سترہویں صدی عثمانی سلطنت کے لیے ایک ایسا نازک دور تھا، جب اندرونی سازشیں، طاقت کی کشمکش اور مذہبی و سیاسی بےچینی سلطنت کو کمزور کر رہی تھیں۔
اسی دور میں عثمانی تخت پر ایک ایسا شخص بیٹھا… جسے دنیا نے "دیوانہ سلطان" کے لقب سے یاد رکھا،
اور پھر اسی کی جگہ ایک ایسا کم عمر نوجوان آیا، جس نے سلطنت کو بچانے کا خواب دیکھا… مگر اپنی ہی فوج کے ہاتھوں بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔
سلطان مصطفیٰ اول… جو بار بار تخت پر آیا اور اُتارا گیا،
اور سلطان عثمان ثانی… جو تاریخِ عثمانیہ کا پہلا سلطان تھا جسے اپنی ہی فوج نے قتل کیا!
آخر ایسی کیا وجوہات تھیں جنہوں نے عثمانی دربار کو سازشوں کا اڈہ بنا دیا؟
کیا شیخ الاسلام، سپاہیوں، اور حرم کے اثر و رسوخ نے سلطنت کو کمزور کیا؟
اور کس طرح نوجوان عثمان نے نئی فوج بنانے کی کوشش میں اپنی جان گنوا دی؟
آئیے… آج کی ویڈیو میں جانتے ہیں کہ یہ دل دہلا دینے والا دور عثمانی سلطنت کے زوال کی طرف پہلا قدم کیسے بن گیا!
سلطان احمد کی وفات کے بعد ان کے بھائی مصطفیٰ اول کو تخت نشین کیا گیا۔ مصطفیٰ بھی ان سلاطین میں سے تھا جنہوں نے کبھی سنجاک کا تجربہ حاصل نہیں کیا تھا۔ جب سلطان احمد تخت نشین ہوئے تھے تو مصطفیٰ کی عمر اس وقت صرف 14 سال تھی اور چونکہ اس وقت کوئی ولی عہد موجود نہیں تھا، اس لیے مصطفی کی جان بخشی کر دی گئی۔ اسی دوران سلطان احمد نے اکبر و ارشد نظام کو ریاستی قانون کا حصہ بنایا۔ جس کے تحت شہزادوں کو قتل کرنا ضروری نہ تھا۔ کچھ روایات میں آتا ہے، کہ مصطفیٰ کو قید و بند کی صعبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ جس کا اثر اس کی نفسیات پر پڑا اور وہ کم عمری میں ہی ذہنی توازن کھو بیٹھا۔
ناظرین اب تک 14 پشتوں سے ال عثمان کی واثت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی چلی آرہی تھی، یہ پہلا اتفاق تھا کہ بیٹے کی بجائے سلطان کا بھائی تخت نشین ہوا۔ ایک انگریز مورخ، فان ہیمر کی روایت کے مطابق:۔
" خاندان کے سب سے بڑے فرد کو تخت نشین کرنے کا دستورآلِ عثمان نے آلِ چنگیز سے لیا تھا"
لیکن جب سے سلاطین نے سلطان محمد فاتح کے بنائے ہوئے قانون پر عمل کرنا شروع کیا اور تاج و تخت کی حفاظت کے لیے بھائیوں کا قتل ضروری خیال کیا جانے لگا۔ اس وقت سے سلطنت کا وارث بھائی کے بجائے بڑا لڑکا ہوتا تھا. سلطان احمد اول نے چونکہ اپنے بھائی مصطفیٰ کو قتل نہیں کرایا تھا اور صرف اس کی قید پر اکتفا کیا تھا۔ اس لیے قانونِ آل عثمان کی روح سے مصطفیٰ کوتختِ سلطنت پر بٹھایا گیا۔ لیکن مصطفیٰ کی سادہ لوہی اور نا اہلیت 3 ہی مہینے میں اس درجہ واضح اور نمایاں ہو گئی، کہ اراکین سلطنت نے اسے معزول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یوں 96 دن کی مختصر حکومت کے بعد اچانک ایک روز مصطفیٰ کو پکڑ کر محل کے کمرے میں بند کر دیا گیا اور 26 فروری 1618ء کو عثمان ثانی کو مخص 14 سال کی عمر میں تخت نشین کر دیا گیا۔ پھرینی چری کی بغاوت کو روکنے کے لیے اس قدر دل کھول کر خزانے سے انعامات دیے گئے کہ 3 ماہ کے اندر خزانے کو 60 لاکھ دوکات کا بار برداشت کرنا پڑا۔ یوں اب عثمان ثانی سولہویں عثمانی سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہو چکے تھے۔
جب عثمان اور مصطفیٰ اول کے درمیان تخت کی کشمکش جاری تھی، تو مشرق میں صفوی سلطنت کے ساتھ جنگ برابر جاری تھی۔
عثمانی سپہ سالار "اوکز محمد پاشا" نے "ایروان" کا محاصرہ کر لیا۔ ناظرین اپ کو بتاتے چلیں کہ اوکز محمد پاشا دراصل سلطنت عثمانیہ کے ایک ممتاز سپہ سالار اور وزیراعظم تھے۔ جنہوں نے 17 صدی کے آغاز میں کئی ایک اہم فوجی مہمات کی قیادت کی، ان کی سب سے مشہور مہم ایروان کا محاصرہ تھی، جو صفوی سلطنت کے خلاف عثمانی جنگوں کا حصہ تھی۔
اس محاصرے کے بعد دارالحکومت سے حلیل پاشا کو سپاہ سالار بنا کر فوج کی قیادت سونپی گئی۔ ادھر استنبول میں بھی ریاستی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ اسی دوران سلطنت عثمانیہ کے اتحادی کریمیا کے خان "جان محمد گرائی اول" نے شمال کی جانب سے صفوی علاقوں پر چڑھائی کر دی اور انہوں نے صفویوں کو پسپائی پر مجبور کرتےہوئے بے شمار علاقوں کو تاخت و تاراج کیا اور بھاری مالِ غنیمت کے ساتھ وہ واپس کریمیا چلے گئے۔ ناظرین جان محمد گرائے اول کریمیا خانیت کے ایک با اثر حکمران تھے، جنہوں نے 1610 سے 1623ء تک حکومت کی۔ وہ گرائے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو طویل عرصے سے کریمیا کے تخت پر براجمان رہا۔ ان کا دو عثمانی سلطنت کے ساتھ قریبی تعلقات اور مشترکہ فوجی کاروائیوں سے بھرپور تھا۔ عثمانی سلطان عثمان ثانی اور مصطفی اول کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے دوران جان محمد گرائے نے بطور حلیف عثمانی فوج کی مدد کی اور کئی مہمات میں تاتاری دستے فراہم کیے۔ وہ نہ صرف کریمیا بلکہ سلطنت عثمانیہ کی سیاست میں بھی اہم اثر رکھتے تھے اور اپنے وقت کے ذہین چالاک اور وفادار حکمرانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
جب عثمانی سپہ سالار حلیل پاشاہ دارالحکومت سے نئی عثمانی فوج کے ساتھ صفویوں کی طرف روانہ ہوئے تو شاہ عباس کے سفیروں نے ان کا استقبال کیا اور انہیں صلح پر امادہ کیا، لیکن صفویوں کے درمیان مذاکرات ناکام رہے جس کے بعد خلیل پاشا اپنے مرکزی لشکر کے ساتھ صفویوں کے دارالحکومت تبریز کی طرف روانہ ہوئے۔ حلیل پاشا کے تبریز پہنچنے سے پہلے ہی صفویوں نے تبریز کو خالی کر دیا۔ اس پیش قدمی کے دوران شاہ نے اچانک عثمانی فوج پر حملہ کرتے ہوئے عثمانیوں کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا۔ لیکن اس شکست کے باوجود حلیل پاشا نے حملہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا شاہ عباس کو اس طرح کی کاروائی کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ اب عثمانیوں کا پہلا ہدف ارتبیل تھا یہاں شاہ عباس نے شہر کو بچانے کے لیے اس نے سفیر بھیجے اور خراج ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد 26 ستمبر 1618ء کو صفویوں اور عثمانیوں کے درمیان ایک صلح نامہ طے پایا۔ ناظرین یہ صلح نامہ تاریخ میں معاہدہ سرو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جوسلطنتِ عثمانیہ اور صفوی سلطنت کے درمیان 1618ء میں طے پایا۔
اس معاہدے کے نتیجے میں عثمانیوں نے تبریز، نخچوان اور اردوبیل پر اپنا قبضہ برقرار رکھا، صفیوں نے بغداد اور دیگر عراقی علاقوں پر عثمانی کنٹرول تسلیم کیا یہ معاہدہ 1577 سے 1618ء تک جاری رہنے والی عثمانی و صفی جنگوں کا اختتام ثابت ہوا۔ معاہدہ سرو تقریباً دو دہائیوں تک دونوں سلطنتوں کے درمیان قائم رہا، یہاں تک کہ 1623ء کے بعد دوبارہ کشیدگی شروع ہو گئی۔ ناظرین اس صلح نامے کے نتیجے میں وہ تمام فتوحات جو مراد ثالث اور سلطان محمد ثالث کے عہد میں حاصل ہوئی تھیں ایرانیوں کو واپس کر دی گئیں، سلطنت عثمانیہ کی مشرقی سرحد پھر اسی سرحد پر پہنچ گئی جو سلطان سلیم ثانی کے زمانے میں تھی، سلطان عثمان ثانی نے خلیل پاشا کی اس مہم کو ناکام قرار دے کر اسے برطرف کر دیا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد وزیراعظم حلیل پاشا کو سلطان نے بیلر بے کا عہدہ پیش کیا۔ لیکن اس نے انکار کر دیا۔ کچھ وقت کے لیے وہ حضرت عزیز محمود رحمت اللہ کے درگاہ میں رہے، ناظرین حضرت عزیز محمود رحمۃ اللہ علیہ عثمانی دور کے ایک عظیم صوفی بزرگ، عالم دین اور شاعر تھے۔ جن کا تعلق قادری سلسلے سے تھا اور وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کی روحانی فیض یافتہ تھے۔ ان کا شمار استمبول کے مشہور اولیاء کرام میں ہوتا ہے
اس کے بعد 23 دسمبر 1619ء کو حلیل پاشا کو تیسری بار بحریہ کا سربراہ مقرر کیا گیا اور اس کے بعد سلطان عثمان نے انہیں اٹلی میں موجود اسپین کے ایک شہر پر حملے کا حکم دیا۔ سلطان عثمان ثانی کے دور میں عثمانی بحریہ نے بحر روم میں اپنی ہجمنی قائم کرنے کے لیے ایک بڑی کاروائی کی 27 جون 1620 عیسوی کو عثمانی بحری سربراه حلیل پاشا ایک طاقتور بیڑے کے ساتھ اٹلی کے شہر "مانفرے ڈونیا" کی جانب روانہ ہوا۔ جو اس وقت ہسپانوی سلطنت کے قبضے میں تھا۔ عثمانی بیڑے نے اچانک حملہ کر کے شہر کو شدید نقصان پہنچایا اور بڑی مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا۔ تا ہم یہاں دشمن کی افواج کی جوابی کروائی اور دفاعی دباؤ کے باعث عثمانی بحریہ کو واپس لوٹنا پڑا یہ حملہ نہ صرف عثمانیوں کی سمندری طاقت کا مظہر تھا، بلکہ یورپ میں ان کے خوف اور اثر و اسوخ کا بھی ایک اہم ثبوت تھا۔
