاشا بمشکل چالیس جہازوں کو لے کر سلامتی کے ساتھ وہاں سے نکل سکا، باقی پورا ترکی بیڑا جس کے جہازوں کی تعداد 266 تھی، عیسائیوں کے قبضہ میں آ گیا ، ان میں سے کچھ غرق بھی کر دیے گئے، اس جنگ میں 30 ہزار ترک کام آئے اور پندرہ ہزار عیسائی غلام آزاد ہوئے۔

خیال تھا کہ اتحادی اپنی عظیم الشان کامیابی سے فائدہ اٹھا کر آگے قدم بڑھائیں گے لیکن اس فتح سے وہ کچھ ایسا مطمئن ہوئے کہ فوراً اپنے اپنے ملک کو روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر خوشیاں منانے لگے۔

بر خلاف اس کے ترکوں نے فوراً اس نقصان کی تلافی شروع کر دی ، سلیم نے بھی جو عموماً عیش و عشرت میں سرشار رہتا تھا، اپنی جیب خاص سے ایک کثیر رقم عطا کی اور اپنے محل کے باغ کا ایک حصہ نئے جہازوں کی تعمیر کے لیے دے دیا، چنانچہ 168 جہازوں کی فوری تیاری شروع کر دی گئی اور چند مہینوں میں حیرت انگیز سرعت کے ساتھ یہ نیا بیڑا تیار ہو گیا۔

سنہ 980ھ (1572ء) میں اتحادی بیڑا پھر بحر روم کے مشرقی حصہ میں جمع ہوا، اولوچ پاشا اپنے نئے بیڑے کے ساتھ اس کے مقابلہ کے لیے نکلا لیکن چونکہ اس کے جہاز رانوں کو ہنوز کافی تجربہ نہ تھا، اس لیے اس نے خود حملہ کرنا مناسب نہیں خیال کیا اور اتحادیوں کی پیش قدمی کا انتظار کرتا رہا، اتحادی ترکوں کی اس خلاف توقع تیاری سے بظاہر اس قدر مرعوب ہوئے کہ ان کی طرف سے بھی کوئی حملہ نہ ہوا اور اولوج پاشا اپنے پورے بیڑے کے ساتھ واپس آگیا۔

وینس سے صلح

سنہ981ھ (1573ء) میں وینس نے سلطنت عثمانیہ سے صلح کی گفتگو شروع کی اور حسب ذیل معاہدہ مرتب ہوا، وینس نے نہ صرف قبرص کی فتح اور اس پر سلطنت عثمانیہ کا قبضہ تسلیم کر لیا بلکہ اس کے حاصل کرنے میں جو اخراجات سلطنت عثمانیہ کو برداشت کرنے پڑے تھے اور جن کا تخمینہ تین لاکھ دوکات تھا، ان کی ادائیگی بھی منظور کی ، جزیرہ زانطہ کے لیے جمہوریہ وینس اب تک 500دوکات خراج ادا کرتی تھی ، اس معاہدہ کی رو سے خراج کی مقدار ڈیڑھ ہزار دوکات مقرر ہوگئی ، البتہ قبرص کا خراج جو آٹھ ہزار دوکات سالانہ آیا کرتا تھا وہ اب موقوف کر دیا گیا، ڈلماشیا اور البانیا میں فریقین کے جو مقبوضات جنگ لیپانٹو سے قبل تھے وہی برقرار رکھے گئے۔

تیونس کا الحاق

وینس اور سلطنت عثمانیہ کی صلح کے بعد ڈان جان ایک اسپینی بیڑے کے ساتھ تیونس پر حملہ آور ہوا اور چونکہ قلعہ پر اسپین کا قبضہ جاری تھا، اس لیے آسانی کے ساتھ شہ کو فتح کر لیا، اس نے تیونس میں ایک جدید قلعہ تعمیر کرایا اور اپنی سپاہیوں کا ایک طاقتور دستہ وہاں چھوڑ کر خود واپس چلا گیا ، اس واقعہ کی خبر جب قسطنطنیہ پہنچی تو صدر اعظم صوتو للی نے اولوج پاشا کو ایک زبردست بیڑے کے ساتھ روانہ کیا، اولوج پاشا نے 40 ہزار فوج اور 298 جنگی جہاز روانہ ہوئے، اولوچ پاشا نے 33 دن کی مسلسل گولہ باری کے بعد بلآخر"لا گولیتی

" پر قبضہ کرلیا۔ یوں 346 سالہ "حفصی سلطنت" کا خاتمہ ہوا، اور تیونس عثمانی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔

🕊 سلطان کی وفات

تیونس کی فتح کے صرف 15 دن بعد، 15 دسمبر 1574 کو سلطان سلیم ثانی حمام میں پھسل کر گرے، انہیں دماغی شریان پھٹنے کا حملہ ہوا، اور وہ انتقال کر گئے۔

ان کی حکومت 8 سال 3 ماہ اور 8 دن پر مشتمل تھی۔

اگرچہ وہ کبھی کسی مہم پر خود شریک نہ ہوئے، مگر ان کے دور میں سلطنت نے فتوحات کا تسلسل جاری رکھا، جن میں قبرص اور تیونس کی فتوحات نمایاں ہیں۔

ان کی تدفین آیا صوفیہ مسجد میں ہوئی، اور ان کی یادگار سلیمیہ مسجد آج بھی سلطنت عثمانیہ کے شان دار دور کا نشان ہے۔

Check Also

Osman I – Part 4

اناطولیہ میں موجود سلجوقی سلطنت کا پہلا الحکومت "ازنیک" شہر تھا۔ جو کہ پہلی صلیبی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

History in Urdu

Bringing 1400 years of Islamic and world history to Urdu-speaking audiences worldwide — Ottoman, Mughal, Abbasid, Mongol, and the great Caliphates.

f

Get in Touch

Join our 379K+ community and never miss a story from history.

▶ Subscribe on YouTube
© 2026 History in Urdu — All rights reserved. · Privacy · Terms