یہاں سے فارغ ہونے کے بعد عثمان ثانی نے سلطنت کے اندرونی دشمنوں یعنی کہ ینی چری و سپاہی دستوں کی جانب وہ متوجہ ہوا۔ جن کی خود سری اور سرکشی سلطنت کے لیے ایک مستقل خطرہ تھا۔
اس کے لیے سلطان عثمان ثانی نے 1620ء میں عثمانی جرنیل اسکندر پاشا اور کریمیا کے خان نے متحد ہو کر پولینڈ لتھوینیا کے خلاف بھرپور جنگی کاروائی کی۔ 20 ستمبر 1620ء کو "یاش" کی جنگ میں عثمانیوں نے پولش فوج کو زبردست شکست دی۔ جس میں تقریباً 10 ہزار پولش فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے بعد پولش فوج پسپا ہونے لگی، لیکن عثمانی اور کریمیا کے تاتاری دستوں نے ان کا تعاقب جاری رکھا۔ 18 دن بعد ایک اور فیصلہ کن معرکہ سر ہوا۔اس جنگ سے 18 دن پہلے، 20 ستمبر 1620 کو یاش کی جنگ (Battle of Iași) میں عثمانی-تاتاری اتحاد نے پولش فوج کو شکست دے دی تھی۔
اس کے بعد اسکندر پاشا (عثمانی جنرل) اور جان محمد گرائی اول (خانِ کریمیا) نے دشمن کا تعاقب کیا۔
اکتوبر 1620 میں تغلا میدان میں بڑی جنگ ہوئی۔
اس جنگ میں پولش لشکر کی تعداد 60 ہزار تھی، لیکن عثمانی حکمت عملی اور کریمیا کے تاتاری گھڑسواروں کے حملے نے پولش صفوں کو تہس نہس کر ڈالا، اس جنگ کے نتیجے میں پولینڈ کے سینکڑوں امراء اور ایک جنرل قیدی بن کر عثمانی دارالحکومت استنبول بھیج دیا گیا۔ عثمانیوں نے 320 توپیں اور سینکڑوں بارود گاڑیاں ضبط کر لیں اس شاندار فتوحات کو دیکھ کر نوجوان سلطان عثمان ثانی نے خود میدان جنگ میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
وہ 1621 میں یورپ کی طرف مہم کا سلطان نے اعلان کیا۔ یہ 25 سال بعد پہلا موقع تھا کہ کوئی عثمانی سلطان ذاتی طور پر یورپ کی طرف مہم پر نکلا ہو۔ اس جنگ کی تیاری کے دوران سلطان عثمان نے اپنے تخت کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے چھوٹے بھائی شہزادے محمد کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ تاکہ داخلی سازشوں سے بچا جا سکے
اور پھر 21 مئی 1621ء کو نوجوان سلطان عثمان اپنی فوج کے ساتھ استنبول سے روانہ ہوئے۔ 1 ستمبر کو عثمانی فوج "ہوٹین" کے قلعے کے سامنے جا پہنچی۔ اس سے اگلے دن خانے کریمیا اپنے تاتاری گھڑسوار دستوں کے ساتھ عثمانی فوج سے آملا، 3 ستمبر کو "ہوٹین" کا محاصرہ شروع ہوا۔ جو کم و پیش 33 دن تک جاری رہا۔ قلعے کا دفاع انتہائی سخت نکلا، بارش، سردی اور خوراک کی کمی نے دونوں طرف کے لشکریوں کو تھکا دیا، عثمانیوں نے قلعے پر زبردست گولا باری کی، کریمیا کی گھڑسواروں نے قذاقوں پر کئی ایک حملے کیے، مگر ان قذاقوں نے نہایت بہادری سے مقابلہ کیا۔ کئی ہفتوں کے خونی معرکے کے بعد دونوں طرف ہزاروں سپاہی مارے گئے، عثمانی فوج مسلسل حملہ کر رہی تھی، مگر قلع پوری طرح فتح نہیں ہو پایا تھا۔ 9 اکتوبر 1621ء کو عثمانی اور پولش قیادت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اس معاہدے کی رو سے دونوں سلطنتیں اپنی اپنی سابق سرحدوں پر واپس چلی گئیں۔ پولش حکومت نے عثمانیوں کی بالادستی کو تسلیم کر لیا۔ اگرچہ نوجوان سلطان عثمان معاہدے کی رو سے فتح یاب دکھائی دیتے تھے، لیکن وہ سمجھ گئے کہ سلطنت میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے، یہ شاہی مہم 8 ماہ اور 5 دن جاری رہی اور سلطان 25 جنوری 1622ء کو استنبول واپس پہنچ گئے۔ ہاٹین کی مہم نوجوان سلطان کے لیے ریاستی عہدے داروں، سپاہیوں اور خاص طور پر ینی چری کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کا بہترین موقع تھا۔ نوجوان سلطان سمجھ گیا۔ کہ اگر فوج کی خود سری اسی طرح برقرار رہی، تو یہ ایک دن ریاست کو لے ڈوبے گی۔ اس لیے انہوں نے ایک بڑی اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ ینی چری فوج کی خود سری آئے روز بڑھتی جا رہی تھی۔ جو کہ ریاست کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ سلطان کی اصلاحات میں ایک چیز یہ بھی شامل تھی کہ انہیں ختم کرکے ان کی جگہ اناطولیہ، شام اور مصر کے ترکوں پر مشتمل ایک نئی فوج بنائی جائے، تبدیل شدہ مذہب والوں اور غیر ملکی غلاموں سے بنے ریاستی نظام کو صاف کیا جائے اور ان کی جگہ ترک قوم کے افراد کو لایا جائے، انہی اصلاحات میں ایک اور چیز یہ بھی شامل تھی، کہ عثمانی سلطنت کا دارالحکومت استنبول سے اناطولیہ میں منتقل کر دینا چاہیے چونکہ علماء کا طبقہ بگڑ چکا تھا ان کی سیاسی اور معاشی طاقت کو توڑنا اور ریاست پر ان کا اثر ختم کرنا سلطان کا مقصد تھا، محل کے روایتی طریقوں کو بدل کر اب سلطان غیر ملکیوں سے شادی کرنا بند کر کے ترک خاندانوں سے شادیوں کو فروغ دینا چاہتے تھے، لباس میں تبدیلی لا کر پرانے شاندار اماموں اور جبوں کی جگہ سادہ لباس رائج کرنا چاہتے تھے۔ وہ سلطان محمد فاتح اور سلطان سلیمان کے بنائے گئے قوانین کو دوبارہ ترتیب دینےاور سلطنت کے نئے حالات کے مطابق ان قوانین کو بنانا چاہتے تھے۔ ان تمام اصلاحات کے لیے نوجوان سلطان کو اپنے قابل اعتماد مخلص ساتھیوں کی ضرورت تھی، جو کہ سلطان عثمان کے پاس نہیں تھے۔
ینی چری فوج کی بغاوت سے پہلے نوجوان سلطان نے آخری جمعے کی نماز کے لیے سلطان سلیم کی تعمیر کرتا مسجد میں انہوں نے نماز ادا کی اور انہوں نے ایک شاندار لباس پہن کر فوج کے سامنے آ کر انہیں واضح پیغام دیا کہ وہ حج کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ 18 مئی کی صبح سلطان نے جب روانگی کا ارادہ کیا تو ہنگامہ برپا ہو گیا محل کے سپاہیوں خصوصاً نئی ینی چری فوج نے بغاوت کھڑی کر دی، ناظرین جیسا کہ مشہور ہے کہ بادشاہ خلیفہ ہونے کے باوجود حج پر نہیں جاتے تھے کیونکہ حج ایک طویل عمل ہوتا تھا اور بادشاہ کا اتنی دیر تک ریاستی امور سے دور رہنا درست نہیں سمجھا جاتا تھا۔ کئی علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ حاکم کا ریاستی امور سنبھالنا حج سے بڑی عبادت ہے۔ اس دوران سلیمانیہ مسجد میں جمع ہونے والے نئے ینی چری سپاہیوں نے کھل کر بغاوت کا اعلان کر دیا 18 مئی کی شام کو سلطان عثمان کو پیچھے ہٹنا پڑا اگرچہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حج پر نہیں جائیں گے، لیکن ینی چری کو اس بات کا بخوبی احساس ہو گیا کہ آج نہیں تو کل اناطولیہ اور مصر و شام سے ان کے خلاف سلطان ایک نئی فوج جمع کر کے انہیں ختم کر دیں گے۔ کیونکہ وہ سلطان کے تمام احکامات اور منصوبوں سے آگاہ ہو گئے تھے۔ اس سے اگلے دن فجر کی نماز کے بعدباغیوں نے موجودہ وزیروں کے قتل کا مطالبہ کیا، سلطان عثمان کے پاس نہ تو کوئی ایسی فوج تھی جو ینی چڑی کے مقابلے میں اس کی حمایت کرتی اور نہ عوام میں کوئی طبقہ اس کا ہمدرد تھا۔ جس سے وہ مدد طلب کر سکتے خود سابق سلطان مصطفیٰ کی والدہ بھی باغیوں کی طرف دار تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر یہ بغاوت ختم ہو گئی تو عثمان اپنی ذات کو محفوظ کرنے کی غرض سے اپنے تمام عزیزوں کو جس میں مصطفیٰ بھی شامل ہے قتل کرا دے گا۔ فوج کے مطالبات بڑھتے ہی گئے اور باغیوں نے وزراء سے ہٹ کر خود سلطان کی ذات پر حملے شروع کر دیے۔ چنانچہ انہوں نے عثمان کو گرفتار کر کے قید کر دیا اور مصطفیٰ کو رہا کر کے دوبارہ تخت سلطنت پر بٹھا دیا۔
داؤد پاشا جس کو اس بغاوت میں بہت زیادہ دخل تھا، اس کو صدراعظم کا عہدہ دے دیا گیا، لیکن اسے اندیشہ تھا کہ مبادہ کوئی انقلاب پھر پیش نہ آجائے لہذا اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی غرض سے وہ اپنے تین ساتھیوں کو لے کر عثمان کے قید خانے میں داخل ہوا اور نہایت بے رحمی کے ساتھ اسے پھانسی دے کر ختم کر دیا جس کے بعد 19 مئی کو مصطفیٰ دوبارہ تخت پر بٹھایا گیا سلطان عثمان کی بادشاہت بغاوت کے نتیجے میں بضابطہ طور پر ختم ہو گئی ان کا دور حکومت 4 سال دو ماہ اور 21 دن جاری رہا۔
سلطان عثمان کے اس بے دردی سے قتل ہونے کے بعد اناطولیہ میں بڑی بغاوتیں شروع ہو گئیں یوں کچھ ہی عرصے کے بعد عراق میں بھی بغاوتیں پھوٹ پڑیں ہر صوبے میں سلطان عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے. ینی چری فوج سے نفرت بڑھنے لگی اور بہت سے بیلر بے اور سنجک اس بغاوت میں نمایاں تھے، یہاں سب سے بڑی بغاوت کی قیادت ایرزروم کے بےلربے اوکز محمد پاشاہ نے کی۔ 33 سالہ اوازہ محمد پاشاہ خود سلطان عثمان کے ساتھ اصلاحات کے بارے میں اکثر خط و کتابت کیا کرتے تھے
چنانچہ عثمان کا خون تھوڑے ہی دنوں کے بعد رنگ لایا اور خود ینی چری میں قاتلوں کے خلاف برہمی پیدا ہوئی مصطفیٰ نے بھی اس حادثے پر رنج و غم کا اظہار کیا اور قاتلوں کی سزا کا حکم نافذ کیا۔ تاہم حکومت میں جو انتشار پیدا ہو چکا تھا وہ بدستور قائم رہا۔ 18 جنوری 1623 عیسوی کو بغاوت کے پیش نظر داؤد پاشاہ جو کہ اس بغاوت کا اصل سرغنہ تھا اسے سلطان عثمان کے قتل کی جگہ پر لے جا کر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
ادھر نئےسلطان مصطفیٰ اول کی ماں سلطانہ والدہ اصلی فرما روا تھی۔ سلطنت کے اعلیٰ عہدوں کے لیے ہر امیدوار رشوت کے ذریعے سے ینی چری اور سپاہی فوجوں کی مدد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ استمبول میں بدامنی اور شورش یہاں تک بڑھ گیا، کہ ینی چری فوج نے وزرائے سلطنت کی یہ خواہش منظور کر دی گئی کہ مصطفیٰ کی معزولی کے بعد نئے سلطان کے تخت نشینی کے موقع پر وہ اپنے دستوری انعامات کا مطالبہ نہ کرے گی۔ چنانچہ اگست 1623ء میں مصطفیٰ دوسری مرتبہ معزول کیا گیا اس کی دو مرتبہ حکومت کا مجموعی دورانیہ 1 سال 6 ماہ اور 25 دن تھا اس کی معزولی کے بعد سلطان عثمان کے بھائی شہزادے مراد کو جس کی عمر صرف 12 سال تھی تخت نشین کیا گیا۔ مصطفیٰ کے دوسرے دور حکومت کا قیام ایک سال سے کچھ ہی زائد رہا لیکن یہ قلیل مدت بھی سلطنت کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوئی، اسی دوران میں ایران سے جنگ پھر چھیڑ گئی تھی اور بغداد و بصرہ دونوں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھ سے نکل گئے۔ اس افراتفری اور بدنظمی میں سلطنت کا شیرازہ دھرم برھم ہو گیا، عوام کا حال حد درجے خراب تھا وہ ہر طرح کی سختیوں اور تباہیوں کا شکار تھی۔ مرکزی حکومت بالکل کمزور ہو گئی تھی اور رشوت ستانی کا اثر سلطنت کے ہر شعبے میں نمایاں تھا۔ اگر اس وقت یورپ کی کوئی مضبوط طاقت حملہ کر دیتی تو سلطنت عثمانیہ کے لیے اس کا مقابلہ دشوار ہو جاتا، لیکن یورپ کی حکومتیں خود باہمی جنگ اور خانگی انتشار میں مبتلا تھیں اور ان میں دولت عثمانیہ کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی قوت نہ تھی۔
ناظرین 1622 عیسوی میں سرطامس روح برطانیہ کے سب سے پہلے سفیر کی حیثیت سے سلطنت عثمانیہ میں ایا یہ شاہ جیم اول کا فرستادہ تھا اور اس کی سفارت کا خاص مقصد ان بحری قذاقوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا جو الجزائیراور تیونس کے برطانوی جہازوں پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے وہ پانچ سال تک استمبول میں مقیم رہا اور کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیابی ہوا اس نے اپنے دوران قیام میں سلطنت عثمانیہ کے اختلال و زوال سے متعلق واقعات اور حالات قلم بند کیے ان سے مبالغہ کا حصہ نکال دینے کے بعد بھی اندازہ ہوتا ہے کہ17ویں صدی کے ابتدائی دور میں سلطنت کی زبوں حالی کس حد کو پہنچ گئی تھی۔
History In Urdu